Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 7

سورة يس

لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤی اَکۡثَرِہِمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۷﴾

Already the word has come into effect upon most of them, so they do not believe.

ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ثابت ہو چکی ہے سو یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَى أَكْثَرِهِمْ ... Indeed the Word has proved true against most of them, Ibn Jarir said, "The punishment has become inevitable for most of them, because Allah has decreed in the Mother of the Book (Al-Lawh Al-Mahfuz) that they will not believe. ... فَهُمْ لاَ يُوْمِنُونَ so they will not believe. i.e. in Allah, or in His Messengers.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

7۔ 1 جیسے ابو جہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ۔ بات ثابت ہونے کا مطلب، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ' میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا ' (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ) 32 ۔ السجدہ :13) شیطان سے بھی خطاب کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا تھا ' میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دونگا۔ یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ نے جبرا ان کو ایمان سے محروم رکھا کیونکہ جبر کی صورت میں تو وہ عذاب کے مستحق قرار نہ پاتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٦] قرآن کریم نے جہاں بھی حق القول کا لفظ استعمال فرمایا تو اس کے مخاطب عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جو یا تو آخرت پر ایمان ہی نہ رکھتے ہوں۔ جیسے کفار مکہ یا ان جیسی دوسری قومیں جو پہلے گزر چکیں یا بعد میں آنے والی ہیں۔ یا پھر وہ لوگ ہوتے ہیں جو آخرت کو مانتے تو ہیں مگر ساتھ ہی انہوں نے کچھ ایسے سستی نجات کے عقیدے گھڑ رکھے ہوتے ہیں کہ آخرت پر ایمان لانے کے اصل مقصد کو فوت کردیتے ہیں۔ جیسے یہود کا یہ عقیدہ کہ انہیں چند دنوں کے سوا جہنم کی آگ چھوئے گی ہی نہیں۔ یا جیسے یہود و نصاریٰ کا یہ عقیدہ کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ اللہ انہیں کیوں عذاب کرے گا ؟ یا مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ سید قوم کی پشت ہی پاک ہوتی ہے۔ وہ جو کام بھی کرتے رہیں وہ پاک ہی رہتی ہے۔ یا یہ عقیدہ کہ فلاں حضرت صاحب کی بیعت کرلی جائے یا دامن پکڑ لیا جائے تو وہ اپنے ساتھ ہی انہیں جنت میں لے جائیں گے۔ پیچھے نہیں رہنے دیں گے یا یہ کہ وہ اللہ سے سفارش کرکے انہیں بخشوا کے چھوڑیں گے وغیرذلک ایسے تمام تر عقیدے فی الحقیقت آخرت کے عقیدہ کی نفی کردیتے ہیں۔ [ ٧] اس جملہ کی تکمیل یوں ہوتی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اور جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہاں ایمان سے مراد ایمان بالآخرت ہے۔ ورنہ اللہ کی ہستی کو تو کفار مکہ بھی تسلیم کرتے تھے۔ البتہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور اسی وجہ سے آپ کی رسالت کا بھی انکار کردیتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ :” حَقَّ الْقَوْلُ “ (بات ثابت ہوچکی) سے مراد ان پر عذاب کا فیصلہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ) [ السجدۃ : ١٣ ] ” اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے اور لیکن میری طرف سے بات پکی ہوچکی کہ یقیناً میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا۔ “ یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو پیغمبر کی آمد اور حق واضح ہونے کے بعد بھی اپنے کفر پر اڑے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ازل ہی میں ان کے بارے میں علم تھا کہ وہ اپنے عناد اور سرکشی کی وجہ سے ایمان نہیں لائیں گے اور اس نے اپنے اس علم کی بنا پر لکھ دیا تھا کہ وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ نے جبراً انھیں ایمان سے محروم رکھا، کیونکہ جبر کی صورت میں تو وہ عذاب کے مستحق قرار نہ پاتے۔ یہ بات کہ ان کی گمراہی کا باعث خود ان کی ضد اور ان کا عناد ہے، کئی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (٢٦، ٢٧) ، زخرف (٣٦، ٣٧) ، صف (٥) ، انعام (١١٠) ، حم السجدہ (٢٥) اور احقاف (١٧، ١٨) اس آیت کی ہم معنی یہ آیت ہے : (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۔ وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ ) [ یونس : ٩٦، ٩٧ ] ” بیشک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ خواہ ان کے پاس ہر نشانی آجائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verses 7 and 8 لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِ‌هِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا (The word has indeed come true about most of them, so they will not believe. Surely We have placed iron collars on their necks, so they are reaching up to their chins, and their heads are forced to remain upraised.) mean that Allah Ta’ ala has already placed before human beings two alternate ways of life - the way of kufr (disbelief) and &Iman (faith) and the way of Jannah (Paradise) and Jahannam (the Hell) - and to give direction and substance to this call of faith, He also sent prophets and Books. In fact, He went further ahead by giving human beings the choice to first identify what is good or bad for one and then take to either of the two ways. Now if there is that unfortunate person who does neither think, nor ponders over proofs spread throughout nature, nor listens to the call of the prophets, nor deliberates in the Book of Allah, then, once this person has made a choice and has taken to a way thus chosen, Allah Ta’ ala assembles for him everything he needs to achieve that end. One who embraces the wont of disbelief, for him the supply of things and circumstances that would increase his disbelief never run short. This is what has been expressed as: لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِ‌هِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (7) which means that against most of these people, because of their choice of the evil, the decisive verdict of Allah - that they are not going to believe - already stands pronounced. Given next is a similitude of their condition by saying that they look like people whose necks have been shackled in a manner that causes their faces and eyes stay upraised rendering them totally unable to see their way on the ground. If so, it is obvious that one cannot remain safe against the likelihood of falling down into some ditch or abyss. Then comes another similitude. It was said that it is like a wall having been placed as a barrier all around someone. Thus surrounded, this person becomes unaware of what is going on outside. Similarly, these infidels are surrounded by their ignorance and, on top of it, by their hostility and doggedness. Under these conditions, it is as if the truth present elsewhere simply does not reach them. Imam Razi (رح) has said that there are two kinds of barriers against perception. One barrier is of the kind that prevents one from seeing even himself. The second barrier is the inability to see one&s surrounding. For the disbelievers, both kinds of barriers against seeing the truth were present. Therefore, the first example is that of the first barrier, that is, one who cannot bend his neck to lower his eyes cannot see even his own self or the state in which he exists. Then the second example is that of the second barrier that stops one from seeing his surroundings. (Ruh-ul- Ma’ ani) The majority of commentators have declared the present verse to be a similitude of their disbelief and hostility only. And some commentators, on the basis of some narrations, have taken it to be the description of an event, that is, Abu Jahl and some others, bent on killing or hurting the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، lunged towards him but Allah Ta’ ala cast curtain over their eyes. Thus, rendered helpless, they went back. Many similar events have been reported in books of Tafsir, such as, Ibn Kathir, Ruh-ul-Ma’ ani, al-Qurtubi, Mazhari and others. But, most of these are weak narrations. The Tafsir of the verse cannot be based on such sources.

(آیت) لقد حق القول علیٰ اکثرہم فہم لا یومنون، انا جعلنا فی اعنا قہم اغلاً الایة، مراد یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے کفر و ایمان اور جنت و دوزخ کے دونوں راستے انسان کے سامنے کردیئے، اور ایمان کی دعوت کے لئے انبیاء اور کتابیں بھی بھیج دیں، پھر انسان کو اتنا اختیار بھی دے دیا کہ وہ اپنے بھلے برے کو پہچان کر کوئی رستہ اختیار کرے۔ جو بدنصیب نہ غور و فکر سے کام لے نہ دلائل قدرت میں غور کرے، نہ انبیاء کی دعوت پر کان دھرے نہ اللہ کی کتاب میں غور و تدبر کرے تو اس نے اپنے اختیار سے جو راہ اختیار کرلی تو حق تعالیٰ .... اسی کے سامان اس کے لئے جمع فرما دیتے ہیں، جو کفر میں لگ گیا پھر اس کے واسطے کفر بڑھانے ہی کے سامان ہوتے رہتے ہیں، یعنی ان میں سے بیشتر لوگوں پر تو ان کے سوء اختیار کی بنا پر یہ قول حق جاری ہوچکا ہے کہ یہ ایمان نہ لائیں گے۔ آگے ان کے حال کی ایک تمثیل بیان فرمائی ہے، کہ ان کی مثال ایسی ہے کہ جس کی گردن میں ایسے طوق ڈال دیئے گئے ہوں گے کہ اس کا چہرہ اور آنکھیں اوپر اٹھ جائیں، نیچے راستہ کی طرف دیکھ ہی نہ سکے۔ تو ظاہر ہے کہ اپنے آپ کو کسی کھڈ میں گرنے سے نہیں بچا سکتا۔ دوسری مثال یہ دی کہ جیسے کسی شخص کے چاروں طرف دیوار حائل کردی گئی ہو وہ اس چار دیواری میں محصور ہو کر باہر کی چیزوں سے بیخبر ہوجاتا ہے، ان کافروں کے گرد بھی ان کی جہالت اور اس پر عناد وہٹ دھرمی نے محاصرہ کرلیا ہے کہ باہر کی حق باتیں ان تک گویا پہنچتی ہی نہیں۔ امام رازی نے فرمایا کہ نظر سے مانع دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک مانع تو ایسا ہوتا ہے کہ خود اپنے وجود کو بھی نہ دیکھ سکے، دوسرا یہ کہ اپنے گرد و پیش کو نہ دیکھ سکے۔ ان کفار کے لئے حق بینی سے دونوں قسم کے مانع موجود تھے، اس لئے پہلی مثال پہلے مانع کی ہے کہ جس کی گردن نیچے کو جھک نہ سکے وہ اپنے وجود کو بھی نہیں دیکھ سکتا اور دوسری مثال دوسرے مانع کی ہے کہ گردو پیش کو نہیں دیکھ سکتا۔ (روح) جمہور مفسرین نے آیت مذکورہ کو ان کے کفر وعناد کی تمثیل ہی قرار دیا ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے اس کو بعض روایات کی بنا پر ایک واقعہ کا بیان قرار دیا ہے، کہ ابوجہل اور بعض دوسرے لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے یا ایذاء پہنچانے کا پختہ عزم کر کے آپ کی طرف بڑھے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، عاجز ہو کر واپس آگئے۔ اسی طرح کے متعدد واقعات کتب تفسیر ابن کثیر، روح المعانی، قرطبی، مظہری وغیرہ میں منقول ہیں، مگر وہ بیشتر روایات ضعیفہ ہیں اس پر مدار آیت کی تفسیر کا نہیں رکھا جاسکتا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِہِمْ فَہُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۝ ٧ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

ان مکہ والوں میں سے اکثر پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی ہے سو یہ لوگ علم خداوندی کے مطابق ایمان نہیں لائیں گے اور نہ ایمان لانے کا ارادہ ہی کریں گے چناچہ ایسا ہی ہوا اور بدر کے دن یہ ابو جہل وغیرہ سب حالت کفر میں مارے گئے۔ شان نزول : لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ (الخ) ابو نعیم نے دلائل میں حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم سجدہ میں اونچی آواز سے قرآن کریم کی تلاوت فرمایا کرتے تھے جس سے بعض قریشیوں کو اذیت پہنچتی تھی۔ تاآنکہ وہ سب آپ کو پکڑنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے تو ان کے ہاتھ ان کی گردنوں سے جا ملے اور وہ اندھے ہوگئے کہ کچھ بھی نہ دیکھتے تھے چناچہ وہ سب رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عض کیا کہ اے محمد ہم آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر رحم کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ چناچہ آپ نے دعا فرمائی یہاں تک کہ ان سے یہ تکلیف دور ہوئی اس پر یس سے لیکر لا یومنون تک یہ آیات نازل ہوئیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لایا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧ { لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓی اَکْثَرِہِمْ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ } ” ان کی اکثریت پر ہمارا قول (قانونِ عذاب) سچ ثابت ہوچکا ہے تو اب وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ “ گویا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کا مسلسل انکار کر کے یہ لوگ قانونِ الٰہی کی عذاب سے متعلق ” شق “ کی زد میں آچکے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 This is about those people who were being obstinate and stubborn with regard to the message of the Holy Prophet and had made up their minds not to listen to him at all. This is because: They have already deserved the torment; therefore, they do not believe." It means: "The people who do not heed the admonition, and persist in their denial and hostile attitude to the truth in spite of the final warning from Allah conveyed through the Prophets, are themselves overwhelmed by the evil consequences of their misdeeds and deprived of every opportunity to believe. " The same thing has been expressed more clearly in verse 11 below: "You can only warn him who follows the admonition. and fears the Merciful God though he cannot see Him. "

سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :5 یہ ان لوگوں کو ذکر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مقابلے میں ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لے رہے تھے اور جنہوں نے طے کر لیا تھا کہ آپ کی بات بہرحال مان کر نہیں دینی ہے ۔ ان کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ فیصلۂ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اس لیے یہ ایمان نہیں لاتے اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نصیحت پر کان نہیں دھرتے اور خدا کی طرف سے پیغمبروں کے ذریعہ اتمام حجت ہو جانے پر بھی انکار اور حق دشمنی کی روش ہی اختیار کیے چلے جاتے ہیں ان پر خود ان کی اپنی شامت اعمال مسلط کر دی جاتی ہے اور پھر انہیں توفیق ایمان نصیب نہیں ہوتی ۔ اسی مضمون کو آگے چل کر اس فقرے میں کھول دیا گیا ہے کہ تم تو اسی شخص کو خبردار کر سکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے خدائے رحمان سے ڈرے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں تقدیر میں جو بات لکھی تھی کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے، وہ بات پوری ہورہی ہے ؛ لیکن یہ واضح رہے کہ تقدیر میں لکھا ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کفر پر مجبور ہوگئے ہیں، کیونکہ تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایمان لانے کا موقع بھی دے گا اور اختیار بھی دے گا ؛ لیکن یہ لوگ اپنے اختیار اور اپنی خوشی سے ضد پر اڑے رہیں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:7) لقد حق القول۔ لام تاکید کا ہے قد بمعنی تحقیق۔ حق ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے بمعنی حق ہونا۔ ثابت ہونا۔ مطابق ہونا۔ حق وہ قول یا فعل جو اسی طرح واقع ہو جس طرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو کہ جس وقت اور مقدار میں اس کا ہونا واجب ہے۔ جملہ ہذا میں قول سے مراد کافروں کو عذاب دینے کا خدائی فیصلہ ہے۔ مثلاً ولکن حق القول منی لاملئن جہنم من الجنۃ والناس اجمعین ۔ (32:13) لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا ۔ آیت ہذا کا ترجمہ ہوگا : بیشک ان میں سے اکثر پر یہ بات لازم ہوچکی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ قول جو اس نے روز اول میں فرمایا تھا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھروں گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لقد حق۔۔۔۔۔ فھم لا یومنون (36: 7) ” ان میں سے اکثر لوگ فیصلہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اسی لیے وہ ایمان نہیں لاتے “۔ ان کے معاملے میں اللہ نے فیصلہ صادر کردیا ہے اور اللہ کا فیصلہ ان کے حق میں درست ہے۔ یہ فیصلہ سچائی پر ہوا ہے۔ حق کے مطابق ہے۔ کیونکہ اللہ ان کی حقیقت سے خوب واقف تھا۔ اللہ ان کے شعور اور میلان سے بھی واقف تھا۔ یہ لوگ ایمان لانے والے ہی نہ تھے۔ اکثریت کا یہی انجام ہے۔ ان کے نفوس اور ہدایت کے درمیان پر دے حائل ہو چلے ہیں۔ وہ نہ سچائی کے دلائل کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کو ان کا شعور حاصل ہے۔ جن لوگوں پر اللہ کا فیصلہ حق ہوچکا ان کی نفسیاتی حالت کی تصویر یہ ہے ۔ ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں ، ان طوقوں کے اندر وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ دیکھ بھی نہیں سکتے۔ ان کے اوپر ہدایت کے درمیان پردے اور رکاوٹیں حامل ہوچکی ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پردے پڑچکے ہیں ، اس لیے وہ سیکھنے کے اہل ہی نہیں رہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ ) (الآیۃ) جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل مکہ کو تبلیغ کرتے تھے تو وہ آپ کی تکذیب کرتے تھے اور آپ کی بات نہیں مانتے تھے، اس سے آپ کو رنج ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ ان میں سے اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے یعنی ان کے بارے میں یہ طے ہوچکا ہے کہ عذاب میں جائیں گے۔ تکوینی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ اکثر ایمان نہیں لائیں گے لہٰذا آپ کار رسالت انجام دیں اور ان کے انکار اور عناد سے دلگیر نہ ہوں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ لقد حق الخ : یہ زجر ہے آپ کی خواہش تو یہ ہے کہ تمام کفار ایمان لے، لیکن یہ ایسے ضدی اور بد بخت ہیں کہ ایسی عظیم الشان کتاب کو بھی نہیں مانتے، ان میں سے اکثر کے حق میں تو فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ جد و تعنت اور عناد و مکابرہ کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے۔ فھم لا یومنون جملہ القول کا بیان ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(7) بلاشبہ ان میں سے اکثر پر تو عذاب کی بات ثابت ہوچکی سو وہ تو ایمان نہیں لائیں گے۔ یعنی ایمان نہ لانے والوں پر آپ افسوس نہ کریں دل تنگ نہ ہوں کیونکہ ان میں سے اکثر پر وہ ازلی اور تقدیری کلمۂ عذاب ثابت ہوچکا ہے اس لئے وہ تو ایمان لائیں گے نہیں شاید وہ بات دہ ہو جو فرمایا۔ لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین اور فرمایا سورة حج میں وکثیر حق علیہ العذاب آگے ان میں ایمان نہ لانیوالوں کی مثال بیان فرماتے ہیں۔