Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 69

سورة يس

وَ مَا عَلَّمۡنٰہُ الشِّعۡرَ وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہٗ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ وَّ قُرۡاٰنٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۶۹﴾

And We did not give Prophet Muhammad, knowledge of poetry, nor is it befitting for him. It is not but a message and a clear Qur'an

نہ تو ہم نے اس پیغمبر کو شعر سکھائے اور نہ یہ اس کے لائق ہے ۔ وہ تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ ... And We have not taught him poetry, nor is it suitable for him. Allah tells us that He has not taught His Prophet Muhammad poetry. ... وَمَا يَنبَغِي لَهُ ... nor is it suitable for him. means, he did not know how to compose it, he did not like it and he had no natural inclination towards it. It was narrated that he never memorized a stanza of poetry with the correct meter or rhyme -- he would transpose words or memorize it incompletely. In Ad-Dala'il, Al-Bayhaqi recorded that the Messenger of Allah said to Al-Abbas bin Mirdas As-Sulami, may Allah be pleased with him: أَنْتَ الْقَايِلُ أَتَجْعَلُ نَهْبِي وَنَهْبَ الْعُبَيدِ بَيْنَ الاَْقْرَعِ وَعُيَيْنَة You are the one who said: "Do you distribute my booty and the booty of the servants between Al-Aqra` and `Uyainah." He said, "It is `Uyainah and Al-Aqra`." He said: الْكُلُّ سَوَاء It is all the same. i.e., it means the same thing. And Allah knows best. This is because Allah taught him the Qur'an, which لاَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلاَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ (Falsehood cannot come to it from before it or behind it; sent down by the All-Wise, Worthy of all praise). (41:42) This is not poetry, as some of the ignorant disbelievers of the Quraysh claimed; neither is it sorcery, a fabrication or a magic spell, as the misguided and ignorant people variously suggested. The Prophet was naturally disinclined to compose verse, and was forbidden to do so by Divine Law. ... إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ وَقُرْانٌ مُّبِينٌ This is only a Reminder and a plain Qur'an. means, it is clear and self-explanatory to the one who ponders and comprehends its meanings, Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

69۔ 1 مشرکین مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلانے کے لئے مختلف قسم کی باتیں کہتے رہتے تھے۔ ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن پاک آپ کی شاعرانہ تک بندی ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی فرمائی۔ کہ آپ شاعر ہیں اور نہ قرآن شعری کلام کا مجموعہ ہے بلکہ یہ تو صرف نصیحت و موعظت ہے۔ شاعری میں بالعموم مبالغہ، افراط وتفریط اور محض تخیلات کی ندرت کاری ہوتی ہے، یوں گویا اسکی بنیاد جھوٹ پر ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں شاعر محض گفتار کے غازی ہوتے ہیں، کردار کے نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے نہ صرف یہ کہ اپنے پیغمبر کو شعر نہیں سکھلائے، نہ اشعار کی اس پر وحی کی، بلکہ اس کے مزاج و طبیعت کو ایسا بنایا کہ شعر سے اسکو کوئی مناسبت ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی کسی کا شعر پڑھتے تو اکثر صحیح نہ پڑھ پاتے اور اسکا وزن ٹوٹ جاتا۔ جس کی مثالیں احادیث میں موجود ہیں۔ یہ احتیاط اس لیے کی گئی کہ منکرین پر اتمام حجت اور انکے شبہات کا خاتمہ کردیا جائے۔ اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ قرآن کی شاعرانہ تک بندی کا نتیجہ ہے، جس طرح آپ کی امیت بھی قطع شبہات کے لیے تھی تاکہ لوگ قرآن کی بابت یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ تو اس نے فلاں سے سیکھ پڑھ کر اس کو مرتب کرلیا ہے۔ البتہ بعض مواقع پر آپ کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ کا نکل جانا، دو مصرعوں کی طرح ہوتے اور شعری اوزان و بحور کے بھی مطابق ہوتے، آپ کے شاعر ہونے کی دلیل نہیں بن سکتے۔ کیونکہ ایسا آپ کے قصدو ارادہ کے بغیر ہوا اور ان کا شعری قالب میں ڈھل جانا ایک اتفاق تھا، جس طرح حنین والے دن آپ کی زبان پر بےاختیار یہ رجز جاری ہوگیا۔ انا النبی لا کذب۔ انا ابن عبد المطلب ایک اور موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگلی زخمی ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ھل أنت الا اصبع دمیت۔ وفی سبیل اللہ ما لقیت

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٦١] آپ کے لئے شاعری اس لئے مناسب نہیں کہ شاعروں کے کلام میں جب تک جھوٹ اور مبالغہ کی آمیزش نہ ہو اس کے کلام میں نہ حسن پیدا ہوتا ہے اور نہ دلکشی اور نہ ہی کوئی ان کے اشعار کو پسند کرتا ہے۔ (مزید برآں ان کے تخیلات خواہ کتنے ہی بلند ہوں ان کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ شاعروں کی عملی زندگی عموماً ان کے اقوال کے برعکس ہوتی ہے اور تیسری وجہ یہ ہے کہ ان کے انداز فکر کے لئے کوئی متعین راہ نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک بےلگام گھوڑے کی طرح ہر میدان میں ہرزہ سرائی کرتے نظر آتے ہیں۔ شعر میں اگر کوئی چیز پسندیدہ ہوسکتی ہے تو وہ اس کی تاثیر اور دل نشینی ہے اور یہ چیز قرآن میں نثر ہونے کے باوجود بدرجہ اتم پائی جاتی ہے گویا شعر میں جو چیز کام کی تھی یا اس کی روح تھی وہ پوری طرح قرآن میں موجود ہے اور غالباً یہی وجہ ہے کہ عرب جنہیں اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز تھا۔ اور اسی وجہ سے وہ غیر عرب کو عجمی کہتے تھے۔ قرآن کو شعر یا سحر کہنے لگتے تھے اور حامل قرآن کو شاعر اور ساحر۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ شعر اور سحر کو قرآن سے کوئی نسبت نہیں کیا کبھی شاعری یا جادو کی بنیاد پر دنیا میں قومیت و روحانیت کی ایسی عظیم الشان اور لازوال عمارت کھڑی ہوسکتی ہے جو قرآنی تعلیم کی اساس پر قائم ہوئی اور آج تک قائم ہے۔ خ آپ کا وزن توڑ کر شعر پڑھنا :۔ آپ کی اللہ تعالیٰ نے طبیعت ہی ایسی بنائی تھی کہ آپ شعر کو موزوں نہیں کرسکتے تھے اور اگر کبھی کسی دوسرے شاعر کا کوئی شعر پڑھتے تو اس کا وزن توڑ دیتے تھے۔ چناچہ سیدنا رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے جنگ ہوازن کے اموال غنیمت میں سے ابو سفیان بن حرب اور صفوان بن امیہ، عیینہ بن حصین اوراقرع بن حابس کو سو سو اونٹ دیئے اور عباس بن مرداس (انصاری) کو کچھ کم دیئے تو اس نے چند شعر کہے جن کا پہلا شعر یہ تھا۔ اتجعل نھبی و نھب العبید بین العیینہ والاقرع (یعنی کیا آپ میرا اور میرے گھوڑے عبید کا حصہ عیینہ اوراقرع کو دے رہے ہیں) جب آپ کو اس شکوہ کی خبر ملی تو آپ نے صرف انصار کو ایک خیمہ کے نیچے اکٹھا کیا پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کسی نے یہ شعر کہا ہے اور جب آپ نے مندرجہ بالا شعر پڑھا تو اسے یوں پڑھا۔ اتجعل نھبی ونھب العبید بین الاقرع والعیینۃ گویا آپ نے دوسرے مصرعہ کا وزن توڑ دیا تو یہ سن کر ایک صحابی کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے کہ (وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہ، ) (مسلم۔ کتاب الجہاد وا لسیر۔ باب فتح مکۃ عن ابی ہریرہ) آپ نے زندگی بھر میں دو تین شعر کہے جنہیں اگر شعر کے بجائے منظوم کلام کہا جائے تو مناسب ہوگا۔ وہ دراصل نثر کے ٹکڑے ہوتے جو بےساختہ منظوم بن جاتے تھے اور وہ یہ ہیں۔ ١۔ آپ کے اشعار :۔ سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ جہاد کے دوران آپ کو ٹھوکر لگی جس سے آپ کے پاؤں کے انگلی خون آلود ہوگئی اس وقت آپ نے اس انگلی کو مخاطب کرکے یہ شعر پڑھا : ھَلْ أنْتِ اِلَّا اِصْبَعٌ دَمِیْتِ ۔۔ وَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہ مَا لَقِیْتِ && تو ایک انگلی ہی تو ہے جو خون آلود ہوگئی۔ اگر تو اللہ کی راہ میں زخمی ہوگئی تو کیا ہوا && (بخاری کتاب الادب۔ باب مایجوز من الشعر) ٢۔ جنگ حنین میں ایک موقعہ ایسا آیا جب بہت سے صحابہ میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ ایک سفید خچر پر سوار بڑے جوش سے دشمن کی طرف بڑھ رہے تھے اور ساتھ ہی یہ شعر پڑھ رہے تھے۔ اَنَا النَّبِیُّ لَاکَذِبْ ۔۔ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ && اس میں کوئی جھوٹ نہیں کہ میں نبی ہوں۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں && (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب قولہ تعالیٰ یوم حنین اذ أعجبتکم کثرتکم) [ ٦٢] آپ کو شعر کیوں نہیں سکھایا گیا ؟ ہم نے آپ کی طبیعت شاعرانہ اس لئے نہیں بنائی کہ یہ قرآن کتاب ہدایت ہے۔ جس میں دنیا و آخرت کی زندگی کے ٹھوس حقائق مذکور ہیں۔ جبکہ شاعری نری طبع آزمائی اور خیالی تک بندیاں ہوتی ہیں تو جب قرآن کی شاعری سے کوئی نسبت نہیں تو حامل قرآن کی طبیعت قرآن کے مزاج کے موافق ہونی چاہئے۔ نہ کہ شاعر کے موافق۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَهٗ : پچھلی آیات سے اس کی مناسبت یہ ہے کہ کفار توحید و آخرت اور زندگی کے بعد موت اور جنت و دوزخ کے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتوں کو محض شاعری قرار دے کر اپنے خیال میں بےوزن ٹھہرانے کی کوشش کرتے تھے، یہ ان کے اس الزام کا رد ہے۔ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبوت و رسالت کے جس مقام پر فائز ہیں شاعری کو اس سے کوئی مناسبت نہیں۔ شاعری کا حسن اور کمال تو جھوٹ، مبالغہ آرائی، خیالی بلند پروازی اور فرضی نکتہ آفرینی ہے، جب کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان ان چیزوں سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت ایسی رکھی کہ باوجود خاندان عبدالمطلب سے ہونے کے، جس کا ہر فرد فطرتاً شاعر ہوتا تھا، پوری عمر میں کوئی شعر نہیں کہا۔ یوں جنگ وغیرہ کے موقع پر زبان مبارک سے کبھی کوئی مقفّٰی عبارت ایسی نکل گئی جو شعر کا سا وزن رکھتی تھی تو وہ الگ بات ہے، اسے شعر و شاعری نہیں کہا جاسکتا۔ شعر اور شعراء پر مفصل کلام کے لیے دیکھیے سورة شعراء کی آیات (٢٤ ٢ تا ٢٢٧) کی تفسیر۔ ” وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ “ کے الفاظ پر ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ” عَالِمُ مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ “ قرار دیتے ہیں۔ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ : یعنی یہ تو نصیحت اور یاد دہانی ہے اور واضح پڑھی جانے والی آسمانی کتاب ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In the first verse cited here, it was said: وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ‌ وَمَا يَنبَغِي لَهُ (And We did not teach him poetry and it is not proper for him.) Since the deniers of the appearance of a prophet and messenger with a mission could not deny the unique effectiveness of the Qur&an and its ability to move hearts that was a matter of common experience, therefore, they invented convenient excuses. At times, they would call this Divine Word, some magic and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، a magician. Then, on other occasions, they would say that this Word was poetry and he was a poet. By saying that, they wanted to prove that this unique effectiveness did not come out of the Divine Word as such, instead, they were either words of magic or sorcery that made an impression on hearts, or it is poetic speech for that too affects hearts. In this verse, Allah Ta’ ala said that He did not teach His prophet the art of poetry, nor was it appropriate to his station and saying that he was a poet, is false and wrong. Here, we have a question. Is it not that Arabs are a people who have poetry in their blood? Even their women and children would compose impromptu lines of poetry. They knew poetry and its reality. How could they say that the Qur&an was poetry and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was a poet? On what basis could this be because neither is the Qur&an restricted by the compulsion of poetic meter, nor of radif (the unchanging word that appears at the end of the hemistich) and qafiyah (the changing rhymed word that appears before the radif) anywhere in the text? Not even someone who is pathetically ignorant of the mores of poetry would think of calling this poetry. To answer this, it can be said that, essentially, poetry is composed of self-structured imaginary subjects, whether in poetry or prose. By calling the Qur&an, poetry and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، a poet their purpose was to tell him that the Divine Word he claims to have brought, is no more than imaginary tales. Or, may be, they called him a poet in terms of the well recognized meaning of poetry with a certain congruity in mind, that is, the effect produced by the Qur&an is similar to the effect produced by poetic compositions. Quoting his own chain of authority, Imam Abu Bakr al-Jassas (رح) has reported that someone asked Sayyidah ` A&ishah (رض) if the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to recite some verse of poetry once in a while. To that, she said, |"No, however, he once did recite a verse of Ibn Tarfah: ----۔ و یأتیک بالاخبار من لّم تزوّدِ *ستبدی لک الایام ما کنت جاھلاً----- |"The time will reveal to you that which you did not know, and the news will be brought to you by one whom you did not appoint to do so. But the holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited this as: وزن شعری in a manner that broke the poetic measure. Sayyidna Abu Bakr (رض) submitted, &Ya RasulAllah, this verse is not like that.& He said, &I am not a poet, nor is poetry appropriate for me.|" Ibn Kathir has reported this narration in his Tafsir, and at-Tirmidhi, an-Nasa&I and Imam Ahmad have also reported it. This tells us that he simply did not consider reciting verses of poetry composed by others as appropriate for him. That he would compose it himself was unthinkable. As for some sentences having the resonance of poetic measure reported from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself, they did not issue forth from him with the intention of composing formal poetry. They were casual, and should some one or two lines issue forth from a person that fall into poetic measure, these do not make him a poet. But, from this natural condition of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that was based on great considerations of wisdom, it does not become necessary that poetry should be taken as blameworthy in any absolute sense - as explained under the details of injunctions relating to poetry in our commentary on verse 224 of Surah Ash-Shu` ara& (26) appearing at its end in Volume VI of Ma’ ariful-Qur&an, English. Those interested may see it there.

خلاصہ تفسیر (اور یہ کفار جو نبوت کی نفی کرنے کے لئے آپ کو شاعر کہتے ہیں یہ محض باطل ہے کیونکہ) ہم نے آپ کو شاعری (یعنی خیالی مضامین مرتب کرنے کا) علم نہیں دیا اور وہ (شاعری) آپ کے شایان شان بھی نہیں وہ (یعنی آپ کو عطا کیا ہوا علم جس کو یہ لوگ شاعری کہتے ہیں وہ) تو محض نصیحت (کا مضمون) اور ایک آسمانی کتاب ہے جو احکام کی ظاہر کرنے والی ہے تاکہ (بیان احکام کے اثر سے) ایسے شخص کو (نافع ڈرانا) ڈرا دے جو (حیات قلبیہ کے اعتبار سے) زندہ ہو اور تاکہ کافروں پر (عذاب کی) حجت ثابت ہوجاوے۔ کیا ان (مشرک) لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے ان کے (نفع کے) لئے اپنے ہاتھ کی سوختہ چیزوں میں سے مواشی پیدا کئے اور (ہمارے مالک بنانے سے) یہ لوگ ان کے مالک بن رہے ہیں اور (آگے اس نفع کی کچھ تفصیل ہے کہ) ہم نے ان مواشی کو ان کا تابع بنادیا سو (وہ ان کے کام میں لانے سے کام دیتے ہیں چناچہ) ان میں بعض تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض کو وہ کھاتے ہیں اور ان میں ان لوگوں کے لئے اور بھی نفع ہیں (جیسے بال، کھال، ہڈی وغیرہ مختلف طریقوں سے استعمال میں آتے ہیں) اور (ان میں ان لوگوں کے) پینے کی چیزیں بھی ہیں (یعنی دودھ) سو کیا (اس پر بھی) یہ لوگ شکر نہیں کرتے (اور شکر کا سب سے مقدم اور اہم درجہ توحید پر ایمان ہے) اور انہوں نے (بجائے شکر اور توحید کے کفر اور شرک اختیار کر رکھا ہے چنانچہ) خدا کے سوا اور معبود قرار دے رکھے ہیں اس امید پر کہ ان کو (ان معبودین کی طرف سے) مدد ملے (لیکن) وہ ان کی کچھ مدد کر ہی نہیں سکتے اور (مدد تو کیا کرتے اور الٹے) وہ (معبودین) ان لوگوں کے حق میں ایک فریق (مخالف) ہوجاویں گے جو (موقف حساب میں بالا) حاضر کئے جائیں گے (اور وہاں حاضر ہو کر ان کی مخالفت کا اظہار کریں گے کماقال تعالیٰ فی سورة مریم (آیت) ویکونون علیہم ضداً وقال تعالیٰ فی سورة یونس (آیت) قال شرکاءھم ماکنتم ایانا تعبدون وغیر ذلک من الآیت) معارف ومسائل (آیت) وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ، چونکہ منکرین نبوت و رسالت قرآن کی تاثیرات عجیبہ اور دلوں پر اثر انداز ہونے کی کیفیت کا جو عام مشاہدہ میں تھی انکار نہیں کرسکتے تھے، اس لئے کبھی تو اس کلام الٰہی کو سحر اور آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساحر کہتے تھے اور کبھی اس کلام کو شعر اور آپ کو شاعر کہہ کر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ یہ تاثرات عجیبہ کلام الہٰی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ یا تو یہ جادو کے کلمات ہیں جو دلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں یا شاعرانہ کلام ہے وہ بھی عام دلوں پر اثر انداز ہوا کرتا ہے۔ حق تعالیٰ نے آیت مذکورہ میں فرمایا کہ ہم نے نبی کو شعر و شاعری نہیں سکھلائی اور ان کی شان کے مناسب تھی، آپ کو شاعر کہنا باطل اور غلط ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عرب تو وہ قوم ہے جس کی فطرت میں شعر و شاعری پڑی ہوئی ہے، عورتیں بچے بےساختہ شعر کہتے ہیں، وہ شعر کی حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں، انہوں نے قرآن کو شعر اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر کس اعتبار سے کہا ؟ کیونکہ نہ تو قرآن وزن شعری کا پابند ہے نہ کہیں ردیف قافیہ کا، اس کو تو جاہل شعر و شاعری سے ناواقف بھی شعر نہیں کہہ سکتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ شعر دراصل خیالی خود ساختہ مضامین کو کہا جاتا ہے خواہ نظم میں ہوں یا نثر میں۔ ان کا مقصد قرآن کو شعر اور آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر کہنے سے یہ تھا کہ آپ جو کلام لائے ہیں وہ محض خیالی افسانے ہیں یا پھر شعر کے معنی معروف کے اعتبار سے شاعر کہا تو اس مناسبت سے کہ جس طرح نظم اور شعر خاص اثر رکھتا ہے اس کا اثر بھی ایسا ہی ہے۔ امام جصاص نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ سے کسی نے سوال کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی کوئی شعر پڑھتے تھے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں، البتہ ایک شعر ابن طرفہ کا آپ نے پڑھا تھا ستبدی لک الایام ماکنت جاھلاً ویاتیک بالاخبار من لم تزود اس کو آپ نے وزن شعری کو توڑ کر من لم تزود بالاخبار پڑھا۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ شعر اس طرح نہیں، تو آپ نے فرمایا کہ میں شاعر نہیں اور نہ میرے لئے شعر و شاعری مناسب ہے۔ یہی روایت ابن کثیر نے بھی اپنی تفسیر میں نقل کی ہے اور ترمذی، نسائی، امام احمد نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خود کوئی شعر تصنیف کرنا تو کیا آپ دوسروں کے اشعار بھی پڑھنے کو اپنے لئے مناسب نہ سمجھتے تھے۔ اور بعض روایات میں جو خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وزن شعری کے مطابق کچھ کلمات منقول ہیں وہ بقصد شعر نہیں، اتفاقی ہیں اور ایسے اتفاقی کوئی ایک دو شعر موزوں ہوجانے سے کوئی آدمی شاعر نہیں کہلاتا۔ مگر آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فطری حال سے جو بڑی حکمتوں پر مبنی تھا یہ لازم نہیں آتا کہ مطلقاً شعر گوئی مذموم ہے جیسا کہ شعر و شاعری کے احکام کی تفصیل سورة شعراء کے آخری رکوع میں گزر چکی ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَہٗ۝ ٠ ۭ اِنْ ہُوَاِلَّا ذِكْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ۝ ٦٩ۙ علم ( تعلیم) اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، فمن التَّعْلِيمُ قوله : الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] ، عَلَّمَ بِالْقَلَمِ [ العلق/ 4] ، وَعُلِّمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا[ الأنعام/ 91] ، عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ النمل/ 16] ، وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَالْحِكْمَةَ [ البقرة/ 129] ، ونحو ذلك . وقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] تعلیم کے معنی با ر بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں ۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تعلم کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا لفظ اعلام کی جگہ آتا ہے جب کہ اس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا ۔ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ۔ اور حسب ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا ۔ الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] خدا جو نہایت مہربان اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی ۔ قلم کے ذریعہ ( لکھنا ) سکھایا ؛ وَعُلِّمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا[ الأنعام/ 91] اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ النمل/ 16] ہمیں خدا کی طرف ست جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے ۔ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَالْحِكْمَةَ [ البقرة/ 129] اور خدا کی کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ۔ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] اور اس نے ادم کو سب چیزوں کے نام سکھائے ۔ میں آدم (علیہ السلام) کو اسماء کی تعلیم دینے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کے اندر بولنے کی صلاحیت اور استعدادرکھ دی جس کے ذریعہ اس نے ہر چیز کے لئے ایک نام وضع کرلیا یعنی اس کے دل میں القا کردیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو ان کے کام سکھا دیئے ہیں جسے وہ سر انجام دیتے رہتے ہیں اور آواز دی ہے جسے وہ نکالتے رہتے ہیٰ شعر ( شاعر) الشَّعْرُ معروف، وجمعه أَشْعَارٌ قال اللہ تعالی: وَمِنْ أَصْوافِها وَأَوْبارِها وَأَشْعارِها [ النحل/ 80] ، وشَعَرْتُ : أصبت الشَّعْرَ ، ومنه استعیر : شَعَرْتُ كذا، أي علمت علما في الدّقّة كإصابة الشَّعر، وسمّي الشَّاعِرُ شاعرا لفطنته ودقّة معرفته، فَالشِّعْرُ في الأصل اسم للعلم الدّقيق في قولهم : ليت شعري، وصار في التّعارف اسما للموزون المقفّى من الکلام، والشَّاعِرُ للمختصّ بصناعته، وقوله تعالیٰ حكاية عن الکفّار : بَلِ افْتَراهُ بَلْ هُوَ شاعِرٌ [ الأنبیاء/ 5] ، وقوله : لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ [ الصافات/ 36] ، شاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِهِ [ الطور/ 30] ، وكثير من المفسّرين حملوه علی أنهم رموه بکونه آتیا بشعر منظوم مقفّى، حتی تأوّلوا ما جاء في القرآن من کلّ لفظ يشبه الموزون من نحو : وَجِفانٍ كَالْجَوابِ وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] ، وقوله : تَبَّتْ يَدا أَبِي لَهَبٍ [ المسد/ 1] . وقال بعض المحصّلين : لم يقصدوا هذا المقصد فيما رموه به، وذلک أنه ظاهر من الکلام أنّه ليس علی أسالیب الشّعر، ولا يخفی ذلک علی الأغتام من العجم فضلا عن بلغاء العرب، وإنما رموه بالکذب، فإنّ الشعر يعبّر به عن الکذب، والشَّاعِرُ : الکاذب حتی سمّى قوم الأدلة الکاذبة الشّعريّة، ولهذا قال تعالیٰ في وصف عامّة الشّعراء : وَالشُّعَراءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغاوُونَ [ الشعراء/ 224] ، إلى آخر السّورة، ولکون الشِّعْرِ مقرّ الکذب قيل : أحسن الشّعر أكذبه . وقال بعض الحکماء : لم ير متديّن صادق اللهجة مفلقا في شعره . ( ش ع ر ) الشعر بال اس کی جمع اشعار آتی ہے قرآن میں ہے ۔ وَمِنْ أَصْوافِها وَأَوْبارِها وَأَشْعارِها [ النحل/ 80] اون اور ریشم اور بالوں سے شعرت کے معنی بالوں پر مارنے کے ہیں ۔ اور اسی سے شعرت کذا مستعار ہے جس کے معنی بال کی طرح باریک علم حاصل کرلینے کے ہیں اور شاعر کو بھی اس کی فطانت اور لطافت نظر کی وجہ سے ہی شاعر کہا جاتا ہے تو لیت شعری کذا کے محاورہ میں شعر اصل میں علم لطیف کا نام ہے پھر عرف میں موزوں اور مقفیٰ کلام کو شعر کہا جانے لگا ہے اور شعر کہنے والے کو شاعر کہا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بَلِ افْتَراهُ بَلْ هُوَ شاعِرٌ [ الأنبیاء/ 5] بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے ۔ نہیں بلکہ ( یہ شعر ہے جو اس ) شاعر کا نتیجہ طبع ہے ۔ نیز آیت کریمہ : ۔ لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ [ الصافات/ 36] ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے ۔ اور آیت شاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِهِ [ الطور/ 30] شاعر ہے اور ہم اس کے حق میں ۔۔۔ انتظار کر رہے ہیں ۔ بہت سے مفسرین نے یہ سمجھا ہے کہ انہوں نے آنحضرت پر شعر بمعنی منظوم اور مقفیٰ کلام بنانے کی تہمت لگائی تھی ۔ حتی کہ وہ قران میں ہر اس آیت کی تاویل کرنے لگے جس میں وزن پایا جاتا ہے جیسے وَجِفانٍ كَالْجَوابِ وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] لیکن بعض حقیقت شناس لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے ان کا مقصد منظوم اور مقفیٰ کلام بنانے تہمت لگانا نہیں تھا ۔ کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ قرآن اسلوب شعری سے مبرا ہے اور اس حقیقت کو عوام عجمی بھی سمجھ سکتے ہیں پھر فصحاء عرب کا کیا ذکر ہے ۔ بلکہ وہ آپ پر ( نعوذ باللہ ) جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے کیونکہ عربی زبان میں شعر بمعنی کذب اور شاعر بمعنی کاذب استعمال ہوتا ہے ۔ حتی کہ جھوٹے دلائل کو ادلۃ شعریۃ کہا جاتا ہے اسی لئے قرآن نے شعراء کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے :۔ وَالشُّعَراءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغاوُونَ [ الشعراء/ 224] اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں ۔ اور شعر چونکہ جھوٹ کا پلندہ ہوتا ہے ۔ اس لیے مقولہ مشہور ہے کہ احسن الشعر اکذبہ سب سے بہتر شعروہ ہے جو سب سے زیادہ جھوٹ پر مشتمل ہوا اور کسی حکیم نے کہا ہے کہ میں نے کوئی متدین اور راست گو انسان ایسا نہیں دیکھا جو شعر گوئی میں ماہر ہو ۔ المشاعر حواس کو کہتے ہیں لہذا آیت کریمہ ؛ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ [ الحجرات/ 2] اور تم کو خبر بھی نہ ہو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم حواس سے اس کا ادرک نہیں کرسکتے ۔ اور اکثر مقامات میں جہاں لایشعرون کا صیغہ آیا ہے اس کی بجائے ۔ لایعقلون کہنا صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو محسوس تو نہیں ہوسکتی لیکن عقل سے ان کا ادراک ہوسکتا ہے ابتغاء (ينبغي) البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ، وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، وقولهم : يَنْبغي مطاوع بغی. فإذا قيل : ينبغي أن يكون کذا ؟ فيقال علی وجهين : أحدهما ما يكون مسخّرا للفعل، نحو : النار ينبغي أن تحرق الثوب، والثاني : علی معنی الاستئهال، نحو : فلان ينبغي أن يعطی لکرمه، وقوله تعالی: وَما عَلَّمْناهُ الشِّعْرَ وَما يَنْبَغِي لَهُ [يس/ 69] ، علی الأول، فإنّ معناه لا يتسخّر ولا يتسهّل له، ألا تری أنّ لسانه لم يكن يجري به، وقوله تعالی: وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي [ ص/ 35] . ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ ردی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ خواہ تجاوز کرسکے یا نہ اور بغی کا استعمال کیت اور کیفیت یعنی قدر وو صف دونوں کے متعلق ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ۔ کسی چیز کے حاصل کرنے میں جائز حد سے تجاوز ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48 پہلے بھی طالب فسادر ہے ہیں ۔ الا بتغاء یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود ہوگی ( ورنہ مذموم ) چناچہ فرمایا : ۔ { ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ } ( سورة الإسراء 28) اپنے پروردگار کی رحمت ( یعنی فراخ دستی ) کے انتظار میں ۔ وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] بلکہ اپنے خدا وندی اعلیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے ۔ اور ینبغی ( انفعال ) بغی کا مطاوع آتا ہے اور ینبغی ایکون کذا کا محاورہ طرح استعمال ہوتا ہے ( 1) اس شے کے متعلق جو کسی فعل کے لئے مسخر ہو جیسے یعنی کپڑے کو جلا ڈالنا آگ کا خاصہ ہے ۔ ( 2) یہ کہ وہ اس کا اہل ہے یعنی اس کے لئے ایسا کرنا مناسب اور زیبا ہے جیسے کہ فلان کے لئے اپنی کرم کی وجہ سے بخشش کرنا زیبا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَما عَلَّمْناهُ الشِّعْرَ وَما يَنْبَغِي لَهُ [يس/ 69] اور ہم نے ان ( پیغمبر ) کو شعر گوئی نہیں سکھلائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ یعنی نہ تو آنحضرت فطر تا شاعر ہیں ۔ اور نہ ہی سہولت کے ساتھ شعر کہہ سکتے ہیں اور یہ معلوم کہ آپ کی زبان پر شعر جاری نہ ہوتا تھا ۔ اور آیت کریمہ : وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي [ ص/ 35] اور مجھ کو ایسی بادشاہ ہی عطا فرما کر میرے بعد کیسی کو شایاں نہ ہو ۔ ( دوسرے معنی پر محمول ہے ۔ یعنی میرے بعد وہ سلطنت کسی کو میسر نہ ہو ) ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

شعر گوئی نبی کے شایان شان نہیں قول باری ہے : (وما علمناہ الشعروما ینبغی لہ۔ اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شعر وشاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شایاں ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اس قول بای کی تفسیر میں بیان کیا کہ معمہ کہتے ہیں۔ کہ مجھے حضرت عائشہ (رض) سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی موقع ومحل کی مناسبت سے کوئی شعر پڑھتے تھے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ نہیں، بنو قیس بن طرفہ کے شاعر کے ، اس شعر کے سوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی کوئی شعر نہیں پڑھا : ستبدی لک الایام ماکنت جاھلا ویاتیک بالاخبار من لم ترود زمانہ تمہارے سامنے وہ باتیں ظاہر کردے گا جن سے تم ابھی تک ناواقف ہو اور تمہیں وہ شخص خبریں سنائے گا جسے تم نے اس کام کے لئے کوئی تو یہ وغیرہ نہیں دیا ہے۔ معمر کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شعر کے آخری مصرعے کی ترتیب بدل کر یوں پڑھتے : ع ” یاتیک من لم تزود بالاخبار “ اس موقعہ پر حضرت ابوبکر (رض) عرض کرتے ہیں ” اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ مصرعہ اس طرح نہیں ہے۔ “ آپ جواب میں فرماتے ۔” میں نہ تو شاعر ہوں اور نہ ہو شعروں سے میری مناسبت ہے۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شعر گوئی کا علم نہیں دیا تھا۔ اس لئے اس نے آپ کو شعر پڑھنا بھی نہیں سکھایا تھا کیونکہ یہ ایک ایسا ذوق ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عطا کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شاعری کا ذوق اس لئے عطا نہیں کیا کہ کہیں اس سے بعض لوگوں کو یہ شبہ نہ پیدا ہوجائے کہ شاعرانہ ذوق کی بنا پر نعوذ باللہ آپ نے قرآن بھی اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ جب درج بالا آیت کی یہ تاویل کی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سرے سے شعر گوئی کا ذوق عطا نہیں کیا تھا تو اس صورت میں کسی اور شاعر کا شعر پڑھنے میں کوئی امتناع نہیں تاہم کسی صحیح روایت سے یہ بات ثابت نہیں کہ آپ نے کبھی کسی شاعر کا کوئی شعر پڑھا ہو اگرچہ یہ مروی ہے کہ آپ نے یہ شعر کہا تھا : ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت اے نیری انگلی، تو اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ یہ ایک انگلی ہے جو خون آلود ہوگئی ہے لیکن تجھے جو کچھ برداشت کرنا پڑا ہے وہ اللہ کی راہ میں برداشت کرنا پڑا ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شعر نہیں ہے بلکہ کسی صحابی کا شعر ہے نیز جو شخص ایک آدھ شعر کہہ لیتا ہے یا کسی اور شاعر کے ایک دو شعر پڑھ لیتا ہے وہ شاعر نہیں کہلاتا اور نہ ہی اس پر اس امر کا اطلاق ہوتا ہے کہ اسے شاعری آگئی ہے یا اس نے شاعری سیکھ لی ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جس شخص کو تیراندازی اچھی طرح نہیں آتی بعض دفعہ اس کا تیر نشانے پر جالگتا ہے لیکن اس کی بنا پر وہ تیرانداز نہیں کہلاتا۔ اور نہ ہی اس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اسے تیراندازی کا فن آگیا ہے۔ اسی طرح جو شخص ایک آدھ شعر کہہ لیتا ہے یا کسی اور شاعر کے ایک دو شعر پڑھ لیتا ہے وہ شاعر نہیں کہلاتا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم نے رسول اکرم کو شاعری کا علم نہیں سکھایا اور یہ آپ کے لیے شان شایان بھی نہیں یہ قرآن حکیم تو صرف نصیحت کا مضمون ہے اور حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو ظاہر کرنے والی کتاب ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٩ { وَمَا عَلَّمْنٰـہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ } ” اور ہم نے ان کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ ان کے شایانِ شان ہے۔ “ اس سے پہلے سورة الشعراء میں شعراء کے بارے میں یہ حکم ہم پڑھ آئے ہیں : { وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّہِیْمُوْنَ وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ } ” اور شعراء کی پیروی تو گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اور یہ کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں “۔ سورة الشعراء کی ان آیات کے بعد اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے استثناء کا ذکر بھی فرمایا ہے ‘ لیکن شعراء اور شاعری کے بارے میں عام قاعدہ کلیہ بہر حال یہی ہے جو ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اس حقیقت کا اعلان فرمادیا گیا کہ شاعری کے ساتھ ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت کی مناسبت ہی نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت میں شعر فہمی اور شعر شناسی کا ملکہ تو تھا لیکن شعر پڑھنے کا ذوق نہیں تھا ‘ اس لیے اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی کوئی شعر پڑھتے بھی تو اس کے الفاظ آگے پیچھے ہوجاتے اور شعر کا وزن خراب ہوجاتا۔ ایک دفعہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شعر پڑھا اور پڑھتے ہوئے حسب معمول شعر بےوزن ہوگیا۔ حضرت ابوبکر (رض) پاس تھے ‘ آپ (رض) سن کر مسکرائے اور عرض کیا : اِنِّی اَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہ ” میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں “۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شعر کی تعلیم نہیں دی تو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) درست شعر کیونکر پڑھیں گے ! گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے بےوزن شعر سن کر حضرت ابوبکر (رض) کو ثبوت مل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں شعر کے فنی رموز اور وزن وغیرہ کا ذوق پیدا ہی نہیں فرمایا۔ البتہ معنوی اعتبار سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعر کو خوب سمجھتے تھے۔ اس سلسلے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : (اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِکْمَۃً (١)… اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا) (٢) کہ بہت سے اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور بہت سے خطبات جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ { اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ} ” یہ تو بس ایک یاد دہانی اور نہایت واضح قرآن ہے۔ “ یہ ایک صاف واضح اور روشن کلام ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

58 This is a rejoinder to the disbelievers, who slighted the Holy Prophet and his message by branding him a poet when he preached Tauhid and talked of the Hereafter, life-after-death, and Hell and Heaven. (For further explanation, see Ash-Shu'ara: 224-227 and the E.N.'s thereof).

سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :58 یہ اس بات کا جواب ہے کہ کفار توحید و آخرت اور زندگی بعد موت اور جنت و دوزخ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو محض شاعری قرار دے کر اپنے نزدیک بے وزن ٹھہرانے کی کوشش کرتے تھے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم ، ص 546 تا 549 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

21: بعض مشرکین کہا کرتے تھے کہ (معاذ اللہ) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شاعر ہیں، اور قرآن کریم آپ کی شاعری کی کتاب ہے۔ یہ آیت اس کی تردید کر رہی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٩ تا ٧٦۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن جو گناہ گار اپنے گناہوں سے انکار کریں گے ان کی زبان بند کی جا کر ان کے ہاتھ پاؤں سے گناہوں کا اقرار کرایا جاوے گا اسی مناسبت سے فرمایا کہ جو لوگ سرکشی سے یہ زبان درازی کرتے ہیں کہ قرآن کو شعر اور اللہ کے رسول کو شاعر کہتے ہیں جب ان کی زبان بند کی جاکر ان کے ہاتھ پیروں سے ان کی اس زبان درازی کا اقرار کرایا جاوے گا تو اس وقت ان کو اس جھوٹ کی حقیقت کھل جائے گی کہ اللہ کے رسول کو یہ جھوٹے لوگ شاعر کہتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول ان میں چھوٹے سے بڑے ہوئے ان لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شعر کہنے کی عادت سے ہمیشہ بچایا کیوں کہ اللہ کے رسولوں کو شاعری زیبا نہیں ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تو جو چیز رسول کو سکھائی ہے وہ قرآن ہے جس میں عقبیٰ کی بہبودی کی صاف نصیحت ہے تاکہ جو لوگ علم الٰہی میں دوزخ کے قابل نہیں ٹھہرے اور ازلی کفر کے زنگ سے ان کا دل مردہ نہیں ہوا ان کو عذاب آخرت سے ڈرایا جائے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جانے کے قابل۔ اس حدیث سے من کان حیا و یحق القول علی الکافرین کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جنت میں جانے کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ اس حساب سے زندہ دل ہیں کہ ان کے دل میں قرآن ہے اور وہ راہ راست پر آجاویں گے ہاں علم الٰہی کے موافق جن کا انجام دوزخ ٹھہر چکا ہے وہ مرتے دم تک جس حال پر ہیں اسی حال پر رہیں گے ‘ اب آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی بےگنتی نعمتوں میں سے مثال کے طور پر سواری کے گوشت، کھانے اور دودھ پینے اور بالوں اور کھالوں کے کپڑے بنانے کے، چو پائے کے پیدا کرنے کی نعمت کا ذکر فرما کر یہ فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ کے احسانات کا تو یہ حال اور ان کی ناشکری کا یہ حال کہ اللہ کی نعمتوں کو کام میں لا کر پتھر کی مورتوں کو اپنا معبود ٹھہراتے ہیں اس غلط امید کے بھروسہ پر ان پتھر کی مورتوں کو اپنی فوج بنا رکھا ہے کہ جس طرح فوج والے شخص کو فوج سے مدد پہنچتی ہے اسی طرح جن کی یہ مورتیں ہیں وہ مدد کے وقت ان کی کچھ مدد کریں گے حالانکہ خلاف مرضی الٰہی کے اللہ کے کار خانوں میں کسی کو کسی طرح کا مدد کا کچھ اختیار نہیں چناچہ دنیا میں تو مکہ کے قحط کے وقت ان لوگوں نے اس بات کو خوب آزمالیا کہ قحط کو رفع کردینے میں ان کے بتوں نے ان کی کچھ مدد نہیں کی آخرت میں ان کے جھوٹے معبود جس طرح ان لوگوں سے اپنی بیزاری ظاہر کریں گے وہ حال بھی ان کو قیامت کے دن معلوم ہوجائے گا اوپر کی مثال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی یہ تسکین فرمائی کہ اے رسول اللہ کے جب اللہ کے ساتھ ان لوگوں کا یہ حال ہے جو اس مثال میں بیان کیا گیا تو تم کو یہ لوگ شاعر کہیں تو اس کا تم کچھ خیال نہ کرو ان کی زبانی بدگوئی ان کے ہاتھ پیروں کے برے کام ان کے دلوں کے برے خیال اللہ کو سب معلوم ہیں وقت مقررہ پر اس سب کا بدلہ ان کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گا ‘ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی کے قوت اس وعدہ کا جو ظہور ہو صحیح بخری ومسلم کی انس بن مالک (رض) کی روایت کے حوالہ سے اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ اللہ کے رسول کے بڑے بڑے مخالف اس لڑائی میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پالیا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:69) علمنہ۔ علمنا ماضی جمع متکلم ۔ تعلیم (تفعیل) مصدر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب ما نفی کا ہے۔ ہم نے اس کو نہیں سکھایا۔ ہم نے اس کو تعلیم نہیں دی۔ الشعر۔ الشعر بال کو کہتے ہیں اسی کی جمع اشعار ہے مثلاً :۔ ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا۔ (16:80) اور ان کے اون اور ان کے پشم اور ان کے بالوں سے۔ مفردات راغب میں ہے : شعرت کے معنی بالوں پر مارنے کے ہیں اسی سے شعرت کذا مستعار ہے جس کے معنی بال کی طرح باریک علم حاصل کرلینے کے ہیں اور شاعر کو بھی اس کی فطانت اور لطافت نظر کی وجہ سے شاعر کہا جاتا ہے۔ شعر اصل میں لطیف علم کا نام ہے لیکن عرف عام میں موزوں اور مقفی کلام کو شعر کہا جانے لگا۔ اور شعر کہنے والے کو شاعر کہا جاتا ہے۔ لیکن بعض حقیقت شناش لوگوں نے کہا ہے کہ :۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر شاعر ہونے کی تہمت لگانے سے کفار کا مقصد منظوم اور مقفی کلام بنانے کی تہمت لگانا نہیں تھا کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ قرآن اسلوب شعری سے مبرا ہے اور اس حقیقت کو عجمی عوام بھی سمجھ سکتے ہیں پھر فصحا عرب کا کیا ذکر ہے ۔ بلکہ وہ تو آپ پر (نعوذ باللہ) جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے کیونکہ عربی زبان میں شعر بمعنی کذب اور شاعر بمعنی کاذب استعمال ہوتا ہے۔ حتی کہ جھوٹے دلائل کو ادلۃ شعریۃ کہا جاتا ہے اسی لئے قرآن نے شعرا کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے :۔ والشعراء یتبعہم الغاون (26:224) اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں۔ اور شعر چونکہ جھوٹ کا پلندہ ہوتا ہے اس لئے مقولہ مشہور ہے کہ :۔ احسن الشعر اکذبہ۔ سب سے بہتر شعر وہ ہے جو سب سے زیادہ جھوٹ پر مشتمل ہو۔ اور کسی حکیم نے کہا ہے کہ :۔ میں نے کوئی متدین اور راست گو انسان ایسا نہیں دیکھا جو شعر گوئی میں ماہر ہو۔ وما ینبغی لہ۔ اور نہ وہ آپ کے شایاں ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (36:40) ۔ ان ھو : میں ان نافیہ ہے۔ ذکر : ذکر یذکر (نصر) کا مصدر ہے۔ بمعنی ذکر، پندو نصیحت، وعظ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 کفار قریش کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت رد کرنے کے لئے کوئی اور بہانہ نہ ملتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتوں کو شاعرانہ تخیلات قرار دے کر بےوقعت ٹھہرانے کی کوشش کرتے۔ ان کے جواب میں فرمایا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبوت و رسالت کے جس منصب پر فائز ہیں شاعری کو اس سے کوئی مناسبت نہیں۔ شاعری کا حسن اور کمال تو جھوٹ، مبالغہ آرائی، خیال بلند پروازی اور فرضی نکتہ آفرینی ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان ان چیزوں سے بلند وبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت ایسی رکھی کہ باوجود خاندان عبد المطلب سے ہونے کے جس کا ہر فرد فطرۃً شاعر ہوتا، پوری عمر میں کوئی شعر نہیں کہا۔ یوں رجز وغیرہ کے موقع پر زبان مبارک سے کبھی کوئی مقضیٰ عبارت ایسی نکل گئی جو شعر کا ساوزن رکھتی تھی تو وہ الگ بات ہے اسے شعر یا شاعری نہیں کہا جاسکتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود تو کیا شعر کہتے کوئی دوسرے شاعر کا کوئی شعر یا مصرع تک اس کے ٹھیک وزن پر ادا نہ کر پاتے تھے۔ کئی موقعوں پر ایسا ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی شاعر کا شعر یا مصرع اس کا وزن توڑ کر پڑھا اور حضرت ابوبکر (رض) حضرت عمر (رض) نے توجہ دلانے کے لئے اس کا وزن درست کرتے ہوئے پڑھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( انی واللہ ما انا یشاعر وما ینبغی لی) اللہ کی قسم میں شاعر نہیں ہوں اور نہ شاعری میرے شایان شان ہے۔ ( ابن کثیر وغیرہ) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے۔ اور دوسری طرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مقناطیسی شخصیت نے ہر ایک کو اپنا گرویدہ بنا رکھا تھا۔ سردار ان قریش اور کفار و مشرکین اس صورت حال سے سخت پریشان تھے کیونکہ ہر ایک قبیلے اور خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد دین اسلام کی سچائیوں کو قبول کر کے ہر طرح کی قربانیاں پیش کر رہا تھا ۔ ابتداء میں انہوں نے آپ کا مذاق اڑایا جب اس سے کام نہ چلا تو نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر ، ساحر ، کاہن اور دیوانہ و مجنوں مشہور کرنا شروع کیا اور قرآن کریم کے اثرات کو کم کرنے کے لئے اس کو شاعرانہ کلام کہا جانے لگا ۔ وہ کہتے تھے کہ یہ ایک شاعر ہیں انہوں نے اپنی طرف سے ایک کلام گھڑ کر اس کو اللہ کی طرف سے منسوب کردیا ہے۔ عرب معاشرہ میں اگرچہ شعر و شاعری کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی لیکن قرآن کو شاعرانہ کلام کہنے سے ان کی مراد یہ تھی کہ جس طرح ایک شاعر من گھڑت خیالات اور باتوں کو شعر میں ڈھال کر اس سے لوگوں کو متاثر کرتا ہے یہ کلام بھی اسی طرح کے من گھڑت اور بےحقیقت باتوں کا مجموعہ ہے ( نعوذ باللہ ) ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بےتکی اور جاہلانہ باتوں کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مکہ والو ! تم تو ان کی زندگی سے اچھی طرح واقف ہو کہ وہ نہ تو شاعر ہیں نہ شعروں سے ان کی کوئی دلچسپی ہے اور نہ قرآن کریم شاعری کی کتاب ہے۔ فرمایا کہ نہ ہم نے ان کو شعر و شاعری سکھائی اور نہ آپ کے اعلیٰ رتبے اور مقام کے یہ شایان شان ہے بلکہ آپ اللہ کی طرف سے حق و صداقت کے ترجمان ہیں ۔ آپ کی بعثت کا مقصد ساری دنیا کے بھٹکے ہوئے لوگوں کی ہدایت و رہنمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان کی بےتکی باتوں اور غیر سنجیدہ حرکتوں سے رنجیدہ نہ ہوں بلکہ اللہ کے دیئے ہوئے پیغام حق و صداقت کو لوگوں تک پہنچاتے رہیے جو لوگ زندہ ہیں یعنی سوچنے ، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس با وقار اور سنجیدہ کلام کو سن کر اللہ کی طرف رجوع کریں گے اور جو زندہ ہوتے ہوئے بھی مردوں سے بد تر ہیں وہ اپنے برے انجام تک پہنچ کر رہیں گے ۔ فرمایا کہ یہ قرآن کریم اور اس کی تعلیمات تو من گھڑت اور شعر و شاعری نہیں ہے البتہ کفار و مشرکین نے جن بےحقیقت چیزوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور ان سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں ان کے کام نہ آئیں گے اور نہ آخرت میں ان کی مدد کریں گے۔ یہ ان کے من گھڑت اور بےبنیاد خیالات ہیں جو ان کی دنیا اور آخرت کو تباہ کر رہے ہیں ۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہے اسی ایک اللہ کے دست قدرت کا کرشمہ ہے۔ اللہ نے مویشوں کو بنا کر اس طرح لوگوں کو ان کا مالک بنا دیا ہے کہ وہ ان سے جس طرح چاہتے ہیں کام لیتے ہیں ایک جانور جو بہت بڑا اور انتہائی طاقت و قوت والا ہے جیسے ہاتھی ، اونٹ ، گھوڑا ، گائے ، بیل وغیرہ اس کو انسان کے بس میں دے کر کیسا تابع کردیا ہے کہ وہ اس پر سواری بھی کرتا ہے بعض حلال جانوروں کو وہ ذبح کر کے کھاتا ہے اور ان سے طرح طرح کے کام لیتا ہے اور بہت سا نفع حاصل کرتا ہے۔ یہ تو وہ نعمتیں ہیں جن پر انسان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے لیکن انسان کی یہ کتنی بڑی بھول ہے کہ وہ اپنے اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو اس امید پر معبود بنائے بیٹھا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد کریں گے حالانکہ وہ دنیا اور آخرت میں اس کے کسی کام نہ آئیں گے۔ وہ جھوٹے معبود تو اپنے ماننے اور عبادت کرنے والوں کے ہاتھوں اس طرح مجبور ہیں کہ اگر ان کو کوئی بنانے والا نہ ہو تو خود بن نہیں سکتے اور کوئی ان کو توڑ پھوڑ دے تو وہ اپنے آپ کو بچا نہیں سکتے۔ یہ گروہ بن کر اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو اس وقت ان پر ساری حقیقت کھل جائے گی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ لوگ اتنے نا شکرے ہیں کہ اللہ کی ہزاروں نعمتیں ملنے کے باوجود اس کا شکر ادا نہیں کرتے وہ آپ کی قدر کیا کریں گے ۔ اگر یہ آپ کی بات نہیں سنتے اور آپ پر طرح طرح کے بےت کے الزامات لگاتے ہیں تو آپ رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ یہ تو اس بات کو بھی بھول چکے ہیں کہ ہم نے ان کو ایک حقیر بوند ( نطفہ) سے پیدا کر کے زندگی کی قوت و طاقت عطاء کی اب وہ لوگ اللہ پر مثالیں چست کر کے اللہ کے منہ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا کی ہڈیاں بھی ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گی تو کس طرح ان بےجان ہڈیوں میں جان ڈال کر انسان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا وہ لوگ اتنی بات پر غور نہیں کرتے کہ جس اللہ نے آدمی کو اور اس کی ہڈیوں اور جسم کو پہلی مرتبہ بنایا تھا کیا وہ دوبارہ ان ہڈیوں کو جمع کر کے انسان ڈھانچہ بنا کر اس میں روح نہیں ڈا ل سکتا ۔ کسی چیز کو پہلی مرتبہ پیدا کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن دوسری مرتبہ ایسا ہی بنا دینا کیا مشکل ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ہزاروں نظارے روزانہ ان کی نظروں میں آتے ہیں مگر وہ ان پر غور و فکر نہیں کرتے۔ اللہ نے فرمایا کہ دیکھو ہرے اور سر سبز درختوں سے اللہ آگ کو پیدا کرتا ہے حالانکہ آگ اور پانی ایک دوسرے کے مخالف ہیں لیکن اللہ ان ہی ہرے بھرے اور پانی سے بھر پور درختوں سے آگ پیدا کرتا ہے جس سے وہ اپنے کھانے پینے کی چیزیں بنا یا کرتے ہیں وہی ان تمام چیزوں کا خالق ومالک اور ہر بات کا پوری طرح علم رکھنے والا ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے اس دنیا میں یہ قانون بنا رکھا ہے کہ ہر کام درجہ بدرجہ اور مناسب آہستگی کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اس کو کسی کام کے کرنے میں دنیاوی اسباب اور ذرائع کی ضرورت اور محتاجی نہیں ہے وہ تو جس کام کو کرنا چاہتا ہے صرف ” کن “ ( ہوجا) کہتا ہے اور وہ چیز وجود اختیار کرلیتی ہے۔ ایسی با عظمت اور صاحب اختیار ہستی صرف اللہ کی ہے اور وہ ہر چیز کا مالک حقیقی ہے اور ساری مخلوق کو ایک دن اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے جہاں ہر ایک کو جزا یا سزا دی جائے گی ۔ مذکورہ آیات کی مزید وضاحت کے لئے چند باتیں ٭اللہ نے ہر چیز کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے۔ بیان یہ کرتا ہے کہ کائنات کے ذرے ذرے کی تخلیق اس کے دست قدرت کا شاہکار ہے جس کو اس نے انسانی ضروریات کے لئے بنایا ہے۔ لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اللہ جسم اور جسمانیت سے پاک ہے ہاتھ سے مراد اس کی طاقت و قوت ہے۔ ٭فرمایا کہ یہ جھوٹے اور من گھڑت مٹی ، پتھر اور لکڑی کے بت جن سے لوگوں نے امیدیں باندھ رکھی ہیں وہ اپنے وجود میں اپنے ماننے والوں کے محتاج ہیں ۔ اگر یہ خوش عقیدہ لوگ ان بتوں کو اپنے ہاتھ سے نہ بنائیں تو دنیا میں ان کا وجود ہی نہ ہوتا ۔ ایسے معبودوں سے امیدیں باندھنا اور ان کو اپنا مالک و رازق سمجھنا انسان اور انسانیت کی سب سے بڑی ذلت و رسوائی ہے۔ ٭اللہ کی قدرت سے کوئی کیسے انکار کرسکتا ہے کیونکہ اس نے کائنات میں دو متضاد چیزوں کو پیدا کر کے ان سے وہ کام لیا ہے جس کو انسان سوچ بھی نہیں سکتا ۔ مثلاً ہرے اور سبز درختوں سے آگ کا پیدا ہونا ، عرب میں دو درخت بہت مشہور تھے مرخ اور عفار ۔ عرب کے لوگ ان دونوں درختوں کی شاخوں کو کاٹ لیتے تھے جو تازہ پانی سے بھری ہوئی ہوتی تھیں لیکن جب وہ ایک دوسرے پر رگڑتے تو ان سے آگ جھڑنا شروع ہوجاتی تھی جس کو سوکھی لکڑیوں میں لگا کر آگ پیدا کرتے اور اس پر اپنے کھانے پکایا کرتے تھے ۔ اسی طرح برصغیر میں بانس کے ہرے درختوں سے بھی آگ پیدا ہوتی تھی۔ یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کی یہ قدرت ہے کہ وہ ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے اگر وہ ہرے درختوں سے آگ پیدا کرسکتا ہے تو وہ مردہ ہڈیوں میں جان کیوں نہیں ڈال سکتا۔ ٭فرمایا کہ اگرچہ اللہ کا نظام ہے ہر چیز ایک قانون کے تحت چلتی اور بنتی ہے اور اللہ نے انسان کو بھی بہت سی چیزیں بنانے کی صلاحیت عطاء کی ہے وہ اسباب اور ذرائع سے اپنی من پسند چیزیں بناتا ہے لیکن اللہ کی قدرت یہ ہے کہ وہ جب بھی کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو وہ انسانوں کی طرح اسباب کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وہ ” کن “ کہتا ہے اور وہ چیز وجود اختیار کرلیتی ہے۔ اس پوری کائنات میں سارا اختیار و اقتدار اللہ ہی کے لئے ہے۔ الحمد اللہ ان آیت کے ترجمہ و تفسیر کے ساتھ ہی سورة یٰسین کا ترجمہ و تشریح تکمیل تک پہنچا ۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح مشرکین مکہ اللہ کی توحید کے بارے میں بےسمجھی کا مظاہرہ کرتے اسی طرح ہی قرآن مجید کے متعلق بےعقلی کی بات کرتے کہ قرآن کسی شاعر کا کلام ہے یہاں ان کے الزام کا جواب دیا گیا ہے۔ کفار کا کہنا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شاعرانہ تخیلات پیش کرتا ہے جس کی تردید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شعر و شاعری نہیں سکھلائی اور نہ ہی اس کی یہ شان ہے کہ وہ شعرگوئی کرے۔ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے۔ جو لوگوں کے لیے نصیحت کے طور پر اتارا گیا ہے لیکن نصیحت وہی شخص حاصل کرکے گا جو ہوش، گوش رکھتا ہے۔ اور قرآن لوگوں پر کھلی حجت ہے یہاں تک شاعر اور اس کے تخیلات کا تعلق ہے اس کے بارے میں سورة الشعراء کی آیت ٢٢١ تا ٢٢٦ میں وضاحت کی گئی ہے کہ شیطان ہر جھوٹے اور برے آدمی پر آیا کرتے ہیں۔ جو ان کے کان میں جھوٹی باتیں ڈالتے ہیں اور شاعروں کی پیروی کرنے والے اکثر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ کیا تم لوگ شاعروں کو نہیں جانتے کہ وہ ہر وادی میں سرگردان پھرتے ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر ان کا عمل نہیں ہوتا۔ ان کے مقابلے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبوت سے پہلے بھی بات کے سچے اور قول کے پکے تھے اور آپ کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر شاعرانہ کلام نازل نہیں کیا اور نہ ہی آپ کی شان ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے شعر گاتے پھریں۔ شعروں کے پرستار لوگ قرآن و سنت اور عقل کی بات پر اتنی توجہ نہیں دیتے جتنی شعر و شاعری پر دیا کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے سامنے شعر نہ پڑھا جائے تو انہیں قرآن سننے کا بھی لطف نہیں آتا جو لطف وہ شعر میں محسوس کرتے ہیں۔ یہاں تک اگر قرآن مجید فطری اور سادہ انداز میں پڑھا جائے تو انہیں ایسی تلاوت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس کا ثبوت عوامی جلسوں میں دیکھا اور سنا جاسکتا۔ جس جماعت اور معاشرے میں یہ صورت حال پیدا ہوجائے۔ اس معاشرے اور جماعت میں دن بدن شعور اور علم رخصت اور جہالت کا غلبہ ہوتا جاتا ہے۔ مولانا حالی کا قول : متحدہ ہندوستان کے دور میں مولانا الطاف حسین حالی ان چند شعراء میں شامل تھے جن کا اس زمانہ میں طوطی بولتا تھا وہ اپنی کتاب مقدمہ شعر و شاعری میں لکھتے ہیں۔ شاعری کا ماحول عام طور پر جہالت کے دور میں زیادہ پنپتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے یونان کے مشہور فلسفی اور مفکر ارسطو کا حوالہ دیا ہے کہ جب اس نے پہلی مرتبہ یونان کا دستور مرتب کیا تو ہر طبقہ کی ضرورت محسوس کی لیکن شاعروں کے طبقہ کو اس لیے در غور اعتنانہ سمجھا کیونکہ بقول اس کے کہ شاعر لوگ عام طور پر باتیں جوڑنے اور بنانے کے سوا کسی کام کے نہیں ہوتے۔ ارسطو کے قول کے بارے میں نہ معلوم دانشوروں کی کیا رائے ہوگی تاہم یہ بات مسلمہ ہے کہ شعر و شاعری کے ماحول میں علم اور عقل کی بات کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ میں نے زندگی میں ان گنت عوامی اجتماعات میں تقریر کی اور خطیبوں کے خطاب سنے ہیں۔ جس اجتماع میں کوئی خطیب شعر یا ترنم کے ساتھ بات نہیں کرتا بیشک وہ کتنا ہی اچھا خطیب اور عالم کیوں نہ ہو اکثر لوگ اس کی بات سننے کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ جس معاشرے اور جماعت میں ایسا ماحول پیدا ہوجائے وہاں علم اور علماء کی قدر اٹھ جاتی ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شعر و شاعری کے فوائد کم اور اس کے نقصانات گہرے، زیادہ اور دیرپا ہوتے ہیں۔ امام جصّاص (رض) نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ عائشہ (رض) سے کسی نے سوال کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی شعر پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ البتہ ایک شعر ابن طرفہ کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا تھا۔ ؂ ستبدی لک الایام ما کنت جاھلا و یأتیک بالاخبار من لم تزوّد ” اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وزن شعری کو توڑ کر من لم تزوّد بالاخبار پڑھا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کی کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ شعر اس طرح نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں شاعر نہیں، نہ ہی میرے لیے شعرو شاعری مناسب ہے “۔[ مسند احمد : باب مَا جَاءَ فِی إِنْشَاد الشِّعْر ]ِ اس لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوری حیات مبارکہ میں کسی خطاب میں شعر کہنا پسند نہیں فرمایا۔ حالانکہ بعض شاعروں کے کلام کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ صرف تعریف فرمائی ہے بلکہ حضرت حسان بن ثابت (رض) کو اپنے ممبر پر بٹھایا اور خود نیچے تشریف فرما ہوتے ہوئے اس کے لیے ان الفاظ میں دعا کی ” اَللّٰہُمَّ اَیِّدْہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ “” اے اللہ جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے اس کی مدد فرما۔ [ رواہ البخاری : باب ذِکْرِ الْمَلاَءِکَۃِ ] اس لیے کسی خلیفہ اور صحابی (رض) سے ثابت نہیں کہ اس نے خطبہ جمعہ میں کبھی شعر پڑھا ہو۔ ہمیں بھی شعر و شاعری سے اجتناب کرنا چاہیے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 207 تشریح آیات 69 ۔۔۔ تا۔۔۔ 83 یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس میں ان تمام مسائل کو لیا گیا ہے جو اس سورت کا محور ہیں۔ وحی کا مسئلہ ، وحی کی ماہیت ، مسئلہ الوہیت اور وحدانیت الٰہی۔ بعث بعد الموت اور حشر و نشر۔ اس سبق میں یہ تمام مسائل علیحدہ علیحدہ یکے بعد دیگرے بیان کیے گئے ہیں ، نہایت ہی موثر اور زور دار انداز میں۔ تمام موضوعات میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہر چیز کی صنعت میں دست قدرت کار فرما ہے اور اس کائنات کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ مضمون اس سبق اور اس سورت کی آخری آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ فسبحن الذی۔۔۔۔ ترجعون (36: 83) ” پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو “۔ یہ دست قدرت اور اس کی صنعت کاریاں ہیں کہ اس نے جانوروں کو بشر کے لیے پیدا کیا اور ان کے تابع فرمان کردیا۔ جس نے انسان کو ایک حقیر نطفے سے پیدا کیا اور جس طرح ایک نہایت ہی چھوٹے نطفے سے اسے پیدا کیا۔ اسی طرح بوسیدہ ہڈیوں سے اسے دوبارہ پیدا کر دے گا۔ جس نے سرسبز درخت سے آگ پیدا کی۔ جس نے زمین و آسمان جیسی عظیم کائنات پیدا کی۔ اور جو اس جہاں کی ہر چیز کا مالک اور مقتدر اعلیٰ ہے۔ یہ ہے اس سورت کا خلاصہ۔ وما علمنہ الشعر۔۔۔۔ علی الکفرین (69 – 70) ” ۔ وحی کے موضوع پر سورت کے آغاز ہی میں بحث ہوئی تھی۔ یس ، والقرآن الحکیم۔۔۔۔۔ غفلون (36: 1 – 6) ” پس ، قسم ہے قرآن حکیم کی کہ تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو اور یہ قرآن غالب اور حکیم ہستی کا نازل کردہ ہے تاکہ تم خبردار کرو ایک ہی قوم کو جس کے باپ داد خبردار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے “۔ یہاں وحی کا ذکر اس مضمون اور مناسبت سے آتا ہے کہ یہ وحی الٰہی ہے ، شاعری نہیں ہے۔ کیونکہ بعض لوگ آپ پر یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شاعر ہیں اور قرآن کریم ایک مخصوص قسم کا شعری کلام ہے۔ دراصل کبرائے قریش جانتے تھے کہ معاملہ یہ نہیں ہے۔ اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کلام لائے ہیں وہ عربوں کے اسالیب شعر کے مطابق نہ شعر ہے اور نہ ان کی نثر کی طرف نثر ہے۔ یہ الزام دراصل اسلام کے خلاف ان کی جانب سے پروپیگنڈے کی جنگ تھی۔ اور عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لئے قرآن اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ الزام تھا۔ ہاں یہ لوگ قرآن کریم کے حسن و جمال اور انوکھے اور موثر اسلوب کلام سے یہ استدلال کرتے تھے ۔ اس طرح عوام الناس اشعار اور قرآن میں فرق نہ کرسکتے تھے اور اس لیے وہ اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوتے تھے۔ یہاں اللہ اس بات کی تردید فرماتا ہے کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعری سکھائی ہے جب اللہ نے آپ کو شعر کا علم نہیں سکھایا تو آپ کو شعر کا علم ہی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ انسان وہی جانتا ہے جو اللہ اسے سکھاتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس حقیقت سے بھی نقاب کشائی کرتا ہے کہ شعر کہنا آپ کے شایان شان ہی نہیں ہے۔ (وما ینبغی لہ) کیونکہ شاعری کا منہاج نبوت کے منہاج سے بہت ہی مختلف ہوتا ہے۔ شعر ایک تاثر ہوتا ہے اور تاثرات کا بیان ہوتا ہے۔ اور انسانی تاثرات مختلف حالات میں بدلتے رہتے ہیں جبکہ نبوت کا منہاج وحی پر مبنی ہوتا ہے اور مستقل ہوتا ہے۔ اور نبی ایک سیدھے راستے پر ہوتا ہے۔ اور اس ناموس الٰہی کے تابع ہوتا ہے جس کے مطابق یہ پوری کائنات رواں دواں ہوتی ہے۔ اور یہ ناموس بدلتی ہوئی خواہشات اور بدلتے ہوئے تاثرات کے مطابق نہیں بدلتا۔ جس طرح شعر بدلتے رہتے ہیں اور ہر حال میں شعر میں ایک نظریہ نہیں پایا جاتا۔ نبوت میں تو نبی براہ راست ہر وقت اللہ سے مربوط ہوتا ہے اور وہ براہ راست اللہ کی وحی سے ہدایت لیتا ہے اور اس کی جدوجہد دائمی انداز لئے ہوئے ہوتی ہے کہ زندگی کا نظام اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق چلے۔ جبکہ شعر ، اپنے اعلیٰ معیار کے ساتھ محض انسانی خواہشات اور جمال و کمال کے تاثرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ انسان میں انسانی سوچ کی تقصیرات اور کمزوریاں موجود ہوتی ہیں۔ اور وہ انسان کے محدود تصورات کا عکس ہوتا ہے اور انسان کی محدود صلاحیت اور علم کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ شعر جب اپنے مقام سے گر جاتا ہے تو یہ محض جسمانی لذت اور طبعی خواہشات اور جنسی لذت تک گر کر محدود ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد پھر وہ جسمانی بخار کا نام ہوتا ہے۔ لہٰذا نبوت اور شاعری اپنی نوعیت اور ماہیت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ شعر اگر اعلیٰ درجے کا بھی ہو وہ ان خواہشات پر مشتمل ہوتا ہے جو زمین سے اٹھتی ہیں اور نبوت آسمانوں سے ایک ہدایت کی شکل میں نازل ہوتی ہے۔ ان ھو الا ذکر وقران مبین (36: 69) ” یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھے جانے والی کتاب ہے “۔ ذکر اور قرآن دونوں ایک ہی چیز کی صفات ہیں ۔ ذکر اس معنی میں ہے کہ اس کتاب کا اصل مقصد ہی نصیحت ہے اور قرآن اس حساب سے ہے کہ اس کی تلاوت کی جاتی ہے ۔ یہ گویا اللہ کی یاد ہے اور دل اس میں مشغول ہوتا ہے اور قرآن ہے جس کی تلاوت زبان سے ہوتی ہے اور اسے نازل اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ اپنا مشین مقصد پورا کرے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

شاعری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کے لائق نہیں، قرآن کریم زندہ قلوب کے لیے نصیحت ہے اور کافروں کے لیے حجت ہے مشرکین عرب اور خاص کر اہل مکہ جب قرآن مجید سنتے تھے تو یہ جانتے ہوئے کہ نہ اس میں اشعار ہیں نہ شاعرانہ خیالی مضامین ہیں پھر بھی قرآن مجید کے بارے میں یوں کہہ دیتے تھے کہ یہ شاعرانہ باتیں ہیں، ان لوگوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ ) (ہم نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شعر نہیں سکھایا) (وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ ) (اور نہ شعر کہنا ان کی شان کے لائق ہے) سو جب وہ شعر کہنا جانتے ہی نہیں اور ان کی شان کے لائق ہی نہیں تو تمہارے سامنے شاعرانہ باتیں کیسے بیان کرسکتے ہیں ؟ شاعرانہ تخیلات تو جھوٹے ہوتے ہیں، ان میں جب تک ان کہنی نہ ہو اس وقت تک شعر شعر ہی نہیں ہوتا، پھر یوں بھی دیکھنا لازم ہے کہ یہ جو قرآن کریم آپ پیش فرماتے ہیں یہ شعر نہیں ہے نہ اس میں خیالی مضامین ہیں نہ شاعرانہ تک بندیاں ہیں بلکہ لفظی اعتبار سے نہایت فصیح اور بلیغ اور محکم کلام ہے اور معنوی اعتبار سے اس کے مضامین اعلیٰ درجہ کے محقق ہیں اور سراپا سچ ہیں لیکن دشمن جب اعتراض پر آجائے تو اندھا بن جاتا ہے پھر اسے حق اور ناحق کی کچھ تمیز نہیں رہتی۔ (اِِنْ ھُوَ اِِلَّا ذِکْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ) (وہ تو بس ایک نصیحت ہے اور قرآن مبین ہے) (لِیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا) (تاکہ وہ اسے ڈرائے جو زندہ ہے) یعنی عقل رکھتا ہے اور اسے حق اور ناحق کی سوجھ بوجھ ہے، بےعقلی کی وجہ سے اموات کے درجہ کو نہیں پہنچا۔ (وَیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ) (اور کافروں پر حجت ثابت ہوجائے) یعنی جب قیامت کے دن کافروں کو عذاب ہونے لگے تو ان کے عذر پیش کرنے پر صاف صاف کہہ دیا جائے کہ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول پہنچا اس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سنائی ایمان کی دعوت دی لیکن تم نے نہیں مانا اور خود ہی مستحق عذاب ہوئے، آج کوئی معذرت کام دینے والی نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

42:۔ وما علمنہ الخ :۔ یہ مشرکین کے ایک شبہ کا جواب ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کی ایک واضح دلیل ہے۔ مشرکین کہتے ہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شاعر ہے۔ اور یہ قرآن اس کا شاعرانہ کلام ہے۔ فرمایا شاعری کا علم اور شاعری کی استعداد ہم نے اپنے پیغمبر کو عطا ہی نہیں کی اور نہ شاعری آپ کے شایان شان ہی ہے۔ یہ کلام اللہ کی طرف سے پند و نصیحت ہے اور واضح طور پر اللہ کی طرف سے نازل شدہ قرآن ہے اور ایسا معجزہ ہے کہ بشر کی طاقت ہی سے ماورا ہے۔ شاعر نہ ہونے کے باوجود ایسا بےمثل اور معجز کلام پیش کرنا، جو بشر کے حیطہ استطاعت سے باہر ہو۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔ وجعل اللہ جل و عز ذلک علما من اعلام نبیہ (علیہ السلام) لئلا تدخل الشبہۃ علی من ارسل الیہ فیظن انہ قوی علی القران بما فی طبعہ من القوۃ علی الشعر (قرطبی ج 15 ص 55) ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شعر پسند ہی نہیں تھا۔ نہ کبھی آپ نے شعر موزوں کرنے کی کوشش ہی فرمائی نہ شعر آپ سے موزوں ہو ہی سکتا تھا۔ وما یصح لہ الشعر ولا یتاتی لہ ان اراد قرضہ علی ما اختبرم طبعہ نحوا من اربعین سنۃ (بیضاوی) ای جعلناہ بحیث لو اراد قرض الشعر لم یتات لہ ولم یتسہل کما جعلناہ امیا لا یہتدی الی الخط لتکون الحجۃ اثبت والشبہۃ ادحض (مدارک ج 4 ص 10) ۔ اس آیت نے اہل بدعت کے اس دعوے کی بھی قلعی کھول دی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطاء الٰہی سے ماکان ومایکون کا کلی علم غیب حاصل تھا۔ اس آیت نے بالکل کھلے اور واضح لفظوں میں اعلان کردیا کہ شعر کا علم آپ کو اللہ تعالیٰ نے عطا نہیں فرمایا اس لیے کلی علم غیب کا دعوی باطل ہوگیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے جو بعض موزوں اور مقفی عبارتیں صادر ہوئیں مثلا انا النبی لا کذب، انا ابن عبد المطلب، وغیرہ یہ شعر کے زمرے میں داخل نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ عبارتیں بلا قصد و ارادہ محض اتفاقی طور پر موزوں ہوگئی تھیں اور شعر قصد و ارادے سے موزوں و مقفی کیا جاتا ہے وھذا مما اتفق لہ (علیہ الصلوۃ والسلام) من غیر قصد لوزنہ و مثلہ یقع کثیر فی الکلام المنثور ولا یسمی شعرا ولا قائلہ شاعرا (روح ج 23 ص 48) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(69) اور ہم نے اس پیغمبر کو شعرگوئی اور شعر کہنا نہیں سکھایا اور یہ خیالی مضامین کا مرتب کرنا اس کی شان کے لائق بھی نہیں جو قرآن ہم نے اس کو تعلیم کیا ہے وہ تو بس ایک نصیحت اور آسمانی کتاب ہے جو احکام کو آشکار اور ظاہر کرنے والی ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار مکہ شاعر اور کاہن وغیرہ کہتے تھے اور مطلب ان کا یہ ہوتا تھا کہ قرآن کو آپ کی شعرگوئی کا نتیجہ بتائیں۔ حضرت حق نے آپ کے متعلق شاعری کی نفی فرما دی۔ شعرگوئی یا تو کسی ماہر فن سے حاصل کی جاتی یعنی اکتسابی ہوتی اور یا حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے دہبی ہوتی۔ ظاہر ہے کہ اس فن میں آپ کا کوئی استاد نہیں اور وہبی کی نفی حضرت حق تعالیٰ نے خود ہی فرما دی۔ بس معلوم ہوا کہ آپ فن شاعری کو نہیں جانتے تھے۔ اسی لئے اگر کسی شاعر کا شعر پڑھتے تھے تو بسا اوقات غلط پڑھ دیا کرتے تھے جیسا کہ حضرت حسن بصری (رض) نے ایک واقعہ بیان فرمایا کہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دفعہ یہ بیت پڑھی۔ کفی بالاسلام والشیب للم ناھیا یعنی اسلام اور بڑھاپا یہ دونوں چیزیں آدمی کو بری باتوں سے روکنے کیلئے کافی ہیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ شاعر نے یوں کہا ہے۔ کفی الشیب والاسلام للم ناھیًا لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سن کر جب دوبارہ اس بیت کو پڑھا تب بھی اس طرح وزن شعری کیخلاف پڑھا۔ تب صدیق اکبر (رض) نے عرض کیا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا۔ وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ بہرحال فن شاعری سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقف نہ تھے اور اگر بلاقصد کبھی کوئی مصرعہ یا شعر زبان سے نکل گیا ہو تو اس کو شاعری نہیں کہتے۔ باقی نفس شعرگوئی کی بحث سورة شعراء کے آخر میں گزر چکی ہے۔ یہ جو کتاب سناتے ہیں وہ آسمانی کتاب ہے جو احکام کو واضح طور پر بیان کرتی ہے۔