Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 53

سورة الروم

وَ مَاۤ اَنۡتَ بِہٰدِ الۡعُمۡیِ عَنۡ ضَلٰلَتِہِمۡ ؕ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۵۳﴾٪  8

And you cannot guide the blind away from their error. You will only make hear those who believe in Our verses so they are Muslims [in submission to Allah ].

اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہدایت کرنے والے ہیں آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں پس وہی اطاعت کرنے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا أَنتَ بِهَادِي الْعُمْيِ عَن ضَلَلَتِهِمْ ... So verily, you cannot make the dead to hear, nor can you make the deaf to hear the call, when they show their backs and turn away. And you cannot guide the blind from their straying; Allah says, `just as you are not able to make the dead hear in their graves, or to make your words reach the deaf who cannot hear and who still turn away from you, so too you cannot guide the blind to the truth and bring them back from their misguidance.' That is a matter which rests with Allah, for by His power He can make the dead hear the voices of the living if He wills. He guides whom He wills and sends astray whom He wills, and no one but He has the power to do this. Allah says: ... إِن تُسْمِعُ إِلاَّ مَن يُوْمِنُ بِأيَاتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ you can make to hear only those who believe in Our Ayat, and have submitted (to Allah in Islam). means, those who are humble and who respond and obey. These are the ones who will listen to the truth and follow it; this is the state of the believers; the former (being deaf and blind) is the state of the disbelievers, as Allah says: إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ It is only those who listen will respond, but as for the dead, Allah will raise them up, then to Him they will be returned. (6:36) A'ishah, the Mother of the faithful, may Allah be pleased with her, used this Ayah -- إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى (So verily, you cannot make the dead to hear), as evidence against Abdullah bin Umar when he reported that the Prophet had addressed the slain disbelievers who had been thrown into a dry well three days after the battle of Badr, rebuking and reprimanding them, until Umar said, "O Messenger of Allah, are you addressing people who are dead bodies?" He said: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لاَا يُجِيبُون By the One in Whose Hand is my soul, you do not hear what I say any better than they do, but they cannot respond. A'ishah interpreted this event to mean that the Prophet was making the point that now they would know that what he had been telling them was true. Qatadah said: "Allah brought them back to life for him so that they could hear what he said by way of rebuke and vengeance."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

531اس لئے کہ یہ آنکھوں سے کما حقہ فائدہ اٹھانے سے یا بصیرت (دل کی بینائی) سے محروم ہیں۔ یہ گمراہی کی جس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، اس سے کس طرح نکلیں ؟ 532یعنی یہی سن کر ایمان لانے والے ہیں، اس لئے کہ یہ اہل تفکر و تدبر ہیں اور آثار قدرت سے مؤثرحقیقی کی معرفت حاصل کرلیتے ہیں۔ 533یعنی حق کے آگے سر تسلیم خم کردینے والے اور اس کے پیرو کار۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٨] اس سورة کی آیات نمبر ٥٢، ٥٣ اور سورة نمل کی آیات نمبر ٨٠، ٨١ کے الفاظ تک آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ لہذا انہی آیات کے حواشی ملاحظہ فرما لئے جائیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَآ اَنْتَ بِهٰدِي الْعُمْىِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ ۔۔ : یہاں اندھوں سے بھی دل کے اندھے ہی مراد ہیں، جنھیں گمراہی سے نکال کر نجات کی راہ پر لے آنا آپ کے بس میں نہیں اور نہ ایسا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ دیکھیے سورة نمل (٨٠، ٨١) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَآ اَنْتَ بِہٰدِي الْعُمْىِ عَنْ ضَلٰلَتِہِمْ۝ ٠ ۭ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَہُمْ مُّسْلِمُوْنَ۝ ٥ ٣ۧ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ عمی العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ( ع م ی ) العمی ٰ یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمیٰ اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمیٰ وعم دونوں کا استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] کہ ان کے پاس ایک نا بینا آیا ۔ میں الاعمیٰ سے مراد بصارت کا اندھا ہے مگر جہاں کہیں قرآن نے العمیٰ کی مذمت کی ہے وہاں دوسرے معنی یعنی بصیرت کا اندھا پن مراد لیا ہے جیسے فرمایا : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] یہ بہرے گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ فَعَمُوا وَصَمُّوا[ المائدة/ 71] تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ۔ بلکہ بصٰیرت کے اندھا پن کے مقابلہ میں بصارت کا اندھا پن ۔ قرآن کی نظر میں اندھا پن ہی نہیں ہے ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اسی طرح آپ اندھوں کو ان کی بےراہی سے ہدایت کی طرف نہیں لاسکتے۔ آپ تو بس اپنی دعوت ان ہی لوگوں سنا سکتے ہیں جو ہماری کتاب اور ہمارے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر وہ عبادت الہی اور توحید خداوندی میں سچے اور مخلص بھی ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٣ (وَمَآ اَنْتَ بِہٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِہِمْ ط) ” ان دل کے اندھوں کو آپ گمراہی میں بھٹکنے سے نہیں بچا سکتے اور ان کو ضلالت سے نکال کر راہ راست پر نہیں لاسکتے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

78 That is, "It is not for the Prophet that he should help and guide the blind by the hand to the the right way all through the life. He can only show guidance to the right path. But guiding those whose mind's eyes have been blinded and who do not at all see the way that the Prophet tries to show them, is not within the power of the Prophets."

سورة الروم حاشیہ نمبر : 78 یعنی نبی کا کام یہ تو نہیں ہے کہ اندھوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ساری عمر راہ راست پر چلاتا رہے ، وہ تو راہ راست کی طرف رہنمائی ہی کرسکتا ہے ۔ مگر جن لوگوں کی ہیے آنکھیں پھوٹ چکی ہوں اور جنہیں وہ راستہ نظر ہی نہ آتا ہو جو نبی انہیں دکھانے کی کوشش کرتا ہے ، ان کی رہنمائی کرنا نبی کے بس کا کام نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

23: یعنی وہ اندھے جو کسی کی رہنمائی قبول نہ کریں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:53) ھدا لعمی۔ مضاف مضاف الیہ۔ ھادی کی ی بوجہ اضافت ساقط ہوگئی۔ اندھوں کو ہدایت دینے والا۔ وما انت بھد العمی ای وما انت بھدی العمی اور تو اندھوں کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ ضللتھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی گمراہی۔ ان تسمع۔ میں ان نافیہ ہے۔ تو نہیں سنا سکتا۔ فہم مسلمون : تعریف ہے من یؤمن بایتنا کی۔ پھر وہ ان آیات کو مانتے بھی ہیں۔ یعنی ان میں جو احکام دئیے گئے ہیں ان کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی انکے دل اندھے ہیں جنہیں گمراہی سے نکال کر نجات کی راہ پر لے آنا آپ کے بس میں نہیں ہے اور نہ ایسا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔8 کیونکہ انہی میں یہ صلاحیت ہے کہ کسی بات کو سن کر اس پر غور و فکر کرسکیں۔9 یعنی حق کے سامنے سر تسلیم خم کرتے اور اس کی راہ پر چلتے ہیں۔ (دیکھیے سورة نمل آیت 81)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

40:۔ مشرکین کے عناد و مکابرہ کا ذکر کرنے کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی کہ ایسے واضح دلائل کے باوجود مشرکین انکار و تکذیب سے باز نہیں آرہے۔ آپ کے انذار و تبلیغ میں کوئی قصور نہیں ان کے دلوں پر ضد وعناد کی وجہ سے مہر جباریت لگ چکی ہے اب وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، اس لیے آپ ان کے نہ ماننے کی وجہ سے غمگین نہ ہوں۔ یہاں مشرکین کے لیے تین تمثیلیں ذکر کی گئی ہیں۔ اول، لاتسمع الموتی، یہ تو مردے ہیں اور مردوں کو آپ کسی طرح بھی اپنی بات نہیں سنوا سکتے۔ دوم، ولا تسمع الصم الخ، یہ تو بہرے ہیں اور بہرے بھی وہ جو آپ ہی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے بلکہ پیٹھ پھیر کر دور جا رہے ہیں بھلا ان کے کانوں میں آپ کی دعوت حق کس طرح پہنچے گی۔ سوم، وما انت بھدی العمی الخ، یہ تو اندھے ہیں اور آپ اندھوں کو ہرگز راستہ نہیں دکھلا سکتے حاصل یہ ہے کہ آپ کا کام تبلیغ وانذار ہے۔ یہ معاندین جو مہر جباریت کی وجہ سے اپنے دل کی حیات اور سمع و بصر کھوچکے ہیں ان کو راہ راست پر لانا آپ کے بس کی بات نہیں یہ آپ کی دعوت و تبلیغ کا اثر ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ ان تسمع الا من الخ البتہ آپ کی بات صرف وہی لوگ سنیں گے اور اس سے اثر قبول کریں گے جو ہماری آیتوں کو سن کر ان پر یقین کرنے اور ان کے سامنے تسلیم وانقیاد کا جذبہ رکھتے ہوں اور ان کے دلوں میں حق کو تلاش کرنے اور حق کو پالینے کے بعد اسے تسلیم کرنے کی سچی تڑپ ہو۔ تحقیق مسئلہ سماع موتی :۔ سماع موتی کا مسئلہ زمان صحابہ (رض) سے مختلف فیہ چلا آرہا ہے۔ یہ مسئلہ اعتقادات ضروریہ میں سے نہیں جن کی نفی یا اثبات پر کفر و اسلام کا مدار ہے بلکہ یہ ایک علمی اور تحقیقی بحث ہے جس میں بحث و تمحیص اور نظر و تحقیق کی گنجائش ہے۔ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کے علماء کے درمیان اس مسئلہ میں ہمیشہ دو رائیں رہی ہیں۔ کچھ علماء کرام کی یہ رائے رہی ہے کہ مردے سنتے ہیں جبکہ دوسرے علماء نے اپنی تحقیق کی بنا پر سماع موتی کی نفی کی ہے۔ علماء کرام کی ان دونوں جماعتوں کے پاس دلائل ہیں جن پر انہوں نے اپنی اپنی رائے اور تحقیق کی بنیادیں استوار کی ہیں۔ جو علماء سماع موتی کی نفی کرتے ہیں ان کا استدلال ظواہر قرآن اور احادیث صحیحہ سے ہے جبکہ قائلین سماع بھی صحیح حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں۔ نفی سماع موتی کے دلائل : نفی سماع موتی پر قرآن مجید کی تین آیتیں دلیل وحجت ہیں ان آیتوں کو وقتاً فوقتا صحابہ کرام (رض) سے لے کر آج تک نفی سماع پر بطور دلیل وبرہان پیش کیا جاتا رہا ہے۔ پہلی آیت انک لا تسمع الموتی ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولو مدبرین (نمل رکوع 6) ۔ دوسری آیت یہی ہے جو اس وقت زیر بحث ہے۔ تیسری آیت ان اللہ یسمع من یشاء وما انت بمسمع من فی القبور (فاطر رکوع 3) ۔ سب سے پہلے حجرت عائشہ صدیقہ (رض) نے ان آیتوں سے سماع موتی کی نفی پر استدلال فرمایا جیسا کہ صحیح بخاری میں موجود ہے تفصیل آگے آرہی ہے۔ علاوہ ازیں تمام فقہاء و مجتہدین نے بھی ان آیتوں کو نفی سماع پر بطور دلیل پیش کیا ہے۔ بطور مثال علامہ ابن ہمام مؤلف فتح القدیر کی تصریح ملاحظہ ہو۔ علامہ موصوف ان آیتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ان آیتوں سے سماع موتی کی نفی کی تحقیق مستفاد ہوتی ہے کیونکہ ان میں کفار کو موتی سے تشبیہ دی گئی ہے اس بنا پر کہ کفار کو حق سنانا متعذر ہے اور یہ سماع موتی کی نفی پر متفرع ہے ورنہ تشبیہ صحیح نہیں ہوگی۔ اصل عبارت یہ ہے۔ فنہما یفیدان تحقیق عدم سماعھم فانہ تعالیٰ شبہ الکفار بالموتی لا فادۃ تعذر سماعھم وفرع عدم سماع الموتی (فتح القدیر ج 1 ص 447) اور اس سے تھوڑا سا پہلے مشائخ حنفیہ کا مسلک بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں وعندی مبنی ارتکاب ھذا المجاز ھنا عند اکثر مشائخنا ھو ان المیت لا یسمع عندہم لانہا (الیمین) تنعقد علی ما بحیث یفہم والمیت لیس کذلک لعدم السماع (فتح القدیر ج 4 ص 100) ۔ قائلین سماع موتی کی طرف سے ان آیتوں کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ان میں اسماع (سنانے) کی نفی ہے سماع (سننے) کی نفی نہیں۔ اور اختلاف سماع میں ہے نہ کہ اسماع میں کیونکہ اسماع کی نفی پر تو سب متفق ہیں۔ دوسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ان آیتوں میں کفار کو مردوں کے ساتھ تشبیہ عدم استفادہ میں دی گئی ہے نہ کہ عدم سماع میں اور مطلب یہ ہے کہ مردے زائر کا کلام سن لینے کے باوجود اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اسی طرح کفار بھی سن تو لیتے ہیں لیکن اس سے استفادہ نہیں کرتے ان دونوں جوابوں کا جواب یہ ہے کہ حضرت عائشہ (رض) اور تمام فقہائے حنفیہ نے ان سے عدم سماع موتی پر استدلال کیا ہے اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ آیتیں اسماع کے ساتھ ساتھ سماع کی بھی نفی کر رہی ہیں اور تشبیہ عدم استفادہ میں نہیں بلکہ عدم سماع میں ہے۔ نیز سماع، اسماع کا مطاوع ہے اس لیے اسماع کی نفی یا اثبات سماع کی نفی اور اثبات کو مستلزم ہے۔ ان آیتوں میں جب اسماع کی نفی کی گئی تو سماع کی بھی نفی ہوگئی۔ سماع موتی کے دلائل اور ان کا جواب : قائلین سماع موتی کی سب سے قوی دلیل قلیب بدر والی حدیث ہے جو صحیحین میں ہے۔ حضرت ابو طلحہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر کےحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صنادید قریش کی لاشیں ایک ویران کنویں میں پھنکوا دیں اور کنویں کی منڈیر پر کھڑے ہو کر صنادید قریش کو نام بنام مخاطب کر کے فرمایا الیس قد و جدتم ما وعد ربکم حقا فانی قد وجدت ما وعد ربی حقا۔ اس پر حضرت عمر (رض) بول اٹھے یا رسول اللہ آپ بےجان اور بےروح اجساد سے کس طرح گفتگو فرما رہے ہیں ؟ آپ نے جواب میں فرمایا ما انتم باسمع لما اقول منھم۔ یہ روایت صحیح ہے اور اس سے قلیب بدر کے مردوں کا سماع صراحت سے ثابت ہو رہا ہے۔ جواب :۔ اس حدیث سے سماع موتی پر استدلال کئی وجوہ سے درست نہیں۔ اول اس لیے کہ حضرت عائشہ (رض) نے قرآن کی دو آیتیں پیش کر کے اس حدیث سے سماع موتی پر استدلال کو رد کیا ہے جیسا کہ صحیح حدیثوں میں ہے کہ جب یہ حدیث ان کے سامنے ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا کیف یقول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذلک واللہ تعالیٰ یقول وما انت بمسمع من فی القبور، انک لا تسمع الوتی، یعنی یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید کے خلاف لب کشائی فرمائیں جب کہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے وما انت بمسمع من فی القبور الخ تم مردوں کو اپنی باتیں سنانے کی قدرت نہیں رکھتے ہو۔ بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت صدیقہ نے یہاں سماع کو علم پر محمول فرمایا ہے۔ اقول انما قال انھم الان لیعلمون ان ماکنت اقول لھم حق، (صحیح بخاری ص 567) ۔ یعنیحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ اب انہیں یقین ہوچکا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ان سے کہا کرتا تھا وہ حق تھا۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) فرماتے ہیں چونکہ اس حدیث میں حضرت صدیقہ (رض) نے سماع کی تفسیر علم سے کی ہے اس لیے اس حدیث سماع موتی پر استدلال صحیح نہیں۔ حوالہ آگے آرہا ہے۔ دوم : یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت اور آپ کا معجزہ تھا اس لیے اسے عموم پر محمول کر کے اس سے سماع موتی عموماً ثابت کرنا صحیح نہیں وما وقع فی حدیث بی طلحۃ (رض) یجوز ان یکون معجزۃ لہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وھو مراد من قال انہ من خصوصیات خصوصیاتہ (علیہ الصلوۃ والسلام) وھی من خوارق العادۃ (روح ج 21 ص 56) ۔ سوم : حضرت ابو قتادہ (رض) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قلیب بدر کے مردوں میں زندگی پیدا کر کےحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام ان کو سنوادیا تھا تاکہ ان کی حسرت و ندامت میں اضافہ ہو اس لیے سماع موتی پر اس سے استدلال درست نہیں۔ قال ابو قتادۃ احیاھم اللہ تعالیٰ یعنی اھل الطوی حتی اسمعہم قولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) توبیخا وتصغیر ونقمۃ و حسرۃ و ندما (صحیح بخاری ص 566، روح ج 21 ص 56) ۔ چہارم :۔ اس خطاب سے مردوں کو سنانا اور سمجھانا مقصود نہ تھا بلکہ زندوں کو نصیحت کرنا اور عبرت دلانا مقصود تھا جیسا کہ حضرت علی (رض) قبرستان میں گئے تو مردوں سے مخاطب ہو کر زندوں کی عبرت کے لیے بند و نصیحت کی باتیں فرمائیں۔ انہ انما قالہ علی وجہ الوعظۃ للاحیاء لا لافھام الموتی کما روی عن علی (رض) انہ قال السلام علیکم دار قوم مومنین اما نساء کم فنکحت و اما اموالکم فقسمت واما دورکم فسکنت فہذا خبرکم عندنا فما خبرنا عندکم (فتح القدیر ج 4 ص 100) ۔ دوسری دلیل : قائلین سماع موتی کی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جو صحیح میں ہے۔ ان العبد اذا وضع فی قبرہ و تولی عنہ اصحابہ انہ یسمع قرع نعالہم اذا انصرفوا اذا اتاہ ملکان الحدیث اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب لوگ میت کو دفن کر کے واپس مڑتے ہیں تو میت ان کے پاؤں کی آہٹ بھی سنتی ہے۔ جواب : اس حدیث سے بھی عموم احوال واوقات میں سماع موتی کے ثبو پر استدلال صحیح نہیں۔ یہ سماع ابتدائے دفن کے ساتھ مختص ہے تاکہ اس حدیث میں اور ان آیتوں میں مطابقت ہوجائے جو عدم سماع پر دلالت کرتی ہیں۔ اللہم الا ان یخصوا ذلک باول الوضع فی القبر مقدمۃ للسوال جمعا بینہ وبین الایتیں فنہما یفید ان تحقیق عدم سماعہم (فتح القدیر ج 1 ص 447) ۔ اس حدیث کا دوسرا جواب : شیخ المشائخ مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) سے منقول ہے انہوں نے فرمایا لیسمع مضارع مجہول کا صیغہ ہے اور قرع نعالہم اس کا نائب فاعل ہے اور مطلب یہ ہے کہ لوگ میت کو دفن کر کے جب واپس مڑتے ہیں تو وہ قبر سے ابھی صرف اتنے ہی فاصلے پر پہنچتے ہیں کہ قبر کے پاس سے ان کیجوتیوں کی آواز سنی جاسکتی ہے کہ منکر و نکیر سوال کے لیے آجاتے ہیں۔ اس طرح اس حدیث کو سماع موتی کے ساتھ کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ تیسری دلیل : بیہقی اور حاکم نے روایت کی ہے کہ جبحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد سے واپس ہوئے تو بعض شہداء کی قبروں پر کھڑے ہو کر فرمایا تم اللہ کے وہاں زندہ ہو پھر ساتھیوں سے فرمایا ان کی قبروں پر آ کر انہیں سلام کیا کرو۔ فوالذی نفسی بیدہ لا یسلم علیہم احد الا ردوا علیہ الی یوم القیامۃ۔ حاکم نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حاکم متساہل ہے اس لیے اس کی تصحیح قابل اعتبار نہیں انا لانسلم صحتہ و تصحیح الحاکم محکوم علیہ بعدم الاعتبار (روح ج 21 ص 57) ۔ چوتھی دلیل :۔ ابن عبدالبر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ مامن احد یمر بقبر اخیہ المومن کان یعرفہ فی الدنیا یسلم (علیہ السلام) الا عرفہ و رد علیہ۔ عبدالحق اشبیلی نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اشبیلی کی تصحیح پر حافظ ابن رجب نے اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف بلکہ منکر ہے۔ وقیل فی حدیث ابن عبدالبر ان عبدالحق وان قال اسنادہ صحیح الا ان الحافظ ابن رجب تعقبہ وقال انہ ضعیف بل منکر (روح) ۔ جن صحیح روایتوں سے بعض احوال میں میت کا سماع ثابت ہوتا ہے ان سب کا ایک جامع جواب یہ ہے کہ سماع موتی کا تعلق احوال برزخ سے ہے اور احوال برزخ کا علم وحی کے سوا ممکن نہیں اس لیے ظابطہ تو یہی ہے کہ مردے نہیں سنتے لیکن جب بعض احوال میں مردوں کے سننے کی بعض احادیث میں صراحت ہے وہ اپنے احوال و موارد کے ساتھ مخصوص ہونگی اور اس سے عموم احوال میں سماع موتی پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہوگا۔ فقہاء حنفیہ کے انداز بیان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ جن روایتوں میں سماع موتی کا ذکر ہے وہ ان کی توجیہ کرتے ہیں جیسا کہ گذشتہ عبارتوں سے معلوم ہوا اور ضابطہ عدم سماع کو برقرار رکھتے ہیں اکابر علماء دیوبند میں سے حضرت گنگوہی، حضرت علامہ انور شاہ صاحب اور حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہم اللہ تعالیٰ بھی عدم سماع کو ترجیح دیتے اور اسی کو ظابطہ قرار دیتے ہیں۔ حضرت گنگوہی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں فسرتہ بہ عائشۃ فلا یکون دلیلا علی السماع فالظاہر عدم السماع وھو الاصح عندنا (الکوکب الدری ج ) ۔ حضرت علامہ انور شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ ان الضابطۃ انما ھو عدم السماع لکن المستثنیات فی ھذا الباب کثیرۃ (فتح الملہم ج 2 ص 479) ۔ قدوۃ المفسرین علامہ سید محمود آلوسی حنفی بھی اس کی تصریح فرماتے ہیں کہ سماع موتی اپنے مورد کے ساتھ مخصوص ہے وہ فرماتے ہیں ولا یلزم من وجود ذلک التعلق والقول بوجود قوۃ السمع و نحوہ فیہا نفسہا ان تسمع کل مسموع لما ان السماع مطلقا وکذا سائر الاحساسات لیس الا تابعا للمشیئۃ فما شاء اللہ کان و مالم یشاء لم یکن فیقتصر علی القول بسماع ما ورد السمع بسماعہ من السلام ونحوہ وھذ الوجہ ھو الذی یترجح عندی (روح ج 21 ص 58) ۔ بعض بزرگوں نے علامہ آلوسی کی یہ عبارت ادھوری نقل کر کے قائلین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ علامہ موصوف مطلقا سماع موتی کے قائم ہیں حالانکہ ان کی پوری عبارت سامنے رکھنے سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ وہ سماع موتی کو صرف انہی احوال میں منصحر مانتے ہیں جن میں سماع حدیثوں میں وارد ہوا ہے اور تمام احوال میں تمام مسموعات کے سماع کو نہیں مانتے اور حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) سورة روم میں آیت زیر تفسیر پر لکھتے ہیں۔ یعنی تم یہ نہیں کرسکتے کہ کچھ بولو اور اپنی آواز مردے کو سنا دو کیونکہ یہ چیز ظاہری اور عادی اسباب کے خلاف ہے البتہ حق تعالیٰ کی قدرت سے ظاہری اسباب کے خلاف تمہاری کوئی بات مردہ سن لے اس کا انکار کوئی مومن نہیں کرسکتا اب نصوص سے جان باتوں کا اس غیر معمولی طریقہ سے سننا ثابت ہوجائے گا اسی حد تک ہم کو سماع موتی کا قائل ہونا چاہیے۔ محض قیاس کر کے دوسری باتوں کو سماع کے تحت میں نہیں لاسکتے۔ الخ۔ ایک جگہ علامہ آلوسی سماع موتی فی الجملہ کی توجیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ چاہے میت کے بعض اجزاء میں سننے کی قوت پیدا کردے اور جو بات چاہے اسے سنا دے۔ ان یخلق اللہ عز و جل فی بعض اجزاء المیت قوۃ یسمع بھا متی شاء اللہ تعالیی السلام و نحوہ مما یشاء اللہ سبحانہ اسماعہ ایاہ (روح ج 21 ص 57) ۔ ان اکابر مشائخ رحمہم اللہ تعالیٰ کی تصریحات سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اصل ضابطہ عدم سماع موتی ہی ہے، البتہ اگر اللہ چاہے تو کوئی بات ظاہری اسباب کے بغیر انہیں سنوا دے تو یہ ممکن ہے۔ حاصل کلام یہ ہے جن احوال میں صحیح اور صریح حدیثوں سے سماع ثابت ہے ان کے علاوہ ہر جگہ سماع موتی کی نفی کی جائے گی۔ اور سماع والی جن حدیثوں کی توجیہ ہوسکتی ہے ان کی مناسب توجیہ کردی جائے گی جیسا کہ قلیب بدر والی حدیث ہے۔ اختلاف کا منشا : حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا احناف اور شوافع کے درمیان اختلاف کا اصل منشا یہ ہے کہ مستر ارواح یعنی علیین اور سجین قبر کے پاس ہے یہ قبر سے دور۔ جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ ارواح قبروں کے پاس ہی اخنیۃ القبور میں رہتے ہیں اور علیین اور سجین قبروں کے پاس ہی ہیں وہ سماع موتی کے قائل ہیں لیکن امام صاحب فرماتے علیین اور سجین دو ایسے مقام ہیں جو قبروں کے پاس نہیں بلکہ ان سے بہت دور ہیں اس لیے مردے نہیں سنتے کیونکہ سننا روح پر موقوف ہے اور قبر میں یا قبر کے قرب و جوار میں روح موجود نہیں بلکہ صرف دھڑ ہے اس لیے وہ نہیں سن سکتا جیسا کہ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) تعالیٰ سورة فاطر کی آیت ما انت بمسمع من فی القبور پر لکھتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ مردوں سے سلام علیک کرو وہ سنتے ہیں اور بہت جگہ مردے کو خطاب کیا ہے اس کی حقیقت یہ کہ مردے کی روح سنتی ہے اور قبر میں پڑا ہے دھڑ وہ نہیں سن سکتا۔ یعنی روح جہاں بھی ہوگی اللہ تعالیی زائر کا سلام اس کو پہنچا دے گا۔ حدیث معراج میں وارد ہے کہ جب حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمان پر تشریف لے گئے تو آپ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے یمن کی جانب ارواح صلحاء ہیں اور شمال کی جانب ارواح اشقیاء جب وہ دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں لیکن جب بائیں طرف ان کی نظر اٹھتی ہے تو غمگین ہوجاتے ہیں یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ارواح اموت قبروں کے قریب نہیں ہوتے۔ ارواح کے قبروں کے پاس افنیۃ القبور میں نہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جن بزرگان دین اور صلحاء امت کے مزاروں پر لوگ جمع ہو کر مشرکانہ رسوم بجا لاتے ہیں اور قبروں پر جا کر ان کو پکارتے اور ان کے نام کی نذریں دیتے ہیں قیامت کے دن وہ صاف صاف اعلان کریں گے کفی باللہ شہیدا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغفلین (یونس رکوع 3) ۔ یعنی خدا شاہد ہے کہ ہمارے مزاروں پر تم جو مشرکانہ کام کرتے رہے ہم ان سے بالکلیہ بیخبر تھے اور ہمیں پتہ بھی نہ تھا کہ تم کیا کر رہے ہو۔ اگر ان کی ارواح قبروں میں ہوں تو انہیں زائرین کے تمام احوال معلوم ہونے چاہئیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں فالقول الثابت ان اجزاء البدن من المیت لا سماع لھا ولا شعور ولا فرح ولا سرور فی البرزخ الخ (تحریرات ص 210) ۔ یعنی میت کے اجزاء بدن میں حس و شعور نہیں اور نہ وہ سنتے ہیں۔ رہا یہ کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ منکر و نکیر قبر میں آ کر میت کو بٹھاتے اور اس سے سوالات پوچھتے ہیں اسی طرح نیک لوگوں کو قبر میں فرح و سرور اور بدکاروں کو عذاب ہوتا ہے پھر اس کا کیا مطلب ہوگا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قبر سے یہ گڑھا مراد نہیں بلکہ اس سے عالم برزخ مراد ہے۔ اور میت کو بٹھانا اور اس سے سوال کرنا وغیرہ برزخی امور ہیں جنہیں محسوسات پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ فعند الحنفیۃ الجسد میت لا یسمع فما ورد من وسعۃ القبر والاجلاس یقولون المراد بالقبر البرزخ و من الاجلاس و من عود الروح وسعۃ القبر و ضرب المرزبۃ وسماع الاصوات ھو امر یغایر المھسوسات لحواسنا الظاھریۃ الخ (تحریرات ص 208) ۔ عود وروح کے بارے میں حضرت شیخ قدس سرہ کی تحقیق یہ ہے کہ برزخ میں لذت و الم اور سرور و عذاب کا احساس روح کو ہرگز نہیں ہوتا روح ایک ایسی چیز ہے جو احساس الم سے ماوراء ہے اسے تکلیف تو کسی حال میں نہیں ہوتی البتہ اسے لذت و سرور کا احساس ضرور ہوتا ہے۔ احساس الم نفس کو ہوتا ہے جو روح سے ایک جدا چیز ہے البتہ روح سے اس کا گہرا تعلق ہے جیسا کہ دھوئیں کا آگ سے۔ یہ نفس دبدن کا جزو اصلی ہے جو ابتداء سے آخر تک باقی رہتا ہے۔ یہی وہ نسمہ ہے جسے جنت میں پرندے کے قالب میں داخل کیا جائے گا۔ قلت ھذا المعبر بالجزء الباقی من البدن ھو النفس و ھی شبیھۃ بالروح ممازجۃ ملازمۃ لھا کالدخان للنار فھی المتالمہ المتلذذۃ واما الروح فلا تتالم اصلاح ولا تتلذذ بغیر ذکر و عز من یفرق بینہما (ایضا ص 209) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

53۔ اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راہ لگا سکتے ہیں آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں کی تصدیق کرتے ہیں سو وہی فرماں بردار ہوتے ہیں ۔ یعنی ظاہری اسباب سننے دیکھنے کے مفقود ہیں ایسوں کی ہدایت مشکل ہے بہر حال ! آپ اپنی تبلیغ کا حق ادا کرتے رہئے ایسے لوگ یقینا آپ کی تذکیر سے مستفید ہوں گے جو ہماری آیتوں کو مانتے ہیں اور فرمانبرداری کرتے ہیں اور انھے بہروں کو نہ سنتے نہ ماننے سے غم نہ کیجئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے اس آیت سے مردے کے نہ سننے پر استدلال کیا ہے اور یہی اکثر مشائخ حنیفہ کا مسلک ہے۔ ( واللہ اعلم)