Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 55

سورة الروم

وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۬ ۙ مَا لَبِثُوۡا غَیۡرَ سَاعَۃٍ ؕ کَذٰلِکَ کَانُوۡا یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۵۵﴾

And the Day the Hour appears the criminals will swear they had remained but an hour. Thus they were deluded.

اور جس دن قیامت برپا ہو جائے گی گناہگار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ ( دنیا میں ) ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے اسی طرح یہ بہکے ہوئے ہی رہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Ignorance of the Disbelievers in this World and in the Hereafter Allah says: وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ ... And on the Day that the Hour will be established, the criminals will swear that they stayed not but an hour -- Here Allah tells us of the ignorance of the disbelievers in this world and in the Hereafter. In this world they worship idols, and in the Hereafter they will also display great ignorance. They will swear by Allah that they did not even stay for one hour in this world. They will mean that there was not enough time given to establish proof against them which would leave them with no excuse. Allah says: ... كَذَلِكَ كَانُوا يُوْفَكُونَ

واپسی ناممکن ہوگی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں ۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کیساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے ۔ اس سے ان کامقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی ۔ ہمیں معذور سمجھا جائے ۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کررے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے ۔ فرماتا ہے کہ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو ۔ تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو ۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا ۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ 24؀ ) 41- فصلت:24 ) یعنی اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

551ساعت کے معنی ہیں گھڑی، لمحہ، مراد قیامت ہے، اس کو ساعت اس لئے کہا گیا کہ اس واقعہ کو جب اللہ چاہے گا، ایک گھڑی میں ہوجائے گا۔ یا اس لئے کہ یہ اس گھڑی میں ہوگی جو دنیا کی آخری گھڑی ہوگی۔ 552دنیا میں یا قبروں میں یہ اپنی عادت کے مطابق جھوٹی قسم کھائیں گے اس لیے کہ دنیا میں وہ جتنا عرصہ رہے ہوں گے ان کے علم میں ہی ہوگا اور اگر مراد قبر کی زندگی ہے تو ان کا حلف جہالت پر ہوگا کیونکہ وہ قبر کی مدت نہیں جانتے ہوں گے۔ بعض کہتے کہ آخرت کے شدائد اور ہولناک احوال کے مقابلے میں دنیا کی زندگی انھیں گھڑی کی طرح ہی لگے گی۔ 553اَفَکَ الرَّجُلُ کے معنی ہیں۔ سچ سے پھر گیا، مطلب ہوگا، اسی پھرنے کے مثل وہ دنیا میں پھرتے رہے یا بہکے رہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦١] یہ مدت دنیا کی بھی ہوسکتی ہے اور عالم برزخ کی بھی اور دونوں کی بھی۔ اگرچہ مجرموں کی قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے مگر یہ عذاب اخروی عذاب کے مقابلہ میں اتنا ہلکا ہوتا ہے کہ مجرم لوگ اس عذاب قبر کو بھی راحت کی گھڑیاں ہی تصور کریں گے۔ قیامت میں اپنا انجام اور اپنے لئے عذاب دیکھ کر قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم محض ایک گھڑی دنیا میں رہے تھے کیا اچھا ہوتا کہ اتنا تھوڑا سا وقت ہم اللہ کی فرمانبرداری میں گزار لیتے اور یہ برا دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ وہاں تو ان کا یہ اندازہ ہوگا اور دنیا میں وہ ایسے اندازے لگاتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جیسے انھیں اس دنیا میں ہمیشہ کے لئے رہنا ہے۔ اللہ سے بھی غافل ہیں اور اپنی موت سے بھی۔ دنیا میں بھی ان کے اندازے غلط اور سراسر باطل تھے۔ آخرت میں یہی غلط ہی اندازے لگائیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ۔۔ : قیامت کے دن مجرم لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے، یعنی دنیا میں ان کی زندگی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں تھی۔ انھیں اتنا وقت ہی نہیں ملا کہ وہ اپنے رب کو پہچانتے یا اپنے پیغمبروں کی باتوں پر عمل کرتے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے وقت میں ہم پر حجت قائم نہیں ہوئی، اس لیے ہم معذور ہیں۔ (ابن کثیر) یعنی جس طرح یہ لوگ دنیا میں حق کو پہچانتے تھے اور جانتے بوجھتے ہوئے اسے چھوڑ کر باطل کی طرف جاتے اور باطل کے سچا ہونے پر قسمیں اٹھاتے تھے، اسی طرح آخرت میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ وہ دنیا میں اتنی مدت رہے ہیں کہ اگر جاننا یا ماننا چاہتے تو یہ کام کرسکتے تھے۔ (فاطر : ٣٧) جھوٹی قسمیں کھائیں گے کہ وہ دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ رہے ہی نہیں اور سمجھ رہے ہوں گے کہ دنیا کی طرح یہاں بھی قسموں کی وجہ سے ہمارا جھوٹ چل جائے گا۔ دیکھیے سورة مجادلہ (١٨) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After this, the falsehood and ignorance of the deniers of the Dooms Day is mentioned وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِ‌مُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ‌ سَاعَةٍ that is, ‘When the Dooms Day will come, these deniers of the Dooms Day will start swearing by losing senses after looking at the horrid scenes, that their stay was not more than one hour&. It is probable that the stay referred to here is the stay in this world, because they spent the time in this world in comfort and ease. And when they will encounter troubles in the Hereafter, they, by way of a natural habit of man to regard the comfortable period of his life very short, will swear that they lived in the world hardly for one hour. The other probability is that this &stay& is their stay in graves and barzakh. In that case, the meaning would be that they had thought that their stay in graves, that is barzakh, would be very long and the Dooms Day would come after a long period, but it would seem to them that they stayed in barzakh for a very short time, and the Day of Judgment dawned too early. The reason for this feeling is that they will not find any comfort for themselves in the Hereafter, rather it will bring nothing but problems for them. And it is human nature that when he is taken over by problems, he considers the time previously spent in comfort being very short-lived. Although the barzakh is also a place of punishment for the infidels, yet it is much lighter as compared to what they will come across in Qiyamah. Hence they will regard the period of barzakh as very short and swear that their stay in it was brief. Would anyone be able to lie before Allah on the Day of Resurrection? It is revealed in this verse that the infidels will lie on the Day of Resurrection in their swearing that they did not stay in the world or barzakh for more than an hour. It is also revealed in another verse that the disbelievers will say on oath that they were not disbelievers وَاللَّـهِ رَ‌بِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِ‌كِينَ (By Allah, our Lord, we ascribed no partners to Allah - 6:23). What needs to be understood here is that it will be Allah&s court on the Day of Resurrection, and He will allow all and sundry to say whatever one wishes to say, whether one lies or speaks the truth. Allah is All-Knowledgeable and is not dependent on any one to find out what is false and what is true. When any one will speak a lie, his mouth will be sealed, and his skin, hair and limbs will be asked to give evidence. They will relate the truth in full detail, after which the liar will be left with no excuse. The verse الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ (Today We set a seal on their mouths, and their hands will speak to Us. - 36:65) means the same. Some other Qur&anic verses reveal that there will be different occasions for the appearance of human beings before Allah Ta’ ala on the Day of Resurrection. On one such occasion, no one will have the right to speak without permission from Allah Ta’ ala, and he will have to speak nothing but truth. It will not be possible for him to speak a lie, as stated in the verse لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّ‌حْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا (They shall speak not, save him to whom the All-Merciful has given leave, and who speaks aright - 78:38). No one will be able to speak a lie in the grave As against this, it is related in some authentic ahadith in regard to questions and answers in the grave that when it will be asked from the infidels ` who is your Lord?& and ` who is Muhammad?& they will answer ھَاہ ھَاہ لَا اَدرِی That is ` Alas! I do not know anything&. If it were possible to speak a lie, he would have said ` Allah is my Lord& and ` Muhammad is His Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .& It looks rather strange that infidels are capable of speaking lies before Allah Ta’ ala, but not before the angels. But when it is looked at deeply, the explanation is simple, that is the angels neither have the knowledge of the unknown nor can they seek evidence from the limbs to confute the liar. If they had the capability of speaking lies before the angels, then all infidels and sinners would have been carefree about the torment of the grave. On the other hand, Allah Ta’ ala knows even the secrets of hearts, and also has the power to elicit evidence from the limbs and organs for exposing the liars. Therefore, allowing this freedom on the Day of Resurrection will not interfere with the rule of justice. وَاللہُ اَعلَم Surah Ar-Rum was completed by grace of Allah on 28th of Dhulqa&dah, 1391 Hijrah. Al-Hamdulillah The Commentary on Surah Ar-Rum Ends here.

آگے پھر منکرین قیامت کی لغو گوئی اور ان کی جہالت کا بیان ہے، وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏمَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ ۔ یعنی جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ منکرین قیامت اس وقت کے ہولناک مناظر سے مدہوش ہو کر یہ قسمیں کھانے لگیں گے کہ ہمارا قیام تو ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہا۔ مراد اس قیام سے ہوسکتا ہے کہ دنیا کا قیام ہو کیونکہ ان کی دنیا آرام و عیش سے گذری تھی اور اب مصائب شدیدہ سامنے آئے تو جیسے انسان کی طبعی عادت ہے کہ راحت کے زمانے کو بہت مختصر سمجھا کرتا ہے اس لئے قسمیں کھا جائیں کہ دنیا میں تو ہمارا قیام بہت ہی مختصر ایک گھڑی کا تھا۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس قیام سے مراد قبر اور برزخ کا قیام ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ قبر یعنی عالم برزخ میں قیام بہت طویل ہوگا اور قیامت بہت زمانہ کے بعد آئے گی، مگر معاملہ برعکس ہوگیا کہ ہم برزخ میں تھوڑے ہی دیر ٹھہرنے پائے تھے کہ قیامت آگئی اور یہ راحت کی چیز تو تھی نہیں مصیبت ہی مصیبت تھی اور انسانی فطرت یہ ہے کہ مصیبت آنے کے وقت پچھلی راحت کے زمانے کو بہت مختصر سمجھنے لگتا ہے اور کافروں کو اگرچہ قبر و برزخ میں بھی عذاب ہوگا مگر قیامت کے عذاب کے مقابلہ میں وہ بھی راحت محسوس ہونے لگے گا اور اس زمانے کو مختصر سمجھ کر قسم کھائیں گے کہ قبر میں ہمارا قیام بہت مختصر ایک گھڑی کا تھا۔ کیا محشر میں اللہ کے سامنے کوئی جھوٹ بول سکے گا ؟ اس آیت سے معلوم ہوا کہ محشر میں کفار قسم کھا کر یہ جھوٹ بولیں گے کہ ہم تو دنیا میں یا قبر میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے، اسی طرح ایک دوسری آیت میں مشرکین کا یہ قول مذکور ہے کہ وہ قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہیں تھے واللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ ۔ وجہ یہ ہے کہ محشر میں رب العالمین کی عدالت قائم ہوگی وہ سب کو آزادی دیں گے کہ جو چاہے بیان دے، جھوٹ بولے یا سچ بولے۔ کیونکہ رب العزت کو ذاتی علم بھی پورا پورا ہے اور عدالتی تحقیقات کے لئے وہ ان کے اقرار کرنے نہ کرنے کا محتاج نہیں جب انسان جھوٹ بولے گا تو اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے ہاتھ پاؤں اور کھال و بال سے شہادت لی جاوے گی وہ سچ مچ سارا واقعہ بیان کردیں گے، جس کے بعد اس کو کوئی حجت باقی نہ رہے گی، اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْهِمْ الایتہ کا یہی مطلب ہے اور قرآن کریم کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں مختلف مواقف ہوں گے، ہر موقف کے حالات الگ ہیں۔ ایک موقف وہ بھی ہوگا جس میں بغیر اذن الہی کسی کو بولنے کا اختیار نہ ہوگا اور وہ صرف سچ اور صحیح بات ہی بول سکے گا، جھوٹ پر قدرت نہ ہوگی، جیسا ارشاد ہے۔ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا۔ قبر میں کوئی جھوٹ نہ بول سکے گا : اس کے برخلاف قبر کے سوال و جواب میں احادیث صحیحہ میں مذکور ہے کہ جب کافر سے پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے اور محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون ہیں ؟ تو وہ کہے گا، ھاہ ھاہ لا ادری، یعنی ہائے ہائے میں کچھ نہیں جانتا۔ اگر وہاں جھوٹ بولنے کا اختیار ہوتا تو کیا مشکل تھا، کہہ دیتا کہ میرا رب اللہ ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ تو یہ ایک عجیب بات ہے کہ کافر لوگ اللہ کے سامنے تو جھوٹ بولنے پر قادر ہوں اور فرشتوں کے سامنے جھوٹ نہ بول سکیں۔ مگر غور کیا جائے تو کچھ تعجب کی بات نہیں وجہ یہ ہے کہ فرشتے نہ تو عالم الغیب ہیں نہ ان کو یہ اختیار ہے کہ ہاتھ پاؤں کی گواہی لے کر اس پر حجت تمام کردیں، اگر ان کے سامنے جھوٹ بولنے کا اختیار ہوتا تو سب کافر فاجر عذاب قبر سے بےفکر ہوجاتے، بخلاف اللہ جل شانہ کے کہ وہ دلوں کے حال سے بھی واقف ہیں اور اعضاء وجوارح کی شہادت سے اس کا جھوٹ کھول دینے پر قادر بھی ہیں۔ اس لئے محشر میں یہ آزادی دے دینا عدالتی انصاف میں کوئی خلل پیدا نہیں کرتا۔ واللہ اعلم۔ تمت سورة الروم بحمد اللہ فی یوم السبت 28 ذیقعدہ 1391 ھ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَۃُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ۝ ٠ۥۙ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَۃٍ۝ ٠ ۭ كَذٰلِكَ كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ۝ ٥٥ ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ قْسَمَ ( حلف) حلف، وأصله من الْقَسَامَةُ ، وهي أيمان تُقْسَمُ علی أولیاء المقتول، ثم صار اسما لكلّ حلف . قال : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] ، أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] ، وقال : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] ، فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اقسم ( افعال کے معنی حلف اٹھانے کے ہیں یہ دروصل قسامۃ سے مشتق ہے اور قسیا مۃ ان قسموں کو کہا جاتا ہے جو او لیائے مقتول پر تقسیم کی جاتی ہیں پھر مطلق کے معنی استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں ۔ أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے مارے میں تم قسمیں کھایا کرتی تھے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ہم کو روز قیامت کی قسم اور نفس لوامہ کی ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم ۔ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم صبح ہوتے اس کا میوہ توڑلیں گے ۔ فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں ۔ ماسمعتہ وتقاسما باہم قسمیں اٹھانا ۔ قرآن میں ہے : وَقاسَمَهُما إِنِّي لَكُما لَمِنَ النَّاصِحِينَ [ الأعراف/ 21] اور ان کی قسم کھاکر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ۔ جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ، ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر جائیں یہ نفایۃ کے وزن پر ہے ـ( جو کہ ہر چیز کے روی حصہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ) اجرم ( افعال ) جرم دلا ہونا جیسے اثمر واتمر والبن اور استعارہ کے طور پر اس کا استعمال اکتساب مکروہ پر ہوتا ہے ۔ اور پسندیدہ کسب پر بہت کم بولا جاتا ہے ۔ اس کا مصدر جرم ہے چناچہ اجرام کے متعلق فرمایا : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] جو گنہگار ( یعنی کفاب میں وہ دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے ۔ لبث لَبِثَ بالمکان : أقام به ملازما له . قال تعالی: فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] ، ( ل ب ث ) لبث بالمکان کے معنی کسی مقام پر جم کر ٹھہرنے اور مستقل قیام کرنا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] تو وہ ان میں ۔ ہزار برس رہے ۔ أفك الإفك : كل مصروف عن وجهه الذي يحق أن يكون عليه، ومنه قيل للریاح العادلة عن المهابّ : مُؤْتَفِكَة . قال تعالی: وَالْمُؤْتَفِكاتُ بِالْخاطِئَةِ [ الحاقة/ 9] ، وقال تعالی: وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] ، وقوله تعالی: قاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ [ التوبة/ 30] أي : يصرفون عن الحق في الاعتقاد إلى الباطل، ومن الصدق في المقال إلى الکذب، ومن الجمیل في الفعل إلى القبیح، ومنه قوله تعالی: يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ [ الذاریات/ 9] ، فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ [ الأنعام/ 95] ، وقوله تعالی: أَجِئْتَنا لِتَأْفِكَنا عَنْ آلِهَتِنا [ الأحقاف/ 22] ، فاستعملوا الإفک في ذلک لمّا اعتقدوا أنّ ذلک صرف من الحق إلى الباطل، فاستعمل ذلک في الکذب لما قلنا، وقال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ جاؤُ بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ [ النور/ 11] ، وقال : لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، وقوله : أَإِفْكاً آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ [ الصافات/ 86] فيصح أن يجعل تقدیره : أتریدون آلهة من الإفك «2» ، ويصح أن يجعل «إفكا» مفعول «تریدون» ، ويجعل آلهة بدل منه، ويكون قد سمّاهم إفكا . ورجل مَأْفُوك : مصروف عن الحق إلى الباطل، قال الشاعر : 20- فإن تک عن أحسن المروءة مأفو ... کا ففي آخرین قد أفكوا «1» وأُفِكَ يُؤْفَكُ : صرف عقله، ورجل مَأْفُوكُ العقل . ( ا ف ک ) الافک ۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیردی گئی ہو ۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤلفکۃ کہا جاتا ہے اور آیات کریمہ : ۔ { وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ } ( سورة الحاقة 9) اور وہ الٹنے والی بستیوں نے گناہ کے کام کئے تھے ۔ { وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى } ( سورة النجم 53) اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا ۔ ( میں موتفکات سے مراد وہ بستیاں جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں کے الٹ دیا تھا ) { قَاتَلَهُمُ اللهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ } ( سورة التوبة 30) خدا ان کو ہلاک کرے ۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں ۔ یعنی اعتقاد و حق باطل کی طرف اور سچائی سے جھوٹ کی طرف اور اچھے کاموں سے برے افعال کی طرف پھر رہے ہیں ۔ اسی معنی میں فرمایا ؛ ۔ { يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ } ( سورة الذاریات 9) اس سے وہی پھرتا ہے جو ( خدا کی طرف سے ) پھیرا جائے ۔ { فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ } ( سورة الأَنعام 95) پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ { أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ آلِهَتِنَا } ( سورة الأَحقاف 22) کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ ہمارے معبودوں سے پھیردو ۔ میں افک کا استعمال ان کے اعتقاد کے مطابق ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے اعتقاد میں الہتہ کی عبادت ترک کرنے کو حق سے برعمشتگی سمجھتے تھے ۔ جھوٹ بھی چونکہ اصلیت اور حقیقت سے پھرا ہوتا ہے اس لئے اس پر بھی افک کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : { إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ } ( سورة النور 11) جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تمہیں لوگوں میں سے ایک جماعت ہے ۔ { وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ } ( سورة الجاثية 7) ہر جھوٹے گنہگار کے لئے تباہی ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ { أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللهِ تُرِيدُونَ } ( سورة الصافات 86) کیوں جھوٹ ( بناکر ) خدا کے سوا اور معبودوں کے طالب ہو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افکا مفعول لہ ہو ای الھۃ من الافک اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افکا تریدون کا مفعول ہو اور الھۃ اس سے بدل ۔۔ ،۔ اور باطل معبودوں کو ( مبالغہ کے طور پر ) افکا کہدیا ہو ۔ اور جو شخص حق سے برگشتہ ہو اسے مافوک کہا جاتا ہے شاعر نے کہا ہے ع ( منسرح) (20) فان تک عن احسن المووءۃ مافوکا ففی اخرین قد افکوا اگر تو حسن مروت کے راستہ سے پھر گیا ہے تو تم ان لوگوں میں ہو جو برگشتہ آچکے ہیں ۔ افک الرجل یوفک کے معنی دیوانہ اور باؤلا ہونے کے ہیں اور باؤلے آدمی کو مافوک العقل کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مشرکین قسم کھائیں گے کہ وہ قبروں میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ جیسا کہ یہ لوگ آخرت میں اس پختگی کے ساتھ جھوٹ بولیں گے اسی طرح یہ دنیا میں بھی جھوٹ بولا کرتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٥ (وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَلا مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَۃٍ ط) ” کہ وہ دنیا میں یا عالم برزخ میں گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے۔ (کَذٰلِکَ کَانُوْا یُؤْفَکُوْنَ ) ” جس طرح وہ لوگ روز قیامت اپنی زندگی کے دورانیے کے بارے میں انتہائی غیر معقول بات کریں گے بالکل ایسے ہی دنیا میں بھی ان کی سوچ اور فکر حقیقت سے بہت دور تھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

80 That is, Resurrection, which is being foretold here. 81 That is, from the time of death till Resurrection. Even if thousands of years might have elapsed since their death they will feel that they had gone to sleep a few hours earlier and then a sudden calamity had roused them froth sleep. 82 That is, "They used to make similar wrong estimates in the world, There also they lacked the realization of Reality, and therefore, used to assert there was going to be no Resurrection, no life-after-death, and no too. that accountability before God."

سورة الروم حاشیہ نمبر : 80 یعنی قیامت جس کے آنے کی خبر دی جارہی ہے ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 81 یعنی مرنے کے وقت سے قیامت کی اس گھڑی تک ۔ ان دونوں ساعتوں کے درمیان چاہے دس بیس ہزار برس ہی گزر چکے ہوں ، مگر وہ محسوس کریں گے کہ چند گھنٹے پہلے ہم سوئے تھے اور اب اچانک ایک حادثہ نے ہمیں جگا اٹھایا ہے ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 82 یعنی ایسے ہی غلط اندازے یہ لوگ دنیا میں بھی لگاتے تھے ۔ وہاں بھی یہ حقیقت کے اداراک سے محروم تھے اسی وجہ سے یہ حکم لگایا کرتے تھے کہ کوئی قیامت ویامت نہیں آنی ، مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ، اور کسی خدا کے سامنے حاضر ہوکر ہمیں حساب نہیں دینا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٥ تا ٥٩۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ انسان کی حالت کو ذرا بھی قیام نہیں ہے کبھی بالکل نادان بچہ ہوتا ہے کبھی جوانی کے نشہ میں اپنے آپ کو بھول جاتا ہے پھر تھوڑے دنوں میں دیکھوں تو بڑھاپا آ کر وہ جوانی کا نشہ جاتا رہتا ہے نہ جوانی کا سا کھانا پینا ہے نہ وہ تندرستی ہے دانتوں نے الگ جواب دے دیا نگاہ جدا کمزور ہوگئی ہاتھ پیروں میں بالکل وہ سکت اور بوتا باقی نہیں رہا یہ سب کچھ ہو کر ایک سانس باقی تھا تھوڑے دنوں میں وہ بھی نہیں اور سینکڑوں ایسے دنیا سے اٹھ گئے کہ گویا کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے لیکن باوجود اس ناپائیدار زیست کے غافل لوگ دنیا کو ہیمشہ رہنے کا ٹھکانہ جانتے تھے اور عقبیٰ کی باتوں کو دنیا کی آسودگی میں ایک خواب و خیال کی سی باتیں سمجھتے تھے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہرچند دنیا کی حرص وہوس سے صحیح حدیثوں میں طرح سے روکا کبھی فرمایا کہ دنیا کی حرص وہوا عاقبت کی بہبودی کے لیے ایسی مضر ہے جس طرح بھیڑیے اور بکریوں کا ایک جگہ ہونا بکریوں کے حق میں مضر ہے کبھی فرمایا کہ دنیا میں سوا ذکر الٰہی کے جو کچھ ہے وہ سب ہیچ ہے کبھی فرمایا کہ آدمی کو دنیا میں مسافروں کی طرح رہنا چاہیے اور مرنے سے پہلے اپنے آپ کو مرا ہوا شمار کرنا چاہئے کبھی بڑی اور چھوٹی لکیریں کھینچ کر سمجھایا کہ چھوٹی لکیر آدمی کی چند روز عمر ہے اور بڑی لکیر آدمی کی حرص وہوا ایک دن ایسا ہوگا کہ حرص وہوا اپنے حال پر رہ جاوے گی اور آدمی دنیا سے اٹھ جاوے گا کبھی فرمایا کہ دنیا کی قدر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے غرض اسی طرح جو سمجھانے کا حق تھا وہ سب کچھ سمجھایا مگر دنیا کی الفت کے سامنے ان غافلوں نے ایک نہ سنی آخران غافلوں کے عندیہ کے موافق یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ دنیا ہمیشہ رہے یا یہ غافل دنیا میں ہمیشہ رہیں جب دنیا اجڑے گی اور اللہ اور اللہ کے رسول کے فرمانے کے موافق قیامت قائم ہوگی تو اس دن کا حال اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ وہ غافل دنیا کے فریفتہ لوگ جو دنیا کو اپنی غفلت سے اپنا ہمیشہ کا ٹھکانہ جانتے تھے جب قیامت کے دن لاکھوں کروڑوں برس کا عذاب دیکھیں گے تو قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اس لاکھوں برس کے عذاب کے حساس سے تو گویا ہم دنیا اور قبروں میں گھڑی دو گھڑی رہے آگے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ عذر ان لوگوں کے کچھ کام نہ آوے گا اس کے معنے اکثر مفسروں نے یہ بیان کئے ہیں کہ دنیا میں گھڑی دو گھڑی یہ غافل لوگ اس عذر کے طور پر بتلا دیں گے کہ گویا دنیا میں زیادہ رہنے اور اللہ کے رسول کی نصیحت سننے کا موقع ان کو نہیں ملا اسی واسطے ملائکہ اور انبیا ( علیہ السلام) اور عام مسلمان قسم کھا کر غافلوں کے اس عذاب کا جواب دیں گے کہ جس قدر اس کہ وعدہ کے موافق دنیا میں ہم رہے اسی قدر تم بھی رہے مگر تمہاری نادانی نے آج تم کو خراب کیا کہ اللہ کے رسول کی نصیحت کے موافق جس ڈھنگ سے دنیا میں رہنا چاہئے تھا اس ڈھنگ سے تم نہیں رہے بلکہ دنیا کے جینے کو ہی اپنے پیدا ہونے کا مدار سمجھتے رہے اور آج کے دن کے منکر رہے اور جب تک رہے ماھی الاحیاتنا الدنیا وما نحن بمبعوتین کہتے رہے آج وہی دن آگے آیا جس کا تمہیں انکار تھا اور جس سے تم بےفکر تھے اب عذر کا وقت ہاتھ سے جاتا رہا بےوقت اب عذر کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ترمذی اور ابن ماجہ کی شداد بن اوس (رض) کی معتبر حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا بھر کا عقل مند وہی شخص ہے جو دنیا میں رہ کر اپنی عقبیٰ کو سنبھالنے کا کچھ کام کرے ورنہ پھر عقبیٰ میں بڑی خرابی پیدا ہوگی اب آگے فرمایا قیامت کے دن ان لوگوں کا کے موافق ان کے دلوں پر کفر اور شرک کا رنگ مہر کی طرح چھا گیا تھا کہ تمام عمر یہ لوگ اس انجام کو جھٹلاتے رہے اور اس انجام سے اپنے آپ کو انجان بنالیا آخر آج وہ انجام ان کے روبرو آیا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:55) ویوم : ای واذکر یوم۔ اور یاد کرو وہ دن۔ یقوم الساعۃ۔ قیامت قائم ہوگی۔ جب قیامت کی گھڑی آجائے گی۔ الساعۃ (وقت) اجزائے زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے ساعت، گھڑی، پل، الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد لی جاتی ہے۔ س و ع مادہ۔ یقسم۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ اقسام (افعال) مصدر۔ قسمیں کھائیں گے۔ یؤفکون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ ماضی استمراری کے معنی میں۔ وہ پھیرے جاتے تھے۔ الٹے چلتے رہتے تھے۔ علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :۔ ای اکنوا یکذبون فی الدنیا یعنی وہ دنیا میں بھی جھوٹ بولا کرتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی سچائی اور بھلائی سے روگرداں ہوجائے تو اہل عرب کہتے ہیں۔ افک الرجل۔ مدارک التنزیل میں ہے کہ :۔ ای مثل ذلک الصرف کانوا یصرفون عن الصدق الی الکذب فی الدنیا۔ یعنی جس طرح اب یہ حقیقت سے پھرگئے ہیں اسی طرح دنیا میں بھی یہ سچ سے جھوٹ کی طرف پھر جایا کرتے تھے : نیز ملاحظہ ہو 29:61

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یا اپنی برزخی زندگی میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ قیامت کے دن کی ہولناکیوں اور عذاب جہنم کے سامنے دیکھ کر یہ احساس پیدا ہوگا ہوسکتا ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ وقفہ ہوجی اٹھنے کے بعد ایک ساعت محسوس ہو۔3 یعنی وہاں بھی یہ اسی طرح کے غلط اندازے لگایا کرتے تھے چناچہ جھوٹی قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد بس فنا ہوجانا ہے کوئی آخرت و آخرت آنے والی نہیں ہے جس کے لئے کوئی تیاری کی جائے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60 الساعتہ (گھڑی۔ قیامت) ۔ یقسم (قسم کھائے گا) ۔ مالبوا (وہ نہیں ٹھہرے۔ وہ نہیں رہے) ۔ یوفکون (وہ الٹے چلتے ہیں) ۔ البعث (اٹھنا) ۔ لا ھم یستعیبون (نہ وہ معافی مانگے جائیں گے) ۔ مبطلون (جھوٹا بنانے والے) ۔ یطبع (وہ مہر لگا دیتا ہے) ۔ لا یستخفن (وہ ہلکا نہ کرے گا) ۔ لا یوقنون (وہ یقین نہیں رکھتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر (55 تا 60) ” اللہ تعالیٰ کے نافرمان کا فرد مشرک قیامت کے ہولناک دن کو دیکھ کر عجیب بہکی بہکی باتیں کرنے لگیں گے کبھی وہ اپنے جھوٹے معبودوں کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے اے اللہ درحقیقت ہم مشرک نہیں تھے ہمیں غلط مشورہ دینے والوں یا ان بتوں نے گمراہ کیا تھا۔ کبھی کہیں گے کہ ہم دنیا میں بہت کم ٹھہرے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم صرف ایک گھنٹہ دنیا میں رہ کر آئے ہیں اگر ہمیں اور موقع دیا جاتا تو ہم گناہوں سے توبہ کر کے ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرلیتے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ کفارو مشرکین جس مختصر مدت کی قسم کھا کر یہ کہہ رہے ہیں اس سے مراد عالم برزخ یا قبر ہے جس کے متعلق وہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں۔ یہ ان کی بےتکی اور بہکی باتیں ہوں گی جن کے جواب میں اہل علم واہل ایمان کہیں گے کہ تم اللہ کے علم اور لکھے ہوئے کے مطابق قیامت میں دوبارہ اٹھنے تک سوتے رہے ہو ۔ اللہ نے جتنی مدت اور وقت دیا تھا وہ سوچنے، سمجھنے اور نیک اعمال کے لئے کافی تھا۔ اب تو وقت گذر چکا ہے۔ اب تو وہ دن ہے جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا اور اپنے رسولوں کے ذریعہ جس کی خبر دی گئی تھی مگر تم نے رسولوں کی باتوں اور قرآن مجید پر غورو فکر نہیں کیا۔ اگر تم غور سے سنتے اور سمجھتے تو تمہارا یہ حال نہ ہوتا۔ مگر تم تو دنیا کے دھندوں اور دنیا کی چمک دمک میں ایسے لگے رہے کہ کسی سچی اور حق بات کو سننا گواراہی نہ کرتے تھے آج تم کسی عذر کو پیش کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ اور تم سے کسی معذرت کا مطالبہ بھی نہیں کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے قرآن مجید کو تمام انسانیت کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے جس میں ہر طرح کی مثالوں کو مختلف انداز سے باربار پیش کیا ہے۔ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر آپ کوئی نشانی یا معجزہ بھی لا کر دکھا دیں تب بھی یہ لوگ اس کا انکار کر کے کہیں گے کہ آپ جھوٹ پر قائم ہیں۔ سچائی آنے کے بعد جو لوگ انکار پر انکار کرتے چلے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہریں لگا دیتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ صبر و تحمل سے کام کیجئے اور اپنے مشن اور مقصد کی کامیابی کے لئے جدوجہد کرتے رہیے اللہ نے جو بھی وعدے کئے ہیں وہ برحق ہیں اور پورے ہو کر رہیں گے۔ آپ اپنے مقصد اور گفتگو میں حلم و تحمل ، برداشت اور عزم و ہمت پر قائم رہیے۔ آپ کی بھاری بھر کم شخصیت کے سامنے آخر سب کو جھکنا پڑے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مکہ مکرمہ میں تیرہ سال اور مدنیہ منورہ میں دس سال تک انتہائی نازک موڑ آئے لیکن آپ یا آپ کے جاں نثار صحابہ کرام مصائب اور پریشانیوں کے آگے نہیں جھکے بلکہ آپ نے اپنی با عظمت سیرت کے ذریعہ ساری دنیا میں نہایت مختصر مدت میں ایک ایسا عظیم انقلاب پیدا فرما دیا جس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ الحمدللہ سورة الروم کی آیات کا ترجمہ اور اس کی تشریح مکمل ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جو ” اللہ “ انسان کو پیدا کرنے، جوان اور بوڑھا کرنے پر قادر ہے وہی قیامت کے دن انسان کو پیدا کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت برپا فرما کر لوگوں کو زندہ کرکے اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ مجرم قیامت کی سختی اور اللہ تعالیٰ کا جلال دیکھ کر قسمیں اٹھا اٹھا کر ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک لمحہ سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے۔ انہیں فرمایا جائے گا جس طرح تم دنیا میں رہنے کی مدّت کو بھول چکے ہو اسی طرح تم قیامت کو فراموش کرچکے تھے۔ جس بنا پر تم سوچتے نہیں تھے کہ کل ہمیں اپنے عقائد اور اعمال کا جواب دینا ہے۔ جب مجرم ایک دوسرے کے سامنے قسمیں کھا رہے ہوں گے تو قیامت پر یقین رکھنے والے ایمان دار لوگ انہیں کہیں گے تم اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی جو اس نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے یعنی تم اپنی عمر کے مطابق دنیا میں رہے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگئی یہی وہ دن ہے جس کا تم انکار کرتے تھے۔ اس دن وہ معذرت پر معذرت کریں گے لیکن ان کی معذرت اور آہ زاریاں قبول نہیں کی جائیں گی۔ مسائل ١۔ قیامت کے دن مجرم دنیا میں رہنے کی مدّت کو بھول جائیں گے۔ ٢۔ صاحب ایمان لوگ مجرموں کو یاد کروائیں گے یہی قیامت ہے جس کا تم انکار کرتے تھے۔ ٣۔ قیامت کے دن مجرموں کو معذرت کرنے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ ٤۔ قیامت کے دن مجرموں کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن مجرمین کی حسرت اور التجائیں : ١۔ اسلام کا انکار کرنا منکرین کے لیے حسرت کا باعث ہوگا۔ (الحاقۃ : ٥٠) ٢۔ مشرکین قیامت کے دن حسرت کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : ١٦٧) ٣۔ قیامت کے دن منکر حسرت وافسوس کریں گے۔ (الانعام : ٣١) ٤۔ قیامت کے دن مجرم دنیا کی بری دوستی پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ (الفرقان : ٢٧ تا ٢٩) ٥۔ مجرم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجانے کی خواہش کریں گے۔ (النساء : ٤٢، النباء : ٤٠) ٦۔ مجرم دنیا میں لوٹ کر نیک عمل کرنے کی تمناکریں گے۔ (السجدۃ : ١٢) ٧۔ مجرم افسوس کا اظہار کریں گے کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔ (الفرقان : ٢٨) ٨۔ جہنم کے داروغہ سے درخواستیں کریں گے۔ (الزخرف : ٧٧) ٩۔ اپنے مرشدوں اور لیڈروں کو دگنی سزا دینے کا مطالبہ کریں گے۔ (الاحزاب : ٦٨) ١٠۔ مرید اپنے مرشدوں کو اپنے پاؤں تلے روندنے کا مطالبہ کریں گے۔ (السجدۃ : ٢٩) ١١۔ مجرم کہیں گے اب ہمارا چیخنا چلانا اور صبر کرنا برابر ہے۔ (ابراہیم : ٢١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن مجرمین کی جھوٹی قسما دھرمی اور اہل ایمان کی حق بیانی یہ تین آیات ہیں، پہلی آیت میں یہ بتایا کہ جب قیامت قائم ہوگی اور زندہ ہو کر قبروں سے نکلیں گے تو اس وقت مجرمین یعنی کافر لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم تو موت کے بعد قبروں میں تھوڑی سی ہی دیر رہے ہیں۔ اور بعض مفسرین نے بتایا کہ اس سے دنیا کی زندگی مراد لیں گے اور ان کے کہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا میں ہم ذرا دیر ہی رہے تھے، عمریں تو اچھی خاصی گزاریں لیکن ایمان نہ لائے اور نیک عمل نہ کیے، اتنی بڑی زندگی بیکار ہی چلی گئی، جو چیز زیادہ ہو اور اس سے نفع نہ اٹھایا جائے تو وہ قلیل مانی جاتی ہے جیسا کہ قلیل چیز نفع مند ہو تو اسے کثیر کہا جاتا ہے۔ (ذکر صاحب الروح) ان لوگوں کا کہنا کہ ہم دنیا میں یا برزخ میں صرف ذرا دیر ہی رہے جھوٹ ہی ہوگا اور یہ ان کا پہلا جھوٹ نہیں ہوگا بلکہ دنیا میں جب ان کے سامنے حق آتا تھا تو اس سے اعراض کرتے تھے اور اس کی تکذیب کرتے تھے اور الٹی ہی چال چلتے تھے، شیطان اور نفس انہیں حق کی تکذیب پر آماہ کرتے تھے۔ جن لوگوں کو اللہ نے علم دیا اور ایمان دیا (ان میں فرشتے بھی ہیں اور بنی آدم میں سے وہ افراد بھی ہیں جنہیں علم اور ایمان کے لیے منتخب فرمالیا) یہ حضرات ان سے یوں کہیں گے کہ تم اللہ کے نوشتہ میں یعنی اللہ کی کتاب میں بعث کے دن تک ٹھہرے رہے ہو، اللہ تعالیٰ شانہ نے جو لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا اور اپنی کتاب میں جو (وَمِنْ وَّرَآءِہِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ) فرما دیا تھا تم اسی کے مطابق بعث کے دن تک ٹھہرے رہے ہو۔ یَوْمِ الْبَعْثسے قبروں سے اٹھائے جانے کا دن مراد ہے۔ اہل علم و ایمان مجرمین سے خطاب کرتے ہوئے یوں کہیں گے کہ یہ یَوْمِ الْبَعْث ہے، قبروں سے زندہ ہو کر اٹھائے جانے کا دن ہے، تم جس کے منکر تھے وہ سامنے آگیا اور آج واضح ہوگیا کہ تمہارا انکار کرنا باطل تھا لیکن تم نہیں جانتے تھے، جو حضرات قیامت واقع ہونے اور وہاں کی پیشی ہونے کی باتیں کرتے تھے تم ان کو جھٹلاتے تھے اور مذاق اڑاتے تھے، ان کی بات مانتے تو تمہیں آج کے دن کا اور آج کے دن کے حالات کا علم ہوتا۔ تیسری آیت میں فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، کفر اختیار کیا، قیامت کے دن پر ایمان نہ لائے اب جو بھی کوئی معذرت کریں وہ قبول نہیں ہوگی اور معذرت انہیں کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان کو اس کا موقع دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرلیں کیونکہ کفر پر مرنے کے بعد توبہ کرنے کا کوئی موقع نہیں اور ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کبھی ناراض نہیں ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

42:۔ یہ تخویف دنیوی ہے قیامت کے دن مجرمین قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ قبروں میں وہ ایک ساعت سے زیادہ نہیں ٹھہرے قیامت کی ہولناکی کے باعث انہیں یہ بھی یاد نہیں رہے گا کہ وہ قبروں میں بہت طویل عرصہ ٹھہرے ہیں۔ کذلک کانو یوفکون جس طرح وہ قیامت میں صحیح بات نہیں بتا سکیں گے اسی طرح دنیا میں بھی حق سے پھیر دئیے جاتے تھے اور باطل کی پیروی کرتے تھے۔ یصرفون من الحق الی الباطل و من الصدق الی الکذب (کبیر ج 6 ص 728) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

55۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو یہ مجرم قسمیں کھا کھاکر کہیں گے کہ وہ دنیا اور برزخ میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے جس طرح یہ آج غلط اور الٹی بات کہہ رہے ہیں اسی طرح دنیا میں بھی یہ لوگ حق بات سے پھرے ہوئے تھے اور صحیح بات سے الٹے چلا کرتے تھے۔ یعنی دنیا کا رہنا یا برزخ کا رہنا یا دونوں کی مدت قیامت کی ہولناکی اور شدت عذاب کے مقابلے میں ایک گھڑی معلوم ہوگی اور دنیا میں یہ قسمیں کھا کھا کر دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے تھے آج وہاں کی مدت کو قسمیں کھا کر ایک گھڑی بتا رہے ہیں جو بےڈھنگی اور الٹی چال وہاں چلتے تھے وہی الٹی بات آج کہہ رہے ہیں ۔ پہلی آیت میں قیامت کے امکان کا ذکر تھا اس آیت میں قیامت کے وقوع کا بیان ہے آگے ان کے غلط تخمینے کا رد ہے۔