Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 49

سورة الأحزاب

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَکَحۡتُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقۡتُمُوۡہُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡہُنَّ فَمَا لَکُمۡ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ عِدَّۃٍ تَعۡتَدُّوۡنَہَا ۚ فَمَتِّعُوۡہُنَّ وَ سَرِّحُوۡہُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا ﴿۴۹﴾

O You who have believed, when you marry believing women and then divorce them before you have touched them, then there is not for you any waiting period to count concerning them. So provide for them and give them a gracious release.

اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے سے پہلے ( ہی ) طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو پس تم کچھ نہ کچھ انہیں دے دواور بھلے طریق پر انہیں رخصت کر دو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

A Gift and no (Iddah) for Women Who are divorced before Consummation of the Marriage Allah says: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُوْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ ... O you who believe! When you marry believing women, and then divorce them before you have sexual intercourse with them, This Ayah contains many rulings, including the use of the word Nikah for the marriage contract alone. There is no other Ayah in the Qur'an that is clearer than this on this point. It also indicates that it is permissible to divorce a woman before consummating the marriage with her. الْمُوْمِنَاتِ (believing women), this refers to what is usually the case, although there is no difference between a believing (Muslim) woman and a woman of the People of the Book in this regard, according to scholarly consensus. Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, Sa`id bin Al-Musayyib, Al-Hasan Al-Basri, Ali bin Al-Hussein Zayn-ul-Abidin and a group of the Salaf took this Ayah as evidence that divorce cannot occur unless it has been preceded by marriage, because Allah says, إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُوْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ (When you marry believing women, and then divorce them), The marriage contract here is followed by divorce, which indicates that the divorce cannot be valid if it comes first. Ibn Abi Hatim recorded that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said, "If someone were to say, `every woman I marry will ipso facto be divorced,' this does not mean anything, because Allah says: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُوْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ (O you who believe! When you marry believing women, and then divorce them....)." It was also reported that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said: "Allah said, إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُوْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ (When you marry believing women, and then divorce them), do you not see that divorce comes after marriage?" A Hadith to the same effect was recorded from `Amr bin Shu`ayb from his father from his grandfather, who said: "The Messenger of Allah said: لاَا طَلَاقَ لاِابْنِ ادَمَ فِيمَا لاَا يَمْلِك There is no divorce for the son of Adam with regard to that which he does not possess. This was recorded by Ahmad, Abu Dawud, At-Tirmidhi and Ibn Majah. At-Tirmidhi said, "This is a Hasan Hadith, and it is the best thing that has been narrated on this matter." It was also recorded by Ibn Majah from Ali and Al-Miswar bin Makhramah, may Allah be pleased with them, that the Messenger of Allah said: لاَا طَلَاقَ قَبْلَ نِكَاح There is no divorce before marriage. Then Allah says: ... فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ... no `Iddah have you to count in respect of them. This is a command on which the scholars are agreed, that if a woman is divorced before the marriage is consummated, she does not have to observe the `Iddah (prescribed period for divorce) and she may go and get married immediately to whomever she wishes. The only exception in this regard is a woman whose husband died, in which case she has to observe an `Iddah of four months and ten days even if the marriage was not consummated. This is also according to the consensus of the scholars. ... فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلً So, give them a present, and set them free in a handsome manner. The present here refers to something more general than half of the named dowry or a special gift that has not been named. Allah says: وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ And if you divorce them before you have touched (had a sexual relation with) them, and you have fixed unto them their due (dowry) then pay half of that. (2:237) And Allah says: لااَّ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَأءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُواْ لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدْرُهُ مَتَـعاً بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ There is no sin on you, if you divorce women while yet you have not touched them, nor fixed unto them their due (dowry). But bestow on them gift, the rich according to his means, and the poor according to his means, a gift of reasonable amount is a duty on the doers of good. (2:236) In Sahih Al-Bukhari, it was recorded that Sahl bin Sa`d and Abu Usayd, may Allah be pleased with them both, said, "The Messenger of Allah married Umaymah bint Sharahil, and when she entered upon him he reached out his hand towards her, and it was as if she did not like that, so he told Abu Usayd to give her two garments." Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said "If the dowry had been named, she would not be entitled to more than half, but if the dowry is not been named, he should give her a gift according to his means, and this is the "handsome manner."

نکاح کی حقیقت ۔ اس آیت میں بہت سے احکام ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف عقد پر بھی نکاح کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اس کے ثبوت میں اس سے زیادہ صراحت والی آیت اور نہیں ۔ اس میں اختلاف ہے کہ لفظ نکاح حقیقت میں صرف ایجاب وقبول کے لئے ہے ؟ یا صرف جماع کے لئے ہے ؟ یا ان دونوں کے مجموعے کے لئے ؟ قرآن کریم میں اس کا اطلاق عقد و وطی دونوں پر ہی ہوا ہے ۔ لیکن اس آیت میں صرف عقد پر ہی اطلاق ہے ۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دخول سے پہلے بھی خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے ۔ مومنات کا ذکر یہاں پر بوجہ غلبہ کے ہے ورنہ حکم کتابیہ عورت کا بھی یہی ہے ۔ سلف کی ایک بڑی جماعت نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ طلاق اسی وقت واقع ہوتی ہے جب اس سے پہلے نکاح ہو گیا ہو اس آیت میں نکاح کے بعد طلاق کو فرمایا ہے پس معلوم ہوا ہے کہ نکاح سے پہلے نہ طلاق صحیح ہے نہ وہ واقع ہوتی ہے ۔ امام شافعی اور امام احمد اور بہت بڑی جماعت سلف و خلف کا یہی مذہب ہے ۔ مالک اور ابو حنفیہ کا خیال ہے کہ نکاح سے پہلے بھی طلاق درست ہو جاتی ہے ۔ مثلاً کسی نے کہا کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے ۔ تو اب جب بھی اس سے نکاح کرے گا طلاق پڑ جائے گی ۔ پھر مالک اور ابو حنیفہ میں اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو کہے کہ جس عورت سے میں نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو امام ابو حنیفہ کہتے ہیں پس وہ جس سے نکاح کرے گا اس پر طلاق پڑ جائے گی اور امام مالک کا قول ہے کہ نہیں پڑے گی کیونکہ ابن عباس سے پوچھا گیا کہ اگر کسی شخص نے نکاح سے پہلے یہ کہا ہو کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا اس عورت کو طلاق نہیں ہوگی ۔ کیونکہ اللہ عزوجل نے طلاق کو نکاح کے بعد فرمایا ہے ۔ پس نکاح سے پہلے کی طلاق کوئی چیز نہیں ۔ مسند احمد ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔ ابن آدم جس کا مالک نہ ہو اس میں طلاق نہیں ۔ اور حدیث میں ہے جو طلاق نکاح سے پہلے کی ہو وہ کسی شمار میں نہیں ۔ ( ابن ماجہ ) پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم عورتوں کو نکاح کے بعد ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر کوئی عدت نہیں بلکہ وہ جس سے چاہیں اسی وقت نکاح کر سکتی ہیں ۔ ہاں اگر ایسی حالت میں ان کا خاوند فوت ہوگیا ہو تو یہ حکم نہیں اسے چار ماہ دس دن کی عدت گذارنی پڑے گی ۔ علماء کا اس پر اتفاق ہے ۔ پس نکاح کے بعد ہی میاں نے بیوی کو اس سے پہلے ہی اگر طلاق دے دی ہے تو اگر مہر مقرر ہو چکا ہے تو اس کا آدھا دینا پڑے گا ۔ ورنہ تھوڑا بہت دے دینا کافی ہے ۔ اور آیت میں ہے ( يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَسَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا 49؀ ) 33- الأحزاب:49 ) یعنی اگر مہر مقرر ہو چکا ہے اور ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو آدھے مہر کی وہ مستحق ہے ۔ اور آیت میں ارشاد ہے ( لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِيْضَةً ښ وَّمَتِّعُوْھُنَّ ۚ عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ ۚ حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ ٢٣٦؁ ) 2- البقرة:236 ) یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو یہ کچھ گناہ کی بات نہیں ۔ اگر ان کا مہر مقرر نہ ہوا ہو تو تم انہیں کچھ نہ کچھ دے دو ۔ اپنی اپنی طاقت کے مطابق ، امیر و غریب دستور کے مطابق ان سے سلوک کریں اور بھلے لوگوں پر یہ ضروری ہے ۔ چنانچہ ایسا ایک واقعہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی گذرا ۔ کہ آپ نے امیمہ بنت شرجیل سے نکاح کیا یہ رخصت ہو کر آگئیں آپ گئے ہاتھ بڑھایا تو گویا اس نے اسے پسند نہ کیا آپ نے حضرت ابو اسید کو حکم دیا کہ ان کا سامان تیار کر دیں اور دو کپڑے ارزقیہ کے انہیں دے دیں ۔ پس سراح جمیل یعنی اچھائی سے رخصت کر دینا یہی ہے کہ اس صورت میں اگر مہر مقرر ہے تو آدھا دے دے ۔ اور اگر مقرر نہیں تو اپنی طاقت کے مطابق اس کے ساتھ کچھ سلوک کر دے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

49۔ 1 نکاح کے بعد جن عورتوں سے ہم بستری کی جاچکی ہو وہ بھی جوان ہوں، ایسی عورتوں کو طلاق مل جائے تو ان کی عدت تین حیض ہے اور جن سے نکاح ہوا ہے لیکن میاں بیوی کے درمیان ہم بستری نہیں ہوئی۔ ان کو اگر طلاق ہوجائے تو عدت نہیں ہے یعنی ایسی غیر مدخولہ مطلقہ بغیر عدت گزارے فوری طور پر کہیں نکاح کرنا چاہے، تو کرسکتی ہے، البتہ ہم بستری سے قبل خاوند فوت ہوجائے تو پھر اسے 4 ماہ اور دس دن کی عدت گزارنا پڑے گی (فتح القدیر، ابن کثیر) چھونا یا ہاتھ لگانا، یہ کنایہ ہے۔ جماع (ہم بستری) سے نکاح لفظ خاص جماع اور عقد زواج دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں عقد کے معنی میں ہے۔ اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں۔ اس لئے کہ یہاں نکاح کے بعد طلاق کا ذکر ہے۔ اس لئے جو فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں عورت سے میں نے نکاح کیا تو اسے طلاق، تو ان کے نزدیک اس عورت سے نکاح ہوتے ہی طلاق ہوجائے گی۔ اسی طرح بعض جو کہتے ہیں کہ اگر وہ یہ کہے کہ میں کسی بھی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق، تو جس عورت سے بھی نکاح کرے گا، طلاق واقع ہوجائے گی۔ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ حدیث میں وضاحت ہے (لاطلاق قبل النکاح) اس سے واضح ہے ' کہ نکاح سے قبل طلاق، ایک فعل عبث ہے جس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے 49۔ 2 یہ متعہ، اگر مہر مقرر کیا گیا ہو تو نصف مہر ورنہ حسب توفیق کچھ دے دیا جائے۔ 49۔ 3 یعنی انھیں عزت و احترام سے بغیر کوئی ایذاء پہنچائے علیحدہ کردیا جائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٧٧] طلاق دینے والے کو ہدایات :۔ اس آیت میں چند امور قابل ذکر ہیں۔ پہلا یہ کہ اگرچہ آیت میں مومن عورتوں سے نکاح کا ذکر ہے۔ تاہم اگر نکاح کتابیہ عورت سے ہو تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہوگا۔ دوسرا یہ کہ صحبت سے پیشتر طلاق دینے سے بھی نصف حق مہر ادا کرنا واجب ہے۔ بشرطیکہ حق مہر طے ہوچکا ہو۔ (٢: ٢٣٧) تیسرا یہ کہ اگر حق مہر مقرر ہی نہ کیا گیا ہو تو پھر کچھ نہیں دینا ہوگا۔ البتہ دونوں صورتوں میں عورت کو کچھ نہ کچھ دے دلا کر رخصت کرنا چاہئے۔ اور اس کچھ نہ کچھ کی مقدار طلاق دینے والے کی مالی حیثیت کے لحاظ سے ہوگی۔ چوتھا یہ کہ اگر عورت کو طلاق ہی دینا ہے تو پھر اس پر کوئی الزام نہ لگانا چاہئے۔ نہ ہی اسے بدنام کرکے گھر سے نکالنا چاہئے جو اس کی آئندہ زندگی پر ناخوشگوار اثر ڈالے۔ بھلے طریقہ سے رخصت کرنے کا یہی مطلب ہے اور پانچواں اور سب سے اہم امر یہ ہے کہ عدت کے دوران بھی مطلقہ عورت اپنے خاوند کی بیوی ہی رہتی ہے۔ اور یہ مرد کا عورت پر حق ہے۔ اس دوران مرد رجوع کا حق بھی رکھتا ہے اور اس میں زبردستی بھی کرسکتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر اس دوران حمل معلوم ہوجائے۔ تو بچہ بھی طلاق دینے والے مرد کا ہوگا۔ اور وہ اس کا وارث بھی ہوگا۔ صحبت سے پہلے طلاق دینے میں چونکہ حمل وغیرہ کا احتمال ہی نہیں ہوتا لہذا غیر مدخولہ عورت پر کوئی عدت نہیں۔ وہ اگر چاہے تو طلاق کے فوراً بعد نکاح کرسکتی ہے۔ ہمارے ہاں عموماً یہ رواج ہے کہ نکاح کے ساتھ ہی رخصتی ہوجاتی ہے اور اسے شادی کہتے ہیں۔ تاہم یہ رواج پایا جاتا ہے کہ پہلے نکاح ہوجاتا ہے مثلاً بچپن میں والدین نے نکاح کردیا اور رخصتی یا شادی کچھ مدت کے بعد یا زوجین کے جوان ہونے کے بعد ہوتی ہے۔ اس آیت میں مذکورہ صورت کا احتمال دوسری شکل میں ہی پایا جاتا ہے اور عرب میں یہ عام رواج تھا کہ نکاح پہلے ہوجاتا تھا اور رخصتی بعد میں ہوتی تھی۔ احناف نے خلوت صحیحہ کو بھی صحبت ہی کے مترادف قرار دیا ہے اور یہ ایسی بات ہے جس کی دلیل یا مثال کتاب و سنت میں نہیں ملتی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ۔۔ : سورت کے شروع سے متبنّٰی بنانے کی رسم توڑنے کا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متبنٰی زید (رض) کے اپنی بیوی زینب کو طلاق دینے کا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس کے ساتھ نکاح کا ذکر آ رہا تھا۔ اس پر منافقین کی باتوں کا تذکرہ بھی ہوا اور ان کی پروا نہ کرنے کا بھی، پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منصب، آپ کی رفعت شان اور آپ کی ذمہ داریاں نہایت جامع انداز میں بیان فرمائیں۔ اب دوبارہ نکاح و طلاق کے کچھ مسائل کا ذکر ہوتا ہے، جن میں سے اکثر کا سابقہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی پیش آیا۔ ” مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ “ میں ہاتھ لگانے سے مراد جماع ہے اور یہ قرآن مجید کے بیان کی پاکیزگی ہے کہ وہ اس کے لیے صریح الفاظ کے بجائے کنائے کا لفظ استعمال کرتا ہے، مثلاً ” مساس “ یا ” ملامسہ “ وغیرہ۔ اس میں ہمارے لیے بھی سبق ہے کہ یہ مفہوم ادا کرنے کے لیے صریح الفاظ کے بجائے کنائے کے الفاظ استعمال کیے جائیں۔ 3 کسی مسلمان عورت کو اگر خاوند عقد نکاح کے بعد صحبت سے پہلے طلاق دے دے تو عورت پر کوئی عدت نہیں، جس میں خاوند رجوع کرسکتا ہو، بلکہ اگر وہ عورت چاہے تو اسی وقت دوسرا نکاح کرسکتی ہے، کیونکہ صحبت ہوئی ہی نہیں کہ یہ دیکھنے کے لیے انتظار کی ضرورت ہو کہ حمل تو نہیں ٹھہرا۔ استاذ محمد عبدہ (رض) لکھتے ہیں : ” بعض اہل علم نے خلوت صحیحہ کو بھی بمنزلہ صحبت کے شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دینے سے مہر اور عدت لازم ہوگی، مگر یہ مسئلہ بظاہر اس آیت کے خلاف ہے۔ “ (اشرف الحواشی) آیت میں اگرچہ مومن عورتوں کا ذکر ہے، مگر اس بات پر اجماع ہے کہ یہودی یا عیسائی عورت کا بھی یہی حکم ہے۔ مومن عورتوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جب مومن عورت پر عدت نہیں، جسے مومن مرد کے نکاح میں رکھنے اور اسے رجوع کا موقع دینے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے، تو کتابیہ عورت پر تو بالاولیٰ عدت نہیں۔ (بقاعی) 3 یہ حکم ان عورتوں کا ہے جنھیں دخول سے پہلے طلاق دی جائے، اگر نکاح کے بعد دخول سے پہلے خاوند فوت ہوجائے تو عورت پر عدت بھی ہوگی اور وہ خاوند کی وارث بھی ہوگی۔ معقل بن سنان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بروع بنت واشق (رض) کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا تھا۔ [ أبوداوٗد، النکاح، باب فیمن تزوج و لم یسم لھا صداقًا حتی مات : ٢١١٤، و قال الألباني صحیح ] فَمَتِّعُوْهُنَّ : جس عورت کو دخول سے پہلے طلاق دی گئی ہو وہ دو حال سے خالی نہیں، یا تو نکاح کے وقت اس کے لیے مہر مقرر کیا گیا ہوگا، یا نہیں۔ اگر مہر مقرر نہیں کیا گیا تو اسے مہر نہیں ملے گا اور اگر مقرر کیا گیا ہے تو نصف مہر دیا جائے گا۔ دونوں صورتوں میں عورت کو اپنی حیثیت کے مطابق کچھ سامان مثلاً کپڑوں کا جوڑا وغیرہ دینا ضروری ہے، اسے ” متعہ طلاق “ کہا جاتا ہے۔ مقصد اس کا طلاق سے ہونے والی دل شکنی کا کچھ نہ کچھ مداوا ہے۔ سورة بقرہ کی آیات (٢٣٦، ٢٣٧) میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل سے اس کی مقدار کا اندازہ ہوتا ہے۔ چناچہ سہل بن سعد اور ابو اسید (رض) بیان کرتے ہیں : ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیا، جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائی گئی اور آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو جیسے اس نے ناپسند کیا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو اسید سے کہا کہ وہ اس کا سامان تیار کریں اور اسے دو رازقیہ (کتان سے بنے ہوئے سفید لمبے) کپڑے بھی دے دیں۔ “ [ بخاري، الطلاق، باب من طلق وھل یواجہ الرجل امرأ تہ بالطلاق ؟: ٥٢٥٦، ٥٢٥٧ ] ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ ۔۔ : لفظ ” ثم “ سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں، ایک یہ کہ طلاق وہ معتبر ہے جو نکاح کے بعد دی جائے، نکاح سے پہلے دی ہوئی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں، مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اسے طلاق ہے، تو طلاق نہیں ہوگی، کیونکہ یہ نکاح کے بعد نہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس (رض) نے (اس آیت کے حوالے سے) فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے طلاق کو نکاح کے بعد رکھا ہے۔ “ اور علی، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، ابوبکر بن عبدالرحمان، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، ابان بن عثمان، علی بن حسین، شریح، سعید بن جبیر، قاسم، سالم، طاؤس، حسن، عکرمہ، عطاء، عامر بن سعد، جابر بن زید، نافع بن جبیر، محمد بن کعب، سلیمان بن یسار، مجاہد، قاسم بن عبدالرحمان، عمرو بن ہرم اور شعبی (رض) سے مروی ہے کہ ایسی عورت کو طلاق نہیں ہوگی۔ [ بخاري، الطلاق، باب لا طلاق قبل النکاح، بعد الحدیث : ٥٢٦٨ ] دوسرا مسئلہ یہ کہ نکاح کے بعد اگر دخول نہیں ہوا تو خواہ کتنی مدت کے بعد طلاق ہوئی ہو، عدت نہیں ہے۔ وَسَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا : اچھے طریقے سے چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی لڑائی جھگڑے کے بغیر اچھے طریقے سے اسے طلاق دے کر رخصت کر دے۔ لوگوں کے سامنے اس کے عیوب یا شکایات کے دفتر نہ کھولے کہ کوئی اور بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ قرآن کے اس حکم سے ظاہر ہے کہ طلاق کو کسی پنچایت یا عدالت کی اجازت کے ساتھ مشروط کرنا درست نہیں، کیونکہ اس سے مرد نہ بھی چاہے تو اسے کوئی نہ کوئی شکوہ یا عیب بیان کرنا پڑے گا، جس سے عورت کی رسوائی ہوگی، جو اسے اچھے طریقے سے چھوڑنے کے خلاف ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Some attributes and the special eminence of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) have been mentioned in the preceding verse. Some special rules that are exclusive to him in matters of marriage and divorce are intended to be mentioned in forthcoming verses in which he has a distinction over the general Ummah. But before that, a general rule regarding divorce has been mentioned as a prologue which is applicable to all Muslims in general. There are three injunctions regarding divorce in this verse. The first injunction is that if after nikah (marriage) a woman is divorced before the spouses have had full privacy اَلخَلوۃ الصحیحۃ (Al-khalwah As-sahihah), then she is not liable to any period of عِدَّہ ` iddah (waiting period), which means that she can enter into another marriage immediately. In the present verse, &touching& means having sexual intercourse, either actually or by presumption, because if the spouses meet together at a private place without any apprehension of interference by someone and there is nothing to prevent them from having sex, this type of privacy اَلخَلوۃ الصحیحۃ (Al-khalwah As-sahihah) carries the same legal consequences as an actual intercourse. The second injunction is that the divorced woman should be separated gracefully and by giving some gifts to her. Giving something to a divorced woman at the time of her departure is desirable according to Sunnah, and in some cases it is compulsory as elaborated in verse 236 of Surah –Baqarah لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ There is no sin on you if you divorce women when you have not touched them. 2:236). The use of the word &mata|" here is perhaps based on the wisdom that this word has a wide and general meaning and is applicable to anything which may be beneficial, which includes the woman&s obligatory rights, like mahr (dower), etc., which means that the dower, if not already paid, has to be paid at the time of divorce gladly; and it also includes her rights that are not compulsory, for example, a set of clothes to be gifted to her at the time of departure, which is mustahab (commendable) in respect of every divorced woman and the Qur&an has persuaded the husband for both, the compulsory as well as commendable rights. A leading scholar of Hadith ` Abd Ibn Humayd has narrated the dictum of Sayyidna Hasan (رض) that every divorced woman has to be given something as mut&ah whether one has had Al-khalwah Assahihah (full privacy) with her or not and whether her mahr (dower) was fixed or not. Details of Mut&ah to be given at the time of Divorce Badai&, the famous book of Hanafi fiqh has mentioned that mut&ah of divorce means those clothes which a woman wears necessarily when going out. It includes a pair of trousers, long shirt, shawl and a large sheet as covering from head to feet. Clothes can be graded as high quality, medium and ordinary. Muslim jurists have determined that if both the husband and wife belong to wealthy families, the clothes have to be of high quality; if they are both poor, then the clothes should be of ordinary quality, and if one is poor and the other wealthy, then the clothes may be of medium quality. Islam&s matchless teaching in discharging social obligations gracefully Recognition of rights and a courteous behavior towards others is restricted in common practice to relatives, friends and at the best it is extended to common people. Recognizing and discharging of the rights of opponents and foes and devising rules and regulations for their execution is a distinct feature of Islamic teachings. Although many organizations have been established in our days exclusively for the protection of human rights, and some rules and regulations have also been devised for this purpose. Huge sums of money are collected as donations from all over the world for this objective, but all of them are politically oriented and whenever they do help the suffering people, such help is not available everywhere, nor is it without a motive. It is rather given to fulfill their own political aims. And, supposing, these organizations do start functioning properly to serve the suffering humanity, the most they can do is to help when some area is affected by a devastating storm, epidemic disease, etc. But who would know about the suffering of individuals and single persons? Who can reach them? Let us look at the matter of divorce which obviously is a result of mutual discord, anger and disharmony which usually results in the relationship which was established on the basis of extreme concord, love and affection changing to the opposite i.e. combined emotions of hate enmity and revenge. The above mentioned verse of the Holy Qur&an and many other similar verses have given such instructions to Muslims to be observed right at the time of divorce that they fully test gracefulness of behavior and courteous discharge of social obligations. The emotions keep on inciting one to take as much revenge as one can from the woman who has inflicted so much pain and agony to him that the relationship had to be terminated. But the noble Qur&an has bound the common divorced woman to stay during the period of ` iddah in the house of her husband; it has been made obligatory on the husband not to turn the divorced woman out of his house during the period of ` iddah and to continue to provide her the usual daily maintenance and upkeep during that period. It has also been made desirable for the husband to give her mut ah i.e. a set of clothes at the time of departure after completion of the period of ` iddah and to release her with grace and respect. Only those women are exempt from the period of ` iddah who have only gone through nikah without stepping into the husband&s house, without having had true privacy, but more stress has been laid on offering mut&ah to them as compared to other women. The third injunction is: (سَرِّ‌حُوهُنَّ سَرَ‌احًا جَمِيلًا) |"Release them gracefully|" which has imposed a restriction on the husband not to say anything harsh even verbally nor to indulge in taunts or sarcasms. Only that person can honor the rights of the opponents during confrontation who can control his emotions and passions. All the teachings of Islam have laid due emphasis on this principle.

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو (تمہارے نکاح کے احکام میں سے تو ایک حکم یہ ہے کہ) جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو (اور) پھر ان کو قبل ہاتھ لگانے کے (کسی وجہ سے) طلاق دے دو تو تمہاری ان پر کوئی عدت (واجب) نہیں جس کو تم شمار کرنے لگو (تاکہ ان کو اس عدت میں نکاح ثانی سے روک سکو جیسا کہ عدت واجب ہونے کی صورت میں شرعاً یہ روکنا جائز بلکہ واجب ہے اور جب اس صورت میں عدت نہیں) تو ان کو کچھ (مال) متاع دے دو اور خوبی کے ساتھ ان کو رخصت کردو (اور مومنات کی طرح کتابیات کا بھی یہی حکم ہے) آیت میں مومنات کی قید بطور شرط کے نہیں بلکہ ایک ترغیبی ہدایت ہے، کہ مومن کو اپنے نکاح میں مسلمان عورت ہی کا انتخاب کرنا بہتر ہے۔ اور ہاتھ لگانا کنایہ ہے صحبت سے خواہ حقیقتاً یا حکماً ، جیسے باہم خلوت صحیحہ ہوجائے تو یہ بھی صحبت کے حکم میں ہے اور صحبت حقیقتاً ہو یا حکماً دونوں صورتوں میں عدت واجب ہے۔ کذا فی الہدایہ وغیرہا، اور اگر مہر مقرر ہوچکا ہے تو یہ متاع نصف مہر کی ادائیگی ہے۔ اور سراج جمیل یہ ہے کہ ان کو بغیر حق کے نہ روکے، اور جو متاع دینا واجب ہے وہ ادا کر دے اور دیا ہوا واپس نہ لے، زبان سے بھی کوئی سخت بات نہ کہے) معارف ومسائل پچھلی آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چند صفات کمال اور آپ کی مخصوص شان کا ذکر تھا آگے بھی آپ کی ان خصوصیات کا ذکر آنے والا ہے، جو نکاح و طلاق کے معاملات میں آپ کے ساتھ ایک گونہ خصوصیت رکھتی ہیں اور عام امت کی نسبت سے آپ کو ان میں ایک امتیاز حاصل ہے۔ اس سے پہلے بطور تمہید کے ایک عام حکم متعلقہ طلاق ذکر کیا گیا ہے، جو سب مسلمانوں کے لئے عام ہے۔ آیت مذکورہ میں اس کے متعلق تین احکام بیان کئے گئے ہیں : پہلا حکم : یہ کہ کسی عورت سے نکاح کرلینے کے بعد خلوت صحیحہ سے پہلے ہی کسی وجہ سے طلاق کی نوبت آجائے، تو مطلقہ عورت پر کوئی عدت واجب نہیں، وہ فوراً ہی دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔ آیت مذکورہ میں ہاتھ لگانے سے مراد صحبت اور صحبت کا حقیقی یا حکمی ہونا اور دونوں کا ایک حکم ہونا خلاصہ تفسیر میں معلوم ہوچکا ہے، اور صحبت حکمی خلوت صحیحہ ہوجانا ہے۔ دوسرا حکم : یہ ہے کہ مطلقہ عورت کو شرافت اور حسن خلق کے ساتھ کچھ سامان دے کر رخصت کیا جائے، کچھ سامان دے کر رخصت دینا ہر مطلقہ کے لئے مستحب و مسنون ہے اور بعض صورتوں میں واجب ہے۔ جس کی تفصیل خلاصہ تفسیر میں گزر چکی ہے اور سورة بقرہ کی آیت (آیت) لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوہن کے تحت میں گزر چکی ہے، اور ان الفاظ قرآنی میں لفظ متاع اختیار فرمانا شاید اس حکمت سے ہو کہ یہ لفظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہے، ہر اس چیز کے لئے جس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس میں عورت کے حقوق واجبہ مہر وغیرہ بھی شامل ہیں کہ اگر اب تک مہر نہ دیا گیا ہو تو طلاق کے وقت خوش دلی سے ادا کردیں، اور غیر واجب حقوق مثلاً مطلقہ کو رخصت کے وقت کپڑوں کا ایک جوڑا دے کر رخصت کرنا یہ بھی داخل ہے جو ہر مطلقہ عورت کو دینا مستحب ہے (کذا فی المبسوط والمحیط، روح) اس لحاظ سے متعوہن کا صیغہ امر عام ترغیب کے لئے ہے، جس میں واجب اور غیر واجب دونوں قسمیں شامل ہیں۔ (روح) امام حدیث عبد بن حمید نے حضرت حسن سے روایت کیا ہے کہ متعہ یعنی متاع و سامان دینا ہر مطلقہ کے لئے ہے خواہ اس کے ساتھ خلوت صحیحہ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو اور اس کا مہر مقرر ہو یا نہ ہو۔ طلاق کے وقت متعہ یعنی لباس کی تفصیل : بدائع میں ہے کہ متعہ طلاق سے مراد وہ لباس ہے جو عورت گھر سے نکلنے کے وقت ضرور ہی استعمال کرتی ہے۔ اس میں پاجامہ، کرتا، اوڑھنی اور ایک بڑی چادر جو سر سے پاؤں تک بدن کو چھپا سکے شامل ہے۔ اور چونکہ لباس قیمت کے اعتبار سے اعلیٰ ، ادنیٰ ، اوسط ہر طرح کا ہوسکتا ہے، اس لئے فقہاء نے اس کی یہ تفصیل فرمائی کہ اگر شوہر بیوی دونوں مالدار گھرانوں کے ہیں تو کپڑے اعلیٰ قسم کے دیئے جائیں، اور دونوں غریب ہیں تو کپڑے ادنیٰ درجہ کے دیئے جائیں، اور ایک غریب اور دوسرا مالدار ہے تو اوسط درجہ کا لباس دیا جائے۔ (کذا قال الخصاف فی التفقات) اسلام میں حسن معاشرت کی بےنظیر تعلیم : دنیا میں حقوق کی ادائیگی عام طور پر صرف دوستوں عزیزوں تک اور زیادہ سے زیادہ عام لوگوں تک محدود رہتی ہے، حسن اخلاق حسن معاشرت کا سارا زور صرف یہیں تک خرچ ہوتا ہے، اپنے مخالف اور دشمن کے بھی حقوق پہچاننا اس کے لئے قوانین وضع کرنا صرف شریعت اسلام ہی کا کام ہے۔ اس زمانہ میں اگرچہ حقوق انسانیت کی حفاظت کے لئے دنیا میں بہت سے مستقبل ادارے قائم کئے گئے ہیں، اور اس کے لئے کچھ ضابطے قاعدے بھی بنائے ہوئے ہیں، اس مقصد کے لئے اقوام عالم سے لاکھوں روپے کا سرمایہ بھی جمع کیا جاتا ہے، مگر اول تو ان اداروں پر سیاسی مقاصد چھائے ہوئے ہیں۔ جو کچھ مصیبت زدگان کی امداد کی جاتی ہے وہ بھی بےغرض اور ہر جگہ نہیں، بلکہ جہاں اپنے سیاسی مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ اور بالفرض یہ ادارے بالکل صحیح طور پر بھی خدمت خلق انجام دیں تو ان کی زیادہ سے زیادہ اس وقت پہنچ ہو سکتی ہے جب کسی خطہ زمین میں کوئی عام حادثہ طوفان، وبائی امراض وغیرہ کا پیش آجائے۔ افراد واحاد کی مصیبت و تکلیف کو کس کی خبر ہوتی ہے، کون مدد کو پہنچ سکتا ہے ؟ شریعت اسلام کی حکیمانہ تعلیم دیکھئے کہ طلاق کا معاملہ ظاہر ہے کہ باہمی مخالفت غصے اور ناراضی سے پیدا ہوتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ جو تعلق انتہائی یگانگت اور محبت والفت کی بنیاد پر قائم ہوا تھا وہ اب اس کی نقیض بن کر نفرت، دشمنی، انتقامی جذبات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ قرآن کریم کی آیت مذکورہ اور اسی قسم کی بہت سی آیات نے عین طلاق کے موقع پر جو مسلمان کو ہدایات دی ہیں وہی ایسی ہیں کہ ان میں حسن خلق اور حسن معاشرت کا پورا امتحان ہوتا ہے۔ نفس کا تقاضا ہوتا ہے کہ جس عورت نے ہمیں ستایا اذیت دی یہاں تک کہ قطع تعلق پر مجبوری ہوئی اس کو خوب ذلیل کر کے نکالا جائے اور جو انتقام اس سے لیا جاسکتا ہے لے لیا جائے۔ مگر قرآن کریم نے عام مطلقہ عورتوں کے لئے تو ایک بڑی پابندی عدت کی اور ایام عدت کو شوہر کے مکان میں گزارنے کی لگا دی۔ طلاق دینے والے پر یہ فرض کردیا کہ اس مدت کے اندر عورت کو اپنے گھر سے نہ نکالے، اور اس کو بھی پابند کردیا کہ ایام عدت میں اس گھر سے نہ نکلے۔ دوسرے شوہر پر فرض کردیا کہ طلاق دے دینے کے باوجود اس زمانہ عدت کا نفقہ بدستور جاری رکھے۔ تیسرے شوہر کے لئے مستحب کیا کہ عدت پوری ہونے کے بعد بھی جب اس کو رخصت کرے تو متاع یعنی لباس دے کر عزت کے ساتھ رخصت کرے۔ صرف وہ عورتیں جن کے ساتھ صرف نکاح کا بول پڑھا گیا ہے رخصتی اور خلوت و صحبت کی نوبت نہیں آئی وہ عدت سے مستثنیٰ قرار دی گئیں، لیکن ان کے متاع کی تاکید بہ نسبت دوسری عورتوں کے زیادہ کردی گئی۔ اسی کے ساتھ تیسرا حکم یہ دیا گیا کہ (آیت) سرحوہن سراحاً جمیلاً ، یعنی ان کو رخصت کرو خوبی کے ساتھ، جس میں یہ پابندی لگا دی گئی کہ زبان سے بھی کوئی سخت بات نہ کہیں، طعن وتشنیع کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ مخالفت کے وقت مخالف کے حقوق کی رعایت وہی کرسکتا ہے جو اپنے نفس کے جذبات پر قابو رکھے، اسلام کی ساری تعلیمات میں اس کی رعایت رکھی گئی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَہَا۝ ٠ ۚ فَمَتِّعُوْہُنَّ وَسَرِّحُوْہُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا۝ ٤٩ نكح أصل النِّكَاحُ للعَقْدِ ، ثم استُعِيرَ للجِماع، ومُحالٌ أن يكونَ في الأصلِ للجِمَاعِ ، ثمّ استعیر للعَقْد، لأَنَّ أسماءَ الجِمَاعِ كلَّهَا كِنَايَاتٌ لاسْتِقْبَاحِهِمْ ذكرَهُ كاسْتِقْبَاحِ تَعَاطِيهِ ، ومحال أن يَسْتَعِيرَ منَ لا يَقْصِدُ فحْشاً اسمَ ما يَسْتَفْظِعُونَهُ لما يَسْتَحْسِنُونَهُ. قال تعالی: وَأَنْكِحُوا الْأَيامی [ النور/ 32] ، إِذا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِناتِ [ الأحزاب/ 49] ، فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَ [ النساء/ 25] إلى غير ذلک من الآیات . ( ن ک ح ) اصل میں نکاح بمعنی عقد آتا ہے اور بطور استعارہ جماع کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے یہ ناممکن ہے کہ یہ اصل میں بمعنی جماع ہو اور پھر عقد میں بطور استعارہ استعمال ہوا ہو کیوں کہ عربی زبان میں جماع کے معنی میں تمام الفاظ کنائی ہیں ۔ کیونکہ نفس فعل کی طرح صراحتا اس کا تذکرہ بھی مکروہ سمجھا جاتا ہے لہذا یہ نہیں ہوسکتا کہ زبان ذکر فحش سے اس قدر گریزا ہو وہ ایک مستحن امر کے لئے قبیح لفظ استعمال کرے قرآن پاک میں ہے : ۔ وَأَنْكِحُوا الْأَيامی[ النور/ 32] اور اپنی قوم کی بیوہ عورتوں کے نکاح کردیا کرو ۔ إِذا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِناتِ [ الأحزاب/ 49] جب تم مومن عورتوں سے نکاح کر کے فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَ [ النساء/ 25] تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کر کے نکاح کرلو ۔ علٰی ہذا لقیاس متعد آیات ہیں جن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ طلق أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ المرأةَ ، نحو : خلّيتها فهي طَالِقٌ ، أي : مُخَلَّاةٌ عن حبالة النّكاح . قال تعالی: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] ، الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] ، وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ [ البقرة/ 228] ، فهذا عامّ في الرّجعيّة وغیر الرّجعيّة، وقوله : وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ [ البقرة/ 228] ، خاصّ في الرّجعيّة، وقوله : فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ [ البقرة/ 230] ، أي : بعد البین، فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا [ البقرة/ 230] ، يعني الزّوج الثّاني . وَانْطَلَقَ فلانٌ: إذا مرّ متخلّفا، وقال تعالی: فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخافَتُونَ [ القلم/ 23] ، انْطَلِقُوا إِلى ما كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ [ المرسلات/ 29] ، وقیل للحلال : طَلْقٌ ، أي : مُطْلَقٌ لا حَظْرَ عليه، وعدا الفرس طَلْقاً أو طَلْقَيْنِ اعتبارا بتخلية سبیله . والمُطْلَقُ في الأحكام : ما لا يقع منه استثناء «2» ، وطَلَقَ يَدَهُ ، وأَطْلَقَهَا عبارةٌ عن الجود، وطَلْقُ الوجهِ ، وطَلِيقُ الوجهِ : إذا لم يكن کالحا، وطَلَّقَ السّليمُ : خَلَّاهُ الوجعُ ، قال الشاعر : 302- تُطَلِّقُهُ طوراً وطورا تراجع«3» ولیلة طَلْقَةٌ: لتخلية الإبل للماء، وقد أَطْلَقَهَا . ( ط ل ق ) ا لطلاق دراصل اس کے معنی کسی بندھن سے آزاد کرنا کے ہیں ۔ محاورہ الطلقت البعر من عقالہ وطلقۃ میں نے اونٹ کا پائے بند کھول دیا طالق وطلق وہ اونٹ جو مقید نہ ہو اسی سے خلی تھا کی طرح طلقت المرءۃ کا محاورہ مستعار ہے یعنی میں نے اپنی عورت کو نکاح کے بندھن سے آزادکر دیا ایسی عورت کو طائق کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو ۔ الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] طلاق صرف دو بار ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ [ البقرة/ 228] اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنے تئیں روکے کے رہیں ۔ میں طلاق کا لفظ عام ہے جو رجعی اور غیر رجعی دونوں کو شامل ہے ۔ لیکن آیت کریمہ : ۔ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ [ البقرة/ 228] اور ان کے خاوند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں ۔ میں واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہونے کا حکم رجعی طلاق کے ساتھ مخصوص ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ [ البقرة/ 230] پھر اگر شوہر ( دو طلاقوں کے بعد تیسری ) طلاق عورت کو دے دے تو ۔۔۔۔ اس پہلے شوہر پر حلال نہ ہوگی ۔ میں من بعد کے یہ معنی ہیں کہ اگر بینونت یعنی عدت گزرجانے کے بعد تیسری طلاق دے ۔ تو اس کے لئے حلال نہ ہوگی تا و قتیلہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا [ البقرة/ 230] میں طلقھا کے معنی یہ ہیں کہ اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے وہ پہلے خاوند کے نکاح میں آنا چاہیئے کے تو ان کے دوبارہ نکاح کرلینے میں کچھ گناہ نہیں ہے ۔ انطلق فلان کے معنی چل پڑنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخافَتُونَ ، [ القلم/ 23] تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے : ۔ انْطَلِقُوا إِلى ما كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ [ المرسلات/ 29] جس چیز کو تم جھٹلا یا کرتے تھے اب اسکی طرف چلو ۔ اور حلال چیز کو طلق کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے کھالینے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہوتی ۔ عد الفرس طلقا اوطلقین گھوڑے نے آزادی سے ایک دو دوڑیں لگائیں اور فقہ کی اصطلاحی میں مطلق اس حکم کو کہا جاتا ہے جس سے کوئی جزئی مخصوص نہ کی گئی ہو ۔ طلق یدہ واطلقھا اس نے اپنا ہاتھ کھول دیا ۔ طلق الوجہ اوطلیق الوجہ خندہ رو ۔ ہنس مکھ ، طلق السلیم ( مجہول ) مار گزیدہ کا صحت یاب ہونا ۔ شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) تطلقہ طورا وطور الرجع کہ وہ کبھی در د سے آرام پالیتا ہے اور کبھی وہ دور دوبارہ لوٹ آتا ہے لیلۃ طلحۃ وہ رات جس میں اونٹوں کو پانی پر وارد ہونے کے لئے آزاد دیا جائے کہ وہ گھاس کھاتے ہوئے اپنی مرضی سے چلے جائیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ الطلق الابل یعنی اس نے پانی پر وار ہونے کے لئے اونٹوں کو آزاد چھوڑدیا ۔ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ۔۔ چھوہی نہیں سکے گی عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي : عِدَّةَ الشّهر، وقوله : أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] ، فإشارة إلى شهر رمضان . وقوله : وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] ، فهي ثلاثة أيّام بعد النّحر، والمعلومات عشر ذي الحجّة . وعند بعض الفقهاء : المَعْدُودَاتُ يومُ النّحر ويومان بعده «1» ، فعلی هذا يوم النّحر يكون من المَعْدُودَاتِ والمعلومات، والعِدَادُ : الوقت الذي يُعَدُّ لمعاودة الوجع، وقال عليه الصلاة والسلام :«ما زالت أكلة خيبر تُعَادُّنِي» «2» وعِدَّانُ الشیءِ : عهده وزمانه . ( ع د د ) العدد الاعداد تیار کرنا مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعددت ھذا لک کے منعی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] اور جہاں تک ہوسکے ( فوج کی جمیعت سے ) ان کے ( مقابلے کے لئے مستعد رہو ۔ اور جو ) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں ۔ أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] اور ہم نے جھٹلا نے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اعتدت بھی اسی ( عد ) سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] تم روزوں کا شمار پورا کرلو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ماہ رمضان کی گنتی پوری کرلو ۔ أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] گنتی کے چند روز میں ماہ رمضان کی طرف اشارہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] اور گنتی کے دنوں میں خدا کو یاد کرو ۔ میں سے عید قربان کے بعد کے تین دن مراد ہیں اور معلومات سے ذوالحجہ کے دس دن بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ایام معدودۃ سے یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن مراد ہیں اس صورت میں یوم النحر بھی ان تین دنوں میں شامل ہوگا ۔ العداد اس مقرر وقت کو کہتے ہیں جس میں بیماری کا دورہ پڑتا ہو ۔ آنحضرت نے فرمایا مازالت امۃ خیبر تعادنی کہ خیبر کے دن جو مسموم کھانا میں نے کھایا تھا اس کی زہر بار بار عود کرتی رہی ہے عد ان الشئی کے معنی کسی چیز کے موسم یا زمانہ کے ہیں متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ سرح السَّرْحُ : شجر له ثمر، الواحدة : سَرْحَةٌ ، وسَرَّحْتُ الإبل، أصله : أن ترعيه السَّرْحَ ، ثمّ جعل لكلّ إرسال في الرّعي، قال تعالی: وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ [ النحل/ 6] ، والسَّارِحُ : الرّاعي، والسَّرْحُ جمع کا لشّرب «2» ، والتَّسْرِيحُ في الطّلاق، نحو قوله تعالی: أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] ، وقوله : وَسَرِّحُوهُنَّ سَراحاً جَمِيلًا [ الأحزاب/ 49] ، مستعار من تَسْرِيحِ الإبل، کالطّلاق في كونه مستعارا من إطلاق الإبل، واعتبر من السّرح المضيّ ، فقیل : ناقة سَرْحٌ: تسرح في سيرها، ومضی سرحا سهلا . والْمُنْسَرِحُ : ضرب من الشّعر استعیر لفظه من ذلك . ( س ر ح) السرح ایک قسم کا پھلدار درخت ہے اس کا واحد سرحۃ ہے اور سرحت الابل کے اصل معنی تو اونٹ کو سرح ، ، درخت چرانے کے ہیں بعدہ چراگاہ میں چرنے کے لئے کھلا چھوڑ دینے پر اس کا استعمال ہونے لگا ہے چناچہ قرآن میں ہے : وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ [ النحل/ 6] اور جب شام کو انہیں ( جنگل سے ) لاتے ہو اور جب صبح کو ( جنگل ) چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے ۔ اور چروا ہے کو ، ، سارح کہاجاتا ہے اس کی جمع سرح ہے جیسے شارب کی جمع شرب ( اور راکب کی جمع رکب ) آتی ہے اور تسریح کا لفظ طلاق دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا : أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے ۔ اور اسی طرح آیت : وَسَرِّحُوهُنَّ سَراحاً جَمِيلًا[ الأحزاب/ 49] اور ان کو کچھ فائدہ ( یعنی خرچ ) دے کر اچھی طرح سرے رخصت کردو ۔ میں بھی سرحوھن کے معنی طلاق دینے کے ہیں اور یہ تسریح سے مستعار ہے جس کے معنی جانوروں کو چرنے کے لئے چھوڑ دینا کے ہیں ۔ جیسا کہ خود طلاق کا لفظ اطلاق الابل ( اونٹ کا پائے بند کھولنا) کے محاورہ سے مستعا رہے ۔ اور کبھی سرح ، ، میں تیز روی کے معنی کا اعتبار کر کے تیز رو اور سہل رفتار اونٹنی کو ناقۃ سرح کہاجاتا ہے اور اسی سے بطور ستعارہ شعر کے ایک بحر کا نام منسرح رکھا گیا ہے ۔ جمیل الجَمَال : الحسن الکثير، وذلک ضربان : أحدهما : جمال يخصّ الإنسان في نفسه أو بدنه أو فعله . والثاني : ما يوصل منه إلى غيره . وعلی هذا الوجه ما روي عنه صلّى اللہ عليه وسلم : «إنّ اللہ جمیل يحبّ الجمال» «2» تنبيها أنّه منه تفیض الخیرات الکثيرة، فيحبّ من يختص بذلک . وقال تعالی: وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ حِينَ تُرِيحُونَ [ النحل/ 6] ، ويقال : جَمِيلٌ وجَمَال علی التکثير . قال اللہ تعالی: فَصَبْرٌ جَمِيلٌ [يوسف/ 83] ( ج م ل ) الجمال کے معنی حسن کثیر کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے ۔ (1) وہ خوبی جو خاص طور پر بدن یا نفس یا عمل میں پائی جاتی ہے ۔ (2) وہ خوبی جو دوسرے تک پہنچنے کا ذریعہ بنتی ہے اسی معنی میں مروی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا (66) ان اللہ جمیل يحب الجمال ۔ کہ اللہ جمیل ہے اور جمال کو محبوب رکھتا ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے خیرات کثیرہ کا فیضان ہوتا ہے لہذا جو اس صفت کے ساتھ متصف ہوگا ۔ وہی اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوگا ۔ اور قرآن میں ہے :۔ وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ حِينَ تُرِيحُونَ [ النحل/ 6] اور جب شام کو انہیں جنگل سے لاتے ہو ۔۔ تو ان سے تمہاری عزت و شان ہے ۔ اور جمیل و جمال وجمال مبالغہ کے صیغے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ [يوسف/ 83] اچھا صلہ ( کہ وہی ) خوب ( ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

نکاح سے پہلے طلاق کا بیان قول باری ہے : (یایھا الذین امنوا اذ نکحتم المومنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا فمتعوھن وسرحوھن سراجا جمیلا۔ اے ایمان لانے والو ! تم جب مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تمہارے لئے ان کے بارے میں کوئی عدت نہیں ہے جسے تم شمار کرنے لگو، انہیں کچھ مال دے دو اور خوبی کے ساتھ رخصت کردو) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ تزویج کی شرط پر طلاق واقع کرنے کی صحت پر آیا یہ دلالت کرتی ہے یا نہیں۔ اس بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ مثلاً کوئی شخص یہ کہے۔ اگر میں کسی عورت سے نکاح کرلو تو اس پر طلاق ہے۔ “ کچھ حضرات کا قول ہے آیت اس قول کے الغاء اور اس کے حکم کے سقوط کی مقتضی ہے کیونکہ یہ نکاح کے بعد طلاق کی صحت کی موجب ہے جبکہ زیر بحث شخص نکاح سے پہلے ہی طلاق دے رہا ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ قائل کے قول کی صحت اور نکاح کے وجود کی صورت میں اس کے حکم کے لزوم پر آیت کی دلالت واضح ہے کیونکہ آیت نے نکاح کے بعد طلاق کے وقوع کی صحت کا حکم لگادیا ہے۔ اب ایک شخص اگر کسی اجنبی عورت سے یہ کہتا ہے کہ ” جب تجھ سے میرا نکاح ہوجائے گا تو تجھے طلاق ہوجائے گی۔ “ اس لئے یہ شخص نکاح کے بعد طلاق دے رہا ہے۔ جس کی بنا پر ظاہر آیت کی رو سے اس کی طلاق کا واقع ہوجانا اور اس کے الفاظ کے حکم کا ثابت ہوجانا واجب ہوگیا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہی قول درست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قول کا قائل یا تو قول کی حالت میں طلاق دینے والا ہوگا یا نسبت واضافت اور وجود شرط کی حالت میں وہ ایسا کرنے والا ہوگا۔ جب سب کا اس پر اتفاق ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے یہ کے کہ ” جب تو مجھ سے بائن ہوکر میرے لئے اجنبی بن جائے گی تو تجھے طلاق ہوجائے گی۔ “ وہ اضافت کی حالت میں طلاق دینے والا ہوگا، قول کی حالت میں طلاق دینے والا نہیں ہوگا۔ اور اس کی حیثیت اس شوہر جیسی ہوگی جو پہلے اپنی بیوی کو بائن کردے اور پھر اس سے کہے ” تجھے طلاق ہے۔ “ اس طرح اس کے الفاظ کا حکم ساقط ہوگیا اور نکاح کے ہوتے ہوئے اس کے قول کی حالت کا اعتبار نہیں کیا گیا۔ اس لئے یہ کہنا درست ہوگیا کہ اضافت کی حالت کا اعتبار ہوتا ہے، عقد یعنی قول کی حالت کا اعتبار نہیں ہوتا۔ اس لئے اجنبی عورت کو یہ کہنے والا کہ جب میں تجھ سے نکاح کروں گا تو تجھے طلاق ہوجائے گی۔ “ ملک کے بعد اسے طلاق دینے والا ہے۔ اور آیت اس شخص کی طلاق کے وقوع کی مقتضی ہے جو ملک کے بعد طلاق دے رہا ہو۔ طلاق قبل ازنکاح میں اختلاف ائمہ اس مسئلے میں فقہاء کے مختلف اقوال ہیں۔ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد اور زفر کا قول ہے کہ جب کوئی شخص یہ کہے جس عورت سے بھی نکاح کروں اسے طلاق ہے اور جس مملوک کا میں مالک بن جائوں وہ آزاد ہے۔ تو جس عورت سے بھی اس کا نکاح ہوگا اسے طلاق ہوجائے گی اور جس مملوک کا بھی وہ مالک ہوگا اسے آزادی مل جائے گی۔ ان حضرات نے اس میں تعمیم اور تخصیص کرنے والوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کا قول ہے اگر کہنے والے نے اس میں تعمیم کی ہو تو کوئی چیز واقع نہیں ہوگی۔ البتہ اگر اس نے بعینہٖ کسی چیز یا جماعت کی ایک مدت تک تخصیص کردی ہو تو وہ واقع ہوجائے گی۔ امام مالک کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک سے یہ بھی مذکور ہے کہ اگر کسی نے طلاق کے لئے ایسی مدت مقرر کردی ہو جس کے متعلق سب کو یہ معلوم ہو کہ وہ اس مدت تک پہنچ نہیں سکتا تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی مثلاً کوئی شخص یہ کہے ” اگر میں فلاں فلاں سال تک کسی عورت سے نکاح کرلو تو اسے طلاق ہوجائے گی۔ “ پھر امام مالک نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے ” ہر وہ غلام جسے میں خریدلوں وہ آزاد ہے۔ “ تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔ سفیان ثوری کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ” اگر میں فلاں عورت سے نکاح کرلوں تو اسے طلاق ہوجائے گی تو اس پر اس کا یہ قول لازم ہوجائے گا۔ عثمان البتی کا بھی یہی قول ہے۔ اوزاعی نے اس شخص کے متعلق کہا ہے جو اپنی بیوی سے یہ کہے کہ ” ہر وہ لونڈی جس کے ساتھ تمہارے ہوتے ہوئے ہم بستری کروں وہ آزاد ہوجائے گی۔ “ پھر وہ بیوی کے ہوتے ہوئے کسی لونڈی سے ہم بستری کرلے تو وہ لونڈی آزاد ہوجائے گی۔ حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر کوئی یہ کہے ” جس مملوک کا میں مالک ہوجائوں وہ آزاد ہوجائے گا۔ “ تو اس کا یہ قول بےمعنی ہوگا۔ اگر وہ یہ کہے ” ہر وہ مملوک جس میں خرید لوں یا وارث بن جائوں۔ “ یا سای طرح کی کوئی اور بات کہے گا تو اس جہت سے ملکیت حاصل ہونے پر غلام آزاد ہوجائے گا۔ اس لئے کہ اس نے تخصیص کردی تھی۔ لیکن اگر وہ یہ کہے۔ ہر وہ عورت جس سے میں نکاح کروں گا اسے طلاق ہوجائے گی۔ “ تو اس صورت میں کچھ نہیں ہوگا۔ اگر وہ یہ کہے ” فلاں خاندان یافلاں گھرانے یا اہل کوفہ کی جس عورت سے میں نکاح کرلوں گا اسے طلاق ہوجائے گی۔ “ تو اس صورت پر طلاق واقع ہوجائے گی۔ حسن کا قول ہے کہ جب سے کوفہ کا شہر آباد ہوا ہے اس وقت سے آج تک ہمیں کسی اہل علم کے متعلق علم نہیں کہ اس نے اس کے سوا اور کوئی فتویٰ دیا ہو۔ لیث کا قول ہے کہ تخصیص کی صورت میں طلاق اور عتاق کے اندر اس پر اس کی کہی ہوئی بات لازم ہوجائے گی یعنی طلاق واقع ہوجائے گی اور غلام یا لونڈی کو آزادی مل جائے گی۔ امام شافعی کا قول ہے ک اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی نہ تو تخصیص کی صورت میں اور نہ ہی تعمیم کی صورت میں۔ اس مسئلے میں سلف کے مابین بھی اختلاف رائے ہے۔ یا سین زیات سے مروی ہے کہ انہوں نے عطاء خراسانی سے اور انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اس شخص کے متعلق فرمایا تھا جس نے یہ کہا تھا۔ ” جس عورت سے بھی میرا نکاح ہوگا اسے طلاق ہوجائے گی۔ “ کہ جس طرح اس نے کہا ہے اس کے مطابق ہوگا۔ امام مالک نے سعید بن عمرو بن سلیم الزوتی سے رویت کی ہے کہ انہوں نے قاسم بن محمد سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا تھا جو ایک عورت کو اس کے ساتھ نکاح ہونے سے قبل ہی طلاق دے دیتا ہے۔ قاسم نے اس کے جواب میں کہا تھا ک ایک شخص نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اگر میں اس سے نکاح کروں تو یہ میرے لئے میری ماں کی پشت کی طرح ہوگی۔ حضرت عمر (رض) نے اس شخص کو اس عورت سے نکاح کرلینے کا حکم دیا تھا اور ساتھ ہی یہ فرمادیا تھا کہ جب تک ظہار کا کفارہ ادا نہیں کرے گا اس وقت تک اس سے قربت نہیں کرے گا۔ سفیان ثوری نے محمد بن قیس سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے اور انہوں نے اسود سے روایت کی ہے کہ انہوں نے پہلے تو یہ کہا تھا کہ ” اگر میں فلاں عورت سے نکاح کرلوں تو اسے طلاق “ پھر بھول کر اس سے نکاح کرلیا اور یہ معاملہ حضرت ابن مسعود (رض) کے سامنے پیش کردیا۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے اس پر طلاق لازم کردی۔ ابراہیم نخعی، شعبی، مجاہد اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کا بھی یہی قول ہے ۔ شعبی نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی خاص عورت کا نام لے کر یہ بات کہے یا یوں کہے کہ اگر میں فلاں خاندان کی عورت سے شادی کرلوں تو اس پر طلاق ہے تو اس صورت میں وہی ہوگا جو اس نے کہا ہے۔ لیکن اگر وہ یہ کہے : ” جس عورت سے بھی میں نکاح کروں اسے طلاق ہے۔ “ تو اس صورت میں یہ بےمعنی بات ہوگی۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے۔” میں فلاں عورت سے اگر نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ “ تو اس کی یہ بات بےمعنی ہوگی۔ قاسم بن سالم اور حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ اس کے لئے ایسا کہنا جائز ہے۔ یعنی طلاق واقع ہوجائے گی۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص درج بالا فقرہ کہے تو اس کی یہ بات بےمعنی ہوگی۔ حضرت عائشہ (رض) ، حضرت جابر (رض) اور دوسرے حضرات سے مروی ہے کہ نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں۔ تاہم اس فقرے میں ہمارے اصحاب کے قول کی مخالفت پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے نزدیک جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں اگر کسی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ “ وہ دراصل نکاح کے بعد طلاق دینے والا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے آیت کی جس دلالت کا ذکر کیا ہے وہ ہمارے قول کی صحت اور مخالف پر حجت کے قیام نیز مسلک کی تصحیح کے لئے کافی ہے۔ اس پر قول باری (یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود۔ اے ایمان لانے والو ! عقود یعنی بندشوں کی پوری پابندی کرو) ظاہر آیت اس امر کا مقتضی ہے کہ ہر عاقد پر اس کے عقد کا موجب ومقتضیٰ لازم ہوجاتا ہے۔ جب یہ قائل اپنی ذات پر نکاح کے بعد طلاق واقع کرنے کی بندش باندھ رہا ہے تو اس سے ضرورت ہوگیا کہ اس بندش اور عقد کا حکم اس پر لازم ہوجائے۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد بھی دلالت کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا (المسلمون عند شروطھم۔ مسلمان اپنی شرطوں کے پاس ہوتے ہیں) یعنی اپنی شرطیں پوری کرتے ہیں۔ اس ارشاد نے یہ بات واجب کردی کہ جو شخص اپنے اوپر کوئی شرط عائد کرے گا شرط کے وجود کے ساتھ ہی اس پر اس کا حکم لازم کردیا جائے گا۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ نذر صرف ملک کے اندر درست ہوتی ہے۔ نیز یہ کہ جو شخص یہ نذر مانتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہزار درہم عطا کردے تو میں اس میں سے سودرہم اللہ کی راہ میں صدقہ کردوں گا، وہ اپنی ملکیت کے اندر نذر ماننے والا شمار ہوتا ہے ۔ کیونکہ اس نے اس رقم کی اضافت اور نسبت اپنی ذات کی طرف کی ہے اگرچہ فی الحال وہ اس رقم کا مالک نہیں ہے۔ یہی صورت حال طلاق اور عتاق کی ہے کہ اگر ان کی اضافت اپنی ملک کی طرف کرلے گا تو اسے ملک کے اندر طلاق دینے والا اور آزاد کرنے والا شمار کیا جائے گا۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی لونڈی سے یہ کہے کہ ” اگر تمہارے بطن سے کوئی بچہ پیدا ہوا وہ آزاد ہوگا۔ “ اس کے بعد لونڈی کو حمل ٹھہر جائے اور بچہ پیدا ہوجائے تو وہ بچہ آزاد ہوجائے گا حالانکہ قول کی حالت میں آقا اس بچے کا مالک نہیں تھا۔ آزاد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بچے کی اضافت ونسبت اس ماں کی طرف تھی جس کا وہ مالک تھا۔ اسی طرح اگر کوئی عشق کو اپنی ملکیت کی طرف منسوب کرے اسے اپنی ملکیت کے اندر آزاد کرنے والا شمار کیا جائے گا۔ اگرچہ فی الحال اس پر اس کی ملکیت موجود نہیں ہے۔ نیز اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے ” اگر تم گھر میں داخل ہوجائو تو تمہیں طلاق “ پھر نکاح کے ہوتے ہوئے اگر وہ گھر میں داخل ہوجائے گی تو اس پر طلاق واقع ہوجائے گی۔ اس کے اس فقرے کی حیثیت وہی ہے جو نکاح کی حالت میں اس کے اس فقرے کی ہے کہ ” تمہیں طلاق ہے۔ “ اگر یہی شخص اپنی بیوی کو پہلے بائن کردیتا اور پھر وہ گھر میں داخل ہوجاتی تو اس کے درج بالا فقرے کی حیثیت وہی ہوتی جو بینونت کی حالت میں اس کے اس یقرے کی ہوتی۔” تمہیں طلاق ہے۔ “ یعنی اس صورت میں اس پر طلاق واقع نہ ہوتی۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قسم کھانے والا شخص دراصل جواب قسم کے وقت جواب قسم کے الفاظ زبان پر لانے والا شمار ہوتا ہے۔ اس لئے جو شخص یہ کہے ” ہر وہ عورت جس سے میرا نکاح ہوا سے طلاق ہے۔ “ اس کے بعد پھر وہ کسی عورت سے نکاح کرلے تو ضروری ہے کہ اس کے اس فقرے کو وہی حیثیت دی جائے جو کسی عورت سے نکاح کرے اس کے اس فقرے کی ہے کہ ” تمہیں طلاق ہے۔ “ اگر یہ کہا جائے کہ درج بالا بات اگر درست ہوتی تو اس سے یہ لازم آتا کہ ایک شخص اگر حلف اٹھانے کے بعد دیوانہ ہوجاتا اور پھر اس کے قسم کی شرط وجود میں آجاتی تو درج بالا وضاحت کی روشنی میں اسے حانث قرار نہ دیا جاتا کیونکہ اس نے دراصل گویا جنون کی حالت کے وقت جواب قسم کے الفاظ اپنی زبان پر لائے تھے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات ضروری نہیں ہے کیونکہ مجنون کا کوئی قول نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا بولنا اور خاموش رہنا دونوں کی حیثیت یکساں ہوتی ہے ۔ چونکہ اس کا قول درست نہیں ہوتا اس لئے جنون کی صورت میں ابتداء وہی سے اس کا وقوع پذیر ہوجانا درست نہیں ہوتا۔ لیکن چونکہ جنون سے پہلے اس کا قول درست اور قابل تسلیم ہوتا ہے اس لئے صحت کی حالت میں اس کے کہے ہوئے قول کا حکم جنون کی حالت میں بھی اس پر لازم ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ہے کہ مجنون انسان اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دے یا غلام آزاد کردے تو بعض دفعہ اس کی یہ طلاق اور اس کا یہ عتاق درست ہوجاتا ہے۔ مثلاً اگر یہی دیوانہ مقطوع الذکر یا نامرد ہوتا اور اسے اس کی بیوی سے علیحدہ کردیا جاتا تو یہ علیحدگی طلاق ہوتی۔ اسی طرح اگر یہ اپنے باپ کا وراثت کی صورت میں مالک بن جاتا تو باپ اس پر آزاد ہوجاتا۔ جس طرح نائم یعنی نیند میں پڑے ہوئے انسان کی حالت ہوتی ہے کہ طلاق واقع کرنے کی ابتداء تو اس سے درست نہیں ہوتی لیکن کسی سبب کی بنا پر اس کا حکم اسے لازم ہوجاتا ہے۔ مثلاً اس نے کسی کو یہ سپرداری دی ہو کہ وہ اس کی بیوی کو طلاق دے دے یا اس کا غلام آزاد کردے۔ اب اگر اس وکیل نے موکل کی نیند کی حالت میں اس کی بیوی کو طلاق دے دی ہو یا اس کا غلام آزاد کردیا ہو تو طلاق اور عتاق کا یہ حکم اس پر لازم ہوجائے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضرت علی (رض) ، حضرت معاذ بن جبل (رض) اور حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (لا طلاق قبل النکاح۔ نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں) تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ا سروایت کی اسانید فن روایت کے لحاظ سے مضطرب شمار ہوتی ہیں اس لئے روایت کی جہت سے یہ درست نہیں ہے۔ اگر اسے روایت کی جہت سے درست مان بھی لیا جائے تو بھی اختلافی نکتے پر اس کی کوئی دلالت نہیں ہورہی ہے۔ اس لئے کہ ہم نے جو صورت بیان کی ہے اس میں ایک شخص نکاح کے بعد طلاق دینے والا ہوتا ہے اس لئے یہ بات اس روایت کی خلاف نہیں ہے۔ نیز آپ نے اس ارشاد کے ذریعے نکاح سے پہلے طلاق واقع کرنے کی نفی کردی ہے لیکن عقد کی نفی نہیں کی۔ جب آپ کے ارشاد (لا طلاق قبل النکاح) کا حقیقی مفہوم ایقاع طلاق کی نفی ہے جبکہ طلاق پر عقد طلاق شمار نہیں ہوتا تو وہ وجوہ سے حدیث کے الفاظ اس صورت کو شامل نہیں ہوں گے۔ ایک تو یہ کہ عقد پر اس کا اطلاق مجازاً ہوگا۔ حقیقت کے طور پر نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ جو شخص طلاق پر کسی قسم کا انعقاد کرتا ہے۔ اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاتا کہ اس نے طلاق دے دی ہے جب تک وہ واقع نہ ہوجائے پھر لفظ کا حکم یہ ہوتا ہے کہ جب تک دلالت قائم نہ ہوجائے اس وقت اسے اس کے حقیقی معنی پر محمول کیا جائے گا۔ دلالت قائم ہونے پر مجازی معنی لئے جائیں گے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ فقہاء کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ لفظ اپنے حقیقی معنی میں مستعمل ہے اس لئے اس سے مجازی معنی مراد لینا جائز نہیں ہوگا کیونکہ ایک ہی لفظ سے حقیقی اور مجازی دو معنی مراد لینا جائز نہیں ہوتا۔ زہری سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد (لاطلاق قبل نکاح) کی وضاحت ہے انہوں نے کہا ہے کہ اس کا مفہوم صرف یہ ہے کہ کسی شخص کے سامنے کسی عورت کا تذکرہ کرکے اس سے اس کے ساتھ نکاح کرلینے کے لئے کہا جائے ۔ وہ شخص یہ سن کر کہے کہ ” اس عورت کو یقینا طلاق ہے۔ “ اس کی یہ بات ایک بےمعنی سی بات ہوگی۔ البتہ جو شخص یہ کہے ” اگر میں فلاں عورت سے نکاح کرلوں تو اسے یقینا طلاق ہے۔ “ وہ اسے نکاح کرنے پر طلاق دے دے گا۔ غلام آزاد کرنے کی بھی یہی صورت ہے۔ ایک قول کے مطابق یہاں عقد مراد ہے۔ وہ یہ کہ کوئی شخص اجنبی عورت سے کہے۔” اگر تم گھر میں داخل ہوگی تو تمہیں طلاق ہے۔ “ اس کے بعد پھر وہ اس عورت سے نکاح کرلے اور نکاح کے بعد عورت گھر میں داخل ہوجائے تو عورت پر طلاق واقع نہیں ہوگی خواہ نکاح کی حالت میں وہ گھر میں داخل ہوئی ہو۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس بارے میں تخصیص کرنے والے اور تعمیم کرنے والے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اس لئے کہ تخصیص کی صورت میں وہ ملک کے اندر طلاق دینے والا ہوگا۔ تعمیم کی صورت میں بھی اس کا یہی حکم ہوگا جب تعمیم کی صورت میں وہ ملک کے اندر طلاق دینے والا نہیں ہوتا تو تخصیص کی بھی یہی کیفیت ہوگی۔ اگر یہ کہا جائے کہ جب ایک شخص تعمیم کرتا ہے تو اپنی ذات پر تمام عورتوں کو حرام کردیتا ہے جس طرح ظہار کرنے والا جب اپنی بیوی کو مبہم صورت میں حرام کرلیتا ہے تو اس کا حکم ثابت نہیں ہوتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات کئی وجوہ سے غلط ہے اول تو یہ کہ ظہار کرنے والا ایک متعین عورت یعنی اپنی بیوی کی تحریم کا ارادہ کرتا ہے اور ہمارے مخالف کا اصول ہے کہ جب کوئی شخص تعیین کی صورت میں تخصیص کرلے تو اس کی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ البتہ جب وہ تعمیم کرتا ہے تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔ اس لئے ہمارے مخالف کے اصول کے مطابق اس پر طلاق واقع نہ ہونا واجب ہوگا۔ خواہ اس نے تخصیص کیوں نہ کرلی ہو جس طرح ظہار کرنے والا اگر مبہم صورت میں تحریم کرے تو عورت اس پر حرام نہیں ہوتی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اس کے ظہار نیز اس کی تحریم کے حکم کو باطل نہیں کیا بلکہ اس کے قول کے ساتھ اس پر اس عورت کو حرام کردیا ہے اور اس پر اس کے ظہار کا حکم ثابت کردیا ہے۔ نیز جو شخص اس بات کی قسم کھاتا ہے کہ وہ جس عورت سے بھی نکاح کرے گا اس پر طلاق واقع ہوجائے گی۔ وہ اس قسم کے ذریعے اپنی ذات پر عورتوں کو حرام نہیں کرتا کیونکہ وہ اس قسم کے ذریعے نکاح کی تحریم کرو واجب نہیں کرتا۔ بلکہ اس نے صرف نکاح ہوجانے اور ملک بضع کے حصول کے بعد طلاق واجب کی ہے۔ نیز جب وہ کہتا ہے ” ہر وہ عورت جس میں نکاح کروں گا اس پر طلاق واقع ہوجائے گی۔ “ ایسے شخص پر جب ہم اس طلاق کو لازم کردیں گے جس کا اس نے قول کیا تھا تو اس صورت میں عورت کی تحریم مبہم نہیں ہوگی بلکہ اسے ایک طلاق ہوجائے گی اور اس شخص کے لئے اس کے بعد بھی دوسری مرتبہ اس عورت سے نکاح کرلینا جائز ہوگا اور کوئی طلاق وغیرہ واقع نہیں ہوگی۔ ہمارے بیان کردہ یہ تمام وجوہ معترض کی بیخبر ی کی نشاندہی کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ معترض کے درج بالا اعتراض کا اصل مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بعض حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے ۔ اگر میں اس سے نکاح کرلوں تو اس پر طلاق ہے، اور اگر میں اسے خرید لوں تو وہ آزاد ہے۔ تو اس صورت میں کوئی چیز واقع نہیں ہوگی بلکہ طلاق اور آزادی اس صورت میں واقع ہوگی جب وہ عورت سے یہ کہے ” جب تمہارے ساتھ میرا دوست طریقے سے نکاح ہوجائے تو پھر اس کے بعد تمہیں طلاق ہے۔ یا یوں کہے ” جب تمہارے ساتھ میرا درست طریقے سے نکاح ہوجائے تو پھر اس کے بعد تمہیں طلاق ہے۔ “ یا یوں کہے ” جب میں خریداری کے بعد تمہارا مالک بن جائوں تو تم آزاد ہوجائو گے۔ “ ان حضرات نے اپنے اس قول کے لئے استدلال کی یہ راہ اختیار کی ہے کہ جب نکاح اور خریداری کو طلاق اور عتاق کے لئے شرط قرار دیا جاتا ہے تو اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ عقد کے ملک بضع اور ملک بضع اور ملک رقبہ کا حصول ہوتا ہے۔ ل لیکن زیر بحث حالت میں ملک کے حصول کے ساتھ ہی عتاق اور طلاق بھی واقع ہورہی ہے یعنی ملک ، طلاق اور عتاق ایک ساتھ ہی وقوع پذیر ہورہے ہیں۔ اس لئے ایسی صورت میں نہ طلاق واقع ہوگی اور نہ ہی عتاق۔ کیونکہ یہ دونوں چیزیں اس ملک کے اندر وقوع پذیر ہوتی ہیں جو اس سے پہلے حاصل ہوچکی ہو۔ ابوبکر حبصاص کے نزدیک یہ ایک بےمعنی استدلال ہے کیونکہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ ” جب میں تم سے نکاح کرلوں گا اور تمہیں طلاق ہوجائے گی۔ “ یا ” جب تمہیں خریدلوں گا تو تم آزاد ہوجائو گے۔ “ اس کے کلام کے مضمون سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ اس نے نکاح ہوجانے کے بعدنیز ملکیت حاصل ہونے کے بعد طلاق واقع کرنے یا آزادی دینے کا ارادہ کیا ہے۔ اس لئے اس کی حیثیت اس شخص کے قول کی طرح ہوگی جو یہ کہے ” جب میں نکاح کی بنا پر تمہارا مالک ہوجائوں گا تو تمہیں طلاق ہوجائے گی۔ “ یا ” جب میں خریداری کی بنا پر تمہارا مالک ہوجائوں گا تو تمہیں آزادی مل جائے گی۔ “ اس لئے جب فقرے میں نکاح یا خریداری کی بنا پر ملکیت کا مفہوم موجود ہے تو اس کی حیثیت یہ ہوجائے گی کہ گویا اس نے زبان سے یہ بات کہہ دی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ درج بالا بات اگر درست ہوتی تو پھر لازم ہوتا کہ اگر کوئی یہ کہتا۔ میں اگر کوئی غلام خریدوں تو میری بیوی کو طلاق۔ “ یہ کہہ کر وہ کسی اور شخص کے لئے کسی غلام کی خریداری کرلیتا تو اس صورت میں اس کی بیوی پر طلاق واقع نہ ہوتی۔ کیونکہ اس کے اس فقرے کے مضمون میں ملکیت کا کا مفہوم موجود ہے گویا اس نے یہ کہا ۔” اگر خریداری کی بنا پر میں غلام کا مالک ہوجائوں تو میری بیوی کو طلاق۔ “ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا ہونا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ فقرے کے الفاظ ان صورتوں میں ملکیت کے مفہوم کو متضمن ہوتے ہیں جن میں وہ طلاق واقع کررہا ہو یا آزادی دے رہا ہو۔ ان دونوں صورتوں کے علاوہ باقی صورتوں میں فقرے کو الفاظ کے حکم پر محمول کیا جائے گا۔ اور اس میں ملکیت کے وقوع یا عدم وقوع کے معنی کی تضمین نہیں کی جائے گی۔ قول باری ہے (من قبل ان تمستوھن) ہم نے سورة بقرہ میں بیان کردیا ہے کہ سیس یعنی ہاتھ لگانے سے مراد خلوت صحیحہ ہے اور عدت کی نفی کا تعلق خلوت اور جماع دونوں کی نفی کے ساتھ ہے۔ اس بارے میں بحث کے اعادے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ قول باری (ومتعوھن) سے اگر وہ بیوی مراد ہے جس کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو آیت کا حکم وجوب پر محمول ہوگا جس طرح یہ قول باری ہے (اوتفرضوا لھن فریضۃ ومتعوھن) اگر وہ بیوی مراد ہے جس کے ساتھ دخول ہوچکا ہو تو آیت کا حکم استجباب پر محمول ہوگا وجوب پر نہیں۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سیآیت (فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا) تاآخر آیت میں روایت کی ہے کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جس کا نکاح ہوگیا ہو لیکن اس کے ساتھ نہ دخول ہوا ہو، نہ ہی اس کے لئے کوئی مہر مقرر کیا گیا ہو۔ ایسی عورت کونہ تو کوئی مہر ملے گا اور نہ ہی اس پر عدت واجب ہوگی۔ قتادہ نے سعید سے روایت کی ہے۔ سورة بقرہ میں قول باری (فنصف ما فوضتم) کی بنا پر یہ آیت منسوخ ہے۔ قول باری ہے (وسروحوھن) دخول سے پہلے طلاق کی ذکر کے بعداس حکم کا ذکر ہوا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ شوہر اسے اپنے گھر سے یا اپنے قبضے سے اسے رخصت کردے کیونکہ طلاق کے ذکر کے بعد اس کا ذکر ہوا ہے۔ اس لئے زیادہ واضح بات یہ ہے کہ تشریح یعنی گھر سے رخصت کردینا طلاق نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ذریعے یہ بیان ہوا ہے کہ اب اس پر مرد کا کوئی اختیار نہیں رہا اور اب اس پر یہ لازم ہے اپنے قبضے اور سرپرستی سے باہر کردے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے جن عورتوں کو حلال کردیا ان کا بیان قول باری ہے (یایھا النبی انا احللنا لک ازواجک اللاتی اتیت اجورھن اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے آپ کے لئے آپ کی (یہ) بیویاں حلال کی ہیں جن کو آپان کے مہر دے چکے ہیں) تا آخر آیت ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت نکاح کی ان صورتوں پر مشتمل ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے مباح کردیا تھا۔ ایک صورت وہ ہے جس کا ذکر آیت کے درج بالا حصے میں ہوا ہے یعنی ازواج مطہرات جن کے ساتھ متعین مہر پر نکاح ہوا تھا اور آپ نے ان کے مہر انہیں ادا کردیے تھے۔ دوسری صورت ملک یمین کی تھی جس کا ذکر قول باری (وما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک اور وہ عورتیں بھی جو آپ کی ملک میں ہیں جنہیں اللہ نے آپ کو غنیمت میں دلوایا ہے) میں ہوا ہے۔ مثلاً ریحانہ ، صفیہ اور جویریہ۔ آپ نے ان میں سے دو کو آزاد کرکے ان سے عقد کرلیا تھا۔ یہ وہ خواتین تھیں جنہیں اللہ نے آپ کو غنیمت میں دلوایا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان خواتین کا ذکر کیا جو آپ کے اقارب میں سے تھیں اور انہیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر حلال کردیا تھا۔ چنانچہ ارشاد ہوا (وبنات عمک وبنات عما تک ونبات خالک وبنات خلاتک التی ھاجرن معک اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالائوں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی) پھر اللہ تعالیٰ نے ان خواتین کا ذکر کیا جنہیں مہر کے بغیر آپ کے لئے حلال کردیا گیا تھا۔ چناچہ ارشاد ہوا (وامراۃ مومنۃ ان وھبت نفسھا للنبی اور اس مسلمان عورت کو بھی جو (بلا عوض) اپنے کو نبی کے حوالے کردے) اور اس کے ساتھ ہی یہ بتادیا کہ یہ صورت صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے، امت کے لئے اس کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ جن خواتین کا پہلے ذکر گزر چکا ہے ان کے لحاظ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کی حیثیت یکساں ہے۔ قول باری (التی ھاجون معک) کے سلسلے میں امام ابویوسف کا قول ہے کہ اس میں ایسی کوئی دلالت موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ جن خواتین نے آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی تھی وہ آپ پر حرام تھیں۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام ابویوسف اس بات کے قائل نہیں تھے جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کردیا ہے وہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس کے ماسوا چیزوں کا حکم اس چیز کے حکم کے برعکس ہے۔ دائود بن ابی ہند نے محمد بن ابی موسیٰ سے روایت کی ہے، انہوں نے زیاد سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب سے زیاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی سے یہ پوچھا تھا کہ آپ کے خیال میں اگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام بیویاں ہلاک ہوجاتیں تو کیا آپ کو نکاح کرنے کی اجازت ہوتی ؟ حضرت ابی بن کعب (رض) نے جواب دیا : ” اس میں کیا رکاوٹ پیش آتی، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے مختلف قسم کی خواتین کو حلال کردیا تھا اس لئے آپ ان میں سے جن کے ساتھ چاہتے نکاح کرلیتے۔ “ پھر حضرت ابی بن کعب (رض) نے یہ آیت تلاوت کی (یایھا النبی انا احللنا لک) تاآخر آیت یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے جن خواتین کے ساتھ آپ کے نکاح کی اباحت کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے اس سے آپ پر دوسری خواتین کے ساتھ نکاح کی ممانعت لازم نہیں آئی تھی۔ کیونکہ حضرت ابی نے یہ بتایا تھا کہ اگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام ازواج مطہرات فوت ہوجاتیں تو آپ کے لئے دوسری خواتین سے نکاح کرنا جائز ہوتا۔ حضرت ام ہانی (رض) سے اس کے خلاف روایت منقول ہے۔ اسرائیل نے سدی سے۔ انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ام ہانی (رض) سے روایت کی ہے وہ کہتی ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ میں نے معذرت پیش کردی اس پر اللہ تعالیٰ نے (یایھا النبی انا احللنا لک ازواجک) تا (ھاجرن معک) نازل فرمائی۔ میں آپ پر حلال نہیں تھی کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی تھی۔ میں ان لوگوں کے ساتھ تھی جنہیں فتح مکہ کے دن آزاد کردیا گیا تھا۔ جنہیں طلقاء کہا جاتا ہے۔ اگر یہ روایت درست ہے تو حضرت ام ہانی (رض) کا مسلک یہ تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت کرنے والی خواتین کی تخصیص سے ان خواتین کی ممانعت ہوگئی تھی جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی تھی۔ بہرحال یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت ام ہانی (رض) کو اس ممانعت کا علم درج بالا آیت کی دلالت کے بغیر کسی اور ذریعے سے ہوگیا تھا۔ اس آیت میں میں تو صرف ان خواتین کی اباحت کا ذکر ہے جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ آیت نے ہجرت نہ کرنے والی خواتین کی اباحت یا ممانعت کے مسئلے سے تعرض نہیں کیا ہے۔ حضرت ام ہانی (رض) کو اس آیت کے سوا کسی اور ذریعے سے ان کا علم ہوا تھا۔ قول باری (وامراۃ مومنۃ ان وھبت نفسھا للنبی) لفظ ہبہ کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عقد نکاح کی اباحت پر نص ہے۔ لفظ ہبہ کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا دوسروں کے ساتھ عقد نکاح کے جواز کے مسئلے میں اہل علم کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد، زفر، سفیان ثوری اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ لفظ ہبہ کے ساتھ عقد نکاح درست ہے۔ عورت کو مقررہ مہر ملے گا اور اگر مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو اسے مہر مثل ملے گا۔ ابن القاسم نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کسی کے لئے کوئی عورت ہبہ کے لفظ کے ساتھ حلال نہیں ہوگی۔ اگر کوئی عورت نکاح کی خاطر کسی کے لئے اپنے آپ کو ہبہ نہ کرے بلکہ اس لئے ہبہ کردے کہ مرد اس کی حفاظت کرے یا اس کی ذمہ داری سنبھال لے تو اس صورت میں امام مالک کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ لفظ ہبہ کے ساتھ نکاح درست نہیں ہوتا۔ اس آیت کے حکم کے متعلق اہل علم کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ کچھ حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ لفظ ہبہ کے ساتھ عقد نکاح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص تھا کیونکہ قول باری ہے (خالصۃ لک من دون المومنین) ۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ لفظ ہبہ کے ساتھ عقد نکاح کے مسئلے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت یکساں درجے پر ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت یہ تھی کہ بدل کے بغیر بضع کی باحت کا آپ کے لئے جواز تھا۔ رہی بات مجاہد، سعید بن المسیب اور عطاء بن ابی رباح سے منقول ہے۔ یہی بات درست ہے اس لئے کہ آیت اور اصول کی اس پر دلالت ہورہی ہے۔ اس پر آیت کی کئی وجوہ سے دلالت ہورہی ہے۔ ایک تو یہ کہ قول باری ہے (وامراۃ مومنۃ ان وھبت نفسھا للنبی ان اراد النبی ان یستعکحھا خالصۃ لک من دون المومنین، اور اس مسلمان عورت کو بھی جو (بلا عوض) اپنے آپ کو نبی کے حوالے کردے بشرطیکہ نبی بھی اسے نکاح میں لانا چاہیں یہ حکم آپ کے لئے مخصوص ہے نہ کہ اور مومنین کے لئے) جب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتادیا کہ یہ حکم آپ کے لئے مخصوص تھا دوسرے اہل ایمان اس میں شامل نہیں تھے اور اس کے ساتھ ہی ہبہ کی اضافت عورت کی طرف کردی تو اس سے اس بات پر دلالت حاصل ہوئی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جس بات کی تخصیص تھی وہ بدل کے بغیر بضع کی اباحت کی بات تھی کیونکہ اگر لفظ ہبہ مراد ہوتا تو اس میں آپ کے ساتھ دوسرے افراد شریک نہ ہوسکتے اس لئے کہ جو چیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کے ساتھ مخصوص تھی اس میں دوسروں کی شرکت جائز نہیں تھی۔ اس طرح شرکت میں مساوات کی وجہ سے خصوصیت کا مفہوم ختم ہوجاتا اور تخصیص جاتی رہتی جب اللہ تعالیٰ نے ہبہ کے لفظ کی نسبت عورت کی طرف کردی اور فرمایا (وامراۃ مومنۃ ان وھبت نفسھا للنبی) اور لفظ ہبہ کے ساتھ عقد نکاح جائز کردیا تو اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ تخصیص لفظ کے اندر واقع نہیں ہوئی بلکہ صرف مہر کے اندر واقع ہوئی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ بدل کے بغیر تملیک بضع کے جواز میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دوسروں کی شرکت ہے لیکن اس کے باوجود یہ چیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس حکم کی تخصیص کے لئے مانع نہیں بنی اس لئے لفظ میں بھی یہی بات ہونی چاہیے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ یہ حکم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کے ساتھ مخصوص تھا۔ تخصیص صرف اس بات میں کی گئی تھی جو آپ کے حق میں تھی۔ لیکن عقد کے اندر عورت کی طرف سے مہر کا اسقاط اس کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف ہوتا ہے۔ اس چیز نے اس سے اس بات سے خارج نہیں کیا کہ جو چیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص تھی اس میں عورت یا کوئی اور آپ کے ساتھ شریک نہ ہو۔ آیت کی دلالت کی دوسری وجہ یہ قول باری ہے (ان ارادا النبی ان یسنکحھا) اللہ تعالیٰ نے ہبہ کے ساتھ عقد کو نکاح کا نام دیا اس سے یہ بات ضروری ہوگئی کہ ہر ایک کے لئے ہبہ کے لفظ کے ساتھ عقد نکاح جائز ہوجائے۔ کیونکہ قول باری ہے (فانکحوا ماطاب لکم من النسآء جو عورتیں تمہیں اچھی لگیں ان سے نکاح کرلو) نیز جب عقد کی صورت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے جائز ہوگئی اور دوسری طرف ہمیں آپ کے اتباع کا بھی حکم دیا گیا ہے تو اس سے ہمارے لئے آپ کی طرح عمل کرنا واجب ہوگیا۔ الا یہ کہ کوئی ایسی دلالت ہوجائے جس سے یہ معلوم ہوجائے کہ لفظی طور پر یہ فعل حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کے ساتھ مخصوص تھا امت اس میں شریک نہیں۔ اسقاط مہر کی جہت سے آیت میں مذکور تخصیص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاصل ہوگئی تھی اس سے یہ بات ضروری ہوگئی کہ یہ تخصیص صرف اسقاط مہر کے حکم تک محدود رہے اور باقی ماندہ باتوں کو اس پر محمول نہ کیا جائے الا یہ کہ کوئی دلالت قائم ہوجائے جس سے یہ پتہ لگ جائے کہ ان میں سے فلاں بات آپ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت مہر کے ساتھ تھی۔ اس پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو ہمیں عبداللہ بن احمد بن جنبل کے حوالے سے سنائی گئی ہے۔ انہیں ان کے والد نے یہ روایت سنائی ہے، انہیں محمد بن بشر نے، انہیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے کہ وہ ان خواتین کو عار دلایا کرتی تھیں جنہوں نے اپنی ذات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہبہ کردی تھی۔ حضرت عائشہ (رض) کہا کرتی تھیں کہ انہیں شرم نہیں آئی کہ انہوں نے مہر کے بغیر اپنے آپ کو پیش کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (توجی من تشاء منھن وتووی الیک من تشآء ومن ابتغیت ممن عزلت فلا جناح علیک۔ ان میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں، اور جن کو آپ نے الگ کررکھا تھا ان میں سے کسی کو پھر طلب کرلیں جب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں) اس آیت کے نزول کے بعد حضرت عائشہ (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہا : ” میں تو یہی دیکھ رہی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی مرضی پوری کرنے میں بڑی سرعت دکھا رہا ہے۔ لفظ ہبہ کے ساتھ عقدنکاح کے جواز پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو ہمیں محمد بن علی بن زید صائغ کے حوالے سے سنائی گئی ہے، انہیں یہ روایت سعید بن منصور نے سنائی ہے۔ انہیں یعقوب بن عبدالرحمن نے، انہیں ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد سے کہ ایک عورت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی کہ میں اپنی ذات آپ کے لئے ہبہ کرنے کی غرض سے آئی ہوں۔ “ یہ سن کر آپ نے اس پر ایک نظر ڈالی اور اپنے سر کو جنبشدی۔ یعنی آپ نے گویا انکار کردیا۔ اس موقعہ پر ایک صحابی نے آگے بڑھ کر عرض کیا کہ اگر آپ کو نکاح کی ضرورت نہیں ہے تو اس خاتون کا میرے ساتھ نکاح کرادیجئے۔ راوی نے سلسلہ گفتگو کی روایت کرتے ہوئے کہا کہ اس صحابی نے یہ عرض کیا کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا۔” جائو میں نے اس عورت کو قرآن کی ان سورتوں کے بارے جو تمہیں یاد ہیں تمہاری ملکیت میں دے دیا، “ اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے لفظ تملیک کے ساتھ عقد نکاح کرادیا تھا اور ہبہ کا لفظ بھی تملیک کے الفاظ میں داخل ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہوگیا کہ لفظ ہبہ کے ساتھ بھی عقد نکاح درست ہوجائے۔ نیز یہ کہ جب سنت کے ذریعے تملیک کے لفظ کے ساتھ عقد نکاح کا ثبوت ہوگیا تو لفظ ہبہ کے ساتھ بھی اس کا ثبوت ہوگیا کیونکہ کسی نے بھی ان دونوں لفظوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس روایت کے بعض طرق میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ ” قرآن کی ان سورتوں کے بدلے جو تمہیں یاد ہیں، میں نے تمہارے ساتھ اس عورت کا نکاح کرادیا۔ “ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ ممکن ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ تزویج کے لفظ کا ذکر کیا ہوا اور پھر لفظ تملیک کا ذکر کیا ہو اور اس سے یہ بیان کرنا مقصود ہو کہ یہ دونوں لفظ عقد نکاح کے جواز کے لحاظ سے یکساں ہیں۔ نیز جب عقد نکاح تملیکات کے دوسرے عقود کے ساتھ اس لحاظ سے مشابہ ہے کہ اس میں وقت کے ذکر کے بغیر اسے مطلق رکھا جاتا ہے اور توقیت کی وجہ سے یہ فاسد ہوجاتا ہے تو اس سے ضروری ہوگیا کہ دوسری اشیاء مملوکہ کی طرح لفظ تملیک اور ہبہ کے ذریعہ اس کا بھی انعقاد جائز ہوجائے۔ تملیک کے تمام الفاظ کے اس جواز کے لئے یہی بات بنیاد اور اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ لفظ اباحت کے ساتھ عقد نکاح کا جواز نہیں ہوتا کیونکہ یہاں ایک اور حکم بھی ہے جس کی موجودگی لفظ اباحت کے ساتھ عقد نکاح کے جواز کو مانع ہے۔ یہ متعہ کا حکم ہے جسے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے ۔ متعہ کے معنی عورت سے جنسی لطف اندوزی کی اباحت کے ہیں۔ اس لئے ہر ایسا لفظ جس میں اباحت کا مفہوم پایا جائے گا متعہ پر قیاس کرتے ہوئے اس کے ساتھ عقد نکاح کا انعقاد نہیں ہوگا اور ہر ایسا لفظ جس میں تملیک کا مفہوم پایا جائے گا تملیکات کے تمام عقود پر قیاس کرتے ہوئے اس کے ساتھ عقد نکاح کا انعقاد ہوجائے گا کیونکہ عقد نکاح تملیکات کے عقود کے ساتھ ان وجوہ کی بنا پر مشابہت رکھتا ہے جن کا ہم نے گزشتہ سطور میں ذکر کیا ہے۔ اس خاتون کے متعلق اختلاف رائے ہے جس نے اپنی ذات کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہبہ کردیا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت ہے نیز عکرمہ سے کہ یہ خاتون میمونہ بنت الحارث تھیں۔ علی بن الحسن کا قول ہے کہ یہ ام شریک تھیں جن کا تعلق قبیلہ دوس سے تھا۔ شعبی سے مروی ہے کہ یہ ایک انصار یہ خاتون تھیں۔ ایک قول کے مطابق یہ زینب بنت خزیمہ انصاریہ تھیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے ایمان والو جب تم مسلمان عورتوں سے شادی کرو اور ان کا کوئی مہر مقرر کرو اور پھر صحبت سے پہلے ان کو طلاق دے دو تو ان پر حیض یا مہینوں کے ذریعے سے کوئی عدت واجب نہیں۔ اور ان کو متعہ طلاق یعنی تین کپڑے اوڑھنی قمیص اور چادر دے دو اور بغیر کسی اذیت دینے کے سنت کے مطابق ان کو طلاق دے کر رخصت کردو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٩ { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ } ” اے اہل ایمان ! جب تم مومن خواتین سے نکاح کرو ‘ پھر انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ انہیں چھوئو “ اس سے پہلے سورة البقرۃ کی آیات ٢٣٦ اور ٢٣٧ میں قبل از خلوت طلاق کی صورت میں مہر سے متعلق ہدایات ہم پڑھ چکے ہیں۔ مذکورہ آیات کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مہر مقرر نہ ہوا ہو اور خلوت سے قبل ہی شوہر اپنی منکوحہ کو طلاق دے دے تو ایسی صورت میں وہ اسے کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرے۔ اور اگر مہر مقرر ہوچکا ہو اور قبل از خلوت طلاق کی نوبت آجائے تو اس صورت میں مرد کے لیے آدھے مہر کی ادائیگی لازمی ہوگی۔ اب اس آیت میں قبل از خلوت طلاق کی صورت میں عدت ّکے مسئلے کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ { فَمَا لَـکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَہَا } ” تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کی تم انہیں گنتی پوری کرائو۔ “ عدت کا مقصد تو یہ ہے کہ سابق شوہر سے حمل کے ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق ہوجائے۔ چناچہ جب خلوت ِصحیحہ کی نوبت ہی نہیں آئی اور حمل ہونے کا کوئی امکان ہی پیدا نہیں ہوا تو عدت کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ { فَمَتِّعُوْہُنَّ وَسَرِّحُوْہُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا } ” پس انہیں کچھ دے دلا کر بڑی خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دو ۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

85 This sentence is explicit that the word nikah here has been used for the contract of marriage only. The lexicographers have greatly disputed over the real meaning of the Arabic word nikah. One section of them says that as a word it is common both for intercourse and for the contract of marriage. The second section says that in its meaning it is common for both. The third section opines that its real meaning is the contract of marriage and for intercourse it is used only figuratively. And the fourth section expresses the opinion that its real meaning is intercourse and for the contract of marriage it is used only figuratively. Each section has cited Arabic poetry in support of its view. But Raghib Isfahani has emphatically asserted this: "The real meaning of the word nikah is contract of marriage; it has been used for intercourse metaphorically. It is impossible that its real meaning be intercourse and may have been used for the contract of marriage only metaphorically." The argument he gives is that alI the words that have been actually coined for intercourse in Arabic, or in other languages of the world, arc obscene and vulgar. No gentleman would like to utter them in a civilized gathering. Therefore, it is not possible that a society should use the word which has actually been coined for this act for marriage as a metaphor. For conveying this meaning only chaste words have been used in every language of the world and not obscene words. As far as the Qur'an and Sunnah arc concerned, nikah is a term, which either implies only contract of marriage, or intercourse after the contract of marriage; but it has nowhere been used for intercourse outside marriage. This kind of intercourse has been called zina (adultery) by the Qur'an and Sunnah and not nikah. 86 This is a unique verse which was sent down probably in the same period respecting some case of divorce, and so inserted in this context. This shows that it was sent down after the preceding and before the following discourse. Below is given a summary of the legal injunctions that have been derived from this verse:' (1) Although the word "believing women" has been used, which apparently may give the impression that the law enunciated in this verse is not applicable to the women of the people of the Book, yet all scholars are agreed that this very injunction is applicable to them also. That is, in case a Muslim has married such a woman, all the injunctions relating to her divorce, dower, waiting-period ('iddat) and provision at divorce are the same as of marriage with 'a believing woman. The scholars arc also agreed that Allah's mentioning the believing women here in particular is actually meant to tell the Muslims that only the believing women are suitable for them. That is, although it is permissible for them to marry Jewish and Christian women, it is not proper and commendable. In other words, the Qur'an seems to impress that Allah expects that the believers would marry only the believing women. (2) The word mas (to touch) here has been used for intercourse by implication. Thus, the verse apparently implies that if the husband has not had intercourse with the woman, even though he has had seclusion with her and has even touched her with the hand, she will riot have to observe the waiting-term ( iddat) in case of divorce. But the jurists, for the sake of precaution, have decreed that if they have had seclusion proper (i.e. seclusion during which intercourse could be possible), waiting-period will have to be observed if divorce is pronounced after it, and the waiting-period would be annulled only in case divorce was pronounced before they have had the seclusion. (3) The annulment of the waiting-period in case of divorce before the event of seclusion means that in this case the man forfeits his right to take the woman back as his wife, and the woman becomes entitled to marry anyone she likes immediately after the divorce. But it should be borne in mind that this applies only to the divorce which is pronounced' before the event of the seclusion. If a woman's husband dies before having had seclusion, the waiting-period that has to be observed after death will not be annulled, but she will have to pass the same waiting-period of four months and ten days as is obligatory for a married woman in normal conditions. ( 'Iddat is the waiting-period before the expiry of which a divorced woman or a widow is forbidden to remarry). (4) The words "they do not have to fulfil a waiting-period for you", show that the waiting-period is a right of the tnan on the woman. But it dces not mean that this is only the man's right. It, in fact, includes two other rights as well: the right of the children, and the right of AIlah or of the Law. The man's right is on the ground that he has the right to take the woman back as his wife during the period, and also on the ground that the proof of the parentage of his children, which depends on the woman's being pregnant or otherwise, becomes established in the waiting-period. The reason for including the right of the children is that the proof of a child's parentage is necessary for the establishment of his legal rights and his moral status also depends on this that his parentage should not be doubtful. The reason for including the right of Allah (or the right of the Law) is that even if the people and their children become heedless of their rights, the Divine Law requires that their rights should be protected. That is why even if a man gives a warrant to a woman that after his death or after obtaining divorce from him, there will be no waiting-period binding on her from him, the Divine Law will in no case annul it. (5) "Provide them with something and send them away with kindness"; The intention of this injunction would be fulfilled by acting in either of the two ways: If the dower had been fixed at the time of marriage, and then divorce pronounced before the event of seclusion proper, payment of half of the dower will be obligatory, as enjoined in AI-Baqarah: 237. To give more than what is obligatory is not binding but certainly commendable. For instance, it is commendable that besides paying half of the dower the man should Iet the woman retain the bridal garments, or any other articles that he had sent her for the occasion of marriage. But if no dower had been fixed at the time of marriage, it is obligatory to pay her something before scnding her away, and this "something" should be according to the status and financial means of the man, as has been enjoined in AlBaqarah: 236. One section of the scholars hold that something in any case has to be paid in case of divorce as an obligation whether dower has been fixed or not. (6) "scnding off gracefullly" does not only mean that the woman should be provided with something on divorce but this also that separation should be adopted in a gentlemanly way, without any kind of vilification. If a man does not happen to like a woman, or there has been some other cause of complaint due to which he dces not want to keep the woman, he should divorcc her like a gentleman and send her away. He should not start mentioning her faults and relating his complaints against her before the people so as to also prejudice them against her. This instruction of the Qur'an clearly shows that annexing the enforcement of divorce to the permission of a local council or court is wholly against the wisdom and spirit of the Divine Law, for in that case there remains no chance of `sending her away gracefully", but defamation, revilement and vilification do inevitably result even if the man dces not so will. Moreover, the words of the verse also do not admit that the power of the man to divorce should be bound up with the permission of a local council or court. The verse is clearly giving the married man the power of divorce and placing on him alone the responsibility that if he wants to release the woman before touching her he must pay her half the dower as an obligation, or something else according to his means. From this the object of the verse clearly seems to be that in order to prevent divorce from being taken lightly the man should be placed under the burden of a financial responsibility so that he himself uses his power of divorce with sense, and there is no chance of an external interference in the internal affairs of the two families. (7) Ibn 'Abbas, Said bin al-Musayyib, Hasan Basri, 'AIi bin al-Husain (Zain al-'Abidin), Imam Shafe'i and Imam Ahmad bin Hanbal have deduced from the words, 'when you marry...and then divorce ..." that divorce takes effect only when marriage has been contracted. Divorce before the contract of marriage ' is without effect. Therefore if a person says, "If I marry such and such a woman, or a woman of such and such a tribe or nation, or any other woman, she is divorced," it will be an absurd and meaningless thing; no divorce can take effect from this. The following Ahadith are presented in support of this view: "The son of Adam is not entitled to use his power of divorcc in respect of that which he dces not possess." (Ahmad, Abu Da'ud, Tirmidhi, Ibn Majah). And: "There is no divorcc before marriage." (Ibn Majah). But a great number of the jurists hold that this verse and these Ahadith apply in the case when a man says to a woman, who is not his wife, "You have divorce on you," or "I divorce you." Saying such a thing is no doubt absurd, and is of no legal consequence, but if he says, "If I marry you, you are divorced," this is not divorcing before the marriage, but the person is in fact declaring his intent that when the woman is married to him, she will stand divorced. Such a declaration cannot be absurd and without effect, but, as a matter of fact, whenever the woman is married to him, divorce will fall on her. The jurists who hold the view have further differed as to rite extent this kind of divorce will have effect. Imam Abu Hanifah, Imam Muhammad and Imam Zufar hold that divorce will take place in any case whether a person specifics a woman or a tribe or a nation, or talks generally so as to say. 'Any woman whom I marry is divorced." Abu Bakr al-Jassas has cited the same opinion also from Hadrat 'Umar, 'Abdullah bin Mas'ud, Ibrahim Nakha'i, Mujahid and 'Umar bin 'Abdul 'Aziz (may Allah show mercy to them aII). Sufyan Thauri and 'Uthman al-Batti say that divorce will take place only in case the person says, "If I marry such and such a woman, she is divorced." Hasan bin Salih, Laith bin Sa'd and 'Amir ash-Sha'bi, say that such a divorce will take place even if something is said in general terms provided that a particular class of the people has been mentioned; for instance, if the person has said. "If I marry a woman of such and such a family, or such and such a tribe, or such and such city or country or nation, she is divorced." Ibn Abi Laila and Imam Malik, disputing the above opinion, have added a condition that the time limit also should be determined. For example, if the man Said. " If I marry within this year or the ncxt ten years such and such a woman or a woman from such and such a class, she is divorced," divorce will take place, otherwise not. Imam Malik also adds that if the time limit is so long that the man is not expected to outlive it, Iris declaration will have no effect.

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :85 یہ عبارت اس باب میں صریح ہے کہ یہاں لفظ نکاح کا اطلاق صرف عقد پر کیا گیا ہے ۔ علمائے لغت میں اس امر پر بہت کچھ اختلاف ہوا ہے کہ عربی زبان میں نکاح کے اصل معنی کیا ہیں ۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ لفظ وطی اور عقد کے درمیان لفظاً مشترک ہے ۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ یہ ان دونوں میں معنیً مشترک ہے ۔ تیسرا کہتا ہے کہ اس کے اصل معنی عقدِ ترْویج کے ہیں اور وطی کے لیے اس کو مجازاً استعمال کیا جاتا ہے ۔ اور چوتھا کہتا ہے کہ اس کے اصل معنی وطی کے ہیں اور عقد کے لیے یہ مجازاً استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کے ثبوت میں ہر گروہ نے کلام عرب سے شواہد پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ لیکن راغب اصفہانی نے پورے زور کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ : اصل النکاح العقد ثم استعیر للجماع و محال ان یکون فی الاصل للجماع ثم استعیر للعقد ۔ لفظ نکاح کے اصل معنی عقد ہی کے ہیں پھر یہ لفظ استعارۃً جماع کے لیے استعمال کیا گیا ہے ، اور یہ بات محال ہے کہ اس کے اصل معنی جماع کے ہوں اور استعارے کے طور پر اسے عقد کے لیے استعمال کیا گیا ہو ۔ اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ جتنے الفاظ بھی جماع کے لیے عربی زبان ، یا دنیا کی کسی دوسری زبان میں حقیقۃً وضع کیے گیے ہیں وہ سب فحش ہیں ۔ کوئی شریف آدمی کسی مہذب مجلس میں ان کو زبان پر لانا بھی پسند نہیں کرتا ۔ اب آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لفظ حقیقۃً اس فعل کے لیے وضع کیا گیا ہو اسے کوئی معاشرہ شادی بیاہ کے لیے مجاز و استعارے کے طور پر استعمال کرے ۔ اس معنی کو ادا کرنے کے لیے تو دنیا کی ہر زبان میں مہذب الفاظ ہی استعمال کیے گیے ہیں نہ کہ فحش الفاظ ۔ جہاں تک قرآن اور سنت کا تعلق ہے ، ان میں نکاح ایک اصطلاحی لفظ ہے جس سے مراد یا تو مجرد عقد ہے ، یا پھر وطی بعد عقد ۔ لیکن وطی بلا عقد کے لیے اس کو کہیں استعمال نہیں کیا گیا ہے ۔ اس طرح کی وطی کو تو قرآن اور سنت زنا اور سفاح کہتے ہیں نہ کہ نکاح ۔ سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :86 یہ ایک منفرد آیت ہے جو غالباً اسی زمانے میں طلاق کا کوئی مسئلہ پیدا ہو جانے پر نازل ہوئی تھی ، اس لیے پچھلے سلسلۂ بیان اور بعد کے سلسلۂ بیان کے درمیان اس کو رکھ دیا گیا ۔ اس ترتیب سے یہ بات خود مترشح ہوتی ہے کہ یہ تقریر ما سبق کے بعد اور تقریر ما بعد سے پہلے نازل ہوئی تھی ۔ اس آیت سے جو قانونی احکام نکلتے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے : ۱ ) آیت میں اگرچہ مومن عورتوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے بظاہر یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ کتابی عورتوں کے معاملہ میں قانون وہ نہیں ہے جو یہاں بیان ہوا ہے ، لیکن تمام علمائے امت کا اس پر اتفاق ہے کہ معنًی یہی حکم کتابیات کے بارے میں بھی ہے ۔ یعنی کتابی عورت سے بھی کسی مسلمان نے نکاح کیا ہو تو اس کی طلاق ، اس کے مہر ، اس کی عدت اور اس کو متعۂ طلاق دینے کے جملۂ احکام وہی ہیں جو مومن عورت سے نکاح کی صورت میں ہیں ۔ علماء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں مخصوص طور پر صرف مومن عورتوں کا ذکر جو کیا ہے اس سے مقصود دراصل اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ مسلمانوں کے لیے مومن عورتیں ہی موزوں ہیں ۔ یہودی اور عیسائی عورتوں سے نکاح جائز ضرور ہے مگر مناسب اور پسندیدہ نہیں ہے ۔ بالفاظ دیگر قرآن کے اس انداز بیان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اہل ایمان سے متوقع یہی ہے کہ وہ مومن عورتوں سے نکاح کریں گے ۔ ۲ ) ہاتھ لگانے یا مَس کرنے سے مراد لغت کے اعتبار سے تو محض چھونا ہے ، لیکن یہاں یہ لفظ کنایۃً مباشرت کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ اس لحاظ سے ظاہر آیت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر شوہر نے مباشرت نہ کی ہو تو خواہ وہ عورت کے پاس تنہائی میں رہا ہو ، بلکہ اسے ہاتھ بھی لگا چکا ہو تب بھی طلاق دینے کی صورت میں عدت لازم نہ آئے ۔ لیکن فقہاء نے برسبیل احتیاط یہ حکم لگایا ہے کہ اگر خلوت صحیحہ ہو جائے ( یعنی جس میں مباشرت ممکن ہو ) تو اس کے بعد طلاق دینے کی صورت میں عدت لازم آئے گی اور سقوط عدت صرف اس حالت میں ہو گا جبکہ خلوت سے پہلے طلاق دے دی گئی ہو ۔ ۳ ) طلاق قبل خلوت کی صورت میں عدت ساقط ہو جانے کے معنی یہ ہیں کہ اس صورت میں مرد کا حق رجوع باقی نہیں رہتا اور عورت کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ طلاق کے فوراً بعد جس سے چاہے نکاح کر لے ۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ حکم صرف طلاق قبل خلوت کا ہے ۔ اگر خلوت سے پہلے عورت کا شوہر مر جائے تو اس صورت میں عدت وفات ساقط نہیں ہوتی بلکہ عورت کو وہی چار مہینے دس دن کی عدت گزارنی ہوتی ہے جو منکوحۂ مدخولہ کے لیے واجب ہے ۔ ( عدت سے مراد وہ مدت ہے جس کے گزر نے سے پہلے عورت کے لیے دوسرا نکاح جائز نہ ہو ۔ ) ٤ ) مَالَکُمْ عَلَیھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ ( تمہارے لیے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے ) کے الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ عدت عورت پر مرد کا حق ہے ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ صرف مرد ہی کا حق ہے ۔ دراصل اس میں دو حق اور بھی شامل ہیں ۔ ایک حق اولاد ۔ دوسرے حق اللہ یا حق الشرع ۔ مرد کا حق وہ اس بنا پر ہے کہ اس دوران میں اس کو رجوع کر لینے کا حق ہے ، نیز اس بنا پر کہ اس کی اولاد کے نسب کا ثبوت اس بات پر منحصر ہے کہ عدت کے زمانہ میں عورت کا حاملہ ہونا یا نہ ہونا ظاہر ہو جائے ۔ اولاد کا حق اس میں شامل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اپنے باپ سے بچے کے نسب کا ثابت ہونا اس کے قانونی حقوق قائم ہونے کے لیے ضروری ہے اور اس کے اخلاقی مرتبے کا انحصار بھی اس امر پر ہے کہ اس کا نسب مشتبہ نہ ہو ۔ پھر اس میں حق اللہ ( یا حق الشرع ) اس لیے شامل ہو جاتا ہے کہ اگر لوگوں کو اپنے اور اپنی اولاد کے حقوق کی پروا نہ بھی ہو تو خدا کی شریعت ان حقوق کی حفاظت ضروری سمجھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی مرد کسی عورت کو یہ پروانہ بھی لکھ کر دیدے کہ میرے مرنے کے بعد یا مجھ سے طلاق لے لینے کے بعد تیرے اوپر میری طرف سے کوئی عدت واجب نہ ہو گی تب بھی شریعت کسی حال میں اس کو ساقط نہ کرے گی ۔ ۵ ) فَمَتِّعُوْھُنَّ وَسَرِّحُوْھُنَّ سَرَاحاً جَمِیْلاً ( ان کو کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کردو ) اس حکم کا منشا دو طریقوں میں سے کسی ایک طریقے پر پورا کرنا ہو گا ۔ اگر نکاح کے وقت مہر مقرر کیا گیا تھا اور پھر خلوت سے پہلے طلاق دے دی گئی تو اس صورت میں نصف مہر دینا واجب ہو گا جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۳۷ میں ارشاد ہوا ہے ۔ اس واجب سے زائد کچھ دینا لازم نہیں ہے مگر مستحب ہے ۔ مثلاً یہ بات پسندیدہ ہے کہ نصف مہر دینے کے ساتھ مرد وہ جوڑا بھی عورت کے پاس ہی رہنے دے جو دلہن بننے کے لیے بھیجا گیا تھا ، یا اور کچھ سامان اگر شادی کے موقع پر اسے دیا گیا تھا تو وہ واپس نہ لے لیکن اگر نکاح کے وقت مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو اس صورت میں عورت کو کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرنا واجب ہے ، اور یہ کچھ نہ کچھ آدمی کی حیثیت اور مقدرت کے مطابق ہونا چاہیے ، جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۲۳٦ میں فرمایا گیا ہے ۔ علماء کا ایک گروہ اس بات کا بھی قائل ہے کہ متعۂ طلاق دینا بہرحال واجب ہے خواہ مہر مقرر کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو ۔ ( اسلامی فقہ کی اصطلاح میں متعۂ طلاق اس مال کو کہتے ہیں جو طلاق دے کر رخصت کرتے وقت عورت کو دیا جاتا ہے ) ۔ ٦ ) بھلے طریقے سے رخصت کرنے کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ عورت کو کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے بلکہ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کسی تھکا فضیحتی کے بغیر شریفانہ طریقے سے علیٰحدگی اختیار کر لی جائے ۔ ایک آدمی کو اگر عورت پسند نہیں آئی ہے یا کوئی اور وجہ شکایت پیدا ہوئی ہے جس کی بنا پر وہ اس عورت کو نہیں رکھنا چاہتا تو بھلے آدمیوں کی طرح اسے طلاق دے اور رخصت کر دے ۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس کے عیوب لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اپنی شکایتوں کے دفتر کھولے تاکہ کوئی دوسرا بھی اس عورت قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو ۔ قرآن کے اس ارشاد سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ طلاق کے نفاذ کو کسی پنچایت یا عدالت کی اجازت کے ساتھ معلق کرنا خدائی تشریع کی حکمت و مصلحت کے بالکل خلاف ہے ، کیونکہ اس صورت میں بھلے طریقے سے رخصت کرنے کا کوئی امکان نہیں رہتا ، بلکہ مرد نہ بھی چاہے تو تھُکّا فضیحتی اور بدنامی و رسوائی ہو کر رہتی ہے ۔ علاوہ بریں آیت کے الفاظ میں اس امر کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے کہ مرد کا اختیار طلاق کسی پنچایت یا عدالت کی اجازت کے ساتھ مشروط ہو ۔ آیت بالکل صراحت کے ساتھ ناکح کو طلاق کا اختیار دے رہی ہے اور اسی پر یہ ذمہ داری ڈال رہی ہے کہ اگر وہ ہاتھ لگانے سے پہلے عورت کو چھوڑنا چاہے تو لازماً نصف مہر دے کر یا اپنی حیثیت کے مطابق کچھ مال دے کر چھوڑے ۔ اس سے آیت کا مقصود صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کو کھیل بننے سے روکنے کے لیے مرد پر مالی ذمہ داری کا ایک بوجھ ڈال دیا جائے تاکہ وہ خود ہی اپنے اختیار طلاق کو سوچ سمجھ کر استعمال کرے اور دو خاندانوں کے اندرونی معاملے میں کسی بیرونی مداخلت کی نوبت نہ آنے پائے ، بلکہ شوہر سرے سے کسی کو یہ بتانے پر مجبور ہی نہ ہو کہ وہ بیوی کو کیوں چھوڑ رہا ہے ۔ ۷ ) ابن عباس ، سعید بن المُسَیِّب ، حسن بصری ، علی بن الحسین ( زین العابدین ) ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے آیت کے الفاظ جب تم نکاح کرو پھر طلاق دے دو سے یہ استدلال کیا ہے کہ طلاق اسی صورت میں واقع ہوتی ہے جبکہ اس سے پہلے نکاح ہو چکا ہو ۔ نکاح سے پہلے طلاق بے اثر ہے ۔ اس لیے اگر کوئی شخص یوں کہے کہ اگر میں فلاں عورت سے ، یا فلاں قبیلے یا قوم کی عورت سے یا کسی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے ۔ تو یہ قول لغو و بے معنیٰ ہے ، اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہو سکتی ۔ اس خیال کی تائید میں یہ احادیث پیش کی جاتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا طلاق لابن اٰدم فی مالا یملک ، ابن آدم جس چیز کا مالک نہیں ہے اس کے بارے میں طلاق کا اختیار استعمال کرنے کا وہ حق نہیں رکھتا ( احمد ، ابو داؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ) اور لاَ طلاق قبل النکاح ، نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں ۔ ( ابن ماجہ ) ۔ مگر فقہاء کی ایک بڑی جماعت یہ کہتی ہے کہ اس آیت اور ان احادیث کا اطلاق صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی شخص ایک غیر عورت کو جو اس کے نکاح میں نہ ہو یوں کہے کہ تجھ پر طلاق ہے یا میں نے تجھے طلاق دی ۔ یہ قول بلا شبہ لغو ہے جس پر کوئی قانونی نتیجہ مرتب نہیں ہوتا ۔ لیکن اگر وہ یوں کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ پر طلاق ہے ۔ تو یہ نکاح سے پہلے طلاق دینا نہیں ہے بلکہ دراصل وہ شخص اس امر کا فیصلہ اور اعلان کرتا ہے کہ جب وہ عورت اس کے نکاح میں آئے گی تو اس پر طلاق وارد ہو گی ۔ یہ قول لغو و بے اثر نہیں ہو سکتا ، بلکہ جب بھی وہ عورت اس کے نکاح میں آئے گی اسی وقت اس پر طلاق پڑ جائے گی ۔ یہ مسلک جن فقہاء کا ہے ان کے درمیان پھر اس امر میں اختلاف ہوا ہے کہ اس نوعیت کے ایقاع طلاق کی وسعت کس حد تک ہے ۔ امام ابو حنیفہ ، امام محمد اور امام زُفَر کہتے ہیں کہ خواہ کوئی شخص عورت یا قوم یا قبیلے کی تخصیص کرے یا مثال کے طور پر عام بات اس طرح کہے کہ جس عورت سے بھی میں نکاح کروں اس پر طلاق ہے ، دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہو جائے گی ۔ ابو بکر جَصّاص نے یہی رائے حضرت عمر ، عبداللہ بن مسعود ، ابراہیم النَّخعی ، مجاہد اور عمر بن عبدالعزیز رحمہم اللہ سے بھی نقل کی ہے ۔ سُفیان ثَوری اور عثمان الْبَتِّی کہتے ہیں کہ طلاق صرف اسی صورت میں پڑے گی جب کہنے والا یوں کہے کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے ۔ حسن بن صالح ، لَیث بن سعد اور عامر الشَّعبِی کہتے ہیں کہ اس طرح کی طلاق عمومیت کے ساتھ بھی پڑ سکتی ہے بشرطیکہ اس میں کسی نوع کی تخصیص ہو ۔ مثلاً آدمی نے یوں کہا ہو کہ اگر میں فلاں خاندان ، یا فلاں قبیلے ، یا فلاں شہر یا ملک یا قوم کی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے ۔ ابن ابی لیلیٰ اور امام مالک اوپر کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے مزید شرط یہ لگاتے ہیں کہ اس میں مدت کا بھی تعین ہونا چاہیے ۔ مثلاً اگر آدمی نے یوں کہا ہو کہ اگر میں اس سال یا آئندہ دس سال کے اندر فلاں عورت یا فلاں گروہ کی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے تب یہ طلاق واقع ہو گی ورنہ نہیں ۔ بلکہ امام مالک رحمہ اللہ اس پر اتنا اضافہ اور کرتے ہیں کہ اگر یہ مدت اتنی طویل ہو جس میں اس شخص کا زندہ رہنا متوقع نہ ہو تو اس کا قول بے اثر رہے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

36: اگر رخصتی کے بعد طلاق ہو تو عورت کو عدت گزارنے کا حکم ہے جو سورۂ بقرۃ (٢: ٢٢٨) میں گزرا ہے کہ ایسی عورت تین مرتبہ ایام ماہواری گزرنے تک عدت میں بیٹھے گی، اور اس کے بعد نکاح کرسکے گی، لیکن اگر رخصتی نہ ہوئی ہو تو اس کا حکم اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ ایسی صورت میں عورت پر عدت گزارنا واجب نہیں ہے، بلکہ وہ طلاق کے فوراً بعد بھی نکاح کرسکتی ہے، آیت میں چھونے کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد رخصتی ہے یعنی میاں بیوی کو ایسی تنہائی میسر آجائے کہ اگر وہ ہم بستری کرنا چاہیں تو کوئی رکاوٹ نہ ہو، اگر ایسی تنہائی میسر آجائے تو عدت واجب ہوجاتی ہے، چاہے ہم بستری ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ 37: متاع (تحفے) سے مراد یہ ہے کہ بیوی کو طلاق کے ذریعے رخصت کرتے وقت ایک جوڑا دیا جائے جسے اصطلاح میں متعہ کہا جاتا ہے، اور یہ جوڑا مہر کے علاوہ ہے، اور ہر صورت میں مرد کو دینا چاہئیے، چاہے رخصتی سے پہلے طلاق ہو یا رخصتی کے بعد، آیت کا منشاء یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے آپس میں نبھاؤ ممکن نہ رہا ہو اور طلاق دینی ہی ہو تو دونوں کے درمیان جدائی بھی لڑائی اور دشمنی کی فضا کے بجائے خوش اسلوبی کے ساتھ ہونی چاہئیے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33:49) ان تمسوہن۔ میں ان مصدریہ ہے ۔ تمسوا فعل مضارع منصوب (بوجہ عمل ان، سقوط نون اعرابی) جمع مذکر حاضر۔ ہن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب من قبل ان تمسوہن۔ بیشتر اس کے کہ تم ان کو چھوؤ یا ہاتھ لگائو۔ مس مصدر (باب سمع) ان تمسوہن مضاف الیہ ہے اور قبل اس کا مضاف ہے۔ فما لکم علیہن۔ لکم تمہارے لئے علیہن ان کے ذمہ۔ تو تمہارے لئے ان پر (عدت گذارنا) ضروری نہیں ہے۔ فمتعوہن۔ ف ترتیب کا ہے متعوا فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تمتیع (باب تفعیل) مصدر۔ تم متعہ دو ، تم کچھ مال متاع دو ۔ سرحوہن سرحوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر ہن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ تسریح (تفعیل) مصدر۔ تم ان عورتوں کو رخصت کرو۔ تم ان عورتوں کو چھوڑ دو ۔ (نیز ملاحظہ ہو 33:28) مذکورۃ الصدر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 اس سے معلوم ہوا کہ اصل میں لفظ ” نکاح ‘ بمعنی عقد ہے اور جماع کے معنی میں بطور استعارہ آتا ہے۔ ( مفرادت) اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نکاح سے قبل کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک شخص کہہ دیتا ہے کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے پھر اس کے بعد نکاح کرے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ یہی مسلک جمہور اہل علم ہے۔ ( ابن کثیر) ۔ 1 لہٰذا وہ طلاق کے فوراً بعد کسی مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ اس پر جمیع صحابہ (رض) اور بعد کے اہل علم کا اجماع ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس نے تا حال اپنی عورت سے صحبت نہ کی ہو تو عورت پورے مہر کی بھی حقدارہو گی اور اسے چار ماہ دس دن کی عدت بھی پوری کرنی ہوگی۔ یہ بھی اجماعی مسئلہ ہے۔ بعض اہل علم نے خلوت صحیحہ کو بھی بمنزلہ صحبت کے شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دینے سے مہر اور عدت لازم ہوگی۔ مگر یہ مسئلہ بظاہر اس آیت کے خلاف ہے۔ ( ابن کثیر، قرطبی)2 یعنی اگر مہر کا تعین نہ ہوا ہو تو اپنی مالی حیثیت کے مطابق کچھ دے کر اسے بہتر طریقہ سے رخصت کرو۔ (بقرہ : 236) لیکن اگر مہر کا تعین ہوچکا ہو تو پھر قبل از سیس طلاق کی صورت میں نصف مہر دینا لازم ہوگا۔ ( بقرہ : 237) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یہ مسئلہ ذکر فرمایا ازواج کے ذکر میں شاید اس واسطے کہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک عورت کی تھی۔ جب اس کے نزدیک گئے کہنے لگی ” اللہ تجھ سے پناہ دے “۔ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسکو جواب دیا۔” تو نے بڑے کی پناہ پکڑی “۔ اس پر یہ حکم صادر فرمایا اور خطاب فرمایا ایمان والوں کو معلوم ہو کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ حکم خاص نہیں سب مسلمانوں پر یہی حکم ہے “۔ روایات میں ہے کہ وہ بدبخت ساری عمر ندامت اور حسرت کرتی رہی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 49 تا 50 نکحتم : تم نے نکاح کرلیا طلقتم : تم نے طلاق دے دی تمسوا : تم نے ہاتھ لگایا (صحبت کی) تعتدون : تم نے عدت کی متعوا : تم سامان دے دو سرحوا : تم چھوڑ دو اجور (اجر) : مہر افآء : مال غنیمت حاصل ہوا ۔ بغیر جنگ حاصل ہونے والا مال وھبت : سپرد کردیا۔ ہبہ کردیا تشریح آیت نمبر 49 تا 50 اسی سورت میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ کی رحمتوں اور آخرت کی زندگی پر یقین رکھتے ہوئے اللہ کا ذکر کرنے والا ہے اس کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بےمثال زندگی اسوہ حسنہ ہے۔ آپ کی زندگی وہ مبارک و پاکیزہ زندگی ہے جس کی اتباع اور پیروی ضروری ہے ۔ اسی میں دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ جو لوگ رسول اللہ کا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستوں پر چلتے ہیں ان کو زندگی کی راہوں میں سوائے بھٹکنے کے اور کچھ نصیب نہین ہوگا۔ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ دونوں جہانوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے اعلیٰ اور برتر رتبہ و مقام صرف سرکار دو عالم خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاصل ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسوہ حسنہ اور اللہ کے بعد رتبہ و مقام سب سے بلند ہے تو پھر آپ کی زندگی ہی اتباع و پیروی کے لائق ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ پر ان تمام کیفیات اور حالات کو طاری فرمایا جو امت کی رہبری و رہنمائی کے لئے ضروری ہیں ۔ مثال کے طور پر (1) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے کتابیہ عورت (یہودی یا عیسائی) سے نکاح ممنوع تھا جب کہ قرآن کریم کے ارشادات کے مطابق عام مسلمانوں کے لئے کتابیہ عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ (2) آپ کے لئے اور آپ کے خاندان کے ہر فرد کے لئے صدقہ لینا حرام تھا اور ہے جب کہ دوسرے مومنوں کے لئے حرام نہ تھا اور نہ ہے۔ (3) جب تک پانچ وقت کی نمازیں فرض نہ تھیں اس وقت تک مومن پر نماز تہجد فرض کا درجہ رکھتی تھی لیکن جب پانچوں وقت کی نمازیں فرض کردی گئیں تو تمام اہل ایمان مسلمانوں کے لئے نماز تہجد نفل اور سنت بن گئی جب کہ نبی کری (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرض ہی رہی۔ (4) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج (بیویاں) امت کی مائیں ہیں۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کی ازواج سے کوئی مسلمان نکاح نہیں کرسکتا یہاں تک جو کنیز (باندی) آپ کے حلال کی گئی ہے آپ کے وصال کے بعد بھی وہ بھی کسی امتی کے لئے حلال نہیں ہے یعنی جس طرح آپ کے وصال کے بعد آپ کی ازواج مطہرات کا نکاح کسی سے جائز نہیں ہے اسی طرح ان باندیوں سے نکاح کرنا بھی جائز نہیں رکھا گیا جن کو آپ نے اپنی زوجیت میں لیا تھا۔ (5) اگر کوئی مسلمان عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے آپ کو ہبہ کردے یعنی بغیر مہر کے آپ کے سے نکاح کرنا چاہے اور آپ بھی اس سے نکاح کے خواہش مند ہوں تو بغیر نکاح کے نکاح جائز ہے حالانکہ اوروں کے لئے نکاح میں مہر باندھنا شرط لازم ہے۔ یہ بھی آپ کی ایک خصوصیت ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر مہر کے نکاح کرنے کی اجازت دی تھی مگر آپ نے نکاح میں آنے والی ہر زوجہ کا مہر نقد ادا فرمایا ہے۔ (6) عام مسلمانوں کے لئے بیویوں کی تعداد کو چار تک محدود کردیا گیا ہے یعنی چار بیویوں کی موجودگی میں پانچویں کی اجازت نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس اصول کا پابند نہیں بنایا کہ بلکہ آپ کو چار سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت کے ساتھ فرمایا کہ آپ کو بعض دینی مصلحتوں کی بنا پر تنگی محسوس نہ ہو اور اس سلسلہ میں وسعت حاصل ہوجائے۔ دشمنان اسلام نے اس آخری خصوصیت کو ایک یسا رنگ دینے کی کوشش کی ہے جس سے آپ کی شخصیت پر کیچڑ اچھالا جاسکے ۔ حالانکہ ان شادیوں کی کثرت سے دین اسلام کے بنیادی اصولوں کی عظمتوں کو چار چاند لگ گئے ہیں ۔ یہ موضوع تو بہت زیادہ وضاحت طلب ہے جس کے لئے بڑی کتابیں بھی نا کافی ہیں اس سلسلہ میں چند موٹی موٹی باتیں عرض ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان شادیوں کی کثرت میں کیا مصلحتیں پوشیدہ تھیں۔ عربوں میں دامادد بنانے کو برا سمجھا جاتا تھا اور بعض قبیلے تو اپنی بیٹیاں کو پیدا ہوتے ہی اس لئے قتل کردیا کرتے تھے کہ اگر یہ بیٹیاں زندہ رہیں گی تو داماد آئے گا۔ اور داماد کا آنا ان کے لئے تو توہین کا سبب تھا۔ اس دور میں قبیلوں کے دستور کے مطابق قبیلے کے کسی بھی فرد کا داماد پورے قبیلے کا داماد کہلاتا تھا اس لئے اس میں پورے قبیلے کی توہین سمجھی جاتی تھی مگ آپ نے عرب کے اکثر اہم قبیلوں میں شادیاں کرکے دامادیت کی کراہیت کے تصور کو عظمت سے تبدیل فرما دیا اور پیدا ہونے والی لڑکیوں کے ساتھ اس درندگی کو ہمیشہ کے لئے ختم فرمادیا۔ ان شادیوں کے ذریعہ آپ نے بہت حد تک خاندانوں اور قبیلوں کی باہمی دشمنی اور جاہلانہ رسموں کا زور توڑ کر رکھ دیا تھا تاکہ انسانی معاشرہ کی عملی اصلاح ہو سکے۔ چناچہ آپ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینت (رض) کا نکاح اپنے ایک آزاد غلام حضرت زید (رض) ابن حارثہ سے کرکے آقا اور غلام کو مٹا کر رکھ دیا اور جب حضرت زینب (رض) اور حضرت زید (رض) میں باہمی شیدید اختلافات کی وجہ سے طلاق ہوگئی تو آپ نے اللہ کے حکم سے ان کی عدت گذرنے کے بعد ان سے نکاح کرلیا۔ چونکہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا اور اس زمانہ میں منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹوں کی طرح سمجھا جا اتا تھا اس لئے حضرت زینب (رض) (رض) سے نکاح پر کفار و مشرکین نے بہت زہریلا پر پیگنڈہ کیا اور یہ کہنا شروع کہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے شادی کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ اب قیامت تک کے لئے اس رسم کو مٹا دیا گیا ہے کہ جس کو منہ سے بیٹا کہہ دیا جائے وہ حقیقی بیٹا بن جاتا ہے۔ اس طرح حضرت زینب (رض) سے نکاح کے ذریعہ اس رسم کو ختم فرمادیا گیا۔ حضرت صفیہ (رض) حضرت جویریہ (رض) اور حضرت ریحانہ (رض) یہودیوں کے مشہور قبیلوں کی بیٹیاں تھیں۔ جنگ میں گرفتار ہو کر آئیں۔ جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو آپ نے ان کو آزاد کر کے ان سے نکاح فرمالیا۔ اس سے سب سے پہلے بڑافائدہ یہ ہوا کہ آپ کے خلاف یہودیوں کی شازشیں اور سرگرمیاں ٹھنڈی ہونا شروع ہوگئیں۔ آپ نے حضرت عائشہ (رض) اور حضرت حفصہ (رض) سے نکاح فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق سے آپ کا تعلق اور گہرا ہوگیا ۔ حضرت امہ سلمہ (رض) اور حضرت ام حبیبہ سے نکاح کیا تو حضرت خالد بن ولید (رض) اور حضرت ابوسفیان (رض) جو اسلام لانے سے پہلے بنی کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے بڑے دشمن تھے ان کی مخالفین دم توڑ گئیں۔ آپ نے آزاد کردہ باندیوں کو اپنی ازواجی زندگی میں شامل کرکے اس تصور کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیا کہ باندیوں سے نکاح کرنا کوئی بری بات ہے بلکہ آپ نے آزاد خواتین کے ساتھ ساتھ باندیوں کو بھی انسانیت کے رتبہ میں برابر کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور خالہ زاد بہنوں سے یعنی بنی قریش میں سے جو ماں اور باپ کی رشتہ دار ہوں نیز انہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت بھی کی ہو تو آپ کو ان سے نکاح کی اجازت دے دی گئی چناچہ 7 ھ میں آپ کا نکاح حضرت ام حبیبہ (رض) سے ہوا ور اس طرح چچا زاد، پھوپھی زاد اور خالہ زاد بہنوں کے ساتھ تمام مسلمانوں کو نکاح کی اجازت دے دی گئی۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے علاوہ آپ کی جتنی بھی ازواج مطہرات ہیں وہ سب کی سب بیوہ تھی بلکہ ان میں سے اکثر تو وہ تھیں جن کے کئی کئی نکاح ہوچکے تھے۔ آپ نے اس سنت کے ذریعہ ہر مومن کو اس بات کی تلقین فرمادی ہے کہ وہ عورتیں جو کسی وجہ سے اپنے شوہروں سے علیحدہ ہوجائیں تو ان کو معاشرہ میں اس طرح بےسہارا نہ چھوڑا جائے بلکہ بیوہ عورتوں سے نکاح کرنے کو ایک عظیم نیکی اور سنت بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی جوانی کے دنوں میں بیوہ خاتون حضرت خدیجہ (رض) سے شادی کی اور جب اسلامی جنگوں میں بڑے پیمانے پر مسلمان شہید ہوئے تو آُنے متعدد نکاح فرمائے جس پر دوسرے اہل ایمان نے بھی عمل کیا اور اس طرح بےسہارا اور بیوہ عورتوں کو عزت کی چھت اور ان کی اولاد کو نسب حاصل ہوا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچیس سا ل کی عمر میں ام المومنین حضرت خدیجہ (رض) سے نکاح فرمایا۔ اس وقت عام رروایتوں کے مطابق حضرت خدیجہ (رض) کی عمر مبارک چالیس سال تھی۔ حضرت خدیجہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح میں ستائیس سال رہیں۔ اس عرصہ میں آپ نے کسی بھی عورت سے شادی نہیں کی۔ اللہ نے حضرت خدیجہ (رض) ہی سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اولاد عطا فرمائی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ (رض) کے وصال کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) اور سودہ بنت زمعہ سے نکاح کیا۔ چار سال تک حضرت عائشہ اور حضرت سودہ (رض) کی علاوہ کوئی بیوی نہ تھیں۔ اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو چھپن سال کی عمر تک آپ کے گھر میں صرف دو بیویاں تھیں لیکن چھپن سال اور تیسٹھ سال کی عمر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر متعدد بیویاں تھیں کیونکہ یہی وہ زمانہ ہے جب جنگوں سے بہت سی خواتین کے سروں سے ان کے شوہروں کا سایہ اٹھ چکا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور اصحابہ کرام (رض) نے کئی کئی شادیاں کر کے بیواؤں سے نکاح کئے۔ زیر مطالعہ آیات میں ان تمام باتوں سے پہلے ایک مسئلہ کی طرف بھی متوجہ فر مایا گیا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے نکاح کرے اور پھر (صحبت یا خلوت صحیحہ سے پہلے) اس کو طلاق دیدیے تو اس صورت میں عورت پر کوئی عدت واجب نہیں ہے اور نہ ہی مرد کو پورا مہر دینا پڑے گا۔ (خلوت صحیحہ تنہائی میاں بیوی کی ایسی ملاقات کو کہتے ہیں جس میں صحبت کرنا ممکن ہو) اگر مہر مقرر ہوچکا تھا تو مرد پر واجب ہے کہ وہ آدھا مہر اس لڑکی کو ادا کرے لیکن اگر اپنے حسن اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورا مہر ہی ادا کردے تو بہتر ہے۔ اگر نکاح کے وقت کوئی مہر مقرر نہیں ہوا تھا اور ایسی صورت میں طلاق ہوجائے تو کوئی مہر نہیں دیا جائے گا البتہ اپنی حیثیت کے مطابق مرد پر واجب ہے کہ کم از کم کپڑوں کا ایک جوڑا دے کر ہی احسن طریقے سے اس کو رخصت کردے تا کہ جس تعلق کی ابتداء محبت اور پیار سے ہوئی تھی وہ فضا زیادہ خراب نہ ہونے پائے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ ہاتھ لگانا کنایہ صحبت سے ہے، حقیقة یا حکما مثل خلوت صحیحہ ہے۔ 5۔ متاع میں یہ تفصیل ہے کہ اگر اس کا مہر مقرر نہیں ہوا تو یہ متاع ایک جوڑا ہے۔ اور اگر مہر مقرر ہوا ہے تو یہ متاع نصف مہر ہے۔ 6۔ سراح جمیل یہ کہ امساک بلاحق نہ کرے، اس کا متاع واجب نہ رکھے اور دیا ہوا واپس نہ لے، کوئی سخت بات نہ کہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس لیے مبعوث فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں۔ اب لوگوں پر لازم ہے کہ وہ کفار اور مشرکین کی بات ماننے کی بجائے اللہ اور اس کے رسول کی بات مانیں جس ایک کا تقاضا یہ ہے کہ اگر تم اپنی بیویوں کو چھوئے بغیر طلاق دے دو تو پھر بھی انہیں رخصت کرتے ہوئے ان کے ساتھ بہترین سلوک کرو۔ گویا کہ گھریلو معاملات میں بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ماننا چاہیے۔ ارشادہوا کہ اے صاحب ایمان لوگو ! تم مومن عورتوں سے نکاح کرو۔ اگر انہیں چھونے سے پہلے طلاق کی نوبت پیش آجائے تو تمہاری بیویوں پر عدّت گذارنے کی کوئی پابندی نہیں۔ طلاق کے بعد جب چاہیں آگے نکاح کرسکتی ہیں۔ البتہ خاوندوں پر لازم ہے کہ جب انہیں رخصت کریں تو بہتر سے بہتر طریقے سے رخصت کیا کریں۔ بہتر طریقے سے رخصت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رخصت کرتے وقت اپنی استعداد کے مطابق کچھ نہ کچھ انہیں ضرور دینا چاہیے تاکہ ان کی دلجوئی ہونے کے ساتھ جس اعتماد اور تعلق کی بناء پر یہ رشتہ قائم ہوا تھا اسے کم سے کم نقصان پہنچے۔ یہاں ” مَسَّ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد بیوی سے خلوت کرنا ہے۔ خاوند اپنی منکوحہ سے جماع کرلے تو طلاق دینے کی صورت میں پورے کا پورا حق مہرادا کرنا ہوگا اور اگر مباشرت یعنی جماع نہیں کیا تو آدھا حق مہر ادا کرنا ہوگا بشرطیکہ حق مہر مقرر ہوچکا ہو۔ یعنی واضح ہونا چاہیے کہ کتنا ادا کرنا ہے۔ جماع سے پہلے طلاق دی جائے تو حق مہر نہ مقرر ہونے کی صورت میں کچھ نہ کچھ دے کر بیوی کو رخصت کرنا چاہیے۔ اچھے طریقے سے رخصت کرنے کا یہ بھی معنٰی ہے کہ بیوی کی عیب جوئی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر مباشرت سے پہلے خاوند فوت ہوجائے تو عورت پر کوئی عدت نہ ہوگی۔ (عَنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ یَقُولُ قَالَ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّہِ مَنْزِلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الرَّجُلَ یُفْضِی إِلَی امْرَأَتِہِ وَتُفْضِی إِلَیْہِ ثُمَّ یَنْشُرُ سِرَّہَا )[ رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ إِفْشَاءِ سِرِّ الْمَرْأَۃِ ] ” عبدالرحمن بن سعد (رض) سے روایت وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے بد ترین وہ شخص ہوگا جو اپنی بیوی کی مخصوص باتیں لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ “ مسائل ١۔ نکاح کے لیے مسلمان عورت کو ترجیح دینا چاہیے۔ ٢۔ جماع سے پہلے طلاق کی صورت میں عورت کے لیے عدّت نہیں۔ ایسی صورت میں رجوع نہیں ہوسکتا البتہ عقد ثانی ہوسکتا ہے۔ ٣۔ حق مہر مقرر نہ ہونے کی صورت میں بیوی کو رخصت کرتے وقت کچھ نہ کچھ دینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ معاف فرمانے اور رحم کرنے والا ہے : ١۔ اے نبی ! میرے بندوں کو بتاؤ کہ میں بخشنے اور رحم کرنے والا ہوں اور میرا عذاب بھی دردناک ہے۔ (الحجر : ٤٩ تا ٥٠) ٢۔ ” اللہ “ توبہ کرنے والوں کو اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے بیشک اللہ معاف کرتا اور رحم فرماتا ہے۔ (التوبۃ : ٩٩) ٣۔ ” اللہ “ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (التوبۃ : ٢٧) ٤۔ جو سچے دل سے تائب ہوجائے ایمان کے ساتھ اعمال صالح کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا کیونکہ اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ (الفرقان : ٧٠) ٥۔ گناہ گار کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ (الزمر : ٥٣) ٦۔ جو توبہ کرے اور اصلاح کرے تیرا رب بڑا غفور الرّحیم ہے۔ (النحل : ١١٩) ٧۔ ” اللہ “ جلد پکڑنے والا اور غفور الرّحیم ہے۔ (الانعام : ١٦٥) ٨۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کر دے کیونکہ وہ غفور الرّحیم ہے۔ (النور : ٢٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 192 ایک نظر میں اس سبق کے ابتدائی حصہ میں عام خاندانی اور عائلی قانون سازی ہے۔ مطلقہ جسے رخصتی سے قبل طلاق ہوچکی ہو ، اس کا حکم عدت وغیرہ۔ اس کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاندانی زندگی کے لیے ہدایات ، ازواج کے ساتھ آپ کے تعلقات ، اور رواج کے دوسرے لوگوں سے رابطے کی ضابطہ بندی اور مسلمانوں کا رسول کے گھرانے سے تعلق ، اور پھر اس گھرانے پر درود وسلام۔ پھر پردے کا عام حکم جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹیاں ، بیویاں اور مومنین کی تمام عورتیں شامل ہیں یہ کہ جب وہ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں تو اپنی اوڑھنیاں سینوں پر لٹکا لیا کریں تاکہ وہ اس لباس کے ساتھ پہچانی جاسکیں اور ان کے ساتھ تعرض نہ کیا جاسکے۔ کیونکہ منافقین ، فساق و فجار اور مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے اوباش عورتوں سے چھیڑ خانی کرتے تھے۔ آخر میں ایسے لوگوں کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی ان کاروائیوں سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ تمام قانونی ، معاشرتی اور امن وامان کے اقدامات اس لئے تھے کہ مدینہ کی سوسائٹی کو مکمل اسلامی خطوط پر منظم کیا جائے۔ جو ہدایات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے بارے میں ہیں ، وہ اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس گھرانے کو قیامت تک کے لئے آنے والی نسلوں کے لیے کھلی کتاب کے طور پر باقی رکھنا چاہتے تھے کیونکہ یہ کتاب تو قیامت تک پڑھی جانے والی تھی اور پھر یہ ہدایت اور کتاب الٰہی میں ان کا ثبت کیا جانا اس گھر کے لیے ایک اعزاز بھی تھا کہ خود اللہ اس کی تربیت کر رہے ہیں اور قیامت تک کے لیے نمونہ بنا رہے ہیں۔ درس نمبر 192 تشریح آیات 49 ۔۔۔ تا۔۔۔ 62 یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ سراجا جمیلا (49) ” “۔ سورة بقرہ میں یہ احکام اس عورت کے بارے میں گزر گئے تھے جس کو قبل از رضصتی طلاق دے دی گئی ہو۔ لا جناح علیکم ان طلقتم ۔۔۔۔۔ ان اللہ بما تعملون بصیر (2: 237 – 238) ” تم پر کچھ گناہ نہیں اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو۔ اس صورت میں انہیں کچھ نہ کچھ ضرور دینا چاہئے۔ خوشحال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور ۔۔۔ اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔ اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو مگر مہر مقرر کیا جاچکا ہو تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے۔ یا وہ مرد جس کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے نرمی سے کام لے اور تم نرمی سے کام لو ، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو ، تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے “۔ ایسی مطلقہ جس کی رخصتی نہ ہوئی ہو اگر مہر مقرر ہو تو نصف مہر ادا کرنا ہوگا اور گر مہر مقرر نہ ہو تو اس کے لئے کچھ نہ کچھ سامان دینا لازمی ہے۔ مالدار پر اس کی حیثیت کے مطابق اور غریب پر اس کی حالت کے مطابق۔ اس آیت میں عدت کے مسئلے کا اضافہ کردیا گیا جو وہاں نہ تھا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ چونکہ رخصتی نہیں ہوئی ہے اس لیے عدت نہ ہوگی۔ کیونکہ ان لوگوں کے درمیان چونکہ ہم بستری نہیں ہوئی اس لیے عدت کے ذریعے رحم کو پاک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ سابقہ نکاح کے آثار ہی موجود نہیں تاکہ نسب کا اختلاط نہ ہو اور کسی آدمی کی طرف دو بچہ منسوب نہ ہو جو دراصل اس کا نہ ہو۔ یا ایک شخص کا بچہ ہو اور وہ اس سے محروم ہوجائے لیکن رخصتی نہ ہونے کی صورت میں تو رحم پاک ہے۔ لہٰذا نہ عدت ہے اور نہ انتظار ہے۔ فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا (33: 49) ” تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کرو “۔ فمتعوھن ” انہیں کچھ مال دو “۔ اگر مہر مقرر ہو تو نصف مہر ہے۔ اور اگر نہ ہو تو بھی کچھ دو ، اپنی مالی حالت کے مطابق۔ وسرحوھن سراحا جمیلا (33: 49) ” اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو “۔ نہ روکے رکھو ، نہ اذیت دو ، نہ بغض رکھو اور نہ ان کو جدید ازدواجی زندگی گزارنے سے روکو۔ اس سورة میں یہ عام حکم ہے اور پوری اسلامی سوسائٹی کیلئے ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کیلئے کون سے عورتیں حلال کی گئی ہیں اور وہ خصوصیات جو آپ کی ذات اور آپ کے اہل بیت کے لیے ہیں۔ یہ احکام سورة نساء کی آیت (مثنی و ثلاث و رباع) کے بعد آئے۔ وہاں مسلمانوں کے لیے چار عورتوں سے زیادہ کرنا حرام کردیا گیا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حرم میں 9 بیویاں تھیں۔ ہر ایک کے ساتھ نکاح ایک خاص ضرورت کے تحت ہوا تھا۔ حضرت عائشہ (رض) اور حضرت حفصہ (رض) ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کی بیٹیاں تھیں۔ یہ آپ کے قریبی ساتھی تھے۔ ام حبیبہ ابو سفیان کی بیٹی تھی۔ ام سلمہ ، سودہ بنت زمعہ ، زینب بنت خزیمہ ان لوگوں میں سے تھیں جو خاوندوں سے محروم ہوگئی تھیں اور حضو (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی حوصلہ افزائی اور عزت افزائی فرمائی۔ زینب بنت جحش (رض) کا قصہ تو ابھی گزرا ہے۔ چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اصرار پر ان کو زید ابن حارثہ غلام کے ساتھ بیاہ دیا تھا اور یہ شادی کامیاب نہ ہوسکی تو اللہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کا نکاح کردیا۔ ان کی دل جوئی کیلئے اور متنبی بنانے کی رسم کے آثار کو ختم کرنے کے لئے تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جویریہ بنت الحارث بنی المصطلق اور صفیہ بنت حیی ابن اخلب ، دونوں غلام ہوکر آئیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو آزاد کرکے نکاح میں لے لیا تاکہ ان قبائل سے تعلقات قائم ہوں اور ان دونوں دختران سردار ان کی عزت ہو۔ یہ دونوں اسلام لاچکی تھیں اگرچہ ان کی اقوام کے ساتھ سخت سلوک ہوا۔ یہ سب عورتیں وہ تھیں جنہوں نے امہات المومنین کا مقام پایا اور جب آیت تخییر نازل ہوئی تو ان سب نے اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار کیا اور دنیا پر آخرت کو اختیار کرلیا۔ نیز جب عورتوں کی تعداد کو چار کے اندر محدود کردیا گیا تو ان ازواج نبی کے لیے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔ ہونا شاق گزرا۔ اللہ نے ان پر نظر کرم فرمائی اور بقرہ کی آیت سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مستثنیٰ کردیا اور ان تمام عورتوں کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت دے دی۔ ان سب کو آپ کے لیے حلال کردیا لیکن اس کے بعد یہ حکم بھی دے دیا کہ آپ ان پر اضافہ نہیں کرسکتے۔ نہ ان میں سے کسی ایک کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں۔ یہ اجازت صرف موجودہ ازواج تک محدود ہے تاکہ وہ شرف زوجیت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محروم نہ ہوجائیں جبکہ اس سے قبل وہ اللہ کے رسول اور دار آخرت کو ترجیح دے چکی تھیں۔ یہی موضوعات ہیں ان آیات کے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

عدت کے بعض مسائل : شریعت اسلامیہ میں نکاح اور طلاق، ادائے مہر نان نفقہ اور طلاق کے بعد عدت گزارنے کے بہت سے احکام ہیں جو قرآن مجید میں کئی جگہ مذکور ہیں اور فقہاء کرام نے ان کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ نکاح تو بہت مبارک اور مستحسن اقدام ہے اور بعض صورتوں میں واجب بھی ہوتا ہے اور طلاق بھی شریعت اسلامیہ میں مشروع ہے لیکن اسے ابغض المباحات قرار دیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرلے جس سے نکاح حلال ہو تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے، اب وہ اس کے نکاح سے اسی وقت نکلے گی جب یہ شخص مرجائے یا طلاق بائن یا مغلظہ دیدے یا طلاق رجعی دے کر عدت گزرنے تک رجوع نہ کرے۔ لفظ (عِدّت عَدَّیَعُدُّ ) کا مصدر ہے جس کا معنی ہے شمار کرنا، چونکہ مطلقہ اور (مُتَوَفّٰی عَنْھَا زَوْجَھَا) کو مہینے اور حیض شمار کرنے ہوتے ہیں تاکہ ان کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکے، اس لیے دوسرے نکاح کے انتظار کے زمانہ کو عدت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جس کسی مرد نے نکاح کرکے جماع کرلیا پھر کسی وجہ سے طلاق دے دی اور عورت ایسی ہے جسے حیض آتا ہے اور حاملہ بھی نہیں ہے تو اس کی عدت تین حیض ہے اور اگر حیض والی نہیں ہے تو اس کی عدت کی مدت تین مہینے ہے اور جس عورت کو حالت حمل میں طلاق ہوجائے اس کی عدت وضع حمل پر ختم ہوجائے گی۔ اور جس منکوحہ عورت کا شوہر مرجائے جو حمل والی نہ ہو تو اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے شوہر نے اس سے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو اور اگر حمل والی ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ اگر کسی عورت سے نکاح کیا اور اس سے جماع کرنے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو کوئی عدت واجب نہیں یعنی ایسی عورت طلاق ہونے کے ساتھ ہی کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ طلاق دینے والے شوہر کو کوئی حق نہیں کہ اس کو عدت گزارنے کو کہے اور دوسری جگہ نکاح کرنے سے روکے، اور اسے کچھ متاع بھی دے دیں۔ لفظ مَتَاعٌ مال کو کہتے ہیں، صورت مذکورہ میں کتنا مال دینا ہے ؟ سورة بقرہ میں اس کو بیان فرمایا : (وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَھُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفِ مَا فَرَضْتُمْ ) یعنی اگر تم انہیں اس سے پہلے طلاق دے دو کہ انہیں ہاتھ لگاؤ اور حال یہ ہے کہ ان کے لیے مہر مقرر کرچکے ہو تو جو کچھ مقرر کیا ہے اس کا آدھا دے دو ، اور اگر ہاتھ لگائے بغیر طلاق دے دی اور مہر مقرر نہیں کیا تھا تو ایک جوڑا کپڑے دینا واجب ہے۔ سورة بقرہ کی مذکورہ آیت سے پہلے جو (وَّمَتِّعُوْھُنَّ ) فرمایا ہے اس سے یہی مراد ہے، فقہاء کی اصطلاح میں اس جوڑے کو متاع کہتے ہیں۔ یہ جوڑا تین کپڑوں پر مشتمل ہوگا، ایک خوب بڑی چادر جس میں سر سے پاؤں تک لپٹ سکے، دوسرے دوپٹہ تیسرے کرتہ، اور یہ متاع مرد کی حیثیت کے مطابق دیا جائے گا۔ اور اگر کسی عورت سے نکاح کے بعد جماع بھی کرلیا لیکن مہر مقرر نہیں کیا گیا تو اس صورت میں مہر مثل واجب ہوتا ہے۔ اگر کسی عورت سے نکاح کیا ہو اور اس کے ساتھ جماع بھی کیا اور پھر طلاق دے دی اور حال یہ ہے کہ مہر بھی مقرر کیا تھا تو اس صورت میں پورا مہر دینا واجب ہوگا۔ حنفیہ اور حنابلہ کے نزدیک جماع اور خلوت صحیحہ کا ایک ہی حکم ہے یعنی نکاح شدہ عورت سے خلوت صحیحہ ہوگئی تو اس میں بھی عدت واجب ہوگئی اور مقررہ مہر بھی پورا دینا ہوگا۔ (قال ابن قدامۃ فی المغنی ج ٩ ص ٨٠: ولا خلاف بین اھل العلم فی وجوبھا علی المطلقۃ بعد الدخول فاما ان خلابھا ولم یعبھا ثم طلقھا فان مذھب احمد وجوب العدۃ علیھا وروی ذلک عن الخلفاء الراشدین زید وابن عمرو بہ قال عروۃ وعلی بن حسین وعطاء والزھری والثوری والاوزاعی والاسحق واصحاب الرای و الشافعی فی قدیم قولہ وقال الشافعی فی الجدید لا عدۃ علیھا، لقولہ تعالیٰ : (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَھَا) وھذا نص، ولانھا مطلقۃ لم تمس فاثبھت من یخل بھا، ولنا اجماع الصحابۃ روی الامام احمد والاثرم باسناد ھما عن زرارۃ بن اوفیٰ قال قضی الخلفاء الراشدون ان من اوخی سترا او اغلق باباً فقد وجب المھرو وجبت العدۃ ورواہ الاثرم ایضاً عن الاحنف عن عمرو علی وعن سعید بن المسیب عن عمرو زید بن ثابت، وھذہ قضایا اشھرت فلم تنکر فصارت اجماعا، وضعف احمد ماروی فی خلاف ذاک۔ ١۔ ھ) (علامہ ابن قدامہ نے ” المغنی “ میں لکھا ہے کہ دخول کے بعد جس عورت کو طلاق دے دی جائے تو اس کے لیے حق مہر واجب ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے لیکن اگر خاوند نے خلوت تو کی مگر وطی نہیں کی پھر طلاق دے دی تو اس کے بارے میں امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ اس پر عدت واجب ہے اور یہی بات حضرات خلفائے راشدین، حضرت زید اور حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے اور عروہ، علی بن حسین، عطاء، زہری، ثوری اوزاعی، اصحاب رائے اور امام شافعی کے پرانے قول کے مطابق یہ سب بھی اس کے قائل ہیں کہ اس پر عدت واجب ہے، امام شافعی کا جدید قول یہ ہے کہ اس پر عدت نہیں ہے اس آیت کی وجہ سے (سورۂ احزاب کی مذکورہ بالا آیت) اور یہ آیت اس بارے میں نص ہے کہ دخول سے پہلے طلاق میں عدت نہیں ہے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ ایسی مطلقہ ہے جس کے ساتھ وطی نہیں ہوئی لہٰذا اس کی خلوت مشتبہ ہوگئی ہے۔ اور ہماری دلیل صحابہ کرام (رض) کا اجماع ہے۔ امام احمد اور اثرم نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت زرارۃ بن اوفیٰ سے نقل کیا ہے کہ خلفائے راشدین کا فیصلہ یہ تھا کہ جس نے پردہ لٹکایا اور دروازہ بند کردیا تو مہر بھی واجب ہے اور عدت بھی اور اثرم نے احنف سے انہوں نے عمرو علی سے اور سعید بن المسیب سے انہوں نے عمر اور زید بن ثابت سے بھی یہی روایت کی ہے اور یہ مشہور فیصلے ہیں ان پر کسی صحابہ نے نکیر نہیں کی لہٰذا اجماع ہوگیا اور اس کے خلاف جو مروی ہے امام احمد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ) (قال العبد الفقیر : مذھب الجمھور مخالف فی الظاھر الایۃ وھو التصریح بعدم وجوب العدۃ اذا طلقھا ولم یمسھا، وکیف ساغ للصحابۃ والتابعین وجمھور الفقھاء ان یختار واخلاف ماصرحت بہ الایۃ الکریمۃ، ھذا کان یختلج فی قلبی، ثم ان اللّٰہ تعالیٰ القی فی روعی ان اللّٰہ تعالیٰ انما خاطب الزوج الاول الذی طلقھا انہ لیس لک ان تامرھا بالعدۃ کان لان صلتہ انقطعت عنھا، فاما عدم الاعتداد فی حق الزوج الثانی الذی یرید نکاحھا بعد طلاق الزوج الاول وجواز النکاح بعد طلاق مباشرۃ فالآیۃ الکریمۃ ساکتۃ عن ذلک، وانما جعل الجمھور الخلوۃ الصحیحۃ مثل المسیس فی ایجاب العدۃ قطعًا للاحتمال فقد یحتمل ان یکون ھاوعد سرامع رجل یرغب فی نکاحھا وتستعجل فی ذلک وتکذب فی انہ لم یمسھا الزوج الاول مع وجود المسیس وقد یمکن انہ جامعھا الزوج الال وعلقت منہ وانکرت المسیس وامرالمسیس لا یعلمہ الاھی والزوج الاول، فلو اخذبقولھا واجیزلھا ان تنکح زوجا آخر بغیر اعتداد عدۃ وجامعھا الزوج للثانی بعد نکاحہ یختلط النسب لانہ اذا ولد ولدٌ یظن الزوج الثانی انہ ولدہ ولد علی فراشہ فیکون ذلک ادخالاً لی قوم من لیس منھم وھو محترم، فقد رویٰ ابو داؤد عن ابی ہریرہ (رض) انہ سمع النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یقول لما نزلت ایۃ الملاعنۃ ایما امرأۃ دخلت علی قوم من لیس منھم فلیست من اللّہ فی شیءٍ ولن یدخلھا اللّٰہ الجنۃ فان قیل انھا کیف تتیقن بالعلوق من الزوج الاول ؟ قلنا یحتاط فی الانساب مالا تحیاط فی غیرھا فنزل الجماع منزلۃ العلوق، بقی انہ لم خوطب الزوج الاول بانہ لیس لک علیھا عدۃ تعتدھا ؟ فوجھہ۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم) (بندہ عاجز کہتا ہے کہ جمہور کا مذہب آیت کے ظاہر کا مخالف نظر آتا ہے آیت میں تو وطی کے بغیر عدت نہ ہونے کی تصریح ہے تو صحابہ تابعین اور جمہور فقہاء نے آیت کی تصریح کے خلاف کیسے کیا ہے ؟ یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے والے پہلے خاوند سے خطاب کرکے فرمایا ہے کہ تو ایسی صورت میں اسے عدت کا حکم نہیں کرسکتا کیونکہ اس خاوند کا تعلق ختم ہوچکا ہے۔ مگر دوسرا خاوند جواب پہلے کی طلاق کے بعد نکاح کرنا چاہتا ہے اور اس طلاق کے فوراً بعد نکاح کے بارے میں آیت کریمہ خاموش ہے۔ لہٰذا جمہور نے خلوۃ صحیحہ کو عدت کے واجب ہونے کے بارے میں واقعۃً وطی کے قائم مقام قرار دیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ پہلے خاوند نے وطی کی ہو مگر یہ عورت دوسرے خاوند کی طرف رغبت کی وجہ سے کہتی ہو کہ وطی نہیں ہوئی جلدی نکاح ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے خاوند کے جماع سے حمل ہوگیا اور جماع کے معاملہ کو یہ عورت جانتی ہے یا پہلا خاوند جس نے طلاق دیدی ہے اور عورت اب اس کو چھپاتی ہے تاکہ جلدی دوسرا نکاح ہوجائے۔ اب اگر عورت کی بات کا اعتبار کیا جائے اور عدت گزارے بغیر دوسرے خاوند سے نکاح کی اجازت دیدی جائے اور نکاح کے بعد دوسرے خاوند نے جماع کرلیا تو نسب خلط ہوجائے گا تو یہ اس عورت کی طرف سے ایک قوم کے نطفہ کو دوسری قوم میں شامل کرنا ہوا جو کہ حرام ہے۔ ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے جب لعان والی آیت اتری تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس عورت نے کسی اور کا بچہ دوسری قوم میں داخل کردیا تو اس عورت کا اللہ کے ہاں کوئی مقام نہیں ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ اسے جنت میں دخل کرے گا اگر کوئی کہے کہ پہلے خاوند سے حمل کا یقین کیسے ہوا ہے ؟ تو ہم کہتے ہیں نسب کے معاملہ میں دوسرے معاملات سے زیادہ احتیاط کی جاتی ہے لہٰذا یہاں جماع ہی کو طلاق کے قائم مقام سمجھا گیا۔ باقی رہی یہ بات کہ جب دوسرے خاوند سے نکاح کے لیے احتیاط اسی میں تھی کہ وہ عورت عدت گزارے تو پھر اللہ تعالیٰ نے پہلے خاوند کو عدت گزروانے کا حکم کیوں نہیں فرمایا ؟ یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ) (انہ مامور بالسراج الجمیل فلا یعترض بشیءٍ لا صلۃ لہ بہ بعد قطع صلۃ المرء ۃ عن نفسہ۔ والعلم عند اللّٰہ الکریم) (ہوسکتا ہے یہ وجہ ہو کہ پہلا خاوند تو طلاق کے بعد حسن سلوک کا مامور ہے لہٰذا اب اسے ایسے معاملہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، جس کے بارے میں اس کا تعلق عورت سے نہیں رہا کیونکہ وہ خود عورت سے اپنا تعلق کاٹ چکا ہے۔ ) آخر میں فرمایا (وَسَرِّحُوْھُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا) (اور انہیں خوبی کے ساتھ چھوڑ دو ) یعنی انہیں تنگ نہ کرو، ان کا حق نصف مہر یا متاع خوش دلی کے ساتھ دے دو اور کوئی سخت بات نہ کہو اور اس کا جو حق دے چکے ہو وہ واپس نہ لو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

48:۔ یا ایہا الذین امنوا الخ، یہ مومنوں سے چھٹا خطاب ہے۔ اے ایمان والو ! تم جب مومن عورتوں سے نکاح کرو۔ اور پھر صحبت سے قبل ہی ان کو طلاق دیدو تو ان پر کوئی عدت نہیں۔ انہیں ثیات متعہ (قمیص اور دوپٹہ) دے کر چھوڑ دو ۔ وہ جہاں چاہیں نکاح کرلیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا۔ حضرت زینت کا عدت گذارنا اگرچہ ثابت ہے لیکن یہاں غیر مدخول بہا کے لیے عدت نہ ہونے کے ذکر کی مناسبت اور ماقبل سے ربط اس صورت میں زیادہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت زینب کی عدت نہ ہو بلغۃ الحیران میں حضرت شیخ قدس سرہ کی طرف نفی عدت کی نسبت قصور تعبیر سے ناشی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

49۔ اے ایمان والوں ! جب تم مسلمانوں عورتوں سے نکاح کرو اور پھر ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دیدو یعنی وطی اور خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق دیدو تو ان پر تمہاری کوئی عدت نہیں کہ جس کی گنتی ان پر پوری کر ائو ہاں ان کو کچھ متاع اور کچھ فائدہ دیدو اور ان کو بھلی طرح رخصت کردو ، یعنی مومن مردوں کو خطاب فرمایا ۔ اوپر ازواج مطہرات کا ذکر تھا اسی سلسلے میں یہ بات بیان کی کہ تا کہ معلوم ہو کہ یہ حکم سب کے لئے عام ہے ، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے خاص نہیں ہے۔ منکوحہ عورت کے ساتھ ہم بستری نہ کی جائے اور خلوت صحیحہ کی بھی نوبت نہ آئے یعنی وطی حقیقی ہو نہ حکمی ہو اور اس عورت کو طلاق دیدی جائے تو اس پر کوئی عدت نہیں طلاق کے بعد ہی وہ اگر چاہے تو نکاح کرسکتی ہے اور اس غیر مدخول بہا کے نکاح کے وقت اگر کچھ مہر مقررہوا تھا تو اس کے مہر کا نصف اس عورت کو دیا جائے اور مہر مقرر نہ ہوا ہو تو ایک جوڑا اس کو دیا جائے اچھی طرح رخصت کرنے کیا مطلب یہ کہ بلاوجہ نہ روکا جائے اور نرم کلام کیا جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کردیا جائے۔ اب آگے بعض احکام ایسے بیان فرمائے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص ہیں اور آپ کے مراتب اور آپکی علو شان کی وجہ سے آپ کی خصوصیت کا اظہار ہے۔ سورة بقرہ ٔ پارہ سیقول میں ہم تفصیل عرض کرچکے ہیں غیر مدخول بہا کے بارے میں تسہیل القرآن ملاحظہ کی جائے اگرچہ کتابیات کا بھی یہ حکم ہے کہ نصف مہر اور مہر مقرر نہ ہوا ہو تو جوڑا کپڑوں کا لیکن شاید مومنات کا ذکر اس لئے فرمایا کہ مومن مردوں کے لئے مومن عورتوں سے نکاح کتابیات کے مقابلے میں بہتر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بغیر صحبت ہوئے جو مرد چھوڑ دیوے عورت کو اگر اس کا مہر بندھا تھا تو آدھا دے اگر نہ بندھا تھا تو کچھ فائدہ دے یعنی ایک جوڑا پوشاک اور اسی وقت وہ چاہے تو اور نکاح کرلے عدت نہیں اور اگر خلوت ہوئی گو صحبت نہ ہوئی تو مہر بھی پورا دینا اور عدت بھی بٹھانا یہ مسئلہ یہاں فرمایا حضرت ؐ کی ازواج مطہرہ کا ذکر میں شاید اس واسطے کہ حضرت نے ایک عورت نکاح کی تھی جب اس کے نزدیک گئے کہنے لگی اللہ تجھ سے پناہ دے۔ حضرت نے اس کو جواب دیا کہ تونے بڑے کی پناہ پکڑی اس پر یہ حکم فرمایا ہو اور خطاب فرمایا ایمان والوں کو تا معلوم ہو کہ پیغمبر کا خاص حکم نہیں سب مسلمانوں پر یہی حکم ہے۔ 12