سورة السَّجْدَة نام : آیت ۱۵ میں سجدہ کا جو مضمون آیا ہے اسی کو سورہ کا عنوان قرار دیا گیا ہے ۔ زمانۂ نزول : انداز بیاں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا زمانۂ نزول مکہ کا دور متوسط ہے ، اور اس کا بھی ابتدائی زمانہ ، کیونکہ اس کلام کے پس منظر میں ظلم و ستم کی وہ شدت نظر نہیں آتی جو بعد کے ادوار کی سورتوں کے پیچھے نظر آتی ہے ۔ موضوع اور مباحث : سورہ کا موضوع توحید آخرت اور رسالت کے متعلق لوگوں کے شبہات کو رفع کرنا اور ان تینوں حقیقتوں پر ایمان کی دعوت دینا ہے ۔ کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آپس میں چرچے کر رہے تھے کہ یہ شخص عجیب عجیب باتیں گھڑ گھڑ کر سنا رہا ہے ۔ کبھی مرنے کے بعد کی خبریں دیتا ہے اور کہتا ہے مٹی میں رل مل جانے کے بعد تم پھر اٹھائے جاؤ گے اور حساب کتاب ہوگا اور دوزخ ہوگی اور جنت ہوگی کبھی کہتا ہے کہ یہ دیوی دیوتا اور بزرگ کوئی چیز نہیں ہیں ، بس اکیلا ایک خدا ہی معبود ہے ۔ کبھی کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں ، آسمان سے مجھ پر وحی آتی ہے اور یہ کلام جو میں تم کو سنا رہا ہوں ، میرا کلام نہیں بلکہ خدا کا کلام ہے ۔ یہ عجیب افسانے ہیں جو یہ شخص ہمیں سنا رہا ہے ۔ ۔ انہی باتوں کا جواب اس سورہ کا موضوع بحث ہے ۔ اس جواب میں کفار سے کہا گیا ہے کہ بلا شک و ریب یہ خدا ہی کا کلام ہے اور اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ نبوت کے فیض سے محروم ، غفلت میں پڑی ہوئی ایک قوم کو چونکایا جائے ۔ اسے تم افتراء کیسے کہہ سکتے ہو جبکہ اس کا منزَّل من اللہ ہونا ظاہر و باہر ہے ۔ پھر ان سے فرمایا گیا ہے کہ یہ قرآن جن حقیقتوں کو تمہارے سامنے پیش کرتا ہے ، عقل سے کام لے کر خود سوچو کہ ان میں کیا چیز اچنبھے کی ہے ۔ آسمان و زمین کے انتظام کو دیکھو ، خود اپنی پیدائش اور بناوٹ پر غور کرو ، کیا یہ سب کچھ اس تعلیم کی صداقت پر شاہد نہیں ہے اور اس نبی کی زبان سے اس قرآن میں تم کو دی جا رہی ہے ؟ یہ نظام کائنات توحید پر دلالت کر رہا ہے یا شرک پر؟ اور اس سارے نظام کو دیکھ کر اور خود اپنی پیدائش پر نگاہ ڈال کر کیا تمہاری عقل یہی گواہی دیتی ہے کہ جس نے اب تمہیں پیدا کر رکھا ہے وہ پھر تمہیں پیدا نہ کر سکے گا ؟ پھر عالم آخرت کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور ایمان کے ثمرات اور کفر کے نتائج و عواقب بیان کر کے یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ لوگ برا انجام سامنے آنے سے پہلے کفر چھوڑ دیں اور قرآن کی اس تعلیم کو قبول کرلیں جسے مان کر خود ان کی اپنی ہی عاقبت درست ہو گی ۔ پھر ان کو بتایا گیا ہے کہ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ وہ انسان کے قصوروں پر یکایک آخری اور فیصلہ کن عذاب میں اسے نہیں پکڑ لیتا بلکہ اس سے پہلے چھوٹی چھوٹی تکلیفیں مصیبتیں ، آفات اور نقصانات بھیجتا رہتا ہے ۔ ہلکی ہلکی چوٹیں لگاتا رہتا ہے ، تاکہ اسے تنبیہ ہو اور اس کی آنکھیں کھل جائیں ۔ آدمی اگر ان ابتدائی چوٹوں ہی سے ہوش میں آ جائے تو اس کے حق میں بہتر ہے ۔ پھر فرمایا کہ دنیا میں یہ کوئی پہلا اور انوکھا واقعہ تو نہیں ہے کہ ایک شخص پر خدا کی طرف سے کتاب آئی ہو ۔ اس سے پہلے آخر موسیٰ ( علیہ السلام ) پر بھی کتاب آئی تھی جسے تم سب لو گ جانتے ہو ۔ یہ آخر کونسی ایسی بات ہے کہ اس پر تم لوگ یوں کان کھڑے کر رہے ہو یقین مانو کہ یہ کتاب خدا ہی کی طرف سے آئی ہے اور خوب سمجھ لو کہ اب پھر وہی کچھ ہوگا جو موسیٰ کے عہد میں ہو چکا ہے ۔ امامت و پیشوائی اب انہی کو نصیب ہو گی جو اس کتاب الہٰی کو مان لیں گے ۔ اسے رد کر دینے والوں کے لیے ناکامی مقدر ہو چکی ہے ۔ پھر کفار مکہ سے کہا گیا ہے کہ اپنے تجارتی سفروں کے دوران میں تم جن پچھلی تباہ شدہ قوموں کی بستیوں پر سے گزرتے ہو ان کا انجام دیکھ لو ، کیا یہی انجام تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟ ظاہر سے دھوکہ نہ کھاؤ ۔ آج تم دیکھ رہے ہو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بات چند لڑکوں اور چند غلاموں اور غریب لوگوں کے سوا کوئی نہیں سن رہا ہے اور ہر طرف سے ان پر طعن اور ملامت اور پھبتیوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ اس سے تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ یہ چلنے والی بات نہیں ہے ، چار دن چلے گی اور پھر ختم ہو جائے گی ۔ لیکن یہ تمہاری نظر کا دھوکا ہے ، کیا یہ تمہارا رات دن کا مشاہدہ نہیں ہے کہ آج ایک زمین بالکل بے آب و گیاہ پڑی ہے جسے دیکھ کر گمان تک نہیں ہو تا کہ اس کے پیٹ میں روئیدگی کے خزانے چھپے ہوئے ہیں ، مگر کل ایک ہی بارش میں وہ اس طرح بھبک اٹھتی ہے کہ اس کے چپے چپے سے جو کی طاقتیں پھوٹنی شروع ہو جاتی ہیں ۔ خاتمۂ کلام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ تمہاری باتیں سن کر مذاق اڑاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ حضرت ، یہ فیصلہ کن فتح آپ کو کب نصیب ہونے والی ہے ، ذرا تاریخ تو ارشاد ہو ۔ ان سے کہو کہ جب ہمارے اور تمہارے فیصلے کا وقت آ جائے گا اس وقت ماننا تمہارے لیے کچھ بھی مفید نہ ہو گا ۔ ماننا ہے تو اب مان لو ، اور آخری فیصلے ہی کا انتظار کرنا ہے تو بیٹھے انتظار کرتے رہو ۔
تعارف سورۃ السجدۃ اس سورت کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد، یعنی توحید، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور آخرت کا اثبات ہے، نیز جو کفار عرب ان عقائد کی مخالفت کرتے تھے، اس سورت میں ان کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے، اور ان کا انجام بھی بتایا گیا ہے، چونکہ اس سورت کی آیت نمبر : ١٥، سجدے کی آیت ہے، یعنی جو شخص بھی اس کی تلاوت کرے یا سنے اس پر سجدہ ٔ تلاوت واجب ہے، اس لئے اس کا نام تنزیل السجدہ یا الم سجدہ یا صرف سورۂ سجدہ رکھا گیا ہے، صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن نماز فجر کی پہلی رکعت میں بکثرت یہ سورت پڑھا کرتے تھے، اور مسند احمد (٣: ٣٤) کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ رات کو سونے سے پہلے دو سورتوں کی تلاوت ضرور فرماتے تھے، ایک سورۂ تنزیل السجدہ اور دوسری سورۂ ملک۔
( سورة نمبر ٣٢۔ کل رکوع ٣۔ آیات ٣٠۔ الفاظ و کلمات ٢٧٤۔ حروف ١٥٧٧۔ مقام نزول مکہ مکرمہ) ( سورة سجدہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس میں توحید و رسالت ۔ قیامت، آخرت، جزائ، سزا، جنت اور جہنم کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس سورة میں درحقیقت اس بات کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے کہ اب قیامت تک دوسرا کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جن کی فرمانبرداری اور مکمل اطاعت ہی میں دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کے راز پوشیدہ ہیں۔ ) مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اللہ کو ایک ماننے، اس کی فرمانبرداری کرنے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو مان کر ان کی اطاعت کرنے اور آخرت پر یقین رکھنے کی دعوت دی گئی ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن مجید کو اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے جس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ نزول قرآن کا بنیادی مقصد بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ عرب کے لوگ جو صدیوں سے کسی بھی نبی کی آمد سے محروم تھے ان کے لیے اللہ نے اپنی رحمت بنا کر حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بھیجا ہے۔ یہ قرآن اللہ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے واسطے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے لہٰذا کفارو مشرکین کا یہ کہنا کہ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود گھڑ کر اس کو اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے اس سے زیادہ لغو، فضول اور بےہودہ بات کوئی دوسری نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ کفار کی ان باتوں سے قطعاً رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ جو لوگ آج قرآن کریم اور اس کی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں مرنے کے بعد جب یہ لوگ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تہ ندامت اور شرمنگی سے اپنے سروں کو جھکائے کھڑے ہوں گے اور کہہ اٹھیں گے کہ الہٰی ! ہم اپنی حرکتوں پر شرمندہ ہیں اور یہ سب کچھ دیکھنے اور سننے کے بعد ہماری آنکھیں کھل گئی ہیں اگر ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کی اجازت دے دی جائے تو ہم ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کریں گے مگر ان کو اس وقت بہت ہی مایوسی ہوگی جب ان سے کہا جائے گا کہ اب نتیجہ کا وقت ہے لہٰذا دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تو کفارو مشرکین اور دین کا مذاق اڑانے والوں کا انجام ہوگا دوسری طرف اہل ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کی نازل کی ہوئی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو اس سے ان میں خشوع و خضوع، عاجزی اور انکساری پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اپنے اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے سجدوں میں گر پڑتے ہیں، وہ راتوں کو اپنے آرام اور سکون والے بستروں کو چھوڑ کر اللہ کے حضور کھڑے ہوتے اور اس کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے جنت کی ابدی اور ہمیشہ رہنے والی راحت بھری جنتوں کی کوش خبری سنائی ہے جو آخرت میں ہر طرح کامیاب و بامراد ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ سے پہلے ہدایت دینے والا نہیں آیا۔ “ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ عرب سے باہر دوسرے علاقوں میں آنے والے انبیاء کرام کی تعلیمات تو ان تک پہنچی تھیں لیکن انہوں نے ان کی تعلیمات کو بھلا دیا تھا اور صدیوں سے ان کے پاس براہ راست کوئی نبی اور رسول ان کی ہدایت کے لیے نہیں آیا تھا۔ تاریخی اعتبار سے جزیرۃ العرب میں سب سے پہلے حضرت ہود (علیہ السلام) ، اور حضرت صالح (علیہ السلام) دین حق لے کر آئے تھے۔ پھر ان کے بعد حضرت ابرہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) دین کی سچائیوں کے ساتھ تشریف لائے جس پر ڈھائی ہزارسال کا عرصہ گذرچکا تھا۔ تقریباً دو ہزار سال پہلے حضرت شعیب (علیہ السلام) دین مبین کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ دوڈھائی ہزارسال کا عرصہ طویل عرصہ ہے جس کے دوران حجاز والوں کی ہدایت کے لیے کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صدیوں کے بعداہل عرب کی ہدایت و رہنمائی کے لیے مبعوث فرمائے گئے ہیں جن کے بعد کسی نئے نبی اور رسول کا کوئی تصور تک موجود نہیں ہے۔ لہٰذا اہل عرب کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری کر کے اپنی نجات کا سامان کرلیں اگر انہوں نے اس موقع کو ضائع کردیا تو پھر قیامت تک وہ راہ ہدایت حاصل نہ کرسکیں گے۔ اس سورة کے آخر تک اللہ تعالیٰ نے تو حید و رسالت، آخرت، قیامت، جزاء و سزا، جنت و جہنم کا ذکر فرمایا ہے۔ بتایا ہے کہ اسی نے اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور خود انسان کے اپنے وجود کا پیدا کیا ہے جو اس بات پر گواہ ہے کہ سب کا خالق ومالک صرف ایک اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ وہ جب تک چاہے گا یہ دنیا اور اس کے بسنے والے انسان رہیں گے اور جب وہ چاہے گا ان سب چیزوں کو فنا کر کے ایک نیا جہاں تعمیر فرمائے گا۔ اس دنیا میں نہ کوئی ہمیشہ رہا ہے اور نہ رہے گا۔ موت کے دروازے سے سب کا گذرنا ہوگا۔ جس نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا اور ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرلی تو وہ ہمیشہ جنت کی راحتوں میں رہے گا۔ لیکن جس نے اس عمل کے وقت کو غفلت اور سستی میں گزار دیا تو پھر آخرت میں اس کی یہ حسرت کام نہ آئے گی کہ اگر اس کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہ ایمان اور عمل صالح کی زندگی گذارے گا۔ فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرح اس پیغام حق کو لے کر تشریف لائے ہیں وہ کوئی ایسی انوکھی یا نئی بات نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے انبیاء کرام اور خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے نبیوں کی اطاعت و فرمانبرداری کی وہی کامیاب ہوئے لیکن جو ہٹ دھرمی اور ضد پر جمے رہے اور انہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات کو ماننے سے انکار کیا وہ نا کام و نامراد ہوئے اور ان کے کھنڈرات جن سے دن رات یہ لوگ گذرتے ہیں اس بات پر گواہ ہیں کہ اللہ کی نافرمان قوموں کا انجام بڑا بھیانک ہوا کرتا ہے۔ فرمایا کہ یہ نظام کائنات جو تمہاری نظروں کے سامنے ہے خود بخود بن کر کھڑا نہیں ہوگیا بلکہ اللہ نے ایک خاص حکمت سے اس کو پیدا کیا۔ انسان کو وجود بخشا اور ساری کائنات کو اس کی خدمت پر لگا دیا۔ زندگی اور موت سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ لہٰذا اس کے لیے یہ ہرگز مشکل نہیں ہے کہ وہ اس پوری کائنات کے ختم ہوجانے کے بعد اس کو دوبارہ پیدا نہ کرسکے۔ فرمایا کہ آخرت کی زندگی کے لیے ہر ایک کو مسلسل جدوجہد کرنا چاہیے کیونکہ مرنے کے بعد سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں کسی کے ساتھ بےانصافی نہیں کی جائے گی بلکہ ہر ایک کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا جائے گا۔ آخر میں فرمایا کہ یہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ لوگوں کے گناہوں کی کثرت اور شدت کے باوجود ان کو ایک دم اور اسی وقت سزا نہیں دیتا بلکہ ہر انسان کو سنبھلنے سدھرنے کے لیے موقع اور مہلت عطا کرتا ہے۔ لیکن جب اس کی ڈھیل اور مہلت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا تا اور وہ گناہوں پر جری ہوجاتا ہے تو پھر اللہ کا قانون متوجہ ہوتا ہے اور اللہ اس کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جس سے بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔
سورة السجدہ۔ 32 آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 30 سورة سجدہ ایک نظر میں یہ ایک مکی سورة ہے اور یہ اس عظیم عقیدہ توحید اور نظریہ حیات کو قلب انسانی میں بٹھانے اور فطرت انسانی کے قریب تر کرنے کے لیے بہترین انداز خطاب کا ، ایک دوسرا نمونہ ہے۔ یہ عظیم عقیدہ کیا ہے ؟ یہ کہ اللہ ایک ہے اور بےنیاز ہے۔ نظام زندگی اسی کا ہوگا اور وہی اس کائنات کا خالق ہے۔ وہی آسمانوں اور زمینوں کا مدبر ہے۔ اور اس کائنات کے اندر پائے جانے والی تمام مخلوقات جس کا علم صرف اللہ وحدہ کو ہے وہ سب اس اللہ ہی کے کنڑول میں ہے۔ یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ ان پر یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور یہ پوری انسانیت کی ہدایت کے لیے ہے۔ لوگوں کو ایک دن دوبارہ اٹھایا جانا ہے اور وہ قیامت کا دن ہوگا اور جزاء و سزا ہوگی۔ یہ ہے وہ نظریہ حیات جسے یہ سورة ذہن نشین کراتی ہے اور تمام مکی سورتیں اسی نظریہ اور عقیدہ کی دعوت دیتی ہیں۔ ہر سورة کا اپنا اسلوب ہوتا ہے ، اپنے دلائل ہوتے ہیں اور یہ سورتیں قلب انسانی سے مکالمہ کرتی ہیں اور ان میں خطاب اللہ علیم وبصیر کی طرف سے ہوتا ہے۔ اللہ انسانی دلوں کے پوشیدہ رازوں اور خفیہ باتوں سے بھی واقف ہے اور وہ انسانی شخصیت کے نشیب و فراز کو اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ اس کی ساخت اور تخلیق سے بھی اچھی طرح واقف ہے ، اس کے اندر جو جذبات ، خواہشات اور تقاضے ہیں ، ان سے بھی واقف ہے اور مختلف حالات اور مختلف مقامات پر اس کے جو تقاضے ہوتے ہیں ان سے بھی واقف ہے۔ سورة سجدہ کا موضوع وہی ہے جو سورة فرقان کا تھا۔ مگر اس کا انداز سورة فرمان سے بالکل مختلف ہے۔ ابتدائی آیات ہی اس نظریہ کو بیان کردیتی ہیں۔ اس کے بعد یہ سورة دل کو جگانے والے دلائل ، روح کو روشن کرنے والے براہین اور غوروفکر کو جگانے والے شواہد پیش کرتی ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم کہہ آئے ہیں کہ اس موضوع پر اس کائنات اور اس کے صفحات اور مناظر میں دلائل و شواہد موجود ہیں۔ خود انسان کی پیدائش میں اور اس کے مختلف حالات اور اطوار میں اور قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر پیش کرکے بھی اس موضوع کے شواہد دئیے جاتے ہیں۔ یہ مناظر ہاؤ ہو اور دوڑ دھوپ سے بھرپور ہوتے ہیں۔ پھر یہ شواہد گزشتہ زمانوں کی ہلاک شدہ قوموں کے آثار میں بھی موجود ہیں۔ لیکن صرف ان لوگوں کے لیے جو سنتے اور تدبر کرتے ہیں۔ اس سورة میں ایک سچے مومن کی تصویر کشی بھی کی گئی ہے کہ وہ کس طرح اللہ سے ڈرتا ہے اور کس طرح اس کی نظریں ہر وقت اللہ کی طرف اٹھی رہتی ہیں۔ اس میں ان نفسوں کی تصویر کشی بھی کی گئی ہے جو منکر ہیں اور انکار پر مصر ہیں۔ اس جزاء کی تصویر کشی بھی کی گئی ہے جو ان دونوں فریقوں کو ملنے والی ہے۔ یہ منظر اس طرح بیان ہوا ہے کہ گویا وہ واقعہ ہوگیا اور نظر آ رہا ہے اور ہر قاری قرآن اسے دیکھ رہا ہے۔ ان تمام مناظر اور مظاہر میں قلب مومن کو بیدار کرنے ، متحرک کرنے اور اسے غوروفکر پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کبھی استدلال ہے ، اور اس کے بعد قلب بشری کو ذرا آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ ان مظاہر ، مشاہد اور براہین کو پیش نظر رکھ کر جو چاہے ، رویہ اختیار کرے۔ اپنے نفس کے لیے جو منہاج چاہے ، اختیار کرے اور اچھی طرح سوچ سمجھ کر اور ہدایت اور ضلالت کو دیکھ پرکھ کر اپنے لیے کوئی راستہ اختیار کرے۔ سورة اس مسئلے کو چار یا پانچ حصوں میں بیان کرتی ہے۔ آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے۔ الف ، لام ، میم۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ سورة انہی حروف سے مرتب ہے اور اس کے من عند اللہ نزول میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ من رب العلمین (32: 2) ” یہ رب العالمین کی طرف سے ہے “۔ اور اس کے بعد نہایت ناخوشگواری سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اس کے باوجود یہ لوگ ایسے الزامات لگاتے ہیں۔ یہ محض افتراء ہیں۔ یہ تو حق ہے ان کے رب کی طرف سے تاکہ حضرت محمد اپنی قوم کو ڈرائیں۔ لعلھم یھتدون (32: 3) ” شاید کہ وہ ہدایت پائیں “۔ یہ مسئلہ اسلام کا پہلا ایشو ہے یہ کہ رسول اکرم ؐ اللہ کے پیغمبر ہیں اور ان پر وحی آتی ہے اور وہ یہ تبلیغ بحیثیت مامور من جانب اللہ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد اس کائنات میں اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کے مسئلے کو لیا جاتا ہے ، یوں کہ زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان پائے جانے والی تمام مخلوق کا خالق اللہ ہی ہے۔ اس پوری کائنات کو اللہ نے سنبھال رکھا ہے اور زمین و آسمان کی تدبیر اس کے ہاتھ میں ہے۔ آخرت میں بھی تمام لوگ اس کے آگے پیش ہونے والے ہیں۔ انسان کا پیدا کرنا اس کے مختلف طور طریقوں میں اس کی سرگرمیوں ، اسے سننے ، دیکھنے اور ادراک کی قوت دینا وغیرہ لیکن افسوس ہے کہ لوگ ان شواہد کو دیکھ کر بھی شکر بجا نہیں لاتے۔ یہ دوسرا مسئلہ ہے یعنی الوہیت حاکمیت اور اس کے خدوخال۔ صفت تخلیق ، صفت تدبیر کائنات ، صفت احسان ، صفت انعام ، صفت علم ، صفت رحمت۔ یہ سب صفات تخلیق اور تکوین کی آیات کے ضمن میں آتی ہیں۔ اس کے بعد مسئلہ حشرونشر پیش کیا جاتا ہے اور ان کے اس اشکال کا ذکر کیا جاتا ہے کہ جب ہم مرکر ذرات کی شکل اختیار کرلیں گے تو پھر کس طرح اٹھائے جائیں گے۔ وقالوآء اذا ۔۔۔۔ خلق جدید (32: 10) ” اور وہ کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں دل مل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے “۔ اس کے بعد تیسرا مسئلہ آتا ہے۔ خیر وشر اور آخری فیصلے کا مسئلہ ، اس کے لیے قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے۔ اذ المجرمون ناکسوا رئوسھم عند ربھم (32: 12) ” جب مجرم سرجھکائے رب کے ہاں کھڑے ہوں گے “۔ یہ اس وقت اپنے یقین بالآخرت کا اظہار کر رہے ہوں گے اس وقت یہ اس قرآن کی بھی تصدیق کر رہے ہوں گے۔ وہ ایسی باتیں کریں گے کہ اگر یہ باتیں وہ دنیا میں کرتے تو ان کے لیے اب جنت کے دروازے کھل جاتے۔ لیکن اے کاش کہ اب یہ یقین و اقرار ان کے لیے مفید نہ ہوگا۔ یہ منظر اس لیے پیش کیا گیا کہ ذرا وقت جانے سے پہلے ہی ان کی آنکھیں کھول دی جائیں اور وہ اس کلمے کا اقرار کرلیں جس کا وہ اس مصیبت کے وقت اقرار کریں گے۔ اب یہ لوگ اقرار کرلیں گے لیکن اب وقت نہیں۔ اس منظر کے ساتھ ہی مومنین کا منظر بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کو اللہ کی آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو خروا سجدا ۔۔۔۔۔۔ ومما رزقنھم ینفقون (32: 15 – 16) ” سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔ ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ بھی رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں “۔ یہ نہایت ہی صاف شفاف تصویر ہے اور اس کو دیکھ کر دل پھڑ پھڑاتے ہیں۔ اس تصویر کے ساتھ ساتھ وہ انعامات و اکرامات بھی بتا دئیے جاتے ہیں جو ان کے لئے منتظر ہیں۔ یہ اکرام ایسا ہے کہ انسان کے تصور سے بالا ہے اور یہ اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ لوگ جو اللہ سے ڈر کر خضوع و خشوع کرتے تھے ، اس انجام کے امیدوار تھے۔ فلما تعلم ۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (32: 17) ” پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزاء میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے “۔ اس کے بعد مومنین کے انجام کی ایک سرسری جھلک جنت میں اور فاسقین کی جزاء کی ایک سرسری جھلک جہنم میں دکھائی جاتی ہے۔ اور فاسقین کو یہ دھمکی بھی دے دی جاتی ہے کہ جہنم سے قبل اس جہان میں بھی تمہیں سزا دی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی طرف ایک مختصر اشارہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کے مقاصد ایک تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے بھی مومن تھے اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ماننے والے بھی مومن ہیں۔ انہوں نے بھی دعوت اسلامی کی راہ میں مشکلات اٹھائیں اور صبر کیا۔ اور ان کو جزاء یہ دی گئی کہ امت موسیٰ (علیہ السلام) نے دنیا کے لوگوں کی امامت کی۔ اشارہ اس طرح ہے کہ مسلمان تبھی مشکلات پر صبر کریں اور ان کے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں ان کو برداشت کریں کیونکہ انہوں نے بھی فرائض امامت ادا کرنے ہیں۔ اس کے بعد اقوام سابق کی ہلاکت کی طرف مختصر اشارات ہیں۔ اہل مکہ رات اور دن ان کھنڈرات سے گزرتے ہیں۔ پھر یہ بھی اشارہ کہ مردہ زمین کو اللہ کس طرح زندہ کرتا ہے اور کس طرح دنیا کی زندگی کی ترقی اور نشوونما ہوتی ہے۔ اور سورة کا خاتمہ ان کی اس بات پر ہوتا ہے۔ متی ھذا الفتح (32: 28) ” وہ کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا “۔ وہ تو یہ سوال اس لیے کرتے تھے کہ ان کو یقین نہ تھا۔ اس لیے جواب نہایت خوفناک دیا جاتا ہے ، نہایت تہدید آمیز۔ اور حضور سے کہا جاتا ہے کہ ان سے منہ پھیر لیں اور چھوڑ دیں انہیں کہ اپنے انجام ، طے شدہ انجام تک پہنچ جائیں۔ اب ہم تفصیلات کی طرف آتے ہیں۔