Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 38

سورة فاطر

اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیۡبِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۳۸﴾

Indeed, Allah is Knower of the unseen [aspects] of the heavens and earth. Indeed, He is Knowing of that within the breasts.

بیشک اللہ تعالٰی جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا بیشک وہی جاننے والا ہے سینوں کی باتوں کا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says: إِنَّ اللَّهَ عَالِمُ غَيْبِ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ Verily, Allah is the All-Knower of the Unseen of the heavens and the earth. Verily, He is the All-Knower of that is in the breasts. Here Allah tells us that He knows the unseen in the heavens and earth, and that He knows all that is hidden and the secrets of the hearts. And He tells us that He will reward or punish everyone according to his deeds. Then Allah says:

وسیع العلم اللہ تعالیٰ کا فرمان ۔ اللہ تعالیٰ اپنے وسیع اور بےپایاں علم کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا عالم ہے دلوں کے بھید سینوں کی باتیں اس پر عیاں ہیں ۔ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ وہ دے گا ، اس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا خلیفہ بنایا ہے ۔ کافروں کے کفر کا وبال خود ان پر ہے ۔ وہ جیسے جیسے اپنے کفر میں بڑھتے ہیں ویسے ہی اللہ کی ناراضگی ان پر بڑھتی ہے اور ان کا نقصان اور زیاں ہوتا جاتا ہے ۔ برخلاف مومن کے کہ اس کی عمر جس قدر بڑھتی ہے نیکیاں بڑھتی ہیں اور درجے پاتا ہے اور اللہ کے ہاں مقبول ہوتا جاتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

38۔ 1 یہاں یہ بیان کرنے سے یہ مقصد بھی ہوسکتا ہے کہ تم دوبارہ دنیا میں جانے کی آرزو کر رہے ہو اور دعوٰی کر رہے ہو کہ اب نافرمانی کی جگہ اطاعت اور شرک کی جگہ توحید اختیار کرو گے۔ لیکن ہمیں علم ہے تم ایسا نہیں کرو گے۔ تمہیں اگر دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تو وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو جیسے دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا ' اگر انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہی کام کریں گے جن سے انہیں منع کیا گیا '۔ 38۔ 2 یہ پچھلی بات کی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو آسمان اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا علم کیوں نہ ہو، جبکہ وہ سینوں کی باتوں اور رازوں سے بھی واقف ہے جو سب سے زیادہ پوشیدہ ہوتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٤٢] یعنی وہ ان فریاد کرنے والے اہل دوزخ کے متعلق خوب جانتا ہے کہ وہ اب بھی جھوٹ بک رہے ہیں۔ ان کی افتاد طبع ہی ایسی ہے کہ اگر انہیں دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو اپنی خباثتوں اور شرارتوں سے کبھی باز نہ آئیں گے جیسا کہ سورة انعام میں فرمایا : ( وَلَوْرُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُھُوْا عَنْہُ وَإنَّھُمْ لَکَاذِبُوْنَ ) (٦: ٢٨)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَيْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ : اللہ تعالیٰ آسمان و زمین میں ہر غائب چیز کو جاننے والا ہے، اس کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں، وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی خوب جانتا ہے اور تمہارے دلوں میں چھپے ہوئے کفر پر اصرار سے بھی خوب واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اتنی مدت تک عمر دینے پر جب تم کفر پر قائم رہے تو مزید عمر دینے پر بھی تم یہی کچھ کرتے اور اسے خوب معلوم ہے کہ اگر وہ تمہاری درخواست قبول کرکے تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دے تو تم پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ) [ الأنعام : ٢٨ ] ” اور اگر انھیں دوبارہ بھیج دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور یقیناً وہ جھوٹے ہیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر بیشک اللہ (وہی) جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا بیشک وہی جاننے والا ہے دل کی باتوں کا (پس کمال علمی تو اس کا ایسا ہے، اور کمال عملی جو کہ قدرت اور نعمت دونوں پر دلالت کرتا ہے یہ ہے کہ) وہی ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا (اور ان دلائل احسانات کا مقتضا یہ تھا کہ استدلا لاً وشکراً توحید و اطاعت اختیار کرلیتے، مگر بعضے اس کے خلاف کفر و عداوت پر مصر ہیں) سو (کسی دوسرے کا کیا بگڑتا ہے، بلکہ) جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور (اس وبال کی تفصیل یہ ہے کہ) کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضگی ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے (جو دنیا ہی میں متحقق ہوجاتی ہے) اور (نیز) کافروں کے لئے ان کا کفر (آخرت میں) خسارہ بڑھنے کا باعث ہوتا ہے (کہ وہ حرمان ہے۔ جنت سے اور کندہ بنتا ہے جہنم کا اور یہ جو کفر و شرک پر مصر ہیں) آپ (ان سے ذرا یہ تو) کہتے کہ تم اپنے قرار دادہ شریکوں کا حال تو بتلاؤ جن کو تم خدا کے سوا پوجا کرتے ہو، یعنی مجھ کو یہ بتلاؤ کہ انہوں نے زمین کا کونسا حصہ بنایا ہے یا ان کا آسمان (بنانے) میں کچھ ساجھا ہے، (تا کہ دلیل عقلی سے ان کا استحقاق عبادت ثابت ہو) یا ہم نے ان (کافروں) کو کوئی کتاب دی ہے (جس میں شرک کے اعتقاد کو درست لکھا ہو) کہ یہ اس کی دلیل پر قائم ہوں (اور اس دلیل نقلی سے اپنے دعوے کو ثابت کردیں۔ اصل یہ ہے کہ نہ دلیل عقلی ہے نہ دلیل نقلی ہے) بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے سے نری دھوکہ کی باتوں کا وعدہ کرتے آئے ہیں (کہ ان کے بڑوں نے ان کو بےسند غلط بات بتلا دی کہ (لہولاء شفعاؤنا عند اللہ) حالانکہ واقع میں وہ محض بےاختیار ہیں، پس وہ مستحق عبادت نہیں ہو سکتے۔ البتہ مختار مطلق حق تعالیٰ ہے تو وہی قابل عبادت ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے مختار اور دوسروں کے غیر مختار ہونے کے دلائل میں سے نمونہ کے طور پر ایک مختصر سی بات بیان کرتے ہیں کہ دیکھو یہ تو) یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو (اپنی قدرت سے) تھامے ہوئے ہے کہ وہ موجودہ حالات کو چھوڑ نہ دیں اور اگر (بالفرض) وہ موجودہ حالت کو چھوڑ بھی دیں تو پھر خدا کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا۔ (جب ان سے پیدا شدہ عالم کی حفاظت بھی نہیں ہو سکتی تو عالم کو وجود میں لانے اور ایجاد کرنے کی ان سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے، پھر استحقاق عبادت کیسا اور باوجود بطلان کے شرک کرنا مقتضی اس کو تھا کہ ان کو ابھی سزا دی جاوے مگر چونکہ) وہ حلیم (ہے اس لئے مہلت دے رکھی ہے اور اگر اس مہلت میں یہ لوگ حق کی طرف آ جاویں تو چونکہ وہ) غفور (بھی) ہے، اس لئے سب گزشتہ شرارتیں ان کی معاف کردی جاویں) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ اللہَ عٰلِمُ غَيْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ عَلِـيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۝ ٣٨ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ صدر الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ، وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] ، ثم استعیر لمقدّم الشیء كَصَدْرِ القناة، وصَدْرِ المجلس، والکتاب، والکلام، وصَدَرَهُ أَصَابَ صَدْرَهُ ، أو قَصَدَ قَصْدَهُ نحو : ظَهَرَهُ ، وكَتَفَهُ ، ومنه قيل : رجل مَصْدُورٌ: يشكو صَدْرَهُ ، وإذا عدّي صَدَرَ ب ( عن) اقتضی الانصراف، تقول : صَدَرَتِ الإبل عن الماء صَدَراً ، وقیل : الصَّدْرُ ، قال : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] ، والْمَصْدَرُ في الحقیقة : صَدَرٌ عن الماء، ولموضع المصدر، ولزمانه، وقد يقال في تعارف النّحويّين للّفظ الذي روعي فيه صدور الفعل الماضي والمستقبل عنه . ( ص در ) الصدر سینہ کو کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] میرے پروردگار اس کا م کے لئے میرا سینہ کھول دے ۔ اس کی جمع صدور آتی ہے جیسے فرمایا : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] اور جو بھید دلوں میں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے ۔ وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ ہر چیز کے اعلیٰ ( اگلے ) حصہ کو صدر کہنے لگے ہیں جیسے صدرالقناۃ ( نیزے کا بھالا ) صدر المجلس ( رئیس مجلس ) صدر الکتاب اور صدرالکلام وغیرہ صدرہ کے معنی کسی کے سینہ پر مارنے یا اس کا قصد کرنے کے ہیں جیسا کہ ظھرہ وکتفہ کے معنی کسی کی پیٹھ یا کندھے پر مارنا کے آتے ہیں ۔ اور اسی سے رجل مصدور کا محاورہ ہے ۔ یعنی وہ شخص جو سینہ کی بیماری میں مبتلا ہو پھر جب صدر کا لفظ عن کے ذریعہ متعدی ہو تو معنی انصرف کو متضمن ہوتا ہے جیسے صدرن الابل عن الماء صدرا وصدرا اونٹ پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹ آئے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے ۔ اور مصدر کے اصل معنی پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹنا کے ہیں ۔ یہ ظرف مکان اور زمان کے لئے بھی آتا ہے اور علمائے نحو کی اصطلاح میں مصدر اس لفظ کو کہتے ہیں جس سے فعل ماضی اور مستقبل کا اشتقاق فرض کیا گیا ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے اگر تمہیں پھر دنیا میں بھیج دیا جائے تو پھر تم ان ہی باتوں کا ارتکاب کرو گے جن سے تمہیں روکا گیا تھا اور دلوں میں جو نیکی اور برائی پوشیدہ ہے وہ ہی اس کا جاننے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨{ اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ” یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کا۔ “ { اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ } ” یقینا وہ واقف ہے سینوں میں چھپے رازوں سے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٨ تا ٤٠۔ اوپر فرما نبردار اور نافرمان لوگوں کا قیامت کے دن کا انجام کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اللہ تعالیٰ غیب د ان ہے اس لیے اس نے اپنے علم غیب کے موافق ابھی سے لوگوں کو قیامت کے انجام سے ہو شیار کردیا اور اس کو دلوں کی بھید تک معلوم ہے اس واسطے جزا وسزا کے وقت اس سے دل کا اعتقاد یا ہاتھ پیر کا کام یا منہ کی بھلی بری بات کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رو سکتی پھر فرمایا پہلے کے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کر کے ان لوگوں کو ان کی جگہ پر پیدا کیا اس لیے پہلے کے لوگوں کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر ان لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ شرک سے اللہ تعالیٰ کس قدر نیرار ہے اور شرک کے سبب سے پہلے کے مشرکوں کو کیا نقصان پہنچ چکا ہے ‘ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے پوچھو تو سہی کہ ان کے تبوں نے ان کو یا ان کی ضرورت کسی کسی چیز کو پیدا کیا ہے یا اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ہیں ان کے بتوں کی کچھ شراکت ہے یا اللہ تعالیٰ نے تبوں کی پوجا کی ان مشرکوں کے پاس کوئی سند بھیجی ہے جس ان باتوں میں سے کسی بات کو یہ لوگ ثابت نہیں کرسکتے تو ان کے بہکانے والوں نے ان کی سفارش کا وعدہ جو کر رکھا ہے وہ ایک دھوکے کی ٹٹی ہے جس کا حال ان کو قیامت کے دن معلوم ہوجاوے گا پھر فرمایا یہ شرک ایسی چیز ہے جس کے خوف سے آسمان و زمین اپنی جگہ سے ہل جاویں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے ان کو تھام رکھا ہے شریک کے وبال سے آسمان و زمین کے پھٹ جانے اور پہاڑوں کے ہل جانے کا ذکر سورة مریم میں گزر چکا ہے ان آیتوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل وہی ہے جو بیان کیا گیا ’ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ ١ ؎ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے (١ ؎ مشکوۃ باب الظلم۔ ) کہ اللہ تعالیٰ اپنی بردباری سے نافرمان لوگوں کو پہلے تو مہلت دیتا ہے اور مہلت کے زمانہ میں جب یہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو سخت عذاب میں پکڑا لیتا ہے ‘ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہلت کے زمانہ میں عقبیٰ کے انجام سے پہلے بتوں کی بےاختیاری سے شرک سے ڈر کر آسمان و زمین کے کا نپنے سے شرک کے وبال سے پچھلی قوموں کے بر باد ہوجانے کی غرض سے ہر طرح قریش میں کے سرکش لوگوں کو سمجھایا جب یہ لوگ سمجھانے سے باز نہ آئے تو بدر کی بڑائی کے وقت ان کے سب سرکشی خاک میں مل گئی دینا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عقبے کے عذاب میں گرفتار ہوگئے چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک (رض) کی حدیث کے حوالہ سے ان کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اس بناء پر اسے خوب معلوم ہے کہ اگر تمہیں دوبارہ بھی دنیا میں بھیج دیا جائے تو تم ہرگز نیک کام نہ کرو گے جیسا کہ دوسرے مقام ( انعام : 28) پر فرمایا ( ولو اردوا لعادوا المانھوا عنہ) اور اگر انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تب بھی وہی کام کرینگے جن سے انہیں منع کیا گیا تھا۔ ( قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 45: اسرار و معارف : یقیناً اللہ ارض و سما کے سب بھیدوں سے واقف اور سب رازوں کو جانتا ہے اور وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے اسے علم ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا تھے اور کس طرح تم نے اس کی نافرمانی کی اس کا کتنا بڑا احسان تھا کہ تمہیں زمین پر آباد کیا اور دوسروں کا جانشین بنایا تمہیں چاہیے تھا کہ خود مثال بننے کی بجائے پہلوں کی مثال سے سبق حاصل کرتے اور اللہ کی اطاعت کرتے مگر تم نے کفر کی راہ اپنائی تو تمہارے اس عمل سے کسی کا کچھ نہ بگڑا بلکہ تمہارا کفر خود تمہارے ہی لیے وبال جان بن گیا اور یاد رکھو کہ کفر اور نافرمانی پہ اللہ کا غضب ہی مرتب ہوتا ہے۔ جوں جوں کفر کرتے چلے جاؤ اللہ کا غضب بڑھتا جاتا ہے اور یہی کافر کا سب سے زیادہ نقصان ثابت ہوتا ہے کہ یہ نقصان ہمیشہ زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہیے کہ یہ خود غور تو کو ریں کہ اللہ کے علاوہ جن کے بھروسے پہ یہ جیتے ہیں اور جن کی عبادت بزعم خود کرتے ہیں بھلا ہمیں بھی دکھائیں تو سہی انہوں نے زمین پر کی حیات میں کونسی شے تخلیق کی ہے یا ان کی آسمانی دنیا میں کوئی حصہ داری اور شراکت ہے جب یہ سب کچھ نہیں تو انہیں ان مشرکانہ عقائد کے لیے کیا ہم نے کوئی آسمانی کتاب عطا کردی ہے کہ ان کے پاس وہ دلیل ہے ہرگز نہیں کوئی عقلی یا نقلی دلیل ان کے کفر و شرک کی تائید میں نہیں بلکہ یہ آپس میں بھی جھوٹ بول کر دھوکے فریب سے ایک دوسرے کو تسلی دیتے رہتے ہیں ورنہ ارض و سماء کو یوں تھامنا کہ ہر حرکت و سکون میں طے شدہ پروگرام کے مطابق قائم رہیں کہ حیات خلق باقی رہے اور پھلتی پھولتی رہے یہ صرف اللہ کا کام ہے ورنہ اگر یہ ان راستوں یا طے شدہ حرکات سے ٹل جائیں تو اللہ کے علاوہ کوئی بھی انہیں روک نہیں سکتا یہ اللہ ہی کا احسان ہے کہ انسان کے کفر و شرک کے باوجود اس عالم کو آباد رکھے ہوئے ہے۔ یہ اس کا حلم ہے بخشش کہ درگزر فرمائے جا رہا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو قبل بعثت تو قسمیں کھایا کرتے تھے کہ انبیاء کی تعلیمات ہی نابود ہوگئیں اگر ہمیں کوئی آخرت خبر دینے والا نبی مبعوث ہوا تو ہم ہر امت اور ہر قوم سے بڑھ کر اس کی اطاعت کریں گے اور سب سے زیادہ ہدایت کی راہ پر چلنے والے ثابت ہوں گے لیکن جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو اطاعت تو کجا ان سے یہ نعمت برداشت ہی نہ ہوسکی اور سخت نفرت کا اظہار کرنے لگے کہ انہیں ان کے تکبر اور اپنی ذاتی بڑائی کے غرور نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف بری بری تدبیریں کرنے پر اکسایا۔ اور ان کی برائی کا داؤ خود ان ہی پر الٹے گا کہ برائی کا نتیجہ تو برائی کرنے والا ہی بھگتتا ہے کیا انہوں نے اپنے سے پہلے والوں کا حال نہیں دیکھا کہ انہوں نے انبیاء کے خلاف تجاویز کیں تو الٹا خود تباہ ہوگئے یہی اللہ کا قانون ہے اور اللہ کریم کے طے شدہ ضابطے ہمیشہ ایک سے رہتے ہیں اور اس کے قوانین کسی کی تدابیر سے ٹل نہیں جاتے۔ یہ سب باتیں تو اگلی قوموں کے احوال سے بھی ظاہر ہیں کہ یہ بھی تو روئے زمین پر سفر کرتے ہیں تو دیکھیں کہ ان سے پہلے جن اقوام نے کفر و شرک کی راہ اپنائی اور غرور وتکبر میں گرفتار ہوئے ان کا کیا انجام ہوا حالانکہ وہ لوگ ان کی نسبت بہت زیادہ طاقتور تھے اور بہت زیادہ مال و اسباب رکھتے تھے لیکن اللہ کی گرفت کو روکنے کی طاقت کسی آسمانی یا زمین مخلوق میں ہرگز نہیں اللہ ہی سب کچھ جاننے والا بھی ہے کہ ہر ایک کے ہر حال سے واقف ہے اور ہر چیز پہ قادر بھی ہے جو چاہے کرے۔ یہ تو اس کا کرم ہے کہ درگذر فرماتا ہے اور مہلت دیتا چلا جاتا ہے ورنہ ان کے کردار کے مطابق اگر گرفت فرمانے لگتا تو زمین کی پشت پر کوئی ذی روح بھی باقی نہ بچتا کہ انسانی آبادیاں تباہ ہوتیں تو دوسری مخلوق جس کی وجہ تخلیق ہی انسانوں کی خدمت ہے ساتھ تباہ ہوجاتی لیکن آخر کب تک اگر اس اجتماعی بربادی سے اللہ نے مہلت بھی دی تو آخر یہاں سے جانے کی گھڑی تو آ ہی پہنچے گی اس وقت تو انہیں جانا ہی ہوگا رہی یہ بات کہ یہاں سے تو نیک و بد سب کو جانا ہے تو کیا سب کا ایک ہی حال ہے نہیں بلکہ اللہ اپنے بندوں کے حال سے خوب واقف ہے اسے علم ہے کہ کون کیسا ہے اور وہ کیسے حال کو پہنچنا چاہیے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن :۔ آیت نمبر 38 تا 41 :۔ ذات ( والا) مقت ( عذاب) خسار ( نقصان ، گھاٹا) ارونی ( مجھے دکھائو) یمسک (وہ سنبھالتا ہے) ان تزولا ( یہ کہ وہ دونوں ڈھلک نہ جائیں) تشریح : آیت نمبر 38 تا 41 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کر کے اس کا نظام ایسا بنایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کے ہر راز اور بھید سے وہ اچھی طرح واقف ہے۔ کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اس زمین و آسمان کی تمام مخلوق کی نیتوں ، خواہشوں ، اعتقاد ات اور دلوں کا حال جاننے والا ہے اور وہ قیامت میں ان کے ساتھ ان کے اعمال کے مطابق فیصلہ فرمائے گا ۔ لیکن وہ لوگ جو اللہ کا قولی یا عملی طور پر انکار کر رہے ہیں اور ان کے پاس اپنی باتوں کو ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل یا سند بھی نہیں ہے تو ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے کہ سب کچھ جاننے کے باوجود ان کے کفر اور آخرت کے نقصان میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے بلکہ وہ کفر و شرک میں آگے ہی بڑھتے جا رہے ہیں۔ فرمایا کہ ( اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے پوچھئے کہ ذرا مجھے بھی تو دکھائو وہ کون سے تمہارے معبود ہیں جو تمہاری ہر حاجت اور ضرورت کو پورا کرنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ فرمایا کہ کہئے اللہ نے تو سب کچھ پیدا کیا ہے لیکن تمہارے ان جھوٹے معبودوں نے کائنات کے کس ذرے کو پیدا کیا ہے یا انہوں نے اللہ کے ساتھ مل کر اس کائنات کے بنانے میں کیا شرکت کی ہے ؟ یقینا ان کے دل اور ضمیر چیخ اٹھیں گے کہ واقعی یہ سب کچھ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے جس کی تخلیق میں وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ فرمایا کہ ( اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے پوچھئے کہ یہ سب باتیں کہنے کے لئے تمہارے پاس وہ کون سی کتاب نازل کی گئی ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ اللہ کے سوا یہ بےبس اور عاجز و محبوربت بھی اللہ کے ساتھ شریک رہے ہیں۔ فرمایا کہ ان ظالموں نے لوگوں کو کتنے بڑے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے ان آسمانوں اور زمین کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ وہ ان کو سنبھالے ہوئے ہے۔ اگر وہ اس پورے نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے نہ ہوتا تو زمین و آسمان ایک دوسرے سے ٹکرا کر ختم چکے ہوتے ۔ فرمایا کہ اللہ ان کافروں کی فوراً ہی گرفت نہیں کرتا بلکہ ان کو اپنے حلم و برداشت اور معاف کردینے کی عادت کی وجہ سے نظر انداز کر رہا ہے ۔ اگر اللہ ان کو ہر گناہ پر اسی وقت پکڑ لیا کرتا جب یہ کوئی گناہ یا خطا کرتے تو یہ روئے زمین پر ایک دن بھی نہ ٹھہر سکتے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے حضور جہنمی فریاد پر فریاد کریں گے کہ ہمیں ایک مرتبہ دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ہم صالح اعمال کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کی فریاد کو مستر کردے گا۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کے غیب ہی نہیں جانتا بلکہ وہ تو لوگوں کے سینوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے ماضی، حال اور مستقبل سے پوری طرح واقف ہے۔ اسے معلوم ہے کہ جہنمی دنیا میں واپس جاکر وہی اعمال کریں گے جن سے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور دین کے مبلغین منع کیا کرتے تھے اس لیے ان کی آہ وزاریوں کو مسترد کردیا جائے گا۔” اللہ “ ہی لوگوں کو ایک دوسرے کا جانشین بنانے والا اور ان تک اپنے احکام پہنچانے والا ہے۔ لیکن انکار کرنے والے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ یہ لوگ اپنے انجام کو پالیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اصول ہے کہ جس نے اس کی ذات اور بات کا انکار کیا اس کا بوجھ اسی پر ہوگا۔ کفارکا کفر اللہ تعالیٰ کے غضب کو زیادہ ہی کرتا ہے۔ ” خَلِیْفَۃٌ“ کی جمع ” خَلَا ءِفٌ“ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک نسل ختم ہونے کے بعد دوسری نسل کا وارث بننا۔ بعض لوگوں نے خلیفہ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا خلیفہ قرار دیا ہے۔ جس کے لیے ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں۔ آدم (علیہ السلام) سے پہلے زمین پر جنات بستے تھے اس لیے بہتر ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا خلیفہ قرار دینے کی بجائے جنوں کا خلیفہ قرار دیا جائے۔ کچھ اہل علم نے خلیفہ کا معنٰی حکمران لیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک زمین میں حکمرانی عطا فرمائی ہے۔ اسی بنیاد پر ارشاد فرمایا : (وَ ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓءِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) [ الانعام : ١٦٥] ” اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین کا جانشین بنایا اور تمہیں ایک دوسرے پر درجات میں بلند کیا تاکہ ان چیزوں میں تمہاری آزمائش کرے جو اس نے تمہیں دی ہیں بیشک آپ کا رب بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بےحد بخشنے والا، مہربان ہے۔ “ (اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بالْمَعْرُوْفِ وَ نَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ ) [ الحج : ٤١] ” یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر بات اور لوگوں کے دلوں کے راز کو جانتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک دوسرے کا خلیفہ بنایا ہے۔ ٣۔ کفار کا کفر انہی کے نقصان میں اضافہ کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن خلیفہ اور اس کی ذمہ داریاں : ١۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین میں خلیفہ بنایا۔ ( البقرۃ : ٣٠) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو خلیفہ بنایا۔ (ص : ٢٦) ٣۔ ہم نے زمین میں ان کے بعد تمہیں خلافت دی تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔ (یونس : ١٤) ٤۔ اگر اللہ چاہتا تو تمہیں لے جاتا اور تمہارے بعد کسی اور کو خلیفہ بنا دیتا۔ (الانعام : ١٣٣) ٥۔ میرا رب تمہارے سوا کسی اور کو خلافت دے دے تو تم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (ہود : ٥٧) ٦۔ عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین کی خلافت عطا کرے گا۔ (الاعراف : ١٢٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان اللہ علم ۔۔۔۔۔ بذات الصدور (38) ” “۔ اللہ کا کامل و شامل اور وسیع و عریض علم تو ان موضوعات کے بعد بیان کیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے کتاب نازل کی اور اس کتاب کے جو لوگ وارث بتائے گئے ہیں ، دو جہاں والوں سے برگزیدہ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اگر بعض لوگوں سے کوئی ظلم و تقصیر صادر ہوجائے تو اللہ ان کو معاف کر دے گا۔ یہ اللہ کی جانب سے ان پر فضل و کرم ہوگا اور پھر اہل کفر کا جو انجام بتایا گیا۔ ان سب حقائق پر یہ آخری تبصرہ کہ وہ عالم الغیب ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں پائی جانے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ وہ دلوں کی باتوں کو بھی جانتا ہے لہٰذا وہ تمام فیصلے اپنے اس عظیم اور کامل و شامل علم کے ذریعے کرے گا۔ اللہ کے فیصلوں میں کوئی ناانصافی نہ ہوگی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

35:۔ ان اللہ الخ، یہ دسویں عقلی دلیل ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے غیب داں ہونے کا اثبات ہے زمین و آسمان کی ہر پوشیدہ چیز کو ہر جاندار کے دل کی پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا وہی سب کا فریاد رس اور کارساز ہے اس لیے مصائب و حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارا کرو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(38) بلاشبہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور زمین کی تمام پوشیدہ چیزوں کا عالم اور جاننے والا ہے۔ بلاشبہ وہ ان باتوں کو بھی خوب جانتا ہے جو سینوں میں پوشیدہ ہیں۔ یعنی اس کے کمال علمی کا یہ حال ہے کہ مغیبات سماوی و ارضی سب کا عالم اور سینوں کے پوشیدہ بھید جاننے والا ہے آگے کمال قدرت کا بیان ہے۔