Surat Luqman

Surah: 31

Verse: 30

سورة لقمان

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الۡبَاطِلُ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿۳۰﴾٪  12

That is because Allah is the Truth, and that what they call upon other than Him is falsehood, and because Allah is the Most High, the Grand.

یہ سب ( انتظامات ) اس وجہ سے ہیں کہ اللہ تعالٰی حق ہے اور اس کے سوا جن جن کو لوگ پکارتے ہیں سب باطل ہیں اور یقیناً اللہ تعالٰی بہت بلندیوں والا اور بڑی شان والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الْبَاطِلُ ... That is because Allah, He is the Truth, and that which they invoke besides Him is falsehood; means, He shows you His Signs so that you may know from them that He is the Truth, i.e., He truly exists and is truly divine, and that all else besides Him is falsehood. He has no need of anything else, but everything else is dependent on Him, because everything in heaven and on earth is created by Him and is enslaved by Him; none of them could move even an atom's weight except with His permission. If all the people of heaven and earth were to come together to create a fly, they would not be able to do so. Allah says: ... وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ and that Allah, He is the Most High, the Most Great. meaning, He is the Most High and there is none higher than Him, and He is the Most Great Who is greater than everything. Everything is subjugated and insignificant in comparison to Him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

301یعنی یہ انتظامات یا نشانیاں، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ظاہر کرتا ہے تاکہ تم سمجھ لو کہ کائنات کا نظام چلانے والا صرف ایک اللہ ہے، جس کے حکم اور مشیت سے سب کچھ ہو رہا ہے، اور اس کے سوا سب باطل ہے یعنی کسی کے پاس کوئی بھی اختیار نہیں ہے بلکہ اس کے محتاج ہیں کیونکہ سب اس کی مخلوق اور اس کے ماتحت ہیں، ان میں سے کوئی بھی ایک ذرے کو بھی ہلانے کی قدرت نہیں رکھتا ہے (ابن کثیر) 302اس سے برتر شان والا کوئی ہے نہ اس سے بڑا کوئی۔ اس کی عظمت شان، علوم مرتبہ اور بڑائی کے سامنے ہر چیز حقیر اور پست ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٠] یعنی اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کی دلیل تو یہ ہے کہ اس نے رات اور دن کا نظام قائم کیا اور یہ نظام اس قدر پیچیدہ ہے جس کے مطالعہ سے از خود یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایسا نظام کوئی کمال درجے کی مقتدر اور حکیم ہستی ہی قائم کرسکتی ہے اور سورج اور چاند بھی اسی نظام کا ایک حصہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ کے سوا جن چیزوں کو لوگوں نے معبود بنا رکھا ہے اور انھیں پکارتے ہیں۔ انہوں نے کیا بنایا ہے کہ انھیں بھی الوہیت کا مستحق اور حصہ دار بنایا جائے ؟ اور اس کا جواب نفی میں ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ معبود سراسر باطل ہیں۔ [ ٤١] یعنی کائنات کی ہر چیز سے اس کی شان بھی بلند اور بڑائی میں بھی کائنات کی ہر چیز سے بڑا ہے اور ان دونوں صفات کا مجموعہ تم استوطی علی العرش میں پایا جاتا ہے۔ اس میں ایک لطیف اشارہ یہ بھی پایا جاتا ہے اللہ کی ان صفات کے مقابلہ میں بندہ میں انتہائی پستی اور تذلیل (یہی دراصل عبادت کا معنی ہے) اللہ ہی کے لئے ہونا چاہئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ : یعنی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس لیے بیان فرمایا ہے کہ تم جان لو کہ وہی حق ہے جو حقیقی فاعل و مختار ہے، کیونکہ وہ ازلی و ابدی ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اپنے وجود میں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ : اور اس کے سوا مشرک جس کی بھی عبادت کرتے ہیں سب باطل ہیں، ان کا کہیں وجود ہی نہیں۔ یہاں نہ کوئی لات ہے، نہ منات، نہ داتا، نہ دستگیر، نہ گنج بخش، نہ غریب نواز۔ سب ان مشرکوں کے خیال اور وہم کی تخلیق ہیں اور انھوں نے اپنے پاس سے فرض کرلیا ہے کہ فلاں صاحب خدائی میں کوئی دخل رکھتے ہیں اور انھیں مشکل کشائی اور حاجت روائی کے اختیارات حاصل ہیں، حالانکہ فی الواقع ان میں سے کوئی بھی نہ خدائی اختیارات کا مالک ہے، نہ کسی کو پکارنا اور اس سے فریاد کرنا حق ہے۔ دیکھیے سورة یونس (٦٦) اور سورة نجم (١٩ تا ٢٣) ۔ 3 ان آیات میں دہریوں کا بھی رد ہے جو اس کائنات کو ازلی اور ابدی سمجھتے ہیں اور مشرکوں کا بھی جو فانی چیزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں۔ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ : یعنی کائنات کی ہر چیز سے اس کی شان بلند ہے اور بڑائی میں بھی وہ کائنات کی ہر چیز سے بڑا ہے۔ ان دونوں صفات کا مجموعہ ” ثم استوی علی العرش “ میں پایا جاتا ہے۔ اس میں ایک واضح اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ بلندی اور بڑائی جب اللہ ہی کی شان ہے تو اس کے مقابلے میں ساری مخلوق پست، عاجز اور حقیر ہے، جس کے مفہوم کو لفظ ” عبد “ ادا کرتا ہے، فرمایا : (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) [ مریم : ٩٣ ] ” آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔ “ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ اس علی و کبیر کے اختیارات اس کی پیدا کردہ ہستیوں کے لیے سمجھ لیے جائیں جو اس کے عباد اور اس کے سامنے بالکل پست، عاجز اور حقیر ہیں ! ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ ہُوَالْحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُ۝ ٠ ۙ وَاَنَّ اللہَ ہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝ ٣٠ ۧ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ بطل البَاطِل : نقیض الحق، وهو ما لا ثبات له عند الفحص عنه، قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] ( ب ط ل ) الباطل یہ حق کا بالمقابل ہے اور تحقیق کے بعد جس چیز میں ثبات اور پائیداری نظر نہ آئے اسے باطل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں سے : ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا کے پکارتے ہیں وہ لغو ہیں ۔ علي العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعَليُّ : هو الرّفيع القدر من : عَلِيَ ، وإذا وصف اللہ تعالیٰ به في قوله : أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ [ الحج/ 62] ، إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيًّا كَبِيراً [ النساء/ 34] ، فمعناه : يعلو أن يحيط به وصف الواصفین بل علم العارفین . وعلی ذلك يقال : تَعَالَى، نحو : تَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ النمل/ 63] ( ع ل و ) العلو العلی کے معنی بلند اور بر تر کے ہیں یہ علی ( مکسر اللام سے مشتق ہے جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت واقع ہو جیسے : ۔ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ [ الحج/ 62] إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيًّا كَبِيراً [ النساء/ 34] تو اس کے معنی ہوتے ہیں وہ ذات اس سے بلند وبالا تر ہے کوئی شخص اس کا وصف بیان کرسکے بلکہ عارفین کا علم بھی وہاں تک نہیں پہچ سکتا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور یہ قدرت کا اظہار اس لیے کیا تاکہ تم جان جاؤ کہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت برحق ہے اور جن چیزوں کی یہ لوگ اللہ کے علاوہ عبادت کر رہے ہیں وہ بالکل بیہودہ اور جھوٹی ہیں اور اللہ ہی عالی شان اور سب سے بڑا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ (ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُلا) ” لغوی اعتبار سے ہر وہ چیز ” باطل “ ہے جو اگرچہ نظر تو آرہی ہو مگر اس کا وجود حقیقی نہ ہو۔ جیسے ” سراب “ کہ دور سے دیکھنے پر پانی نظر آتا ہے مگر اصل میں وہ پانی نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے سوا جس کسی کو بھی کوئی معبود سمجھ کر پکارتا ہے وہ محض دھوکہ اور سراب ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

52 That is, the real Sovereign is Allah. He alone is the real Owner of power and authority over the creation and its disposal. 53 That is, "They are figments of your own imagination. You have yourselves presumed that so-and-so has got a share in Godhead, and so-and-so has been given the powers to remove hardships and fulfil needs, whereas in fact none of them has any power to make or un-make anything." 54 That is, 'He is the Highest of aII before Whom everything is low, and He is the Greatest of aII before Whom everything is small".

سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :52 یعنی حقیقی فاعل مختار ہے ، خلق و تدبیر کے اختیارات کا اصل مالک ہے ۔ سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :53 یعنی وہ سب محض تمہارے تخیلات کے آفریدہ خدا ہیں ۔ تم نے فرض کر لیا ہے کہ فلاں صاحب خدائی میں کوئی دخل رکھتے ہیں اور فلاں حضرت کو مشکل کشائی و حاجت روائی کے اختیارات حاصل ہیں ۔ حالانکہ فی الواقع ان میں سے کوئی صاحب بھی کچھ نہیں بنا سکتے ۔ سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :54 یعنی ہر چیز سے بالا تر جس کے سامنے سب پست ہیں ، اور ہر چیز سے بزرگ جس کے سامنے سب چھوٹے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(31:30) ذلک۔ مندرجہ بالا صفات یعنی دن اور رات کا سلسلہ ۔ چاند اور سورج کی اپنے اپنے متعین مدار میں گردش۔ بان اللہ۔ یہ مظاہر اسی سبب سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات برحق ہے۔ بالفاظ صاحب تفسیر ماجدی۔ واضب الوجود صرف اسی کی ذات ۔ وجود حقیقی صرف اسی ذات کا صفات علو و کبر یائی سے متصف صرف وہی ۔ معبودیت والوہیت کا مستحق صرف وہی۔ العلی : علو سے مشتق ہے العلو کسی چیز کے بلند ترین حصہ کو کہتے ہیں یہ سفل کی ضد ہے۔ علا یعلو علو (باب نصر) بلند ہونا۔ عالی (صفت فاعلی) بلند۔ علا (فعل) کا استعمال زیادہ تر کسی جگہ کے یا جسم کے بلند ہونے پر ہوتا ہے۔ مثلاً عالیہم ثیاب سندس (76:21) ان کے بدنوں پر دیبا کے کپڑے ہوں گے۔ یا یہ عموما مذموم معنوں میں آیا ہے۔ مثلاً ان فرعون علا فی الارض (28:4) فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔ لیکن علی یعلی علاء (باب سمع) سے مستحسن معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ العلی۔ علی یعلی سے مشتق ہے اور فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بلند مرتبت۔ رفیع القدر۔ جب یہ اللہ تعالیٰ کی صفت واقع ہو تو اس باب سے آتا ہے۔ العلی اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں سے ہے۔ الکبیر۔ کبر یکبر (کرم) سے فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بہت بڑا ۔ بڑے بلند مرتبے والا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی سے ہے۔ یہ واحد ہے اس کی جمع کبائر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی انہوں نے اپنی خام خیالی اور وہم پرستی سے انہیں معبود بنا لیا ہے حالانکہ وہ معبود نہیں ہیں۔ 11 سب اس کے مقابلے میں پست و حقیر اور اس کے تابع فرمان ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ اس لئے یہ سب تصرفات اس کے ساتھ مختص ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

(فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ ) [ یونس : ٣٢] ” سو اللہ ہی تمہارا سچا رب ہے۔ پھر سچ کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے ؟ بس تم کہاں پھیرے جاتے ہو۔ “ مسائل ١۔ ” اللہ “ ہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا اور نکالتا ہے۔ ٢۔ ” اللہ “ ہی نے سورج اور چاند کو پیدا کیا اور وہی انہیں مقررہ وقت پر چلائے جا رہا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے سوا باقی تمام معبود باطل ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک سے بلندوبالا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن مشرک جن معبودوں کو پکارتے ہیں ان کی حقیقت : ١۔ کیا تم ایسے لوگوں کو معبود مانتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الرعد : ١٦) ٢۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں ؟ (المائدۃ : ٧٦) ٣۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نقصان میں مبتلا کرے تو کون تمہیں بچائے گا۔ (الفتح : ١١) ٤۔ معبودان باطل اپنی جانوں کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الفرقان : ٣) ٥۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے نفع و نقصان کے مالک نہیں ؟ (المائدۃ : ٨٦) ٦۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (الاعراف : ١٩٧) ٧۔ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ (الحج : ٧٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ ) (الآیۃ) یہ اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اس کا وجود حقیقی ہے اور اس کا معبود ہونا بھی برحق ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرنا لازم ہے (وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُ ) (اور مشرک لوگ جو اس کے علاوہ دوسروں کی عبادت کر رہے ہیں وہ باطل ہیں، نہ وہ معبود ہیں نہ معبود ہونے کے قابل ہیں) (وَ اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ ) (اور بلاشبہ اللہ عالیشان ہے اور بڑا ہے) کوئی اس کے برابر و ہمسر نہیں لہٰذا اس کے علاوہ کوئی بھی مستحق عبادت نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

ٖف 29:۔ ذلک الخ، یہ دلائل مذکورہ کا تفصیلی ثمرہ ہے۔ بان کا متعلق محذوف ہے ای ذلک البیان بالا۔۔۔ لتستیقنوا بان اللہ الخ۔ یہ تمام دلائل واضحہ اس لیے ذکر کیے گئے ہیں تاکہ تمہیں یقین ہوجائے کہ معبود برحق اور حاجات میں غائبانہ پکارے جان کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اللہ کے سوا مشرکین جن معبودوں کو پکارتے ہیں ان کی عبادت اور پکار باطل ہے اور وہ پکار کے لائق نہیں ہیں اللہ تعالیٰ جو اپنی صفات میں برتر اور ذات میں سب سے بڑا ہے وہی عبادت کے لائق ہے یعنی ذلک الذی ھو قادر علی ھذہ الاشیاء التی ذکرت ھو الحق المستحق للعبادۃ (و ان ما یدعون من دونہ الباطل) یعنی لا یستحق العبادۃ (وان اللہ ھو العلی) یعنی فی صفاتہ لہ الصفات العلیا والاسماء الحسنی (الکبیر) فی ذاتہ لانہ اکبر من کل کبیر (خازن ج 5 ص 182) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30۔ عالم علوی کے یہ سب تصرفات اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ثابت اور حق ہے اور جن چیزوں کی یہ مشرک عبادت کرتے ہیں اور جن کو پکارتے ہیں وہ سراسر باطل اور لچر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے عالی شان اور سب سے بڑا ہے۔ یعنی وہی حق اور واجب الوجود ہے اور جن چیزوں کی اس کی الوہیت میں شریک کیا جا رہا ہے وہ سراسر پوچ اور لچر ہیں اور ان تمام تصرفات میں اسکا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی سب سے بلند اور بڑا ہے آگے اور اس کی توحید اور اس کی قدرت کی نشانیاں مذکور ہیں۔