Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 28

سورة فاطر

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الۡاَنۡعَامِ مُخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہٗ کَذٰلِکَ ؕ اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ غَفُوۡرٌ ﴿۲۸﴾

And among people and moving creatures and grazing livestock are various colors similarly. Only those fear Allah , from among His servants, who have knowledge. Indeed, Allah is Exalted in Might and Forgiving.

اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں واقعی اللہ تعالٰی زبردست بڑا بخشنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالاَْنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ ... And likewise, men and moving creatures and cattle are of various colors. means, the same is true of living creatures too, humans and animals, all creatures which walk on their feet, and cattle. Here something general is followed by something specific. These are all different too, for among mankind there are Berbers, Ethiopians and some non-Arabs who are very black, and Slavs and Romans who are very white, and the Arabs who are in between, and the Indians. Allah says in another Ayah: وَاخْتِلَـفُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَنِكُمْ إِنَّ فِى ذلِكَ لاَيَـتٍ لِّلْعَـلَمِينَ and the difference of your languages and colors. Verily, in that are indeed signs for men of sound knowledge. (30:22) Similarly, animals and cattle vary in their colors, even within one species, and a single animal may have patches of different colors. Blessed be Allah, the Best of creators. Allah then says: ... إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاء ... It is only those who have knowledge among His servants that fear Allah. meaning, only those who have knowledge truly fear Him as He should be feared, because the more they know about the Almighty, All-Powerful, All-Knowing Who has the most perfect attributes and is described with the most beautiful Names, the more they will fear Him. Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas commented on the Ayah: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاء (It is only those who have knowledge among His servants that fear Allah), those who know that Allah is able to do all things. Ibn Abbas said, "The one among His servants who knows about Ar-Rahman, is the one who does not associate anything in worship with Him; the one who accepts as lawful that which He has permitted and accepts as unlawful that which He has prohibited. He obeys His commands and is certain that he will meet Him and be brought to account for his deeds." Sa`id bin Jubayr said, "Fear is what stands between you and disobeying Allah, may He be glorified." Al-Hasan Al-Basri said, "The knowledgeable person is the one who fears Ar-Rahman with regard to the Unseen, who likes that which Allah wants him to like, and who shuns that which angers Allah." Then Al-Hasan recited: ... إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاء إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ It is only those among His servants who have knowledge that fear Allah. Verily, Allah is Almighty, Oft-Forgiving. Sufyan Ath-Thawri narrated from Abu Hayyan At-Taymi from a man who said, "It used to be said that the knowledgeable are of three types: first, one who knows Allah and the command of Allah, second, one who knows Allah but does not know the command of Allah, and third, one who knows the command of Allah but does not know Allah. The one who knows Allah and the command of Allah is the one who fears Allah and knows the limits (Hudud) and the obligatory duties (Fara'id). The one who knows Allah but does not know the command of Allah is the one who fears Allah but does not know the limits (Hudud) and the obligatory duties (Fara'id). The one who knows the command of Allah but does not know Allah is the one who knows the limits (Hudud) and the obligatory duties (Fara'id) but does not fear Allah."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

28۔ 1 یعنی انسان اور جانور بھی سفید، سرخ، سیاہ اور زرد رنگ کے ہوتے ہیں۔ 28۔ 2 یعنی اللہ کی ان قدرتوں اور اس کے کمال صناعی کو وہی جان اور سمجھ سکتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں اس علم سے مراد کتاب وسنت اور اسرار الہیہ کا علم ہے جتنی ان کو رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے اتنا ہی وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سے۔ گویا جن کے اندر خشیت الہی نہیں ہے سمجھ لو کہ علم صحیح سے بھی وہ محروم ہیں۔ 28۔ 3 یہ رب سے ڈرنے کی علت ہے کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ نافرمان کو سزا دے اور توبہ کرنے والے کے گناہ معاف فرما دے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٣٣] یعنی وہ چاہے تو اپنے باغیوں، کج فہمیوں اور نافرمانوں کو فوراً پکڑ سکتا ہے۔ مگر یہ اس کی صفت عفو کا ہی تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو مہلت دیئے جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَاۗبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ : یعنی صرف نباتات اور جمادات ہی میں نہیں بلکہ دوسری تمام مخلوقات میں رنگا رنگی کا یہی عالم ہے۔ انسان، جانور اور چوپائے سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان میں ہر جنس کی مختلف قسمیں ہیں اور ہر قسم کا ہر فرد دوسرے سے مختلف ہے۔ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا : یہاں علم سے مراد دنیوی علوم نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی صفات کا علم ہے، جس کو اللہ کی عظمت وصفات کا جتنا علم ہوگا اتنا ہی وہ اس کی نافرمانی سے ڈرے گا۔ علاوہ ازیں آیت میں ” علماء “ سے مراد وہ اصطلاحی علماء بھی نہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ کا علم رکھنے کی بنا پر علمائے دین کہے جاتے ہیں۔ وہ اس آیت کے مصداق اسی صورت میں ہوں گے جب ان کے اندر اللہ کا ڈر بھی ہوگا۔ اسی طرح وہ مسلمان سائنس دان بھی اس کے مصداق ہیں جن کے دل میں کائنات کے عجائب سامنے آنے پر اللہ کی عظمت کے یقین اور اس سے ہیبت و خشیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس (رض) کا قول نقل فرمایا ہے کہ علماء وہ ہیں جو جانتے ہیں : (اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ) ” یقیناً اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ “ تفسیر قاسمی میں ہے : ” اس سے پہلے فرمایا تھا : ( اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ ) [ فاطر : ١٨ ] ” تو صرف ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ “ یہ جملہ اسی کی تکمیل ہے، لوگوں کے مختلف طبقات اور مراتب بیان کرنے کے بعد بتایا کہ رب تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس سے کون ڈرتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس سے وہی ڈرتے ہیں جو اس کا اور اس کی صفات جلیلہ و افعال جمیلہ کا علم رکھتے ہیں، کیونکہ بندہ اسی سے ڈرتا ہے جس کا اسے علم ہو اور جس کی قوت و عظمت اور صفات کمال کو وہ جانتا ہو۔ پھر جسے اس کا جتنا زیادہ علم ہوگا اتنا ہی وہ اس سے ڈرے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( وَاللّٰہِ ! لَأَنَا أَعْلَمُکُمْ باللّٰہِ وَ أَخْشَاکُمْ لَہُ ) [ منتخب مسند عبد بن حمید، ح : ١٥٠٢ ] ” اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھنے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔ “ صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں : ( إِنَّ أَتْقَاکُمْ وَ أَعْلَمَکُمْ باللّٰہِ أَنَا ) [ بخاري، الإیمان، باب قول النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أنا أعلمکم باللہ : ٢٠ ] ” بیشک تم سب سے زیادہ ڈرنے والا اور اللہ کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا میں ہوں۔ “ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت پر دلالت کرنے والے کاموں کے ذکر کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے صرف علم والے ڈرتے ہیں۔ کافر چونکہ اللہ تعالیٰ کی اس پہچان سے بالکل بیخبر ہیں، اس لیے انھیں ڈرانا بالکل بےسود ہے۔ “ (افادہ از ابو السعود) قاسمی ہی نے قاشانی سے نقل فرمایا ہے : ” یعنی اللہ تعالیٰ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو اس کے عالم و عارف ہیں (اسے جاننے پہچاننے والے ہیں) ، کیونکہ یہاں خشیّت اور ڈرنے سے مراد عذاب کا ڈر نہیں ہے، بلکہ خشیّت دل میں خشوع و انکسار کی اس حالت کا نام ہے جو اس کی عظمت کے تصور اور اسے دل میں حاضر کرنے سے پیدا ہوتی ہے، کیونکہ جو اس کی عظمت کا تصور نہ کرے، ممکن نہیں اس سے ڈرے اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کے ساتھ جس شخص کے دل کی آنکھوں کے سامنے حاضر ہو وہ اس سے اس طرح ڈرے گا جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اللہ تعالیٰ کا کامل علم و معرفت رکھنے والے کے درمیان اور اس کا ناقص علم و معرفت رکھنے والے کے درمیان اس کی حاضری کے تصور میں بہت زیادہ فرق ہے اور دونوں کے درمیان علم و معرفت کی کمی بیشی کے لحاظ سے اتنے مرتبے ہیں جن کا شمار نہیں ہوسکتا۔ “ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ : یعنی اللہ تعالیٰ سب پر غالب ہے، چاہے تو نافرمان اور سرکش لوگوں کو فوراً پکڑے، مگر وہ بیحد بخشنے والا ہے، اس لیے انھیں مہلت دیے جاتا ہے، تاکہ وہ کسی وقت بھی پلٹ آئیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The place where the word: كَذَٰلِكَ (kadhalik: translated above by the words, &as well& ) appears in verse 28 just before: كَذَٰلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (Only those of His slaves fear Allah who are knowledgeable), but in the translation above it has been separated from the next verse by a full stop, because this is the place of a stop (waqf) according to the consensus of the majority of commentators and scholars. As such, it is a sign denoting that this word is related to the previous subject, that is, the creation of all that exists in categories and kinds and different colors is a very special sign of the power and wisdom of Allah Ta’ ala. Then there are narrations that suggest that this word is related to the next sentence. If this interpretation is adopted, the full stop would be appropriate after the words, &having different colors, and the word &kadhalika& should be translated as &similarly& in which case, it would mean that &the way fruits, mountains, human beings and other life forms are marked out by different colors, similarly, there are different degrees among people who have the awe or fear of Allah in their hearts. Someone may have achieved its highest degree. Others may have arrived at what is less than that. Then, the whole thing depends on knowledge. Whoever has a certain degree of knowledge will have a corresponding degree of the awe or fear of Allah. (Ruh-ul-Ma’ ani) In previous verses, it was said: إِنَّمَا تُنذِرُ‌ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَ‌بَّهُم بِالْغَيْبِ (18) This is to give solace to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which means, &when you warn people and convey the message of Allah to them, only those who have the awe of Allah without having seen Him get the maximum benefit out of it.& In symmetry with this, the present verse: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (Only those of His slaves fear Allah who are knowledgeable - 35:28) has mentioned people about whom it can be said that they have the awe of Allah and fear Him as is His due. Then, there is another parallelism here. Mentioned earlier were disbelievers and deniers along with the different states they were submerged in. In the present verse, what has been put forth is the opposite of it. The verse talks about the men of Allah (the auliya& of Allah) particularly. The word:إِنَّمَا (innama) is used in the Arabic language to describe hasr or exclusiveness. Therefore, this sentence obviously means that only the ` Ulama& (the knowing, the learned, the initiated) fear Allah or have the genuine awe of Allah. But Tafsir authority, Ibn ` Atiyyah and others said that the wayإِنَّمَا (innama) is employed to show exclusiveness, it is also used to describe the singularity of something, and the later is what is meant here - that fearing Allah and remaining in awe of Him is a specially incumbent attribute of the ` Ulama&. It does not necessarily imply that those other than them have no such fear and awe in them. (Al-Bahr ul-Muhit, Abu Hayyan) And the word: عُلَمَاءُ (Ulama& ) in the verse means people who have due knowledge of the being and attributes of Allah Ta’ ala and who have the fact of His power and control, and His favors and blessings, on what He has created, always in sight. In the terminology of the Qur&an, no one is considered to be an ` alim simply by virtue of knowing the Arabic language, grammar and rhetoric unless he has acquired the knowledge and understanding of the attributes of Allah Ta’ ala in the manner stated above. Explaining this verse, Hasan al-Basri (رح) said: ` Alim is a person who fears Allah in private and in public, and likes what Allah likes him to do, and hates what is detestable in the sight of Allah. And Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud (رض) said: لیَسَ العِلمُ الحدِیثِ و لٰکِنّ العِلمَ عَن کَثرَۃِ الخَدیَۃِ Memorizing many ahadith (or, talking a lot) is no &Um (knowledge). Instead, (real) knowledge comes when one has the awe and fear of Allah with it. In short, the degree of the fear of Allah one has shall go on to make him an ` Alim of that very degree. And Ahmad Ibn Salih al-Misri said: Fear of Allah cannot be recognized on the basis of someone&s prolific reporting of events or abundance of knowledge, in fact, it is identified through one&s adherence to the Book of Allah and the Sunnah of the Prophet. (Ibn Kathir) Shaykh Shahabuddin as-Suhrawardi (رح)) said: This verse clearly indicates that a person who has no fear of Allah is no ` alim. (Mazhari) This is confirmed by the sayings of the early forbears of Islam (Salaf). Sayyidna Rabi& Ibn Anas (رض) said: مَن لَّم یَخش فَلَیسَ بِعَالِمِ One who does not fear Allah is not an Vim. And early commentator, Mujahid said: انَّما العَالِمُ مَن خَشِیَ اللہَ Only he who fears Allah is the (real) Vim. Someone asked Sa&d Ibn Ibrahim: Who knows Divine Law at its best in the city of Madinah? He said: a;J r mti (He who is the most fearing of his Lord). And Sayyidna ` Ali al-Murtada (رض) defined a Faqih (master of Islamic jurisprudence) by saying: اِنَّ الفَقِیہِ حَقَّ الفَقِیہِ مَن لَّم یَقنط النَّاسَ مِن رَّحمَۃِ اللہِ وَ لَم یرخص لَھُم فِی مَعَاصِی اللہِ تَعَالٰی ، وَلم یُؤمِنھُم مَّن عَذَابِ اللہِ تَعَالٰی وَ لَم یَدَعُ القُرآنَ رَغبَہُ عَنہُ الٰی غَیرِہٖ اَنَّہ لَاخَیرَ فِی عِبَادَۃِ لَّاعِلمَ فِیھَا وَلَا عِلمِ لَّا فِقہ فِیہِ ولَاقِرَاَء لَّاتَدَبُّرَ فِیہِ (قرطبی) A Faqih, perfect as he must be, is he who would not make people lose hope in the mercy of Allah, nor leave them free to indulge in acts of disobedience to Him, nor give them the guarantee of remaining safe from the punishment of Allah, nor forsake the Qur&an by indulging in pursuits other than it. (And he said): Verily, there is no good in an act of worship that is without knowledge, and there is no good in a knowledge that is without understanding, and there is no recitation (Qira&ah of the Qur&an) without deliberation in it. (Qurtubi) The clarifications appearing above also help remove the doubt about many ` Ulama& who do not seem to have the kind of awe and fear of Allah required of them. These clarifications tell us that, in the sight of Allah, the bland knowledge of Arabic is not what &ilm is, and certainly, the one who is proficient in it is not an ` Alim. Anyone who does not have the fear of Allah in his heart is simply not an ` Alim in the terminology of the Qur&an. However, at times, awe and fear of Allah are rooted in one&s creed and reason because of which one adheres to the injunctions of the Shari’ ah as a matter of obligation. Then, there are occasions when this awe and fear of Allah become the very state of one&s existence and rise to the degree of a firmly ingrained asset whereby the readiness to follow the Shari’ ah becomes a natural reflex. The first degree of the awe and fear of Allah is mandatory and, for an ` Alim necessary. The second degree is certainly superior and sublime, but not necessary. (Bayan ul-Qur an)

(آیت) کذالک انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء، اس جگہ لفظ کذلک پر جمہور کے نزدیک وقف ہے، جو اس کی علامت ہے کہ یہ لفظ پچھلے مضمون کے ساتھ متعلق ہے۔ یعنی مخلوقات کو مختلف انواع و اقسام اور مختلف الوان پر بڑی حکمت کے ساتھ بنانا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی خاص نشانی ہے۔ اور بعض روایات سے مستفاد ہوتا ہے کہ اس لفظ کا تعلق اگلے جملے سے ہے۔ یعنی جس طرح ثمرات، پہاڑ، حیوانات اور انسان مختلف رنگوں پر منقسم ہیں، اسی طرح خشیت اللہ میں بھی لوگوں کے درجات مختلف ہیں، کسی کو اس کا اعلیٰ درجہ حاصل ہے، کسی کو کم، اور مدار اس کا علم پر ہے جس درجہ کا علم ہے اسی درجہ کی خشیت بھی ہے۔ (روح) سابقہ آیات میں ارشات فرمایا تھا (انما تنذر الذین یخشون ربہم بالغیب) جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے لئے فرمایا تھا کہ آپ کے انداز و تبلیغ کا فائدہ تو صرف وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو غائبانہ اللہ تعالیٰ سے خوف و خشیت رکھتے ہیں، اس کی مناسبت سے آیت (آیت) انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو اللہ تعالیٰ کی خشیت حاصل ہے۔ اور جیسا پہلے کفار و منکرین کا اور ان کے احوال کا ذکر آیا ہے، اس میں خاص اولیاء اللہ کا ذکر ہے۔ لفظ انما عربی زبان میں حصر بیان کرنے کے لئے آتا ہے، اس لئے اس جملے کے معنی بظاہر یہ ہیں کہ صرف علماء ہی اللہ سے ڈرتے ہیں مگر ابن عطیہ وغیرہ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ حرف انما جیسے حصر کے لئے آتا ہے ایسے ہی کسی کی خصوصیت کے بیان کرنے کے لئے بھی مستعمل ہوتا ہے، اور یہاں یہی مراد ہے کہ خشیة اللہ علماء کا وصف خاص اور لازم ہے۔ یہ ضرور نہیں کہ غیر عالم میں خشیة نہ ہو (بحر محیط، ابو حیان) اور آیت میں لفظ علماء سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ جل شانہ، کی ذات وصفات کا کماحقہ علم رکھتے ہیں، اور مخلوقات عالم میں اس کے تصرفات پر اور اس کے احسانات و انعامات پر نظر رکھتے ہیں۔ صرف عربی زبان یا اس کے صرف و نحو اور فنون بلاغت جاننے والوں کو قرآن کی اصطلاح میں عالم نہیں کہا جاتا جب تک اس کو اللہ تعالیٰ کی معرفت مذکورہ طریق پر حاصل نہ ہو۔ حسن بصری نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ عالم وہ شخص ہے جو خلوت و جلوت میں اللہ سے ڈرے، اور جس چیز کی اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ہے وہ اس کو مرغوب ہو اور جو چیز اللہ کے نزدیک مبغوض ہے اس کو اس سے نفرت ہو۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا۔ ” یعنی بہت سی احادیث یاد کرلینا یا بہت باتیں کرنا کوئی علم نہیں بلکہ علم وہ ہے جس کے ساتھ اللہ کا خوف ہو “ حاصل یہ ہے کہ جس قدر کسی میں خدائے تعالیٰ کا خوف ہے وہ اسی درجہ کا عالم ہے۔ اور احمد بن صالح مصری نے فرمایا کہ خشیتہ اللہ کو کثرت روایت اور کثرت معلومات سے نہیں پہچانا جاسکتا بلکہ اس کو کتاب و سنت کے اتباع سے پہچانا جاتا ہے۔ (ابن کثیر) شیخ شہاب الدین سہروردی نے فرمایا کہ اس آیت میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ جس شخص میں خشیت نہ ہو وہ عالم نہیں (مظہری) اس کی تصدیق اکابر سلف کے اقوال سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت ربیع بن انس نے فرمایا : ” یعنی جو اللہ سے نہیں ڈرتا وہ عالم نہیں “ اور مجاہد نے فرمایا : ” یعنی عالم تو صرف وہی ہے جو اللہ سے ڈرے “ سعد بن ابراہیم سے کسی نے پوچھا کہ مدینہ میں سب سے زیادہ فقیہ کون ہے ؟ تو فرمایا : اتقاہم لربہ ” یعنی جو اپنے رب سے زیادہ ڈرانے والا ہو “ اور حضرت علی مرتضیٰ نے فقیہ کی تعریف اس طرح فرمائی : ” فقیہ مکمل فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس بھی نہ کرے اور ان کو گناہوں کی رخصت بھی نہ دے اور ان کو اللہ کے عذاب سے مطمئن بھی نہ کرے، اور قرآن کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کی طرف رغبت نہ کرے، (اور فرمایا) اس عبادت میں کوئی خیر نہیں جو بےعلم کے ہو اور اس علم میں کوئی خیر نہیں جو بےقصہ یعنی بےسمجھ بوجھ کے ہو اور اس قرات میں کوئی خیر نہیں جو بغیر تدبر کے ہو “ مذکورہ تصریحات سے یہ شبہ بھی جاتا رہا کہ بہت سے علماء کو دیکھا جاتا ہے کہ ان میں خدا کا خوف و خشیت نہیں۔ کیونکہ تصریحات بالا سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نزدیک صرف عربی جاننے کا نام علم اور جاننے والے کا نام عالم نہیں جس میں خشیت نہ ہو وہ قرآن کی اصطلاح میں عالم ہی نہیں۔ البتہ خشیت کبھی صرف اعتضادی اور عقلی ہوتی ہے جس کی وجہ سے آدمی بہ تکلف احکام شرعیہ کا پابند ہوتا ہے، اور کبھی یہ خشیتہ حالی اور ملکہ راسخہ کے درجہ میں ہوجاتی ہے جس میں اتباع شریعت ایک تقاضائے طبیعت بن جاتا ہے۔ خشیت کا پہلا درجہ ماموربہ اور عالم کے لئے ضروری ہے دوسرا درجہ افضل واعلیٰ ہے ضروری نہیں۔ (از بیان القرآن)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَاۗبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ كَذٰلِكَ۝ ٠ ۭ اِنَّمَا يَخْشَى اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰۗؤُا۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ۝ ٢٨ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ دب الدَّبُّ والدَّبِيبُ : مشي خفیف، ويستعمل ذلک في الحیوان، وفي الحشرات أكثر، ويستعمل في الشّراب ويستعمل في كلّ حيوان وإن اختصّت في التّعارف بالفرس : وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] ( د ب ب ) دب الدب والدبیب ( ض ) کے معنی آہستہ آہستہ چلنے اور رینگنے کے ہیں ۔ یہ لفظ حیوانات اور زیادہ نر حشرات الارض کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور شراب اور مگر ( لغۃ ) ہر حیوان یعنی ذی حیات چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] اور زمین پر چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے ۔ نعم ( جانور) [ والنَّعَمُ مختصٌّ بالإبل ] ، وجمْعُه : أَنْعَامٌ ، [ وتسمیتُهُ بذلک لکون الإبل عندهم أَعْظَمَ نِعْمةٍ ، لكِنِ الأَنْعَامُ تقال للإبل والبقر والغنم، ولا يقال لها أَنْعَامٌ حتی يكون في جملتها الإبل ] «1» . قال : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] ، وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] ، وقوله : فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] فَالْأَنْعَامُ هاهنا عامٌّ في الإبل وغیرها . ( ن ع م ) نعام النعم کا لفظ خاص کر اونٹوں پر بولا جاتا ہے اور اونٹوں کو نعم اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ عرب کے لئے سب سے بڑی نعمت تھے اس کی جمع انعام آتی ہے لیکن انعام کا لفظ بھیڑ بکری اونٹ اور گائے سب پر بولا جاتا ہے مگر ان جانوروں پر انعام کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے ۔ جب اونٹ بھی ان میں شامل ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] اور تمہارے لئے کشتیاں اور چار پائے بنائے ۔ وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] اور چار پایوں میں بوجھ اٹھا نے والے ( یعنی بڑے بڑے بھی ) پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے ( یعنی چھوٹے چھوٹے بھی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں ۔ مل کر نکلا ۔ میں انعام کا لفظ عام ہے جو تمام جانوروں کو شامل ہے ۔ لون اللَّوْنُ معروف، وينطوي علی الأبيض والأسود وما يركّب منهما، ويقال : تَلَوَّنَ : إذا اکتسی لونا غير اللّون الذي کان له . قال تعالی: وَمِنَ الْجِبالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوانُها [ فاطر/ 27] ، وقوله : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] فإشارة إلى أنواع الألوان واختلاف الصّور التي يختصّ كلّ واحد بهيئة غير هيئة صاحبه، وسحناء غير سحنائه مع کثرة عددهم، وذلک تنبيه علی سعة قدرته . ويعبّر بِالْأَلْوَانِ عن الأجناس والأنواع . يقال : فلان أتى بالألوان من الأحادیث، وتناول کذا ألوانا من الطّعام . ( ل و ن ) اللون ۔ کے معنی رنگ کے ہیں اور یہ سیاہ سفید اور ان دونوں سے مرکب یعنی ہر قسم کے رنگ پر بولا جاتا ہے ۔ تلون کے معنی رنگ بدلنے کے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَمِنَ الْجِبالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوانُها[ فاطر/ 27] اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کی دھار یاں ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا مختلف الوادع و اقسام کے رنگوں اور شکلوں کے مختلف ہونے کی طرف اشارہ ہے اور باوجود اس قدر تعداد کے ہر انسان اپنی ہیئت کذائی اور رنگت میں دوسرے سے ممتاز کذابی اور رنگت میں دوسرے سے ممتاز نظر آتا ہے ۔ اس سے خدا کی وسیع قدرت پر تنبیہ کی گئی ۔ اور کبھی الوان سے کسی چیز کے لوادع و اقسام مراد ہوتے ہیں چناچہ محاورہ ہے اس نے رنگا رنگ کی باتیں کیں اور الوان من الطعام سے مراد ہیں قسم قسم کے کھانے ۔ خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزۃ العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

علم، حشیت اللہ پیدا کرتا ہے قول باری ہے (انما یخشی اللہ من عبادہ العلمو۔ اللہ سے ڈرتے بس وہی بندے ہیں جو علم والے ہیں) آیت میں علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے نیز یہ کہ علم کے ذریعے اللہ کی خشیت اور تقویٰ تک رسائی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ کی توحید اور اس کے عدل کی معرفت حاصل کرلیتا ہے اس کی یہ معرفت اسے خشیت اور تقویٰ تک پہنچا دیتی ہے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کی توحید، اس کے عدل اور کائنات کی تخلیق میں اس کے مقصد سے ناآشنا ہو وہ نہ تو اللہ سے ڈرتا ہے اور نہ ہی اس کے دل میں تقویٰ یعنی خوف خدا پیدا ہوتا ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے (یرفع اللہ الذین امنا منکم والذین اوتوا العلم درجات ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو تم میں سے ایمان لے آئے اور ان لوگوں کو جنہیں علم کی دولت دی گئی کئی درجے بلند کرتا ہے) نیز ارشاد ہے (ان الذین امنوا وعملوا الصالحات اولئک ھم خیر البریۃ۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے عمل صالح کیے یہی لوگ بہترین مخلوق ہیں) تاقول باری (ذلک لمن خشی ربہ۔ یہ سب باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتا ہے) اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ بہترین مخلوق وہ لوگ ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ آیت زیر بحث میں یہ خبر دی کہ علم والے لوگ ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ ان دونوں آیتوں کے مجموعی مفہوم سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ کی معرفت رکھنے والے لوگ ہی بہترین مخلوق ہیں اگرچہ معرفت الٰہی کے لحاظ سے ان کے آگے کئی طبقات ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے معرفت الٰہی رکھنے والے اہل علم کی جو خشیت باری کی صفت سے متصف ہوتے ہیں مزیدتوصیف کرتے ہوئے فرمایا (ان الذین یتلون کتاب اللہ واقاموا الصلوٰۃ وانفقوا مما رزقنھم سراو علانیۃ یرجون تجارۃ لن تبور۔ جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کی آس لگائے ہوئے ہیں جو کبھی ماند نہ پڑے گی) ۔ یہ بات ان لوگوں کی توصیف میں بیان کی گئی ہے جو اللہ سے ڈرنے والے اور اپنے علم کے مطابق عمل کرنے والے ہیں۔ ایک اور آیت میں اس شخص کا ذکر ہوا ہے جو اپنے علم کے موجب عمل سے گریزاں ہے۔ ارشاد ہوا : (واتل علیھم نبا الذی اتیناہ ایاتنا فانسلخ منھا فاتبعہ الشیطان فکان من الغاوین ولو شئنا لرفعاناہ بھا ولکنہ اخلد الی الارض واتبع ھواہ۔ اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیے جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں پھر وہ ان سے بالکل نکل گیا اور شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں داخل ہوگیا اور اگر ہم چاہتے تو اس کا مرتبہ ان نشانیوں کے ذریعے اونچا کردیتے لیکن وہ زمین کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش نفسانی کی پیروی کرنے لگا) ۔ یہ اس شخص کی کیفیت ہے جو عالم ہے لیکن بےعمل ہے جبکہ پہلی آیت عالم باعمل کی کیفیت میں بیان ہوئی ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ پہلے گروہ کے متعلق اللہ نے یہ خبر دی ہے کہ انہیں اللہ کی طرف سے کیے گئے وعدے پر پورا بھروسہ ہے اور اپنے اعمال پر ثواب کا پورا یقین ہے کیونکہ قول باری ہے (یرجون تجارۃ لن تبور)

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی کچھ ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں کہ بعض اوقات اختلاف اصناف کے ساتھ یہ چیز ہے۔ اور اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو اس کی عظمت کا علم رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی سلطنت و بادشاہت میں زبردست اور مومن کی مغفرت فرمانے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨{ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ کَذٰلِکَ } ” اور اسی طرح انسانوں ‘ جانوروں اور چوپایوں کے بھی مختلف رنگ ہیں۔ “ { اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُاط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ} ” یقینا اللہ سے ڈرتے تو اس کے بندوں میں سے وہی ہیں جو اہل علم ہیں۔ یقینا اللہ بہت زبردست ہے ‘ نہایت بخشنے والا۔ “ انسان کے دل میں اگر ایمان موجود ہے تو اس کے اندر لازماً خوفِ خدا بھی ہوگا۔ پھر جس قدر اس کے علم میں اضافہ ہوگا ‘ ارضیات ‘ حیوانات ‘ نباتات وغیرہ سے متعلق اس کی معلومات بڑھیں گی اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز کے بارے میں اس کا مطالعہ وسیع ہوتا چلا جائے گا اسی قدر اس کے دل میں اللہ کی عظمت اور خشیت بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ لیکن اگر کوئی شخص بنیادی طور پر صاحب ایمان نہیں ہے تو اللہ کی معرفت کے حوالے سے اس کی سماعت و بصارت اور سمجھ بوجھ سب بےکار ہیں۔ اس حوالے سے آج کے سائنسدانوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ آئے دن نئے نئے مشاہدات کرتے ہیں ‘ اور کائنات کے عجیب و غریب رازوں سے پردے اٹھاتے ہیں مگر اس ساری تدقیق و تحقیق کے دوران انہیں اللہ کی ذات کہیں نظر نہیں آتی۔ چناچہ اللہ کی عظمت وکبریائی اور حکمت و صناعی کی پہچان صرف وہی دل کرسکتا ہے جس کے اندر ایمان کی روشنی موجود ہے۔ ایسے دل میں اللہ کی معرفت جیسے جیسے بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے اس کی خشیت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

48 This is meant to impress that in the universe created by Allah nowhere is there homogeneity and uniformity; there is variety everywhere. From the same earth and by the same water different kinds of trees are appearing. Even the two pieces of the fruit of the same tree are not uniform in colour and size and taste. In the same mountain one will see a variety of colours and a great difference in the material composition of its different parts. Even among human beings and animals one will not see two offspring of the same parents exactly alike. If a person seeks uniformity of the temperaments and dispositions and mentalities in this universe and is bewildered at the differences which have been alluded to in vv. 19-22 above, it will be his own perception and understanding to blame. This same variety and difference, in fact, point to the reality that this universe has been created by a Wise Being with great wisdom; its Maker is a Unique Creator and a Matchless Fashioner, Who dces not have the same model of everything before Him, but has a variety of countless and limitless designs of everything. Then if one ponders over the differences in human temperaments and minds, in particular. one will see that it is not a mere accident, but in fact the masterpiece of the wisdom of creation. If all human beings had been created with the uniform temperaments and desires and feelings and inclinations and ways of thinking, and no room had been left for any difference, it would have been absolutely useless to bring about a new creation like man in the world. When the Creator decided to bring into existence a responsible creation, a creation having power and authority, the necessary inevitable demand of the nature of the decision was that room for all sorts of differences should be provided in its nature and structure. This is the main proof of the fact that the creation of man is not the result of an accident, but the result of a wonderful and wise plan and design. And obviously, wherever there is a wise plan and design, there must necessarily be a Wise Being working behind it, for the existence of wisdom without a Wise Being would be un-imaginable. 49 That is, the more a person is unaware of the attributes of Allah, the morc he will be fearless of Him. Contrary to this, the more a person is aware and conscious of Allah's powers, His knowledge, His wisdom, His vengeance and His omnipotence and His other attributes, the morc he will fear His disobedience. Thus, in fact, °knowledge" in this verse does not imply knowledge of academic subjects like philosophy and science and history and mathematics, etc. but the knowledge of Divine attributes, no matter whether one is literate or illiterate. The one who is fearless of God is illiterate merely as regards this knowledge even if he has All the knowledge of the world. And the one who knows the attributes of God and fears Him in his heart, is Iearned even if he is illiterate. In the same connection, one should also know that in this verse the ' ulama ' does not imply the scholars in the technical sense, who are termed as religious scholars because of their knowledge of the Qur'an and Hadith and Fiqh and philosophy. They will prove true to this verse only when they possess fear of God in their hearts. The same thing has been said by Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud, thus: "knowledge is not due to much narration of Hadith but due to much fear of Allah." And also by Hadrat Hassan Basri, thus: "The scholar is he who fears Allah though he has not seen Him, and turns to what is approved by Him and keeps away from what makes Him angry." 50 That is, He is All-Mighty, and therefore, can seize the disobedient as and when He likes: no one can escape His grasp. But He is All-Forgiving alsa and is, therefore, giving respite to the wrongdoers.

سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :48 اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ خدا کی پیدا کردہ کائنات میں کہیں بھی یک رنگی و یکسانی نہیں ہے ۔ ہر طرف تنُّوع ہی تنُّوع ہے ایک ہی زمین اور ایک ہی پانی سے طرح طرح کے درخت نکل رہے ہیں اور ایک درخت کے دو پھل تک اپنے رنگ ، جسامت اور مزے میں یکساں نہیں ہیں ۔ ایک ہی پہاڑ کو دیکھو تو اس میں کئی کئی رنگ تمہیں نظر آئیں گے اور اس کے مختلف حصوں کی مادی ترکیب میں بڑا فرق پایا جائے گا ۔ انسانوں اور جانوروں میں ایک ماں باپ کے دو بچے تک یکساں نہ ملیں گے ۔ اس کائنات میں اگر کوئی مزاجوں اور طبیعتوں اور ذہنیتوں کی یکسانی ڈھونڈے اور وہ اختلافات دیکھ کر گھبرا اٹھے جن کی طرف اوپر ( آیت نمبر 19 تا 22 میں ) اشارہ کیا گیا ہے تو یہ اس کے اپنے فہم کی کوتاہی ہے ۔ یہی تنوع اور اختلاف تو پتہ دے رہا ہے کہ اس کائنات کو کسی زبردست حکیم نے بے شمار حکمتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس کا بنانے والا کوئی بے نظیر خلاق اور بے مثل صناع ہے جو ہر چیز کا کوئی ایک ہی نمونہ لے کر نہیں بیٹھ گیا ہے ، بلکہ اس کے پاس ہر شے کے لیے نئے سے نئے ڈیزائن اور بے حد و حساب ڈیزائن ہیں ۔ پھر خاص طور پر انسانی طبائع اور اذہان کے اختلاف پر کوئی شخص غور کرے تو اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ درحقیقت حکمت تخلیق کا شاہکار ہے ۔ اگر تمام انسان پیدائشی طور پر اپنی افتاد طبع اور اپنی خواہشات ، جذبات ، میلانات اور طرز فکر کے لحاظ سے یکساں بنا دیے جاتے اور کسی اختلاف کی کوئی گنجائش نہ رکھی جاتی تو دنیا میں انسان کی قسم کی ایک نئی مخلوق پیدا کرنا ہی میرے سے لا حاصل ہو جاتا ۔ خالق نے جب اس زمین پر ایک ذمہ دار مخلوق اور اختیارات کی حامل مخلوق وجود میں لانے کا فیصلہ کیا تو اس فیصلے کی نوعیت کا لازمی تقاضا یہی تھا کہ اس کی ساخت میں ہر قسم کے اختلافات کی گنجائش رکھی جاتی ۔ یہ چیز اس بات کی سب سے بڑی شہادت ہے کہ انسان کسی اتفاقی حادثے کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک عظیم الشان حکیمانہ منصوبے کا نتیجہ ہے اور ظاہر ہے کہ حکیمانہ منصوبہ جہاں بھی پایا جائے گا وہاں لازماً اس کے پیچھے ایک حکیم ہستی کار فرما ہوگی ۔ حکیم کے بغیر حکمت کا وجود صرف ایک احمق ہی فرض کر سکتا ہے ۔ سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :50 یعنی وہ زبردست تو ایسا ہے کہ نافرمانوں کو جب چاہے پکڑ لے ، کسی میں یارا نہیں کہ اس کی پکڑ سے بچ نکلے ، مگر یہ اس کی شان عفو و در گزر ہے جس کی بنا پر ظالموں کو مہلت ملے جا رہی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: کائنات کی ان عجیب و غریب مخلوقات کو دیکھ کر اور ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی توحید پر استدلال کر کے انہی کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہوتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کی عظمت کا علم اور اس کی سمجھ ہے اور جو لوگ اس سمجھ سے محروم ہیں، وہ کائنات کے ان عجوبوں کی تہہ تک پہنچنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور اس کی عظمت تک نہیں پہنچتے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:28) ومن الناس۔۔ کذلک ای وکذلک من الناس اور اسی طرح انسانوں چارپائوں اور جانوروں کے رنگ جدا جدا ہیں اس جملہ کا عطف سابقہ جملہ پر ہے۔ العلمؤ۔ علمائ۔ عالم لوگ۔ اس رسم الخط میں یہ لفظ شعرا اور سورة فاطر میں آیا ہے یعنی میم کے بعد وائو اور اس پر ہمزہ اور وائو کے بعد الف بھی لکھا جاتا ہے اور پڑھا نہیں جاتا : علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ شیخ اجل شہاب الدین سہروردی (رح) لکھتے ہیں کہ اس آیۃ میں درپردہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جس کے دل میں خشیت نہیں وہ عالم نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت اور صفات کمالیہ کو جاننا مستلزم خشیت ہے خشیت علم کے لئے لازم ہے اور لازم کی نفی ملزوم کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ العلمؤا یخشی کا فاعل ہے۔ اللہ کو مقدم اور علماء کو مؤخر لانے سے علماء کی تخصیص ہوگئی یعنی اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء ہی ہیں (جو پوری طرح ) اس سے ڈرتے ہیں ای ان الذین یخشون اللہ من عبادہ العلمؤا دون غیرہم۔ ان اللہ عزیز غفور (بےشک اللہ تعالیٰ سب پر غالب، بہت بخشنے والا ہے) یہ خدا سے ڈرنے کے وجوب کی علت ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 علم سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات، افعال و احکام اور قدرتوں کا علم ہے نہ کہ صرف و نحو، فلسفہ تاریخ جغرافیہ اور سائنس وغیرہ رسی علوم اور حقیقت ہے کہ جس کسی شخص کو معرفت باللہ زیادہ حاصل ہوگی، اسی قدر وہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہوگا یعنی تقویٰ بقدر علم ہوتا ہے۔ انبیاء ( علیہ السلام) کو چونکہ حسب مراتب معرفت باللہ دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (انا اخشاکم للہ واتقاکم لہ) میں تم سب کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔ عالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ عالم نہیں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ڈر بڑا علم ہے اور اس سے بےخوفی بڑا جہالت ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں :” علم کثرت حدیث کا نام نہیں ہے بلکہ کثرت خشیت کا نام ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا ارشاد ہے : ” رحمان کا علم رکھنے والا وہ ہے جو شرک نہ کرے، اللہ کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے، اس کی ہدایت پر کار بند رہے اور اسے یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو کر تمام اعمال کا حساب ہوگا۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں : ” علم کثرت روایت کا نام نہیں ہے۔ بلکہ وہ تو ایک نور ہے جو اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ ( روح، ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ پس خشیت مقتضائے عزت بھی اور ہے مقتضائے غفوریت بھی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمآؤُا) (اللہ سے علم والے ہی ڈرتے ہیں) جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہے خواہ علم الآفاق ہو خواہ علم الانفس، خواہ علم المصنوعات ہو خواہ علم الکتاب، یہی لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں کیونکہ علم ذریعہ معرفت ہے، جسے جتنی معرفت حاصل ہوگی اسی قدر اپنے خالق ومالک سے ڈرے گا اور معاصی سے باز رہے گا ہاں اگر کوئی شخص علم ہوتے ہوئے بھی اپنے نفس کا اتباع کرے تو وہ گمراہ ہی رہے گا، کما قال اللہ تعالیٰ (اَفَرَءَ یْتَ مِنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوٰہُ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے بڑے عالم بھی تھے اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے بھی تھے، آپ نے فرمایا (اما واللّٰہ انی لأخشاکم للّٰہ واتقاکم لہ) (رواہ البخاری ج ٢: ص ٧٠٧ و مسلم ج ١: ص ٤٤٩) (خبردار ! اللہ کی قسم میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔ ) آیت کے آخر میں فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ) (بلاشبہ اللہ عزت والا ہے خوب بخشنے والا ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

ٖف 28:۔ انما یخشی الخ : یہ گذشتہ دلیل توحید کا حصہ نہیں بلکہ علیحدہ زجر ہے ایسے دلائل واضحہ کی موجودگی میں چاہئے تو یہ تھا کہ مشرکین راہ راست پر آجاتے اور صرف اللہ سے ڈرتے لیکن وہ خدا سے ڈرنے کے بجائے اپنے خود ساختہ معبودوں سے ڈرتے ہیں۔ صرف علماء جو اللہ کے دین اور اس کی توحید کو جانتے ہیں اور اس کے ساتھ شرک نہیں کرتے اور اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں وہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ عن ابن عباس العالم بالرحمن من عبادہ من لم یشرک بہ شیئا واحل حلالہ و حرم حرامہ و حفظ وصیتہ و ایقن انہ ملاقیہ و محاسب بعملہ (ابن کثیر ج 3 ص 553) ۔ ان اللہ عزیز غفور : یہ وعدہ غفران ہے۔ وہ گناہوں کی سزا بھی دے سکتا ہے لیکن اگر اس کے بندے اس سے معافی مانگیں تو معاف بھی فرما دیتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(28) اور اسی طرح آدمیوں میں اور رینگنے والے کیڑوں میں اور چوپایوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں اللہ تعالیٰ سے بس اس کے بندوں میں سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو اس کی قدرت و عظمت کا علم رکھتے ہیں یعنی علماء بیشک اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑی بخشش کرنے والا ہے۔ سورۂ رعد میں گزر چکا ہے کہ ایک ہی قسم کا پانی برستا ہے پھر اس پانی سے اللہ تعالیٰ رنگہارنگ کے نباتات جمادات اور حیوانات پیدا کرتا ہے۔ یہ اس کی خالقیت کا کمال ہے۔ پھلوں کے انواع میں تو رنگ اختلاف ظاہری ہے سیب کا رنگ اور ہے، بیر کا رنگ اور ہے، خربوزہ کا اور ہے، تربوز کا اور ہے بلکہ اصناف میں دیکھو تو بھی یہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ سیب ایک صنف ہے لیکن رنگ مختلف خربوزہ ایک صنف لیکن مختلف۔ یہی حالت پتھروں کی ہے کوئی سنگ مر مر ہے کوئی سنگ سرخ ہے اور کوئی سنگ باسی ہے۔ کوئی سنگ ہے یا سرمہ ہے جو گہرا اور بالکل سیاہ ہے۔ جدد جدہ کی جمع ہے جیسے مدد مدہ کی۔ بعض حضرات نے جدد کا ترجمہ گھاٹیاں بھی کیا ہے۔ پہاڑ کی گھاٹیوں میں گھسنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ دائیں طرف کا رنگ کچھ اور ہے بائیں طرف کا رنگ کچھ اور ہے پھر اسی طرح لوگوں میں کوئی کالا ہے کوئی گورا ہے۔ حبشی کا رنگ کچھ اور ہے کشمیری کا کچھ اور ہے۔ کیڑے مکوڑے بھی مختلف رنگ رکھتے ہیں۔ بچھو بھی کئی رنگ کے اور سانپ بھی بیشمار رنگ کے، چوپایوں کا بھی یہی حال انواع اگر مراد لو تو گائے کا رنگ بھینس سے جدا، اونٹ کا رنگ ہاتھی سے جدا، اصناف مراد لو تو بکریوں کے مختلف رنگ بھیڑوں کے مختلف رنگ، غرض ! سارا عالم گوناگوں رنگوں سے لبریز ہے۔ پھولوں کا رنگ اور ان کے انواع و اقسام تو بےحساب ہیں ان تمام چیزوں کا بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے خشیت علماء کو میسر ہوتی ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان سے علماء ہی واقف ہیں اس لئے وہی ڈرتے ہیں۔ آگے بطور دلیل فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ زبردست قوت و طاقت کا مالک ہے اور بڑا بخشنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سب آدمی ڈرنے والے نہیں ڈرنا اللہ سے سمجھ والوں کی صفت ہے اور اللہ کی معاملت بھی دو طرح ہے۔ زبردست بھی ہے کہ ہر خطا پر پکڑے اور غفور بھی ہے کہ ہر گنہگار کو بخشے۔ یہاں حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا اور سورة بینہ میں فرمایا ذلک لمن خشی ربہ یعنی جنت اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ انما یخشی اللہ کے مفسرین نے کئی طرح معنی کئے ہیں مگر ہم نے شاہ صاحب کا قول اختیار کیا ہے۔ آیت کے مضمون کا تعلق بظاہر انذار اور خشیت الٰہی سے ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی و تشفی سے ہو اور مطلب یہ ہو کہ جیسے اندھے اور سما کے میں فرق ہے اور اندھیرے اجالے میں اختلاف ہے۔ گرمی اور ٹھنڈک میں اختلاف ہے ایسا اختلاف ہر پتھر اور درخت میں موجود ہے اس لئے اگر کوئی ایمان نہ لائے تو آپ کو افسوس اور رنج و غم کی کیا ضرورت ہے۔ مفسرین کی یہ دونوں توجیہیں مشہور ہیں اوپر جس مجازات و مکافات کی طرف اشارہ فرمایا تھا اسی کی آگے تفصیل فرمائی۔