Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 19

سورة فاطر

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ﴿ۙ۱۹﴾

Not equal are the blind and the seeing,

اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Believer and the Disbeliever are not equal Allah says; وَمَا يَسْتَوِي الاَْعْمَى وَالْبَصِيرُ وَلاَ الظُّلُمَاتُ وَلاَ النُّورُ

ایک موازنہ ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں ۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا ۔ اندھیرا اور روشنی ، سایہ اور دھوپ ، زندہ اور مردہ برابر نہیں ۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایمان دار اور بے ایمان میں بھی بے انتہا فرق ہے ۔ مومن آنکھوں والے اجالے ، سائے اور زندہ کی مانند ہے ۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے ۔ جیسے فرمایا ( اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ١٢٢؁ ) 6- الانعام:122 ) ، یعنی جو مردہ تھا پھر اسے ہم نے زندہ کر دیا اور اسے نور دیا جسے لئے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے ایسا شخص اور وہ شخص جو اندھیروں میں گھرا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہیں سکتا کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ اور آیت میں ہے ( مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 24؀ۧ ) 11-ھود:24 ) ، یعنی ان دونوں جماعتوں کی مثال اندھے بہرے اور دیکھنے اور سننے والوں کی سی ہے ۔ مومن تو آنکھوں اور کانوں والا اجالے اور نور والا ہے پھر راہ مستقیم پر ہے ۔ جو صحیح طور پر سایوں اور نہروں والی جنت میں پہنچے گا اور اس کے برعکس کافر اندھا بہرا اور اندھیروں میں پھنسا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہ سکے گا اور ٹھیک جہنم میں پہنچے گا ۔ جو تند و تیز حرارت اور گرمی والی آگ کا مخزن ہے ۔ اللہ جسے چاہے سنا دے یعنی اس طرح سننے کی توفیق دے کہ دل سن کر قبول بھی کرتا جائے ۔ تو قبر والوں کو نہیں سنا سکتا ۔ یعنی جس طرح کوئی مرنے کے بعد قبر میں دفنا دیا جائے تو اسے پکارنا بےسود ہے ۔ اسی طرح کفار ہیں کہ ہدایت و دعوت ان کے لئے بیکار ہے ۔ اسی طرح ان مشرکوں پر بدبختی چھاگئی ہے اور ان کی ہدایت کی کوئی صورت باقی نہیں رہی تو انہیں کسی طرح ہدایت پر نہیں لا سکتا تو صرف آگاہ کر دینے والا ہے ۔ تیرے ذمے صرف تبلیغ ہے ۔ ہدایت و ضلالت من جانب اللہ ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک ہر امت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم آتا رہا ۔ تاکہ ان کا عذر باقی نہ رہ جائے ۔ جیسے اور آیت میں ہے ( وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ Ċ۝ۧ ) 13- الرعد:7 ) اور جیسے فرمان ہے ( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ 36؀ ) 16- النحل:36 ) ، وغیرہ ، ان کا تجھے جھوٹا کہنا کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا ہے ۔ جو بڑے بڑے معجزات ، کھلی کھلی دلیلیں ، صاف صاف آیتیں لے کر آئے تھے اور نورانی صحیفے ان کے ہاتھوں میں تھے ، آخر ان کے جھٹلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے انہیں عذاب و سزا میں گرفتار کرلیا ۔ دیکھ لے کہ میرے انکار کا نتیجہ کیا ہوا ؟ کس طرح تباہ و برباد ہوئے؟ واللہ اعلم

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ : یہ کافر اور مومن کی مثال ہے کہ کافر اندھا ہے اور مومن آنکھوں والا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ۝ ١٩ۙ استوا أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] ( س و ی ) المسا واۃ کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے عمی العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ( ع م ی ) العمی ٰ یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمیٰ اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمیٰ وعم دونوں کا استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] کہ ان کے پاس ایک نا بینا آیا ۔ میں الاعمیٰ سے مراد بصارت کا اندھا ہے مگر جہاں کہیں قرآن نے العمیٰ کی مذمت کی ہے وہاں دوسرے معنی یعنی بصیرت کا اندھا پن مراد لیا ہے جیسے فرمایا : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] یہ بہرے گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ فَعَمُوا وَصَمُّوا[ المائدة/ 71] تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ۔ بلکہ بصٰیرت کے اندھا پن کے مقابلہ میں بصارت کا اندھا پن ۔ قرآن کی نظر میں اندھا پن ہی نہیں ہے بصیر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، وللقوّة التي فيها، ويقال لقوة القلب المدرکة : بَصِيرَة وبَصَر، نحو قوله تعالی: فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] ، ولا يكاد يقال للجارحة بصیرة، ويقال من الأوّل : أبصرت، ومن الثاني : أبصرته وبصرت به «2» ، وقلّما يقال بصرت في الحاسة إذا لم تضامّه رؤية القلب، وقال تعالیٰ في الأبصار : لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] ومنه : أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] أي : علی معرفة وتحقق . وقوله : بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] أي : تبصره فتشهد له، وعليه من جو ارحه بصیرة تبصره فتشهد له وعليه يوم القیامة، ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں ، نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ اور آنکھ سے دیکھنے کے لئے بصیرۃ کا لفظ استعمال نہیں ہوتا ۔ بصر کے لئے ابصرت استعمال ہوتا ہے اور بصیرۃ کے لئے ابصرت وبصرت بہ دونوں فعل استعمال ہوتے ہیں جب حاسہ بصر کے ساتھ روئت قلبی شامل نہ ہو تو بصرت کا لفظ بہت کم استعمال کرتے ہیں ۔ چناچہ ابصار کے متعلق فرمایا :۔ لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں ۔ اور اسی معنی میں فرمایا ؛ ۔ أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] یعنی پوری تحقیق اور معرفت کے بعد تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ( اور یہی حال میرے پروردگار کا ہے ) اور آیت کریمہ ؛۔ بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] کے معنی یہ ہیں کہ انسان پر خود اس کے اعضاء میں سے گواہ اور شاہد موجود ہیں جو قیامت کے دن اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینگے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩۔ ٢٤) اور کافر مومن دونوں برابر نہیں اور نہ کفر و ایمان اور نہ جنت و دوزخ اور نہ مومنین و کافرین اطاعت و بزرگی میں برابر ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو اس چیز کا اہل ہوتا ہے اس کو سمجھا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سمجھا سکتے جو ایسے ہیں جیسا کہ قبروں میں دفن کیے گئے ہیں۔ آپ تو صرف قرآن کریم کے ذریعے سے ڈرانے والے پیغمبر ہیں۔ ہم ہی نے آپ کو قرآن کریم دے کر مسلمانوں کو جنت کی خوشخبری سنانے والا اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی اللہ کی طرف سے ڈرانے والا پیغمبر نہ گزرا ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩ { وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ } ” اور برابر نہیں ہوسکتے اندھا اور دیکھنے والا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:19) الاعمی۔ عمی سے صفت مشبہ کا صیغہ۔ اندھا۔ نابینا۔ مراد راہ راست سے نابینا۔ یعنی کافر۔ جاہل۔ البصیر۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل۔ اسم فاعل واحد مذکر ۔ بینا۔ یعنی مؤمن۔ یا جاننے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عقیدہ توحید اور دین سے انحراف کرنے والا در حقیقت اندھا ہوتا ہے۔ اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بصیرت اور بصارت اس لیے عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے رب کو پہنچانے اور اس کی فرمانبرداری اختیار کرے۔ جو انسان اپنے رب کو فراموش کردیتا ہے در حقیقت وہ اندھا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور ضمیر کی آواز فراموش کرکے دل کی روشنی کھو بیٹھتا ہے۔ ضمیر کی روشنی اور کائنات کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے خالق، مالک اور رازق کو پہچانے اور اس کی فرمانبرداری میں زندگی بسر کرے۔ پہلی بات کا نام عقیدہ توحید اور دوسری بات کا نام دین ہے۔ جو اس پر عمل کرتا ہے وہ بینا ہے اور جس نے اس حقیقت کو فراموش کردیا وہ اندھا ہے بینا نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نور کی بجائے اپنے توہمات اور معاشرے کی رسومات کی تاریکی میں زندگی بسر کرتا ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں یہ استفسار ہوا ہے کہ بتاؤ اندھا اور بینا، اندھیرے اور روشنی، چھاؤں اور دھوپ برابر ہوسکتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ برابر نہیں ہوسکتے۔ جب برابر نہیں ہوسکتے تو آدمی کو اندھے پن کی بجائے بصیرت کیساتھ، اندھیروں سے نکل کر روشنی میں چلنا چاہیے اور اسے دھوپ کی بجائے سائے کو ترجیح دینا چاہیے۔ یہی عقل سلیم کا تقاضا ہے اس کا ہر شخص کو خیال اور احترام کرنا چاہیے تاکہ دنیا میں در در کی ٹھوکروں سے بچ جائے اور آخرت میں اپنے رب کی بارگاہ میں سروخرو ہوجائے۔ یہاں اندھا پن، اندھیرے اور دھوپ سے پہلی مراد شرک ہے اور ” التوحید “ کو بصیرت، النور اور ٹھنڈا سایہ قرار دیا گیا ہے جس سے انسان کو دنیا میں سکون، روشنی اور بصیرت حاصل ہوتی ہے اور موت کے بعد لمحہ بہ لمحہ اسے اپنے رب کی دست گیری اور نور میسّر ہوگا۔ تفسیر بالقرآن التوحید اور شرک کا موازنہ : ١۔ توحید سب سے بڑی سچائی ہے۔ (المائدۃ : ١١٩، النساء : ٨٧، ١٢٢) ٢۔ شرک سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ (ھود : ١٨) ٣۔ توحید سب سے بڑی گواہی ہے۔ (آل عمران : ١٨، الانعام : ١٩، الروم : ٣٠) ٤۔ توحید عدل ہے۔ (آل عمران : ١٨) ٥۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ (لقمان : ١٣) ٦۔ توحید دانائی ہے۔ (بنی اسرائیل : ٣٩) ٧۔ شرک بیوقوفی ہے۔ (الجن : ٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وما یستوی ۔۔۔۔۔۔ ولا الاموات (19 – 21) یہاں ایک طرف کفر ، اندھے پن ، تاریکی ، گرمی اور موت سب کے سب ایک مزاج رکھتے ہیں اور ان کے مفہومات کے درمیان ربط ہے۔ دوسری جانب ایمان ، نور ، بصارت ، چھاؤں اور زندگی کے مفہومات کا ایک ہی مزاج ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔ ایمان نور ہے۔ دل میں نور ، اعضاء میں نور ، حواس میں نور ، ایسا نور جس سے اشیاء کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔ اقدار اور واقعات روشن ہوتے ہیں اور ان کی حدود اور روابط واضح ہوتے ہیں۔ مومن اس نور سے تمام اشیاء کو دیکھتا ہے اور وہ روشنی کے اندر واقعات کو دیکھتا ہے۔ اس لیے اس کے معاملات اچھے ہوتے ہیں۔ اس کے اقدامات درست سمت میں ہوتے ہیں اور اس کے قدم ڈگمگاتے نہیں۔ ایمان ایک آنکھ ہے جو دیکھتی ہے۔ یہ آنکھ چیزوں کو ان کی حقیقت کے مطابق دیکھتی ہے۔ نہ اس میں تزلزل ہوتا ہے اور نہ اس میں انتشار ہوتا ہے اور صاحب ایمان اپنی راہ پر روشنی میں ، اعتماد کے ساتھ اور اطمینان کے ساتھ چلتا ہے۔ پھر ایمان ایک سایہ ہے جس کے نیچے انسان راحت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا نفس اس میں آرام کرتا ہے اور روح خوش ہوتی ہے۔ شک ، بےچینی ، حیرت اور اندھیروں کے سفر کی گرمی سے انسان پناہ میں ہوتا ہے۔ پھر ایمان ایک زندگی ہے۔ دلوں اور شعور کی زندگی۔ ارادہ کی زندگی ، رخ اور سمت کی زندگی۔ ایمان ایک حرکت اور جدوجہد کا نام ہے۔ یہ تعمیر جدوجہد ہے ، مفید اور بامقصد زندگی ہے ، جس کے اندر یہ مروگی اور مردنی نہیں ہے اور زندگی بجھی بجھی بھی نہیں ہوتی ہے۔ نہ اس میں کوئی چیز عبث ہے اور نہ بیہودگی ہے۔ کفر تاریکی ہے تاریکیاں ہیں۔ جب لوگ نور ایمان کے دائرہ سے نکل آئیں تو پھر وہ مختلف قسم کے اندھیروں میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ ایسے اندھیرے جن کے اندر کسی چیز کی صحیح حقیقت نظر نہیں آتی۔ کفر ایک قسم کی سخت دھوپ ہے۔ اس کے اندر دل حیرانی ، پریشانی ، قلق ، بےچینی ، تزلزل اور عدم اطمینان کی گرم آندھیوں کی لپیٹ میں آجاتا ہے اور آخرت میں جہنم کی گرمی کا شکار ہوتا ہے۔ کفر ایک طرح کی موت ہے۔ ضمیر کی موت ، منبع حیات سے کٹ جانا ، صحیح راستے سے کٹ جانا ، حقیقی سرچشمے سے کٹ جانا اور حقیقی آب حیات سے محروم ہونا ، جس سے انسانی سیرت متاثر ہوتی ہے۔ غرض ان صفات میں سے ہر ایک صفت کی ایک حقیقت ہے اور دونوں کے درمیان مکمل تضاد ہے اور اللہ کے ہاں دونوں برابر نہیں ہیں۔ اب روئے سخن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور آپ کو بتایا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کے حوالے سے آپ کے فرائض اور عمل کی حدود کیا ہیں۔ اپنے فرائض و حدود سے آگے جو معاملات ہیں وہ اللہ کے سپرد کردیں کیونکہ اللہ ہی ان کا واکدار ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

23:۔ وما یستوی الخ : یہ مومن و کافر اور توحید و شرک کی تمثیلات ہیں۔ جس طرح اندھا ظاہری روشنی سے مھروم ہے اسی طرح کافر و مشرک نور ایمان و توحید سے محروم ہے۔ علی ہذا جس طرح سوانکھا ظاہری بینائی رکھتا ہے۔ اسی طرح مومن کا دل نور توحید سے روشن ہوتا ہے۔ الاعمی والبصیر مثلان للکافر والمومن کما قال قتادۃ والسدی و غیرھما (روح ج 22 ص 186) ۔ الظلمات کفر و شرک کے اندھیرے۔ النور، ایمان و توحید کی روشنی۔ الظل، سایہ اس سے ثواب یا جنت مراد ہے۔ الحرور، شدت گرما لیکن بقرینہ تقابل یہاں دھوپ کے معنی میں ہے۔ اور اس سے مراد عذاب یا جہنم ہے (قرطبی، خازن، روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(19) اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے۔