Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 7

سورة الأحزاب

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیۡثَاقَہُمۡ وَ مِنۡکَ وَ مِنۡ نُّوۡحٍ وَّ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ ۪ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ۙ﴿۷﴾

And [mention, O Muhammad], when We took from the prophets their covenant and from you and from Noah and Abraham and Moses and Jesus, the son of Mary; and We took from them a solemn covenant.

جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور ( بالخصوص ) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے ، اور ہم نے ان سے ( پکا اور ) پختہ عہد لیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Covenant of the Prophets Allah tells us about the five Mighty Messengers with strong resolve and the other Prophets, how He took a covenant from them to establish the religion of Allah and convey His Message, and to cooperate and support one another, as Allah says: وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَـقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَأ ءَاتَيْتُكُم مِّن كِتَـبٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَأءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُوْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ ءَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذلِكُمْ إِصْرِى قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُمْ مِّنَ الشَّـهِدِينَ And when Allah took the covenant of the Prophets, saying: "Take whatever I gave you from the Book and Hikmah, and afterwards there will come to you a Messenger confirming what is with you; you must, then, believe in him and help him." Allah said: "Do you agree, and will you take up My covenant!" They said: "We agree." He said: "Then bear witness; and I am with you among the witnesses." (3:81) This covenant was taken from them after their missions started. Elsewhere in the Qur'an, Allah mentions five by name, and these are the Mighty Messengers with strong resolve. They are also mentioned by name in this Ayah and in the Ayah: شَرَعَ لَكُم مِّنَ الِدِينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحاً وَالَّذِى أَوْحَيْنَأ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُواْ الدِّينَ وَلاَ تَتَفَرَّقُواْ فِيهِ He (Allah) has ordained for you the same religion which He ordained for Nuh, and that which We have revealed to you, and that which We ordained for Ibrahim, Musa and `Isa saying you should establish religion and make no divisions in it. (42:13) This is the covenant which Allah took from them, as He says: وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ... And when We took from the Prophets their covenant, and from you, and from Nuh, Ibrahim, Musa, and `Isa son of Maryam. This Ayah begins with the last Prophet, as a token of respect, may the blessings of Allah be upon him, then the names of the other Prophets are given in order, may the blessings of Allah be upon them. ... وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا We took from them a strong covenant. Ibn Abbas said: "The strong covenant is Al-`Ahd (the covenant).

میثاق انبیاء فرمان ہے کہ ان پانچوں اولوالعزم پیغمبروں سے اور عام نبیوں سے سب سے ہم نے عہد وعدہ لیا کہ وہ میرے دین کی تبلیغ کریں گے اس پر قائم رہیں گے ۔ آپس میں ایک دوسرے کی مدد امداد اور تائید کریں گے اور اتفاق واتحاد رکھیں گے ۔ اسی عہد کا ذکر اس آیت میں ہے ( وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ 81؀ ) 3-آل عمران:81 ) یعنی اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے قول قرار لیا کہ جو کچھ کتاب وحکمت دے کر میں تمیں بھیجوں پھر تمہارے ساتھ کی چیز کی تصدیق کرنے والا رسول آجائے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کی امداد کرنا ۔ بولو تمہیں اس کا اقرار ہے؟ اور میرے سامنے اس کا پختہ وعدہ کرتے ہیں؟ سب نے جواب دیا کہ ہاں ہمیں اقرار ہے ۔ جناب باری تعالی نے فرمایا بس اب گواہ رہنا اور میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں ۔ یہاں عام نبیوں کا ذکر کرکے پھر خاص جلیل القدر پیغمبروں کا نام بھی لے دیا ۔ اسی طرح ان کے نام اس آیت میں بھی ہیں ( شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ 13؀ ) 42- الشورى:13 ) یہاں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر ہے جو زمین پر اللہ کے پہلے پیغمبر تھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے جو سب سے آخری پیغمبر تھے ۔ اور ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ علیھم السلام کا ذکر ہے جو درمیانی پیغمبر تھے ۔ ایک لطافت اس میں یہ ہے کہ پہلے پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کے پیغمبر حضرت نوحعلیہ السلام کا ذکر کیا اور آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے پیغمبر حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر کیا اور درمیانی پیغمبروں میں سے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کا ذکر کیا ۔ یہاں تو ترتیب یہ رکھی کہ فاتح اور خاتم کا ذکر کرکے بیچ کے نبیوں کا بیان کیا اور اس آیت میں سب سے پہلے خاتم الانیباء کا نام لیا اس لئے کہ سب سے اشرف وافضل آپ ہی ہیں ۔ پھر یکے بعد دیگرے جس طرح آئے ہیں اسی طرح ترتیب وار بیان کیا اللہ تعالیٰ اپنے تمام نبیوں پر اپنا درود وسلام نازل فرمائے ۔ اس آیت کی تفسیر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ پیدائش کے اعتبار سے میں سب نبیوں سے پہلے ہوں اور دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آخر میں ہوں پس مجھ سے ابتدا کی ہے ۔ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن اس کے ایک راوی سعید بن بشیر ضعیف ہیں ۔ اور سند سے یہ مرسل مروی ہے اور یہی زیادہ مشابہت رکھتی ہے اور بعض نے اسے موقوف روایت کی ہے واللہ اعلم ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ پانچ پیغمبر ہیں ۔ نوح ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ ، اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور ان میں بھی سب سے بہترمحمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اس کا ایک راوی ضعیف ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں جس عہد ومیثاق کا ذکر ہے یہ وہ ہے جو روز ازل میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے تمام انسانوں کو نکال کرلیا تھا ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو بلند کیا گیا آپ نے اپنی اولاد کو دیکھا ان میں مالدار مفلس خوبصورت اور ہر طرح کے لوگ دیکھے تو کہا اللہ کیا اچھا ہوتا کہ تونے ان سب کو برابر ہی رکھا ہوتا اللہ تعالیٰ عزوجل جلالہ نے فرمایا کہ یہ اس لئے ہے کہ میرا شکر ادا کیا جائے ۔ ان میں جو انبیاء کرام علیھم السلام تھے انہیں بھی آپ نے دیکھا وہ روشنی کے مانند نمایاں تھے ان پر نور برس رہا تھا ان سے نبوت ورسالت کا ایک اور خاص عہد لیا گیا تھا جس کا بیان اس آیت میں ہے ۔ صادقوں سے ان کے صدق کا سوال ہو یعنی ان سے جو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچانے والے تھے ۔ ان کی امتوں میں سے جو بھی ان کو نہ مانے اسے سخت عذاب ہوگا ۔ اے اللہ تو گواہ رہ ہماری گواہی ہے ہم دل سے مانتے ہیں کہ بیشک تیرے رسولوں نے تیرا پیغام تیرے بندوں کو بلا کم وکاست پہنچا دیا ۔ انہوں نے پوری خیر خواہی کی اور حق کو صاف طور پر نمایاں طریقے سے واضح کردیا جس میں کوئی پوشیدگی کوئی شبہ کسی طرح کا شک نہ رہا گو بدنصیب ضدی جھگڑالو لوگوں نے انہیں نہ مانا ۔ ہمارا ایمان ہے کہ تیرے رسولوں کی تمام باتیں سچ اور حق ہیں اور جس نے ان کی راہ نہ پکڑی وہ گمراہ اور باطل پر ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

71اس عہد سے مراد ہے ؟ بعض کے نزدیک یہ وہ عہد ہے جو ایک دوسرے کی مدد اور تصدیق کا انبیاء (علیہم السلام) سے لیا گیا تھا (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ۭ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ ۭ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ۭ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران :81) میں ہے، بطور خاص پانچ انبیاء (علیہم السلام) کا نام لیا گیا جن سے ان کی اہمیت و عظمت واضح ہے اور ان میں بھی نبی کا ذکر سب سے پہلے ہے درآں حالیکہ نبوت کے لحاظ سے آپ سب سے متأخر ہیں، اس سے آپ کی عظمت اور شرف کا جس طرح اظہار ہو رہا ہے، محتاج وضاحت نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢] انبیاء کا عہد کیا ہے ؟ انبیاء کا عہد، عہد الست سے الگ ہے۔ اور اس عہد کا بھی قرآن میں متعدد بار ذکر آیا ہے (٢: ٨٣، ٣: ١٨٧، ٥: ٦٧، ٧: ١٦٩ تا ١٧١، ٤٢: ١٣ میں) اور وہ عہد یہ تھا کہ ہر پیغمبر اپنے سے پہلے پیغمبروں کی اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرے گا، اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی سب سے پہلے خود اطاعت کرے گا پھر دوسروں سے کرائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو بلاکم وکاست دوسروں تک پہنچائے گا اور ان احکام کو عملاً نافذ کرنے میں اپنی مقدور بھر کوشش سے دریغ نہ کرے گا۔ اور اس مقام پر اس عہد کو یاد دلاتے اور بالخصوص منک کہنے سے مراد یہ ہے کہ آپ جو منہ بولے رشتوں کے معاملہ میں جاہلیت کی رسم توڑنے سے جھجک رہے ہیں اور دشمنوں کے طعن وتشنیع سے ڈر رہے ہیں تو ان لوگوں کی قطعاً پروا نہ کیجئے۔ دوسرے پیغمبروں کی طرح آپ سے بھی ہمارا پختہ معاہدہ ہے کہ جو کچھ بھی ہم تمہیں حکم دیں گے اسے بجا لاؤ گے اور دوسروں کو اس کی پیروی کا حکم دو گے۔ لہذا جو خدمت ہم آپ سے لینا چاہتے ہیں اسے بلاتامل سرانجام دو اور شماتت اعداء کا خوف نہ کرو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ ۔۔ : جاہلی معاشرے میں منہ بولے بیٹوں کی ان کے باپ کی طرف نسبت کرنے کے حکم، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متبنٰی زید (رض) کی طلاق کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کے حکم پر عمل نہایت مشکل تھا، کیونکہ متبنٰی کا مسئلہ ان کے دینی عقیدے کی شکل اختیار کرچکا تھا اور ان کے رگ و پے میں رچ چکا تھا۔ پھر زینب (رض) سے نکاح میں طرح طرح کی باتوں کا اندیشہ بھی تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس عہد کی طرف توجہ دلائی جو اس نے تمام انبیاء سے اور خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لیا، جس میں ان پر یہ فریضہ عائد کیا کہ وہ ہر حال میں احکام پر عمل کرنے میں اور انھیں لوگوں تک پہنچانے میں کوئی تنگی محسوس نہیں کریں گے، نہ ہی اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے ڈریں گے۔ یہی بات اس سورة احزاب میں دوبارہ زیادہ تفصیل کے ساتھ آیت (٣٨، ٣٩) میں آرہی ہے۔ انبیاء سے لیے جانے والے میثاق کا ذکر سورة احزاب کی اس آیت اور آیت (٣٨، ٣٩) کے علاوہ سورة آل عمران کی آیت (٨١) اور سورة شوریٰ کی آیت (١٣) میں بھی آیا ہے کہ ہر پیغمبر دوسرے تمام پیغمبروں کی تصدیق کرے گا، اپنے آپ پر اور لوگوں پر دین قائم کرے گا۔ دین میں تفرقے سے بچے گا۔ مشرکین پر گراں گزرنے کے باوجود اللہ کے دین کی دعوت میں کوتاہی نہیں کرے گا۔ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ ۔۔ : تمام انبیاء سے عہد لینے کے بعد پانچ پیغمبروں کا نام لے کر عہد لینے کی صراحت فرمائی۔ اس سے ان پیغمبروں کی شان کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر پیغمبر کی دعوت مدت دراز تک جاری رہی، پھر سب سے آخر میں آنے کے باوجود ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام پہلے ذکر فرمایا۔ آپ کے بعد باقی انبیاء کا نام ان کے تشریف لانے کی ترتیب کے ساتھ ذکر فرمایا۔ اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفعت کا اظہار مقصود ہے اور یہ بھی کہ یہاں اس عہد کا ذکر خاص آپ کے لیے کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے اس مقام پر لکھا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگرچہ دنیا میں سب سے آخر میں تشریف لائے، مگر وجود میں سب سے پہلے آئے، یعنی سب سے پہلے پیدا ہوئے، مگر یہ بات بالکل بےدلیل ہے۔ جس حدیث میں ذکر ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ آپ کب سے نبی ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( کُنْتُ نَبِیًّا وَ آدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَ الْجَسَدِ ) [ مستدرک حاکم : ٢؍٦٠٨، ح : ٤٢٠٩ ] (میں اس وقت نبی تھا جب آدم (علیہ السلام) روح اور جسم کے درمیان تھے) اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی طے ہونے کا بیان ہے۔ یہ معنی نہیں کہ آپ اس وقت پیدا ہوچکے تھے، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سب سے آخر میں پیدا ہونا سب کو معلوم ہے۔ 3 خصوصاً نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دینے کی تاکید کا ذکر سورة مائدہ (٦٧) میں ہے اور اہل کتاب کو اس تاکید کا ذکر سورة آل عمران (١٨٧) اور اعراف (١٦٩) میں ہے۔ 3 اس مقام پر اس عہد کو یاد دلانے اور بالخصوص ” مِنک “ کہنے سے مراد یہ ہے کہ آپ جو منہ بولے رشتوں کے معاملے میں جاہلیت کی رسم توڑنے سے جھجک رہے ہیں اور دشمنوں کے طعن و تشنیع سے ڈر رہے ہیں، تو آپ لوگوں کے طعن و تشنیع کی قطعاً پروا نہ کریں، دوسرے پیغمبروں کی طرح آپ سے بھی ہمارا پختہ معاہدہ ہے کہ جو کچھ بھی ہم آپ کو حکم دیں گے اسے بجا لاؤ گے اور دوسروں کو اس کی پیروی کا حکم دو گے، لہٰذا جو فریضہ ہم نے آپ پر عائد کیا ہے اسے بلا تامل سرانجام دیں اور کفار و منافقین کی باتوں کی پروا مت کریں، ان سے آپ کو محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے، فرمایا : (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ) [ المائدۃ : ٦٧ ] ” اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary At the beginning of the Surah, by saying: وَ اتَّبع مَا یُوحٰٓی اِلَیکَ , the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked to follow the Divine revelation sent to him. Then, in the previous verse: اَلنَّبِیُّ اَولٰی بِالمُؤمِنِینَ , the believers have been obligated with the implementation of the orders of the recipient of the revelation. It is to further confirm and emphasize these very two things that, in the present two verses as well, the same two subjects have been reiterated, that is, the recipient of the revelation has been obligated to follow the revelation received by him from Allah and the non-recipient of the revelation has been obligated to follow the recipient of the revelation. The Covenant of the Prophets The covenant taken from the blessed prophets, according to the cited verse, is in addition to the universal pledge taken from the entire creation as it appears in a saying of the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم reported by Imam Ahmad (رح) : خُصُّوا بِمِیثاقِ الرِّسَالۃَ وَ النُّبُوَّوۃِ وَ وھُوَ قَولُہ، تَعَالٰی وَ اِذ اَخَذنَا مِنَ النَّبِیّٖن مِیثاقَھُم |"It was the prophets only from whom the covenant of messenger-ship and prophethood was taken, and this is the meaning of what Allah Ta’ ala has said: .... (And when We took from the prophets their covenant...to the end of the verse). This pledge from the prophets was the pledge of discharging the duties of prophethood and messenger-ship and of attesting to the veracity of each other and of being mutually helpful - as Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim and others have reported from Sayyidna Qatadah (رض) . And according to one narration, it was also included in this pledge of the prophets that they should also proclaim that |"Sayyidna Muhammad al-Mustafa (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is the messenger of Allah, and the last of the prophets. After him, there will be no prophet [مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللہِ لَا نَبِّی بَعدَہ،] And this pledge from prophets was also taken in eternity (Azal) at the same time when the pledge of: اَلَستُ بِرَبِّکُم (alastu bi-rabbikum: Am I not your Lord?) was taken from the created at large. (Ruh a1-Ma’ ani and Mazhari) After having generally mentioned prophets, peace be on them all, before saying: ومِنکَ وَ مِن نُّوح (and from you and from Nuh... up to the end of the verse), five of them were particularly named on the basis of the unique distinction they have among the group of prophets. Then, even within those, it was by using the word: مِنکَ (minka: from you) that the mention of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was made to precede that of others - although, his appearance in this world is later than all of them. The reason for this has been given in Hadith itself: کُنتُ اَوَّلَ النَّاسِ فِی الخَلقِ وَ اٰخِرَھُم فِی البَعثِ (رواہ ابن سعد وابو نعیم فی الحلیۃ عن میسرۃ الفجر و الطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس (رض) ۔ مظھری) &I am the first human being in the creation and the last of them in being sent (with the prophetic mission).& (Reported by Ibn Sa&d and Abu Nu&aim in Al-Hilyah from Maisirah al-Mafjar and At-Tabarani in al-Kabir from Ibn ` Abbas (رض) - Mazhari)

خلاصہ تفسیر اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جب کہ ہم نے تمام پیغمبروں سے ان کا اقرار لیا (کہ احکام آلہیہ کا اتباع کریں، جن میں خلق اللہ کو تبلیغ و دعوت اور باہمی تعاون و تناصر بھی داخل ہے) اور (ان پیغمبروں میں) آپ سے بھی (اقرار لیا) اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) سے بھی اور (یہ کوئی معمولی عہد و اقرار نہیں تھا بلکہ) ہم نے ان سب سے خوب پختہ عہد لیا تاکہ (قیامت کے روز) ان سچے لوگوں سے (یعنی انبیاء (علیہم السلام) سے) ان کے سچ کی تحقیقات کرے (تا کہ ان کا شرف و اعزاز اور نہ ماننے والوں پر حجت مکمل ہوجائے، اس عہد اور اس کی تحقیقات سے دو باتوں کا وجوب ثابت ہوگیا کہ صاحب وحی پر اپنی وحی کا اتباع واجب ہے، اور جو عام لوگ صاحب وحی نہیں ان پر اپنے صاحب وحی پیغمبر کے اتباع کا وجوب) اور کافروں کے لئے (جو صاحب وحی کے اتباع سے منحرف ہیں) اللہ تعالیٰ نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ معارف و مسائل شروع سورة میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی وحی کے اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ (آیت) واتبع مایوحی الیک اور گزشتہ آیت (آیت) النبی اولیٰ بالمومنین۔ میں مومنین پر صاحب وحی کے احکام کی تعمیل واجب کی گئی ہے۔ انہی دونوں باتوں کے مزید اثبات و اظہار کے لئے مذکورہ دونوں آیتوں میں بھی دو مضمون بیان ہوئے ہیں۔ یعنی صاحب وحی کو اپنی وحی کا اتباع اور غیر صاحب وحی کو صاحب وحی کا اتباع کرنا واجب ہے۔ میثاق انبیاء آیت مذکورہ میں جو انبیاء (علیہم السلام) سے عہد وقرار لینے کا ذکر ہے وہ اس اقرار عام کے علاوہ ہے جو ساری مخلوق سے لیا گیا ہے۔ جیسا کہ مشکوة میں بروایت امام احمد مرفوعاً آیا ہے کہ : خصو ابمیثاق الرسالة والنبوة وھو قولہ تعالیٰ و اذا اخذنا من النبین میثاقہم الآیة یہ عہد انبیاء (علیہم السلام) سے نبوت و رسالت کے فرائض ادا کرنے اور باہم ایک دوسرے کی تصدیق اور مدد کرنے کا عہد تھا۔ جیسا کہ ابن جریر وابن ابی حاتم وغیرہ نے حضرت قتادہ سے روایت کیا ہے۔ اور ایک روایت میں اس عہد انبیاء میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ سب اس کا بھی اعلان کریں کہ محمد رسول اللہ لا نبی بعدہ، ” یعنی محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا “ اور یہ میثاق انبیاء بھی ازل میں اسی وقت لیا گیا جبکہ عام مخلوق سے الست بربکمہ کا عہد لیا گیا تھا۔ (روح ومظہری) (آیت) ومنک ومن نوح الآیة، انبیاء (علیہم السلام) کا عام ذکر کرنے کے بعد ان میں سے پانچ انبیاء کا خصوصی ذکر ان کے اس خاص امتیاز وشرف کی بنا پر کیا گیا، جو ان کو زمرہ انبیاء میں حاصل ہے۔ اور ان میں بھی لفظ منک میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذکر کو اوروں سے مقدم کیا گیا، اگرچہ آپ کی بعثت سب کے بعد ہے، وجہ اس کی خود حدیث میں یہ بیان فرمائی ہے : ” یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تخلیق وتکوین میں سارے انسانوں سے پہلا ہوں اور بعثت و نبوت میں سب سے آخر “

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَہُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰہِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ۝ ٠ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْہُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا۝ ٧ۙ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ وثق وَثِقْتُ به أَثِقُ ثِقَةً : سکنت إليه واعتمدت عليه، وأَوْثَقْتُهُ : شددته، والوَثَاقُ والوِثَاقُ : اسمان لما يُوثَقُ به الشیء، والوُثْقَى: تأنيث الأَوْثَق . قال تعالی: وَلا يُوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ [ الفجر/ 26] ، حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] والمِيثاقُ : عقد مؤكّد بيمين وعهد، قال : وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثاقَ النَّبِيِّينَ [ آل عمران/ 81] ، وَإِذْ أَخَذْنا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثاقَهُمْ [ الأحزاب/ 7] ، وَأَخَذْنا مِنْهُمْ مِيثاقاً غَلِيظاً [ النساء/ 154] والمَوْثِقُ الاسم منه . قال : حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقاً مِنَ اللَّهِ إلى قوله : مَوْثِقَهُمْ [يوسف/ 66] ( و ث ق ) وثقت بہ اثق ثقتہ ۔ کسی پر اعتماد کرنا اور مطمئن ہونا ۔ اوثقتہ ) افعال ) زنجیر میں جکڑنا رسی سے کس کر باندھنا ۔ اولوثاق والوثاق اس زنجیر یارسی کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کو کس کو باندھ دیا جائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلا يُوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ [ الفجر/ 26] اور نہ کوئی ایسا جکڑنا چکڑے گا ۔ حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] یہ ان تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو ( جو زندہ پکڑے جائیں ان کو قید کرلو ۔ المیثاق کے معنی پختہ عہدو پیمان کے ہیں جو قسموں کے ساتھ موکد کیا گیا ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثاقَ النَّبِيِّينَ [ آل عمران/ 81] اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا ۔ وَأَخَذْنا مِنْهُمْ مِيثاقاً غَلِيظاً [ النساء/ 154] اور عہد بھی ان سے پکالیا ۔ الموثق ( اسم ) پختہ عہد و پیمان کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقاً مِنَ اللَّهِ إلى قوله : مَوْثِقَهُمْ [يوسف/ 66] کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو ۔ نوح نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس . ( ن و ح ) نوح ۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں جمع ہونے کے ہیں اور یہ تناوح سے مشتق ہے جس کے معنی ثقابل کے ہیں جیسے بجلان متنا وحان دو متقابل پہاڑ ۔ ریحان یتنا وحان وہ متقابل ہوائیں ۔ النوائع نوحہ گر عورتیں ۔ المنوح ۔ مجلس گریہ ۔ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . عيسی عِيسَى اسم علم، وإذا جعل عربيّا أمكن أن يكون من قولهم : بعیر أَعْيَسُ ، وناقة عَيْسَاءُ ، وجمعها عِيسٌ ، وهي إبل بيض يعتري بياضها ظلمة، أو من الْعَيْسِ وهو ماء الفحل يقال : عَاسَهَا يَعِيسُهَا «2» . ( ع ی س ) یہ ایک پیغمبر کا نام اور اسم علم ہے اگر یہ لفظ عربی الاصل مان لیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اس عیس سے ماخوذ ہو جو کہ اعیس کی جمع ہے اور اس کی مؤنث عیساء ہے اور عیس کے معنی ہیں سفید اونٹ جن کی سفیدی میں قدرے سیاہی کی آمیزش ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے عیس سے مشتق ہو جس کے معنی سانڈ کے مادہ منو یہ کے ہیں اور بعیر اعیس وناقۃ عیساء جمع عیس اور عاسھا یعسھا کے معنی ہیں نر کا مادہ سے جفتی کھانا ۔ غلظ الغِلْظَةُ ضدّ الرّقّة، ويقال : غِلْظَةٌ وغُلْظَةٌ ، وأصله أن يستعمل في الأجسام لکن قد يستعار للمعاني كالكبير والکثير «1» . قال تعالی: وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً [ التوبة/ 123] ، أي : خشونة . وقال : ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلى عَذابٍ غَلِيظٍ [ لقمان/ 24] ، مِنْ عَذابٍ غَلِيظٍ [هود/ 58] ( ع ل ظ ) الغلظۃ ( غین کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ ) کے معنی موٹاپا یا گاڑھازپن کے ہیں یہ رقتہ کی ضد ہے اصل میں یہ اجسام کی صفت ہے ۔ لیکن کبیر کثیر کی طرح بطور استعارہ معانی کے لئے بھی استعمال ہوتاز ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً [ التوبة/ 123] چاہئے کہ وہ تم میں سختی محسوس کریں میں غلظتہ کے معنی سخت مزاجی کے ہیں ۔ نیز فرمایا۔ ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلى عَذابٍ غَلِيظٍ [ لقمان/ 24] پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لیجائیں گے ۔ مِنْ عَذابٍ غَلِيظٍ [هود/ 58] عذاب شدید سے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جبکہ ہم نے تمام پیغمبروں سے وعدہ لیا کہ دوسروں کو احکام پہنچائیں گے اور ان میں سب سے پہلے آپ سے اقرار لیا کہ آپ اپنی قوم کو ایمان لانے کا حکم دیں گے اور آپ سے پہلے جتنے انبیاء کرام گزرے ہیں اور جو جو ان پر کتابیں نازل ہوئی ہیں سب سے اپنی قوم کو باخبر کریں گے اور حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) سے بھی عہد لیا کہ پہلے بعد والوں کو احکام پہنچائیں گے اور بعد والے پہلوں کی تصدیق کریں گے اور سب اپنی اپنی قوموں کو ایمان لانے کا حکم دیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧ { وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَہُمْ } ” اور (یاد کرو) جب ہم نے ابنیاء سے ان کا عہد لیا تھا “ ” میثاق النبیین “ کا ذکر اس سے پہلے سورة آل عمران کی آیت ٨١ اور ٨٢ میں بھی آچکا ہے۔ { وَمِنْکَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ } ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی ‘ اور نوح ( علیہ السلام) ‘ ابراہیم ‘ موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ اور عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ ابن مریم سے بھی۔ “ { وَاَخَذْنَا مِنْہُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا } ” اور ان سب سے ہم نے بڑا گاڑھا قول وقرار لیا تھا۔ “ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق ِتوجہ ہے کہ اگر کوئی شخص ارواح کے علیحدہ وجود کا منکر ہو اور یہ بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو کہ بنی نوع انسان کی تمام ارواح پہلے پیدا کردی گئی تھیں تو اس کے لیے اس آیت میں مذکور میثاق کی توجیہہ کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ بہر حال قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ارواح سے دو عہد لیے گئے۔ ان میں سے ایک عہد کا ذکر سورة الاعراف کی آیت ١٧٢ میں ہے ‘ جسے ” عہد ِالست “ کہا جاتا ہے اور یہ عہد بلا تخصیص تمام انسانی ارواح سے لیا گیا تھا۔ دوسرے عہد کا ذکر آیت زیر مطالعہ اور سورة آل عمران کی آیت ٨١ میں ہے جو صرف انبیاء کی ارواح سے اضافی طور پر لیا گیا تھا۔ اس عہد میں روح محمد (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) بھی موجود تھی اور دوسرے تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی ارواح بھی۔ جو لوگ ارواح کے علیحدہ وجود کو تسلیم نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ عہد کا یہ ذکر استعا راتی انداز میں ہوا ہے۔ لیکن اگر ان کا یہ موقف تسلیم کرلیا جائے تو پھر قرآن کے تمام احکام ہی استعارہ بن کر رہ جائیں گے اور حقیقت ان استعاروں میں گم ہوجائے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

15 Allah in this verse has reminded the Holy Prophet that, like alI other Prophets, He has taken from him too a solemn covenant which he should abide by strictly. A study of the preceding verse shows that the Covenant implies: "The Prophet will first himself obey and follow every Command received from Allah, and then make others also to obey and follow it: he will convey Allah's Commands intact to others and will show no laxity in the struggle to enforce them practically." This Covenant has been mentioned at several other places in the Quran, e.g. (1)"He has appointed for you the same way of life whim he appointed for Noah and which (O Muhammad,) We have now revealed to you, and which We had already enjoined on Abraham and Moses and Jesus, stressing : `Establish this Way and be not divided in it." (Ash-Shura:13). (2) "And remember that Allah had made the Covenant with the people who had been given the Scripture, and enjoined: `You shall spread the teachings of the Book among the people and shall not conceal them. " (Al`Imran: 187). (3)"Remember that We made a solemn Covenant with the children of Israel to the effect: `Worship (and submit to) none save Allah." (AI-Baqarah: 83). (4) "Has not the Covenant of the Book been taken from them.. .: `Hold fast the Book We have given you, and keep in mind what it contains: it is expected that you will refrain from wrong ways." (Al-A'raf: 169-171). (5) "Keep in mind the blessing Allah has bestowed on you and do not forget the solemn Covenant which He made with you, when you said, `We have heard and submitted.' " (A1-Ma`idah: 7) The reason why Allah is reminding of this Covenant in this context is that the Holy Prophet was feeling hesitant to break the custom of ignorance in respect of the adopted relations due to the apprehension that the enemies of Islam would put him to a disadvantage. He was feeling shy time and again at the thought: The question is of marrying a woman. I may take this initiative with the purest intention only for the sake of a social reform, but the enemies will certainly say that I have done so for the purpose of satisfying my sensual desires, and I am in fact trying to deceive others under the guise of a reformer. That is why Allah assures him, saying: "You arc a Prophet appointed by Us. Like all other Prophets, you also are bound in the Covenant that you will carry out whatever Command We give yourself and command others to follow it. Therefore, you should not bother at all about taunts and derision by others, do dot be afraid and fight shy of others, and carry out without hesitation the service that We want to take from you." A section of the people think that this Covenant is the covenant that was taken from all the Prophets and their communities, who came before the Holy Prophet, to the effect that they would believe in the Prophet who came afterwards and cooperate with him. On the basis of this interpretation they claim that the door to Prophethood is still open after the Holy Prophet and this covenant has been taken from the Holy Prophet too, that his followers will believe in the prophet who will come after him. But the context in which the verse occurs is explicit that this interpretation is absolutely wrong, There is no occasion whatever in the context to indicate that other prophets will come also after the Holy Prophet and his followers should believe in them. If the verse is read in this sense, it becomes irrelevant and incoherent. Moreover, there is no indication in the words of the verse to show which covenant is implied here. Therefore, to find out the nature of the covenant, we shall have to turn to other verses of the Qur'an in which mention has been made of the covenants taken from the Prophets. Now, if only one sort of the covenants had been mentioned in the entire Qur'an, i.e., the covenant that the people shall believe in the prophets coming afterwards, it would be correct to think that here also the covenant implied the same covenant. But anyone who has studied the Qur'an with an open mind knows that it has mentioned many covenants, which were taken from the Prophets and their followers. Therefore, only that covenant from among the different covenant would be implied here, which fitted in with the context here, and not the one which was altogether irrelevant. Such wrong interpretations reveal the mentality of the people who wish to draw no guidance from the Qur'an but want to reinterpret it instead.

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :15 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات یاد دلاتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی طرح آپ سے بھی اللہ تعالیٰ ایک پختہ عہد لے چکا ہے جس کی آپ کو سختی کے ساتھ پابندی کرنی چاہیے ۔ اس عہد سے کونسا عہد مراد ہے ؟ اوپر سے جو سلسلۂ کلام چلا آر ہا ہے اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس سے مراد یہ عہد ہے کہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی خود اطاعت کرے گا اور دوسروں سے کرائے گا ، اللہ کی باتوں کو بےکم و کاست پہنچائے گا اور انہیں عملاً نافذ کرنے کی سعی و جہد میں کوئی دریغ نہ کرے گا ۔ قرآن مجید میں اس عہد کا ذکر متعدد مقامات پر کیا گیا ہے ۔ مثلاً: شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہ نُوْحاً وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٓ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ۔ ط ( الشُورٰی ۔ آیت ۱۳ ) اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیا تمہارے لیے وہ دین جس کی ہدایت کی تھی اس نے نوح ( علیہ السلام ) کو ، اور جس کی وحی کی گئی ( اے محمد ) تمہاری طرف ، اور جس کی ہدایت کی گئی ابراہیم ( علیہ السلام ) اور موسیٰ ( علیہ السلام ) اور عیسیٰ ( علیہ السلام ) کو ۔ اس تاکید کے ساتھ کہ تم لوگ قائم کرو اس دین کو اور اس میں تفرقہ نہ کرو ۔ وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ ۔ ق ( آل عمران ۔ ۱۸۷ ) اور یاد کرو اس بات کو کہ اللہ نے عہد لیا تھا ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی تھی کہ تم لوگ اس کی تعلیم کو بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں ۔ وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللہَ ۔ ( البقرہ ۔ ۸۳ ) اور یاد کرو کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو گے ۔ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْھِمْ مِّیْثَاقُ الْکِتٰبِ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُذُوْا مَٓا اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ oع ( الاعراف ۔ آیات ۱٦۹ ۔ ۱۷۱ ) کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا گیا تھا ؟ ۔ ۔ ۔ مضبوطی کے سا تھ تھامو اس چیز کو جو ہم نے تمہیں دی ہے اور یاد رکھو اس ہدایت کو جو اس میں ہے ۔ توقع ہے کہ تم اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو گے ۔ وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہ o اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( المائدہ ۔ ۷ ) اور اے مسلمانو! یاد رکھو اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر کیا ہے اور اس عہد کو جو اس نے تم سے لیا ہے جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور اطاعت کی ۔ اس عہد کو اس سیاق و سباق میں اللہ تعالیٰ جس وجہ سے یاد دلا رہا ہے وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شماتت اعداء کے اندیشے سے منہ بولے رشتوں کے معاملہ میں جاہلیت کی رسم کو توڑتے ہوئے جھجک رہے تھے ۔ آپ کو بار بار یہ شرم لاحق ہو رہی تھی کہ معاملہ ایک خاتون سے شادی کرنے کا ہے ۔ میں خواہ کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ محض اصلاح معاشرہ کی خاطر یہ کام کروں ، مگر دشمن یہی کہیں گے کہ یہ کام دراصل نفس پرستی کی خاطر کیا گیا ہے اور مصلح کا لبادہ اس شخص نے محض فریب دینے کے لیے اوڑھ رکھا ہے ۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ تم ہمارے مقرر کیے ہوئے پیغمبر ہو ، تمام پیغمبروں کی طرح تم سے بھی ہمارا یہ پختہ معاہدہ ہے کہ جو کچھ بھی حکم ہم دیں گے اس کو خود بجا لاؤ گے اور دوسروں کو اس کی پیروی کا حکم دو گے ، لہٰذا تم کسی کے طعن و تشنیع کی پروا نہ کرو ، کسی سے شرم اور خوف نہ کرو ، اور خدمت ہم تم سے لینا چاہتے ہیں اسے بِلا تأمّل انجام دو ۔ ایک گروہ اس میثاق سے وہ میثاق مراد لیتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے تمام انبیاء اور ان کی امتوں سے اس بات کے لیے لیا گیا تھا کہ وہ بعد کے آنے والے نبی پر ایمان لائیں گے اور اس کا ساتھ دیں گے ۔ اس تاویل کی بنیاد پر اس گروہ کا دعویٰ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ میثاق لیا گیا ہے کہ آپ کے بعد جو نبی آئے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت اس پر ایمان لائے گی ۔ لیکن آیت کا سیاق و سباق صاف بتا رہا ہے کہ یہ تاویل بالکل غلط ہے ۔ جس سلسلۂ کلام میں یہ آیت آئی ہے اس میں یہ کہنے کا سرے سے کوئی موقع ہی نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور آپ کی امت کو ان پر ایمان لانا چاہیے ۔ یہ مفہوم اس کا لیا جائے تو یہ آیت یہاں بالکل بے محل ہو جاتی ہے ۔ علاوہ بریں آیت کے الفاظ میں کوئی صراحت ایسی نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ یہاں میثاق سے کونسا میثاق مراد ہے ۔ لامحالہ اس کی نوعیت معلوم کرنے کے لیے ہم کو قرآن مجید کے دوسرے مقامات کی طرف رجوع کرنا ہو گا جہاں انبیاء سے لیے ہوئے مواثیق کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اب اگر سارے قرآن میں صرف ایک ہی میثاق کا ذکر ہوتا اور وہ بعد کے آنے والے انبیاء پر ایمان لانے کے بارے میں ہوتا تو یہ خیال کرنا درست ہوتا کہ یہاں بھی میثاق سے مراد ہی میثاق ہے ۔ لیکن قرآن پاک کو جس شخص نے بھی آنکھیں کھول کر پڑھا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کتاب میں بہت سے میثاقوں کا ذکر ہے جو انبیاء علیہم السلام اور ان کی امتوں سے لیے گئے ہیں ۔ لہٰذا ان مختلف مواثیق میں سے وہ میثاق یہاں مراد لینا صحیح ہو گا جو اس سیاق و سباق سے مناسبت رکھتا ہو ، نہ کہ وہ میثاق جس کے ذکر کا یہاں کوئی موقع نہ ہو ۔ اسی طرح کی غلط تاویلوں سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ بعض لوگ قرآن سے ہدایت لینے نہیں بیٹھتے بلکہ اسے ہدایت دینے بیٹھ جاتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: پیچھے جو حقیقت بیان فرمائی تھی کہ نبی ہر مومن کے لئے اپنی جان سے بھی زیادہ قربت کا مقام رکھتے ہیں، اس کی وجہ اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ ان کی ذمہ داری بڑی سخت ہے ؛ کیونکہ ان سے بڑا سخت عہد لیا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچاکر ان کی ہدایت کا سبب بنیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧‘ ٨۔ اس آیت میں انبیاء کے عہد کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر سورة آل عمران میں گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم رواح میں ہر ایک پہلے نبی سے مابعد میں آنے والے نبی کے باب میں یہ عہد لیا ہے کہ پہلا نبی مابعد میں آنے والے نبی کا زمانہ پاوے تو اس مابعد کی شریعت پر ایمان لاوے اور اگر اس زمانہ کے پانے کی امید نہ ہو تو اپنی امت کو اس کے موافق وصیت کر جا وے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر نبی کے زمانہ میں نماز روزے کے احکام بدلتے رہے ہیں ورنہ توحید الٰہی اور احکام الٰہی کی فرمانبرداری میں سب شریعتیں ایک ہیں مسند امام احمد صحیح بخاری ‘ ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ (رض) سے روایتیں ہیں جن کا ذکر سورة البقر میں گزر چکا ١ ؎ ہے (١ ؎ ص ١٢٧۔ ١٢٨۔ جلد اول تفسیر ہذا۔ ) کہ سوائے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کے اور متیں اپنے نبیوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلاویں گے اور کہیں گے یا اللہ ہم کو کسی نبی نے تیرا حکم نہیں پہنچایا اس پر امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کے نیک لوگ قرآن کے حوالہ سے ان نبیوں نے تیرے سب احکام اپی امتوں کو پہنچائے اسی گواہی پر فیصلہ ہو کر وہ نبیوں کے جھٹلانے والی امتیں دوزخ میں جاویں گی ان حدیثوں کو آیت کی تفسی میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ توحید الٰہی کی تاکید سلسلہ بہ سلسلہ جاری رہنے کے لیے انبیاء سے وہ عہد لیا گیا ہے جس کا ذکر آیت میں ہے اور آخر آیت میں جس سچی بات کی بابت سوال کئے جانے کا ذکر ہے وہ وہی سچ ہے جس پر امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کی گواہی گزرے گی اور جن منکروں کا ذکر آخر آیت میں ہے وہی لوگ ہیں جو اپنے نبیوں کو دنیا میں جھٹلاتے رہے اور قیامت کے دن بھی جھٹلاویں گے حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا میں انبیاء کوشش سے اپنا کام کریں اور عقبیٰ میں اللہ تعالیٰ کے روبرو اپنے کام کی سچی حقیقت ظاہر کردیں اس واسطے انبیاء سے یہ عہد لیا گیا ہے اوپر ذکر تھا کہ رشتہ داروں کے حق دار ہونے کا حال لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے اس ذکر کو پورا کرنے کے لیے فرمایا کہ جس طرح رشتہ داروں کا حق دار ہونا لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے اسی طرح انبیاء ( علیہ السلام) کا عہد بھی لکھا گیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33:7) واذا اخدنا : ای واذکر حین اخذنا۔ وہ وقت یاد کر جب ہم نے (عہد) لیا تھا۔ میثاقھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا عہد۔ ان کے ساتھ کیا ہوا عہد و پیمان (یعنی احکام شریعت کی تبلیغ اور اس کے اتباع کا وعدہ) ومنک ومن نوح و ابراہیم وموسی و عیسیٰ ابن مریم۔ اور آپ سے بھی اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) سے بھی۔ النبیین کے بعد بالتخصیص آپ کا اور دوسرے پیغمبروں کا نام لینا ان کے اولوا العزم اور صاحب شریعت ہونے کی وجہ سے ہے اور ان کی عظمت و شان کو واضح کرنا مقصود ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر مبارک دوسرے پیغمبروں سے قبل لانا۔ حالانکہ زمانہ کے لحاظ سے آپ بعد میں تشریف لائے آپ جناب کی دوسرے پیغمبرون پر افضلیت ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ یا بقول علامہ قرطبی (رح) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :۔ کنت اولہم فی الخلق واخرھم فی البعث۔ یعنی پیدائش میں سب سے پہلے تھا اور بعثت میں سب نبیوں کے بعد۔ واخذنا منھم میثاقا غلیظا : ای عھد عظیم الشان او وثیقا قویا۔ ایک نہایت عظیم وعدہ اور نہایت پختہ میثاق۔ بعض کے نزدیک یہ وعدہ اتباع و تبلیغ احکام شریعت تھا جسے حلف لے کر مزید مؤکد کردیا گیا۔ یہ جملہ بذات خود اذا اخذنا من النبیین میثاقھم کے بعد تاکید مزید کے لئے لایا گیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یہ اقرار کہ دین کو قائم کریں گے اور اس میں کوئی تفرقہ نہیں ڈالیں گے۔ ( دیکھئے شوریٰ آیت 13) یہ عہد گو تمام انبیاء سے لیا گیا مگر اس آیت میں اور ” شوریٰ “ کی آیت 13 میں خاص طور پر پانچ اولوالعزم پیغمبروں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام ذکر کئے جس سے مقصد دوسرے انبیا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کی عظمت و فضلیت ظاہر کرنا ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو باوجود متأخر زماں ہونے کے یہاں مقدم ذکر کیا کیونکہ آپ سب سے افضل ہیں۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” اوپر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمایا کہ وہ سب لوگوں پر تصرف رکھتا ہے ان کی جان سے بھی زیادہ، یہاں فرمایا کہ یہ درجہ نبیوں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملا کہ ان پر محنت بھی زیادہ ہے، ساری خلق سے مقابل ہونا اور کسی سے خوف و جا نہ رکھنا “۔ اوپر تو کل اور تقویٰ حکم دیا اب آگے غزوہ احزاب کا ذکر فرما کر تقویٰ اور توکل کے ثمرات ظاہر فرما دیئے۔ (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 8 میثاق : معاہدہ عہد غلیظ : سخت۔ پکا لیسئل : تاکہ وہ پوچھے، سوال کرے۔ صڈق : سچائی اعد : اس نے تیار کر رکھا ہے۔ تشریح آیت نمبر 7 تا 8 : میثاق، عہد، معاہدہ تمام لوگوں سے اور خاص طور پر انبیا کرام سے بھی لیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ خود بھی اللہ سے کیے ہوئے عہد و میثاق کو پورا کریں اور دوسروں کو بھی سچائی پر لانے کی بھر پور جدوجہد اور کوشش کریں۔ اور اللہ نے جو بھی حکم دیا ہو اس پر بغیر کسی جھجک اور شرم کے عمل کریں کیونکہ قیامت کے دن اللہ ہر ایک کی کوششوں اور عمل سے متعلق سوال فرمائیں گے۔ سچے لوگوں کو انعام و اکرام سے نوازا جائے گا اور جو لوگ جھوٹ اور باطل پر جمے رہیں گے ان کو سخت سزا دی جائے گی۔ ان آیات کی مزید وضاحت سے پہلے ان آیات کے پس منظر کو بھی سامنے رکھا جائے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ نبی کریم کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد یہ تھا کہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی اور درندگی سے آزادی دلائی جائے۔ اس دور میں بھیڑ بکریوں کی منڈی کی طرح انسانی خریدوفروخت کی منڈیاں بھی لگتی تھیں جن میں غلام مردوں اور غلام عورتوں (باندیوں اور لونڈیوں) کو بیچا اور خریدا جاتا تھا۔ غلام بنانے کے بعد اس کے مالک اور آقا کو اس بات کا مکمل حق حاصل ہوتا تھا کہ وہ اپنے خریدے ہوئے غلام اور لونڈی کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔ اگر ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا، مارا پیٹا جاتا، ظلم کیا جاتا یا بھوکا رکھا جاتا تو اس معاملے میں کسی دوسرے کو بولنے کا کوئی حق حاصل نہ تھا۔ اس طرح ایک غلام اور جانور میں کوئی فرق نہ تھا۔ نبی کریم نے نہ صرف غلاموں کے انسانی حقوق بحال کرائے بلکہ ان کو بھی عام انسانوں کی طرح حسن سلوک کا مستحق قرار دیا۔ نبی کریم نے غلاموں کو آزادی دلانے اور ظالموں سے ان کی گردنیں چھڑانے کو جہنم سے نجات اور عبادت کا درجہ عطا فرمایا۔ نبی کریم کے جاں نثاروں نے ہزاروں غلاموں کو خرید کر آزادی کی نعمت سے ہم کنار کیا۔ روایات کے مطابق نبی کریم کے حصے میں مختلف اوقات میں سوا دو سو غلام آئے مگر آپ نے ان کو اسی وقت آزاد کردیا اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا حم دیا جس پر صحابہ کرام نے پوری طرح عمل کیا۔ نبی کریم نے حضرت زید بن حارثہ کو آزاد کردیا تھا آپ ان سے ایسی محبت فرماتے تھے کہ لوگ ان کو زید ابن محمد کہا کرتے تھے۔ اس دور میں ایسے لڑکے جن کو بیٹا بنا لیا جاتا تھا جس کو لے پالک کہتے ہیں تو اس کا درجہ حقیقی اور سگے بیٹوں کی طرح ہوتا تھا جس کو وراثت میں شریک کیا جاتا تھا۔ نبی کریم نے حضرت زید کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا۔ آپ اپنے حسن عمل سے ساری دنیا کو بتا دینا چاہتے تھے کہ غلام بھی انسان ہی ہیں ان کے ساتھ انسانی سلوک کرنا ضروری ہے۔ اگر نبی کریم نہ ہوتے تو دنیا سے غلامی کا رواج کبھی ختم نہ ہوتا۔ آپ نے غلامی اور آقائی ہر طرح کے فرق کو مٹانے کے لیے ایک اور مثال قائم فرمائی اور وہ یہ تھی کہ آپ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب کو حضرت زید سے نکاح پر رضا مند کرلیا۔ جب بنو قریش جیسے معزز قبیلے کی ایک لڑکی کا نکاح آزاد کردہ غلام سے کیا گیا تو سارے عرب قبائل میں ایک ہلچل مچ گئی کیوکنہ اس سے پہلے کوئی ایک بھی مثال موجود نہ تھی کہ ایک شریف گھرانے کی آزاد لڑکی سے کسی غلام یا غلام زادے کا نکاح ہوجائے۔ مگر آپ نے کفار و مشرکین کی تنقید کے باوجود اس فرق کو مٹا کر چھوڑا۔ اس کے بعد حضرت زینب اور حضرت زید کے مزاجوں میں ہم آہنگی نہ ہوسکی اس وجہ سے شدید اختلافات ہوگئے اور آخرت کار دونوں میں طلاق ہوگئی۔ ایک آزاد کردہ غلام سے ایک آزاد لڑکی کا نیاح تو پورے خاندان کے لیے صدمہ کا سبب تھا مگر طلاق کے اس واقعہ نے تو پورے بنو قریش کو ہلا کر رکھ دیا اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اس صدمے اور رنج و غم سے کیسے باہر نکلیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو حکم دیا کہ وہ حضرت زینب سے نکاح کرلیں تاکہ سارا خاندان جو رنج و غم میں ڈوبا ہوا ہے وہ خوش ہوجائے۔ نبی کریم اس معاملے میں ایک جھجک محسوس فرما رہے تھے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید کی طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کیا جو اس دور کے رواج کے مطابق آپ کی بہو تھی (یعنی بیٹے کی بیوی) لیکن اللہ چاہتے تھے کہ دنیا سے اس رواج کو بھی ختم کردیا جائے کہ منہ بولا بیٹا سگے اور حقیقی بیٹیوں کی طرح ہوتا ہے۔ آپ نے اللہ کے حکم سے حضرت زینب کی عدت گزرنے کے بعد ان سے نکاح فرما لیا۔ اس واقعہ نے رسم و رواج میں بندھے ہوئے لوگوں کو شور مچانے کا ایک اور موق دے دیا۔ انہوں نے ہنگامہ برپا کردیا کہ یہ کیسے نبی ہیں جنہوں نے اپنے منہ بولے بیٹے کی طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس اموقع پر زیر مطالعہ آیات نازل کی گئیں جن میں نبی کریم کو ان کے منصب اور مقام کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے احکامات کے نفاذ میں کسی طرح کی جھجک محسوس نہ فرمائیں کیونکہ کفار و مشرکین اور منافقین تو اسی طرح شور مچاتے رہیں گے۔ فرمایا کہ اے نبی اللہ نے آپ سے پہلے گزرے ہوئے عزم و ہمت کے پیکر پیغمبروں حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ابن مریم سے یہ عہد لیا تھا کہ آپ کو اللہ نے جس نے جس نبوت کے عظیم مقام سے نوازا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ خود بھی اللہ کی طرف سے کی گئی وحی کی پابندی فرمائیں اور دوسروں کو بھی اسی طرف لانے کی بھرپور جدودجہد اور کوشش فرمائیں گے۔ اور آپ کو جو احکامات دیئے گئے ہیں ان کو اپنی ذات اور پورے معاشرہ پر نافذ کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہیں، کل قیامت کے دن اس عہد و معاہدہ کے متعلق سوال کیا جائے گا تاکہ وہ لوگ جو سچائی پر ثابت قدم رہے ان کو انعام و اکرام سے نوازا جائے اور وہ لوگ جو زندگی بھر اس سچائی سے منہ موڑ کر چلتے اور دین کی سچائیوں کا انکار کرتے رہے ہیں ان کو سخت سے سخت سزا دی جاسکے۔ اس عہد و میثاق کے متعلق حضرت قتادہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس معاہدہ میں یہ بھی شامل تھا کہ تمام انبیا کرام اس بات کا اعلان کرتے رہیں کہ (1) حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں اور (2) لا نبی بعدہ یعنی ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (ابن جریر، ابن ابی حاتم)

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں اور مخالفت کرنے والے جس قدر چاہیں حق کی مخالفت کرنے پر تل جائیں اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے لوگوں تک حق پہنچانا اور ہر حال میں حق پر قائم رہنا ہے۔ اس حوالے سے آپ کے سامنے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ارشاد ہوا کہ ہم نے انبیاء کرام، نوح، ابراہیم، موسٰی، عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عہد لیا ہے کہ ہر حال میں لوگوں تک حق پہنچانا اور اس پر قائم رہنا ہے۔ اس بارے میں آپ اور دوسرے انبیاء سے سوال کیا جائے گا۔ لہٰذا لوگوں کے حق کے بارے میں جذبات کچھ بھی ہوں آپ کو پہنچانا ہوگا۔ جو لوگ سچائی کا انکار کریں گے ان کے لیے اذّیت ناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہاں سچائی سے مراد ہر قسم کی سچائی ہے جس میں پہلی سچائی جس کا عہد لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانا اور اس کا پرچار کرنا ہے۔ دوسری سچائی اور عہد یہ ہے کہ ہر نبی اپنے سے پہلے نبی کی تائید کرے گا اور لوگوں تک حق بات پہنچائے۔ (عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِيِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُدْعٰی نُوْحٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہٗ ھَلْ بَلَّغْتَ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیُدْعٰی قَوْمُہٗ فَیُقَالُ لَھُمْ ھَلْ بَلَّغَکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ مَا اَتَانَا مِنْ نَّذِیْرٍ أَوْ مَآ أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَیُقَالُ لِنُوْحٍ مَنْ یَّشْھَدُ لَکَ فَیَقُوْلُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہٗ قَالَ فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا) ) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب : مسند أبی سعید الخدری ] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے دن نوح (علیہ السلام) کو بلا کر پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے میرا پیغام پہنچایا تھا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں پھر ان کی قوم کو بلا کر پوچھا جائے گا کیا نوح (علیہ السلام) نے میرا پیغام پہنچایا تھا۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ نوح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا کہ آپ کی گواہی کون دے گا ؟ وہ کہیں گے، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی امّت۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ (اسی طرح ہم نے تمہیں امّتِ وسط بنایا ہے) ۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے عہد لیا کہ وہ حق پر قائم اور حق کا پرچار کرتا رہے گا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ سچ پر قائم رہنے والوں سے سوال کرے گا اور سچ کا انکار کرنے والوں کو سزا دے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا انبیاء کرام (علیہ السلام) سے جواب طلب فرمانا اور نبیوں کا انکار کرنے والوں کو سزا دینا : ١۔ ہم ان لوگوں سے بھی ضرور سوال کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور رسول سے بھی جواب طلب کیا جائے گا۔ (الاعراف : ٦) ٢۔ اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے متعلق ضرور سوال کرے گا۔ (الاحزاب : ٨) ٣۔ کفار کے لیے دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے پھر انکا ہماری طرف لوٹنا ہوگا پھر ہم انہیں سخت عذاب میں مبتلا کریں گے۔ (یونس : ٧٠) ٤۔ ہم ان کی کہی ہوئی بات لکھ لیں گے اور ان کے عذاب کو بڑھا دیا جائے گا۔ (مریم : ٧٩) ٥۔ ہم ان کے پاس اچانک عذاب لے آئیں گے اور انہیں اس کا علم بھی نہیں ہوگا۔ (العنکبوت : ٥٣ ) ٦۔ وہ لوگ جو دین کو کھیل تماشا بناتے ہیں اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا، قیامت کے دن ہم ان کو بھلا دیں گے۔ (الاعراف : ٥١) ٧۔ قیامت کے دن ہم انہیں فرموش کردیں گے جس طرح وہ قیامت کی ملاقات کو بھول گئے کیونکہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔ (الاعراف : ٥١) ٨۔ ان کے کفر کی وجہ سے ہم انہیں شدید ترین عذاب چکھائیں گے۔ (یونس : ٧٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واذ اخذنا من النبین ۔۔۔۔۔۔ للکفرین عذابا الیما (6 – 7) ” “۔ یہ وعدہ انوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک مسلسل لیا گیا۔ یہ واحد میثاق والا نظام ہے اور یہ واحد امانت ہے۔ ہر نبی اپنے ماقبل سے لیتا رہا اور آنے والے کو دیتا رہا۔ ابتدا میں تمام نبیوں کے بارے میں کہا گیا کہ ہم نے ان سے میثاق لیا اور اس کے بعد قرآن اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خصوصی طور پر تھا (ومنک) کیونکہ آپ خاتم النبین ہیں اور آپ کی دعوت عالمی ہے۔ اس کے بعد اولوالعزم رسولوں کے نام گنوائے ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کا ذکر ہوا۔ اصحاب میثاق کے ذکر کے بعد اب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ عہد تھا کیا اور کیسا تھا تو وہ بہت پختہ عہد تھا ، بہت بھاری عہد تھا۔ میثاقا غلظیا (33: 7) پختہ عہد۔ اس میں لفظ میثاق کے لغوی معنے کی طرف اشارہ ہے۔ لغت میں میثاق بٹی ہوئی رسی کو کہتے ہیں۔ استعارہ کے طور پر عہد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس لفظ کے استعمال سے ایک معنوی مفہوم کو مجسم کرکے دکھانا مطلوب ہے تاکہ انسانی شعور اچھی طرح سمجھ لے کہ یہ کوئی پختہ اور اہم عہد تھا جو اس قدر بڑے بڑے پیغمبروں سے لیا گیا کہ وہ وحی وصول کریں ، اسکی تبلیغ کریں اور اس کے مطابق اسلامی نظام قائم کریں اور نہایت امانت اور استقامت کے ساتھ ، اس کی ذمہ داریاں برداشت کریں۔ لیسئل الصدقین عن صدقھم (33: 8) ” تاکہ اللہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے “۔ اور صادق اہل ایمان ہیں کیونکہ انہوں نے سچ کہا اور سچے عقیدے کو قبول کیا۔ ان کے سوا تمام دوسرے لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کے عقائد باطل ہیں اور ان کی باتیں باطل ہیں۔ لہٰذا تعبیر کا خاص مفہوم ہے۔ سچوں سے سوال ایسا ہی ہوگا جس طرح ایک لائق شاگرد سے استاد لوگوں کے سامنے مجلس یا تقریب میں یہ پوچھتا ہے کہ تم نے کتنے نمبر لیے اور کیسے جوابات دئیے اور یوں کامیابی حاصل کی۔ یہ سوال ان کی عزت افزائی کے لیے اعلانیہ تمام لوگوں کے سامنے ہوگا تاکہ تمام سننے والے بھی ان کی تعریف کریں۔ اسی طرح یوم الحشر میں اللہ صادقین سے سوال ان کی تکریم کے لیے کرے گا۔ اب دوسرے لوگ جنہوں نے باطل نظریات اپنائے اور جنہوں نے جھوٹے بول بولے حالانکہ ان کے سامنے اس کائنات کا بہت بڑا مسئلہ پیش کیا گیا تھا ، جس میں یا انہوں نے سچا کلمہ کہنا تھا یا جھوٹا ، ان سے سوال ہوگا اور ان کے لیے سزا بھی حاضر ہوگی اور وہ تیار کھڑی ہوگی۔ واعد للکفرین عذابا الیما (33: 8) ” اور کافروں کے لیے اس نے دردناک وذاب تیار کر رکھا ہے “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے عہد لینا اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے جو عہد لیا تھا اس آیت میں اس کا ذکر ہے، تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا عمومی اور حضرت خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت نوح اور حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ بن مریم کا خصوصیت کے ساتھ نام لیا ہے، ان حضرات کی محنتیں اپنی اپنی امتوں کو تبلیغ کرنے سے متعلق بہت زیادہ تھیں، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ان حضرات کی فضیلت زائدہ ظاہر فرمانے اور یہ بتانے کے لیے کہ یہ حضرات گذشتہ اصحاب شرائع والے انبیاء ( علیہ السلام) میں مشہور ہیں ان حضرات کا خصوصی تذکرہ فرمایا ہے۔ صاحب روح المعانی (رض) نے حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر مقدم کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تخلیق مقدم تھی اس لیے ذکر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تقدیم فرمائی، اور اس بارے میں ضیاء الدین مقدسی کی کتاب المختارہ سے ایک مرفوع حدیث بھی نقل کی ہے : (بدئ بی الخلق وکنت اٰخرھم فی البَعْثِ ) (مخلوق کی پیدائش کی ابتداء مجھ سے کی گئی اور میں بعثت میں سب انبیاء سے آخری ہوں) اور ایک حدیث یوں نقل کی ہے : (کنت اول النبیین فی الخلق واٰخرھم فی البعث) (میں پیدائش کے لحاظ سے تمام انبیاء سے اول ہوں اور بعثت کے لحاظ سے آخری ہوں) (یہ حدیث علامہ سیوطی (رض) نے خصائص کبریٰ (ص ٣) میں بھی نقل کی ہے) نیز یہ بھی لکھا ہے کہ چونکہ آپ سب سے پہلے نبوت سے سرفراز کیے گئے تھے اس لیے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر مقدم کیا گیا۔ اس بارے میں اور بھی متعدد روایات ہیں جنہیں علامہ سیوطی (رض) نے خصائص کبریٰ میں مختلف کتابوں سے جمع کیا ہے۔ مشکوٰۃ المصابیح ص ٥١٣ میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے بحوالہ سنن ترمذی نقل کیا ہے کہ حضرات صحابہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کی نبوت کب ثابت ہوگئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (وَاٰدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ ) (یعنی میرے لیے اس وقت نبوت ثابت ہوگئی تھی جب آدم روح و جسم کے درمیان تھے) اور حضرت عرباض بن ساریہ (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کیا ہے کہ میں اس وقت اللہ کے نزدیک خاتم النّبیین لکھا ہوا تھا جب آدم اپنی مٹی ہی میں تھے۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے کیا عہد لیا جس کا اس آیت شریف میں ذکر ہے، اس کے بارے میں صاحب روح المعانی (جلد ٢١ ص ١٥٤) لکھتے ہیں (ای واذکر وقت اخذنا من النبیین کافۃ عھودھم بتبلیغ الرسالۃ والشرائع والدعاء الی الدین الحق) (یعنی اس وقت کو یاد کیجیے جب ہم نے تمام نبیوں سے یہ عہد لیا کہ رسالت کی تبلیغ کریں گے، احکام شریعت پہنچائیں گے اور دین حق کی طرف بلائیں گے) مشکوٰۃ المصابیح ص ٢٤ پر مسند احمد سے نقل کیا ہے جو حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکال کر (اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ) (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں) فرمایا تو سب نے بَلٰی کہا یعنی اقرار کیا کہ ہاں واقعی آپ ہمارے رب ہیں، اسی موقعہ پر حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ایک خصوصی عہد لیا گیا جو رسالت اور نبوت کے بارے میں تھا جو آیت (مذکورہ بالا) (وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَھُمْ ) میں مذکور ہے۔ سورۂ آل عمران رکوع نمبر ٩ میں بھی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے عہد لینے کا ذکر ہے اس کا بھی مطالعہ کرلیا جائے۔ (وَ اَخَذْنَا مِنْھُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا) (اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا) جس عہد کا شروع آیت میں ذکر ہے بطور تاکید اسی کو دوبارہ ذکر فرمایا، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ پہلے مذکورہ بالا عہد لینے کے بعد پھر اللہ کی قسم دلا کر دوبارہ عہد لیا جسے (مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا) سے تعبیر فرمایا۔ (ذکرہ فی الروح)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ واذا اخذنا الخ، یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلا خطاب ہے ہم تمام نبیوں سے عموماً ، آپ سے اور نوح، ابراہیم، موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم (علیہم السلام) سے خصوصاً تبلیغ رسالت اور دعوت الی الحق کا نہایت پختہ عہد لے چکے ہیں۔ ہم نے تمام نبیوں سے یہ عہد مؤکد بالایمان لیا تھا کہ تبلیغ رسالت کا فریضہ کما حقہ ادا کرنا اور حق بیان کرنے میں نرمی یا سستی سے کام نہ لینا۔ اس لیے اب آپ دیگر احکام کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ رسوم جاہلیت کو ختم کرنے میں کسی رواداری یا تساہل کو روا نہ رکھیں اور کفار و منافقین کی شدید مخالفت کے باوجود تبلیغ رسالت اور دعوت الی الحق کا فریضہ انجام دینے میں ذرا نرمی اختیار نہ فرمائیں۔ المیثاق الغلیظ الیمین باللہ تعالیٰ فیکون بعد ما اخذ اللہ سبحانہ من النبیین المیثاق بتبلیغ الرسالۃ والدعوۃ الی الحق اکد بالیمین باللہ تعالیٰ علی الوفاء بما حملوا الخ (روح ج 21 ص 154) ۔ لیسئل الصادقین الخ، یہ اخذنا کے متعلق ہے اور اس میں اخذ میثاق کی علت بیان کی گئی ہے۔ الصادقین سے انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبیوں سے پوچھے کہ ان سے تبلیغ حق کا جو عہد لیا گیا تھا انہوں نے پورا کیا یا نہ۔ تاکہ سرِ محشر انبیاء (علیہم السلام) کی صداقت واضح ہوجائے۔ اور جن لوگوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کو نہ مانا ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

7۔ اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ہم نے تمام نبیوں سے ان کا عہد اور اقرار لیا اور ان نبیوں میں آپ ؐ سے اور نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی عہد لیا اور عہد بھی خوب پختہ عہد لیا ۔