Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 74

سورة يس

وَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لَّعَلَّہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ؕ۷۴﴾

But they have taken besides Allah [false] deities that perhaps they would be helped.

اور وہ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں تاکہ وہ مدد کئے جائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The gods of the Idolators are not able to help Them Allah tells: وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ الِهَةً لَعَلَّهُمْ يُنصَرُونَ And they have taken besides Allah, gods, hoping that they might be helped. Allah denounces the idolators for taking the idols as gods alongside Allah, hoping that those gods will help them and provide for them and bring them closer to Allah. Allah says:

نفع و نقصان کا اختیار کس کے پاس ہے؟ مشرکین کے اس باطل عقیدے کی تردید ہو رہی ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ جن جن کی سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد نصرت کریں گے ان کی روزیوں میں برکت دیں گے اور اللہ سے ملادیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان کی مدد کرنے سے عاجز ہیں اور ان کی مددتو کجا ، وہ تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے بلکہ یہ بت تو اپنے دشمن کے نقصان سے بھی اپنے تئیں بچا نہیں سکتے ۔ کوئی اور انہیں توڑ مروڑ کر بھی چلا جائے تو یہ اس کا کچھ نہیں کر سکتے بلکہ بول چال پر بھی قادر نہیں سمجھ بوجھ نہیں ۔ یہ بت قیامت کے دن جمع شدہ حساب کے وقت اپنے عابدوں کے سامنے لاچاری اور بےکسی کے ساتھ موجود ہوں گے تاکہ مشرکین کی پوری ذلت و خواری ہو اور ان پر حجت تمام ہو ۔ حضرت فتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ بت تو ان کی کسی طرح کی امداد نہیں کرسکتے ، لیکن پھر بھی یہ بےسمجھ مشرکین ان کے سامنے اس طرح موجود رہتے ہیں جیسے کوئی حاضر باش لشکر ہو وہ نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکیں نہ کسی نقصان کو دفع کر سکیں لیکن یہ ہیں کہ ان کے نام پر مرے جاتے ہیں یہاں تک کہ ان کے خلاف آواز سننا نہیں چاہتے غصے سے بےقابو ہو جاتے ہیں ۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کفر کی باتوں سے آپ غم ناک نہ ہوں ہم پر ان کا ظاہر باطن روشن ہے وقت آرہا ہے ۔ گن چن کر ہم انہیں سزائیں دیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

74۔ 1 یہ ان کفران نعمت کا اظہار ہے کہ مذکورہ نعمتیں، جن سے یہ فائدہ اٹھاتے ہیں، سب اللہ کی پیدا کردہ ہیں۔ لیکن یہ بجائے اس کے کہ یہ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کریں یعنی ان کی عبادت و اطاعت کریں، یہ غیروں سے امیدیں وابستہ کرتے اور انہیں معبود بناتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : انسان نے اللہ کے سوا جن کی بھی عبادت کی ہے صرف اس لیے کی ہے کہ وہ اس کی مدد کریں، اس کی کوئی حاجت پوری کریں، یا اس کی کوئی مشکل دور کریں۔ اگر وہ آخرت پر بھی ایمان رکھتا ہے تو اس لیے کہ اسے سفارش کے بل بوتے پر عذاب سے بچا لیں، یہ سب مدد کی صورتیں ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ اٰلِہَۃً لَّعَلَّہُمْ يُنْصَرُوْنَ۝ ٧٤ۭ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حیھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

مگر ان کفار مکہ نے تو اللہ کے علاوہ اور بتوں کو معبود قرار دے رکھا ہے اس امید میں کہ وہ بت ان کی عذاب خداوندی سے حفاظت کریں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٤ { وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لَّعَلَّہُمْ یُنْصَرُوْنَ } ” اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود گھڑ لیے ہیں ‘ شاید کہ ان کی مدد کی جائے۔ “ انہیں امید ہے کہ اللہ کے ہاں ان معبودوں کی سفارش سے وہ آخرت کے عذاب سے بچ جائیں گے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:74) اتخذوا ماضی جمع مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے اختیار کیا۔ ضمیر فاعل کا مرجع مشرکین ہیں۔ الھۃ۔ الہ کی جمع۔ معبود ۔ من دون اللہ الھۃ (خدا کو چھوڑ کر اور خدا یا معبود) سے مراد نہ صرف بت ہیں بلکہ دیگر عناصر قدرت (آگ، پانی، ہوا ، بادل، بجلی ، وغیرہ) ۔ اور حیوان (از قسم گائے وغیرہ) اور انسان (پیران باطل جو اپنے آپ کو خدا کی خدائی میں شریک بتلاتے ہیں یا ان کے مرید ان کو ایسا سمجھتے ہیں) سب شامل ہیں۔ لعلہم ینصرون۔ شاید (ان معبودان باطل کے ذریعہ ) ان کی (یعنی مشرکین کی) مدد کی جائے گی !

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو درکنار اکثر انسان اللہ تعالیٰ کو اعتقاداً اور عملاً الٰہ ہی نہیں مانتے۔ انسان کی اپنے رب کے بارے میں ناقدری اور بغاوت کی انتہا دیکھیں کہ کھاتا، پیتا، پہنتا اور نعمتیں اپنے رب کی استعمال کرتا ہے۔ جن میں بیشمار نعمتیں ایسی ہیں جن کو کسی صورت میں بھی انسان اپنے استعمال میں نہیں لاسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان نعمتوں کو انسان کے تا بع فرمان نہ کرتا۔ جن میں چوپائے بھی شامل ہیں جو جسم اور طاقت کے اعتبار سے انسان سے کئی گنا بڑے اور طاقتور ہیں۔ مگر وہ انسان کے غلام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے مطیع کردیا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ انسان اپنے خالق اور منعم حقیقی کے سوا کسی کے سامنے نہ جھکتا اور نہ ہی کسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتا۔ مگر انسان نے اللہ تعالیٰ کے سوا کئی معبود اور مشکل کشا بنا رکھے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر ان میں سے کوئی بڑا، نوری ہو یا ناری کوئی بھی انسان کی مدد نہیں کرسکتا۔ یہ تو سب کے سب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیے جائیں گے۔ ان الفاظ کے اہل علم نے دو مفہوم اور بھی لیے ہیں کہ معبودان باطل اور ان کی عبادت کرنے والوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کردیا جائے گا۔ معبودان باطل اور ان کے پیچھے لگنے والوں کو جہنّم میں ایک دوسرے کے سامنے حاضر کیا جائے گا۔ یہ ایک دوسرے کی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے۔ نہ صرف قیامت کے دن ایک دوسرے کی مدد نہیں کر پائیں گے۔ بلکہ دنیا میں بھی اس کی ہر دور میں مثالیں موجود رہی ہیں اور رہے گی کہ جب اللہ تعالیٰ کی پکڑ آتی ہے تو وہ فرد ہو یا قوم اسے کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ود، سُواع، یغوث، یعوق اور نسر کو پنچتن پاک بنا رکھا تھا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو کوئی بھی کسی کو نہیں بچا سکا تھا۔ فرعون اپنی قوم کا رب الاعلیٰ بنا ہوا تھا۔ جب وقت آیا تو سب کے سب سمندر میں غرق کردئیے گئے۔ رب الاعلیٰ کا دعویٰ کرنے والا خود اپنی مدد کے لیے دوہائی دے رہا تھا۔ یہی صورتحال ہر دور کے ظالموں کی رہی ہے۔ ابوسفیان کا اقرار : فتح مکہ کے موقع پر ابوسفیان رات کے وقت مسلمانوں کے لشکر کا جائزہ لے رہا تھا۔ اچانک اس کی ملاقات حضرت عباس (رض) کے ساتھ ہوگئی رات کے اندھیرے میں دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ اس موقعہ پر دونوں کے درمیان اور باتیں بھی ہوئیں جن میں ایک بات یہ تھی کہ عباس (رض) نے ابوسفیان سے پوچھا کیا اب بھی تجھے یقین نہیں آتا کہ لات، عزیٰ اور ہبل کسی کی مدد نہیں کرسکتے۔ ابوسفیان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اگر واقعی ہبل اور دوسرے خدا مدد کرسکتے تو آج ہماری مدد کرتے۔ یہی بات عکرمہ بن ابوجہل نے فتح مکہ کے وقت کہی تھی۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مشرک اس لیے دوسروں کے سامنے جھکتا، سجدہ کرتا اور نذرونیاز پیش کرتا ہے تاکہ مشکل کے وقت اس کی مدد کی جائے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ ٣۔ معبودان باطل اور ان کے چاہنے والوں کو جہنّم میں اکٹھا کردیا جائیگا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور نہ ہی کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے : ١۔ جنوں اور انسانوں کو اللہ نے صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ (الذاریات : ٥٦) ٢۔ تمام رسول، اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے۔ (النحل : ٣٦) ٣۔ اللہ ہی کے لیے رکوع و سجود اور ہر عبادت ہونی چاہیے۔ (الحج : ٧٧) ٤۔ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ (النساء : ٣٦) ٥۔ اللہ کی عبادت اخلاص کے ساتھ کرنی چاہیے۔ (الزمر : ٢) ٦۔ اللہ ہی مشکل کشا ہے۔ (الانعام : ١٧) ٧۔ اللہ ہی حاجت رواہے۔ (الانبیاء : ٨٧) ٨۔ اللہ ہی کو پکارو وہی تکلیف دور کرتا ہے۔ (الانعام : ٤١) ٩۔ اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو سوائے اللہ کے اسے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ (یونس : ١٠٧) ١٠۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تکلیف دور کرنے والا نہیں۔ (بنی اسرائیل : ٥٦) ١١۔ کون ہے جو اللہ کے سوا مجبور کی دعا سننے والا اور مصیبت دور کرنے والا ہے۔ (النمل : ٦٢) ١٢۔ کہہ دیجیے اگر اللہ تعالیٰ نقصان پہچانے پر آئے کیا کوئی نقصان دور کرسکتا ہے ؟ (الفتح : ١١) ١٣۔ کیا تم ایسے لوگوں کو معبود مانتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الرعد : ١٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لیکن لوگوں کے اندر یہ شعور نہیں ہے اس لیے وہ شکر نہیں بجا لاتے بلکہ انہوں نے الٹا اللہ کی مخلوق میں دوسری چیزوں کو اللہ کے سوا الٰہ اور مددگار بنا رکھا ہے۔ واتخذوا من دون ۔۔۔۔۔ جند محضرون (36: 74 – 75) ” انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے خدا بنا لیے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے گی۔ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے بلکہ یہ لوگ الٹے ان کے لیے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں “۔ ماضی میں یوں ہوتا تھا کہ بت اور آستانے پوجے جاتے تھے ، یا درختوں اور ستاروں کی پوجا کی جاتی تھی۔ فرشتوں ، اور جنوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ ماضی کی بت پرستی آج بھی بعض علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ لیکن جو لوگ اس مظاہر پرستی میں مبتلا نہیں ہیں وہ بھی خالص توحید کے قائل نہیں ہیں۔ آج اکثر لوگ اللہ کے سوا دوسری کھوٹی اور جھوٹی قوتوں سے خائف ہیں اور اللہ کے سوا دوسرے سہاروں پر اعتماد کرتے ہیں ۔ شرک کے بہرحال بہت سے رنگ ہوتے ہیں۔ زمان و مکان کے اختلاف سے اس کے رنگ ڈھنگ بھی بدلتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ ان الہوں کی بندگی اس لیے کرتے تھے کہ ان کے ذریعے یہ لوگ کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ حالانکہ عملاً صورت حالات یہ ہوتی تھی کہ ان کے الہوں کے خلاف اگر کوئی کچھ اقدام کرتا تھا تو یہ لوگ اپنے الہوں کی امداد کے لیے کھڑا ہوجاتے تھے اور اپنے الہوں کی حمایت کرتے تھے۔ اصل میں تو یہ لوگ اپنے کھوٹے خداؤں کے مددگار ہوتے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مشرکین کی بیوقوفی اس کے بعد فرمایا (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لَّعَلَّہُمْ یُنْْصَرُوْنَ ) اور ان لوگوں نے اللہ کے علاوہ معبود بنا لیے ہیں جن سے یہ امید رکھتے ہیں کہ یہ ہماری مدد کریں گے۔ (لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَھُمْ ) (جن لوگوں سے مدد کی امید کر رکھی ہے وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے) (وَھُمْ لَہُمْ جُندٌ مُّحْضَرُوْنَ ) (اور وہ ان کے لیے فریق مخالف ہوجائیں گے جو حاضر کردئیے جائیں گے) یعنی اللہ کے سوا جنہیں معبود بنا کر ان سے مدد کی امید باندھے ہوئے ہیں وہ تو ان معبود بنانے والوں کے مخالف ہوجائیں گے اور میدان قیامت میں بالاضطرار حاضر کردئیے جائیں گے اور وہاں حاضر ہو کر جنہوں نے انہیں معبود بنایا تھا ان کی مخالفت کردیں گے۔ سورة مریم میں فرمایا : (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِھَۃً لِّیَکُوْنُوْا لَھُمْ عِزًّا کَلَّاسَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِھِمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْھِمْ ضِدًّا) (اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے معبود تجویز کر رکھے ہیں تاکہ ان کے لیے وہ باعث عزت ہوں، ہرگز نہیں وہ ان کی عبادت ہی کا انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے) وہاں جھوٹی آرزوؤں کی قلعی کھل جائے گی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45:۔ واتخذوا الخ :۔ یہ زجر ہے، اللہ کے ایسے انعامات کے باوجود مشرکین نے اللہ کے سوا اوروں کو معبود اور شفعاء بنا رکھا تھا۔ تاکہ بوقت ضرورت وہ ان کی مدد کریں۔ لیکن بوقت ضرورت وہ ہرگز ان کی مدد نہ کرسکیں گے حالانکہ کفار اپنے زعم میں ان معبودوں کو اپنے مددگار اور شفیع سمجھتے ہیں۔ قال الشیخ قدس سرہ وھم لہم جند محضرون ای معبوداتہم لھم ای للکفار جند فی زعمہم حاضرون تشفع لہم (بلغہ ص 283) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کے مزعومہ معبود ان کی کیا مدد کریں گے جبکہ وہ خود اپنی مدد اور حفاظت نہیں کرسکتے۔ بلکہ ان کے پجاری ان کی دیکھ بھال اور حفاظت کرتے ہیں۔ اعوان و شیعۃ یخدمونہم و یذبون عنہم (مدارک ج 4 ص 11) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(74) اور دین حق کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور معبود قراردے رکھے اور بنا رکھے ہیں کہ شاید ان کو ان معبودان باطلہ سے کچھ مدد پہنچ سکے اور وہ معبود ان کی کسی وقت مدد کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں اس توقع اور امید پر کہ کسی آڑے وقت میں ان سے مدد پہنچ جائے۔