Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 43

سورة الروم

فَاَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ الۡقَیِّمِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ یَوۡمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوۡنَ ﴿۴۳﴾

So direct your face toward the correct religion before a Day comes from Allah of which there is no repelling. That Day, they will be divided.

پس آپ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کا ٹل جانا اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے ہی نہیں اس دن سب متفرق ہوجائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to follow the Straight Path before the Day of Resurrection Here Allah commands His servants to hasten to obedience to Him and to hasten to do good deeds. فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لاَّ مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ... So, set you your face to the straight and right religion, before there comes from Allah a Day which none can avert. The Day of Resurrection, for when Allah wants it to happen, no one will be able to avert it. ... يَوْمَيِذٍ يَصَّدَّعُونَ On that Day men shall be divided. means, they will be separated, with one group in Paradise and another in Hell. Allah says: مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلَِنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ

اللہ کے دین میں مستحکم ہوجاؤ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے ۔ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ ۔ اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے ۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہوچکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی جماعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا ۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے ۔ ایک جماعت جنت میں ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں ۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے ۔ لوگ اپنے کئے ہوئے نیک اعمال بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش وخرم ہونگے ۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کرکے دے رہا ہوگا ۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کرکے انہیں ملے گی ۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

431یعنی اس دن کے آنے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس لئے اس دن (قیامت) کے آنے سے پہلے پہلے اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرلیں اور نیکیوں سے اپنا دامن بھر لیں۔ 432یعنی دو گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک مومنوں کا دوسرا کافروں کا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٠] لہذا اے نبی ! اور اے مسلمانو ! مشرکوں کے ان تمام لغویات سے منہ موڑ کر دین فطرت کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ کیونکہ ہر طرح کی خرابیوں اور فسادات کی جڑ یہ شرک ہی ہے۔ اور ان کا علاج صرف یہی ہے کہ اپنی تمام تر توجہ اللہ کی طرف مبذول کرلو اور اسی پر توکل رکھو۔ [ ٥١] یعنی جیسے موت ایک اٹل حقیقت ہے اور اسے کوئی بھی اپنے سے ٹال نہیں سکتا اور نہ اس کے وقت وہ تقدیم و تاخیر ہوسکتی ہے۔ اسی طرح قیامت بھی ایک اٹل حقیقت ہے جو نہ کسی کے ٹالے ٹل سکتی ہے نہ کوئی اسے اپنے آپ سے ٹال سکتا ہے اور نہ ہی اس میں تقدیم و تاخیر ممکن ہے اور ان دونوں حقیقتوں میں مناسبت یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جو کوئی مرگیا تو اسی دن اس کی قیامت قائم ہوگئی۔ (مشکوۃ کتاب الفتن۔ باب فی قرب الساعۃ وان من مات فقد قامت قیامتہ ) بالفاظ دیگر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے مرنے سے پہلے پہلے شرکیہ عقائد سے کلیتاً دستبردار ہو کر دین فطرت کی طرف آجاؤ۔ [ ٥٢] یعنی کسی کافر کو یہ مجال نہ ہوگی کہ وہ مسلمانوں کی جماعت میں جاملے۔ یا اگر پہلے ملا ہے تو وہیں رہ جائے بلکہ سب لوگ مجبور ہوں گے کہ اپنے سے تعلق رکھنے والی جماعت میں فوراً جا شامل ہوں۔ اور یہ کام اتنی سرعت سے ہوگا جیسے کوئی اکٹھا مجمع فوراً پھٹ کر کئی حصوں میں بٹ جائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ الْقَيِّمِ : یعنی جب بر و بحر میں شرک کی وجہ سے فساد پھیل گیا ہے تو اے مخاطب ! تو اپنا چہرہ اس دین کی طرف سیدھا کرلے جو بالکل سیدھا اور فطرت توحید پر قائم ہے۔ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ : ” مَرَدَّ “ ” رَدَّ یَرُدُّ “ سے مصدر میمی ہے، ہٹانا، پھیر دینا۔ یعنی اس دن سے پہلے پہلے دین قیم کی طرف اپنا رخ سیدھا کرلے جس کا واقع ہونا اللہ تعالیٰ نے طے کردیا ہے اور اللہ کی طرف سے اس کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں، پھر کوئی اور اسے کس طرح ٹال سکتا ہے ؟ يَوْمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ : ” يَّصَّدَّعُوْنَ “ اصل میں ” یَتَصَدَّعُوْنَ “ ہے ” پھٹ جائیں گے “ یعنی قیامت کے دن مسلم و کافر اس طرح یک لخت جدا جدا ہوجائیں گے جیسے کوئی چیز پھٹ کر الگ الگ ہوجاتی ہے۔ ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی کافر مسلمانوں میں یا کوئی مسلمان کافروں میں شامل رہ جائے، فرمایا : ( فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ ) [ الشورٰی : ٧ ] ” ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ بھڑکتی آگ میں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَقِـمْ وَجْہَكَ لِلدِّيْنِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللہِ يَوْمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ۝ ٤٣ اقامت والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو : أَقِيمُوا الصَّلاةَ [ البقرة/ 43] ، في غير موضع وَالْمُقِيمِينَ الصَّلاةَ [ النساء/ 162] . وقوله : وَإِذا قامُوا إِلَى الصَّلاةِ قامُوا كُسالی[ النساء/ 142] فإنّ هذا من القیام لا من الإقامة، وأمّا قوله : رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاةِ [إبراهيم/ 40] أي : وفّقني لتوفية شرائطها، وقوله : فَإِنْ تابُوا وَأَقامُوا الصَّلاةَ [ التوبة/ 11] فقد قيل : عني به إقامتها بالإقرار بوجوبها لا بأدائها، والمُقَامُ يقال للمصدر، والمکان، والزّمان، والمفعول، لکن الوارد في القرآن هو المصدر نحو قوله : إِنَّها ساءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقاماً [ الفرقان/ 66] ، والمُقَامةُ : لإقامة، قال : الَّذِي أَحَلَّنا دارَ الْمُقامَةِ مِنْ فَضْلِهِ [ فاطر/ 35] نحو : دارُ الْخُلْدِ [ فصلت/ 28] ، وجَنَّاتِ عَدْنٍ [ التوبة/ 72] وقوله : لا مقام لَكُمْ فَارْجِعُوا[ الأحزاب/ 13] ، من قام، أي : لا مستقرّ لكم، وقد قرئ : لا مقام لَكُمْ «1» من : أَقَامَ. ويعبّر بالإقامة عن الدوام . نحو : عَذابٌ مُقِيمٌ [هود/ 39] ، وقرئ : إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ «2» [ الدخان/ 51] ، أي : في مکان تدوم إقامتهم فيه، وتَقْوِيمُ الشیء : تثقیفه، قال : لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ [ التین/ 4] الاقامتہ ( افعال ) فی المکان کے معنی کسی جگہ پر ٹھہرنے اور قیام کرنے کے ہیں اوراقامتہ الشیی ( کسی چیز کی اقامت ) کے معنی اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کے ہوتے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] کہو کہ اے اہل کتاب جب تک تم توراۃ اور انجیل ۔۔۔۔۔ کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے یعنی جب تک کہ علم وعمل سے ان کے پورے حقوق ادا نہ کرو ۔ اسی طرح فرمایا : ۔ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] اور اگر وہ توراۃ اور انجیل کو ۔۔۔۔۔ قائم کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں جہاں کہیں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے یا نماز یوں کی تعریف کی گئی ہے ۔ وہاں اقامتہ کا صیغۃ استعمال کیا گیا ہے ۔ جس میں اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ نماز سے مقصود محض اس کی ظاہری ہیبت کا ادا کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اسے جملہ شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے اسی بنا پر کئی ایک مقام پر اقیموالصلوۃ اور المتقین الصلوۃ کہا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا قامُوا إِلَى الصَّلاةِ قامُوا كُسالی[ النساء/ 142] اوت جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہوکر ۔ میں قاموا اقامتہ سے نہیں بلکہ قیام سے مشتق ہے ( جس کے معنی عزم اور ارادہ کے ہیں ) اور آیت : ۔ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاةِ [إبراهيم/ 40] اے پروردگار مجھ کو ( ایسی توفیق عنایت ) کر کہ نماز پڑھتا رہوں ۔ میں دعا ہے کہ الہٰی / مجھے نماز کو پورے حقوق کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرما اور آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ تابُوا وَأَقامُوا الصَّلاةَ [ التوبة/ 11] پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے ۔۔۔۔۔۔۔ لگیں ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں اقامۃ سے نماز کا ادا کرنا مراد نہیں ہے بلکہ اس کے معنی اس کی فرضیت کا اقرار کرنے کے ہیں ۔ المقام : یہ مصدر میمی ، ظرف ، مکان ظرف زمان اور اسم مفعول کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن قرآن پاک میں صرف مصدر میمی کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّها ساءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقاماً [ الفرقان/ 66] اور دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے ۔ اور مقامتہ ( بضم الیم ) معنی اقامتہ ہے جیسے فرمایا : الَّذِي أَحَلَّنا دارَ الْمُقامَةِ مِنْ فَضْلِهِ [ فاطر/ 35] جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ کے رہنے کے گھر میں اتارا یہاں جنت کو دارالمقامتہ کہا ہے جس طرح کہ اسے دارالخلد اور جنات عمدن کہا ہے ۔ اور آیت کریمہ : لا مقام لَكُمْ فَارْجِعُوا[ الأحزاب/ 13] یہاں تمہارے لئے ( ٹھہرنے کا ) مقام نہیں ہے تو لوٹ چلو ۔ میں مقام کا لفظ قیام سے ہے یعنی تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور ایک قرات میں مقام ( بضم المیم ) اقام سے ہے اور کبھی اقامتہ سے معنی دوام مراد لیا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ عَذابٌ مُقِيمٌ [هود/ 39] ہمیشہ کا عذاب ۔ اور ایک قرات میں آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ «2» [ الدخان/ 51] بیشک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے ۔ مقام بضمہ میم ہے ۔ یعنی ایسی جگہ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ تقویم الشی کے معنی کسی چیز کو سیدھا کرنے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ [ التین/ 4] کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ۔ اس میں انسان کے عقل وفہم قدوقامت کی راستی اور دیگر صفات کی طرف اشارہ ہے جن کے ذریعہ انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہوتا ہے اور وہ اس کے تمام عالم پر مستولی اور غالب ہونے کی دلیل بنتی ہیں ۔ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معنی چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ قَيِّمُ وماء روی، وعلی هذا قوله تعالی: ذلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ [يوسف/ 40] ، وقوله : وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجاً قَيِّماً [ الكهف/ 1- 2] ، وقوله : وَذلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ [ البینة/ 5] فَالْقَيِّمَةُ هاهنا اسم للأمّة القائمة بالقسط المشار إليهم بقوله : كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ [ آل عمران/ 110] ، وقوله : كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَداءَ لِلَّهِ [ النساء/ 135] ، يَتْلُوا صُحُفاً مُطَهَّرَةً فِيها كُتُبٌ قَيِّمَةٌ [ البینة/ 2- 3] فقد أشار بقوله : صُحُفاً مُطَهَّرَةً إلى القرآن، وبقوله : كُتُبٌ قَيِّمَةٌ [ البینة/ 3] إلى ما فيه من معاني كتب اللہ تعالی، فإنّ القرآن مجمع ثمرة كتب اللہ تعالیٰ المتقدّمة . اور آیت کریمہ : ۔ دِيناً قِيَماً [ الأنعام/ 161] یعنی دین صحیح ہے ۔ میں قیما بھی ثابت ومقوم کے معنی میں ہے یعنی ایسا دین جو لوگوں کے معاشی اور اخروی معامات کی اصلاح کرنے والا ہے ایک قرات میں قیما مخفف ہے جو قیام سے ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ صفت کا صغیہ ہے جس طرح کہ قوم عدی مکان سوی لحم ذی ماء روی میں عدی سوی اور ذی وغیرہ اسمائے صفات ہیں اور اسی معنی میں فرمایا : ۔ ذلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ [يوسف/ 40] یہی دین ( کا ) سیدھا راستہ ) ہے ؛ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجاً قَيِّماً [ الكهف/ 1- 2] اور اس میں کسی طرح کی کجی اور پیچیدگی نہ رکھی بلکہ سیدھی اور سلیس اتاری ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَذلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ [ البینة/ 5] یہی سچا دین ہے ۔ میں قیمتہ سے مراد امت عادلہ ہے جس کیطرف آیت کریمہ : ۔ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ [ آل عمران/ 110] تم سب سے بہتر ہو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَداءَ لِلَّهِ [ النساء/ 135] انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو ۔ میں اشارہ پایاجاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ يَتْلُوا صُحُفاً مُطَهَّرَةً فِيها كُتُبٌ قَيِّمَةٌ [ البینة/ 2- 3] جو پاک اوراق پڑھتے ہیں جن میں مستحکم آیتیں لکھی ہوئی ہیں ۔ میں صحفا مطھرۃ سے قرآن پاک میں کی طرف اشارہ ہے ۔ اور کے معنی یہ ہیں کہ قرآن پاک میں تمام کتب سماویہ کے مطالب پر حاوی ہے کیونکہ قرآن پاک تمام کتب متقدمہ کا ثمرہ اور نچوڑ ہے أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت المروءة من بابها «7» فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) «1» فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ رد الرَّدُّ : صرف الشیء بذاته، أو بحالة من أحواله، يقال : رَدَدْتُهُ فَارْتَدَّ ، قال تعالی: وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( رد د ) الرد ( ن ) اس کے معنی کسی چیز کو لوٹا دینے کے ہیں خواہ ذات شے کہ لوٹا یا جائے یا اس کی حالتوں میں سے کسی حالت کو محاورہ ہے ۔ رددتہ فارتد میں نے اسے لوٹا یا پس وہ لوٹ آیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( مگر بکے ) لوگوں سے اس کا عذاب تو ہمیشہ کے لئے ٹلنے والا ہی نہیں ۔ صدع الصَّدْعُ : الشّقّ في الأجسام الصّلبة کالزّجاج والحدید ونحوهما . يقال : صَدَعْتُهُ فَانْصَدَعَ ، وصَدَّعْتُهُ فَتَصَدَّعَ ، قال تعالی: يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ [ الروم/ 43] ، وعنه استعیر : صَدَعَ الأمرَ ، أي : فَصَلَهُ ، قال : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] ، وکذا استعیر منه الصُّدَاعُ ، وهو شبه الاشتقاق في الرّأس من الوجع . قال : لا يُصَدَّعُونَ عَنْها وَلا يُنْزِفُونَ [ الواقعة/ 19] ، ومنه الصَّدِيعُ للفجر «1» ، وصَدَعْتُ الفلاة : قطعتها «2» ، وتَصَدَّعَ القومُ أي : تفرّقوا . ( ص د ع ) الصدع کے معنی ٹھوس اجسام جیسے شیشہ لوہا وغیرہ میں شگاف ڈالنا کے ہیں ۔ صدع ( ف) وصدع متعدی ہے اور انصدع وتصدع لازم اسی سے استعارہ کے طور پر صدع الامر کا محاورہ ہے جس کے معنی کسی امر کے ظاہر اور واضح کردینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ؛فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ) ملا ہے اسے کھول کر بیان کرو۔ اور اسی سے صداع کا لفظ مستعار ہے جس کے معنی دوسرے کے ہیں جس سے گویا سر پھٹا جارہا ہو۔ قرآن میں ہے ؛لا يُصَدَّعُونَ عَنْها وَلا يُنْزِفُونَ [ الواقعة/ 19] اس سے نہ تو دروسر ہوگا اور نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی ۔ اور اسی سے صدیع بمعنی فجر ہے ۔ اور صدعت الفلاۃ کے معنی بیاباں طے کرنے کے ہیں ۔ تصدع القوم لوگ منتشر ہوگئے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ [ الروم/ 43] اس روز ( سب لوگ ) الگ الگ ہوجائیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

سو اے مخاطب تو اپنے عمل اور دین کو خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لیے رکھ اور اس دین پر جو کہ دین مستقیم ہے قائم رہ اس سے پہلے کہ قیامت آجائے سو اس روز عذاب الہی سے تمہیں کوئی بھی بچانے والا نہ ہوگا اور قیامت کے دن سب الگ الگ جماعتیں ہوجائیں گی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٣ (فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ الْقَیِّمِ ) ” قبل ازیں آیت ٣٠ میں بھی یہی ہدایت دی گئی ہے۔ (یَوْمَءِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ ) ” اس دن تمام نسل انسانی اپنے اپنے اعتقادات اور اعمال کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں بٹ جائے گی۔ گویا دودوھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

66 That is, "The Day which neither Allah Himself will avert nor has He given power to anyone else to avert it."

سورة الروم حاشیہ نمبر : 66 یعنی جس کو نہ اللہ تعالی خود ٹالے گا اور اس نے کسی کے لیے ایسی کسی تدبیر کی کوئی گنجائش چھوڑی ہے کہ وہ اسے ٹال سکے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:43) فاقم وجھل للدین القیم ملاحظہ ہو 30:30 مرد۔ مصدر میمی۔ رد مادہ۔ لوٹنا۔ پھر آنا۔ من اللہ۔ یہ یا تو یاتی سے متعلق ہے یا مرد سے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ بیشتر اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے جو لوٹنے والا نہیں ۔ دوسری صورت میں : قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے کہ جس کے لئے پھر اللہ کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا۔ یصدعون۔ مضارع جمع مذکر غائب تصدع (تفعل) مصدر سے۔ اصل میں یہ یتصدعون تھا۔ تاء کو ص سے بدلا بھر ص کو ص میں مدغم کیا۔ وہ منتشر ہوجائیں گے۔ ای فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر۔ اہل جنت کا فریق الگ دوزخ کا فریق الگ۔ اس کا مادہ صدع ہے جس کے معنی پھاڑ دینے کے ہیں۔ تصدع القوم قوم کا جدا جدا ہوجانا۔ مختلف ٹولیوں میں بٹ جانا۔ یمھدون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ مھد (فتح) مصدر۔ وہ درستی کرتے ہیں۔ وہ ہموار کرتے ہیں۔ وہ بچھاتے ہیں۔ المھد گہوارہ جو بچہ کے لئے تیار کیا جائے۔ جیسے من کان فی المھد صبیا۔ (19:29) جو ابھی گود کا بچہ ہے۔ فلا نفسھم یمھدون۔ اپنی استراحت کے لئے فرش بچھا رہے ہیں۔ وہ اپنے راحت کا فرش ہموار کر رہے ہیں۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں :۔ بچے کے پن گھوڑے کو مھد اور بستر کو مھاد کہتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی توحید اسلامی کی طرف۔ 1۔ یعنی جیسے دنیا میں خاص عذاب کے وقت کو اللہ تعالیٰ قیامت کے وعدہ پر ہٹاتا جاتا ہے، جب وہ موعود دن آجاوے گا پھر اس کو نہ ہٹادے گا اور توقف و امہال نہ ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : دنیا کے فساد اور برے انجام سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنے چہرے کو اللہ ہی کی طرف متوجہ رکھے۔ انسان اسی بنیاد پر ہی دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ عقیدہ توحید اور دین کی اہمیّت اور اس کی فضیلت کے پیش نظر براہ راست سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا کہ مشرک جس قدر چاہیں عقیدہ توحید اور دین اسلام کو ناپسند کریں اور اس کی مخالفت کرتے رہیں آپ کو ہر حال میں اپنے چہرے کو اپنے رب کی طرف رکھنا اور دین اسلام پر قائم رہنا چاہیے۔ اس دن سے پہلے جو ہر صورت آکر رہے گا جو کسی کے انکار یا اقرار سے ٹل نہیں سکتا۔ اس دن سب لوگ منتشر ہوں گے کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا جس نے کفر کیا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا اور جس نے عقیدہ توحید اپنانے کے ساتھ نیک عمل کیے اس کا فائدہ اسی کو ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس دن ایمان دار اور صالح عمل کرنے والوں کو اپنی طرف سے مزید فضل وکرم سے نوازے گا۔ کفار اور مشرکین کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کسی صورت بھی انہیں پسند نہیں کرتا۔ جسے اللہ تعالیٰ پسند نہ کرے اس کا انجام کس طرح اچھا ہوسکتا ہے۔ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ ” اَلدِّیْنِ “ سے مراد عقیدہ توحید اور پورا دین ہے۔ اس میں دو اشارے پائے جاتے ہیں کہ ہر آدمی کو مرتے دم تک عقیدہ توحید اور دین پر قائم رہنا چاہیے اور دوسرا اشارہ یہ ہے کہ ” لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کا عقیدہ اور دین اسلام قیامت تک باقی رہے گا۔ جس طرح قیامت کسی کے ٹالنے سے ٹل نہیں سکتی اسی طرح مخالفوں کی مخالفت کے باوجود دین اسلام قیامت تک قائم رہے گا جس کا سرفہرست عنوان عقیدہ توحید ہے جو اس کا انکار کریں گے وہ سزا پائیں گے اور جو اس کا اقرار کریں گے وہ بہترین جزاپائیں گے۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ ” یَمْھَدُوْنَ “ ” مَہَدَ “ سے ہے جس کا معنٰی ہے بستر بچھانا، راستہ ہموار کرنا بھی ہے۔ مفہوم یہ ہوا کہ ایماندار لوگ صالح اعمال کے ساتھ دنیا میں رہتے ہوئے جنت کا راستہ ہموار کر رہے ہیں بالفاظ دیگر جنت میں اپنا بستر بچھا رہے ہیں۔ کسی چیز پر چہرہ جمانے سے مراد اس کی طرف کامل توجہ کرنا اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنا ہے۔ ” حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کسی سے سوال کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے دوسری روایت میں ہے ’ آپ کے علاوہ ‘ کسی سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔ فرمایا اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس پر قائم ہوجاؤ۔ “ [ رواہ مسلم : باب جامِعِ أَوْصَافِ الإِسْلاَمِ ] (عَنْ أَنَسٍ (رض) أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَا تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی لَا یُقَالَ فِی الْأَرْضِ اللّٰہُ ، اللّٰہُ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان ] ” حضرت انس (رض) فرماتے ہیں بیشک رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والے لوگ موجود ہوں گے۔ “ تفسیر بالقرآن عقیدہ توحید اور دین اسلام پر ہمیشہ قائم رہنے کا حکم : ١۔ آج کے دن تمہارے لیے تمہار ادین مکمل ہوا، میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا۔ (المائدۃ : ٣) ٢۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں دین اسلام ہی ہے۔ (آل عمران : ١٩) ٣۔ اپنے چہرے کو دین حنیف پر سیدھا کیے چلتے جاؤ۔ (الروم : ٣٠) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے لہٰذا تمہیں اسلام پر ہی موت آنی چاہیے۔ (البقرۃ : ١٣٢) ٥۔ مجھے اسلام پر موت دے اور نیک لوگوں سے ملا دے۔ یوسف (علیہ السلام) کی دعا۔ (یوسف : ١٠١) ٦۔ کیا وہ اللہ کے دین کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتے ہیں۔ (آل عمران : ٨٣) ٧۔ جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتا ہے اس کا دین ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران : ٨٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ انہ لا یحب الکفرین (43 – 45) دین قیم کی طرف متوجہ ہونے والے کے لیے قرآن جو شکل تجویز کرتا ہے وہ نہایت ہی اثر انگیز ہے اور یہ بتاتی ہے کہ متوجہ ہونے والا شخص اپنی پوری توجہ سے اس طرف مڑ گیا ہے۔ وہ سنجیدہ اور سیدھا ہے۔ فاقم وجھک للدین القیم (30: 43) ” اپنا رخ مضبوطی کے ساتھ جما دو دین راست کی سمت میں “۔ نہایت اہتما ، نہایت توجہ ، صددر حکم کے انتظار کی طرح ، نہایت پختگی کے ساتھ اپنا رخ عالم بالا کی طرف کر دو جس طرح ایک فوجی (اٹن شن) کی حالت میں ہوتا ہے۔ دین قیم کی طرف رخ جما دینے کا حکم پہلی مرتبہ اس سورة میں اس وقت آیا تھا جب بات لوگوں کی خواہشات نفسانیہ کے پیچھے وڑنے کے موضوع پر ہو رہی تھی اور مختلف احزاب مختلف سمتوں میں دوڑ رہی تھیں۔ یہاں شرکاء کے مقابلے میں یہ حکم آیا ہے۔ رزق کے اضافے کے مضمون کے موقعہ پر ہے۔ شرک کی وجہ سے فساد پیدا ہونے اور لوگوں کی بدعملی کی وجہ سے پوری دنیا میں فساد پھیلنے کے مضمون کے موقعہ پر یہ حکم آیا ہے۔ اس کے بعد یہاں بتایا جاتا ہے کہ جس نے اچھے عمل کیے تو وہ اچھا پھل پائیں گے اور جس نے برے کام کیے تو اس کا برا نجام ہوگا۔ یہ دن ایسا ہوگا کہ جہاں لوگوں کے دو فریق ہوں گے ، اہل ایمان اور اہل کفر اور ہر ایک کا اپنا انجام ہوگا اور یہ دن اٹل ہوگا۔ من کفر فعلیہ ۔۔۔۔۔ یمھدون (30: 44) ” جس نے کفر کیا ہے اس کے کفر کا وبال اس پر اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے ، وہ اپنے ہی لیے (فلاح کا راستہ) صاف کر رہے ہیں “۔ یمھد کا مفہوم ہے تیار کرنا ، کنڑول میں لانا ، پنگھوڑا تیار کرنا جس میں بچہ آرام سے رہتا ہے ، راستہ تیار کرنا ، بستر تیار کرنا ، جس پر آرام کیا جاتا ہے۔ تمام مفاہیم کا مطلب یہ ہے کہ اپنے لیے کسی چیز کو ہموار کرتے ہیں۔ یمھدون سے عمل صالح کے مزاج ، نوعیت اور اس کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ جو لوگ عمل صالح کرتے ہیں وہ دراصل خود اپنے لیے آرام ، خوشگواری اور مسرت کا ماحول تیار کرتے ہیں ، یعنی حالت عمل میں بھی ان کو یہ نتائج مل جاتے ہیں ، بعد کی بات تو اور ہے۔ قرآن کے انداز تعبیر یمھدون سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔ لیجزی الذین ۔۔۔۔۔ من فضلہ (30: 45) ” تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے “۔ فضل سے جزاء دینے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان جنت کا مستحق صرف اپنے اعمال ہی پر نہیں ہوسکتا۔ انسان جس قدر اعمال بھی کرے ان سے وہ اللہ کے ایک معمولی فضل کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتا۔ جنت صرف فضل ربی سے مل سکتی ہے۔ اللہ سبحانہ کافروں کو بہت ہی ناپسند کرتے ہیں۔ انہ لا یحب الکفرین (30: 45) اب یہاں اللہ کی بعض نشانیوں کی سیر کرائی جاتی ہے۔ اللہ کی نشانیاں ہونے کے ساتھ ساتھ انسانوں کے لیے وہ فضل و رحمت بھی ہیں۔ ان نشانیوں کی وجہ سے انسان کو رزق فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ ان کے لیے ہدایت ہے لیکن وہ اللہ کی ان نشانیوں میں سے بعض کو پہچانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے لیے فرمایا کہ (فَاَقِمْ وَجْھَکَ للدِّیْنِ الْقَیِّمِ ) (الآیۃ) اے مخاطب ! اپنا رخ دین قیم کی طرف رکھ یعنی توحید پر جما رہ، اس سے پہلے کہ ایسا دن آجائے یعنی اللہ کی طرف سے عذاب والا دن آجائے اور اس عذاب کو ہٹایا نہ جائے گا (اس سے قیامت کا دن مراد ہے) اس دن لوگ متفرق یعنی جدا جدا ہوجائیں گے، نیک اعمال والے الگ اور برے اعمال والے الگ ہوں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

34:۔ یہ پہلے فاقم وجہک الخ کے مضمون کا اعادہ اور اس کی تاکید ہے۔ قیامت کا دن جو لا محالہ آ کر رہے گا اور کسی کے روکے سے رک نہیں سکے گا اس کی آمد سے پہلے توحید پر قائم ہوجاؤ۔ دنیا میں توحید کو مان لینا آخرت میں فائدہ دے گا لیکن آخرت کا ایمان و یقین بےسود ہوگا۔ یومئذ یصدعون وہاں تو مومنوں اور مشرکوں کو الگ الگ کردیا جائے گا فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر من کفر فعلیہ الخ، یہ تخویف اخروی ہے جس نے دنیا میں کفر و شرک اختیار کیا آخرت میں اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ ومن عمل صالحا الخ۔ یہ بشارت اخروی ہے اور جن لوگوں نے دنیا میں توحید کو مان لیا اور اعمال صالحہ بجا لائے وہ اپنی ہی آخرت سنوار رہے ہیں۔ لیجزی الذین الخ یہ ماقبل کی علت ہے۔ وہ نیک عمل اس لیے کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کو آخرت میں ثواب جمیل اور جزائے جزیل عطا فرمائے۔ انہ لایحب الکافرین اس کی رضاء و محبت صرف ایمان والوں کے لیے کافر و مشرک اس کے غضب و سخط کے مستحق اور اس کی محبت سے محروم ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

43۔ سو اے مخاطب تو اپنے رخ کو اس سیدھے اور راست دین کی طرف قائم رکھ اور اپنے منہ کو اس صحیح دن کی جانب سیدھا رکھ اس سے پہلے کہ وہ دن آئے اور وہ دن آپہنچے جس دن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہٹنا اور پھرنا نہیں اس دن سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔ بعض لوگوں نے من اللہ کو ان یاتی کے متعلق کیا ہے اور بعض نے لا مرد کے متعلق کیا ہے ، ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں ترکیبوں کی رعایت رکھی ہے۔ اسی طرح فاقم میں بعض نے عام خطاب مراد لیا ہے اور بعض نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب مراد لیا ہے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں کی رعایت رکھی ہے ۔ یعنی وہ دن قیامت کا ہے کہ آئے پیچھے ٹلے گا نہیں دنیا کے عذاب میں کبھی مہلت مل جاتی ہے لیکن عذاب اخروی میں مہلت ملنے والی نہیں ، جدا جدا ہوں گے یعنی ابرار الگ ہوں گے اور فجار الگ ہوں گے ، مستحق عذاب ایک طرف اور مستحق نجات ایک طرف۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دین کا غلبہ ہو اور سزا پانے والے الگ ہوں اور مقبول اللہ کے الگ ۔ 12 حضرت شاہ صاحب (رح) نے شاید آپ کو دنیا کے عذاب پر حمل فرمایا ہے۔