Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 64

سورة الأحزاب

اِنَّ اللّٰہَ لَعَنَ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ سَعِیۡرًا ﴿ۙ۶۴﴾

Indeed, Allah has cursed the disbelievers and prepared for them a Blaze.

اللہ تعالٰی نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ ... Verily, Allah has cursed the disbelievers, means, He has distanced them from His mercy. ... وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا and has prepared for them a flaming Fire (Hell). means, in the Hereafter.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٥] یہ اسی لعنت کا اثر ہے کہ بس فضول سے سوالات کئے جاتے ہیں جس سے ان کا مقصد محض شغل اور استہزاء ہوتا ہے اور اس دوزخ کی آگ سے نہیں ڈرتے جو ان کے لئے تیار کی جاچکی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِيْنَ ۔۔ : مفردات راغب میں ہے ” لَعَنَ “ کا معنی ناراض ہو کر دور دفع کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی لعنت سے مراد آخرت میں سزا دینا ہے اور دنیا میں اپنی رحمت اور توفیق سے محروم رکھنا ہے اور انسان کی لعنت کسی کے لیے بددعا کرنا ہے۔ یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا دینے والے یہ کافر، خواہ علانیہ منکر ہیں یا منافق، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور توفیق سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ اللہَ لَعَنَ الْكٰفِرِيْنَ وَاَعَدَّ لَہُمْ سَعِيْرًا۝ ٦٤ۙ لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي : عِدَّةَ الشّهر، وقوله : أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] ، فإشارة إلى شهر رمضان . وقوله : وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] ، فهي ثلاثة أيّام بعد النّحر، والمعلومات عشر ذي الحجّة . وعند بعض الفقهاء : المَعْدُودَاتُ يومُ النّحر ويومان بعده «1» ، فعلی هذا يوم النّحر يكون من المَعْدُودَاتِ والمعلومات، والعِدَادُ : الوقت الذي يُعَدُّ لمعاودة الوجع، وقال عليه الصلاة والسلام :«ما زالت أكلة خيبر تُعَادُّنِي» «2» وعِدَّانُ الشیءِ : عهده وزمانه . ( ع د د ) العدد الاعداد تیار کرنا مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعددت ھذا لک کے منعی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] اور جہاں تک ہوسکے ( فوج کی جمیعت سے ) ان کے ( مقابلے کے لئے مستعد رہو ۔ اور جو ) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں ۔ أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] اور ہم نے جھٹلا نے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اعتدت بھی اسی ( عد ) سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] تم روزوں کا شمار پورا کرلو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ماہ رمضان کی گنتی پوری کرلو ۔ أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] گنتی کے چند روز میں ماہ رمضان کی طرف اشارہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] اور گنتی کے دنوں میں خدا کو یاد کرو ۔ میں سے عید قربان کے بعد کے تین دن مراد ہیں اور معلومات سے ذوالحجہ کے دس دن بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ایام معدودۃ سے یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن مراد ہیں اس صورت میں یوم النحر بھی ان تین دنوں میں شامل ہوگا ۔ العداد اس مقرر وقت کو کہتے ہیں جس میں بیماری کا دورہ پڑتا ہو ۔ آنحضرت نے فرمایا مازالت امۃ خیبر تعادنی کہ خیبر کے دن جو مسموم کھانا میں نے کھایا تھا اس کی زہر بار بار عود کرتی رہی ہے عد ان الشئی کے معنی کسی چیز کے موسم یا زمانہ کے ہیں سعر السِّعْرُ : التهاب النار، وقد سَعَرْتُهَا، وسَعَّرْتُهَا، وأَسْعَرْتُهَا، والْمِسْعَرُ : الخشب الذي يُسْعَرُ به، واسْتَعَرَ الحرب، واللّصوص، نحو : اشتعل، وناقة مَسْعُورَةٌ ، نحو : موقدة، ومهيّجة . السُّعَارُ : حرّ النار، وسَعُرَ الرّجل : أصابه حرّ ، قال تعالی: وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيراً [ النساء/ 10] ، وقال تعالی: وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ [ التکوير/ 12] ، وقرئ بالتخفیف «2» ، وقوله : عَذابَ السَّعِيرِ [ الملک/ 5] ، أي : حمیم، فهو فعیل في معنی مفعول، وقال تعالی: إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلالٍ وَسُعُرٍ [ القمر/ 47] ، والسِّعْرُ في السّوق، تشبيها بِاسْتِعَارِ النار . ( س ع ر ) السعر کے معنی آگ بھڑکنے کے ہیں ۔ اور سعرت النار وسعر تھا کے معنی آگ بھڑکانے کے ۔ مجازا لڑائی وغیرہ بھڑکانے کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے : ۔ استعر الحرب لڑائی بھڑک اٹھی ۔ استعر اللصوص ڈاکو بھڑک اٹھے ۔ یہ اشتعل کے ہم معنی ہے اور ناقۃ مسعورۃ کے معنی دیوانی اونٹنی کے ہیں جیسے : ۔ موقدۃ ومھیجۃ کا لفظ اس معنی میں بولا جاتا ہے ۔ المسعر ۔ آگ بھڑکانے کی لکڑی ( کہرنی ) لڑائی بھڑکانے والا ۔ السعار آگ کی تپش کو کہتے ہیں اور سعر الرجل کے معنی آگ یا گرم ہوا سے جھلس جانے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيراً [ النساء/ 10] اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے ۔ وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ [ التکوير/ 12] اور جب دوزخ ( کی آگ ) بھڑکائی جائے گی ۔ عَذابَ السَّعِيرِ [ الملک/ 5] دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ تو یہاں سعیر بمعنی مسعور ہے ۔ نیز قران میں ہے : ۔ إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلالٍ وَسُعُرٍ [ القمر/ 47] بیشک گنہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں ( مبتلا ہیں ) السعر کے معنی مروجہ نرخ کے ہیں اور یہ استعار ہ النار ( آگ کا بھڑکنا ) کے ساتھ تشبیہ کے طور پر بولا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٤۔ ٦٥) اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو بدر کے دن بھی ہلاک کیا ہے اور ان کے لیے دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ اس سے نکالے جائیں گے اور نہ کوئی عذاب الہی سے بچانے والا اور اس عذاب کو روکنے والا پائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٤ { اِنَّ اللّٰہَ لَعَنَ الْکٰفِرِیْنَ وَاَعَدَّ لَہُمْ سَعِیْرًا } ” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33:64) اعد ماضی واحد مذکر غائب ۔ اس نے تیار کیا۔ اس نے تیار کر رکھا ہے۔ سعیرا۔ دھکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ سعر سے جس کے معنی آگ کے بھڑکانے کے ہیں ۔ بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے۔ آگ جو دھکائی گئی ہو۔ منصوب بوجہ مفعول کے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان اللہ لعن الکفرین ۔۔۔۔۔۔ من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (64 – 68) ” ۔ یہ لوگ قیامت کے قیام کے بارے میں پوچھتے ہیں ، ذرا ان کو قیام قیامت کا ایک منظر ہی بتا دو ۔ ان اللہ لعن الکفرین واعدلھم سعیرا (33: 64) ” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کردی ہے “۔ اللہ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔ وہ ان کے لیے تیار اور حاضر ہے۔ خلدین فیھا (33: 65) ” اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اس قدر طویل عرصہ اس میں رہیں گے کہ اس کی طوالت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس کی انتہا نہیں ہے الایہ کہ اللہ کے علم میں ہو ، جب وہ چاہے ختم کر دے۔ ان کے ساتھ کوئی بھی معاونت کرنے والا نہ ہوگا۔ کوئی مددگار نہ ہوگا۔ لہٰذا اس آگ سے نکلنے کی کوئی امید ان کو نہ ہوگی۔ لا یجدون ولیا ولا نصیرا (33: 65) ” کوئی حامی و مددگار وہ نہ پاسکیں گے “۔ اس عذاب میں ان کا منظر نامہ کیا ہوگا ؟ نہایت ہی بری حالت اور نہایت ہی المناک صورت حال : یوم تقلب وجوھھم فی النار (33: 66) ” جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے “۔ ہر طرف سے آگ ان کو ڈھانپ رہی ہوگی۔ یہاں ان کی حرکات کی تصویر یعنی فلم بنائی جا رہی ہے اور اسے مجسم کرکے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کہ ان کے چہروں کے ہر حصے کو آگ جھلسائے گی اور اس طرح انہیں سخت سے سخت عذاب دیا جائے گا۔ یقولون یلیتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسولا (33: 66) ” اس وقت وہ کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی “۔ یہ ان کی جانب سے بالکل بےکار تمنا ہوگی۔ کیونکہ تب اطاعت کا موقع و محل کہاں ہوگا۔ اس وقت تو کوئی موقع نہ ہوگا آزمائش کا۔ اب تو صرف حسرت ہی ہے ۔ اب ان کو اپنے سرداروں اور کبراء پر سخت غصہ آئے گا ، جنہوں نے دراصل ان کو گمراہ کیا تھا ، اور وہ اب اللہ کے مطیع فرمان بننے کی سعی کریں گے مگر ان اطاعت کو موقع ہی ختم ہوگیا۔ وقالوا ربنا انا اطعنا ۔۔۔۔۔۔ والعنھم لعنا کبیرا (33: 67 – 68) ” اور کہیں گے اے رب ہمارے ، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بےراہ کردیا۔ اے رب ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر “۔ یہ ہے قیامت کا نمونہ۔ پوچھتے کیا ہو ؟ اس روز بیچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کے لیے تیاریاں کرو ورنہ یہ المناک انجام تمہارے سامنے ہوگا۔ حضرت زینب کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح چونکہ جاہلیت کی ایک نہایت ہی گہری رسم کے خلاف تھا اور اسلام نے اسی لیے اس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل کے ذریعے ضرب کاری لگائی تھی ، لیکن اس معاشرے نے درد محسوس کیے بغیر اپنے اندر سے اس رسم کا اکھاڑ پھینکنا قبول نہ کیا۔ منافقین اور مریض اخلاق کے لوگوں نے سخت غوغا آرائی شروع کردی۔ ان کے ساتھ ہاں میں ہاں ملانے والے ایسے مسلمان بھی تھے جن کے ذہنوں میں اسلامی تصور حیات ابھی اچھی طرح نہ بیٹھا تھا۔ چناچہ یہ عناصر طنز وتشنیع ، اعتراض و تنقید کرتے تھے۔ پورے شہر میں انہوں نے کانا پھوسی شروع کر رکھی تھی اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بری باتیں کرتے تھے۔ منافقین اور افواہیں پھیلانے والے کب خاموش رہ سکتے تھے ۔ وہ کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے جس طرح غزوہ احزاب میں انہوں نے ایک زبردست مہم شروع کر رکھی تھی۔ ۔۔۔ کے معاملے میں وہ اس سے قبل تجربہ کرچکے تھے۔ مال غنیمت کی تقسیم میں وہ ایسی ہی مہم چلا چکے تھے۔ غرض ہر موقع و محل میں یہ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے اذیت کا باعث تھے اور بالکل بےجواز۔ اس دور میں جبکہ بنی قریظہ اور سارے یہودیوں کو مدینہ سے نکالا گیا تھا ، مدینہ میں کوئی کافر اور مشرک نہ تھا۔ اہل مدینہ یا تو سچے مسلمان تھے اور یا منافق تھے اور اس قسم کی مہم یہ منافق ہی چلاتے تھے۔ یہ جھوٹی افواہیں پھیلاتے۔ بعض سادہ لوح مسلمانوں پر بھی ان کا اثر تھا جو ان کے ساتھ نافہمی کی وجہ سے شریک ہوجاتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے اہل ایمان کو یہاں متنبہ کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے باعث اذیت نہ بنو ، اس سے قبل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی مومنین نے بھی حضرت موسیٰ کو اذیت دی تھی۔ اس لیے ان منافقین کی باتوں پر بلا تحقیق و تفتیش کان نہ دھرو۔ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرو ، تمہارے لیے یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد کافروں کی بدحالی بتائی اور ارشاد فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَعَنَ الْکٰفِرِیْنَ ) (الآیۃ) بلاشبہ اللہ نے کافروں پر لعنت کردی وہ دنیا میں بھی ملعون ہیں اور آخرت میں بھی، اور دنیا میں کچھ مزے اڑاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت اور پھٹکار میں ہوتے ہوئے جیتے ہیں، اور ملعونیت کی زندگی کوئی زندگی نہیں اور آخرت میں ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب ہے وہ بھی تھوڑے دن کا یا بہت ذرا دیر کا نہیں بلکہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے، وہاں کوئی یار اور مددگار نہ ملے گا، جس روز ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے، چہروں کے بل دوزخ کی آگ میں گھسیٹے جائیں گے تو حسرت کے ساتھ یوں کہیں گے کہ ہائے کاش ہم نے اللہ کی فرمانبرداری کی ہوتی اور رسول کی بات مانی ہوتی، اگر ہم اطاعت کرتے تو آج عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

66:۔ ان اللہ الخ، قیامت جب بھی آئے، آئے گی ضرور، اس دن کفار و مشرکین کا ھشر یہ ہوگا کہ وہ خدا کی رحمت سے محروم ہوں گے اور بھڑکتی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں ان کا کوئی ھامی و مددگار نہ ہوگا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لے۔ یوم تقلب الخ قیامت کے جب ان کے چہروں کو آگ پر الٹ پلٹ کیا جائے گا تو وہ حسرت و ندامت سے کہیں گے۔ کاش ! ہم نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر بطور معذرت کہیں گے۔ ربنا انا اطعنا الخ، اے ہمارے پروردگار ! ہم اس معاملے میں بےقصور ہیں۔ ہم دنیا میں علماء دین اور پیشوایان مذہب ہی کی اطاعت اور پیروی کرتے رہے مگر ان ظالموں نے ہمیں ہدایت اور توحید کی راہ دکھانے کے بجائے توحید سے گمراہ کردیا اور شرک و کفر کی راہ پر لگا دیا۔ سادۃ اور کبراء سے علماء سوء اور پیشوایانِ دین مراد ہیں جو کفر و شرک کی تبْلیغ کرتے تھے۔ والمراد بہم العلماء الذین لقنوھم الکفر و زینوہ لہم و عن قتادۃ رؤساءھم فی شلر والشرک (روح ج 22 ص 93) والاظہر العموم فی القادۃ والرؤساء فی الشرک والضلالۃ ای اطعناہم فی معصیتک وما دونا الیہ فاضلونا السبیلا ای عن السبیل وھو التوحید (قرطبی ج 14 ص 249) ۔ ربنا اتھم الخ، یہ بھی ماقبل ہی سے متعلق ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! یہ ظالم خود بھی گمراہ تھے اور انہوں نے ہمیں بھی گمراہ کردیا۔ اس لیے انہیں دگنا عذاب دے۔ اور اپنی رحمت سے انہیں کوسوں دور فرما دے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

64۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے منکروں کو رحمت سے دور کر رکھا ہے اور ان کیلئے آتش سوزاں اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے۔