Surat Saba

Surah: 34

Verse: 38

سورة سبأ

وَ الَّذِیۡنَ یَسۡعَوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیۡنَ اُولٰٓئِکَ فِی الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴿۳۸﴾

And the ones who strive against Our verses to cause [them] failure - those will be brought into the punishment [to remain].

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے مقابلہ کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں یہی ہیں جو عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَالَّذِينَ يَسْعَوْنَ فِي ايَاتِنَا مُعَاجِزِينَ ... And those who strive against Our Ayat, to frustrate them, means, those who try to block people from the path of Allah and from following His Messengers and believing in His signs, ... أُوْلَيِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ they will be brought to the torment. means, they will all be punished for their deeds, each one accordingly.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٥٨] نیچا دکھانے سے مراد ان کا مذاق اڑانا، انہیں تسلیم نہ کرنا، اللہ کے راستے میں روڑے اٹکانا، ایمانداروں کو ایذائیں دینا، اور ایسی تدبیریں اور سازشیں تیار کرنا جن سے وہ اسلام کو کمزور یا نیست و نابود کرسکیں۔ سب باتیں شامل ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة حج (٥١) اور سورة سبا (٥) ” مُحْضَرُوْنَ “ یعنی کبھی تھوڑی دیر کے لیے بھی اس سے غائب نہیں ہو سکیں گے، ہمیشہ اس میں حاضر رکھے جائیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰۗىِٕكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ۝ ٣٨ سعی السَّعْيُ : المشي السّريع، وهو دون العدو، ويستعمل للجدّ في الأمر، خيرا کان أو شرّا، قال تعالی: وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] ، وقال : نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8] ، وقال : وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] ، وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] ، وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] ، إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] ، وقال تعالی: وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] ، كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً [ الإسراء/ 19] ، وقال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأكثر ما يستعمل السَّعْيُ في الأفعال المحمودة، قال الشاعر : 234- إن أجز علقمة بن سعد سعيه ... لا أجزه ببلاء يوم واحد «3» وقال تعالی: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ [ الصافات/ 102] ، أي : أدرک ما سعی في طلبه، وخصّ المشي فيما بين الصّفا والمروة بالسعي، وخصّت السّعاية بالنمیمة، وبأخذ الصّدقة، وبکسب المکاتب لعتق رقبته، والمساعاة بالفجور، والمسعاة بطلب المکرمة، قال تعالی: وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ سبأ/ 5] ، أي : اجتهدوا في أن يظهروا لنا عجزا فيما أنزلناه من الآیات . ( س ع ی ) السعی تیز چلنے کو کہتے ہیں اور یہ عدو ( سرپٹ دوڑ ) سے کم درجہ ( کی رفتار ) ہے ( مجازا ) کسی اچھے یا برے کام کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو ۔ نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8]( بلکہ ) ان کا نور ( ایمان ) ان کے آگے ۔۔۔۔۔۔ چل رہا ہوگا ۔ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] اور ملک میں فساد کرنے کو ڈوڑتے بھریں ۔ وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں ( فتنہ انگریزی کرنے کے لئے ) دوڑتا پھرتا ہے ۔ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی ۔ إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] تم لوگوں کی کوشش طرح طرح کی ہے ۔ وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] تو اس کی کوشش رائگاں نی جائے گی لیکن اکثر طور پر سعی کا لفظ افعال محمود میں استعمال ہوتا ہے کسی شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) 228 ) ان جز علقمہ بن سیف سعیہ لا اجزہ ببلاء یوم واحد اگر میں علقمہ بن سیف کو اس کی مساعی کا بدلہ دوں تو ایک دن کے حسن کردار کا بدلہ نہیں دے سکتا اور قرآن میں ہے : ۔ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ [ الصافات/ 102] جب ان کے ساتھ دوڑ نے کی عمر کو پہنچا ۔ یعنی اس عمر کو پہنچ گیا کہ کام کاج میں باپ کا ہاتھ بٹا سکے اور مناسب حج میں سعی کا لفظ صفا اور مردہ کے درمیان چلنے کے لئے مخصوص ہوچکا ہے اور سعاد یۃ کے معنی خاص کر چغلی کھانے اور صد قہ وصول کرنے کے آتے ہیں اور مکاتب غلام کے اپنے آپ کو آزاد کردانے کے لئے مال کمائے پر بھی سعایۃ کا لفظ بولا جاتا ہے مسا عا ۃ کا لفظ فسق و محور اور مسعادۃ کا لفظ اچھے کاموں کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ سبأ/ 5] اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں اپنے زعم باطل میں ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی میں سعی کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے ہماری نازل کر آیات میں ہمارے عجز کو ظاہر کرنے کے لئے پوری طاقت صرف کر دالی ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ عجز والعَجْزُ أصلُهُ التَّأَخُّرُ عن الشیء، وحصوله عند عَجُزِ الأمرِ ، أي : مؤخّره، كما ذکر في الدّبر، وصار في التّعارف اسما للقصور عن فعل الشیء، وهو ضدّ القدرة . قال : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] ، ( ع ج ز ) عجز الانسان عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونا کے ہیں جب کہ اسکا وقت نکل جا چکا ہو جیسا کہ لفظ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا حضر الحَضَر : خلاف البدو، والحَضَارة والحِضَارَة : السکون بالحضر، کالبداوة والبداوة، ثمّ جعل ذلک اسما لشهادة مکان أو إنسان أو غيره، فقال تعالی: كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] ، نحو : حَتَّى إِذا جاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ الأنعام/ 61] ، وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] ، وقال تعالی: وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ [ النساء/ 128] ، عَلِمَتْ نَفْسٌ ما أَحْضَرَتْ [ التکوير/ 14] ، وقال : وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ [ المؤمنون/ 98] ، وذلک من باب الکناية، أي : أن يحضرني الجن، وكني عن المجنون بالمحتضر وعمّن حضره الموت بذلک، وذلک لما نبّه عليه قوله عزّ وجل : وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ [ ق/ 16] ، وقوله تعالی: يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آياتِ رَبِّكَ [ الأنعام/ 158] ، وقال تعالی: ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً [ آل عمران/ 30] ، أي : مشاهدا معاینا في حکم الحاضر عنده، وقوله عزّ وجلّ : وَسْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كانَتْ حاضِرَةَ الْبَحْرِ [ الأعراف/ 163] ، أي : قربه، وقوله : تِجارَةً حاضِرَةً [ البقرة/ 282] ، أي : نقدا، وقوله تعالی: وَإِنْ كُلٌّ لَمَّا جَمِيعٌ لَدَيْنا مُحْضَرُونَ [يس/ 32] ، وفِي الْعَذابِ مُحْضَرُونَ [ سبأ/ 38] ، شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ [ القمر/ 28] ، أي : يحضره أصحابه، والحُضْر : خصّ بما يحضر به الفرس إذا طلب جريه، يقال : أَحْضَرَ الفرس، واستحضرته : طلبت ما عنده من الحضر، وحاضرته مُحَاضَرَة وحِضَارا : إذا حاججته، من الحضور، كأنه يحضر کلّ واحد حجّته، أو من الحضر کقولک : جاریته، والحضیرة : جماعة من الناس يحضر بهم الغزو، وعبّر به عن حضور الماء، والمَحْضَر يكون مصدر حضرت، وموضع الحضور . ( ح ض ر ) الحضر یہ البدو کی ضد ہے اور الحضارۃ حاد کو فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ آتا ہے جیسا کہ بداوۃ وبداوۃ اس کے اصل شہر میں اقامت کے ہیں ۔ پھر کسی جگہ پر یا انسان وگیرہ کے پاس موجود ہونے پر حضارۃ کا لفظ بولاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے ۔ وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] اور جب تم میراث کی تقسیم کے وقت ۔۔۔ آمو جود ہوں ۔ وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ [ النساء/ 128] اور طبائع میں بخل ودیعت کردیا گیا ہے ۔ عَلِمَتْ نَفْسٌ ما أَحْضَرَتْ [ التکوير/ 14] تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے اور آیت کریمہ : وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ [ المؤمنون/ 98] میں کنایہ کہ اے پروردگار میں پناہ مانگتا ہوں کہ جن و شیاطین میرے پاس آھاضر ہوں ۔ اور بطور کنایہ مجنون اور قریب المرگ شخص کو محتضر کہا جاتا ہے جیسا کہ آیت : وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ [ ق/ 16] اور آیت کریمہ : یوم یاتی بعض ایات ربک میں اس معنی پر متنبہ کیا گیا ہے اور آیت کریمہ ۔ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً [ آل عمران/ 30] کے معنی یہ ہیں کہ انسان جو نیکی بھی کرے گا ۔ قیامت کے دن اس کا اس طرح مشاہدہ اور معاینہ کرلے گا جیسا کہ کوئی شخص سامنے آموجود ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَسْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كانَتْ حاضِرَةَ الْبَحْرِ [ الأعراف/ 163] اور ان سے اس گاؤں کا حال پوچھ جواب دریا پر واقع تھا ۔ میں حاضرۃ البحر کے معنی دریا کے قریب یعنی ساحل کے ہیں اور آیت کریمہ : تِجارَةً حاضِرَةً [ البقرة/ 282] میں حاضرۃ کے معنی نقد کے ہیں ۔ نیز فرمایا : وَإِنْ كُلٌّ لَمَّا جَمِيعٌ لَدَيْنا مُحْضَرُونَ [يس/ 32] اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کئے جائیں گے ۔ وفِي الْعَذابِ مُحْضَرُونَ [ سبأ/ 38] وی عذاب میں ڈالے جائیں گے ۔ اور آیت کریمہ : شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ [ القمر/ 28] ، ہر باری والے کو اپنی باری پر آنا چاہئے میں بانی کی باری کے محتضر ہونے کے معنی یہ ہیں کہ باڑی والے اس گھاٹ پر موجود ہوں ۔ الحضر ۔ خاص کر گھوڑے کی تیز دوڑے کو کہتے ہیں کہا جاتا ہے : احضر الفرس گھوڑا دوڑا استحضرتُ الفرس میں نے گھوڑے کو سرپٹ دوڑایا ۔ حاضرتہ محاضرۃ وحضارا باہم جھگڑنا ۔ مباحثہ کرنا ۔ یہ یا تو حضور سے ہے گویا ہر فریق اپنی دلیل حاضر کرتا ہے اور یا حضر سے ہے جس کے معنی تیز دوڑ کے ہوتے ہیں جیسا کہ ۔۔۔۔۔۔ جاریتہ کہا جاتا ہے ۔ الحضیرۃ ُ لوگوں کی جماعت جو جنگ میں حاضر کی جائے اور کبھی اس سے پانی پر حاضر ہونے والے لوگ بھی مراہ لئے جاتے ہیں ۔ المحضرُ ( اسم مکان ) حاضر ہونے کی جگہ اور حضرت ُ ( فعل ) کا مصدر بھی بن سکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں وہ ہمارے عذاب سے بچ نہیں سکتے ایسے لوگوں کو جہنم میں عذاب ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨ { وَالَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِکَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ } ” اور وہ لوگ جو کوشش کر رہے ہیں ہماری آیات کو ناکام کرنے کی وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔ “ آیاتِ الٰہی کے نزول کا مقصد تو ایمان کی روشنی کو پھیلانا اور لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانا ہے۔ چناچہ جو لوگ اس عمل کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:38) یسعون۔ مضارع جمع مذکرغائب سعی (باب فتح) مصدر۔ کوشش کرتے ہیں۔ دوڑتے پھرتے ہیں۔ فی ایتنا۔ ای فی ابطالھا۔ یعنی ہماری آیات کی تکذیب میں۔ معجزین۔ اسم فاعل جمع مذکر معاجز واحد معاجزۃ (مفاعلۃ) مصدر مقابلہ کر کے اپنے حریف کو ہرا دینا۔ عاجز کردینا۔ عجز کے معنی پیچھے ہوجانا۔ پیچھے رہ جانا۔ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانا یہ القدرۃ کی ضد ہے۔ معاجزین۔ ہرانے والے۔ عاجز کردینے والے۔ معجزیناگرچہ باب مفاعلہ سے ہے جس میں اشتراک ایک اہم خاصیت ہے۔ لیکن یہاں باب مفاعلہ کے یہ معنی مقصود نہیں۔ اس باب کی ایک اور خاصیت موافقت فعل ہے۔ لہٰذا عاجز یعاجز بمعنی عجز یعجز ہے۔ معجزین بمعنی معجزین ہرا دینے والے ہوگا۔ اس میں مقابلہ کے عنصر کا ہونا ضروری نہیں۔ اب منکرین حشر کا خیال تھا کہ قیامت نہیں آئے گی۔ نہ حشر ہوگا نہ نشر۔ نہ عذاب نہ ثواب اور اپنے زعم میں اپنے استدلال کی روشنی میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سچے ہیں اور یہ سب کچھ نہ ہوگا (لیکن ہوگا یہ سب کچھ۔ ان چیزوں کو لانے سے وہ اللہ کو روک نہیں سکتے۔ یسعون فی ایتنا معجزین۔ وہ ہماری آیات کی تکذیب میں کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمیں ہرا دیں یا حشر ونشر، عذاب و ثواب کو وقوع میں لانے سے ہمیں عاجز کردیں۔ نیز ملاحظہ ہو (34:5) ۔ محضرون۔ اسم مفعول جمع مذکر محضر واحد ۔ وہ لوگ جن کو حاضر کیا جائے گا۔ اولئک میں اشارہ ہے الذین یسعون ۔۔ الخ کی طرف۔ یعنی جو لوگ ہماری آیات کی تکذیب میں کو شاں ہیں تاکہ ہمیں ہرا دیں وہی لوگ عذاب میں لا حاضر کئے جاویں گے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی کبھی طعن کرتے ہیں اور کبھی ان میں عیب نکالتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اوپر بسط و قدر رزق کے تعلق بالمشیة پر کفار کے بطلان زعم کو متفرع فرمایا تھا، آگے اسی پر مومنین کی ایک اصلاح کو متفرع فرماتے ہیں، جس کا حاصل یہ ہے کہ جب مال کی کمی بیشی محض مشیت پر ہے، تو مومن کو چاہئے کہ اس کے ساتھ قلب کو زیادہ متعلق نہ کرے اور کفار کی طرح اس کو مقصود نہ سمجھے، بلکہ اس کو آلہ حصول رضا و قرب الہی کا جو اصل مقصود ہے بنادے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جو مومن بندے ہوں گے اور ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ میں بھی لگے ہوں گے، ان کے ایمان اور اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں بڑھ چڑھ کر بدلہ دیا جائے گا جس میں نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ہوگا اور یہ حضرات جنت کے بالا خانوں میں امن و چین کے ساتھ رہیں گے۔ آگے مخالفین کی سزا کا تذکرہ ہے (وَالَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا) (الایۃ) اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں یعنی ہماری آیتوں میں طعن کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انکار کرکے کہیں دور نکل جائیں گے اور (العیاذ باللہ) اللہ کو ہرا دیں گے اور اس کی قدرت اور گرفت سے باہر ہوجائیں گے، یہ لوگ عذاب میں حاضر کردئیے جائیں گے، یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر تکذیب بھی کرتے تھے، ان کا مذاق بھی اڑاتے تھے۔ اور طعن وتشنیع بھی کرتے تھے اور یوں سمجھتے تھے کہ ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا، انہیں واضح طور پر بتادیا کہ تم پکڑے جاؤ گے اور عذاب میں حاضر کیے جاؤ گے، بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

40:۔ والذین یسعون الخ : یہ کافروں کے لیے تخویف اخروی ہے جو قرآنی دلائل کے باطل کرنے کے زعم باطل میں آیتوں پر محض عناداً طعن وتشنیع کرتے ہیں اور اپنے خیال میں سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے سبقت لے جائیں گے۔ ایسے معاندین کو عذاب جہنم میں مبتلا کیا جائے گا۔ معٰجزین : ہرانے کی غرض سے مقابلہ کرنے والے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(38) اور جو لوگ ہمارے ہرانے اور عاجز کرنے کو ہماری آیتوں کے خلاف کوشش کرتے اور دوڑے دوڑے پھرتے ہیں تو وہ لوگ گرفتار کرکے عذاب میں لائے جائیں گے۔ یعنی ہماری آیتوں کیخلاف ان آیات کو باطل ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم کو یا ہمارے پیغمبر کو عاجز کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے یہ وعید فرمائی۔ آگے پھر رزق کی کشادگی اور تنگی کا ذکر فرماتے ہیں شاید اس میں مسلمانوں کو سمجھانا ہے جیسا کہ وماانفقتم سے سمجھ میں آتا ہے اور اس توجیہ سے تکرار کا شبہ بھی مندفع ہوجاتا ہے۔