Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 32

سورة الروم

مِنَ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا ؕ کُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۳۲﴾

[Or] of those who have divided their religion and become sects, every faction rejoicing in what it has.

ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروہ گروہ ہوگئے ہر گروہ اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Of those who Farraqu Dinahum (split up their religion), and became sects, each sect rejoicing in that which is with it. means, do not be of the idolators who split up their religion, i.e., changed it by believing in parts of it and rejecting other parts. Some scholars read this as Faraqu Dinahum, meaning "neglected their religion and left it behind them." These are like the Jews, Christians, Zoroastrians, idol worshippers and all the followers of false religions, besides the followers of Islam, as Allah says: إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ إِنَّمَأ أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ Verily, those who divide their religion and break up into sects, you have no concern in them in the least. Their affair is only with Allah. (6:159) The followers of the religions before us had differences of opinions and split into false sects, each group claiming to be following the truth. This Ummah too has split into sects, all of which are misguided apart from one, which is Ahlus-Sunnah Wal-Jama`ah, those who adhere to the Book of Allah and the Sunnah of the Messenger of Allah and what was followed by the first generations, the Companions, their followers, and the Imams of the Muslims of earlier and later times. In his Mustadrak, Al-Hakim recorded that the Messenger of Allah was asked which of the sects was the saved sect and he said: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي What I and my Companions are upon.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

321یعنی اصل دین کو چھوڑ کر یا اس میں من مانی تبدیلیاں کرکے الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے، جیسے کوئی یہودی، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی وغیرہ ہوگیا۔ 322یعنی ہر فرقہ اور گروہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دوسرے باطل پر، اور جو سہارے انہوں نے تلاش کر رکھے ہیں جن کو وہ دلائل سے تعبیر کرتے ہیں، ان پر خوش اور مطمئن ہیں، بدقسمتی سے ملت اسلامیہ کا بھی یہی حال ہوا کہ وہ بھی مختلف فرقوں میں بٹ گئی اور ان کا بھی ہر فرقہ اسی زعم باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے، حالانکہ حق پر صرف ایک ہی گروہ ہے جس کی پہچان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتلا دی ہے کہ میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٥] یعنی فطری دین تو خالص توحید پر مبنی ہے۔ اب جو کوئی اس فطری دین میں کچھ بگاڑ پیدا کرے گا یا اس میں کچھ اضافے کرے گا پھر ان بگڑے ہوئے یا زائد عقائد پر لوگوں کی جتھہ بندی کرکے کوئی ایک فرقہ کھڑا کردے گا جس کا امتیاز وہی بگڑا ہوا یا زائد عقیدہ ہوسکتا ہے تو ایسے سب کام شرک میں داخل ہیں اس طرح اس فطری دین میں بگاڑ پیدا کرنے والے، ان میں اضافے کرنے والے اور ان کی اتباع کرنے والے سب کے سب مشرک ہوئے۔ اس آیت کی رو سے یہ معلوم ہوا کہ انسان ابتداًء توحید پرست تھا۔ توحید ہی اس کا فطری مذہب ہے۔ نیز ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) خود نبی تھے اور نبی فطری دین یعنی توحید کا داعی ہوتا ہے لیکن جب موجودہ دور کے محققین مذہب کی تاریخ لکھنے بیٹھتے ہیں تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسان ابتداًء مظاہر پرست تھا پھر آہستہ آہستہ توحید کی طرف پلٹا ہے۔ یہ فلسفہ مذاہب سراسر وہم و قیاس پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ انسانوں نے فطری حقائق کو مسخ کرکے اور ان میں اضافے کرکے نئے نئے مذاہب اور فرقے ایجاد کر ڈالے ہیں (تفصیل کے لئے سورة بقرہ کے آیت نمبر ٢١٣ کا حاشیہ نمبر ٢٨١ ملاحظہ فرمائیے) [ ٣٦] مزید بگاڑ یہ پیدا ہوگیا کہ جو فطری حقائق تھے انھیں تو لوگوں نے درخور اعتنا ہی نہ سمجھا اور اپنی اپنی اضافہ کردہ چیزوں کا ہی گرویدہ اور مقنوں ہوگیا۔ جس کی بدولت وہ دوسروں سے جدا ہو کر ایک الگ فرقہ بنا تھا۔ پھر فرقہ کے لوگوں میں اپنے ٹھہرائے ہوئے اصول و عقائد پر کچھ ایسا تعصب پیدا ہوگیا کہ اسے اپنے ان غیر فطری اور مہمل عقائد میں غلطی کا امکان تک تصور میں نہیں آتا تھا۔ اور ہر کوئی دوسرے فرقوں کو گمراہ قرار دینے لگا اور صرف اپنے آپ کو حق پر سمجھ کر اسی میں مگن ہوگیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا : یعنی ان لوگوں سے نہ ہوجاؤ جنھوں نے اصل اور فطری دین (توحید) کو چھوڑ کر اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور کئی گروہ بن گئے۔ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کوئی کسی کی عبادت کرنے لگا اور کوئی کسی دوسرے کی۔ ان کا مختلف گروہوں میں بٹ جانا ہی ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ حق ایک ہے اور باطل گروہوں کا شمار نہیں۔ ”ۙمِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا “ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام (١٥٩) معلوم ہوا دنیا میں کفر و شرک کے جتنے دین پائے جاتے ہیں وہ سب اصل دین فطرت (توحید) میں بگاڑ سے پیدا ہوئے ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (٢١٣) اور سورة یونس (١٩) ۔ كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ : یعنی ہر فرقہ اور گروہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دوسرے باطل پر، اور جو سہارے انھوں نے تلاش کر رکھے ہیں انھیں دلائل سے تعبیر کرتے ہیں اور ان پر خوش ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

مِنَ الَّذِينَ فَرَّ‌قُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا (Among those who split up religion and became sects - 30:32) that is, these disbelievers are those who have created a difference between Natural Faith and the true religion, or they have alienated themselves from the Natural Faith, as a result of which they are divided into different sects. شِيَعًا :Shiya&an is the plural of شِیعۃ shi` ah. A group of people following a leader is called shi ah. The fact is that the Natural Faith was based on the Oneness of Allah, by following which the entire human kind should have been one solid unit and one party. But it so happened that people split out from this unity and started following the personal views of their own leaders. Since the personal views and opinions of different people may always vary from person to person, different groups of people invented their own beliefs and religion. As a consequence, people were divided into various groups and sects, and the Shaitan made them believe that they were the only people on the right path كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِ‌حُونَ (Each group is happy with what it has before it - 30:32). That is, each group is happy and contended in its own beliefs and declare others being wrong, although they all are astray and treading the wrong path.

مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا، یعنی یہ مشرکین وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین فطرت اور دین حق میں تفریق پیدا کردی، یا یہ کہ دین فطرت سے مفارق اور الگ ہوگئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مختلف پارٹیوں میں بٹ گئے۔ شیعاً شیعہ کی جمع ہے، ایسی جماعت جو کسی مقتداء کی پیرو ہو، اس کو شیعہ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دین فطرت تو توحید تھا جس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ سب انسان اس کو اختیار کر کے ایک ہی قوم ایک ہی جماعت بنتے مگر انہوں نے اس توحید کو چھوڑا اور مختلف لوگوں کے خیالات کے تابع ہوگئی اور انسانی خیالات اور رایوں میں اختلاف ایک طبعی امر ہے، اس لئے ہر ایک نے اپنا اپنا ایک مذہب بنا لیا، عوام ان کے سبب مختلف پارٹیوں میں بٹ گئے اور شیطان نے ان کو اپنے اپنے خیالات و معتقدات کو حق قرار دینے میں ایسا لگا دیا کہ كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ ، یعنی ان کی ہر پارٹی اپنے اپنے اعتقادات و خیالات پر مگن اور خوش ہے اور دوسروں کو غلطی پر بتاتی ہے حالانکہ یہ سب کے سب گمراہی کے غلط راستوں پر پڑے ہوئے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَہُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا۝ ٠ ۭ كُلُّ حِزْبٍؚبِمَا لَدَيْہِمْ فَرِحُوْنَ۝ ٣٢ تَّفْرِيقُ ( فرقان) أصله للتّكثير، ويقال ذلک في تشتیت الشّمل والکلمة . نحو : يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] ، رَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ طه/ 94] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ [ البقرة/ 285] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ البقرة/ 136] ، إنما جاز أن يجعل التّفریق منسوبا إلى (أحد) من حيث إنّ لفظ (أحد) يفيد في النّفي، وقال : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ [ الأنعام/ 159] ، وقرئ : فَارَقُوا «1» والفِراقُ والْمُفَارَقَةُ تکون بالأبدان أكثر . قال : هذا فِراقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ [ الكهف/ 78] ، وقوله : وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِراقُ [ القیامة/ 28] ، أي : غلب علی قلبه أنه حين مفارقته الدّنيا بالموت، وقوله : وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ [ النساء/ 150] ، أي : يظهرون الإيمان بالله ويکفرون بالرّسل خلاف ما أمرهم اللہ به . وقوله : وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ النساء/ 152] ، أي : آمنوا برسل اللہ جمیعا، والفُرْقَانُ أبلغ من الفرق، لأنه يستعمل في الفرق بين الحقّ والباطل، وتقدیره کتقدیر : رجل قنعان : يقنع به في الحکم، وهو اسم لا مصدر فيما قيل، والفرق يستعمل في ذلک وفي غيره، وقوله : يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] ، أي : الیوم الذي يفرق فيه بين الحقّ والباطل، والحجّة والشّبهة، وقوله : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقاناً [ الأنفال/ 29] ، أي : نورا وتوفیقا علی قلوبکم يفرق به بين الحق والباطل «1» ، فکان الفرقان هاهنا کالسّكينة والرّوح في غيره، وقوله : وَما أَنْزَلْنا عَلى عَبْدِنا يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] ، قيل : أريد به يوم بدر «2» ، فإنّه أوّل يوم فُرِقَ فيه بين الحقّ والباطل، والفُرْقَانُ : کلام اللہ تعالی، لفرقه بين الحقّ والباطل في الاعتقاد، والصّدق والکذب في المقال، والصالح والطّالح في الأعمال، وذلک في القرآن والتوراة والإنجیل، قال : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ [ البقرة/ 53] ، وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] ، تَبارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقانَ [ الفرقان/ 1] ، شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقانِ [ البقرة/ 185] . والفَرَقُ : تَفَرُّقُ القلب من الخوف، واستعمال الفرق فيه کاستعمال الصّدع والشّقّ فيه . قال تعالی: وَلكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ [ التوبة/ 56] ، ويقال : رجل فَرُوقٌ وفَرُوقَةٌ ، وامرأة كذلك، ومنه قيل للناقة التي تذهب في الأرض نادّة من وجع المخاض : فَارِقٌ وفَارِقَةٌ «3» ، وبها شبّه السّحابة المنفردة فقیل : فَارِقٌ ، والْأَفْرَقُ من الدّيك : ما عُرْفُهُ مَفْرُوقٌ ، ومن الخیل : ما أحد وركيه أرفع من الآخر، والفَرِيقَةُ : تمر يطبخ بحلبة، والفَرُوقَةُ : شحم الکليتين . التفریق اصل میں تکثیر کے لئے ہے اور کسی چیز کے شیر ازہ اور اتحاد کو زائل کردینے پر بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں ، رَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ طه/ 94] کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا ۔ اور آیت کریمہ : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ [ البقرة/ 285] ۔ اور کہتے ہیں کہ ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے ۔ نیز آیت : ۔ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ البقرة/ 136] ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے میں احد کا لفظ چونکہ حرف نفی کے تحت واقع ہونے کی وجہ سے جمع کے معنی میں ہے لہذا تفریق کی نسبت اس کی طرف جائز ہے اور آیت کریمہ : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ [ الأنعام/ 159] جن لوگوں نے اپنے دین میں بہت سے رستے نکالے ۔ میں ایک قرات فارقوا ہے اور فرق ومفارقۃ کا لفظ عام طور پر اجسام کے ایک دوسرے سے الگ ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هذا فِراقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ [ الكهف/ 78] اب مجھ میں اور تجھ میں علیحد گی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِراقُ [ القیامة/ 28] اس ( جان بلب ) نے سمجھا کہ اب سب سے جدائی ہے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ بس اب دنیا سے مفارقت کا وقت قریب آپہنچا ہے اور آیت کریمہ : وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ [ النساء/ 150] اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں مگر حکم الہی کی مخالفت کر کے اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ النساء/ 152] اور ان میں کسی میں فرق نہ کیا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ الفرقان یہ فرق سے ابلغ ہے کیونکہ یہ حق اور باطل کو الگ الگ کردینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور یہ رجل وقنعان ( یعنی وہ آدمی جس کے حکم پر قناعت کی جائے ) کی طرح اسم صفت ہے مصدر نہیں ہے اور فرق کا لفظ عام ہے جو حق کو باطل سے الگ کرنے کے لئے بھی آتا ہے اور دوسری چیزوں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقاناً [ الأنفال/ 29] مومنوں اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امر فارق پیدا کر دیگا ( یعنی تم کو ممتاز کر دے گا ۔ میں فر قان سے مراد یہ ہے کہ وہ تمہارے دلوں کے اندر نور اور توفیق پیدا کر دیگا جس کے ذریعہ تم حق و باطل میں امتیاز کرسکو گے تو گویا یہاں فرقان کا لفظ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسری جگہ سکینۃ اور روح کے الفاظ ہیں اور قرآن نے یوم الفرقان اس دن کو کہا ہے جس روز کہ حق و باطل اور صحیح وغلط کے مابین فرق اور امتیاز ظاہر ہوا چناچہ آیت : ۔ وَما أَنْزَلْنا عَلى عَبْدِنا يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] اور اس ( نصرت ) پر ایمان رکھتے ہو جو ( حق و باطل میں ) فرق کرنے کے دن نازل فرمائی ۔ میں یوم الفرقان سے جنگ بدر کا دن مراد ہے کیونکہ وہ ( تاریخ اسلام میں ) پہلا دن ہے جس میں حق و باطل میں کھلا کھلا امتیاز ہوگیا تھا ۔ اور کلام الہی ( وحی ) بھی فرقان ہوتی ہے کیونکہ وہ حق اور باطل عقائد میں فرق کردیتی ہے سچی اور جھوٹی باتوں اور اچھے برے اعمال کو بالکل الگ الگ بیان کردیتی ہے اس لئے قرآن کریم تورات اور انجیل کو فرقان سے تعبیر فرما گیا ہے چناچہ توراۃ کے متعلق فرمایا : ۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] اور ہم نے موسیٰ اور ہارون هْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقانِ [ البقرة/ 185] (علیہ السلام) کو ہدایت اور گمراہی میں ) فرق کردینے والی ۔ ،۔۔ عطا کی ۔ تَبارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقانَ [ الفرقان/ 1] وہ خدائے عزوجل بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا : ۔ وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ [ البقرة/ 53] اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے ۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو معجزے دیئے روزوں کا مہینہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن ( اول اول ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور جس میں ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور حق و باطل کو ) الگ الگ کرنے والا ہے الفرق کے معنی خوف کی وجہ سے دل کے پرا گندہ ہوجانے کے ہیں اور دل کے متعلق اس کا استعمال ایسے ہی ہے جس طرح کہ صدع وشق کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ [ التوبة/ 56] اصل یہ ہے کہ یہ ڈر پوک لوگ ہے ۔ اور فروق وفروقۃ کے معنی ڈرپوک مرد یا عورت کے ہیں اور اسی سے اس اونٹنی کو جو درندہ کی وجہ سے بدک کر دور بھاگ جائے ۔ فارق یا فارقۃ کہا جاتا ہے اور تشبیہ کے طور پر اس بدلی کو بھی فارق کہا جاتا ہے جو دوسری بد لیوں سے علیحد ہ ہو ۔ وہ مرغ جس کی کلفی شاخ در شاخ ہو ( 2 ) وہ گھوڑا جس کا ایک سرین دوسرے سے اونچا ہو ۔ الفریقۃ دودھ میں پکائی ہوئی کھجور ۔ الفریقہ گردوں کی چربی ۔ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔ شيع الشِّيَاعُ : الانتشار والتّقوية . يقال : شاع الخبر، أي : كثر وقوي، وشَاعَ القوم : انتشروا وکثروا، وشَيَّعْتُ النّار بالحطب : قوّيتها، والشِّيعَةُ : من يتقوّى بهم الإنسان وينتشرون عنه، ومنه قيل للشّجاع : مَشِيعٌ ، يقال : شِيعَةٌ وشِيَعٌ وأَشْيَاعٌ ، قال تعالی: وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْراهِيمَ [ الصافات/ 83] ، هذا مِنْ شِيعَتِهِ وَهذا مِنْ عَدُوِّهِ [ القصص/ 15] ، وَجَعَلَ أَهْلَها شِيَعاً [ القصص/ 4] ، فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ [ الحجر/ 10] ، وقال تعالی: وَلَقَدْ أَهْلَكْنا أَشْياعَكُمْ [ القمر/ 51] . ( ش ی ع ) الشیاع کے معنی منتشر ہونے اور تقویت دینا کے ہیں کہا جاتا ہے شاع الخبر خبر پھیل گئی اور قوت پکڑ گئی ۔ شاع القوم : قوم منتشر اور زیادہ ہوگئی شیعت النار بالحطب : ایندھن ڈال کر آگ تیز کرنا الشیعۃ وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے ارد گرد پھیلے رہتے ہیں اسی سے بہادر کو مشیع کہا جاتا ہے ۔ شیعۃ کی جمع شیع واشیاع آتی ہے قرآن میں ہے وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْراهِيمَ [ الصافات/ 83] اور ان ہی یعنی نوح (علیہ السلام) کے پیرؤں میں ابراہیم تھے هذا مِنْ شِيعَتِهِ وَهذا مِنْ عَدُوِّهِ [ القصص/ 15] ایک تو موسیٰ کی قوم کا ہے اور دوسرا اس کے دشمنوں میں سے تھا وَجَعَلَ أَهْلَها شِيَعاً [ القصص/ 4] وہاں کے باشندوں کو گروہ در گروہ کر رکھا تھا ۔ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ [ الحجر/ 10] پہلے لوگوں میں ( بھی ) وَلَقَدْ أَهْلَكْنا أَشْياعَكُمْ [ القمر/ 51] اور ہم تمہارے ہم مذہبوں کو ہلاک کرچکے ہیں ۔ حزب الحزب : جماعة فيها غلظ، قال عزّ وجلّ : أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] ( ح ز ب ) الحزب وہ جماعت جس میں سختی اور شدت پائی جائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کسی کو خوب یاد ہے لدی لَدَى يقارب لدن . قال تعالی: وَأَلْفَيا سَيِّدَها لَدَى الْبابِ [يوسف/ 25] . ( ل د ی ) لدی یہ تقریبا لدن کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَلْفَيا سَيِّدَها لَدَى الْبابِ [يوسف/ 25] اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا فرح الْفَرَحُ : انشراح الصّدر بلذّة عاجلة، وأكثر ما يكون ذلک في اللّذات البدنيّة الدّنيوية، فلهذا قال تعالی: لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] ، وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] ، ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] ، ( ف ر ح ) ا لفرح کے معنی کسی فوری یا دینوی لذت پر انشراح صدر کے ہیں ۔ عموما اس کا اطلاق جسمانی لذتوں پر خوش ہونے کے معنی میں ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] اور جو تم کو اس نے دیا ہوا اس پر اترایا نہ کرو ۔ وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] اور ( کافر ) لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہورہے ہیں ۔ ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم ۔۔۔۔۔ خوش کرتے تھے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جنہوں نے دین اسلام کو چھوڑ دیا اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے کوئی یہودی ہے تو کوئی نصرانی اور کوئی مجوسی اور ہر ایک گروہ اپنے اس طریقہ پر نازاں ہے جو اس کے پاس ہے اور اپنے خیال میں اسی کو حق سمجھ رہا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢ (مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا ط) ” فَرَقَکے معنی جدا کرنا اور پھاڑ دینا کے ہیں ‘ جبکہ فَرَّقَ میں اس بنیادی معنی پر مستزاد کسی چیز کو کاٹ دینا ‘ توڑ دینا اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیناکا مفہوم بھی شامل ہوجاتا ہے۔ سورة البقرۃ میں ارشاد ہوا : (وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ ) ( آیت ٥٠) ” اور یاد کرو جب کہ ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو پھاڑ دیا پھر تمہیں بچالیا اور فرعونیوں کو غرق کردیا “۔ اس طرح فرق یا فرقہ کے معنی کسی چیز کا کٹا ہوا حصہ یا ٹکڑا کے ہیں۔ جیسا کہ سورة الشعراء کی اس آیت میں ہے : (فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ ) ” تو وہ (سمندر ) پھٹ گیا ‘ پھر ہوگیا ہر ٹکڑا ایک بہت بڑے پہاڑ کی مانند۔ “ اس اعتبار سے دین کو پھاڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ دین کے نام لیواؤں نے اپنی اطاعت کو اس طرح منتشر کردیا کہ زندگی کے ایک حصے میں تو اللہ کی اطاعت کرتے رہے ‘ جبکہ کسی دوسرے معاملے میں کسی اور کی بات مانتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا نظام زندگی منتشر ہو کر رہ گیا۔ اس سلسلے میں اللہ کا حکم بہت واضح ہے : (وَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ط) (الاعراف : ٢٩) ” اور اسی کو پکارو دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے “۔ یعنی اللہ کی اطاعت کے متوازی کسی دوسرے کی اطاعت قابل قبول نہیں کہ کچھ احکام اللہ کے مان لیے جائیں اور کچھ میں کسی دوسرے کی پیروی کی جائے۔ ہاں اللہ کی اطاعت کے تابع رہ کر کسی اور کی اطاعت میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً والدین کی اطاعت کرنا ‘ اساتذہ کا کہنا ماننا اور حکامّ کا فرمانبردار بن کر رہنا ضروری ہے ‘ مگر اس وقت تک جب تک کہ ان میں سے کوئی اللہ کی معصیت کا حکم نہ دے۔ اس سلسلے میں نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت واضح اصول بیان فرما دیا ہے : (لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ ) (١) یعنی مخلوق کی ایسی اطاعت نہیں کی جائے گی جس سے خالق کی نافرمانی ہوتی ہو۔ (کُلُّ حِزْبٍم بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ ) ” ایک گروہ دین کے ایک حصے پر عمل کر رہا ہے ‘ دوسرے گروہ نے اپنی پسند کے کچھ اور احکام کو اپنی پیروی کے لیے منتخب کرلیا ہے اور تیسرے نے کوئی اور راستہ نکال لیا ہے۔ غرض مختلف گروہوں نے دین کے مختلف حصوں کو آپس میں بانٹ لیا ہے اور ہر گروہ اپنے طریقے میں مگن ہے اور اس پر اترا رہا ہے ‘ حالانکہ ان میں سے کوئی گروہ بھی پورے دین پر عمل پیرا نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

51 This is an allusion to the fact that the real way of life for mankind is the same Way of Nature as elucidated above. This way of life has not evolved from a polytheistic crced to Tauhid as thought by those who invent a philosophy of religion on the basis of speculation. But, contrary to this, all the religions found in the world today have appeared because of the corruption of the original Way of life. This corruption occurred because different people added their different self-made creeds to the natural realities and created separate sects and every-one became a devotee of the additional thing, which was the basis of the separate sect, and gave up the original Way of life. Now the only way of attaining true guidance is that one should return to the original Reality which was the basis of the true Faith, and rid oneself of all the later additions and excrescences and their devotees. If he still keeps any kind of contact with them, he will only be harming the true Faith.

سورة الروم حاشیہ نمبر : 51 یہ اشارہ ہے اس چیز کی طرف کہ نوع انسانی کا اصل دین وہی دین فطرت ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ۔ یہ دین مشرکانہ مذاہب سے بتدریج ارتقاء کرتا ہوا توحید تک نہیں پہنچا ہے ، جیسا کہ قیاس و گمان سے ایک فلسفہ مذہب گھڑ لینے والے حضرات سمجھتے ہیں ، بلکہ اس کے برعکس یہ جتنے مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں یہ سب کے سب اس اصلی دین میں بگاڑ آنے سے رونما ہوئے ہیں ، اور یہ بگاڑ اس لیے آیا ہے کہ مختلف لوگوں نے فطری حقائق پر اپنی اپنی نو ایجاد باتوں کا اضافہ کر کے اپنے الگ دین بنا ڈالے ، اور ہر ایک اصل حقیقت کے بجائے اس اضافہ شدہ چیز کا گرویدہ ہوگیا جس کی بدولت وہ دوسروں سے جدا ہوکر ایک مستقل فرقہ بنا تھا ۔ اب جو شخص بھی ہدایت پاسکتا ہے وہ اسی طرح پاسکتا ہے کہ اس اصل حقیقت کی طرف پلٹ جائے جو دین حق کی بنیاد تھی ، اور بعد کے ان تمام اضافوں سے اور ان کے گرویدہ ہونے والے گروہوں سے دامن جھاڑ کر بالکل الگ ہوجائے ۔ ان کے ساتھ ربط کا جو رشتہ بھی وہ لگائے رکھے گا وہی دین میں خلل کا موجب ہوگا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

15: انسان جب پہلے پہل دنیا میں آیا تو اس نے فطری صلاحیت سے کام لے کر دین حق کو اختیار کیا، لیکن پھر لوگوں نے الگ الگ طریقے اختیار کرکے اپنے آپ کو مختلف مذاہب میں بانٹ لیا، اسی کو دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور فرقوں میں بٹ جانے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:32) من الذین فرقوا وینھم یہ جملہ من المشرکین سے بدل ہے من (حرف جار) عادۃ آیا ہے ای لاتکونوا من المشرکین الذین فرقوا دینھم یعنی ان مشرکین میں سے مت نبو جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور خود گروہ گروہ ہوگئے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک ان لوگوں سے مراد یہود و نصاری ہیں کہ نہ صرف فروعات میں کئی فرقوں میں بٹ گئے ہیں بلکہ منہیات میں بھی مختلف گروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ فرقوا ماضی جمع مذکر غائب تفریق (تفعیل) مصدر ۔ انہوں نے ٹکڑے کر دئیے۔ وکانوا شیعا : شیعۃ کی جمع ہے ۔ بمعنی فرقے۔ گروہ۔ شیعا بوجہ کانوا کی خبر کے منصوب ہے ۔ اور وہ گروہ گروہ ہوگئے۔ حزب۔ گروہ ۔ جماعت۔ احزاب جمع ۔ لدیہم : لدی مضاف ہم جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کے پاس۔ فرحون : مسرورن۔ خوش ۔ فرحاں۔ اتراتے ہوئے۔ کل حزب بما لدیہم فرحون یا یہ جملہ معترضہ ہے۔ یا موضع نصب میں ہے اور شیعا کی صفت ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی توحید کے اصلی اور فطری دین میں باگڑ پیدا کر کے اپنے الگ الگ دین بنا لئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کفر و شرک کے جتنے دین پائے جاتے ہیں وہ سب اصل دین فطرۃ …توحید/ میں بگاڑ سے پیدا ہوئے ہیں (دیکھیے سورة یونس آی 19

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی حق تو ایک تھا اور باطل بہت ہیں، انہوں نے حق کو چھوڑ دیا، اور باطل کی مختلف راہیں اختیار کرلیں، یہ ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے کہ ایک نے ایک لے لیا، دوسرے نے دوسرا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ” اَلدِّیْنُ “ ایک تھا لیکن لوگوں نے ” اَلدِّیْنُ “ کو تقسیم کیا اور فرقہ واریّت میں مبتلا ہوگئے۔ عقیدہ توحید وحدت فکر دیتا ہے۔ اس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ جس طرح تمہارا الٰہ ایک ہے اسی طرح تمہیں بھی ایک ہونا چاہیے یہی پورے دین کی فکر ہے۔ لیکن جن لوگوں نے عقیدہ توحید میں ملاوٹ کی اور ” اَلدِّیْنُ “ کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور گروہ بندی کا شکار ہوگئے۔ توحید میں شرک کی آمیزش کرنے اور الدّین کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی وجہ سے لوگ توحید کی وحدت اور ” اَلدِّیْنُ “ سے دور ہوئے۔ انہیں اس پر افسوس کی بجائے اپنی گروہ بندی پر فخر ہے اور اسی کو اصل دین سمجھتے ہیں ہر کوئی اس پر شاداں اور فرحاں دکھائی دیتا ہے۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّمِینِہٖ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّسَارِہٖ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ فِی الْخَطِّ الْأَوْسَطِ فَقَالَ ہَذَا سَبِیل اللّٰہِ ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ (وَأَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ) [ رواہ ابن ماجۃ : باب اتباع سنۃ ] ” حضرت جا بر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پس تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سیدھی لکیر کھینچی پھر اس کے دائیں اور بائیں مختلف لکیریں کھینچی پھر آپ نے اپنا دست مبارک درمیان کی لکیر پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے اور یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی (وَأَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ) “ ” حضرت عوف بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہودی اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے۔ ان کے ستر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنّت میں جائے گا۔ عیسائی بہتر فرقوں میں بٹ گئے۔ ان کے اکہتر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں داخل ہوگا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ان میں سے بہتر جہنمی ہوں گے اور ایک جنتّی ہوگا۔ صحابہ نے عرض کی جنت میں جانے والے کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر چلنے والے ہیں۔ “ [ رواہ ابن ماجۃ : باب افْتِرَاقِ الأُمَم ] (یَآ أَیُّھَا النَّاسُ ! أَلَآ إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لِاَعْجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلآی أَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بالتَّقْوٰی) [ مسند أحمد : کتاب مسند الأنصار، باب حدیث رجل من أصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” اے لوگو ! خبردار یقیناً تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ خبردار ! کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، سرخ کو کالے پر اور کالے کو سرخ پر تقویٰ کے سوا کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ “ ” حضرت مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک ان کو مضبوطی کے ساتھ تھا مے رکھو گے کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس کے نبی کی سنت۔ “ [ موطا امام مالک : باب النَّہْیِ عَنِ الْقَوْلِ بالْقَدَرِ ] سب سے پہلے امت میں افتراق اور دین میں اختلاف جھوٹی نبوت کے دعویدار مسیلمہ کذاب نے پیدا کرنے کی کوشش کی۔ کیونکہ اس کا امت کے ساتھ کوئی ناطہ نہ تھا اور صحابہ کرام (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تربیت یافتہ تھے۔ اس لیے انہوں نے نہ صرف فکری طور پر اس فتنے کا تدراک کیا بلکہ قتال فی سبیل اللہ کے ذریعے اس کا قلع قمع کردیا۔ اس کے بعد حضرت علی (رض) کے دور میں خارجی فرقہ پیدا ہوا۔ حضرت علی (رض) نے ان کا مقابلہ کیا جس بنا پر یہ فتنہ زیادہ مدت تک نہ چل سکا۔ اس کے بعد علاقائی طور پر خلق قرآن اور جبری طلاق جیسے فتنے پیدا ہوئے۔ مگر اس دور کے آئمہ کرام نے ان فتنوں کو دبا دیا۔ اس دوران سیاسی اختلافات رونما ہوئے اور خلافت راشدہ کئی حصوں میں تقسیم ہوئی۔ مگر اعتقادی اور فکری اعتبار سے امت چار سو سال متحد رہی۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رض) اور دیگر اہل علم کی تحقیق کے مطابق چوتھی صدی ہجری کے آخر میں امت فکری طور پر چار حصوں میں تقسیم ہوئی۔ آئمہ کرام کے نام پر مستقل طور پر چار فرقے معرض وجود میں آئے۔ جو حنفی، مالکی، حنبلی اور شافعی کہلائے۔ اور پاکستان میں حنفی کہلوانے والے حضرات قادری، سہروردی، نقشبندی، چشتی اور دیوبندی کہلوانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس فرقہ واریت کے باوجود ہر دور میں ایک جماعت توحید وسنت پر قائم رہی اور وہ قیامت تک قائم رہے گی۔ مسائل ١۔ جن لوگوں نے شرک کیا وہ فرقہ فرقہ ہوگئے۔ ٢۔ ہر گروہ اپنی رسومات اور فقہ پر خوش ہے۔ تفسیر بالقرآن اتحاد کا حکم : ١۔ اتحاد اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ (آل عمران : ١٠٣) ٢۔ اتحاد اللہ کی توفیق کا نتیجہ ہے۔ (الانفال : ٦٣) ٣۔ باہمی اختلاف اللہ کا عذاب ہوتا ہے۔ (الانعام : ٦٥) ٤۔ کتاب اللہ کا رشتہ نہ ٹوٹنے والا ہے۔ (البقرۃ : ٢٥٦) ٥۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور فرقوں میں نہ بٹو۔ (آل عمران : ١٠٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا) (جنہوں نے اپنے دین میں پھوٹ ڈالی اور جو دین اختیار کیا اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا) دین حق تو ہمیشہ سے ایک ہی ہے اس کے ٹکڑے نہیں ہوسکتے، جو لوگ اسے چھوڑتے ہیں ان کے سامنے مختلف راہیں ہوتی ہیں، ان راہوں میں سے کسی راہ کو اختیار کرلیتے ہیں، اگر حق پر رہتے تو سب ایک راہ پر ہوتے۔ (کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ ) (ہر جماعت اس سے خوش ہے جو ان کے پاس ہے) حالانکہ ان باطل والوں میں سے کسی کی راہ بھی حق نہیں ہے، اور اگر اللہ کے بھیجے ہوئے دین پر ہوتے تو افتراق بھی نہ ہوتا اور اللہ کے دین پر ہی خوش اور نازاں ہوتے۔ شاید یہاں کوئی یہ سوال کرے کہ مسلمانوں میں بھی تو بہت سے فرقے ہیں ؟ حقیقت میں یہ فرقے اسلام سے تعلق رکھنے والے نہیں ہیں، اسلام سے ہٹے تو یہ فرقے بنے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اور اس کے رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو سامنے رکھ کر چلتے ہیں سب آپس میں ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے ہیں، جیسا کہ چاروں مذاہب کے مقلدین ہیں۔ جو اشخاص قرآن و حدیث کو چھوڑتے گئے ان کے فرقے الگ الگ بنتے گئے، اگرچہ دھوکہ دینے کے لیے قرآن و حدیث کا دم بھرتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

32۔ یہ اہل شرک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور خود فرقہ فرقہ ہوگئے ہر فرقہ اس طریقہ پر ناراں ہے جس کا وہ پابند ہے اور جو اس کے پاس ہے اسی پر ریچھ رہا ہے۔ یعنی دین حق تو ایک ہی ہے اور باطل بہت ہی ہیں انہوں نے دین حق کو چھوڑ دیا اور باطل کی مختلف راہیں اختیار کرلیں ہر فرقہ کسی ایک باطل کو اختیار کر بیٹھا۔ اب لطف یہ ہے کہ جو باطل اس کے پاس ہے اور جس کا وہ پابند ہے اسی پر ریچھ رہا ہے اور نازاں ہے اب یہ مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اگر دین حق پر رہتے تو تم ایک ہی گروہ رہتے۔