Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 15

سورة فاطر

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ اللّٰہُ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۱۵﴾

O mankind, you are those in need of Allah , while Allah is the Free of need, the Praiseworthy.

اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Mankind is in need of Allah, and each Person will carry His own Burdens on the Day of Resurrection Allah tells us that He has no need of anyone or anything else, but all of creation is in need of Him and is in a position of humility before Him. He says: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللَّهِ ... O mankind! it is you who stand in need of Allah. meaning, they need Him in all that they do, but He has no need of them at all. Allah says: ... وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ But Alla0h is the Rich, Worthy of all praise. meaning, He is unique in His being Free of all needs, and has no partner or associate, and He is Worthy of all praise in all that He does, says, decrees and legislates. إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ

اللہ قادر مطلق ۔ اللہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور تمام مخلوق اس کی محتاج ہے ۔ وہ غنی ہے اور سب فقیر ہیں ۔ وہ بےپرواہ ہے اور سب اس کے حاجت مند ہیں ۔ اس کے سامنے ہر کوئی ذلیل ہے اور وہ عزیز ہے کسی قسم کی حرکت و سکون پر کوئی قادر نہیں سانس تک لینا کسی کے بس میں نہیں ۔ مخلوق بالکل ہی بےبس ہے ۔ غنی بےپرواہ اور بےنیاز صرف اللہ ہی ہے تمام باتوں پر قادر وہی ہے ۔ وہ جو کرتا ہے اس میں قابل تعریف ہے ۔ اس کا کوئی کام حکمت و تعریف سے خالی نہیں ۔ اپنے قول میں اپنے فعل میں اپنی شرع میں تقدیروں کے مقرر کرنے میں غرض ہر طرح سے وہ بزرگ اور لائق حمد و ثناء ہے ۔ لوگو اللہ کی قدرت ہے اگر وہ چاہے تو تم سب کو غارت و برباد کر دے اور تمہارے عوض دوسرے لوگوں کو لائے ، رب پر یہ کام کچھ مشکل نہیں ، قیامت کے دن کوئی دوسرے کے گناہ اپنے اوپر نہ لے گا ۔ اگر کوئی گنہگار اپنے بعض یا سب گناہ دوسرے پر لادنا چاہے تو یہ چاہت بھی اس کی پوری نہ ہو گی ۔ کوئی نہ ملے گا کہ اس کا بوجھ بٹائے عزیز و اقارب بھی منہ موڑ لیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے ۔ گو ماں باپ اور اولاد ہو ۔ ہر شخص اپنے حال میں مشغول ہو گا ۔ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہو گی ۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں پڑوسی پڑوسی کے پیچھے پڑ جائے گا اللہ سے عرض کرے گا کہ اس سے پوچھ تو سہی کہ اس نے مجھ سے اپنا دروازہ کیوں بند کر لیا تھا ؟ کافر مومن کے پیچھے لگ جائے گا اور جو احسان اس نے دنیا میں کئے تھے وہ یاد دلا کر کہے گا کہ آج میں تیرا محتاج ہوں مومن بھی اس کی سفارش کرے گا اور ہو سکتا ہے کہ اس کا عذاب قدرے کم ہو جائے گو جہنم سے چھٹکارا محال ہے ۔ باپ اپنے بیٹے کو اپنے احسان جتائے گا اور کہے گا کہ رائی کے ایک دانے برابر مجھے آج اپنی نیکیوں میں سے دے دے وہ کہے گا ابا آپ چیز تو تھوڑی سی طلب فرما رہے ہیں لیکن آج تو جو کھٹکا آپ کو ہے وہی مجھے بھی ہے میں تو کچھ بھی نہیں دے سکتا ۔ پھر بیوی کے پاس جائے گا اس سے کہے گا میں نے تیرے ساتھ دنیا میں کیسے سلوک کئے ہیں؟ وہ کہے گی بہت ہی اچھے یہ کہے گا آج میں تیرا محتاج ہوں مجھے ایک نیکی دے دے تاکہ عذابوں سے چھوٹ جاؤں جواب ملے گا کہ سوال تو بہت ہلکا ہے لیکن جس خوف میں تم ہو وہی ڈر مجھے بھی لگا ہوا ہے میں تو کچھ بھی سلوک آج نہیں کر سکتی ۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے ( يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ ۡ وَلَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَـيْـــــًٔا ۭ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۪ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ 33؀ ) 31- لقمان:33 ) یعنی آج نہ باپ بیٹے کے کام آئے نہ بیٹا باپ کے کام آئے اور فرمان ہے ( يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ 34؀ۙ ) 80-عبس:34 ) آج انسان اپنے بھائی سے ، ماں سے ، باپ سے ، بیوی سے اور اولاد سے بھاگتا پھرے گا ۔ ہر شخص اپنے حال میں سمت و بےخود ہو گا ۔ ہر ایک دوسرے سے غافل ہو گا ، تیرے وعظ و نصیحت سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو عقل مند اور صاحب فراست ہوں جو اپنے رب سے قدم قدم پر خوف کرنے والے اور اطاعت اللہ کرتے ہوئے نمازوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرنے والے ہیں ۔ نیک اعمال خود تم ہی کو نفع دیں گے جو پاکیزگیاں تم کرو ان کا نفع تم ہی کو پہنچے گا ۔ آخر اللہ کے پاس جانا ہے ، اس کے سامنے پیش ہونا ہے ، حساب کتاب اس کے سامنے ہونا ہے ، اعمال کا بدلہ وہ خود دینے والا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

15۔ 1 ناس کا لفظ عام ہے جس میں عوام وخاص حتی کہ انبیاء وصلحا سب آجاتے ہیں اللہ کے در کے سب ہی محتاج ہیں لیکن اللہ کسی کا محتاج نہیں۔ 15۔ 2 وہ اتنا بےنیاز ہے کہ اگر سب لوگ اس کے مخالف ہوجائیں اس سے اس کی سلطنت میں کوئی کمی اور سب اس کے اطاعت گزار بن جائیں، تو اس سے اس کی قوت میں زیادتی نہ ہوگی بلکہ نافرمانی میں لوگوں کا اپنا ہی نقصان ہے۔ اور عبادت واطاعت میں اپنا ہی فائدہ ہے۔ 15۔ 3 یعنی محمود ہے اپنی نعمتوں کی وجہ سے۔ پس ہر نعمت، جو اس نے بندوں پر کی ہے، اس پر وہ حمد و شکر کا مستحق ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢٣] یہ خطاب تمام جہان کے انسانوں سے ہے کہ تم اپنی صحت کے لئے، اپنے رزق کے لئے، اپنی زندگی کی بقاء غرض ایک ایک چیز کے لئے اللہ کے محتاج ہو تمہارے رزق اور بقائے حیات کے لئے اللہ تعالیٰ نے جن جن اشیائے کائنات کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو ہٹالے تو تم زندہ بھی نہیں رہ سکتے۔ دوسری ضرورتوں کی احتیاج بعد کی چیز ہے اور اللہ کی شان یہ ہے کہ اسے کسی انسان بلکہ کائنات کی کسی بھی چیز کی احتیاج نہیں۔ وہ بذات خود ازل سے لے کر ابد تک قائم و دائم ہے۔ اور کوئی اس کی حمد و ثنا نہ بھی کرے تو بھی وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ ۔۔ : خبر ” الْفُقَرَاۗءُ “ پر الف لام آنے سے حصر اور تاکید کا معنی پیدا ہوگیا کہ لوگو ! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو۔ اسی طرح ” وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ “ میں ضمیر فصل ” هُوَ “ اور خبر ” الْغَنِيُّ “ پر الف لام سے حصر کا معنی پیدا ہوا کہ صرف اللہ ہی ہے جو سب سے بےپروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔ یہ بیان کرنے کے بعد کہ آسمان و زمین کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا جنھیں پکارا جاتا ہے وہ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں، حتیٰ کہ وہ ایک قطمیر (کھجور کی گٹھلی پر باریک چھلکا) کے مالک بھی نہیں۔ اب پچھلے سارے بیان کے خلاصے اور نتیجے کے طور پر فرمایا، لوگو ! تم ہی اللہ تعالیٰ کے ہر طرح سے محتاج ہو، اپنے وجود میں، اپنی بقا اور اپنی ہر ضرورت کے لیے، لہٰذا اسی سے مانگو اور اسی کی عبادت کرو۔ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ : یعنی دوسرے سب محتاج ہیں، ایک اللہ تعالیٰ ہے جو غنی ہے، کسی کا محتاج نہیں۔ غنی کے ساتھ حمید اس لیے فرمایا کہ غنی ایسا بھی ہوسکتا ہے جو کسی کا محتاج تو نہ ہو مگر نہ اس میں کوئی خوبی ہو نہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچاتا ہو۔ فرمایا، اللہ ایسا غنی ہے کہ وہ تمام کمالات اور خوبیوں کا مالک ہے، تمہیں اور تمام مخلوق کو حاصل ہر نعمت اسی کی عطا کردہ ہے، اس لیے وہی تمام تعریفوں اور تمام شکر کا مستحق ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اے لوگو تم (ہی) خدا کے محتاج ہو اور اللہ (تو) بےنیاز (اور خود تمام) خوبیوں والا ہے (پس تمہاری احتیاج دیکھ کر تمہارے لئے توحید وغیرہ کی تعلیم کی گئی ہے، اگر تم نہیں مانو گے تو تم اپنا ضرر کرو گے۔ باقی حق تعالیٰ کو تو بوجہ غنائے ذاتی و کمال ذاتی کے تمہاری یا تمہارے عمل کی کوئی حاجت ہی نہیں کہ اس کے ضرر کا احتمال ہو اور کفر یہ جو ضرر ہونے والا ہے خدا تعالیٰ اس کے فی الحال ایقاع پر بھی قادر ہے چنانچہ) اگر وہ چاہے تو (تمہارے کفر کی سزا میں) تم کو فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق پیدا کر دے (جو تمہاری طرح کفر و انکار نہ کریں) اور یہ بات خدا کو کچھ مشکل نہیں (لیکن بمصلحت مہلت دے رکھی ہے۔ غرض یہاں تو وہ ضرر محض محتمل الوقوع ہے، لیکن قیامت میں وہ ضرور واقع ہوجائے گا) اور (اس وقت یہ حالت ہوگی کہ) کوئی دوسرے کا بوجھ (گناہ کا) نہ اٹھاوے گا اور (خود تو کوئی کسی کی کیا رعایت کرتا یہ حالت ہوگی کہ) اگر کوئی بوجھ کا لدا ہوا (یعنی کوئی گنہگار) کسی کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے گا (بھی) تب بھی اس میں سے کچھ بھی بوجھ نہ ہٹایا جائے گا، اگرچہ وہ شخص (جس کو اس نے بلایا تھا اس کا) قرابت دار ہی (کیوں نہ) ہو (پس اس وقت پورا ضرر اس کفر و بدعملی کا خود ہی بھگتنا پڑے گا، یہ تو تحزیر منکرین کی ہوگئی۔ آگے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تسلیہ ہے، کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کے انکار پر جس کی سزا یہ ایک دن ضرور بھگتیں گے اس قدر غم و افسوس کیوں کرتے ہیں) آپ تو (ایسا ڈرانا جس پر نفع مرتب ہو) صرف ایسے لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں (مراد اس الذین سے مومنین ہیں، یعنی آپ کے انداز سے صرف مومنین منتفع ہوتے ہیں فی الحال ہوں یا باعتبار آئندہ کے اور امر مشترک دونوں میں طلب حق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ طالب حق کو نفع ہوا کرتا ہے یہ لوگ طالب حق ہیں ہی نہیں، ان سے امید نہ رکھئے) اور (آپ ان کے ایمان نہ لانے سے اس قدر فکر کیوں کرتے ہیں) جو شخص (ایمان لا کر شرک و کفر سے) پاک ہوتا ہے وہ اپنے (نفع) کے لئے پاک ہوتا ہے اور (جو نہیں ایمان لاتا وہاں بھگتے گا، کیونکہ سب کو) اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے (پس نفع ہے تو ان کا آپ کیوں غم کرتے ہیں) اور ( ان لوگوں سے کیا توقع رکھی جائے کہ ان کا علم و ادراک مثل ادراک مؤمنین کے ہو، اور مؤمنین کی طرح یہ بھی حق کو قبول کرلیں اور قبول حق کے ثمرات دینی میں بھی یہ لوگ شریک ہوجائیں، کیونکہ مؤمنین کی مثال حق بینی میں بین آدمی کی سی اور ان کی مثال عدم ادراک حق میں اندھے آدمی کی سی ہے اور اس طرح مومن نے ادراک کے ذریعہ سے جس طریق ہدایت کو اختیار کیا ہے اس طریقہ حق کی مثال نور کی سی ہے اور کافر نے عدم ادراک حق سے جس طریقہ کو اختیار کیا ہے اس کی مثال ظلمت کی سی ہے کما قال تعالیٰ (آیت) وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منھا اور اسی طرح جو ثمرہ جنت وغیرہ اس طریق پر مرتب ہوگا اس کی مثال ظل بار کی سی ہے اور جو ثمرہ جہنم وغیرہ طریق باطل پر مرتب ہوگا، اس کی مثال جلتی دھوپ کی سی ہے، کماقال تعالیٰ (آیت) ظلم ممدو دالی قولہ فی مسموم اور ظاہر ہے کہ) اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں اور نہ تاریکی اور روشنی اور چھاؤں اور دھوپ (پس نہ ان کا اور مومنین کا علم و ادراک برابر ہوگا اور نہ ان کا طریقہ اور نہ اس طریقہ کا ثمرہ اور (مومن اور کافر میں جو تفاوت بینا و نابینا کا سا کہا گیا ہے تو اس سے مقصود نفی کمی کی ہے نہ کہ زیادتی کی۔ کیونکہ ان میں تفاوت مردہ اور زندہ کا سا ہے، پس ان کی برابری کی نفی کے لئے یوں بھی کہنا صحیح ہے کہ) زندے اور مردے برابر نہیں ہو سکتے (اور جب یہ مردے ہیں تو مردوں کو زندہ کرنا تو خدا کی قدرت میں ہے بندہ کی قدرت میں نہیں۔ پس اگر خدا ہی نے ان کو ہدایت کردی تب تو اور بات ہے، کیونکہ) اللہ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے (باقی آپ کی کوشش سے یہ لوگ حق کو قبول نہیں کریں گے، کیونکہ ان کی مثال تو مردوں کی آپ نے سن لی اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں (مدفون) ہیں۔ (لیکن اگر یہ نہ مانیں تو آپ غم میں نہ پڑیئے کیونکہ) آپ تو (کافروں کے حق میں) صرف ڈرانے والے ہیں (آپ کے ذمہ یہ نہیں کہ وہ کافر ڈر کر مان بھی جائیں اور یہ ڈرانا آپ کا اپنی طرف سے نہیں جیسا منکرین نبوت کہتے تھے بلکہ ہماری طرف سے ہے کیونکہ) ہم ہی نے آپ کو (دین) حق دے کر (مسلمانوں کو) خوشخبری سنانے والا اور (کافروں کو) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے اور (یہ بھیجنا کوئی انوکھی بات نہیں جیسا کافر کہتے تھے بلکہ) کوئی ایسی امت نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے والا (یعنی پیغمبر نہ گذرا ہو اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا دیں تو (آپ ان گزشتہ پیغمبروں کا جن کا ابھی اجمالاً ذکر ہوا ہے اور تفصیلاً دوسری آیات میں ذکر ہے کافروں کے ساتھ معاملہ یاد کر کے اپنے دل کو سمجھا لیجئے کیونکہ) جو لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ہیں انہوں نے بھی (اپنے وقت کے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا (اور) ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر معجزے اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آئے تھے، (یعنی بعضے صحائف اور بعضی بڑی کتابیں اور بعضے صرف معجزات تصدیق نبوت کے لئے اور احکام انبیاء سابقین لے کر آئے) پھر (جب انہوں نے جھٹلایا تو) میں نے ان کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھو) میرا کیسا عذاب ہوا (اسی طرح ان کے قوت پر ان کو سزا دوں گا۔ )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللہِ۝ ٠ ۚ وَاللہُ ہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ۝ ١٥ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ فقر الفَقْرُ يستعمل علی أربعة أوجه : الأوّل : وجود الحاجة الضّرورية، وذلک عامّ للإنسان ما دام في دار الدّنيا بل عامّ للموجودات کلّها، وعلی هذا قوله تعالی: يا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ [ فاطر/ 15] ، وإلى هذا الفَقْرِ أشار بقوله في وصف الإنسان : وَما جَعَلْناهُمْ جَسَداً لا يَأْكُلُونَ الطَّعامَ [ الأنبیاء/ 8] . والثاني : عدم المقتنیات، وهو المذکور في قوله : لِلْفُقَراءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا [ البقرة/ 273] ، إلى قوله : مِنَ التَّعَفُّفِ [ البقرة/ 273] ، إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النور/ 32] . وقوله : إِنَّمَا الصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِ وَالْمَساكِينِ [ التوبة/ 60] . الثالث : فَقْرُ النّفس، وهو الشّره المعنيّ بقوله عليه الصلاة والسلام : «كاد الفَقْرُ أن يكون کفرا» «1» وهو المقابل بقوله : «الغنی غنی النّفس» «1» والمعنيّ بقولهم : من عدم القناعة لم يفده المال غنی. الرابع : الفَقْرُ إلى اللہ المشار إليه بقوله عليه الصلاة والسلام : ( اللهمّ أغنني بِالافْتِقَارِ إليك، ولا تُفْقِرْنِي بالاستغناء عنك) «2» ، وإيّاه عني بقوله تعالی: رَبِّ إِنِّي لِما أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ [ القصص/ 24] ، وبهذا ألمّ الشاعر فقال : 354- ويعجبني فقري إليك ولم يكن ... ليعجبني لولا محبّتک الفقر ويقال : افْتَقَرَ فهو مُفْتَقِرٌ وفَقِيرٌ ، ولا يكاد يقال : فَقَرَ ، وإن کان القیاس يقتضيه . وأصل الفَقِيرِ : هو المکسورُ الْفِقَارِ ، يقال : فَقَرَتْهُ فَاقِرَةٌ ، أي داهية تکسر الفِقَارَ ، وأَفْقَرَكَ الصّيدُ فارمه، أي : أمكنک من فِقَارِهِ ، وقیل : هو من الْفُقْرَةِ أي : الحفرة، ومنه قيل لكلّ حفیرة يجتمع فيها الماء : فَقِيرٌ ، وفَقَّرْتُ للفسیل : حفرت له حفیرة غرسته فيها، قال الشاعر : ما ليلة الفقیر إلّا شيطان فقیل : هو اسم بئر، وفَقَرْتُ الخَرَزَ : ثقبته، وأَفْقَرْتُ البعیر : ثقبت خطمه . ( ف ق ر ) الفقر کا لفظ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ زندگی کی بنیادی ضروریات کا نہ پایا جانا اس اعتبار سے انسان کیا کائنات کی ہر شے فقیر و محتاج ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا يا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ [ فاطر/ 15] لوگو ! تم سب خدا کے محتاج ہو ۔ اور الانسان میں اسی قسم کے احتیاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : وَما جَعَلْناهُمْ جَسَداً لا يَأْكُلُونَ الطَّعامَ [ الأنبیاء/ 8] اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں ۔ ضروریات زندگی کا کما حقہ پورا نہ ہونا چناچہ اس معنی میں فرمایا : لِلْفُقَراءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا [ البقرة/ 273] ، إلى قوله : مِنَ التَّعَفُّفِ [ البقرة/ 273] تو ان حاجت مندوں کے لئے جو خدا کے راہ میں رے بیٹھے ہیں ۔إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النور/ 32] اگر وہ مفلس ہونگے تو خدا ان گو اپنے فضل سے خوشحال کردے گا ۔ إِنَّمَا الصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِ وَالْمَساكِينِ [ التوبة/ 60] صدقات ( یعنی زکوۃ و خیرات ) تو مفلسوں اور محتاجوں ۔۔۔ کا حق ہے ۔ فقرالنفس : یعنی مال کی ہوس۔ چناچہ فقر کے اس معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت نے فرمایا : کا دالفقر ان یکون کفرا ۔ کچھ تعجب نہیں کہ فقر کفر کی حد تک پہنچادے اس کے بلمقابل غنی کے معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا الغنیٰ عنی النفس کو غنا تو نفس کی بےنیازی کا نام ہے ۔ اور اسی معنی میں حکماء نے کہا ہے ۔ من عدم القناعۃ لم یفدہ المال غنی جو شخص قیامت کی دولت سے محروم ہوا سے مالداری کچھ فائدہ نہیں دیتی ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف احتیاج جس کی طرف آنحضرت نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (73) اللھم اغننی بالافتقار الیک ولا تفتونی بالاستغناء عنک ( اے اللہ مجھے اپنا محتاج بناکر غنی کر اور اپنی ذات سے بےنیاز کرکے فقیر نہ بنا ) اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : رَبِّ إِنِّي لِما أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ [ القصص/ 24] کہ پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے (342) ویعجبنی فقری الیک ولم یکن لیعجبنی لولا محبتک الفقر مجھے تمہارا محتاج رہنا اچھا لگتا ہے اگر تمہاری محبت نہ ہوتی تو یہ بھلا معلوم نہ ہوتا ) اور اس معنی میں افتقر فھو منتقر و فقیر استعمال ہوتا ہے اور فقر کا لفظ ) اگر چہ قیاس کے مطابق ہے لیکن لغت میں مستعمل نہیں ہوتا ۔ الفقیر دراصل اس شخص کو کہتے ہیں جس کی ریڑھ ہڈی ٹوٹی ہوئی ہو چناچہ محاورہ ہے ۔ فقرتہ فاقرہ : یعنی مصیبت نے اس کی کمر توڑدی افقرک الصید فارمہ : یعنیشکار نے تجھے اپنی کمر پر قدرت دی ہے لہذا تیر ماریئے بعض نے کہا ہے کہ یہ افقر سے ہے جس کے معنی حفرۃ یعنی گڑھے کے ہیں اور اسی سے فقیر ہر اس گڑھے کو کہتے ہیں جس میں بارش کا پانی جمع ہوجاتا ہے ۔ فقرت اللفسیل : میں نے پودا لگانے کے لئے گڑھا کھودا شاعر نے کہا ہے ( الرجز) (343) مالیلۃ الفقیر الاالشیطان کہ فقیر میں رات بھی شیطان کی مثل ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں الفقیر ایک کنویں کا نام ہے۔ فقرت الخرز : میں نے منکوں میں سوراخ کیا ۔ افقرت البیعر اونٹ کی ناک چھید کر اس میں مہار ڈالنا ۔ غنی الغِنَى يقال علی ضروب : أحدها : عدم الحاجات، ولیس ذلک إلا لله تعالی، وهو المذکور في قوله : إِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ [ الحج/ 64] ، الثاني : قلّة الحاجات، وهو المشار إليه بقوله : وَوَجَدَكَ عائِلًا فَأَغْنى[ الضحی/ 8] ، وذلک هو المذکور في قوله عليه السلام : «الغِنَى غِنَى النّفس» والثالث : كثرة القنيّات بحسب ضروب الناس کقوله : وَمَنْ كانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ [ النساء/ 6] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ ( تو نگری ) بےنیازی یہ کئی قسم پر ہے کلی طور پر بےنیاز ہوجانا اس قسم کی غناء سوائے اللہ کے کسی کو حاصل نہیں ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ [ الحج/ 64] اور بیشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے ۔ 2 قدرے محتاج ہونا اور یا تیسر پر قانع رہنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَوَجَدَكَ عائِلًا فَأَغْنى[ الضحی/ 8] اور تنگ دست پا یا تو غنی کردیا ۔ میں اغنیٰ سے اس قسم کی غنا مراد ہے اور اس قسم کی غنا ( یعنی قناعت ) کے متعلق آنحضرت نے فرمایا ( 26 ) الغنٰی غنی النفس ۔ کہ غنی درحقیقت قناعت نفس کا نام اور غنیٰ کے تیسرے معنی کثرت ذخائر کے ہیں اور لوگوں کی ضروریات کئے لحاظ سے اس کے مختلف درجات ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَمَنْ كانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ [ النساء/ 6] جو شخص آسودہ حال ہو اس کو ایسے مال سے قطعی طور پر پرہیز رکھنا چاہئے ۔ حمید إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، ( ح م د ) حمید اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے لوگو تم ہی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور اس کے رزق اور سلامتی کے اور آخرت میں اس کی جنت کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ تو تمہارے مال و دولت سے بےنیاز اور خوبیوں والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥ { یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِج وَاللّٰہُ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ } ” اے لوگو ! تم سب اللہ کے محتاج ہو ‘ اور اللہ تو الغنی اور الحمید ہے۔ “ تمہاری بیشمار احتیاجات ہیں جو اللہ تعالیٰ پوری کرتا ہے ‘ لیکن وہ خود بےنیاز ہے ‘ اس کی کوئی حاجت نہیں جو تمہیں پوری کرنا ہو۔ اور وہ ستودہ صفات ہے ‘ اپنی ذات میں خود محمود ہے ‘ کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے ‘ مگر حمد (شکر و تعریف) کا استحقاق اسی کو پہنچتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

36 That is, "You should not remain under the delusion that Allah stands in need of your help. If you do not accept Him as God, His Godhead will fail, and if you do not serve and worship Him, He will incur some loss. Nay, but the fact is that you stand in need of Him. You cannot remain alive for a moment if He dces not keep you alive, and does not provide you with the means by which you remain alive in the world and function. Therefore, when you are told to adopt His service and obedience, it is not because Allah stands in need of it, but because upon it depends your own success here as well as in the Hereafter. If you do not do so, you will be harming your own selves only, and not AIlah in any way." 37 The word Ghani unplies that He is the Owner of everything: He is Self-Sufficient and Independent of All: He does not stand in need of anyone's help. The word Hamid implies that He is Self-Praiseworthy: someone may praise Him, or may not, but He alone is worthy of hamd (praise and gratitude). These two attributes have been used together because one would be ghani even if one did not do any good to anyone by one's wealth. In such a case one would be ghani but not hamid One will be hamid only in case one dces not draw any benefit for oneself but benefits others in every way from the treasures of one's wealth and resources. Since Allah is perfect in these two attributes, it has been said: "He is not just Ghani (self-sufficient) but such Ghani as is worthy of every kind of praise and gratitude, for He is fulfilling your needs as well as the needs of all other creatures. "

سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :36 یعنی اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ خدا تمہارا محتاج ہے ، تم اسے خدا نہ مانو گے تو اس کی خدائی نہ چلے گی ، اور تم اس کی بندگی و عبادت نہ کرو گے تو اس کا کوئی نقصان ہو جائے گا ۔ نہیں ، اصل حقیقت یہ ہے کہ تم اس کے محتاج ہو ۔ تمہاری زندگی ایک لمحہ کے لیے بھی قائم نہیں رہ سکتی اگر وہ تمہیں زندہ نہ رکھے اور وہ اسباب تمہارے لیے فراہم نہ کرے جن کی بدولت تم دنیا میں زندہ رہتے ہو اور کام کر سکتے ہو ۔ لہٰذا تمہیں اس کی اطاعت و عبادت اختیار کرنے کی جو تاکید کی جاتی ہے وہ اس لیے نہیں ہے کہ خدا کو اس کی احتیاج ہے بلکہ اس لیے ہے کہ اسی پر تمہاری اپنی دنیا اور آخرت کی فلاح کا انحصار ہے ۔ ایسا نہ کرو گے تو اپنا ہی سب کچھ بگاڑ لو گے ، خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے ۔ سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :37 غنی سے مراد یہ ہے کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے ، ہر ایک سے مستغنی اور بے نیاز ہے ، کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے ۔ اور حمید سے مراد یہ ہے کہ وہ آپ سے آپ محمود ہے ، کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے مگر حمد ( شکر اور تعریف ) کا استحقاق اسی کو پہنچتا ہے ۔ ان دونوں صفات کو ایک ساتھ اس لیے لایا گیا ہے کہ محض غنی تو وہ بھی ہو سکتا ہے جو اپنی دولت مندی سے کسی کو نفع نہ پہنچائے ۔ اس صورت میں وہ غنی تو ہوگا مگر حمید نہ ہوگا ۔ حمید وہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ وہ کسی سے خود تو کوئی فائدہ نہ اٹھائے مگر اپنی دولت کے خزانوں سے دوسروں کو ہر طرح کی نعمتیں عطا کرے ۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ان دونوں صفات میں کامل ہے اس لیے فرمایا گیا ہے کہ وہ محض غنی نہیں ہے بلکہ ایسا غنی ہے جسے ہر تعریف اور شکر کا استحقاق پہنچتا ہے کیونکہ وہ تمہاری اور تمام موجودات عالم کی حاجتیں پوری کر رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: یعنی اللہ تعالیٰ دوسروں کی عبادت اور ان کے تعریف کرنے سے بالکل بے نیاز ہے، کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے، وہ بذات خود قابل تعریف ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:15) الغنی۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ ال۔ تعریف کا ہے اور عہد کا بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بےنیازی اور موجودات پر عمومی انعام معلوم و معروف ہے۔ الغنی بےنیاز۔ غیر محتاج۔ یہ بھی ذات باری تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں سے ہے ! الحمید۔ جو اپنی ذات میں مخلوق کی حمد کا مستحق ہو۔ حمد سے بروزن فعیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی مفعول۔ یعنی محمود ہے ستودہ۔ تعریف کیا ہوا۔ یہ بھی ذات باری تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی تم ہر لمحہ اور ہر آن اپنے وجود اور بقاء میں اسی کے محتاج ہو اور اس نے باوجود خود ” بےپروا “ ہونے کے تمہارے لئے زندگی کے اسباب فراہم کئے۔ پھر وہ حمید بھی ہے اگر تم ایمان لے آئو گے تو آخرت میں تمہیں اپنی نعمتوں سے نوازے گا۔ ( کبیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 15 تا 26: اسرار و معارف : لوگو تمہارے بس میں تو کچھ بھی نہیں تمہارا سارا سرمایہ صرف احتیاج ہے اپنے وجود اپنی ذات اپنے اوصاف میں تم ہر طرح سے محتاج ہو اور اللہ ایسا بےنیاز نہ اسے تمہاری احتیاج ہے اور نہ ہی کسی اور کی بلکہ وہ ہی ایسا کامل ہے جسے ہر تعریف سزاوار ہے بھلا تم اس کی ناشکری اور کفر کا راستہ اپناتے جو اس قدر بےنیاز اور قادر ہے کہ چاہے تو ایک آن میں تم سب کو تباہ اور نابود کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے کہ یہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں یہ اس کی شان کریمی ہے کہ تمہیں باوجود تمہاری نافرمانیوں کے مہلت دے رکھی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمہیں کوئی پرسش نہ ہوگی بلکہ حساب کا لمحہ ایسا سخت اور ھساب اتنا باریک ہوگا کہ ہر کوئی اپنی مصیبت میں گرفتار اور سب کو بھولے ہوئے ہوگا اور کوئی نافرمان کسی دوسرے نافرمان کا بوجھ نہ بانٹے گا اگرچہ بہت قریبی رشتہ یعنی باپ بھی اگر بیٹے کو پکارے گا کہ میرا بوجھ بانٹ تو وہ ایک ذرہ بھر بانٹنے کو تیار نہ ہوگا۔ تب نافرمانی کے انجام کی خبر ہوگی اور آپ اے میرے حبیب ان کی نافرمانی سے شکست خاطر نہ ہوں کہ آپ کی بات اور آخرت کے خطرات کی خبر کا فائدہ تو ان کو نصیب ہوتا ہے جو اللہ پر غائبانہ ایمان لاتے ہیں اور اس کی بارگاہ سے رضا مندی اور حضوری کے طالب ہیں اور اس کی عبادت پہ کمر بستہ ہوتے ہیں۔ ان کا بھی آپ پر کوئی احسان نہیں بلکہ کوئی جس قدر نیکی اختیار کرتا ہے اور اس میں محنت کرتا ہے اس کا اجر خود پاتا ہے اور اس کی اپنی ذات کو پاکیزگی نصیب ہوتی ہے جو اسے اللہ کی بارگاہ میں سرخرو کرے گی جہاں بالآخر سب کو حاضر ہونا ہے مومن باعتبار ایمان کے بینا ہے اور کفر اندھا پن۔ آپ کا جمال دیکھنے میں بھلا دونوں میں کیا نسبت کہ کافر نری تاریکی اور کفر کی ظلمت میں گھرا ہوا ہے جبکہ مومن نور ایمان سے منور ہو کر خود نور میں ڈھل رہا ہے مومن ٹھنڈی چھاؤں ہے جبکہ کافر تپتی دھوپ بلکہ مومن زندہ ہے کہ اس کا دل زندہ ہے اور کافر دنیا کی زندگی کے ساتھ بھی مردہ ہے کہ اس کا دل مردہ ہے ہاں اللہ چاہے تو اس مردہ دل کو بھی زندہ کردے یہ اس کی قدرت ہے مگر اس نے بھی فیصلہ کردیا کہ اسی کا دل زندہ فرمائے گا جس کے دل میں زندگی کی آرزو پیدا ہوگی اور آپ کا ارشاد مردہ دلوں کو کب سنائی دے گا کہ اسے قبول کریں۔ ایک عرب شاعر کے مصرعہ کا ترجمہ ہے کہ ان کے جسم قبر میں جانے سے پہلے خود قبر بنے ہوئے ہیں یعنی ان میں دل مردہ ہے۔ یہ آیات مومن اور کافر کی مثال زندہ اور مردہ کی مثال ارشاد فرما رہی ہیں اور یہاں بات سماع کی نہیں جس سے سننا مراد ہو بلکہ اسماع کی ہو رہی ہے جس سے ایسا سننا مراد ہوتا ہے جو مفید بھی ہو۔ رہا مسئلہ کہ مردہ زندہ کا کلام سن سکتا ہے یا نہیں وہ الگ ہے۔ آپ کا منصب عالی تو یہ ہے کہ آپ آنے والے وقت میں مرتب ہونے والے اثرات اور نافرمانی پر مرتب ہونے والے خطرات سے یہاں دنیا میں اور اب آگاہ فرما رہے ہیں جو اللہ کی طرف سے بہت بڑا احسان ہے۔ اور بیشک ہم نے آپ کو حق و صداقت کے ساتھ یہ منصب جلیلہ عطا کرکے معبوث فرمایا ہے کہ اپ ایمان اور نیکی پر انعام کی بشارت اور برائی اور کفر پر عذاب سے باخبر کریں اللہ کریم ہے کہ ہر امت اور ہر قوم میں انبیاء معبوث فرماتا رہا ہے آج اگر کوئی آپ کا انکار کرتا ہے تو جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کوئی انوکھی بات نہیں ایسے ہی ان کا انکار بھی نئی بات نہیں بلکہ پہلے انبیاء کو بھی یہ صورت پیش رہی ہے جبکہ ان اقوام کے پاس بھی اللہ کے رسول واضح دلائل ، معجزات ، صحیفے اور روشن کتابیں لے کر مبعوث ہوئے مگر اس انکار کا کوئی نقصان انبیاء کو نہ ہوا خود کفار ہی اپنے کفر کے باعث عذاب الہی کی گرفت میں آگئے اور باعث عبرت بن گئے ، نمونہ بن گئے کہ اللہ کا عذاب کتنا سخت ہوتا ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 26 فقرائ ( محتاج ، ضرورت مند) الغنی ( بےنیاز ، جو کسی کا محتاج نہ ہو) الحمید (جس کی ذات میں ہر طرح کی خوبیاں موجود ہوں) لا تزر (بوجھ نہیں اٹھاتا ہے) مثقلۃ ( لدا ہوا بوجھ) حمل (بوجھ) مسمع ( سنانے والا) خلا (گزر گیا) زبر (صحیفے ، کتابیں) نکیر (عذاب) تشریح : آیت نمبر 15 تا 26 :۔ انسان کی سب سے بڑی بھول اور نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سی ایسے کمزور اور ناقابل اعتبار سہاروں میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ زندگی بھر گمراہی کے اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایسے نادانوں سے فرمایا گیا ہے کہ انسان اور دنیا کی تمام چیزیں اسی ایک اللہ کی محتاج ہیں اس بےنیاز اور تمام تعریفوں کی مستحق ذات نے انسان کو پیدا کر کے اس کے لئے زندگی گزارنے کے اسباب عطاء فرمائے ہیں ۔ اب اگر وہ ان کفار و مشرکین کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹا کر کسی دوسری ایسی مخلوق کو لے آئے جو ہر طرح اس کی اطاعت گزار اور فرماں بردار ہو تو یہ اس کے لئے کوئی مشکل اور دشوار کام نہیں ہے۔ ارشاد ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال و کردار کا خود ذمہ دار ہے اور قیامت کے ہولناک دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا ۔ رشتہ دار ، دوست احباب یہاں تک کہ مشفق و مہر بان ماں باپ بھی اس کو سہارا دینے سے انکار کردیں گے اور ہر ایک اس طرح اپنی فکر میں لگا ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے اور اس طرح وہ اپنی بد عملیوں کے سبب جہنم کے ابدی عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔ اس کے بر خلاف ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والے جنت کی ابدی راحتوں سے ہم کنار ہوں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کو ان کے اعمال کے برے انجام اور عذاب جہنم سے ڈراتے رہیے۔ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں وہی ان باتوں پر غور و فکر کریں گے اور اس پر دھیان دیں گے۔ لہٰذا جو لوگ ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کر کے ظاہری و باطنی پاکیزگی حاصل کریں گے وہی آخرت کے تمام فائدے حاصل کرسکیں گے۔ اور جب وہ اللہ کی طرف لوٹیں گے تو کامیاب و بامراد ہوں گے۔ فرمایا کہ وہ لوگ اتنا بھی غور نہیں کرتے کہ ایک اندھا اور آنکھوں والا ، اندھیرا اور روشنی جھلسا دینے والی گرم ہوا اور درختوں کی ٹھنڈی ہوا اور چھاؤں ، مردہ اور زندگی برابر نہیں ہوتے تو وہ لوگ جو گناہوں بھری زندگی گزار رہے ہیں وہ ان کے برابر اور انجام کے اعتبار سے ایک کیسے ہو سکتے ہیں جو ایمان اور عمل صالح اختیار کر کے زندگی گزار رہے ہیں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان سچائیوں کو سمجھنے کے باوجود اگر لوگوں کے دل مردہ ہوچکے ہیں اور ان پر روحانی موت طاری ہوچکی ہے اور وہ مردوں کی طرح سن نہیں سکتے تو اگرچہ ان کو سنانا یا نہ سنانا برابر ہے مگر آپ کا کام یہ ہے کہ ان کو برے انجام سے ڈراتے رہیے۔ کیونکہ ہم نے آپ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اگر وہ ضد ، ہٹ دھرمی اور جہالت کی وجہ سے آپ کو جھٹلاتے ہیں تو اس میں پریشان اور رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر آئے ہیں ان کو اسی طرح کے حالات سے واسطہ پڑا ہے حالانکہ وہ صحیفے اور روشن کتابیں بھی لائے تھے لیکن کافروں نے ان کا انکار کیا اور اس طرح وہ اپنے برے انجام سے دو چار ہو کر رہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ ہی کی بادشاہی ہے۔ اس کی باشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ طالب اور مطلوب سب کے سب اسی کے در کے فقیر ہیں۔ اے لوگو ! تم تمام کے تمام اپنے رب کی بارگاہ کے فقیر ہو اور اللہ غنی ہے۔ ساری کائنات اسی کی ثناء خواں اور محتاج ہے۔ وہ چاہے تو تمہیں ختم کرکے نئی مخلوق پیدا کردے وہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے اور اسے نافذ کرنے پر قادر ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بڑی بڑی قدرتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ جن کو ” اللہ “ کی خدائی میں شریک سمجھتے ہو وہ تو ایک چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ہی تمہاری دعاؤں کو سننے اور قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب ارشاد فرمایا کہ جن سے تم مانگتے ہو یا جنہیں تم اپنے رب کی ذات اور اختیار ات میں شریک سمجھتے ہو وہ اور تم سب کے سب اپنے رب کے در کے فقیر اور محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے۔ اس کے خزانوں میں نہ کمی واقع ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ اسے نہ کسی کے تعاون کی ضرورت ہے اور نہ ہوگی۔ تمام کی تمام مخلوق اس کے خزانوں سے فیض یاب ہورہی ہے اور اس کی شکر گزار ہے۔ اے انسانو ! اگر تم اس کے شکر گزار نہیں بنتے تو اسے تمہاری نافرمانی اور ناقدری کرنے کی کوئی پروا نہیں۔ کیونکہ وہ ہر ضرورت سے بےنیاز ہے اور اس کی ہر کوئی تعریف کررہا ہے۔ ہاں ! اگر وہ تمہیں ختم کرنے کا فیصلہ کرلے اور تمہاری جگہ کوئی دوسری مخلوق لے آئے تو تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے کیونکہ وہ اپنے فیصلے نافذ کرنے پر کلی طور پر غالب ہے۔ تاریخ کے دریچوں میں جھانک کر دیکھو ! اس نے تم سے پہلے کتنی اقوام کو صفحۂ ہستی سے مٹایا اور ان کی جگہ پر دوسروں کو بسایا۔ مٹنے والوں کو بچانے والا کوئی نہ تھا اور نہ ہی وہ خود اپنے آپ کو بچا سکے۔ ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندو ! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جس کو میں ہدایت سے سرفراز کروں بس تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جس کو میں کھلاؤں پس تم مجھ سے مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو ! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں پہناؤں پس تم مجھ سے پہناوا طلب کرو میں تمہیں پہناؤں گا۔ میرے بندو ! تم رات دن گناہ کرتے ہو ‘ میں تمام گناہوں کو بخش دینے والا ہوں۔ مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ میرے بندو ! تم مجھے نقصان اور نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میرے بندو ! تمہارے تمام اگلے پچھلے ‘ جن وانس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے جن وانس بدترین فاسق وفاجر انسان کی طرح ہوجائیں تو یہ میری حکومت میں کوئی کمزوری پیدا نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے ‘ جن وانس سب کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں پھر وہ مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر کسی کی منہ مانگی مرادیں پوری کر دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے کمی واقع ہوتی ہے۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے تمام لوگ اس کے محتاج اور فقیر ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے تعریف کے لائق ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے نافذ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے کتنی اقوام کو نیست و نابود کیا : ١۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں کو انکے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر کے دوسری قوم کو پیدا فرمایا۔ (الانعام : ٦) ٢۔ آل فرعون نے ” اللہ “ کی آیات کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کیوجہ سے ہلاک کردیا۔ (الانفال : ٥٤) ٣۔ بستی والوں نے جب ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کردیا۔ (الکہف : ٥٩) ٤۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : ١٣٩) ٥۔ قوم تُبَّعْ اور ان سے پہلے مجرموں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا۔ (الدخان : ٣٧) ٦۔ قوم عاد کو تند وتیز ہوا کے ساتھ ہلاک کردیا گیا۔ (الحاقۃ : ٦) ٧۔ کیا وہ نہیں جانتے اللہ تعالیٰ نے ان سے بھی بڑے مجرموں کو ہلاک کردیا۔ (القصص : ٧٨) ٨۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی طرف وحی کی کہ ظالموں کو ضرور ہلاک کرے گا۔ (ابراہیم : ١٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 202 ایک نظر میں ایک بار پھر پکارا جاتا ہے کہ لوگو ! ذرا اپنی حقیقت پر غور کرو ، اور اپنے تعلق باللہ کا جائزہ لو ، ایک بار پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ جو لوگ روگردانی کرتے ہیں یہ خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ اس سورة کے دوسرے سبق میں بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسی ہی تسلی دی گئی تھی۔ البتہ یہاں ذرا اس بات کی وضاحت کردی جاتی ہے کہ ہدایت اور ضلالت کی حقیقت اور ماہیت ایک نہیں ہے ، دونوں کے درمیان اس طرح کا فرق و امتیاز ہے جس طرح اندھے اور بینا میں ہوتا ہے۔ جس طرح نور و تاریکی میں ہے ، جس طرح سائے اور کڑکتی دھوپ میں ہے۔ جس طرح موت وحیات میں ہے۔ پھر ہدایت ، بصیرت ، نور ، سائے اور زندگی اپنے اندر بذات خود ایک گہرا ربط اور مشابہت رکھتے ہیں اور اسی طرح اندھا پن ، تاریکی ، گرمی اور موت باہم مربوط اور مماثل ہیں۔ یہ سبق مکذبین کے انجام پر ختم ہوتا ہے۔ درس نمبر 202 تشریح آیات 15 ۔۔۔ تا۔۔۔ 26 یایھا الناس انتم ۔۔۔۔۔ علی اللہ بعزیز (15 – 17) ” “۔ لوگوں کو جب یہ دعوت دی جائے کہ وہ اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آنے کی جدوجہد کریں اور ضلالت کے بدلے ہدایت اختیار کریں تو اس وقت ان کو یہ حقیقت یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ فقراء ہیں اور اللہ کی طرف محتاج ہیں جب کہ اللہ ان کے مقابلے میں پوری طرح غنی ہے اور جب ان کو ایمان ، اللہ کی عبادت اور اللہ کی حمد و ثنا کی دعوت دی جاتی ہے تو اللہ ان کی عبادت اور حمد سے پوری طرح نے نیاز ہے۔ وہ تو بذات خود محمود ہے۔ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ یہ اللہ کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اگر اللہ چاہے تو ان کو ختم کرکے ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے اور ان کو اپنا خلیفہ بنا لے تو یہ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے ہیں اور یہ کام اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو یہ حقیقت یاد دلائی جائے تاکہ ان کے ذہنوں سے یہ غرور نکل جائے کہ اللہ ان کی ہدایت کے لیے رسول بھیجتا ہے اور ان کی ہدایت کا سازوسامان کرتا ہے تو شاید اللہ کو ہماری ہدایت کی کوئی ضرورت ہے۔ اللہ رسول بھیجتا ہے اور وہ پوری انسانی تاریخ میں لوگوں کی ہدایت کے لیے جہدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتے رہے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی کرتا ہے ، ان پر رحمت کرتا اور ان پر فضل و کرم کرتا ہے یوں کہ ان کے پاس اپنے رسول بھیجتا ہے یہ رسول لوگوں کی نافرمانی اور لوگوں کی ایذا رسانی کی وجہ سے مصیبتیں برداشت کرتے ہیں اور ان روگردانیوں اور ایذا رسانیوں کے باوجود وہ دعوت پر جمے رہتے ہیں تو یہ اہتمام کرکے اللہ اپنے بندوں پر محض رحم و کرم کرتے ہیں کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے۔ یہ اس کی ذاتی صفات ہیں ، اس لیے نہیں کہ لوگ اللہ کی حکومت میں پرکاہ کے برابر کوئی کوئی اضافہ کرسکتے ہیں یا اللہ کی حکومت میں ذرے کے برابر کسی چیز کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ نیز اللہ کے مقابلے میں انسان کوئی بڑی طاقتور یا غالب مخلوق نہیں ہے کہ اللہ ان کو بدل نہیں سکتا۔ اس لیے اللہ ان کی غلطیوں کو برداشت کرتا ہے۔ کیا یہ انسان ایک ایسی مخلوق ہیں جن کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ایسی صورت نہیں ہے۔ انسان جب اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کو دیکھتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ ایک طرف یہ انسان ، کمزور ، حقیر اور ناتواں ہے اور اس کے مقابلے میں ذات باری ہے ، جو بہت طاقتور ہے اور اس کی جانب سے انسانوں پر یہ مہربانیاں ہیں۔ انسان تو اس کائنات کے مکینوں میں سے ایک نہایت ہی چھوٹی سی مخلوق ہے اور یہ انسان سورج کے گرد چکر لگانے والے ذرات و کر ات میں سے ایک نہایت ہی چھوٹے سے کرے پر رہتا ہے۔ سورج بھی ان ستاروں میں سے ایک ستارہ ہے اور سورج جیسے ستاروں کی تعداد کا بھی ابھی تک انسان کو علم نہیں ہے۔ یہ دوسرے ستارے تو چھوٹے چھوٹے نکلتے ہیں حالا ن کہ اپنی جگہ نہایت دوریوں میں وہ بہت ہی عظیم الجنۃ ہیں اور یہ عظیم الجنۃ ستارے اس فضا میں حقیر ذروں کی طرح تیرتے پھرتے ہیں۔ یہ اللہ کی مخلوقات کا نہایت ہی مختصر حصہ ہیں۔ اس کے باوجود انسان اللہ کی جانب سے اس قدر عظیم فضل و کرم اور اس کے بیشمار فیوض کا وصول کنندہ ہے۔ اس پر اس قدر مہربانیاں ہیں جو اس کے لئے اس زمین میں رکھ دئیے گئے ہیں۔ اس کے جسم کے اندر ودیعت کر دئیے گئے ہیں اور اس کے لیے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیر مخلوق گمراہ ہوکر اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتی ہے اور اللہ کو اس کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے رسول بھیجنے پڑے۔ ایک کے بعد دوسرا رسول آیا۔ رسولوں پر کتابیں بھیجی گئیں۔ رسولوں کو خوارق عادت معجزات دئیے گئے۔ اور اللہ کا یہ فضل و کرم اس مقام تک پہنچ گیا کہ اللہ نے اپنی آخری کتاب بھیج دی۔ اس میں تمام انبیاء کے قصص بھی ثبت کر دئیے۔ اسلاف کی تاریخ اس میں ثبت کردی۔ پھر انسان کو جو صلاحیتیں دی گئیں اور اس کے اندر جو کمزوریاں رکھ دی گئی تھیں وہ سب اس میں بیان کردی گئیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایک انسان کی مشکلات کا حل بتا دیا اور اس کی مشکلات کو دور کردیا۔ یہ عظیم کرم ایک طرف اور دوسری جانب یہ حقیقت کہ یہ انسان مکان زمین میں سے ایک حقیر اور کمزور مخلوق ہے۔ یہ زمین جس پر وہ رہتا ہے۔ یہ شمسی کہکشاں کا ایک حقیر تابع ستارہ ہے جو اس عظیم اور ہولناک عظیم الجنۃ کائنات کے اندر یوں ہے جسطرح زمین کی فضا میں تیرتا ہوا ایٹم اور اللہ سبحانہ اس پوری کائنات و سماوات کا پیدا کنندہ ہے۔ اس نے اس پوری کائنات اور مافیہا کو صرف ایک کلمہ سے پیدا کیا۔ صرف ارادہ متوجہ ہوا اور کن فیکون سے سب کچھ وجود میں آگیا اور یہ ایسا کرنے پر قدرت رکھتا ہے لوگوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں اور غور کریں کہ اللہ کا فضل و کرم کس قدر ہے اور وہ معلوم کرلیں کہ اگر وہ زندہ رہ رہے ہیں تو محض اللہ کے فضل و کرم کی وجہ سے زندہ رہ رہے ہیں اور اللہ کی عظیم رحمت کی وجہ سے زندہ رہ رہے ہیں اور یہ رحمت انسان کے انکار ، اعراض ، نافرمانیوں کے باوجود ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک نہایت ہی وجدانی نج ہے جبکہ یہ ایک حقیقت بھی ہے۔ قرآن کریم ایسے ہی حقائق انسانی قلوب پر القاء کرتا ہے ۔ کیونکہ جب حقیقت انسان کے دل پر روشن ہوتی ہے تو وہ انسان کے دل کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ قرآن حق ہے اور سچائی کے ساتھ یہ نازل ہو رہا ہے۔ لہٰذا قرآن کی تمام باتیں حق ہیں۔ وہ سچائی کے ساتھ لوگوں کو مطمئن کرتا ہے ، سچائی پیش کرتا ہے ۔ اس کے اشارات تمام کے تمام حق ہیں۔ اب ایک دوسرا نج۔ یہ کہ دنیا و آخرت میں ذمہ داری انفرادی ہے۔ ذمہ داری انفرادی ہوگی ، کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ نہ کوئی کسی کو فائدہ دے سکے گا۔ لہٰذا لوگ اگر ہدایت یافتہ ہوجائیں تو اس سے حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صرف ان کے اعمال اور فرائض کے بارے میں پوچھا جائے گا جب کہ دوسرے تمام افراد سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ہر شخص اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا۔ کوئی اس سے پوچھنے والا نہ ہوگا۔ اگر کوئی پاکیزہ زندگی اختیار کرتا ہے تو اپنے لیے کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے۔ کسی اور کے لئے نہیں اور قیامت میں معاملات کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سب اللہ کے محتاج ہیں، قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا، بینا اور نابینا، اندھیریاں اور روشنی، زندہ اور مردہ برابر نہیں، ہر امت میں نذیر بھیجا گیا ہے یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جس میں بہت سے امور پر تنبیہ فرمائی ہے اور متعدد نصیحتیں فرمائیں۔ اولاً یہ فرمایا کہ اے لوگو تم سب اللہ ہی کے محتاج ہو، اللہ تعالیٰ غنی ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، کوئی بھی ایمان لانے والا اور اس کی عبادت کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ اسے میری حاجت اور ضرورت ہے، بلکہ یہ سمجھ کر اس کی عبادت کرے کہ مجھے اسے راضی کرنے کی حاجت ہے، وہ غنی ہے، بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور صفات جلیلہ سے متصف ہے۔ ثانیاً یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو پورا پورا اختیار ہے کہ وہ تمہیں باقی رکھے زندہ رہنے دے، اور اگر چاہے تو تمہیں بالکل نیست و نابود کردے، تمہیں پیدا فرمانے کے بعد اس کی قدرت اور صفت خالقیت اسی طرح باقی ہے جیسے پہلے تھی وہ تمہیں ختم فرما کر دوسری مخلوق پیدا فرمانے پر اور اس دنیا میں بسانے پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے، تمہیں ختم کرنا اور دوسری مخلوق پیدا کرنا اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں۔ ثالثاً یہ فرمایا کہ ہر ایک کو اپنا اپنا بوجھ اٹھانا ہے، قیامت کے دن کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی، وہاں بڑے بڑے بوجھل انسان حاضر ہوں گے، گناہوں سے لدے ہوئے ہوں گے، اگر کوئی شخص کسی سے یوں کہے کہ آ میرا کچھ بوجھ اٹھا لے تو اس کا ذرا سا بوجھ بھی کوئی نہ اٹھائے گا، اگر کوئی شخص اپنے کسی قریبی رشتہ دار سے کہے گا کہ تم میرے بوجھ میں شریک ہوجاؤ تو وہ بھی صاف انکار کردے گا۔ سورة عبس میں فرمایا (یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہِ وَاَبِیہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ یَوْمَءِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ ) (جس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے، ان میں سے ہر شخص کا حال جدا ہوگا جو دوسرے سے بےنیاز کردے گا۔ ) رابعاً یہ فرمایا کہ آپ انہی لوگوں کو ڈراتے رہیں جو اپنے رب سے ڈراتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، یعنی جو اہل ایمان ہیں اور ایمان کی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں وہی آپ کے ڈرانے سے منتفع ہوتے ہیں، ڈراتے تو آپ سب ہی کو ہیں لیکن ڈرانے کا فائدہ انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر ہے اور جو نماز میں لگے رہتے ہیں، ساری ہی عبادت اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے ادا کی جاتی ہے لیکن چونکہ نماز میں بہت سی خصوصیات ہیں جو صرف خوف و خشیت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اس لیے نماز کا خصوصی تذکرہ فرمایا۔ خامساً یہ فرمایا کہ پاکیزہ ہونا، گناہوں سے بچ کر رہنا، ظاہری باطنی عیوب سے محفوظ رہنا، اس میں کوئی شخص کسی پر احسان نہ دھرے، جو شخص پاکیزہ ہوگا وہ اپنی ہی جان کے لیے پاکیزگی اختیار کرے گا یعنی اس کا صلہ پائے گا، اور سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنا ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملنا ہے۔ سادساً یہ فرمایا کہ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں۔ (یہاں اندھے سے مراد کافر اور دیکھنے والے سے مومن مراد ہے) اور اندھیریاں اور روشنی برابر نہیں یعنی حق اور باطل برابر نہیں ہوسکتے اور سایہ اور گرمی برابر نہیں یعنی ثواب و عقاب برابر نہیں ہوسکتے۔ (اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے جنت اور دوزخ مراد ہیں) نیز یہ بھی فرمایا کہ زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوسکتے (زندوں سے اہل ایمان اور مردوں سے کافر مراد ہیں) اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر دوزخ میں ہوں گے۔ اس کے بعد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ جس کو چاہے سنا دے، یعنی ہدایت کی بات سنا کر سننے والے کے لیے سبب ہدایت بنا دیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ قبروں میں ہیں آپ انہیں نہیں سنا سکتے یعنی جنہیں کفر پر اصرار ہے انہوں نے اپنا حال ایسا بنالیا ہے جیسے قبروں میں ہیں، قبروں میں جو لوگ چلے گئے آپ انہیں نہیں سنا سکتے اور یہ لوگ بھی آپ کی باتیں سن کر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ سماع موتی کے بارے میں ضروری تحقیق سورة نمل (رکوع نمبر : ٦) میں گزر چکی ہے، حقیقی سنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، وہ جب چاہے جس کو چاہے سنائے اس میں کوئی اشکال ہی نہیں۔ سابعاً یہ فرمایا کہ ہم نے آپ کو حق دے کر بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، اور یہ بھی فرمایا کہ جتنی بھی امتیں گزری ہیں ان میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور گزرا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون رہا ہے کہ بستیوں میں پیغامبر بھیجے جو حق پہنچانے والے ہوتے تھے۔ وہ خوب اچھی طرح واضح طور پر حق اور ناحق بتا دیتے تھے، توحید کی دعوت دیتے تھے اور شرک سے روکتے تھے، جب لوگ سرکشی پر اتر آتے تو انہیں عذاب میں مبتلا کردیا جاتا تھا۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا) (اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں) اور سورة القصص میں فرمایا ہے، (وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّھَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَاوَمَا کُنَّا مُھْلِکِی الْقُرآی اِلَّا وَ اَھْلُھَا ظٰلِمُوْنَ ) (اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک کہ ان کے صدر مقام میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج دے، اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں۔ ) لہٰذا جتنی بھی امتیں گزری ہیں ان سب میں ڈرانے والا ضرور پہنچا اس نے تبلیغ کی اور حق کی دعوت دی، ضروری نہیں ہے کہ جو مبلغ اور داعی پہنچا ہو وہ نبی ہی ہو، حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے جو اپنے نمائندے اور قاصد بھیجے آیت کا مفہوم ان کو بھی شامل ہے، یہاں اتنی بات سمجھ لینا چاہیے کہ اس قت دنیا میں جو قومیں مذہبی کہلاتی ہیں وہ کسی ایک شخص کی طرف اپنی نسبت کرتی ہیں ان میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت و رسالت تو قرآن مجید سے ثابت ہے، ان کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا فرض ہے البتہ ان حضرات کی شریعت منسوخ ہے، اور ہر فرد و بشر پر فرض ہے کہ حضور خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے علاوہ جو دوسری مذہبی قومیں اپنے جن اکابر کی طرف منسوب ہیں ان کے بارے میں یہ یقین کرلینا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اور اس بارے میں الفاظ (وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ) سے استدلال کرنا صحیح نہیں کیونکہ قرآن کریم میں ان کا نام نہیں لیا گیا اور کسی سند کے ساتھ ان لوگوں کا نبی و رسول ہونا ثابت نہیں ہے، کسی کو متعین کرکے نبی و رسول ماننے کے لیے دلیل شرعی کی ضرورت ہے جو یہاں مفقود ہے، ان لوگوں کی صحیح تاریخ بھی معلوم نہیں ہے اور ان کے جو قصے مشہور ہیں ان کے پیش نظر یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ نبی نہیں ہوسکتے، بلکہ ان میں سے بعض کی تصویریں اور مورتیاں جو ان کے ماننے والوں میں رواج پائے ہوئے ہیں وہ تو ننگی تصویریں ہیں، اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی ننگا نہیں ہوسکتا، خوب سمجھ لیا جائے۔ ثامناً یہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں تو یہ کوئی تعجب کرنے اور رنجیدہ ہونے کی بات نہیں ہے کیونکہ آپ سے پہلے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) آچکے ہیں ان کی امتوں نے انہیں جھٹلایا حالانکہ وہ حضرات ان کے پاس کھلی کھلی دلیلیں لے کر پہنچے، صحیفے لے کر آئے، بڑی کتابیں بھی لائے جیسے تورات، انجیل وغیرہ، لیکن جنہیں ماننا نہ تھا انہوں نے نہ مانا، اگر یہ لوگ آپ پر ایمان نہیں لاتے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ تاسعًا یہ فرمایا کہ میں نے کافروں کو پکڑ لیا یعنی ان کو عذاب دے دیا۔ اور مزید فرمایا (فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ ) کہ غور کرلو میرا عذاب کیسا تھا۔ اس میں مخاطبین کو تنبیہ ہے کہ پہلی امتوں پر تکذیب کی وجہ سے عذاب آتا رہا ہے، یہ عذاب عبرتناک تھا، اس کے بارے میں ان مخاطبیین کو کچھ نہ کچھ علم بھی ہے لہٰذا عبرت حاصل کریں اور غور کریں کہ ان کا کیا انجام ہوا اور یہ کہ یہی انجام ہمارا بھی ہوسکتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ یا ایہا الناس الخ : یہ آٹھویں عقلی دلیل ہے یعنی تم سب خدا کے محتاج ہو اور وہ کسی کا محتاج نہیں اور تمام صفات کمال سے متصف ہے لہذا اس کے سوا تمہاری کوئی معبود نہیں وہ اگر چاہے تو تم سب کو مار ڈالے اور دوسروں کو پیدا کرلے لیکن تمہارے مزعومہ معبودوں میں یہ قدرت نہیں جب انہیں اتنا بھی اختیار نہیں تو ان عاجزوں کو کیوں غائبانہ پکارتے ہو جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ان اراد ان یہلک المسیح بن مریم وامہ و من فی الارض جمیعا (المائدہ) ۔ وہ ان سب کو ہلاک کرسکتا ہے تو وہ معبود کس طرح بن سکتے ہیں۔ نیز فرمایا ان یشا یذھبکم و یستخلف من بعدکم ما یشاء (انعام) ۔ انسان جو اشرف المخلوقات ہے جب وہ خدا کا محتاج ہے تو فرشتے اور جن بطریق اولی خدا کے محتاج ہوں گے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ عزیز : مشکل اور دشوار۔ یعنی یہ کام اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(15) اے لوگو ! تم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ وہی ہے بےنیاز و بےاحتیاج سب خوبیوں سراہا اور تعریف کیا گیا۔ تمام بنی نوع انسان کو خطاب کر کے فرمایا تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ تو وہ سب سے بےنیاز ہے وہ کسی کا محتاج نہیں اور وہ تمام صفات حمیدہ سے متصف ہے لہٰذا عبادت کرنے اور شرک سے بچنے میں تمہارا ہی فائدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے کفر کی پرواہ نہیں کیونکہ وہ تو تمام خوبیوں سے متصف اور تعریف کیا گیا ہے۔ وہ سب خوبیوں کا مالک ہے۔ آگے حضرت حق تعالیٰ کی قوت اور مخلوق کی کمزوری کا ذکر فرمایا۔