Surat Assajdah

Surah: 32

Verse: 28

سورة السجدة

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡفَتۡحُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۸﴾

And they say, "When will be this conquest, if you should be truthful?"

اور کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا ، اگر تم سچے ہو تو ( بتلاؤ ) ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How the Disbelievers sought to hasten on the Punishment, and what happened to Them Allah tells us how the disbelievers sought to hasten on the punishment, and to bring the wrath and vengeance of Allah upon themselves, because they thought this punishment would never happen, and because of their disbelief and stubbornness. وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْفَتْحُ ... They say: "When will this Fath be..." meaning, `when will you prevail over us, O Muhammad, since you claim that there will be a time when you will gain the upper hand over us and take your revenge on us, so when will that happen! All we see of you and your companions is that you are hiding, afraid and humiliated.' ... إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ if you are telling the truth" Allah says:

نافرمان اپنی بربادی کو آپ بلاوا دیتا ہے کافر اعتراضا کہاکرتے تھے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم جو ہمیں کہاکرتے ہو اور اپنے ساتھیوں کو بھی مطمئن کردیا ہے کہ تم ہم پر فتح پاؤ گے اور ہم سے بدلے لوگے وہ وقت کب آئے گا ؟ ہم تو مدتوں سے تمہیں مغلوب زیر اور بےوقعت دیکھ رہے ہیں ۔ چھپ رہے ہو ڈررہے ہو اگر سچے ہو تو اپنے غلبے کا اور اپنی فتح کا وقت بتاؤ ۔ اللہ فرماتا ہے کہ جب عذاب اللہ آجائے گا اور جب اس کا غصہ اور غضب اتر پڑتا ہے خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں اس وقت نہ تو ایمان نفع دیتا ہے نہ مہلت ملتی ہے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 83؀ ) 40-غافر:83 ) یعنی جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر دلیلیں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر نازاں ہونے لگے ، پوری دو آیتوں تک ۔ اس سے فتح مکہ مراد نہیں ۔ فتح مکہ والے دن تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کو اسلام لانا قبول فرمایا تھا اور تقریبا دوہزار آدمی اس دن مسلمان ہوئے تھے ۔ اگر اس آیت میں یہی فتح مکہ مراد ہوتی تو چاہے تھا کہ اللہ کے پیغمبر علیہ السلام ان کا اسلام قبول نہ فرماتے جیسے اس آیت میں ہے کہ اس دن کافروں کا اسلام لانامقبول ہوگا ۔ بلکہ یہاں مراد فتح سے فیصلہ ہے جیسے قرآن میں ہے آیت ( فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ١١٨؁ ) 26- الشعراء:118 ) ہمارے درمیان تو فتح کر یعنی فیصلہ کر ۔ اور جیسے اور مقام پر ہے آیت ( قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بِالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ 26؀ ) 34- سبأ:26 ) یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا پھر ہمارے آپس کے فیصلے فرمائے گا اور آیت میں ہے ( وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ 15۝ۙ ) 14- ابراھیم:15 ) یہ فیصلہ چاہتے ہیں سرکش ضدی تباہ ہوئے اور جگہ ہے آیت ( وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا 89؀ ) 2- البقرة:89 ) اس سے پہلے وہ کافروں پر فتح چاہتے تھے اور آیت میں فرمان باری ہے آیت ( اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ 19؀ۧ ) 8- الانفال:19 ) اگر تم فیصلے کے آرزومند ہو تو فتح آگئی ۔ پھر فرماتا ہے آپ ان مشرکین سے بےپرواہ ہوجائیے جو رب نے اتارا ہے اسے پہنچاتے رہیے ۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اپنے رب کی وحی کی اتباع کرو اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ۔ پھر فرمایا تم اپنے رب کے وعدوں کو سچا مان لو اسکی باتیں اٹل ہیں اس کے فرمان سچے ہیں وہ عنقریب تجھے تیرے مخالفین پر غالب کرے گا وہ وعدہ خلافی سے پاک ہے یہ بھی منتظر ہیں ۔ چاہتے ہیں کہ آپ پر کوئی آفت آئے لیکن ان کی یہ چاہتیں بےسود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے والوں کو بھولتا نہیں نہ انہیں چھوڑتا ہے بھلا جو رب کے احکام پر جمے رہیں اللہ کی باتیں دوسروں کو پہنچائیں وہ تائید ایزدی سے کیسے محروم کردئیے جائیں؟ یہ جو کچھ تم پر دیکھنا چاہتے ہیں وہ ان پر اترے گا بدبختی ( نکبت ) وادبار میں ہائے وائے واویلا میں گرفتار کئے جائیں گے ۔ رب کے عذابوں کا شکار ہونگے ۔ کہدو کہ اللہ ہمیں کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

281اس فیصلے (فتح) سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب ہے جو کفار مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرے اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے۔ فی الحال تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ تجھ پر ایمان لانے والے چھپے پھرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْفَتْحُ ۔۔ : مشرکین جب قیامت قائم ہونے کے دلائل کے سامنے لاجواب ہوتے تو کہتے، اچھا بتاؤ، یہ فیصلہ کب ہوگا، قیامت کب آئے گی ؟ اس سے ان کی جہالت واضح ہوتی ہے کہ جب ایک چیز کا آنا یقینی ہو تو صرف اس وجہ سے اس سے غفلت برتنا کیسے درست ہوسکتا ہے کہ ہمیں اس کے وقت کا علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس سوال کا متعدد مرتبہ ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة نازعات (٤٢ تا ٤٥) اور بنی اسرائیل (٤٩ تا ٥١) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse 28 carries a question posed by disbelievers: وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْفَتْحُ (And they say, |"When will this decision take place?) Here, they are referring to the victory of believers against disbelievers as promised by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and are wondering about it since they see no traces of this likelihood anywhere around. Instead, they see Muslims as a group of people, scared, hiding,

(آیت) ویقولون متیٰ ھذا الفتح، ” یعنی کفار یہ کہتے ہیں کہ وہ فتح کب ہو گی “ جس کا آپ ذکر کرتے ہیں کہ مومنین کو کفار پر غلبہ ہوگا، ہمیں تو کہیں اس کے آثار نظر نہیں آتے، ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ مسلمان خائف ہیں، چھپتے پھرتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ ٢٨ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ متی مَتَى: سؤال عن الوقت . قال تعالی: مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] ، ( م ت ی ) متی ۔ یہ اسم استفہام ہے اور کسی کام کا وقت دریافت کرنے کے لئے بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] یہ وعدہ کب ( پورا ہوگا ) فتح ( قيامت) وما يفتح اللہ تعالیٰ من المعارف، وعلی ذلک قوله : نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ [ المائدة/ 52] ، وَيَقُولُونَ مَتى هذَا الْفَتْحُ [ السجدة/ 28] ، قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ [ السجدة/ 29] ، أي : يوم الحکم . وقیل : يوم إزالة الشّبهة بإقامة القیامة، میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الفتح سے نصرت ، کامیابی اور حکم مراد ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ علوم ومعارف کے دروازے کھول دینا مراد ہو ۔ اسی معنی ہیں میں فرمایا : نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( یعنی تمہیں ) خدا کی طرف سے مدد ( نصیب ہوگی ) اور فتح عنقریب ( ہوگی ) فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ [ المائدة/ 52] تو قریب ہے خدا فتح بھیجے وَيَقُولُونَ مَتى هذَا الْفَتْحُ [ السجدة/ 28] اور کہتے ہیں ۔۔۔ یہ فیصلہ کب ہوگا ۔ قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ [ السجدة/ 29] کہدو کہ فیصلے کے دن ۔۔۔ یعنی حکم اور فیصلے کے دن بعض نے کہا ہے کہ الفتح سے قیامت بپا کرکے ان کے شک وشبہ کو زائل کرے کا دن مراد ہے اور بعض نے یوم عذاب مراد لیا ہے ۔ جسے وہ طلب کیا کرتے تھے ۔ صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور بنی خزیمہ اور بنی کنانہ کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کب فتح ہوگا اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ مکہ فتح ہوگا یہ خاندان والے اس طریقہ سے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ شان نزول : وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (الخ) ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ نے فرمایا ہمارے لیے ایک ایسا دن آئے گا جس میں ہم آرام پائیں گے اور دشمن سے راحت میں ہوں گے اس پر مشرکین کہنے لگے وہ ایسی کامیابی کا دن کب آئے گا اگر تم سچے ہو تب یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ فیصلہ کب ہوگا۔ الخ

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ (وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) مشرکین کا یہ سوال قیامت کے بارے میں بھی تھا اور عذاب سے متعلق بھی کہ اے مسلمانو ! اگر تم لوگ اپنے دعوے میں سچے ہو تو پھر بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی یا جس عذاب کا تم ہمیں ڈراوا دیتے رہتے ہو وہ آخر کب آئے گا ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

41 That is, "You say that Allah's succour will at last reach you and your rejectors will be struck down by His wrath. Then, tell us: When will this happen? When will judgement be passed between you and us?"

سورة السَّجْدَة حاشیہ نمبر :41 یعنی تم جو کہتے ہو کہ آخر کار اللہ کی مدد آئے گی اور ہمیں جھٹلانے والوں پر اس کا غضب ٹوٹ پڑے گا ، تو بتاؤ وہ وقت کب آئے گا ؟ کب ہمارا تمہارا فیصلہ ہو گا ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(32:28) الفتح : ای یوم الفتح۔ فیصلہ کا دن ۔ یعنی قیامت۔ فتح بمعنی حکم یا فیصلہ۔ قرآن مجید میں متعدد جگی آیا ہے مثلا :۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفتحین ۔ (7:89) اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ یا قال رب ان قومی کذبون فافتح بینی وبینھم فتحا (26:117118) حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار میری قوم مجھے جھٹلا رہی ہے سو آپ ہی میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا ہوا فیصلہ کر دیجئے۔ کان المسلمون یقولون : ان اللہ یفتح بیننا وین المشرکین فاذا سمع المشرکون قالوا (متی ھذا الفتح) ۔ مسلمان کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور مشرکین کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ مشرکین سن کر کہنے لگے کب ہوگا وہ فیصلہ۔ فتح۔ بمعنی فتح۔ کھول کر بیان کرنا۔ کھولنا بھی ہے۔ ان کنتم صدقین ۔ : ای ان کنتم صدقین فی انہ کائن اگر تم (اپنے اس دعوے میں) سچے ہو (کہ یوم الفتح یا یوم الفصل ضرور آئے گا)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی یہ جو کہتے ہو کہ ایک دن آئے گا جب اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، تو بتاو یہ فیصلہ کا دن کب آئے گا ؟ یہ بات کافر مسلمانوں سے کہا کرتے۔ فیصلہ کے دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ویقولون متی ھذا ۔۔۔۔۔ وانتظ انھم منتظرون (28 – 30) اچھا ” انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور انتظار کرو ، یہ بھی منظر ہیں “۔ فتح دراصل فریقین کے درمیان اختلاف کے فیصلے کو کہا جاتا ہے۔ وہ عذاب جس سے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ڈرا رہے تھے اس کا آنا بھی فتح ہے۔ یہ لوگ غافل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہرحال کسی حکمت کی وجہ سے اس کے آنے کی میعاد موخر کی ہوتی ہے۔ وہ اگر سو بار بھی مطالبہ کریں اللہ کا کام اپنے وقت پر ہوتا ہے اور جب وہ آئے گا تو یہ لوگ اس کی مدافعت نہ کرسکیں گے اور اس سے بچ کر نہ نکل سکیں گے۔ قل یوم الفتح ۔۔۔۔۔ ولا ھم ینظرون (32: 29) ” ان سے کہو ، فیصلے کے دن ایمان لانا ان لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوگا جنہوں نے کفر کیا ہے اور پھر ان کی کوئی مہلت نہ ملے گی “۔ خواہ فیصلے کا دن اس دنیا میں ہو۔ اس وقت ان کو دھر لیا جائے گا جبکہ وہ کافر ہوں گے۔ پھر ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ نہ ان کا ایمان لانا اس وقت نافع ہوگا اور یہ فیصلے کا دن آخرت میں ہوگا۔ اس وقت یہ مہلت طلب کریں گے اور مہلت نہ دی جائے گی۔ یہ جواب اعصاب تمکن ہے اور اس سے دل دہل جاتے ہیں اور آخری ضرب ان پر یہ لگائی جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

فتح کے دن کافروں کا ایمان نفع نہ دے گا جب منکرین اور معاندین کے سامنے قیامت کے واقع ہونے اور وہاں فیصلے کیے جانے کا ذکر ہوتا تھا تو کافر لوگ بطور مذاق ہنسی اڑاتے ہوئے یوں کہتے تھے کہ فیصلہ کا دن کب ہوگا ؟ تم سچے ہو تو ہمیں اس کی تاریخ بتادو، ان کے جواب میں فرمایا کہ انکار کرنے اور جلدی مچانے سے اس دن کے عذاب سے خلاصی نہ پاؤ گے آنے والی آہی جائے گی دیر میں آنے کا مطلب یہ نہیں کہ آنی ہی نہیں ہے، وہ آئے گی ضرور آئے گی اور کافروں کو بہت بری مصیبت کا سامنا ہوگا اسے دیکھ کر ایمان لاؤ گے تو ایمان بھی معتبر نہ ہوگا اور اگر یوں کہیں کہ ہمیں مہلت دے دی جائے تو مہلت بھی نہیں دی جائے گی (قال صاحب الروح فکانہٗ قیل لھم : لا تسعجلوا بہ ولا تستھزؤا فکأنی باسم وقد حصلتم فی ذٰلک الیوم واٰمنتم فلم ینفعکم الایمان واستنظرتم فی ادراک العذاب فلم تنظروا، وھذا قریب من اسلوب الحکم) (تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں گویا کہ ان سے کہا گیا ہے تم قیامت کی جلدی نہ مچاؤ اور نہ مذاق اڑاؤ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ تم قیامت کے دن میں داخل ہوچکے ہو اور تم اس دن کو دیکھ کر ایمان لائے اور تمہیں اس وقت کے ایمان نے کوئی نفع نہیں دیا ہے۔ تم نے عذاب سے بچاؤ کے لیے مہلت مانگی ہے لیکن تمہیں مہلت نہیں ملی یہ مفہوم امر کے صیغہ سے حکم کے انداز میں بات کہنے کے قریب ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26:۔ ویقولون الخ۔ یہ شکوی ہے۔ ان منکرین کا حال بھی عجیب ہے کہ قیامت کو ماننے اور احوال قیامت اور عذاب جہنم سے ڈرنے کے بجائے تمسخر اڑاتے اور استہزاء کرتے ہیں کہ وہ فیصلہ کا دن کب آئے گا اگر تم سچے ہو تو اس کی معین تاریخ بتاؤ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

28۔ اور نہ منکریوں کہتے ہیں کہ یہ فیصلے کا دن کب ہوگا اگر تم سچے ہو تو بتائو ۔ یوم الفتح سے مراد یا تو فتح مکہ کا دن ہے کیونکہ مسلمانوں سے اس پیشین گوئی کا چرچا سنتے رہتے تھے یا اس سے قیامت کا دن مراد ہے جو آخری فیصلے کا دن ہے جس طرح قیامت قائم ہونے کے وقت ایمان معتبر نہیں اسی طرح تلوار کے خوف سے مضطر اور مجبور ہوکر ایمان لانا خدا کے نزدیک معتبر نہیں اسی کا آگے جواب ہے۔