Surat Assajdah

Surah: 32

Verse: 1

سورة السجدة

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾

Alif, Lam, Meem.

ا لم

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Qur'an is the Book of Allah in which there is no Doubt Allah says; الم Alif Lam Mim. We discussed the individual letters at the beginning of Surah Al-Baqarah, and there is no need to repeat it here.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

سُوْرَۃُ السَّجْدَ ۃِ32سورة سجدہ مکی ہے اس میں تیس آیتیں اور تین رکوع ہیں

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الۗمّۗ ۝ۚتَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ :” الم “ کے متعلق دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ ” الکتب “ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ” اس کتاب “ کیا گیا ہے۔ ” مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ “ ” تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ “ کی خبر ہے۔ جملہ ” لَا رَيْبَ فِيْهِ “ معترضہ ہے یا ” الْكِتٰبِ “ کی صفت، یا اس سے حال ہے۔ آیت میں قرآن مجید کے متعلق دو باتیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی ہے، دوسری یہ کہ اس میں کوئی شک نہیں۔ کوئی شک نہ ہونے سے مراد یہ بھی ہے کہ اس میں بیان کردہ ہر بات یقینی ہے، کسی بات میں شک کی گنجائش نہیں اور یہ بھی مراد ہے کہ اس کے رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اگر کسی کو شک ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دور کرنے کا طریقہ بھی بتایا ہے، فرمایا : (وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۠ وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ) [ البقرۃ : ٢٣ ] ” اور اگر تم اس کے بارے میں کسی شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے تو اس کی مثل ایک سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے حمایتی بلا لو، اگر تم سچے ہو۔ “ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید سب سے بڑا معجزہ ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا، جس کے مقابلے سے پوری مخلوق عاجز ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر الم (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے (اور) اس میں کچھ شبہ نہیں (اور) یہ رب العالمین کی طرف سے ہے (جیسا کہ اس کتاب کا اعجاز خود اس کی دلیل ہے) کیا یہ (منکر) لوگ یوں کہتے ہیں کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ اپنے دل سے بنا لیا ہے (یعنی یہ کہنا محض لغو اور جھوٹ ہے یہ بنایا ہوا نہیں) بلکہ یہ سچی کتاب ہے آپ کے رب کی طرف سے (آئی ہے) تاکہ آپ (اس کے ذریعہ سے) ایسے لوگوں کو (عذاب الٰہی سے) ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانیوالا نہیں آیا تھا تاکہ وہ لوگ راہ پر آجائیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رکوع نمبر 14 سورة الم سجده بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ الۗمّۗ۝ ١ ۚتَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْہِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ ٢ ۭ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ريب فَالرَّيْبُ : أن تتوهّم بالشیء أمرا مّا، فينكشف عمّا تتوهّمه، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ [ الحج/ 5] ، ( ر ی ب ) اور ریب کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کے متعلق کسی طرح کا وہم ہو مگر بعد میں اس تو ہم کا ازالہ ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنا عَلى عَبْدِنا [ البقرة/ 23] اگر تم کو ( قیامت کے دن ) پھر جی اٹھنے میں کسی طرح کا شک ہوا ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) «1» . فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] . وعلی هذا قوله تعالی: وَلا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْباباً [ آل عمران/ 80] أي : آلهة، وتزعمون أنهم الباري مسبّب الأسباب، والمتولّي لمصالح العباد، وبالإضافة يقال له ولغیره، نحو قوله : رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] ، ورَبُّكُمْ وَرَبُّ آبائِكُمُ الْأَوَّلِينَ [ الصافات/ 126] ، ويقال : رَبُّ الدّار، ورَبُّ الفرس لصاحبهما، وعلی ذلک قول اللہ تعالی: اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ فَأَنْساهُ الشَّيْطانُ ذِكْرَ رَبِّهِ [يوسف/ 42] ، وقوله تعالی: ارْجِعْ إِلى رَبِّكَ [يوسف/ 50] ، وقوله : قالَ مَعاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوايَ [يوسف/ 23] ، قيل : عنی به اللہ تعالی، وقیل : عنی به الملک الذي ربّاه «2» ، والأوّل أليق بقوله . والرَّبَّانِيُّ قيل : منسوب إلى الرّبّان، ولفظ فعلان من : فعل يبنی نحو : عطشان وسکران، وقلّما يبنی من فعل، وقد جاء نعسان . وقیل : هو منسوب إلى الرّبّ الذي هو المصدر، وهو الذي يربّ العلم کالحکيم، وقیل : منسوب إليه، ومعناه، يربّ نفسه بالعلم، وکلاهما في التحقیق متلازمان، لأنّ من ربّ نفسه بالعلم فقد ربّ العلم، ومن ربّ العلم فقد ربّ نفسه به . وقیل : هو منسوب إلى الرّبّ ، أي : اللہ تعالی، فالرّبّانيّ کقولهم : إلهيّ ، وزیادة النون فيه كزيادته في قولهم : لحیانيّ ، وجسمانيّ «1» . قال عليّ رضي اللہ عنه : (أنا ربّانيّ هذه الأمّة) والجمع ربّانيّون . قال تعالی: لَوْلا يَنْهاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبارُ [ المائدة/ 63] ، كُونُوا رَبَّانِيِّينَ [ آل عمران/ 79] ، وقیل : ربّانيّ لفظ في الأصل سریانيّ ، وأخلق بذلک «2» ، فقلّما يوجد في کلامهم، وقوله تعالی: رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ [ آل عمران/ 146] ، فالرِّبِّيُّ کالرّبّانيّ. والرّبوبيّة مصدر، يقال في اللہ عزّ وجلّ ، والرِّبَابَة تقال في غيره، وجمع الرّبّ أرْبابٌ ، قال تعالی: أَأَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْواحِدُ الْقَهَّارُ [يوسف/ 39] ، ولم يكن من حقّ الرّبّ أن يجمع إذ کان إطلاقه لا يتناول إلّا اللہ تعالی، لکن أتى بلفظ الجمع فيه علی حسب اعتقاداتهم، لا علی ما عليه ذات الشیء في نفسه، والرّبّ لا يقال في التّعارف إلّا في الله، وجمعه أربّة، وربوب، قال الشاعر : 173- کانت أربّتهم بهز وغرّهم ... عقد الجوار وکانوا معشرا غدرا «3» وقال آخر : 174- وكنت امرأ أفضت إليك ربابتي ... وقبلک ربّتني فضعت ربوب «4» ويقال للعقد في موالاة الغیر : الرِّبَابَةُ ، ولما يجمع فيه القدح ربابة، واختصّ الرّابّ والرّابّة بأحد الزّوجین إذا تولّى تربية الولد من زوج کان قبله، والرّبيب والرّبيبة بذلک الولد، قال تعالی: وَرَبائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ [ النساء/ 23] ، وربّبت الأديم بالسّمن، والدّواء بالعسل، وسقاء مربوب، قال الشاعر : 175- فكوني له کالسّمن ربّت بالأدم «5» والرَّبَابُ : السّحاب، سمّي بذلک لأنّه يربّ النبات، وبهذا النّظر سمّي المطر درّا، وشبّه السّحاب باللّقوح . وأَرَبَّتِ السّحابة : دامت، وحقیقته أنها صارت ذات تربية، وتصوّر فيه معنی الإقامة فقیل : أَرَبَّ فلانٌ بمکان کذا تشبيها بإقامة الرّباب، وَ «رُبَّ» لاستقلال الشیء، ولما يكون وقتا بعد وقت، نحو : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا [ الحجر/ 2] . ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کمال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ ورببہ تینوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گناہ بخشنے والا پروردگار ،۔ نیز فرمایا :۔ وَلا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْباباً [ آل عمران/ 80] اور وہ تم سے ( کبھی بھی ) یہ نہیں کہے گا کہ فرشتوں اور انبیاء کرام کو خدا مانو ( یعنی انہیں معبود بناؤ ) اور مسبب الاسباب اور مصالح عباد کو کفیل سمجھو ۔ اور اضافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور دوسروں پر بھی ۔ چناچہ فرمایا :۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] ہر طرح کی حمد خدا ہی کو ( سزا وار ) ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ ورَبُّكُمْ وَرَبُّ آبائِكُمُ الْأَوَّلِينَ [ الصافات/ 126] یعنی اللہ کو جو تمہارا ( بھی ) پروردگار ( ہے ) اور تمہارے پہلے آباؤ اجداد کا ( بھی ) رب الدار گھر کا مالک ۔ رب الفرس گھوڑے کا مالک اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا :۔ اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ فَأَنْساهُ الشَّيْطانُ ذِكْرَ رَبِّهِ [يوسف/ 42] اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کرنا ۔ سو شیطان نے اس کو اپنے آقا سے تذکرہ کرنا بھلا دیا ۔ ارْجِعْ إِلى رَبِّكَ [يوسف/ 50] اپنے سردار کے پاس لوٹ جاؤ ۔ اور آیت :۔ قالَ مَعاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوايَ [يوسف/ 23] ( یوسف نے کہا ) معاذاللہ وہ تمہارا شوہر میرا آقا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ ربی سے مراد اللہ تعالیٰ ہے اور بعض نے عزیز مصر مراد لیا ہے ۔ لیکن پہلا قول انسب معلوم ہوتا ہے ۔ ربانی بقول بعض یہ ربان ( صیغہ صفت ) کی طرف منسوب ہے ۔ لیکن عام طور پر فعلان ( صفت ) فعل سے آتا ہے ۔ جیسے عطشان سکران اور فعل ۔ ( فتحہ عین سے بہت کم آتا ہے ) جیسے نعسان ( من نعس ) بعض نے کہا ہے کہ یہ رب ( مصدر ) کی طرف منسوب ہے اور ربانی وہ ہے جو علم کی پرورش کرے جیسے حکیم ( یعنی جو حکمت کو فروغ دے ۔ ) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رب مصدر کی طرف ہی منسوب ہے اور ربانی وہ ہے ۔ جو علم سے اپنی پرورش کرے ۔ درحقیقت یہ دونوں معنی باہم متلازم ہیں کیونکہ جس نے علم کی پرورش کی تو اس نے علم کے ذریعہ اپنی ذات کی بھی تربیت کی اور جو شخص اس کے ذریعہ اپنی ذات کی تربیت کریگا وہ علم کو بھی فروغ بخشے گا ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ رب بمعنی اللہ کی طرف منسوب ہے اور ربانی بمعنی الھی ہے ( یعنی اللہ والا ) اور اس میں الف نون زائدتان ہیں جیسا کہ جسم ولحی کی نسبت میں جسمانی ولحیانی کہا جاتا ہے ۔ حضرت علی کا قول ہے : انا ربانی ھذہ الامۃ میں اس امت کا عالم ربانی ہوں اس کی جمع ربانیون ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لَوْلا يَنْهاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبارُ [ المائدة/ 63] انہیں ان کے ربی ( یعنی مشائخ ) کیوں منع نہیں کرتے ۔ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ [ آل عمران/ 79]( بلکہ دوسروں سے کہیگا ) کہ تم خدا پرست ہو کر رہو ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ ربانی اصل میں سریانی لفظ ہے اور یہی قول انسب معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ عربی زبان میں یہ لفظ بہت کم پایا جاتا ہے اور آیت :۔ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ [ آل عمران/ 146] بہت سے اللہ والوں نے ۔ میں ربی بمعنی ربانی ہے ۔ یہ دونوں مصدر ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے ربوبیۃ اور دوسروں کے لئے ربابیۃ کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ الرب ( صیغہ صفت ) جمع ارباب ۔ قرآن میں ہے : أَأَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْواحِدُ الْقَهَّارُ [يوسف/ 39] بھلا ( دیکھو تو سہی کہ ) جدا جدا معبود اچھے یا خدائے یگانہ اور زبردست ۔ اصل تو یہ تھا کہ رب کی جمع نہ آتی ۔ کیونکہ قرآن پاک میں یہ لفظ خاص کر ذات باری تعالیٰ کیلئے استعمال ہوا ہے لیکن عقیدہ کفار کے مطابق بصیغہ جمع استعمال ہوا ہے اور ارباب کے علاوہ اس کی جمع اربۃ وربوب بھی آتی ہے ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے ۔ ( بسیط) کانت اربتھم بھز وغرھم عقد الجوار وکانوا معشرا غدرا ان کے ہم عہد بنی بہز تھے جنہیں عقد جوار نے مغرور کردیا اور درحقیقت وہ غدار لوگ ہیں ۔ دوسرے شاعر نے کہا ہے ( طویل ) ( 129) وکنت امرءا افضت الیک ربابتی وقبلک ربنی فضعت ربوب تم آدمی ہو جس تک میری سر پرستی پہنچتی ہے تم سے پہلے بہت سے میرے سرپرست بن چکے ہیں مگر میں ضائع ہوگیا ہوں ۔ ربابۃ : عہد و پیمان یا اس چیز کو کہتے ہیں جس میں قمار بازی کے تیر لپیٹ کر رکھے جاتے ہیں ۔ رابۃ وہ بیوی جو پہلے شوہر سے اپنی اولاد کی تربیت کررہی ہو ۔ اس کا مذکر راب ہے ۔ لیکن وہ اولاد جو پہلے شوہر سے ہو اور دوسرے شوہر کی زیر تربیت ہو یا پہلی بیوی سے ہو اور دوسری بیوی کی آغوش میں پرورش پا رہی ہو ۔ اسے ربیب یا ربیبۃ کہا جاتا ہے اس کی جمع ربائب آتی ہے قرآن میں ہے : وَرَبائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ [ النساء/ 23] اور تمہاری بیویوں کی ( پچھلی ) اولاد جو تمہاری گودوں میں ( پرورش پاتی ) ہے ۔ ربیت الادیم بالسمن میں نے چمڑے کو گھی لگا کر نرم کیا ۔ ربیت الدواء بالعسل میں نے شہد سے دوا کی اصلاح کی سقاء مربوب پانی مشک جسے تیل لگا کر نرم کیا گیا ہو ۔ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) ( 170) فکونی لہ کالسمن ربت لہ الادم اس کے لئے ایسی ہوجاؤ جیسے رب لگا ہوا چمڑا گھی کے لئے ہوتا ہے ۔ الرباب : بادل کو کہتے ہیں کیونکہ وہ نباتات کی پرورش کرتا اور اسے بڑھاتا ہے اسی معنی کے اعتبار سے مطر کو در ( دودھ ) اور بادل کو تشبیہا لقوح ( یعنی دودھیلی اونٹنی ) کہا جاتا ہے محاورہ ہے ۔ اربت السحابۃ بدلی متواتر برستی رہی اور اسکے اصل معنی ہیں بدلی صاحب تربیت ہوگئی اس کے بعد اس سے ٹھہرنے کا معنی لے کر یہ لفظ کسی جگہ پر مقیم ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے ارب فلان بمکان کذا اس نے فلان جگہ پر اقامت اختیار کی ۔ رب تقلیل کے لئے آتا ہے اور کبھی تکثیر کے معنی بھی دیتا ہے ۔ جیسے فرمایا : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کافر بہترے ہی ارمان کریں گے ( کہ ) اے کاش ( ہم بھی ) مسلمان ہوئے ہوتے ۔ عالم العالم، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، ( ع ل م ) العلم اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوح اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار وغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١۔ ٢) الم۔ اس کے معنی سب سے زیادہ اللہ ہی جاننے والا ہے یا کہ بطور تاکید کے یہ ایک قسم کھائی گئی ہے یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہے اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١ تا ٤۔ آلمہ۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کا ذکر سورة بقر میں گزر چکا ہے۔ دیب شک کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کے رب العالمین کی طرف سے اترنے میں کچھ شک نہیں ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرک لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ شرک یہ جو کہتے ہیں کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قرآن شریف کو آپ بنالیا ہے۔ یہ ان کا گمان بالکل غلط ہے بلکہ وہ حق ہے پروردگار کی طرف سے اترا ہے تاکہ تو ڈراوے ان لوگوں کو کہے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرسنانے والا نہیں آیا شاید وہ ہدایت پاویں الور حق کی پیرویکریں پھر کہا اللہ وہ ہے کہ جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے چھ ٦ روز میں پھر عرش پر قائم ہوا اس کے متعلق مفصل بیان سورة الا عراف میں گزر ١ ؎ چکا ہے (١ ؎ صفحہ ٢٦٢ جلد دوم) پھر فرمایا کہ اس خدا کے سوا تمہارا کوئی کام بنانے والا نہیں اور بغیر رضا مندی اس کی کے کوئی مہارا سفارشی ہے بلکہ وہی پروردگار تمام کاموں کا مالک اور ہر چیز کا تدبیر کرنے والا ہے اس کے سوا اس کی مخلوق کا کوئی کام بنانے والا اور سفارش کرنے والا نہیں اس کی ذات سب سے برتر اور پاکیزہ ہے کوئی اس کا مثل اور ساجھی اور اس کے مرتبہ کے برابر نہیں ہے صحیح مسلم اور مسند امام احمد میں ابوہریرہ (رض) کی جو ایک روایت ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ کون سی چیز کس دن پیدا کی گئی۔ سورة اعراف میں گزر ٢ ؎ چکا ہے (٢ ؎ ص ٢٦٢ جلد دوسری طبع ہذا۔ ) کہ وہ حدیث نبوی نہیں ہے بلکہ کعب بن احبار کا قول ہے اور اس قول کے موافق سب چیزوں کی پیدایش سات روز میں ٹھہرتی ہے اس واسطے امام بخاری وغیرہ نے اس قول کو آیت کے مخالف اور قابل اعتراض قرار دیا ہے۔ سورة الا عراف میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی استویٰ علی العرش کی صفت ایک آیت آیات متشابہات میں سے ہے ٣ ؎ اور صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ (رض) کی وہ حدیث بھی گزر چکی ہے (٣ ؎ لغوی اور شرعی معنی کے اعتبار نہیں بلکہ اپنی اپنی سمجھ کے اعتبار سے کیونکہ لغۃ اور شرعا استویٰ عیی کے معنی علا (یعنی اوپر ہوا) کے ہیں (ع ‘ ح) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متشابہ آیتوں کی تاویل سے منع فرمایا ہے اس واسطے سلف (رح) کے نزدیک استویٰ علی العرش کے معنے یہی ہیں کہ جس طرح سے عرش پر ہونا اللہ تعالیٰ کے شان کے مناسب ہے اسی طرح سے بلامشا بہت دنیا کی کسی چیز کے اللہ تعالیٰ عرش پر ہے جس کا تفصیل اور کیفیت اسی کو معلوم ہے حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ جب تم لوگ قرآن کے موافق کچھ آیتیں ایسی بنا کر نہیں پیش کرسکتے جس میں قرآن کی سی فصاحت اور غیب کی سچی خیریں ہوں تو آخر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیی تم جیسے بشر ہیں تم لوگوں کو اتنا سوچنا چاہئے کہ بغیر تائید غیبی کے وہ یہ قرآن کیوں کو بنا سکتے ہیں اس لیے اس قرآن میں آسمان و زمین کی غیب کی خبروں کا پایا جانا یہ اسی کے کلام کی شان ہے دوسرے کی کیا طاقت ہے کہ وہ ایسا کلام بنا سکتا ہے اور جس وقت سے تمہارے بڑوں نے ملت ابراہیمی کا بگاڑ کر بت پرستی کو اپنا دین ٹھہرالیا ہے اس وقت سے کوئی رسول کتاب آسمانی لے کر اس بت پرستی کے وبال سے ڈرانے کے لیے تمہارے پاس نہیں آیا اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے تمہاری انجانی کو رفع کرنے اور بت پرستی کے وبال سے تمہیں ڈرانے کے لیے یہ قرآن نازل فرمایا ہے یہ بھی تم کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح پر پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے پھر جو کوئی اس کے سوا کسی غیر کی عبادت کرے گا تو وہ عذاب الٰہی میں پکڑا جائے گا اور عذاب الٰہی سے بچانے والی کوئی حمایتی ایسے شخص کو آسمان و زمین میں نظر نہ آوے گا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ (رض) اور عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو انجانی کے عذر کا رفع کردینا بہت پسند ہے اسی واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسولوں کو بھیجا ان روایتوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک مدت سے مکہ میں بت پرستی پھیل کر شرک کی خرابی کو اہل مکہ نہیں جانتے تھے اس لیے ان کے انجانی کے عذر کو رفع کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے آخر الزمان کو رسول کر کے بھیجا اور ان پر قرآن نازل فرمایا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

سورة السجدہ آیات 1 تا 11 اسرارومعارف نزول کتاب ربویت کا تقاضا ہے : اس کتاب کا نازل ہونا حق ہے یہ کوئی دھوکہ نہیں۔ اللہ رب العزت جو سارے جہانوں کے رب ہیں ان کی ربویت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو جسمانی رزق کے ساتھ اس کی روحانی ضروریات بھی پوری فرمائے لہذا یہ اس کی طرف سے ہے اور اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قبل عربوں کے پاس کوئی نبی نہ آیا تھا : اگرچہ کفار تو کہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے مگر یہ حق ہے اور ایسی قوم کے لیے کہ جس کے پاس پہلے کوئی نبی یا رسول کفر کے انجام بد سے باخبر کرنے مبعوث نہ ہوا تھا۔ نیز صحابہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں : نازل کی گئی ہے کہ یہ راہ راست پر آئیں اور یوں ان کی وساطت سے یہ پیغام حق انسانیت تک پہنچے کہ عرب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قبل عہد حضرت اسمعیل (علیہ السلام) تک مقامی طور پر کوئی نبی مبعوث نہ ہوا تھا اور مذہب کی جو بات ان تک پہنچی وہ باہر ہی سے پہنچی یا پھر کچھ لوگ ابھی تک دین ابراہیمی کے عقیدہ توحید پر ضرور قائم تھے نیز قرآن حکیم کے مخاطب اول اور رب جلیل اور انسانیت کے درمیان واسطہ صحابہ کرام ہیں۔ اللہ وہ عظیم ذات ہے جس نے آسمانوں کو زمین کو اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کو صرف چھ دنوں میں پیدا فرمایا یعنی اتنا عظیم کارخانہ ایک حسن ترتیب سے بنایا ورنہ تو آن واحد میں سب کچھ بن جاتا پھر اپنی شان کے مطابق عرش پر جلوہ افروز ہوا کہ عالم کو ایک منظم طریق پر رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔ استوی علی العرش : استوی علی العرش سے مراد یہ ہے کہ نظام عالم کا مرکز یا سیکریٹریٹ عرش کو قرار دیا تو اس لحاط سے نظام عالم کے لیے اس کا دربار عرش پہ سجا ہے اسی لیے دعا میں ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں اور دعائیں عرش کو جاتی ہیں یا ارواح پر پیش ہوتی ہیں فرشتوں کو احکام وہ ان سے ملتے ہیں ورنہ اس کی ذات ہر جگہ موجود ہے اس کے باوجود نظام عالم کو ایک نقطہ پر مرکوز کردیا ہے۔ لہذا اگر اس کی اطاعت میں تم لوگ کوتاہی کروگے یا کفر کر کے اس نظام کو خراب کرنے کی کوشش کروگے تو پھر کوئی ایسا بھی نہ ہوگا کہ وہ تمہای سفارش کرسکے یا دوست بن کر مدد کرسکے سوائے اسی کی ذات کے اور وہ کافر کی مدد نہ فرمائے گا کیا تم اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں سکتے ہو۔ نظام عالم کی تدابیر اور احکام آسمانوں سے زمین کی طرف نازل ہوتے ہیں اور اہل زمین کا کردار و جواب پھر آسمان ہی کی طرف پلٹتا ہے یا اللہ کی بارگاہ کی طرف پلٹتا ہے جہان آسمانی دنیا میں ایک دن زمین پر اور تمہارے شمار کے حساب سے ایک ہزار سال کے برابر ہے یہ ایک جھلک ہے اس کی عظمت اور تمام ظاہر اور پوشیدہ امور اشیاء سے آگاہ اور واقف ہونے کی اور اس کے غلبہ وقدرت اور اس کی رحمت کی وہ جس نے ہر شے کی پیدائش و تخلیق میں حسن سمو دیا ہے یعنی تمام جواہر و اعراض یا تمام وجود اور کیفیات میں حسن ہے خرابی ان کے غلط استعمال سے ہوتی ہے کہ تمام موذی جانور بھی اپنی جگہ ضروری اور حسین ہیں کہ کائنات میں کسی نہ کسی ضروری کام میں لگے ہیں مگر جب اپنا کام چھوڑ کر دوسرے کو ایذا دیتے ہیں تو خراب لگتے ہیں ایسے ہی غصہ ضد وغیرہ بری عادات اپنی ذات میں بری نہیں ہیں بلکہ ضروری ہیں ہاں جب ان کا استعمال غلط مقام پر ہوتا ہے تو برا لگتا ہے پھر وہ ایسا قادر ہے کہ انسان کو مٹی سے بناتا ہے مگر مٹی کے ذرات کو بیشمار تبدیلیوں سے گزار کر نطفہ بنا دیتا ہے کہیں غذا کہیں دوا کہیں دودھ کہیں شکر یا گوشت مگر سب کچھ مٹی ہے پھر غذا معدہ میں پک کر الگ ہو کر نطفہ بن جاتی ہے وہ شکم مادر میں پہنچ کر تربیت پاتا ہے اور وجود بنتا ہے پھر اس میں روح پھونک کر اسے انسانی حواس عطا فرماتا ہے وہ سننے دیکھنے کی قوت پاتا ہے اور دل پاتا ہے جو آرزو کرسکتا ہے اتنے انعامات کے باوجود تم انسانوں میں ایسے بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں بلکہ اپنی اس ساری تخلیق اور اس کے مدارج پر نگاہ نہ کر کے الٹا یہ کہتے ہیں کہ جب ہم گل سڑ کر مٹی میں مل جائیں گے تو دوبارہ ہمیں بنایا جانا کیسے ممکن ہے بلکہ جب وہ دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں تو ہماری بارگاہ میں حاضری اور روز قیامت ہی کا انکار کردیتے ہیں۔ موت اور قبض روح : ان سے فرما دیجیے کہ اللہ کا نظام اور اس میں ترتیب ہے موت بھی یونہی نہیں بلکہ اس پر بھی اللہ نے فرشتہ مقرر فرما دیا ہے جو تمہاری روح قبض کرے گا اور پھر وہی جسم دوبارہ اسی روح کے ساتھ زندہ ہو کر تم سب کو اللہ ہی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہوگا۔ موت روح کے تصررف کو بدن سے روک کر فرشتہ کے قبض کرلینے کا نام ہے مگر اس کے باوجود مومن کی روح کا رشتہ بدن سے کافر سے بہت اعلی درجے کا ہوتا ہے اور شہداء کا اس قدر کہ ابدان خراب تک نہیں ہوتے نیز یہ قبض ارواح صرف انسان کے ساتھ مختص ہے حیوان میں نہ ایسی روح ہے اور نہ فرشتہ قبض کرتا ہے بلکہ حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ حیوان کی حیات اللہ کا ذکر ہے جب غافل ہوتا تو مر جاتا ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 3) تنزیل (آہستہ آہستہ اتارنا) ۔ افتریٰ (اس نے گھڑلیا۔ بنا لیا) ۔ الحق (سچ، سچائی) ۔ تنذر (توڈراتا ہے۔ آگاہ کرتا ہے) ۔ نذیر (ڈرانے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر (1 تا 3) ۔ ” سورة السجدہ کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ ان حروف کے متعلق اس سے پہلی سورتوں میں تفصیل سے عرض کردیا گیا ہے۔ یہ حروف آیات متشابھات میں سے ہیں یعنی ان کے معنی اور مراد کا علم اللہ رب العالمین کو ہے۔ ممکن ہے ان حروف کے معنی اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتا دیئے ہوں۔ “ اس سورت کی ابتداء اس اعلان سے کی گئی ہے کہ یہ وہ کتاب (قرآن مجید) ہے جس کو تمام جہانوں کے پروردگار نے نازل کیا ہے۔ جس کی بنیاد یقین پر ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ کتاب سراسر ہدایت ، رلنمائی، نور اور روشنی ہے جو قیامت تک آنے والوں کے لئے رہبر و رہنما ہے۔ یہ کتاب حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ سچائی کا پیغام ہے تاکہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو پوری طرح آگاہ اور خبردار کردیا جائے جن کے پاس اس سے پہلے تک کوئی رہبر و رہنما نہیں آیا تھا۔ شاید اس طرح وہ راہ ہدایت حاصل کرلیں۔ اصل میں ایمان اور توحید کی دعوت جزیرۃ العرب کے رہنے والوں تک مختلف ذرائع سے پہنچ چکی تھی جس سے وہ اچھی طرح واقف تھے لیکن خود ان میں دوڈھائی ہزار سال سے کوئی نبی اور رسول نہیں آیا تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) جو جزیرۃ العرب میں اللہ کے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے ان کو گذرے ہوئے دو ہزار سال اور ان سے پہلے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو آئے ہوئے اس سے بھی زیادہ عرصہ گذر چکا تھا۔ اس لئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس کتاب الہٰی کے ذریعہ ان کو آگاہ اور خبردار کر دیجئے جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ” نذیر “ ڈرانے والا آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ امید ہے اس طرح وہ راہ ہدایت حاصل کرسکیں گے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت محمد مصطفیمکو مبعوث فرمایا گیا اس وقت بھی ورقہ ابن نوفل اور زید ابن عمرو جیسے لوگ تھے جو حضرت ابرہیم (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کرام پر ایمان رکھتے تھے بلکہ بت پرستی اور نتوں پر قربانیوں کو برا سمجھنے والوں کی بھی بہت بڑی تعداد موجودہ تھی۔ خود ان بت پرستوں کا بھی اس بات پر ایک حد تک یقین تھا کہ اس پوری کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ابتداء میں وہ بت پرست بھی نہ تھے بعد میں بت پرستی ان میں اس قدر سرایت کرگئی تھی کہ وہ اللہ کو خالق ومالک ماننے کے باوجودجب تک اپنے بتوں کے وسیلے سے دعا نہ کرتے اس وقت تک یہ سمجھتے تھے کہ ہماری دعائیں اور عبادتیں قبول نہیں ہو سکتیں۔ وسیلے اور رسموں کے چکر میں اس طرح پھنسے ہوئے تھے کہ ان کے مقابلے میں علم و عمل اور ہر سچائی کو بےحقیقت سمجھتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرمادیا ہے کہ اسے جو بھی پکارتا ہے، فریاد کرتا ہے، دعائیں کرتا ہے وہ ان کو سنتا اور ان کی فریاد کو پہنچتا ہے۔ وہ انسان کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اس کی بارگاہ میں مانگنے کے لیے کسی ذریعہ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہر انسان ہر وقت صرف اسی ایک اللہ کی بارگاہ میں جھکا رہے تو اس کو سب کچھ مل جاتا ہے۔ باپ دادا سے چلتی ہوئی رسموں کے متعلق فرمایا گیا کہ ایسے لوگ یہ بتائیں کہ اگر ان کے باپ دادا کو شیطان نے کسی غلط راستے پر ڈال دیا ہو تو کیا پھر بھی وہ اسی غلطی کو دھراتے رہیں گے ؟

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن سورة لقمان کے آخر میں یہ ارشاد ہوا کہ قیامت، بارش، ماں کے رحم، انسان نے کل جو کرنا ہے اور جہاں اس نے مرنا ہے ان سب امور کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ وہ علیم اور خبیر ہے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ حقیقی اور قطعی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ انہیں یہ بھی یقین کرلینا چاہیے کہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے ہی نازل کیا ہے جس کی تنزیل اور تعلیمات میں کوئی شریک نہیں لہٰذا لوگوں کو اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں کرنا چاہیے۔ الف، لام، میم کے بارے میں وضاحت ہوچکی کہ یہ حروف مقطعات میں سے ہیں۔ اہل مکہ کا الزام تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ قرآن اپنی طرف سے بنالیا ہے اس الزام کے کئی جواب دیے گئے ہیں یہاں اس کا پہلا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ قرآن جہانوں کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس کے ” منزل من اللہ “ ہونے میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں ہے گویا کہ یہ شاہی اعلان اور فرمان ہے اسے تسلیم کرو۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ تم کہتے ہو کہ یہ قرآن اس نے اپنی طرف سے بنالیا ہے ایسا ہرگز نہیں یہ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کی طرف سے حق نازل ہوا ہے۔ حق سے مراد یہ ہے کہ کفار اپنے الزامات میں جھوٹے ہیں اور تیرے رب کا فرمان حق اور سچ ہے کہ اس قرآن کو جہانوں کے رب نے نازل فرمایا ہے۔ حق کا یہ بھی معنٰی ہے کہ ” قرآن “ میں جو کچھ بیان ہوا اس میں کسی قسم کی غلط بیانی نہیں اور نہ اس کے کیے ہوئے اعلان کبھی جھوٹ ثابت ہوں گے۔ اس میں جو کچھ بیان ہوا وہ دنیا اور آخرت میں جوں کا توں پورا ہوگا اور اس پر عمل کرنے والا کبھی نقصان نہیں پائے گا۔ نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو برے انجام سے ڈرائیں جن کے پاس مدّت دراز سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ یہ لوگ ہدایت پائیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے عرب میں حضرت ھود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ان کے بعد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) مکہ میں مبعوث کئے گئے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی مکہ میں مبعوث کیے گئے قرآن مجید کے پہلے مخاطب اہل مکہ تھے اس لیے حکم ہوا کہ انہیں ڈرائیں کیونکہ ان کے پاس اس سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، ڈرانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ برے عقائد اور کام چھوڑ کر صراط مستقیم پر آجائیں۔ مسائل ١۔ قرآن مجید رب العالمین نے نازل فرمایا ہے۔ ٢۔ نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں، اور اپنے رب کی نافرمانی سے ڈر جائیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کا اختصار : ١۔ قرآن مجیدلاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : ٢) ٢۔ قرآن مجید کی آیات واضح ہیں۔ (یوسف : ١) ٣۔ قرآن مجید کی آیات محکم ہیں۔ (ھود : ١) ٤۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : ١٧٤) ٥۔ قرآن کریم لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : ١٨٥) ٦۔ قرآن مجیددلوں کے لیے شفا ہے۔ (یونس : ٥٧) ٧۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : ١٣٨) ٨۔ ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨٢) ٩۔ ہم ہی قرآن مجید کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر : ٩) ١٠۔ جن و انس مل کر اس قرآن جیسا قرآن نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : ٨٨) ١١۔ قرآن مجید رمضان المبارک میں نازل ہوا۔ (البقرۃ : ١٨٥) ١٢۔ قرآن مجید لیلۃ القدر میں نازل ہوا۔ ( القدر : ١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 187 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 30 الم (1) تنزیل الکتب ۔۔۔۔۔ لعلھم یھتدون (1-3) الف۔ لام۔ میم۔۔۔ یہ وہ حروف ہیں جن سے عرب واقف تھے جن سے یہ کتاب سب سے پہلے مخاطب تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ان حروف سے کلام کس طرح بنایا جاتا ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان حروف سے وہ جو کلام بناتے ہیں اس میں اور اس کلام میں کس قدر فرق ہے۔ ہر وہ شخص یہ فرق جانتا تھا جو اسالیب کلام سے واقف تھا۔ اور جو شخص بھی افکار و معانی کو الفاظ کا لباس پہنانے کا کام کرتا تھا ۔ یہ لوگ یہ بھی جانتے تھے اور اسے مانتے تھے کہ نصوص قرآنی کے اندر کوئی خفیہ قوت ہے اور اس کے اندر کوئی گہرا عنصر ہے ، جو اسے ایک ایسی قوت قاہرہ عطا کرتا ہے جو بات کو دل میں اتار دیتا ہے۔ ایسی تاثیر ان تمام باتوں اور اشعار میں نہیں ہے جو انسان خود بناتا ہے ، یا اس نے بنائے ہیں۔ یہ قرآن مجید کی ایسی خصوصیت تھی جس میں کسی کو کلام نہ تھا ، موافق ہو یا مخالف۔ کیونکہ جو شخص بھی یہ کلام سنتا تھا وہ اسے محسوس کرتا تھا۔ وہ اس کلام کو دوسرے کلاموں سے ممتاز پاتا تھا اور اس پر جھوم جاتا تھا ۔ اگرچہ وہ یہ نہ جانتا تھا کہ یہ کلام الٰہی ہے۔ قرآن کریم کو مکہ میں جب مخالف لوگوں نے بھی سنا ، کلام کا یہ عنصر ان پر اثر انداز ہوا۔ مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف واقعات پیش آئے۔ ادہائے عرب کے کلام اور شعر میں اور قرآن کریم کی سورتوں اور آیات میں وہی فرق ہے جو اللہ کی مصنوعات میں اور انسانوں کی مصنوعات میں ہے۔ اللہ کی مصنوعات واضح اور تمیز اور جدا ہیں۔ کوئی انسانی مصنوعی چیز اللہ کی بنائی ہوئی چیز کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو لے لیں۔ ایک اصلی پھول کو لے لیں اور ایک مصنوعی پھول کو لے لیں۔ اگر دنیا کے تمام تصویر کشوں کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ مل کر ایسی تصویر بنائیں جس میں کسی ایک اصلی پھول میں رنگوں کی تقسیم کا مقابلہ ہو تو وہ ایسا نہ کرسکیں گے۔ ایک پھول کی کلر اسکیم ہی ایک معجزہ ہے۔ یہی حال ہے کلام الٰہی کا اور دوسرے انسانی کلاموں کا جو سب کے سب انہی حروف تہجی سے بنے ہوئے ہیں۔ تنزیل الکتب لا ریب فیہ من رب العلمین (32: 2) ” اس کتاب کی تنزیل بلاشبہ رب العالمین کی طرف سے ہے “۔ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے۔ یہاں آیت کے درمیان لا ریب فیہ یعنی شک کی نفی کو لایا گیا ہے۔ یعنی مبتداء اور خبر کے درمیان کیونکہ یہ حقیقی ” ایشو “ ہے اور اس آیت کا اصل مدعا یہ ہے کہ شک کی تردید کی جائے اور اس فقرے کا آغاز حروف مقطعات سے اس بات کا اظہار ہے کہ اگر کوئی شک کرتا ہے تو یہ رہے وہ حروف ، وہ میٹریل جس سے یہ کلام بنا ہے ، تم بھی بنا لو۔ لہٰذا شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ حروف تمہیں مہیا ہیں ، تم اہل لسان ہو ، اس کتاب کا انداز ایسا ہے جس کو تم بھی معجزانہ کلام تصور کرتے ہو۔ یہ تمہارا تجربہ ہے اور تمہارے تجربہ کار لوگوں کا یہی کہنا ہے۔ اس قرآن کی ہر سورة اور ہر آیت اپنے اندر ایک معجزانہ عنصر رکھتی ہے۔ یہ عنصر اس کلام کے اندر بہت ہی گہرا ہے اور وہ یہ بتاتا ہے کہ اس کلام کے اندر کوئی خفیہ قوت ہے ۔ جب اس کی تلاوت ہوتی ہے تو انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ وہ جھوم اٹھتا ہے ، وہ متزلزل ہوجاتا ہے اور اسے اپنے اوپر کنڑول نہیں رہتا۔ جب بھی کسی نے اس کے لیے دل کھولا ، احساس نے کان دھرا ، اور انسانی ادراک بلند ہوا اور اس کو سننے اور قبول کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ انسانی ثقافت اور علم و بصیرت جوں جوں وسیع ہوتی جاتی ہے ، قرآن کریم کی یہ خصوصیت بہت ہی نمایاں ہوتی جاتی ہے۔ جوں جوں انسان کا علم بڑھتا ہے ، وہ اس کائنات کے اندر دور تک اپنا مشاہدہ بڑھاتا ہے اور وہ اس کائنات اور اس کے اندر کی مخلوق اور افراد تک اپنا علم بڑھاتا ہے۔ اس کلام کی تاثیر و قتی نہیں ہوتی۔ یہ ایک بنیادی حقیقت ہوتی ہے جب قرآن انسان فطرت سے ہمکلام ہوتا ہے اور یہ تاثیر ایک حقیقت بن کر سامنے آتے ہے جب قرآن ایک تجربہ کار دل و دماغ سے مخاطب ہو۔ جب یہ ایک تعلیم یافتہ عقل سے ہمکلام ہو ، جو ایک بھرے ہوئے ذہن سے بات کر رہا ہو ، جس کے اندر علم و معلومات ہوں۔ جوں جوں انسان کا درجہ علم ، ثقافت اور معلومات بلند ہوتا ہے ، اس قرآن کے معانی ، مفاہیم اور اثرات بڑھتے جاتے ہیں (بشرطیکہ انسانی فطرت سیدھی ہو ، اس میں ٹیڑھ نہ ہو اور اس کے اوپر خواہشات نفسانیہ کے پردے نہ پڑگئے ہوں) اور انسان علی وجہ الیقین یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ ام یقولون افترہ (32: 3) ” تو یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود گھڑ لیا ہے “۔ یہ بات انہوں نے محض ضد اور عناد سے کہی تھی۔ لیکن سیاق کلام میں یہاں اس کو بصورت سوال استکاری اور نہایر ہی ناپسندیدہ بات کے لاتا ہے۔ کیا وہ ایسا کہتے ہیں ؟ ایسی بات تو انہیں نہیں کہنا چاہئے اس لیے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کردار اور سیرت ان کے اندر موجود مثال ہے۔ انہوں نے تو کبھی کسی پر الزام نہیں لگایا۔ کیا وہ اللہ پر الزام لگاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب بذات خود اپنے اوپر شہادت ہے اس میں تو شک کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ بل ھو الحق من ربک (32: 3) ” بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے “۔ سچائی ، یہ فطرت ازلی کے عین مطابق ہے۔ یہ کائنات کے اندر موجود حق اور سچائی کے عین مطابق ہے۔ لہٰذا اس کے اندر گہری سچائی پائی جاتی ہے۔ اس کی ساخت ، اس کے بیان ، اور اس کے نظام کا ثبات و دوام اور اس کا جامع و مانع ہونا۔ اس کے اجزاء کا باہم ہم آہنگ ہونا اور متصادم نہ ہونا اور اس کے اجزاء کا باہم تعارف اور یگانگت یہ سب اس کے حق پر ہونے پر شاہد ہیں۔ یہ اس لیے حق ہے کہ یہ انسان اور اس کائنات کے اندر ہائے جانے والے قوانین فطرت کے درمیان رابطہ پیدا کرتا ہے۔ انسان اور اس کائنات کے قوانین کلیہ کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور قرآن انسان اور ان کائناتی قوتوں کے درمیان توافق اور سلامتی پیدا کرتا ہے۔ چناچہ انسانی قوت اور کائیاتی قوتیں باہم معاون ، باہم ملاقی ہوجاتی ہیں اور ان کے درمیان پوری پوری مفاہمت ہوتی ہے۔ یوں انسان اپنے اس وسیع ماحول کا دوست بن جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے کہ جب انسانی فطرت اسے پاتی ہے تو اس پر لبیک کہتی ہے۔ نہایت بسر ، نہایت خوشی اور نہایت شوق سے بغیر کسی تشقت اور دشمنی کے ، کیونکہ دونوں کے اندر ازلی اور قدیم حق رکھ دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کے اندر کوئی تعارض ، کوئی تضاد نہیں ہے اور وہ پوری انسانیت کیلئے ایک مکمل منہاج حیات ہے۔ یہ منہاج انسانوں کی شخصیت ان کی قوت ، ان کے جذبات و میلانات ، ان کی حالت صحت اور حالت مرض اور حالت قوت اور حالت ضعف حالت امن اور حالت فساد کو اچھی طرح مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس میں مکمل عدل ہے۔ یہ نہ دنیا میں بےانصافی کرتا ہے نہ آخرت میں ، انسانوں کے اندر جو قومیں موجود ہیں ان کے ساتھ بھی یہ کوئی بےانصافی نہیں کرتا۔ یہ دینی اور فکری قوتوں کے ساتھ بھی بےانصافی نہیں کرتا۔ یہ انسان کی کسی حرکت کے ساتھ ظلم کرکے اسے کسی معقول سرگرمی سے نہیں روکتا۔ جب تک وہ سرگرمی اس عالم گیر سچائی کے دائرہ کے اندر ہو ، جو اس پوری کائنات کے اندر ودیعت کردی گئی ہے۔ بل ھو الحق من ربک (32: 3) ” بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے “۔ یہ تمہاری طرف سے نہیں ہے۔ یہ رب کی طرف سے ہے۔ یہ رب مسلمانوں کا ہی نہیں ہے ، رب العالمین ہے۔ یہ ہے اس حق میں کرامت انسانی۔ اس میں رسول کی تکریم ہے کہ وہ اپنی طرف سے افتراء نہیں باندھ رہا۔ پھر یہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان قرب کا ایک رنگ اور پر تو ہے۔ اور یہ درپر وہ جواب ہے ان کے اس الزام کا ، کہ یہ اللہ پر افتراء ہے۔ ربک سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کا مصدر اور سرچشمہ باری تعالیٰ کے درمیان پختہ تعلق ہے۔ ایک باعزت تعلق اور اس کی وجہ سے وہ نہایت ذمہ داری اور امانت داری کے ساتھ ٹھیک ٹھیک وحی نقل کرتے ہیں۔ لتنذر قوما اتھم ۔۔۔۔۔ لعلھم یھتدون (32: 3) ” تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں “۔ عرب جن کے لئے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا گیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قبل ان کی طرف کوئی رسول نہ بھیجا گیا تھا۔ تاریخ میں بنی اسماعیل میں سے کسی رسول کے آنے کا ذکر نہیں ہے جو عربوں کے جد اول تھے۔ اللہ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ کتاب نازل کی جو سچائی ہے ، وہ سچائی جو انسان کی فطرت میں بھی موجود ہے۔ انسانوں کے دلوں کے اندر بھی موجود ہے۔ یہ لوگ جن کے ڈرانے کیلئے یہ کتاب نازل کی گئی ہے کہ ان کو ڈرایا جائے ، یہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کرتے تھے۔ چناچہ یہاں سے اللہ کی ان صفات کا بیان شروع ہوتا ہے جن کے ذریعہ وہ معلوم کرلیں کہ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی مخصوص صفات کیا ہیں اور اس طرح انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کے عقائد نہایت پوچ ہیں۔ ان عظیم صفات کا موصوف تو اللہ ہے جو رب العالمین ہے اور اس کے ہم پلہ و ہمسر ہونے کا کوئی مستحق نہیں ہے۔ نہ ان کو چاہئے کہ وہ کسی اور کو اس کا ہم پلہ بنائیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

1۔ الم