Surat Assajdah

Surah: 32

Verse: 23

سورة السجدة

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ فَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖ وَ جَعَلۡنٰہُ ہُدًی لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ۚ۲۳﴾

And We certainly gave Moses the Scripture, so do not be in doubt over his meeting. And we made the Torah guidance for the Children of Israel.

بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ، پس آپ کو ہرگز اس کی ملاقات میں شک نہ کرنا چاہیے اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ بنایا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Book of Musa and the Leadership of the Children of Israel Allah says; وَلَقَدْ اتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ ... And indeed We gave Musa the Scripture. Allah tells us that He gave the Book -- the Tawrah -- to His servant and Messenger Musa, peace be upon him. ... فَلَ تَكُن فِي مِرْيَةٍ مِّن لِّقَايِهِ ... So, be not you in doubt of meeting him. Qatadah said, "This refers to the Night of Isra'," then he narrated that Abu Al-Aliyah Ar-Riyahi said, "The cousin of your Prophet, meaning Ibn Abbas, told me that the Messenger of Allah said: أُرِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلً ادَمَ طِوَالاً جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسى رَجُلً مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبْط الرَّأْسِ وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّال On the night of Isra', I saw Musa bin Imran, a tall, brown-skinned man with curly hair, looking like the men of Shanu'ah; and I saw `Isa, a man of medium stature and ruddy white skin, and with lank hair. And I saw Malik the Keeper of Hell, and the Dajjal. Among the signs which Allah showed him were: فَلَ تَكُن فِي مِرْيَةٍ مِّن لِّقَايِهِ (So, be not you in doubt of meeting him). i.e., he saw Musa and met with him on the Night of Isra'." ... وَجَعَلْنَاهُ ... And We made it means, `the Book which We gave to him, ' ... هُدًى لِّبَنِي إِسْرَايِيلَ a guide to the Children of Israel. This is similar to what Allah says in Surah Al-Isra': وَءَاتَيْنَأ مُوسَى الْكِتَـبَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ أَلاَّ تَتَّخِذُواْ مِن دُونِى وَكِيلً And We gave Musa the Scripture and made it a guidance for the Children of Israel (saying): "Take none other than Me as Trustee." (17:2) وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَيِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِأيَاتِنَا يُوقِنُونَ

شب معراج اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتا ہے ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی تو اس کی ملاقات کے بارے میں شک وشبہ میں نہ رہ ۔ قتادۃ فرماتے ہیں یعنی معراج والی رات میں ۔ حدیث میں ہے میں نے معراج والی رات حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں ۔ اسی رات میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ وسفید تھے سیدھے بال تھے ۔ میں نے اسی رات حضرت مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھائیں پس اس کی ملاقات میں شک وشبہ نہ کر ۔ آپ نے یقینا حضرت موسیٰ کو دیکھا اور ان سے ملے جس رات آپ کو معراج کرائی گئی ۔ حضرت موسیٰ کو ہم نے بنی اسرائیل کا ہادی بنادیا ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کتاب کے ذریعہ ہم نے اسرائیلیوں کو ہدایت دی ۔ جیسے سورۃ بنی اسرائیل میں ہے آیت ( وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ ‎وَكِيْلًا Ą۝ۭ ) 17- الإسراء:2 ) یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور بنی اسرائیل کے لیے ہادی بنادیا کہ تم میرے سواکسی کو کار ساز نہ سمجھو ۔ پھر فرماتا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اس کی نافرمانیوں کے ترک اس کی باتوں کی تصدیق اور اس کے رسولوں کی اتباع وصبر میں جمے رہے ہم نے ان میں سے بعض کو ہدایت کے پیشوا بنادیا جو اللہ کے احکام لوگوں کو پہنچاتے ہیں بھلائی کی طرف بلاتے ہیں برائیوں سے روکتے ہیں ۔ لیکن جب ان کی حالت بدل گئی انہوں نے کلام اللہ میں تبدیلی تحریف تاویل شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہ منصب چھین لیا ان کے دل سخت کردئیے عمل صالح اور اعتقاد صحیح ان سے دور ہوگیا ۔ پہلے تو یہ دنیا سے بچے ہوئے تھے حضرت سفیان فرماتے ہیں یہ لوگ پہلے ایسے ہی تھے لہذا انسان کے لئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی پیشوا ہو جس کی یہ اقتدا کرکے دنیا سے بچا ہوا رہے آپ فرماتے ہیں دین کے لئے علم ضروری ہے جیسے جسم کے لئے غذا ضروری ہے ۔ حضرت سفیان سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول کے بارے میں سوال ہوا کہ صبر کی وجہ سے ان کو ایسا پیشوا بنادیا کہ وہ ہمارے حکم کی ہدایت کرتے تھے ۔ آپ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے تمام کاموں کو اپنے ذمہ لے لیا اللہ نے بھی انہیں پیشوا بنادیا ۔ چنانچہ فرمان ہے ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکمت اور نبوت دی اور پاکیزہ روزیاں عنایت فرمائیں اور جہاں والوں پر فضلیت دی ۔ یہاں بھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ جن عقائد واعمال میں ان کا اختلاف ہے ان کا فیصلہ قیامت کے دن خود اللہ کرے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

231کہا جاتا ہے کہ اشارہ ہے اس ملاقات کی طرف جو معراج کی رات نبی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ہوئی، جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نمازوں میں تخفیف کرانے کا مشورہ دیا تھاـ 232' اس ' سے مراد کتاب (تورات) ہے یا خود حضرت موسیٰ علیہ السلام۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢٤] اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی آیات سے منہ موڑنے کا ذکر تھا۔ اسی نسبت سے یہاں تورات کا ذکر ہوا جو قرآن کے بعد سب الہامی کتابوں سے زیادہ مشہور ہے۔ تورات صرف بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کی کتاب تھی جبکہ یہ قرآن پوری بنی نوع انسان کے لئے کتاب ہدایت ہے۔ [ ٢٥] اس جملہ میں خطاب اگرچہ رسول اللہ کو ہے مگر مخاطب سارے مومنین ہیں۔ کیونکہ نبی سب سے پہلے خود اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے۔ پھر دوسروں کو ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے۔ لہذا منزل من اللہ کلام ہر رسول کا شک کرنا حالات سے ہے۔ اور ایسا انداز خطاب عموماً تاکید مزید کے لئے آتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو کسی قیمت پر بھی اس میں شک نہ کرنا چاہئے۔ بعض علماء نے اس آیت لقاءہ میں لا کی ضمیر کو موسیٰ کی طرف راجع سمجھا ہے اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ آپ کی موسیٰ سے اسی دنیا کی زندگی میں ضرور ملاقات ہوگی اور آپ کو اس ملاقات کے بارے میں شک میں رہنا چاہئے۔ کہ آپ کی حضرت موسیٰ سے یہ ملاقات معراج کے موقعہ پر چھٹے آسمان پر ہوئی تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّــقَاۗىِٕهٖ : ” لِّــقَاۗىِٕهٖ “ کی ضمیر ” الکتب “ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے اور لفظ ” موسیٰ “ کی طرف بھی۔ پہلی صورت میں وہی بات دہرائی ہے جو سورت کے شروع میں فرمائی تھی کہ اس لاریب کتاب کا نازل کرنا رب العالمین کی طرف سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی، اب آپ کو کتاب ملی ہے، تو آپ اس کتاب کے ملنے میں کسی قسم کے شک میں مبتلا نہ ہوں۔ ہماری طرف سے کتاب کا عطا کیا جانا کوئی نئی بات نہیں، ہم پہلے بھی رسولوں کو کتابیں عطا کرتے رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) [ الأحقاف : ٩ ] ” کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ (یہ کہ) تمھارے ساتھ (کیا) ، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے اور میں تو بس واضح ڈرانے والا ہوں۔ “ اس میں اگرچہ اول مخاطب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، مگر مراد ہر سننے والا ہے کہ کوئی بھی سننے والا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب ملنے میں کسی قسم کے شک میں نہ رہے، آپ کو کتاب ملنا ایسے ہی ہے جیسے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی، یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اس تفسیر کے مطابق ” الکتب “ سے مراد خاص تورات نہیں، جنس کتاب ہے، یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تو آپ بھی کتاب ملتے ہی کوئی شک نہ کریں۔ اور ” لِقَاءٌ“ سے مراد کتاب کا ملنا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ ) [ النمل : ٦ ] ” اور بلاشبہ یقیناً تجھے قرآن ایک کمال حکمت والے، سب کچھ جاننے والے کے پاس سے عطا کیا جاتا ہے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے قریب ترین پیغمبر اگرچہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں، مگر ایک تو تمام بنی اسرائیل ان پر ایمان نہیں لائے اور ایک یہ کہ وہ بھی تورات ہی کے احکام پر عمل کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بجائے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دینے کا ذکر فرمایا۔ بعض مفسرین نے ” الکتب “ کی طرف ضمیر لوٹانے کی صورت میں یہ معنی کیا ہے کہ آپ موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب ملنے کے بارے میں شک نہ کریں۔ دوسری صورت میں یعنی جب ” لقائه “ کی ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف جا رہی ہو تو معنی یہ ہوگا کہ آپ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں کسی قسم کے شک میں نہ رہیں، جو معراج کی رات بیت المقدس میں اور چھٹے آسمان پر ہوئی، جیسا کہ صحیح بخاری اور دوسری کتب احادیث میں مذکور ہے۔ ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( رَأَیْتُ لَیْلَۃَ أُسْرِيَ بِيْ مُوْسٰی رَجُلاً آدَمَ طُوَالاً جَعْدًا، کَأَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْءَۃَ ، وَ رَأَیْتُ عِیْسٰی رَجُلاً مَرْبُوْعًا مَرْبُوْعَ الْخَلْقِ إِلَی الْحُمْرَۃِ وَ الْبَیَاضِ ، سَبْطَ الرَّأْسِ ، وَرَأَیْتُ مَالِکًا خَازِنَ النَّارِ وَ الدَّجَّالَ فِيْ آیَاتٍ أَرَاہُنَّ اللّٰہُ إِیَّاہُ ، فَلاَ تَکُنْ فِيْ مِرْیَۃٍ مِنْ لِّقَاءِہِ ) [ بخاري، بدء الخلق، باب إذا قال أحدکم آمین و الملائکۃ في السماء۔۔ : ٣٢٣٩ ] ” میں نے اس رات جب مجھے رات کو لے جایا گیا، موسیٰ ( (علیہ السلام) ) کو دیکھا، بہت لمبے گٹھے ہوئے جسم یا گھونگریالے بالوں والے، گویا وہ شنوءہ قبیلے کے آدمیوں سے ہیں اور میں نے عیسیٰ ( (علیہ السلام) ) کو دیکھا، میانہ قد، سرخی اور سفیدی کی طرف مائل سیدھے بالوں والے اور میں نے جہنم کے دربان مالک اور دجال کو دیکھا، من جملہ ان کئی اور نشانیوں کے جو اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھائیں۔ (سورۂ سجدہ میں اسی کا ذکر ہے کہ) پس تو اس کی ملاقات کے بارے میں کسی شک میں نہ رہ۔ “ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : ” جعلنہ “ میں ” ہٗ “ کی ضمیر کتاب کے لیے ہے، یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دی جانے والی کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنادیا۔ پہلے اسی مضمون کی آیت سورة بنی اسرائیل (٢) میں گزر چکی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The word: لِقَاء (liqa& ) in the first verse (23) cited above: فَلَا تَكُن فِي مِرْ‌يَةٍ مِّن لِّقَائِهِ (so do not be in doubt about receiving it) means meeting. Whose meeting with whom? In determining it precisely in the verse, the sayings of commentators differ. According to one of these, the pronoun in: لِّقَائِهِ (liga&ihi) has been taken to be reverting to: اَلکِتَاب (al-hitab: the Book), that is, the Qur&an, which releases the sense that &the way Allah Ta’ ala gave the Book to Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، you too should entertain no doubt about receiving your Book.& This is supported by similar words used about the Qur&an in another verse: وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْ‌آنَ (And indeed you [ 0 Muhammad ] do receive the Qur&an - An-Naml, 27:6) (Bayan ul-Qur&an, Khulasah Tafsir) On the other hand, its tafsir from Sayyidna Ibn ` Abbas and Qatadah (رض) has been reported as follows: The pronoun in: لِّقَائِهِ (liqa&ihi: read as &meeting him& ) reverts to Sayyidna Musa (علیہ السلام) and given in this verse is the news that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) will be meeting Sayyidna Musa (علیہ السلام) and it has been said that he should have no doubt in the eventuality of his meeting with Sayyidna Musa (علیہ السلام) . Accordingly, a meeting in the night of al-Mi` raj (the ascent to the heavens) stands proved on the authority of Sahih Ahadith. Then, also proved is the meeting on the day of Qiyamah. And Hasan al-Basri (رح) explains it by saying: The way Sayyidna Musa (علیہ السلام) was given a Book, then people belied and harassed him, the prophet of Islam too should anticipate that he will have to face similar treatment at the hands of his people. Therefore, he should not grieve over the pains inflicted by disbelievers. In fact, he should take that as the blessed practice of prophets, and endure.

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (آپ ہی کی طرح) کتاب دی تھی (جس کی اشاعت میں ان کو تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں، اسی طرح آپ کو بھی برداشت کرنا چاہئے، ایک تسلی تو یہ ہوئی، پھر اسی طرح آپ کو بھی کتاب دی) سو آپ (اپنی) اس (کتاب) کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجئے۔ (کقولہ تعالیٰ (آیت) وانک لتلقی القرآن، مطلب یہ کہ آپ صاحب کتاب صاحب خطاب ہیں پس جب آپ اللہ کے نزدیک ایسے مقبول ہیں تو اگر مشتے چند احمق آپ کو قبول نہ کریں تو کوئی غم کی بات نہیں، ایک تسلی کی بات یہ ہوئی) اور ہم نے اس (کتاب موسیٰ ) کو بنی اسرائیل کے لئے موجب ہدایت بنایا تھا (اسی طرح آپ کی کتاب سے بہتوں کو ہدایت ہوگی، آپ خوش رہئے، ایک تسلی یہ ہوئی) اور ہم نے ان (بنی اسرائیل) میں بہت سے (دین کے) پیشوا بنا دیئے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے، جبکہ وہ لوگ (تکلیف پر) صبر کئے رہے، اور ہماری آیتوں کا یقین رکھتے تھے (اس لئے ان کی اشاعت اور خلق کی ہدایت میں مشقت گوارا کرتے تھے، یہ تسلی ہے مومنین کو کہ تم لوگ صبر کرو، اور جب تم صاحب یقین ہو اور یقین کا مقتضا صبر کرنا ہے تو تم کو صبر ضروری ہے، اس وقت ہم تم کو بھی ائمہ دین بنادیں گے یہ تو تسلی دنیا کے اعتبار سے ہے اور ایک تسلی آخرت کے اعتبار سے تم کو رکھنا چاہئے اور وہ امر موجب تسلی یہ ہے کہ) آپ کا رب قیام کے روز ان سب کے آپس میں (عملی) فیصلہ ان امور میں کر دے گا جن میں یہ باہم اختلاف کرتے تھے (یعنی مومن کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں ڈال دے گا اور قیامت بھی کچھ دور نہیں، اس سے بھی تسلی حاصل کرنا چاہئے اور اس مضمون کو سن کر کفار دو شبہ کرسکتے تھے، ایک یہ کہ ہم اس کو نہیں مانتے کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارا کفر پسند ہے جیسا یفصل سے مفہوم ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم قیامت ہی کو ناممکن سمجھتے ہیں، آگے دونوں کے دفع کے لئے دو مضمون ہیں، اول یہ کہ ان کو جو کفر کے مبغوض ہونے میں شبہ ہے تو) کیا ان کو یہ امر موجب رہنمائی نہیں ہوا کہ ہم ان سے پہلے (ان کے کفر و شرک ہی کے سبب) کتنی امتیں ہلاک کرچکے ہیں (کہ ان کے طریق ہلاکت سے وہ نیز نبی کی پیشن گوئی کے بعد بطور خرق عادت کے واقع ہونے سے خدا کا غضب ٹپکتا تھا جس سے مبغوض ہونا کفر کا صاف واضح ہوتا ہے) جن کے رہنے کے مقامات میں یہ لوگ (اثنائے سفر شام میں) آتے جاتے (گزرتے) ہیں اس (امر) میں (تو) صاف نشانیاں (مبغوضیت کفر کی موجود) ہیں کیا یہ لوگ (ان گزشتہ امم کے قصص) سنتے نہیں ہیں (کہ مشہور ہیں اور زبانوں پر مذکور ہیں دوسرا مضمون یہ کہ ان کو جو قیامت میں شبہ عدم امکان کا ہے تو) کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ ہم (بادلوں یا نہروں وغیرہ کے ذریعہ سے) خشک زمین کی طرف پانی پہنچاتے ہیں پھر اس کے ذریعہ سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس سے ان کے مواشی اور وہ خود بھی کھاتے ہیں تو کیا (اس بات کو شب وروز) دیکھتے نہیں ہیں (یہ صاف نمونہ ہے مر کز زندہ ہونے کا، جیسا کئی جگہ اس کی تقریر گزری ہے، پس دونوں شبہ رفع ہوگئے) اور یہ لوگ (قیامت اور فیصلہ کا ذکر سن کر بطور استعجال و استہزا کے یوں) کہتے ہیں کہ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو تو (بتلاؤ) یہ فیصلہ کب ہوگا، آپ فرما دیجئے کہ (تم عبث اس کا تقاضا کرتے ہو تمہارے لئے تو وہ پوری مصیبت کا دن ہے کیونکہ) اس فیصلہ کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا (بالکل) نفع نہ دے گا (اور یہی ایک صورت ان کے بچاؤ کی تھی اور وہی مفقود ہے) اور (نفع نجات تو کیا ہوتا) ان کو مہلت بھی (تو) نہ ملے گی سو (اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی باتوں کا خیال نہ کیجئے (جن کے خیال سے غم ہوتا ہے) اور آپ (فیصلہ موعود کے) منتظر رہئے یہ بھی (اپنے زعم میں آپ کے ضرر کے) منتظر ہیں (کقولہم (آیت) نتربص بہ ریب المنون، مگر معلوم ہوجائے گا کس کا انتظار مطابق واقع کے ہے اور کس کا نہیں، کقولہ تعالیٰ فی جوابہم (آیت) قل تربصوا فانی معکم من المتربصین۔ معارف ومسائل (آیت) فلاتکن فی مریة من لقاہ، لقاء کے معنی ملاقات کے ہیں، اس آیت میں کس کی ملاقات کس سے مراد ہے ؟ اس میں اہل تفسیر کے اقوال مختلف ہیں، ان میں ایک وہ ہے جس کو خلاصہ تفسیر میں اختیار کیا گیا ہے، کہ لقاہ کی ضمیر کتاب یعنی قرآن کی طرف راجع قرار دے کر مطلب یہ لیا گیا کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے کتاب دی آپ بھی اپنی کتاب کے آنے میں کوئی شک نہ کریں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں قرآن کے متعلق ایسے الفاظ آئے ہیں (آیت) و انک لتلقی القرآن۔ اور حضرت ابن عباس اور قتادہ سے اس کی تفسیر اس طرح منقول ہے کہ لقاہ کی ضمیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے، اور اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ اور فرمایا ہے کہ آپ اس میں شک نہ کریں کہ آپ کی ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوگی۔ چناچہ ایک ملاقات شب معراج میں ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، پھر قیامت میں ملاقات ہونا بھی ثابت ہے۔ اور حضرت حسن بصری نے اس کی یہ تفسیر فرمائی ہے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی گئی اور لوگوں نے اس کی تکذیب کی اور ان کو ستایا۔ آپ بھی یقین رکھیں کہ یہ سب چیزیں آپ کو بھی پیش آئیں گی۔ اس لئے آپ کفار کی ایذاؤں سے دلگیر نہ ہوں بلکہ اس کو سنت انبیاء سمجھ کر برداشت کریں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رکوع نمبر 16 وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِيْ مِرْيَۃٍ مِّنْ لِّــقَاۗىِٕہٖ وَجَعَلْنٰہُ ہُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۝ ٢٣ۚ آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو مری المِرْيَةُ : التّردّد في الأمر، وهو أخصّ من الشّكّ. قال تعالی: وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] والامتراء والممَارَاة : المحاجّة فيما فيه مرية . قال تعالی: قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] ( م ر ی) المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد ہوتا ہے ۔ کے ہیں اور یہ شک سے خاص قرآن میں ہے : وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے۔ الامتراء والمماراۃ کے معنی ایسے کام میں جھگڑا کرنا کے ہیں ۔ جس کے تسلیم کرنے میں تردد ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] یہ سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں ۔ لقی اللِّقَاءُ : مقابلة الشیء ومصادفته معا، وقد يعبّر به عن کلّ واحد منهما، يقال : لَقِيَهُ يَلْقَاهُ لِقَاءً ولُقِيّاً ولُقْيَةً ، ويقال ذلک في الإدراک بالحسّ ، وبالبصر، وبالبصیرة . قال : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] ، وقال : لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . ومُلَاقَاةُ اللہ عز وجل عبارة عن القیامة، وعن المصیر إليه . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] ( ل ق ی ) لقیہ ( س) یلقاہ لقاء کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں اور ان دونوں معنی میں سے ہر ایک الگ الگ بھی بولاجاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] اور تم موت ( شہادت ) آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے اور ملاقات الہی سے مراد قیامت کا بپا ہونا اور اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے دوبرو حاضر ہونا ہے ۔ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم نے حضرت موسیٰ کو توریت دی تھی تو آپ کی حضرت موسیٰ سے معراج کی شب میں جو بیت المقدس میں ملاقات ہوئی اس کے بارے میں کچھ شک نہ کیجیے اور ہم نے کتاب موسیٰ کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنایا تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٣ (وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ ) (فَلَا تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآءِہٖ ) یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو یہاں سلسلہ کلام کے درمیان میں آیا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شب معراج کے موقع پر ہونے والی ملاقات کی طرف اشارہ ہے۔ اس حوالے سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! شب معراج میں آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو ملاقات کی تھی اس کے بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے ‘ وہ یقیناً موسیٰ (علیہ السلام) ہی تھے جو آپ کو وہاں ملے تھے۔ لیکن آیت کا زیادہ قرین قیاس مفہوم جو سیاق وسباق کے ساتھ بھی مناسبت رکھتا ہے وہ یہی ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا کی تھی اور اس کتاب کا موسیٰ (علیہ السلام) کو ملنا ہماری ہی طرف سے تھا۔ اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کتاب یعنی قرآن کا ملنا بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اس بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ یہ انداز بیان سمجھنے کے لیے قرآن کا وہی اسلوب ذہن میں رکھئے جس کا ذکر قبل ازیں بار بار ہوچکا ہے کہ اکثر ایسے احکام جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صیغۂ واحد میں مخاطب کرکے دیے جاتے ہیں وہ دراصل امت کے لیے ہوتے ہیں۔ چناچہ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ میں گویا ہم سب مخاطب ہیں اور اس کا مفہوم دراصل یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تم لوگوں کو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب (تورات) ملی تھی وہ بھی انہیں اللہ ہی نے دی تھی اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کتاب (قرآن) کا ملنا بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

35 The address apparently is to the Holy Prophet, but the real addressees are the people who doubted his Prophethood and the revelation of the Divine Book to him. From here the discourse turns to the same theme that was mentioned in the beginning of the Surah (vv. 2-3). The disbelievers of Makkah were saying: "No book has come down to Muhammad (upon whom be Allah's peace) from Allah. He 'has himself forged it, but claims that it has been sent down by Allah." The first answer to this was given in the initial verses. This is the second answer. The first thing said in this regard is: "O Prophet, these ignorant people regard it as impossible that a Book should be sent down to you, and want that every other person also should at least be involved in suspicion about it even if he does not reject it altogether. But the revelation of a Book to a servant from Allah is not a novel and new event, which might have occurred for the first time today in human history. Before this Books have been sent down to several Prophets, the most welt-known among these being the Book which was sent down to the Prophet Moses (peace be upon him). A Book of the same nature has been sent down to you now. Therefore, there is nothing odd and strange in this, which may cause doubts in the minds of the people. " 36 That is, "That Book was made a means of guidance for the children of Israel, and this Book, likewise, has been sent down for your guidance. " As has already been elucidated in verse 3, the full meaning of this verse can be understood only if one keeps in view the historical background. History bears evidence, and the disbelievers of Makkah also were not unaware, that the children of Israel had been passing miserable lives for centuries in Egypt. At such a. Juncture, Allah. raised the Prophet Moses among them, and delivered them from bondage. Then He sent down the Book among them, because of which the same very suppressed and subdued nation got guidance and became a prominent nation in the world. Alluding to this historical background, the Arabs arc being told: 'Just as that Book was sent for the guidance of the Israelites, so has this Book been sent for your guidance. "

سورة السَّجْدَة حاشیہ نمبر :35 خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے ، مگر دراصل مخاطب وہ لوگ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت میں ، اور آپ کے اوپر کتاب اِلٰہی کے نازل ہونے میں شک کر رہے تھے ۔ یہاں سے کلام کا رخ اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جو آغاز سورہ ( آیات نمبر ۲ اور ۳ ) میں بیان ہوا تھا ۔ کفار مکہ کہہ رہے تھے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر خدا کی طرف سے کوئی کتاب نہیں آئی ہے انہوں نے اسے خود گھڑ لیا ہے اور دعویٰ یہ کر رہے ہیں کہ خدا نے اسے نازل کیا ہے ۔ اس کا ایک جواب ابتدائی آیات میں دیا گیا تھا ۔ اب اس کا دوسرا جواب دیا جا رہا ہے ۔ اس سلسلے میں پہلی بات جو فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اے نبی یہ نادان لوگ تم پر کتاب الٰہی کے نازل ہو نے کو اپنے نزدیک بعید از امکان سمجھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر دوسرا شخص بھی اگر اس کا انکار نہ کرے تو کم از کم اس کے متعلق شک ہی میں پڑ جائے ۔ لیکن ایک بندے پر خدا کی طرف سے کتاب نازل ہونا ایک نرالا واقعہ تو نہیں ہے جو انسانی تاریخ میں آج پہلی مرتبہ ہی پیش آیا ہو ۔ اس سے پہلے متعدد انبیاء پر کتابیں نازل ہو چکی ہیں جن میں سے مشہور ترین کتاب وہ ہے جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام ) کو دی گئی تھی ۔ لہٰذا اسی نوعیت کی ایک چیز آج تمہیں دی گئی ہے تو آج آخر اس میں انوکھی بات کیا ہے جس پر خواہ مخواہ شک کیا جائے ۔ سورة السَّجْدَة حاشیہ نمبر :36 یعنی وہ کتاب بنی اسرائیل کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنائی گئی تھی اور یہ کتاب اسی طرح تم لوگوں کی رہنمائی کے لئے بھیجی گئی ہے جیسا کہ آیت نمبر ۳ میں پہلے بیان کیا جا چکا ہے ۔ اس ارشاد کی پوری معنویت اس کے تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھنے سے ہی سمجھ میں آسکتی ہے ۔ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے اور کفار مکہ بھی اس سے ناواقف نہ تھے بنی اسرائیل کئی صدی تک مصر میں انتہائی ذلت و نکبت کی زندگی بسر کر رہے تھے ۔ اس حالت میں اللہ تعا لیٰ نے ان کے درمیان مو سیٰ ( علیہ السلام ) کو پیدا کیا ان کے ذریعہ سے اس قوم کو غلامی کی حالت سے نکالا پھر ان پر کتاب نازل کی اور اس کے فیض سے وہی دبی اور پسی ہوئی قوم ہدایت پاکر دنیا میں ایک نامور قوم بن گئی ۔ اس تاریخ کی طرف اشارہ کر کے اہل عرب سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے وہ کتاب بھیجی گئی ہے ، اسی طرح تمہاری ہدایت کے لئے یہ کتاب بھیجی گئ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

11: اِس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات کے ملنے میں کوئی شک نہ کرو، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی گئی تھی، اسی طرح آپ کو بھی کتاب دی گئی ہے، لہٰذا اس قرآن کے منجانب اللہ وصول کرنے میں آپ کوئی شک نہ کریں، اور جب آپ صاحب کتاب رسول ہیں تو اِن کافروں کی بنائی ہوئی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں۔ ایک تیسری تفسیر بعض حضرات نے یہ کی ہے کہ ’’اِس کے ملنے‘‘ سے مراد کافروں کو اس عذاب کا ملنا ہے جس کا ذکر پچھلی آیات میں آیا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٣ تا ٢٤۔ اگرچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مابین کہ زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) رسول ہوئے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نہیں مانتے اور حضرت موسیٰ اور تو راہ کو نصاریٰ لوگ مانتے ہیں اور یہود سے اور قریش سے بڑی دوستی تھی اور قریش یہود کو مانتے تھے اس واسطے بہ نسبت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر قرآن شریف میں زیادہ ہے تاکہ یہود نصاریٰ قریش تینوں قوموں کے اوپر قرآن شریف کی نصیحت کا اثر ہو یہاں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لیے فرمایا ہے کہ قریش تینوں قوموں کے اوپر قرآن شریف کی نصیحت کا اثر یہاں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لیے فرمایا ہے کہ قریش اس قصہ میں سے اس بات کو سمجھیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے نبی اور بادشاہ بنی اسرائیل میں ہوئے اب اب نبوت تو نبی آخرالز ماں کے بعد نہیں ہوسکتی لیکن قریش بھی اگر نبی آخرالز ماں کی فرما نبرداری اختیار کریں گے تو دین اور دنیا کی دولت پاویں گے اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے جو لوگ قریش میں سے اسلام لائے اور اللہ کے رسول کے فرمانبردار بن گئے جس طرح بارشاہت دنیا میں ان کو ملی اس سے تاریخ کی کتابیں بھری ہوئی ہیں اور جو مرتبہ ان کو عقبے میں ملے گا اس کے حال کے دو سچے گواہ دنیا میں پیدا ہوسکتیں ہے اب بھی جس کسی کو دین اور دنیا کی خوبی درکار ہو وہ سچے دل سے اللہ کے رسول کی فرمانبرداری اختیار کرے پھر اللہ کے وعدہ کا ظہور جیسا جب تھا وہ اب بھی موجود ہے۔ صحیح مسلم میں (علیہ السلام) کو نماز بڑھتے ہونے دیکھا۔ صحیح بخاری ومسلم میں مالک بن صعصعہ (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے (٢ ؎ مشکوٰۃ باب فی المعراج فصل اول۔ ) کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معراج کی رات چھٹے آسمان پر موسیٰ (علیہ السلام) سے ملے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے مشورہ کے موافق آپ نے پچاس نمازوں میں سے ٤٥ نمازوں کی تخفیف کی اللہ تعالیٰ سے التجا کی اور آپ کو وہ التجا منظور ہو کر پچاس نمازوں کی جگہ پانچ نمازیں رہ گئیں جواب لوگ پڑھتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موسیٰ (علیہ السلام) کی ملاقات میں یہ شبہ پڑا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تھوڑی دیر پہلے تو بیت المقدس کے راستہ میں نظر آئے تھے پھر ایسے جلدی مجھ سے پہلے وہ چھٹے آسمان پر کیوں کر پہنچ گئے۔ فلاتکن فی مریۃ من یقائہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے اسی شبہ کو رفع فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ظاہر کرنے کے لیے ایسی جلدی موسیٰ (علیہ السلام) کو ملک شام سے چھٹے آسمان پر پہنچا دیا اس لیے اے مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے بعضے لوگ اچھے ہوئے اور بعضے نہیں ہوئے جیسے مثلا نبی آخرالزمان ! تمہارے زمانہ کے بنی اسرائیل ہیں کہ انہوں نے آسمانی کتابوں کو بدل کر طرح طرح کا اختلاف دنیا میں پھیلا دیا پھر دیا پھر فرمایا کہ ان لوگوں کے اختلاف کا اور مشرکین مکہ نے ملت ابراہیمی میں جو اختلاف ڈال رکھا ہے اس کا قیامت کے دن پورا فیصلہ ہوجائے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(32:23) الکتب۔ اس سے مراد جنس کتاب ہے یا ال عہد کا ہوسکتا ہے اور الکتب سے مراد تورات ہے۔ لاتکن۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو نہ ہو۔ کون مصدر۔ مرید۔ اسم مصدر۔ تردد۔ یہ شک اور ریب سے خاص ہے گویا جس شک سے تردد پیدا ہو۔ اس کو مریۃ کہتے ہیں۔ مری مادہ۔ لقائہ : لقی یلقی (سمع) لقاء کے معنی کسی کے آمنے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں۔ اور ان دونوں معنوں میں سے ہر ایک پر الگ الگ بھی بولا جاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا (18:62) اس سفر سے ہم کو بہت تھکان ہوگئی ہے۔ یہاں لقاء بمعنی تلقیہ بھی ہے جس کے معنی کسی چیز کو کسی کی طرف پھینکنے کے ہیں لیکن اللہ کی طرف سے تلقیہ کے معنی وحی اور عطا کے ہیں جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وانک لتلقی القرآن من لدن حکیم علیہم (27:6) اور تم کو قرآن (خدائے) حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔ لقائہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کس طرف راجع ہے ؟ اس میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) ضمیر جنس کتاب طرف راجع ہے ای لقائک الکتاب (ایسی ہی کتاب کا عطا کیا جانا) ۔ یعنی کتاب الٰہی کا کسی بندے پر نزال ہونا کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی انبیاء پر خدا کی طرف سے کتابیں نازل رہی ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کا نازل ہونا۔ یہ کفار کے اعتراض ام یقولون افترہ (آیت 3 سورة ہذا) کے جواب میں ہے۔ (2) ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے ای لقاء موسیٰ لیلۃ المعراج (معراج کی رات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات کرنا ۔ وغیرہ وغیرہ۔ فلا تکن فی مریۃ من لقائہ میں اگرچہ خطاب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے لیکن مراد مخاطبین کفار مکہ ہیں جو قرآن کے منزل من اللہ ہونے اور معراج کی رات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملنے میں شک کرتے تھے۔ (یہاں یہ جملہ معترضہ ہے) وجعلنہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب الکتب کی طرف راجع ہے۔ ھدی اسم ومصدر (باب ضرب) ہدایت کرنا۔ ہدایت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3” اس کے طعنے میں شک نہ کرے “ کے مفسرین (رح) نے کئی مطالب بیان کئے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موسیٰ ( علیہ السلام) سے ملاقات ہونے میں شک نہ کریں۔ چناچہ معراج کے موقع پر آسمان پر بھی اور بیت المقدس میں بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ان سے ملاقات ہوئی اور قیامت کے روز بھی ہوگی۔ تیسرایہ کہ جس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب ملنے میں شک نہ کریں۔ تیسرایہ کہ جس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب ( توراۃ) دی گئی اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کتاب ( قرآن) دی گئی ہے اس کے ہماری طرف سے ہونے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے وغیرہ ( شوکانی)4” وجعلناہ “ میں ” ہ “ کی ضمیر کتاب کے لیے ہے۔ پہلے اسی مضمون کی آیت سورة اسراء میں گزر چکی ہے ( دیکھئے آیت 21) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 23 تا 30 اسرارو معارف اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور انہیں اس راہ میں بیشمار مشکلات سے گزرنا پڑا مگر بالآخر وہی کتاب بنی اسرائیل کی ہدایت کا سبب بنی کہ یہی سنت الہی چلی آرہی ہے انبیاء کو کتاب عطا ہوتی ہے تو ہر آدمی کو ماننے نہ ماننے کا اختیار بھی لہذا نہ ماننے والے ضرور راستہ روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لہذا آپ بھی یقین رکھیے اور دلگیر مت ہوں آپ کو کتاب عطا ہورہی ہے تو مخالفت بھی ہوگی مگر انجام کار غالب ہوں گے اور یہی کتاب ہدایت کا سبب ہوگی۔ فی مریۃ من لقائہ : اور مفسرین کرام نے اس کی دوسری تفسیر یہ کی ہے کہ خود موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات یقینا ہوگی جو شب معراج کو ہوئی اور جس طرھ وہ فرعون اور آل فرعون پر غالب آئے آپ بھی کفار پر غالب ہوں گے۔ امام کے اوصاف اور بنی اسرائیل سے ہم نے ائمہ ہدایت بنائے کہ اللہ کے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے جب انہوں نے صبر یعنی اتباع شریعت میں ثابت قدمی مشکلات تکالیف کے باوجود عمل میں استقامت اور اللہ کی آیات پہ یقین یعنی شریعت کا علم حاصل کیا کہ یہاں لفظ امام کے ساتھ ہدایت ارشاد فرما کر ہدایت یافتہ لوگوں کے پیشوا فرمایا ورنہ کفار کے پیشوا بھی امام کہلاتے ہیں نیز دو اوصاف کو شرط قرار دیا عمل اور علم جبکہ عادتا علم پہلے ہوتا ہے مگر یہاں عمل کو پہلے ارشاد فرما کر ظاہر فرمایا ہے کہ نغیر عمل کے علم کا اعتبار نہیں۔ اور آپ کا پروردگار قیامت کے روز لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کردیں گے یعنی جب مومن و کافر اپنے اپنے مقام پر پہنچیں گے تو جھگڑا ختم ہوجائے گا۔ اور آج بھی کفار کو کفر کے انجام سے باخبر ہونے کے لیے اپنے سے پہلے کافروں کا انجام دیکھ لینا چاہیے کہ کتنی شادو آباد اقوام کفر کے باعث تباہ برباد کردی گئیں۔ دنیا کا نظام تخلیق آخرت پہ دلیل ہے : ان باتوں میں بہت واضح دلائل موجود ہیں کیا انہیں سنائی نہیں دیتا اور قدرت باری کو یہ اپنی روزمرہ زندگی میں نہیں دیکھتے کہ کس طرح بارش برسا کر اسے ندیوں نالوں اور دریاؤں میں چلا کر خشک زمین میں پہنچاتے ہیں تو زمین سے رنگا رنگ روئیدگی پیدا ہونے لگتی ہے جس سے ان کے جانور بھی پلتے ہیں اور خود وہ بھی غذا حاصل کرتے تو یہ ایک ایک ذرے کو حیات تقسیم کرنے والا قادر مطلق بھلا انہیں دوبارہ کیسے زندہ نہیں کرسکتا کیا یہ ان باتوں کو نہیں دیکھتے۔ پھر کہتے بھلا آپ کے غلبے کا یا قیامت کا وقت کونسا ہے کب ایسا ہوگا اگر آپ سچ کہتے ہیں تو پھر ایسا ہو کیوں نہیں جاتا تو فرما دیجیے کہ جب تمہاری تباہی کا وقت آئے گا تو تمہیں کوئی خوشی نہ ہوگی بلکہ بدر میں موت آئے یا قیامت قائم ہو عندالموت تو تمہاری توبہ بھی قبول نہ ہوگی اور جب آخرت سامنے آجائے گی تو تم بھی مان لوگے مگر اس وقت تمہارا وہ مان لینا بھی تمہارے کام نہ آئے گا اور نہ کفار کو مہلت دی جائے گی۔ آپ ان کی پرواہ مت کیجیے اور وقت کا انتظار فرمائیے جب ان کی تباہی ہوگی کہ یہ بھی اسی انتظار میں ہیں۔ سورة سجدہ تمام ہوئی

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (23 تا 30) ۔ مریتہ (شک و شبہ) ۔ ائمتہ (امام) (پیشوا۔ رہنما) ۔ یفصل (وہ فیصلہ کرتا ہے۔ کردے گا) ۔ یمشون (وہ چلتے ہیں) ۔ نسوق (ہم کھینچتے ہیں۔ لے جاتے ہیں) ۔ الجرز (خشک۔ مردہ) ۔ زرع (کھیتی) ۔ انعام (مویشی۔ جانور) ۔ انتظر (انتظار کر) ۔ تشریح : آیت نمبر (23 تا 30) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کفار عرب کے سامنے کتاب اللہ اور اس کی تعلیمات کو پیش کرتے تہ وہ نہ صرف اس کی شدید مخالفت کرتے بلکہ وہ اس کا مذاق اڑاتے، جملے کستے اور حق کی بات ماننے سے صاف انکار کردیتے تھے۔ اس صورت حال سے جہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شدید رنج ہوتا تھا وہیں آپ کے جاں نثار صحابہ کرام (رض) بھی بشری تقاضوں کی وجہ سے سخت رنجیدہ ہوجایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جان نثاروں کی تسلی اور اطمینان کے لئے فرمایا کہ آپ ان کفارو مشرکین کی باتوں سے رنجیدہ اور پریشان نہ ہوں اور نہ اپنے دل میں کسی طرح کا شک و شبہ آنے دیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں اپنے بہت سے رسولوں کو کتاب ہدایت دے کر بھیجا ہے جس کو ماننے والے لوگ جب بھی حق و صداقت پر ڈٹ گئے اور صبر و برداشت سے کام لیا تو ان کو امت کی رہنمائی اور رہبری کے لیے پیشوائیت و امامت کا اعلی مقام عطا کیا گیا۔ ارشاد ہے کہ کتاب اللہ کا نازل ہونا اور حق و صداقت کے راستے میں شدید تر حالات کا پیش آجانا کوئی ایسی انوکھی یا نئی بات نہیں ہے جس پر کفار باتیں بنا رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توریت جیسی کتاب ہدایت عطا کی گئی تھی جس سے بنی اسرائیل کی بھٹکی ہوئی قوم کو راہ ہدایت نصیب ہوئی اور جن لوگوں نے اللہ کی کتاب اور نبی کی رسالت کو مان کر صبر و تحمل اور برداشت سے ہر خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دین کو غالب کرنے کے لئے ہر طرح کی جدوجہد کی وہ دین و دنیا میں کامیاب وبا مراد ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ہمارا کلام ہے جو بھی اس کو مان کر اس پر عمل کرے گا اس کو دنیا اور آخرت کی عظمتیں نصیب ہوں گی لیکن جو اس کو نہیں مانتا یا اختلاف کرتا ہے تو اس کا فیصلہ قیامت کے دن کردیا جائے گا۔ فرمایا کہ آپ ان باتوں کی پرواہ نہ کیجئے اور پیغام حق پہنچانے میں کمی نہ کیجئے۔ فرمایا کہ ان کی ہدایت اور عبرت و نصیحت کے لئے تو گذری ہوئی قوموں کے کھنڈرات ہی کافی ہیں جن میں یا جن کے پاس سے یہ لوگ رات دن آتے جاتے رہتے ہیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ قوم عاد اور ثمود جو دنیا کی ترقی یافتہ عظیم قومیں تھیں جنہوں نے ایک اللہ کی عبادت و بندگی کو چھوڑ کر اپنے سیکڑوں بت بنالئے تھے اور ہر وہ طریقہ اپنا لیا تھا جس سے اللہ کی نافرمانی ہو تو پھر ان قوموں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا جن کے کھنڈرات اللہ کے غضب اور ان قوموں کی نافرمانیوں کی منہ بولتی تصویریں ہیں۔ اگر وہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی اپنی نافرمانیوں کو نہیں چھوڑ تے تو ان کو اپنے برے انجام کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ جب کفار عرب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کی غریبانہ زندگی کو دیکھتے تو اس کا بھی مذاق اڑاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج یہ اہل ایمان جس غربت اور مفلسی کی حالت میں ہیں یہ اسی طرح نہیں رہے گی بلکہ حالات بدلیں گے اور ان کو نہ صرف دنیا کی خوش حالی نصیب ہوگی بلکہ آخرت کی تمام کامیابیاں بھی ان کو عطا کی جائیں گی۔ اسی بات کو ایک محسوس مثال کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے۔ فرمایا کہ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ ایک خشک اور مردہ زمین کو دیکھ کر بظاہریہ ناممکن نظر آتا ہے کہ یہ زمین بھی کبھی سر سبز و شاداب ہوگی مگر پانی کے ایک ہی ریلے سے زمین کا رنگ بدل جاتا ہے۔ درختوں پر شادابی آجاتی ہے، کھیت لہلہانے لگتے ہیں، سبزہ ہر طرف نظر آنے لگتا ہے اور ہر طرف ایک زندگی اور بہار نظر آنے لگتی ہے۔ ایسی ایسی چیزیں اگنا شروع ہوجاتی ہیں جو انسانوں، چوپایوں اور دوسرے جان داروں کی غذابننا شروع ہوجاتی ہیں۔ فرمایا کہ اسی طرح دین اسلام کی دعوت اور صحابہ کرام (رض) کی حالت بےرنگ سی نظر آتی ہے مگر جب حق و صداقت پوری طرح نکھر کر اور ابھر کر سامنے آیے گی تو یر طرف ایمان کی روشنی سے دل جگمگا اٹھیں گے، رونقیں، بہاریں ہوں گی اور دنیاو آخرت میں سر بلندیاں حاصل ہونا شروع ہوجائیں گی۔ لہذا ان کا یہ کہنا کہ وہ فیصلے اور فتح کا دن کب آئے گا ایک بےمعنی سی بات نظر آتی ہے کیونکہ جب وہ فیصلے اور فتح کا دن آئے گا تو وہ دن کفار و مشرکین کے لئے کوئی اچھا دن نہ ہوگا کیونکہ اس دن نہ تو ان کا ایمان لاناقبول کیا جائے گا اور نہ سنبھلنے کا ان کو موقع دیا جائے گا۔ انہیں تو اس دن کے آنے سے پہلے ہی توبہ کرلینی چاہیے کیونکہ وقت گذرنے کے بعد صرف ایک پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے۔ اس وقت کو غنیمت چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان کفار کی فضول باتوں کی پرواہ نہ کیجئے۔ ان کو اپنی حالت پر چھوڑ دیجئے کیونکہ اللہ نے جس فیصلے کے دن کا وعدہ کر رکھا ہے وہ آکر رہے گا۔ آپ اس کا انتظار کیجئے۔ اور ان لوگوں کو اپنے خیالوں کی دنیا میں منتظر اور بھٹکنے لے لئے چھوڑ دیجئے۔ الحمدللہ سورة السجدہ کا ترجمہ و تشریح مکمل ہوا۔ اللہ ہمیں حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین واخر دعواناان الحمد للہ رب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ مطلب یہ کہ آپ صاحب کتاب صاحب خطاب ہیں، پس جب آپ اللہ کے نزدیک ایسے مقبول ہیں تو اگر مشتے چند احمق آپ کو قبول نہ کریں تو کوئی غم کی بات نہیں۔ 5۔ اسی طرح آپ کی کتاب سے بہتوں کو ہدایت ہوگی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں سے انتقام لیا ان میں آل فرعون بھی شامل ہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مختصر ذکر کرنے کے بعد آل فرعون کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ جس میں بنی اسرائیل کے لیے راہنمائی تھی اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں ایسے راہنما مقرر فرمائے جو اس کے حکم کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کرتے مگر لوگوں نے ان کی راہنمائی قبول کرنے کی بجائے ان کی مخالفت کی اور انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دیں جس پر راہنماؤں نے صبر سے کام کیا کیونکہ وہ اپنے رب کے ارشادات پر یقین رکھنے والے تھے کہ انہیں تکلیفوں کے بدلے ضرور اجر سے نوازا جائے گا۔ جن لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقرر کردہ راہنماؤں سے اختلاف کیا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔ بنی اسرائیل میں ائمہ مقرر کرنے سے مراد انبیاء عظام ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مبعوث کیے ان سے مراد بارہ رہنما بھی ہوسکتے ہیں جنہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے نائب کے طور پر بارہ قبیلوں کا نقیب مقرر کیا تھا یہاں پہلی آیت میں (فَلَا تَکَنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِنْ لِقَاءِہٖ ) کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں جس کا ایک معنٰی یہ ہے کہ کفار اپنے رب کی ملاقات یعنی قیامت کے دن کے منکر ہیں لیکن اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو اپنے رب کی ملاقات پر کامل یقین رہنا چاہیے کہ اس دن آپ کے اور آپ کے مخالفوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ بعض اہل علم نے ان الفاظ کا یہ بھی معنٰی لیا ہے کہ اس ملاقات سے مراد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معراج میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہونے والی ملاقات ہے۔ (عَنْ اَبِیْ سَعِےْدِنِ الْخُدْرِیِّ (رض) قَالَ اِنَّ اُنَاسًا مِّنَ الْاَنْصَارِ سَاَلُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَاَعْطَاھُمْ حَتّٰی نَفِدَ مَا عِنْدَہُ فَقَالَ مَا ےَکُوْنُ عِنْدِیْ مِنْ خَےْرٍ فَلَنْ اَدَّخِرَہُ عَنْکُمْ وَمَنْ یَّسْتَعِفَّ ےُعِفَّہُ اللّٰہُ وَمَنْ یَّسْتَغْنِ ےُغْنِہِ اللّٰہُ وَمَنْ یَّتَصَبَّرْ ےُصَبِّرْہُ اللّٰہُ وَمَا اُعْطِیَ اَحَدٌ عَطَآءً ھُوَ خَےْرٌ وَّاَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ ) [ رواہ البخاری : باب الصَّبْرِ عَنْ مَحَارِمِ اللَّہِ ] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مال کیلئے سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مال دے دیا حتیٰ کہ جو مال آپ کے پاس تھا ختم ہوگیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے پاس جتنا بھی مال ہو میں کبھی انکار نہیں کروں گا لیکن جو شخص سوال کرنے سے خود کو بچائے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے بچائے گا اور جو شخص بےنیازی اختیار کریگا اللہ تعالیٰ اس کو غنی کر دیگا۔ جو شخص صبر کریگا اللہ تعالیٰ اسے صبر عنایت فرمائیگا۔ کوئی شخص صبر سے بہتر اور فراخی والے تحفہ سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں دیا گیا۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی جو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا سرچشمہ تھی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی رہنمائی کے لیے دینی رہنما مقرر فرمائے۔ ٣۔ قوم کے راہنما کو صابر ہونا چاہیے۔ ٤۔ رہنما کو اللہ تعالیٰ پر یقین ہونا چاہیے۔ کہ اسے ضرور بہترین بدلہ دیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن صبر کے فوائد : ١۔ اللہ کی رفاقت اور دستگیری صبر کرنے والوں کے لیے ہے۔ (البقرۃ : ١٥٢) ٢۔ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کرو۔ (البقرۃ : ١٥٢) ٣۔ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر دیا جائے گا۔ (الزمر : ١٠) ٤۔ بیشک جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا انہیں کوئی خوف اور حز ن و ملال نہیں ہوگا۔ (الاحقاف : ١٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولقد اتینا موسیٰ الکتب ۔۔۔۔۔۔۔ فیما کانوا فیہ یختلفون (23 – 25) فلا تکن فی مریۃ من لقائہ (32: 23) ” لہٰذا اس چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہئے “۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حق آپ کو دیا گیا ہے آپ اس پر ثابت قدم رہیں۔ یہی کافی ہے جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی اور ان دو رسولوں کی دو کتابوں میں یہی سچائی تھی۔ یہ تفسیر اس تفسیر سے زیادہ اچھی ہے جو بعض مفسرین نے بیان کی ہے کہ اس آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شب معراج میں حضرت موسیٰ سے ملے تھے۔ غرض حضرت موسیٰ سے ملنے کے مقابلے میں اس سچائی کا ملنا زیادہ احسن ہے جو حضرت موسیٰ کو بھی ملی تھی اور دونوں رسول ایک ہی حق اور ایک ہی سچائی پر باہم مل گئے اور اس بات کا ذکر بیان موزوں ہے۔ یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ اس میں ان مصائب و شدائد کی طرف اشارہ ہے جو رسول اللہ اور مسلمان مخالفین کے ہاتھوں جھیل رہے تھے۔ رسول اللہ کی تکذیب ہو رہی تھی اور کفار اعراض کر رہے تھے ، اس لیے یہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ ثابت قدم رہو اور بعد کی آیات بھی اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ وجعلنا منھم ائمۃ ۔۔۔۔۔ بایتنا یوقنون (32: 24) ” اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر ایمان لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے “۔ یہاں مکہ میں چھوٹی سی مومن جماعت کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ تم اسی طرح صبر کرو جس طرح موسیٰ کے مختار مومنین نے صبر کیا اور جس طرح ان میں سے امام پیدا کیے گئے جو اللہ کی شریعت کے مطابق حکمرانی کرتے تھے ، تم میں سے بھی ایسے نام پیدا ہوں گے جو اسلامی شریعت کے مطابق حکمرانی کریں گے بشرطیکہ صبر کیا اور یقین کیا۔ رہا یہ سوال کہ بنی اسرائیل نے بعد کے ادوار میں اختلاف کیا تو وہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہی ان اختلافات کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ ان ربک ھو بفصل ۔۔۔۔۔ یختلفون (32: 25) ” یقینا تیرا رب ہی قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ باہم اختلاف کرتے رہے “۔ اب سیاق کلام مکذبین مکہ کو ذرا پیچھے انسانی تاریخ کے سامنے کھڑا کرتا ہے کہ ذرا دیدہ عبرت سے دیکھو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جن چیزوں میں اختلاف کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں قیامت کے دن فیصلہ فرما دے گا یہ تین آیات کا ترجمہ ہے، پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی (انہوں نے اس کی اشاعت میں تکلیفیں برداشت کیں) اور اب آپ کو یہ کتاب دی ہے یعنی قرآن مجید عطا فرمایا ہے آپ اس کتاب کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجیے یعنی آپ صاحب کتاب ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی آتی ہے، آپ کا بلند مرتبہ ہے، اس بلند مرتبہ کے ہوتے ہوئے اگر کج فہم آپ کی دعوت پر دھیان نہ دیں تو آپ غم نہ کریں، موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی گئی وہ محنت کرتے رہے اور ایذا دینے والوں کی باتوں پر صبر کرتے رہے۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ (فَلَا تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآءِہٖ ) کا خطاب گو بظاہر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے لیکن مقصود خطاب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ہے اور وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن مجید کے بارے میں کتاب اللہ ہونے میں شک تھا۔ حضرت حسن نے فرمایا کہ (لِّقَآءِہٖ ) کی ضمیر مجرور شدت اور محنت کی طرف راجع ہے جو کلام سے مفہوم ہو رہی ہے (فکانہ قیل : ولقد اٰتینا موسیٰ ھذا العبء الذی انت بسبیلہٖ فلا تمترانک تلقی مالقی ھو من الشدۃ والمحنۃ بالنّاس) (ذکرہ صاحب روح) (گویا کہ کہا گیا ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہی مشقت دی ہے جس مشقت کے راستہ پر آپ چل رہے ہیں پس آپ گھبراہٹ میں نہ پڑیں لوگوں کی طرف سے جو تکالیف و پریشانیاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پہنچیں وہ یقیناً آپ کو بھی پہنچیں گی) صاحب بیان القرآن نے اپنی تفسیر میں ضمیر کا مرجع تو کتاب ہی کو بتایا ہے البتہ شدت و محنت والی بات لے لی ہے ہم نے بھی ان کا اتباع کیا ہے اگرچہ صاحب روح المعانی آخر میں فرماتے ہیں : (ولا یخفی بعدہ) (اور اس توجیح کا بعید ہونا ظاہر ہے۔ ) (وَجَعَلْنٰہُ ھُدًی لِّبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ) اور ہم نے اس کتاب کو (جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دی تھی) بنی اسرائیل کے لیے سبب ہدایت بنایا تھا اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی کتاب بھی آپ کی امت کے لیے ہدایت کا سبب ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ ولقد اتینا الخ، یہ توحید پر نقلی دلیل ہے۔ یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کتاب دی اور اس میں بھی یہی دعوی مذکور تھا کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز اور عالم الغیب نہیں۔ اس لیے صرف اسی ہی کو پکارو اور اس کے سامنے شفیع غالب بھی کوئی نہیں۔ جو اس سے کام کراسکے۔ تو جس طرح مشرکین قرآن کے من جانب اللہ ہونے میں شک کرتے ہیں اسی طرح منکرین نے تورات کے بارے میں بھی شک کیا حالانکہ دونوں یعنی قرآن اور تورات من جانب اللہ ہیں لہذا تورات کے منزل من اللہ ہونے میں بھی کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ لقائہ لقاء مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے یا فاعل کی طرف پہلی صورت میں فاعل مقدر ہوگا اور دوسری صورت میں مفعول۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے کتاب (تورات) کو پالینے یا کتاب کے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہنچنے میں کوئی شک نہ کرے ولقاء مصدر مضاف الی مفعولہ وفاعلہ موسیٰ ای من لقاء موسیٰ الکتاب او مضاف الی فاعلہ و مفعولہ موسیٰ ای من لقاء الکتاب موسیٰ ووصولہ الیہ (روح ج 21 ص 127) ۔ اور فلا تکن کا خطاب ہر مخاطب سے ہے اس سے ہر مخاطب کو شک کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ وجعلنہ ہدی الخ۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل رکوع 1 میں فرمایا۔ وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل ان لا تتخذوا من دونی وکیلا۔ یعنی تورات میں ہم نے بنی اسرائیل کے لیے یہ ہدایت نازل کی ہے کہ میرے سوا کسی کو کارساز مت سمجھو اور مصائب و حاجات میں میرے سوا کسی کو مت پکارو۔ بعینہ یہی مضمون اب قرآن میں نازل کیا گیا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

23۔ اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب توریت عطا فرمائی آپ اس کتاب کے ملنے میں کسی قسم کا شک نہ کیجئے اور ہم نے اس کتاب توریت کو بنی اسرائیل کے لئے موجب ہدایت اور رہنمائی بنایا ۔ شک نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں یہ مطلب نہیں کہ آپ کا معاذ اللہ اس میں کچھ شک یا تردد تھا۔ بعض نے یہ مطلب بتایا ہے کہ جس طرح کتاب توریت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی اسی طرح قرآن کریم آپ کو دیا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ معراج میں جو آپ کی ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے چھٹے آسمان پر ہوئی وہ شک کی بات نہیں یا یہ کہ قیامت میں جو موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوگی وہ شک کی بات نہیں یا یہ مطلب کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو اپنے پروردگار سے ملاقات ہوگی وہ شک اور دھوکے کی بات نہیں ۔ من لقائہ کی ضمیر میں مفسرین کے چند اقوال ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دھوکہ نہ کر اس کے ملنے میں یعنی کتاب کے یا موسیٰ کے معراج کی رات میں ان سے ملے اور بھی کئی بار۔ 12