Surat Luqman

Surah: 31

Verse: 28

سورة لقمان

مَا خَلۡقُکُمۡ وَ لَا بَعۡثُکُمۡ اِلَّا کَنَفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۲۸﴾ الثلٰثۃ

Your creation and your resurrection will not be but as that of a single soul. Indeed, Allah is Hearing and Seeing.

تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد جلانا ایسا ہی ہے جیسے ایک جی کا ، بیشک اللہ تعالٰی سننے والا دیکھنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ ... The creation of you all and the resurrection of you all are only as a single person. means, His creation and resurrection of all of mankind on the Day of Resurrection is, in relation to His power, like the creation and resurrection of a single soul; all of this is easy for Him. إِنَّمَأ أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْياً أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ Verily, His command, when He intends a thing, is only that He says to it, "Be!" -- and it is! (36:82) وَمَأ أَمْرُنَأ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ And Our commandment is but one as the twinkling of an eye. (54:50) This means He only has to command a thing once, and it will happen. There is no need for Him to repeat it or confirm it. فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ But it will be only a single Zajrah. When behold, they find themselves on the surface of the earth alive after their death. (79:13-14) ... إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ Verily, Allah is All-Hearer, All-Seer. means, just as He hears all that they say, so He also sees all that they do, as if He is hearing and seeing a single soul. His power over all of them is like His power over a single soul, Allah says: مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ (The creation of you all and the resurrection of you all are only as a single person).

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

281یعنی اس کی قدرت اتنی عظیم ہے کہ تم سب کا پیدا کرنا یا قیامت والے دن زندہ کرنے یا پیدا کرنے کی طرح ہے۔ اس لئے وہ جو چاہتا ہے لفظ کُنْ سے پلک جھپکتے میں معرض وجود میں آجاتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] اس کی مثال یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ اربوں انسانوں کی پکار بیک وقت سن لیتا ہے۔ ایک انسان کی دعا سننا اسے دوسروں کی دعا سننے سے غافل یا قاصر نہیں بنا سکتا۔ اس کے لئے ایک انسان کی ایک وقت میں دعا سننا اور اربوں انسانوں کی اسی وقت میں دعا سننا برابر ہے۔ پھر اس کی مخلوق صرف انسان ہی نہیں۔ لاکھوں انواع میں اور اربوں کھربوں کی تعداد میں ہیں۔ وہ ان سب کی وہ دعا و فریاد سنتا ہے۔ اور ایک چیونٹی کی بھی فریاد اسی طرح سنتا ہے جیسے ایک انسان کی۔ پھر معاملہ صرف سننے تک محدود نہیں۔ بلکہ انہی کمالات کے ساتھ وہ اپنی ساری مخلوق کو دیکھ بھی رہا ہے۔ ان کے ظاہری اور باطنی حالات سے واقف بھی ہے۔ انھیں رزق بھی پہنچا رہا ہے اور ان کی جملہ ضروریات بھی پوری کر رہا ہے۔ یہی حال اس کی تخلیق کا بھی ہے۔ اس کا ایک انسان کو پیدا کرنا بھی ایسے ہی ہے جیسے سب انسانوں کا پیدا کرنا۔ وہ ایک ہی وقت میں لاکھوں انسانوں اور اربوں دوسری مخلوق کو اس وقت بھی پیدا کر رہا ہے اور قیامت کو مرنے کے بعد دوبارہ بھی انسانوں کو ایسے ہی بیک وقت اٹھا کھرا کرے گا اور اس کے لئے ایک انسان کے دوبارہ پیدا کرنے اور سب انسانوں کے دوبارہ پیدا کرنے میں کوئی فرق نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ : اللہ تعالیٰ کے کمال علم و قدرت کے بیان کے بعد کفار کی اس بات کی تردید فرمائی کہ ہم دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے ؟ چناچہ فرمایا، تم سب کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کرنے کی طرح ہی ہے، کیونکہ وہ تمام چیزوں کو کلمہ ” کُنْ “ سے موجود کردیتا ہے، پھر تمہیں دوبارہ زندہ کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟ دیکھیے سورة یٰس (٢٢ اور ٧٩) ۔ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ : ان دو صفات کی مناسبت یہاں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اربوں انسانوں کی پکار بیک وقت سن لیتا ہے۔ ایک انسان کی دعا سننا اسے دوسرے کی دعا سننے سے غافل یا قاصر نہیں بنا سکتا۔ اس کے لیے ایک انسان کی ایک وقت میں دعا سننا اور اربوں انسانوں کی اسی وقت دعا سننا برابر ہے۔ پھر اس کی مخلوق صرف انسان ہی نہیں بلکہ لاکھوں انواع میں اور اربوں کھربوں کی تعداد میں ہے، وہ ان سب کی دعا اور فریاد سنتا ہے اور ایک چیونٹی کی بھی فریاد اسی طرح سنتا ہے جیسے ایک انسان کی۔ پھر معاملہ سننے تک محدود نہیں بلکہ سننے کے ساتھ وہ اپنی ساری مخلوق کو دیکھ بھی رہا ہے۔ ان کے ظاہری اور باطنی حالات سے واقف بھی ہے، انھیں رزق بھی پہنچا رہا ہے اور ان کی جملہ ضروریات بھی پوری کر رہا ہے۔ یہی حال اس کی تخلیق کا ہے، اس کا ایک انسان کو پیدا کرنا بھی ایسے ہی ہے جیسے سب انسانوں کو پیدا کرنا۔ وہ ایک ہی وقت میں لاکھوں انسانوں اور اربوں دوسری مخلوق کو اس وقت بھی پیدا کر رہا ہے اور مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ تمام انسانوں کو ایسے ہی ایک وقت میں دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ اس کے لیے ایک انسان کے دوبارہ پیدا کرنے اور سب انسانوں کے دوبارہ پیدا کرنے میں کوئی فرق نہیں۔ (کیلانی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ۝ ٢٨ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] ، زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] ، ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] ، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة . - وإلهي، وذلک ضربان : - أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس والأنواع لا عن ليس «3» ، وذلک يختص به الباري تعالی، ولم يقدر عليه أحد . والثاني : إحياء الموتی، وقد خص بذلک بعض أولیائه، كعيسى صلّى اللہ عليه وسلم وأمثاله، ومنه قوله عزّ وجل : فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] ، يعني : يوم الحشر، وقوله عزّ وجلّ : فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ [ المائدة/ 31] ، أي : قيّضه، وَلَقَدْ بَعَثْنا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا [ النحل/ 36] ، نحو : أَرْسَلْنا رُسُلَنا [ المؤمنون/ 44] ، وقوله تعالی: ثُمَّ بَعَثْناهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] ، وذلک إثارة بلا توجيه إلى مکان، وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً [ النحل/ 84] ، قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ [ الأنعام/ 65] ، وقالعزّ وجلّ : فَأَماتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ [ البقرة/ 259] ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ ما جَرَحْتُمْ بِالنَّهارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ [ الأنعام/ 60] ، والنوم من جنس الموت فجعل التوفي فيهما، والبعث منهما سواء، وقوله عزّ وجلّ : وَلكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعاثَهُمْ [ التوبة/ 46] ، أي : توجههم ومضيّهم . ( ب ع ث ) البعث ( ف ) اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بھیجنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور مردوں کے متعلق استعمال ہو تو قبروں سے زندہ کرکے محشر کی طرف چلانا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] اور مردوں کو تو خدا ( قیامت ہی کو ) اٹھایا جائے گا ۔ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا ۔ زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] جو لوگ کافر ہوئے ان کا اعتقاد ہے کہ وہ ( دوبارہ ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ۔ کہدو کہ ہاں ہاں میرے پروردیگا رکی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤگے ۔ ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] تمہارا پیدا کرنا اور جلا اٹھا نا ایک شخص د کے پیدا کرنے اور جلانے اٹھانے ) کی طرح ہے پس بعث دو قسم پر ہے بعث بشری یعنی جس کا فاعل انسان ہوتا ہے جیسے بعث البعیر ( یعنی اونٹ کو اٹھاکر چلانا ) کسی کو کسی کام کے لئے بھیجنا دوم بعث الہی یعنی جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو پھر اس کی بھی دوقسمیں ہیں اول یہ کہ اعیان ، اجناس اور فواع کو عدم سے وجود میں لانا ۔ یہ قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس پر کبھی کسی دوسرے کو قدرت نہیں بخشی ۔ دوم مردوں کو زندہ کرنا ۔ اس صفت کے ساتھ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھی سرفراز فرمادیتا ہے جیسا کہ حضرت عیسٰی (علیہ السلام) اور ان کے ہم مثل دوسری انبیاء کے متعلق مذکور ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] اور یہ قیامت ہی کا دن ہے ۔ بھی اسی قبیل سے ہے یعنی یہ حشر کا دن ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ [ المائدة/ 31] اب خدا نے ایک کوا بھیجا جو زمین کو کرید نے لگا ۔ میں بعث بمعنی قیض ہے ۔ یعنی مقرر کردیا اور رسولوں کے متعلق کہا جائے ۔ تو اس کے معنی مبعوث کرنے اور بھیجنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَلَقَدْ بَعَثْنا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا [ النحل/ 36] اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں أَرْسَلْنا رُسُلَنا [ المؤمنون/ 44] فرمایا ہے اور آیت : ۔ ثُمَّ بَعَثْناهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] پھر ان کا جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدت وہ ( غار میں ) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کو مقدار کس کو خوب یاد ہے ۔ میں بعثنا کے معنی صرف ۃ نیند سے ) اٹھانے کے ہیں اور اس میں بھیجنے کا مفہوم شامل نہیں ہے ۔ وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً [ النحل/ 84] اور اس دن کو یا د کرو جس دن ہم ہر امت میں سے خود ان پر گواہ کھڑا کریں گے ۔ قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ [ الأنعام/ 65] کہہ و کہ ) اس پر بھی ) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عذاب بھیجے ۔ فَأَماتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ [ البقرة/ 259] تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی ( اور ) سو برس تک ( اس کو مردہ رکھا ) پھر اس کو جلا اٹھایا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ ما جَرَحْتُمْ بِالنَّهارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو رات کو ( سونے کی حالت میں ) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کبھی تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھادیتا ہے ۔ میں نیند کے متعلق تونی اور دن کو اٹھنے کے متعلق بعث کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ نیند بھی ایک طرح کی موت سے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعاثَهُمْ [ التوبة/ 46] لیکن خدا نے ان کا اٹھنا ( اور نکلنا ) پسند نہ کیا ۔ میں انبعاث کے معنی جانے کے ہیں ۔ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔ بصیر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، وللقوّة التي فيها، ويقال لقوة القلب المدرکة : بَصِيرَة وبَصَر، نحو قوله تعالی: فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] ، ولا يكاد يقال للجارحة بصیرة، ويقال من الأوّل : أبصرت، ومن الثاني : أبصرته وبصرت به «2» ، وقلّما يقال بصرت في الحاسة إذا لم تضامّه رؤية القلب، وقال تعالیٰ في الأبصار : لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] ومنه : أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] أي : علی معرفة وتحقق . وقوله : بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] أي : تبصره فتشهد له، وعليه من جو ارحه بصیرة تبصره فتشهد له وعليه يوم القیامة، ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں ، نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ اور آنکھ سے دیکھنے کے لئے بصیرۃ کا لفظ استعمال نہیں ہوتا ۔ بصر کے لئے ابصرت استعمال ہوتا ہے اور بصیرۃ کے لئے ابصرت وبصرت بہ دونوں فعل استعمال ہوتے ہیں جب حاسہ بصر کے ساتھ روئت قلبی شامل نہ ہو تو بصرت کا لفظ بہت کم استعمال کرتے ہیں ۔ چناچہ ابصار کے متعلق فرمایا :۔ لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں ۔ اور اسی معنی میں فرمایا ؛ ۔ أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] یعنی پوری تحقیق اور معرفت کے بعد تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ( اور یہی حال میرے پروردگار کا ہے ) اور آیت کریمہ ؛۔ بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] کے معنی یہ ہیں کہ انسان پر خود اس کے اعضاء میں سے گواہ اور شاہد موجود ہیں جو قیامت کے دن اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینگے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ (مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ط) ” پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی وسعت و عظمت کا تذکرہ تھا۔ اب اس وسیع و عریض کائنات کے انتظام و انصرام اور رنگا رنگ مخلوق کے معاملات کی نگرانی کا ذکر ہے کہ ان تمام امور کی نگہداشت اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ جیسے آیت الکرسی (سورۃ البقرۃ) میں ارشاد ہوا : (وَلاَ یَءُوْدُہٗ حِفْظُہُمَاج وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ) ” اور اس پر گراں نہیں گزرتی ان دونوں (زمین و آسمان) کی حفاظت ‘ اور وہ بلند وبالا ہے ‘ بڑی عظمت والا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

49 That is, 'He is hearing every sound in the universe distinctly at one and the same time, and no sound can absorb his hearing so completely that He may hear no other sound. Likewise, He is seeing the whole universe in each of its details as to thing and event at one and the same time and nothing can absorb His sight so completely that He may see nothing else. The same precisely is the case concerning the creation of men and their re-creation also. He can re-create instantaneously aII the men who have been born since the beginning of the creation and will be born till the end of time, His creative power is not absorbed so completely in the creation of one man that He may be unable to create other men at the same time. For Him the creation of one man and of the billions of men. therefore, is equal and one and the same thing.

سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :49 یعنی وہ بیک وقت ساری کائنات کی آوازیں الگ الگ سن رہا ہے اور کوئی آواز اس کی سماعت کو اس طرح مشغول نہیں کرتی کہ اسے سنتے ہوئے وہ دوسری چیزیں نہ سن سکے ۔ اسی طرح وہ بیک وقت ساری کائنات کو اس کی ایک ایک چیز اور ایک ایک واقعہ کی تفصیل کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور کسے چیز کے دیکھنے میں اس کی بینائی اس طرح مشغول نہیں ہوتی کہ اسے دیکھتے ہوئے وہ دوسری چیزیں نہ دیکھ سکے ۔ ٹھیک ایسا ہی معاملہ انسانوں کے پیدا کرنے اور دوبارہ وجود میں لانے کا بھی ہے ۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک جتنے آدمی بھی پیدا ہوئے ہیں اور آئندہ قیامت تک ہوں گے ان سب کو وہ ایک آن کی آن میں پھر پیدا کر سکتا ہے ۔ اس کی قدرت تخلیق ایک انسان کو بنانے میں اس طرح مشغول نہیں ہوتی کہ اسی وقت وہ دوسرے انسان نہ پیدا کر سکے ۔ اس کے لیے ایک انسان کا بنانا اور کھربوں انسانوں کا بنا دینا یکساں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٨ تا ٣٢۔ مطلب یہ ہے کہ ساری مخلوقات کا پیدا کرنا اور بعد مرنے کے پھر اس کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ کی قدرت کے سامنے کچھ مشکل نہیں ہے بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک جان پیدا کرنا اور جلانا ہے کس لیے کہ سب کا موجود کرنا فقط کن کے کہنے سے ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا انما امرہٗ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قادر مطلق جب ارادہ کرتا ہے کسی شے کا تو فرماتا ہے ہوجا وہ ہوجاتی ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سننے والا ہے سب کے قولوں کا اور دیکھنے والا ہے سب کے عملوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ حشر کے منکر جو باتیں کرتے ہیں اور حشر کو جھٹلا کر جس طرح کے کاموں میں مصروف ہیں ان سب کی اللہ کو خبر ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جب ایک کلمہ کن کے ساتھ ہی یہ حشر کے جھٹلانے والے دوبارہ زندہ ہوجاویں گے اور ان کی گستاخی کی زبانی باتیں اور ہاتھ پیروں کے بداعمال سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا تو اس وقت ان کو حشر کے جھٹلانے کی حقیقت کھل جاوے گی اب آگے اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت سے آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ بڑھا دیتا ہے رات کو دن میں اس طرح کچھ کچھ حصہ رات کا دن میں داخل کرتا ہے جس سے دن بڑا ہوجاتا ہے اور رات چھوٹی ہوجاتی ہے یہ گرمیوں کے موسم کا حکم ہے پھر دن کم ہوجاتا ہے اور رات لمبی ہوتی جاتی ہے یہ بعد جاڑے کے بڑا ہوجاتا ہے اور رات چھوٹی ہوجاتی ہے یہ گرمی کے موسم کا حال ہے پھر دن کم ہوجاتا ہے اور رات لمبی ہوتی جاتی ہے یہ بات جاڑے کے موسم میں ہوتی ہے پھر فرمایا کام میں لگا رکھا ہے سورج اور چاند کو کہ ہر ایک چلتا ہے ایک وعدہ مقرر تک اجل مسمی سے قیامت کا روز مراد ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوذر (رض) سے روایت ١ ؎ ہے کہ سورج غروب ہونے کے وقت عرش کے نیچے جا کر سجدہ کرتا ہے پھر اپنے پروردگار سے اذن چاہتا ہے کبھی یہ وقت بھی آنے والا ہے کہ سورج سے کہا جاوے گا کہ جدہر سے آیا ہے اودہر ہی جا معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے کہ سورج دن کو آسمان میں چھوٹی نہر کی طرح چلتا ہے اور رات اس آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ دنیا کا کل انتظام ایک وقت مقرہ تک کا ہے ہمیشہ کے لیے نہیں جو لوگ دنیا کی اس ناپائدار زندگی پر غش ہیں وہ بڑے دھو کے میں ہیں پھر فرمایا کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے خبردار ہے مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سب کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ سب چیزوں کو جانتا ہے پھر فرمایا کہ جب وہ ایسا صاحب قدرت ہے تو وہی معلوم برحق ہے اور اس کے سوائے تم جس چیز کو پوجتے ہو وہ ناحق ہے وہ ایسی ذات برتر و بلند ہے کہ کوئی چیز اس سے اوپر نہیں ہے اور وہ ایسا بڑا ہے کہ سب چیزیں اس کے روبرو عاجزی کرنے والی ہیں پھر فرمایا کہ جہاز چلتے ہیں دریا میں تاکہ دکھاوے تم کو اپنی قدرت کی نشانی کہ دریا کو تمہارا تا بعدار بنا دیا ہے یہ اس کی مہربانی ہے اگر اللہ تعالیٰ پانی میں یہ طاقت پیدا نہ کرتا کہ کشتیوں کو اٹھا لے تو کبھی پانی پر کشتیاں نہ چلتیں پھر فرمایا اس میں بڑے بڑے نشان ہیں ہر صبر کرنے والے شکر کرنے والے کے واسطے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ان نعمتوں کے شکریہ کے طور پر خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس عبادت میں مثلا جاڑہ کے وضو اور گرمی کے روزہ کی پیاس کی تکلیف پر صبر کو کام میں لاتے ہیں ایسے پکے مسلمانوں کے لیے اللہ کی قدرت کی باتوں میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں جن نشانیوں سے انہوں نے اللہ کو پہچانا ہے پھر فرمایا جب ڈھانک لے ان کو دریا کی موج بدلیوں کے مانند تو اس قوقت پکارنے لگیں نرے اللہ کو خالص کر کے اور جب خدا تعالیٰ ان کو اس مصیبت سے بچا لیتا ہے تو پھر اس کے ساتھ شرک کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ ان کو چاہئے تھا کہ خدا کے اس احسان کے مقابلہ میں اس کا شکر کرتے اور کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ ٹھہراتے فرمایا کہ ہماری ان کھلی کھلی قدرت کی نشانیوں کا انکار نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو بےوفا ہیں اور جن کو اپنے عہد و پیمان کا کچھ پاس ولحاظ ہے وہ خشکی میں آجانے کے بعد دریا کے خوف کی حالت کے عہد کو پورا تو نہیں مگر کسی قدر یاد رکھتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ دریا کی مصیبت سے نجات پانے کے بعد دریا میں کے عہد کو پورا کرنے والے اور راحب کی حالت میں خوف الٰہی کی حالت پر قائم رہنے والے تو بہت کم ہیں ہاں یہ دو قسمیں اکثر ہیں کہ بعضے تو اس عہد کو کسی قدر یاد رکھ کر درمیانی حالت پر رہتے ہیں اور بعضے بدعہد اپنے اس عہد کو بالکل بھول جاتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک اللہ کو منظور ہوتا ہے وہ نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے اگر وہ لوگ مہلت کے زمانہ میں راہ راست پر نہیں آتے تو ان کو ایسے عذاب میں پکڑ لیتا ہے جس سے وہ کسی طرح بچ نہیں سکتے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہلت کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ان بدعہد ناشکر لوگوں کو اپنی قدرت کی طرح طرح کی کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہلت کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ان بدعہد ناشکر لوگوں کو اپنی قدرت کی طرح طرح کی نشانیاں یاد دلا کر سمجھایا لیکن جب یہ لوگ اپنی عادت سے باز نہ آئے تو بدر کی لڑائی کے وقت ان کی گرفت کا زمانہ آگیا جس سے ان میں کے بڑے بڑے بدعہد ناشکر دنیا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عقبیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کے لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچاپا لیا چناچہ یہ قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک (رح) کی روایت کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ہے۔ (١ ؎ مشکوٰۃ ٤٧٢ باب العلامات بین یدی الساعۃ الخ) (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٥٢ ج ٣۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(31:28) ما بعثکم و۔ مضاف مضاف الیہ ۔ تمہارا زندہ کرنا۔ تمہارا جلانا۔ تمہارا اٹھانا۔ موت کے بعد دوبارہ زندہ اٹھا کھڑا کرنا۔ کنفس واحدۃ۔ کاف تشبیہ کے لئے ہے ایک نفس کی مانند۔ یعنی تم سب کو پیدا کرنا۔ اور مارنے کے بعد پھر زندہ کرنا۔ اللہ کے نزدیک ایک نفس کے پیدا کرنے اور مارنے اور زندہ کرنے کے برابر ہے۔ قلت و کثرت، واحد و جمع، صغرو کبرسب اس کے سامنے برابر ہیں یولج۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ایلاج (افعال) مصدر وہ داخل کرتا ہے۔ ولج مادہ۔ الولوج۔ ولج یلج (باب ضرب) کے معنی کسی تنگ جگہ میں داخل ہونے کے ہیں۔ مثلا قرآن مجید میں آیا ہے حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے (نہ) نکل جائے۔ سخر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے تسخیر کر رکھا ہے۔ اس نے کام میں لگا رکھا ہے۔ کل : ای کل واحد من الشمس والقمر۔ سورج اور چاند میں سے ہر ایک ۔ یجری۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ جری مصدر (باب ضرب) چل رہا ہے۔ الی اجل مسمی۔ ایک مقررہ وقت تک۔ الی وقت معلوم۔ اس وقت تک جو اس ذات کو معلوم ہے۔ وان اللہ بما تعملون خبیر۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب عملوں کی پوری طرح خبر رکھتا ہے۔ اس جملہ کا عطف وان اللہ ۔۔ القمر پر ہے۔ یعنی اور کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب عملوں کی پوری خبر رکھتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کا کمال بیان کرنے کے بعد اب حشر کے استبعاد کو باطل فرمایا (کبیر) یعنی اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کو کلمہ کن سے موجود کردیتا ہے۔ پھر تمہارا اعادہ اس کے لئے کیا مشکل ہے۔ (دیکھیے یسین :82)8 یعنی جب وہ اپنے سمع، بصر سے تمہارے تمام اقوال و افعال کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو دوبارہ زندہ کرنا، اس کے لئے کیا مشکل ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ پس جو لوگ باوجود ان دلائل کے بعث کا انکار کر رہے ہیں اور اس جرات پر فسق و فجور کرتے ہیں، ان سب کو سن رہا ہے دیکھ رہا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس اللہ نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ وہی پوری کی پوری کائنات کا مالک اور بادشاہ ہے اس کی تعریفات ختم ہونے والی نہیں وہی دوبارہ پیدا کرنے اور مارنے والا ہے۔ قرآن مجید نے تخلیق انسان کا بڑی تفصیل کے ساتھ تذکرہ کیا اور بتایا ہے کہ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا فرما کر پھر بیشمار مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔ “ [ النساء : ١] کفار کا سوال تھا کہ انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے تو پھر اسے کس طرح پیدا کیا جاسکتا ہے قرآن مجید نے اس کے کئی جواب دئیے ہیں یہاں یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام انسانوں کو پیدا کرنا اور ان کی موت کے بعد اٹھانا ایک انسان کو پیدا کرنے اور اس کو اٹھانے کی طرح ہے کیونکہ وہ کسی کام کے لیے صرف ” کُنْ “ کہتا ہے اور وہ کام بالکل اس کے حکم کے مطابق ہوجاتا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام لوگوں کو پیدا کرنا ایک انسان کے پیدا کرنے کے برابر ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن موت کے بعد جی اٹھنے کے ثبوت : ١۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے مقتول کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : ٧٣) ٢۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : ٢٥٩) ٣۔ چار پرندوں کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : ٢٦٠) ٤۔ اصحاب کہف کو تین سو سال کے بعد اٹھایا۔ (الکہف : ٢٥) ٥۔ مزید حوالوں کے لیے دیکھیں : (البقرۃ : ٢٤٣) (الاعراف : ١٥٥) (المائدۃ : ١١٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا (مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ) (تمہارا پہلی بار پیدا کرنا اور موت دے کر دوبارہ زندہ فرمانا یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک جان کو پیدا کرنا) یعنی سارے انسانوں کو دوبارہ زندہ فرمانا اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے، جس نے کثیر تعداد میں جانیں پیدا فرما دیں وہی دوبارہ ان سب کو زندہ اٹھا دے گا، ابتداً پیدا کرنا اور ایک جان کو پیدا کرنا اور بہت بھاری تعداد میں جانوں کا پیدا کرنا اور ان سب کو موت دے کر دوبارہ زندہ فرمانا اس قادر مطلق کے لیے یکساں ہے، لہٰذا بعث کا انکار کرکے اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ (اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ) (بےشک اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے) جو لوگ اہل ایمان ہیں وہ ان کے اقوال کو سنتا ہے اور اعمال کو دیکھتا ہے اور جو لوگ کافر و منکر ہیں وہ ان کے اقوال و اعمال سے بھی باخبر ہے وہ ہر ایک کو اس کے عقیدہ اور قول کے مطابق جزا اور سزا دے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

27:۔ ما خلقکم الخ، یہ تخویف اخروی ہے۔ تم سب کو پہلے پیدا کرنا اور پھر دوبارہ پیدا کرنا اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ ساری مخلوق کی پیدائش یا بعث اور ایک جان کی پیدائش یا بعث اللہ کے لیے یکساں ہے اس لیے وہ ضرور سب کو دوبارہ پیدا کرے گا اور ہرا یک کو اس کے اعمال کی جزاء سزا دے گا۔ ان اللہ سمیع بصیر یہ ما قبل کے لیے علت ہے یعنی جس طرح وہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے اسی طرح اس کی قدرت کاملہ ہر کام پر حاوی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

28۔ تم سب کا ابتدائی پیدا کرنا اور مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اور زندہ کرنا بس ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کا پیدا کرنا اور مرنے کے بعد جلانا یقینا اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ سب کا زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک آدمی کو پیدا کرنا اور ایک آدمی کو مرنے کے بعد زندہ کرلینا نہ سب کو پیدا کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے میں کچھ تعب اور نہ ایک کو پیدا کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے میں کوئی آسانی اور سہولت ! حضرت حق کے ارادے کا جہاں تعلق ہوا اور چیز موجود ہوئی ہر ایک کی سنتا اور ہر ایک کو دیکھتا ہے۔