Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 101

سورة الصافات

فَبَشَّرۡنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾

So We gave him good tidings of a forbearing boy.

تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So We gave him the glad tidings of a forbearing boy. This child was Ismail, peace be upon him, for he was the first child of whom glad tidings were given to Ibrahim, peace be upon him, and he was older than Ishaq. The Muslims and the People of the Book agree, and indeed it is stated in their Book, that Ismail, peace be upon him, was born when Ibrahim, peace be upon him, was eighty-six years old, and Ishaq was born when Ibrahim was ninety-nine years old. According to their Book, Allah commanded Ibrahim to sacrifice his only son, and in another text it says his firstborn son. But here they falsely inserted the name of Ishaq. This is not right because it goes against what their own Scripture says. They inserted the name of Ishaq because he is their ancestor, while Ismail is the ancestor of the Arabs. They were jealous of them, so they added this idea and changed the meaning of the phrase "only son" to mean `the only son who is with you,' because Ismail had been taken with his mother to Makkah. But this is a case of falsification and distortion, because the words "only son" cannot be said except in the case of one who has no other son. Furthermore, the firstborn son has a special status that is not shared by subsequent children, so the command to sacrifice him is a more exquisite test.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

101۔ 1 حَلِیْمٍ کہہ کر اشارہ فرما دیا کہ بچہ بڑا ہو کر بردبار ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٥] سیدنا اسماعیل کی بشارت :۔ آپ گھر بار اور عزیز و اقارب چھوڑ کر شام کے علاقہ میں آئے۔ کافی عمر ہونے کے باوجود ابھی تک اولاد نہ تھی لہذا اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما جو میرے گھر کی رونق بنے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس بیٹے کی بشارت دی اس کی نمایاں صفت حلیم تھی اور اس صفت میں سیدنا اسماعیل کے قربانی کے واقعہ اور اس موقع پر ان کے بردبار ہونے کی طرف لطیف اشارہ پایا جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ : یعنی ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انھیں ایک بہت حلم والے لڑکے کی بشارت دی۔ حلم میں صبر، حسن خلق، حوصلے کی وسعت اور زیادتی کرنے والوں سے درگزر شامل ہے۔ عموماً اس کا ترجمہ بردباری کیا جاتا ہے۔ یہ بیٹا اسماعیل (علیہ السلام) تھا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے یا تو یہ دعا کافی عمر ہونے کے بعد کی، یا ان کی دعا اور اس کی قبولیت میں کئی سال کا وقفہ ہوا، کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا : (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ ) [ إبراہیم : ٣٩ ] ” سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا کیے۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو وادی غیر ذی زرع (مکہ) میں چھوڑا، جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آب زم زم مہیا فرمایا اور قبیلہ بنو جرہم کو لابسایا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Thus, by saying &forbearing& in: فَبَشَّرْ‌نَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ (So, We gave him the good news of a forbearing boy- 101), it was indicated that this newborn would demonstrate such patience, control and forbearance in his life as would be exemplary in the world. The birth of this son had a background of its own. When Sayyidah Sarah (رض) realized that she is not being blessed with children, she took herself to be barren. On the other hand, the Pharaoh had given his daughter named Hajirah (رض) as gift to Sayyidah Sarah (رض) ، so that she could help her in household chores. Sayyidah Sarah (رض) passed on this very Hajirah as gift to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) who married her. Then the son mentioned here was born to this Hajirah (رض) and he was named Ismail (علیہ السلام) .

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ (پس ہم نے ان کو ایک حلیم المزاج فرزند کی بشارت دی) ” حلیم المزاج “ فرما کر اشارہ کردیا گیا کہ یہ نومولود اپنی زندگی میں ایسے صبر وضبط اور بردباری کا مظاہرہ کرے گا کہ دنیا اس کی مثال نہیں پیش کرسکتی۔ اس فرزند کی ولادت کا واقعہ یہ ہوا کہ جب حضرت سارہ نے یہ دیکھا کہ مجھ سے کوئی اولاد نہیں ہو رہی تو وہ سمجھیں کہ میں بانجھ ہوچکی ہوں ادھر فرعون مصر نے حضرت سارہ کو اپنی بیٹی جن کا نام ہاجرہ تھا، خدمت گزاری کے لئے دے دی تھی، حضرت سارہ نے یہی ہاجرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو عطا کردیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے نکاح کرلیا، انہی ہاجرہ کے بطن سے یہ صاحبزادے پیدا ہوئے اور ان کا نام اسماعیل (علیہ السلام) رکھا گیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَبَشَّرْنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ۝ ١٠١ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] . ( ب ش ر ) البشر التبشیر کے معنی ہیں اس قسم کی خبر سنانا جسے سن کر چہرہ شدت فرحت سے نمٹما اٹھے ۔ مگر ان کے معافی میں قدر سے فرق پایا جاتا ہے ۔ تبیشتر میں کثرت کے معنی ملحوظ ہوتے ہیں ۔ اور بشرتہ ( مجرد ) عام ہے جو اچھی وبری دونوں قسم کی خبر پر بولا جاتا ہے ۔ اور البشرتہ احمدتہ کی طرح لازم ومتعدی آتا ہے جیسے : بشرتہ فابشر ( یعنی وہ خوش ہوا : اور آیت کریمہ : { إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ } ( سورة آل عمران 45) کہ خدا تم کو اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے میں ایک قرآت نیز فرمایا : لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ قالَ : أَبَشَّرْتُمُونِي عَلى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ قالُوا : بَشَّرْناكَ بِالْحَقِّ [ الحجر/ 53- 54] مہمانوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ بولے کہ جب بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں ۔ { فَبَشِّرْ عِبَادِ } ( سورة الزمر 17) تو میرے بندوں کو بشارت سنادو ۔ { فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ } ( سورة يس 11) سو اس کو مغفرت کے بشارت سنادو استبشر کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ( اور شہید ہوکر ) ان میں شامل ہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں ۔ وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] اور اہل شہر ( لوط کے پاس ) خوش خوش ( دورے ) آئے ۔ اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری سے کرآئے ۔ يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] زہے قسمت یہ تو حسین ) لڑکا ہے ۔ وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے رذریعہ بشارت ) بنایا غلم الْغُلَامُ الطّارّ «3» الشّارب . يقال : غُلَامٌ بيّن الغُلُومَةِ والغُلُومِيَّةِ. قال تعالی: أَنَّى يَكُونُ لِي غُلامٌ [ آل عمران/ 40] ، وَأَمَّا الْغُلامُ فَكانَ أَبَواهُ مُؤْمِنَيْنِ [ الكهف/ 80] ، وقال : وَأَمَّا الْجِدارُ فَكانَ لِغُلامَيْنِ [يوسف/ 19] ، وقال في قصة يوسف : هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، والجمع : غِلْمَةٌ وغِلْمَانٌ ، واغْتَلَمَ الْغُلَامُ :إذا بلغ حدّ الغلومة، ولمّا کان من بلغ هذا الحدّ كثيرا ما يغلب عليه الشّبق قيل للشّبق : غِلْمَةٌ ، واغْتَلَمَ الفحلُ. ( غ ل م ) الغلام اس لڑکے کو کہتے ہیں جس کی مسیں بھیگ چکی ہوں محاورہ ہے غلام بین الغلومۃ والغیو میۃ لڑکا جو بھر پور جوانی کی عمر میں ہو۔ کی عمر میں ہو قرآن پاک میں ہے : أَنَّى يَكُونُ لِي غُلامٌ [ آل عمران/ 40] میرے ہاں لڑکا کیونکہ ہوگا ۔ وَأَمَّا الْغُلامُ فَكانَ أَبَواهُ مُؤْمِنَيْنِ [ الكهف/ 80] اور وہ لڑکا تھا اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے ۔ وَأَمَّا الْجِدارُ فَكانَ لِغُلامَيْنِ [يوسف/ 19] اور جو دیورار تھی سو وہ دو لڑکوں کی تھی ۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا : هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] یہ تو نہایت حسین ) لڑکا ہے ۔ غلام کی جمع غلمۃ وغلمان آتی ہے ۔ اور اغتلم الغلام کے معنی ہیں لڑکا بالغ ہوگیا ۔ عام طور پر چونکہ اس عمر میں جنسی خواہش کا غلبہ ہوجاتا ہے اس لئے غلمۃ کا لفظ جنسی خواہش کی شدت پر بولا جاتا ہے ۔ اور اغتلم الفحل کے معنی ہیں سانڈ جنسی خواہش سے مغلوب ہوگیا ۔ حلم الحِلْم : ضبط النّفس والطبع عن هيجان الغضب، وجمعه أَحْلَام، قال اللہ تعالی: أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلامُهُمْ بِهذا [ الطور/ 32] ، قيل معناه : عقولهم «5» ، ولیس الحلم في الحقیقة هو العقل، لکن فسّروه بذلک لکونه من مسبّبات العقل «6» ، وقد حَلُمَ «7» وحَلَّمَهُ العقل وتَحَلَّمَ ، وأَحْلَمَتِ المرأة : ولدت أولادا حلماء «8» ، قال اللہ تعالی: إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] ، وقوله تعالی: فَبَشَّرْناهُ بِغُلامٍ حَلِيمٍ [ الصافات/ 101] ، أي : وجدت فيه قوّة الحلم، وقوله عزّ وجل : وَإِذا بَلَغَ الْأَطْفالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ [ النور/ 59] ، أي : زمان البلوغ، وسمي الحلم لکون صاحبه جدیرا بالحلم، ويقال : حَلَمَ «1» في نومه يَحْلُمُ حُلْماً وحُلَماً ، وقیل : حُلُماً نحو : ربع، وتَحَلَّمَ واحتلم، وحَلَمْتُ به في نومي، أي : رأيته في المنام، قال اللہ تعالی: قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ [يوسف/ 54] ، والحَلَمَة : القراد الکبير، قيل : سمیت بذلک لتصوّرها بصورة ذي حلم، لکثرة هدوئها، فأمّا حَلَمَة الثدي فتشبيها بالحلمة من القراد في الهيئة، بدلالة تسمیتها بالقراد في قول الشاعر : 125- كأنّ قرادي زوره طبعتهما ... بطین من الجولان کتّاب أعجمي «2» وحَلِمَ الجلد : وقعت فيه الحلمة، وحَلَّمْتُ البعیر : نزعت عنه الحلمة، ثم يقال : حَلَّمْتُ فلانا : إذا داریته ليسكن وتتمکّن منه تمكّنک من البعیر إذا سكّنته بنزع القراد عنه «3» . ( ح ل م ) الحلم کے معنی ہیں نفس وطبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑ کنہ اٹھے اس کی جمع احلام ہے اور آیت کریمہ : ۔ کیا عقلیں ان کو ۔۔۔ سکھاتی ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ احلام سے عقیں مراد ہیں اصل میں ھلم کے معنی متانت کے ہیں مگر چونکہ متانت بھی عقل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے حلم کا لفظ بول کر عقل مراد لے لیتے ہیں جیسا کہ مسبب بول کر سبب مراد لے لیا جاتا ہے حلم بردبار ہونا ۔ عقل نے اسے برد بار رہنا دیا ۔ عورت کا حلیم بچے جننا ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَبَشَّرْناهُ بِغُلامٍ حَلِيمٍ [ الصافات/ 101] تو ہم نے ان کو ایک نرم دل لڑکے کی خوشخبری دی ۔ کے معنی یہ ہیں کہ اس غلام ہیں قوت برداشت ۔۔۔۔۔۔ تھی اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا بَلَغَ الْأَطْفالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ [ النور/ 59] اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں & میں حلم کے معنی سن بلوغت کے ہیں اور سن بلوغت کو حلم اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس عمر میں طور عقل وتمیز آجاتی ہے کہا جاتا ہے ۔ حلم ( ن ) فی نومہ خواب دیکھنا مصدر حلم اور حلم مثل ربع بھی کہا گیا ہے ۔ اور ۔ یہی معنی تحلم واحتلم کے ہیں ۔ حلمت بہ فی نومی ۔ میں نے اسے خواب میں دیکھا ۔ قرآن میں ہے : ۔ قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ [يوسف/ 54] انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔ الحلمۃ بڑی چیچڑی ۔ کیونکہ وہ ایک جگہ پر جمے رہنے کی وجہ سے حلیم نظر آتی ہے اور سر پستان کو حلمۃ الثدی کہنا محض ہیت میں چیچڑی کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ہے ۔ اس مجاز کی دلیل یہ ہے کہ سر پستان کو قراد بھی کہہ دیتے ہیں ۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( طویل ) اس کے سینے پر پستانوں کے نشانات اسطرح خوشمنا نظر اتے ہیں کہ گویا کسی کاتب لے مٹی کی مہریں لگادیں ہیں چمڑے کو کیڑا الگ جانا ۔ حلمت البعیر میں نے اونٹ سے خیچڑ نکالے حلمت فلانا کسی پر قدرت حاصل کے لئے اس کے ساتھ مدارات سے پیش آنا تاکہ وہ مطمئن رہے جیسا کہ اونٹ سے چیچڑ دور کرنے سے اسے سکون اور راحت محسوس ہوتا ہے اور انسان اس پر پوری طرح قدرت پالیتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠١{ فَـبَشَّرْنٰــہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ } ” تو ہم نے اسے بشارت دی ایک حلیم الطبع لڑکے کی۔ “ اس سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) مراد ہیں ۔ - ۔ ” حلیم “ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور اس حوالے سے قرآن میں یہ لفظ بار بار آیا ہے۔ ویسے تو اللہ کی صفات کا کچھ نہ کچھ عکس انسانوں کے اندر بھی پایا جاتا ہے لیکن ” حلم “ اللہ کی وہ شان ہے جو انسانوں میں زیادہ عام نہیں ہے۔ لفظ ” حلیم “ غیر اللہ کے لیے قرآن میں صرف تین مرتبہ آیا ہے۔ دو مرتبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ( التوبہ : ١١٤ اور ہود : ٧٥) اور ایک مرتبہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لیے آیت زیر مطالعہ میں۔ یہاں ایک قابل توجہ نکتہ یہ بھی ہے کہ اس آیت میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو غُلٰمٍ حَلِیْمٍ جبکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو سورة الحجر کی آیت ٥٣ میں غُلٰمٍ عَلِیْمٍ کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ یعنی ایک بھائی علم میں زیادہ تھے اور ان ہی سے آگے بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ چلا اور دوسرے بھائی یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ” حلم “ میں زیادہ تھے اور ان کی اولاد میں نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوئی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

57 From this one should not understand that this good news was given him immediately following his prayer. In the Qur'an itself, at another place, this saying of the Prophet Abraham has been related: "All praise be to Allah Who has given me sons like Ishmael and Isaac in my old age." (Ibrahim: 39). This proves that there was an interval of many years between the prayer and this good news. The " Bible says that at the birth of the Prophet Ishmael, the Prophet Abraham was 86 years old (Gen. 16: 16) and at the birth of the Prophet Isaac a hundred years. (Gen. 21: 5).

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :57 اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ دعا کرتے ہی یہ بشارت دے دی گئی ۔ قرآن مجید ہی میں ایک دوسرے مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے ( سورہ ابراہیم ، آیت 39 ) ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور اس بشارت کے درمیان سالہا سال کا فصل تھا ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر 86 برس کی تھی ( پیدائش 16:16 ) ، اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کے وقت سو برس کی ( 61:5 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: اس سے مراد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:101) غلم۔ لڑکا۔ بیٹا۔ نرینہ اولاد۔ حلیم۔ بردبار۔ تحمل والا۔ باوقار حلم سے جس کے معنی جوش غضب سے نفس اور طبیعت کو روکنے یعنی بردباری اور تحمل کرنے کے ہیں۔ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ان سے مراد حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) ہیں اور یہ پہلے لڑکے ہیں۔ ان کے حضرت اسحاق ( علیہ السلام) سے بڑے ہونے پر تمام مسلمانوں اور اہل کتاب کا اتفاق ہے۔ قرآن کے انداز بیان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ پہلے غلام حلیم کی بشارت اور ان کے ذبح سے بچ جانے کا واقعہ نقل کیا ہے اور پھر اس کے بعد ( وبشرناہ باسحاق) ذکر کیا ہے اور ان کو ( نبی تا من الصالحین) کہا جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ جوانی کو پہنچ کر نبی بنیں گے نیز حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کی خوشخبری کے ساتھ ان کے بعد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی خوشخبری ہے، اس لئے یہ نہیں ہوسکتا کہ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کے ذبح کا حکم دیا جائے۔ ( ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے دوران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ بیٹے کی کمی محسوس ہوئی اور دعا کی اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اسی وقت قبول نہیں ہوئی۔ بلکہ قرآن حکیم میں یہ بات انہی کی زبان اطہر سے بیان کی گئی ہے۔ کہ دعا بہت مدت کے بعد بلکہ عمر کے آخری حصے میں مستجاب ہوئی۔ ” سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے بلاشبہ میرا رب دعا سننے والا ہے۔ “ [ ابراہیم : ٣٩] تمام مفسرین نے لکھا ہے جناب خلیل (علیہ السلام) کو ٨٦ سال کی عمر میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عطا کئے گئے۔ اللہ پاک کی عجب سنت ہے کہ جب کسی بندے کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ساتھ ہی نیک لوگوں کی آزمائش بھی شروع کرتا ہے۔ جن کے مرتبے بلند ہوتے ہیں ان کی آزمائش بھی بڑی ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا کہ میں بیٹے کو ذبح کررہا ہوں۔ فلسطین سے مکہ آئے اور خواب کا بیٹے سے ذکر کیا اور پوچھا۔ بیٹا تیرا کیا خیال ہے ؟ بیٹے سے پوچھنے کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں کہ اگر بیٹے نے خوشی سے اپنے آپ کو تعمیل حکم کے لئے پیش کیا تو وہ بھی ثواب کا مستحق ہوجائے گا ورنہ حکم خداوندی کی تعمیل تو بہر حال کی جائے گی۔ شاید وہ دیکھنا چاہتے ہوں کہ جس صالح بیٹے کی میں نے آرزو کی تھی کیا واقعتا وہ صالح ہے۔ تیسری وجہ ظاہر ہے کہ خواب کا تعلق بیٹے سے بھی ہے لہٰذابیٹے سے پوچھنا مناسب سمجھا۔ اسماعیل نے عرض کی ابو جان آپ کو جو حکم ہوا ہے اس کے مطابق عمل فرمائیں انشاء اللہ آپ مجھے حوصلہ مند پائیں گے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا جواب آداب فرزندی کی معراج ہے۔ باپ اور بیٹا بڑے اعتماد سے میدان منٰی کی طرف جارہے ہیں۔ شیطان کا اضطراب : اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کا عظیم الشان اور عدیم المثال مظاہرہ شیطان مردود کس طرح دیکھ سکتا تھا۔ چناچہ شیطان بھاگم بھاگ حضرت ہاجرہ[ کے پاس گیا اور کہنے لگا اے ام اسماعیل آپ کا بیٹا کدھر گیا ہے۔ حضرت ہاجرہ [ نے فرمایا وہ اپنے والد کے ساتھ گیا ہے۔ شیطان نے کہا اے ہاجرہ تجھے خبر نہیں اسے ابراہیم (علیہ السلام) ذبح کرنے کے لیے لے گیا ہے۔ حضرت ہاجرہ[ حیران ہو کر پوچھتی ہیں کہ کبھی ایسے بھی ہوا ہے کہ باپ اپنے بیٹے کو ذبح کرے اور خاص کر اتنے خوبصورت اور نیک سیرت بیٹے کو ؟ شیطان نے سوچا شاید اب میرا داؤ چل جائے گا کہنے لگا اے ام اسماعیل ! آج ابراہیم اسے ضرور ذبح کر دے گا۔ کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ مجھے ایسا کرنے کا ” اللہ “ نے حکم دے رکھا ہے۔ حضرت ہاجرہ[ نے فرمایا اگر اللہ پاک نے یہ حکم دیا ہے تو جاؤ چلے جاؤ۔ میں اپنے اللہ کی رضا پر راضی ہوں۔ [ رواہ احمد : مسند عبداللہ بن عباس (رض) ] حضرت ہاجرہ[ سے مایوس ہو کر شیطان جمرہ عقبہ (آج کل جس کو بڑا شیطان کہا جاتا ہے) کے پاس کھڑا ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) کو پھسلانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) نے سات پتھر مارے۔[ رواہ احمد : مسند ابن عباس ] ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور بےمثال قربانی : آج سے ہزاروں سال پیشتر دنیا کے ایک گوشے میں عجیب و غریب واقعہ رونما ہورہا ہے کہ وادی ” غَیْرِذِیْ زَرْعٍ “ پر دومخلص ترین بندے جمع ہیں۔ باپ کی زبان پر ! (إِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ ) [ الانعام : ٧٩] ” میں سب کو چھوڑ چھاڑ کر ایک ہی ذات کبریا کا ہوگیا ہوں جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور میں مشرکوں سے نہیں ہوں۔ “ بیٹا آنکھیں موند کر چہرہ زمین کے ساتھ لگائے ہوئے کہہ رہا ہے۔ (سَتَجِدُنِی إِنْ شَاء اللَّہُ مِنَ الصَّابِرِینَ )[ الصّافّات : ١٠٢] ” آپ انشاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔ “ پھر دوسری جگہ جمرہ وسطی کے پاس آکر اور اس کے بعد تیسری دفعہ جمرہ اولی کے پاس شیطان نے آخری کوشش کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تینوں جگہ سات سات کنکریاں ماریں۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کنکریاں مارنے کو بھی حجاج کے لئے شعائر قرار دے دیا۔ چشم فلک نے ایسا نظارہ نہ پہلے کبھی کیا اور نہ ہی کبھی آئندہ کرے گی۔ کہ حکم الٰہی کی تعمیل میں جناب خلیل اللہ (علیہ السلام) نے اپنے جگر گوشے کو پیشانی کے بل کنکریلی زمین پر لٹایا تاکہ پیارے اور معصوم رخ زیبا کو دیکھ کر پدری جذبہ استقامت کی راہ میں حائل نہ ہوجائے۔ (فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ )[ الصّٰفّٰت : ١٠٣] ” جب باپ اور بیٹے نے سر تسلیم خم کردیا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔ “ جس بیٹے کے لیے مدت مدید دعائیں مانگیں تھیں۔ جس کی خبر گیری کے لیے میلوں سفر کیا تھا جس کو ہاجرہ[ نے پیار کی لوریاں دی تھیں اور جس چہرے کو چوم کر اپنے دل کو تنہائی میں تسلی دیا کرتی تھیں آج وہی چہرہ مٹی میں لتھڑا ہوا الٹاپڑا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کو زمین پر لٹا کر یہ ثابت کردیا کہ اللہ کی رضا جوئی کے لئے ہر چیز قربان کی جاسکتی ہے اور یہی راستہ ہے جس سے آدمی اصل نیکی تک پہنچتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ لیکن اللہ کا فضل وکرم کہ اس نے اسمعیل (علیہ السلام) کو بچا کر ایک دنبے کی قربانی قبول کی۔ کیونکہ مقصود امتحان تھا نہ کہ جان !” ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہے۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی جزا دیا کرتے ہیں یقیناً یہ ایک بڑی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی دے کر اسمعیل کو چھڑا لیا ہم نے اس کا ذکر خیر بعد میں آنے والوں میں ہمیشہ کے لئے رکھ دیا۔ سلام ہو ابراہیم پر۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ “ [ الصّٰفّٰت : ١٠٤ تا ١١١] بعض لوگوں نے عقل پرستی کی بنا پر لکھا کہ چھری کا پھل، چھری کے دستے میں داخل ہوگیا۔ کسی نے کہا جناب اسماعیل (علیہ السلام) کی گردن تا نبے کی بن گئی اور کچھ تو عقل کے آگے لگ کر بھا گنے لگے اور کہا کہ لٹانے کا معنٰی ہے کہ دونوں اللہ کے سامنے جھک گئے۔ حا لان کہ قرآن حکیم نے ” فَلَمَّا اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ لِلْجَبِےْنِ “ کے الفاظ کہہ کر آگلی کیفیت کو اہل دل پر چھوڑ دیا ہے۔ (سَلَامٌ عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ )[ الصّافّات : ١٠٩]” ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہو “ مسائل ١۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے نیک بیٹے کی دعا کی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسماعیل (علیہ السلام) کی صورت میں نیک اور باحوصلہ بیٹا عطا فرمایا۔ ٣۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسماعیل سے اپنے خواب کا ذکر کیا تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے عرض کی کہ آپ اپنے خواب پر عمل پیرا ہوجائیں۔ ٤۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا خواب سچ کردکھایا تو اللہ تعالیٰ نے اسماعیل (علیہ السلام) کے بدلے ایک دنبے کی قربانی قبول فرمائی۔ ٥۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس سنت کو آنے والے لوگوں کے لیے نمونہ قرار دیا گیا۔ ٦۔ ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی رہیں گی۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فبشرنہ بغلم حلیم (101) “۔ یہ حضرت اسماعیل ہیں جس طرح اس سورت اور سیرت کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور اللہ نے ان کے علم اور صبر اور بردباری کی تعریف کی۔ جبکہ وہ ابھی لڑکے تھے۔ ہمیں چاہئے کہ اس مقام پر حضرت ابراہیم کی تنہائی ، وطن سے جدائی اور اہل قرابت سے دوری کے بارے میں سوچیں اور پھر اس بچے کی خوشخبری پر خوشی کا تصور کریں جس کی تعریف رب تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ یہ بچہ غلام حلیم ہوگا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ، ان کا وہ طرز عمل سامنے آتا ہے جو پوری انسانی تاریخ میں ایک منفرد طرز عمل ہے اور ان کی زندگی میں تو وہ بہرحال ایک یادگار طرز عمل ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو قیامت تک امت مسلمہ کے لیے ایک اعلیٰ وارفع مثال ہے۔ یہ عمل حضرت ابراہیم نے خود پیش فرمایا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(101) لہٰذا ہم نے اس کو ایک حلیم الطبع اور بردبار لڑکے کی بشارت اور خوشخبری دی۔ صالح لڑکے کی درخواست کی جو منظور ہوئی اور حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے ان کو بشارت بھی مل گئی وہ بچہ پیدا ہوا اور غالباً وہ بچہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں جیسا کہ مشہور یہی ہے اور اکثر اہل علم کی رائے یہی ہے۔