Surat us Saaffaat
Surah: 37
Verse: 106
سورة الصافات
اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡبَلٰٓـؤُا الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۰۶﴾
Indeed, this was the clear trial.
درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا ۔
اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡبَلٰٓـؤُا الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۰۶﴾
Indeed, this was the clear trial.
درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا ۔
Verily, that indeed was a manifest trial. meaning, it was clearly a test when he was commanded to sacrifice his son, so, he hastened to do it, in submission to the command of Allah and in obedience to Him. Allah said: وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى And of Ibrahim who fulfilled all that. (53:37) and, وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ
106۔ 1 یعنی لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم یہ ایک بڑی آزمائش تھی جس پر میں تو سرخرو رہا۔
[٦٣] بھلا جس آزمائش کے متعلق اللہ تعالیٰ خود فرمائیں کہ وہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی اس کے بڑی آزمائش ہونے میں کیا شک کیا جاسکتا ہے۔ اور اس کا تصور یوں کیا جاسکتا ہے ایک بوڑھا باپ ہو جس کا ایک ہی نوجوان بچہ ہو۔ وہی اس کا سہارا ہو اور اسے بھی اس نے اللہ سے دعائیں کر کر کے لیا ہو۔ پھر اسے اضطراری موت نہ آئے بلکہ اس باپ سے کہا جائے کہ میری راہ میں قربان کردو تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے۔
اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْبَلٰۗــــؤُا الْمُبِيْنُ : یعنی بوڑھے باپ کو اکلوتا بیٹا ذبح کرنے کا حکم، جو کام کاج میں اس کا مددگار بننے کی عمر کو پہنچ چکا ہے، یقیناً یہ باپ بیٹے دونوں کے لیے کھلی آزمائش اور بہت سخت امتحان ہے۔
اِنَّ ھٰذَا لَہُوَالْبَلٰۗــؤُا الْمُبِيْنُ ١٠٦ بلی يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ «3» [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ( ب ل ی ) بلی الثوب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ہیں اسی سے بلاہ السفرہ ای ابلاہ ۔ کا تج اور ہ ہے ۔ یعنی سفر نے لا غر کردیا ہے اور بلو تہ کے معنی ہیں میں نے اسے آزمایا ۔ گویا کثرت آزمائش سے میں نے اسے کہنہ کردیا اور آیت کریمہ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ «3» [يونس/ 30] وہاں ہر شخص ( اپنے اعمال کی ) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا ۔ میں ایک قرآت نبلوا ( بصیغہ جمع متکلم ) بھی ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہاں ہم ہر نفس کے اعمال کی حقیقت کو پہنچان لیں گے اور اسی سے ابلیت فلان کے معنی کسی کا امتحان کرنا بھی آتے ہیں ۔ اور غم کو بلاء کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جسم کو کھلا کر لاغر کردیتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی دسخت آزمائش تھی ۔ مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔
آیت ١٠٦{ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْبَلٰٓؤُاالْمُبِیْنُ } ” یقینا یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔ “ گویا ممتحن خود کہہ رہا ہے کہ میں نے جو امتحان لیا وہ بہت سخت تھا۔ یہ تحسین اور شاباش کی انتہا ہے۔ میں نے اس موضوع پر ” حج اور عید الاضحی اور ان کی اصل روح : قرآن حکیم کے آئینے میں “ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی تھی جو میرے کتابچے ” عید الاضحی اور فلسفہ قربانی “ میں شامل ہے۔
65 That is, "The object was not to get yow son slaughtered through you but to test you to see that you did not hold anything of the world dearer than Us.
سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :65 یعنی مقصود تمہارے ہاتھ سے تمہارے بچے کو ذبح کرا دینا نہ تھا ، بلکہ اصل مقصود تمہارا امتحان لینا تھا کہ تم ہمارے مقابلے میں دنیا کی کسی چیز کو عزیز تر تو نہیں رکھتے ۔
(اِِنَّ ھٰذَا لَہُوَ الْبَلاَءُ الْمُبِیْنُ ) (بلاشبہ یہ کھلا امتحان ہے) (وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ) (اور ہم نے اس کے بدلہ ایک بڑا ذبیحہ دے دیا) یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند کو ذبح ہونے سے بچا لیا۔ (انہوں نے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر دی لیکن گلا نہ کٹا، مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گلے کو تانبے کا بنا دیا جس پر چھری نے کچھ کام نہ دیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا ذبیحہ بھیج دیا۔
48:۔ ان ھذا الخ یہ ایک ایسا ابتلاء وا متحان تھا کہ اس سے مخلص و غیر مخلص کا واضح طور سے امتیاز ہوسکتا تھا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کا اخلاص وانقیاد ظاہر ہوا۔ و فدینہ الخ، اسمعیل (علیہ السلام) کی جگہ ہم نے ایک عظیم الشان جانور بطور فدیہ دے دیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ ندا سنی یا ابراہیم قد صدق الرویا تو سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو جبرئیل (علیہ السلام) مینڈھا لے کر آرہے تھے۔ بیٹے کی جگہ اس کی قربانی دی۔ روی انہ لما سمع ابراہیم النداء نظر الی السماء فاذا ھو بجبریل و معہ کبش املح اقرن و قال ھذا فداء لابنک فاذبحہ دونہ (مظہری ج 8 ص 132) ۔