Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 108

سورة الصافات

وَ تَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾ۖ

And We left for him [favorable mention] among later generations:

اور ہم نے ان کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

سَلَمٌ عَلَى إِبْرَاهِيمَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیات (٧٨ تا ٨١) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَتَرَكْنَا عَلَيْہِ فِي الْاٰخِرِيْنَ۝ ١٠٨ۖ ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] اور دریا سے ( کہ ) خشک ( ہورہا ہوگا ) پاور ہوجاؤ ۔ اور بحالت مجبوری چھوڑ نے کے متعلق فرمایا : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] وہ لوگ بہت سے جب باغ چھوڑ گئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٨{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ } ” اور اسی (کے طریقے) پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی (کچھ لوگوں کو) ۔ “ اس سے پوری ملت ابراہیم (علیہ السلام) بھی مراد ہوسکتی ہے۔ جیسے قبل ازیں آیت ٧٨ میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بارے میں بھی فرمایا گیا کہ ان کی ملت پر بعد میں ہم نے کچھ لوگوں کو قائم رکھا ‘ جن میں خود ابراہیم (علیہ السلام) بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ آیت کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قربانی کی اس سنت کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والے لوگوں میں زندہ اور قائم رکھا۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ ہم نے بعد میں آنے والوں میں اس کا ذکر ِخیر باقی رکھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:108 ۔ 109 ۔ 110) مناسب تغیر وتبدل کے ساتھ آیات (78، 79، 80) مذکورہ بالا ملاحظہ ہوں۔ آیت 110 میں کذلک سے پہلے انا (تاکید و تحقیق کے لئے) اس لئے ذکر نہیں کیا گیا کہ تکرار سے کوئی فائدہ نہ تھا۔ آیت سابقہ نمبر 105 میں انا مذکور ہے۔ وہی کافی ہے (یعنی معنی یہاں بھی وہی مراد ہے جو سابق آیت میں مراد تھی) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وترکنا علیہ فی الاخرین (108) ” “۔ صدیوں سے اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) امہ قرار پائے۔ انبیاء کے باپ قرار پائے۔ اس امت کے باپ قرار پائے۔ یہ امت ان کی ملت کی وارث ہوئی۔ اور اللہ نے اسی لیے ان کے ذمہ پوری بشریت کی راہنمائی اور قیادت کا فیضہ عائد کیا۔ چناچہ اس امت کو ابراہیم کا جانشین قرار دیا گیا۔ قیامت تک کے لئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ یہ ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جو جنت سے لایا گیا تھا، اور بعض روایات میں ہے کہ اس مینڈھے کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) لے کر آئے تھے۔ (وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْآخِرِیْنَ سَلاَمٌ عَلٰی اِِبْرٰھِیْمَ ) (اور ہم نے بعد کے آنے والوں میں ابراہیم کے بارے میں یہ بات چھوڑ دی کہ سلام ہو ابراہیم پر) (کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) (ہم مخلصین کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں) چناچہ بعد کے آنے والی تمام امتوں میں ان کا اور ان کی قربانی کا تذکرہ ہے اور اہل شریعت کے احکام اس شریعت سے ماخوذ ہیں اور نماز میں جو درود ابراہیمی پڑھا جاتا ہے وہ تو نمازیوں کو یاد ہی ہے انہوں نے دعا بھی کی تھی (وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الاْٰخِرِیْنَ ) (اور اے اللہ بعد کے آنے والوں میں میرا اچھا تذکرہ جاری رکھیے) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور برابر ان کا ذکر خیر جاری ہے اور برابر ان کے لیے سلام کی دعا اہل ایمان کی زبانوں سے نکلتی ہے۔ (اِِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ) (بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے ہیں۔ ) نیک نیتی پر ثواب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بہت بڑی قربانی دی، اپنے وطن میں آگ میں ڈالے گئے اسے خوشی سے منظور کرلیا، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حفاظت فرمائی اور صحیح سالم آگ سے باہر آگئے، پھر جب ہجرت فرما کر شام آگئے اور مکہ معظمہ میں اپنی بیوی اور ایک بچے کو آباد کردیا، پھر جب اس کے ذبح کرنے کا حکم ہوا تو اسے بھی ذبح کردیا۔ (یعنی اپنی کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی) اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی مدد فرمائی اور ان کے بیٹے کو بچالیا اور اس کی جگہ ایک مینڈھا بھیج دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو بھی کوئی شخص سچی نیت سے اور سچے دل سے کسی عمل کا ارادہ کرے اور پھر وہ کام نہ کرسکے تب بھی اس کا ثواب مل جاتا ہے۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جو شخص حج یا عمرہ یا جہاد کے لیے (اپنے گھر سے) نکل گیا پھر راستہ میں مرگیا تو اس کے لیے اللہ جل شانہٗ مجاہد اور حاجی اور عمرہ کرنے والوں کا ثواب لکھ دے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٢٢٣) قرآن شریف میں وارد ہے (وَمَنْ یَّخْرُجْ مِنْم بَیْتِہٖ مُھَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ) (سورۃ النساء) اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کے لیے نکل جائے پھر اس کو موت آجائے تو اللہ کے ذمہ اس کا ثواب ثابت ہوگیا۔ حدیث شریف میں یہ بھی وارد ہے کہ جو شخص تہجد کی نماز پڑھنے کی نیت سے سو گیا اور پھر آنکھ نہ کھل سکی تو اس کو تہجد پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ (الترغیب والترہیب ص ٤٠٩) امت محمدیہ کے لیے قربانی کا حکم حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) کے واقعہ سے قربانی کی ابتداء معلوم ہوئی، اور حج کے موقع پر منیٰ میں جو کنکریاں ماری جاتی ہیں ان کی ابتداء بھی اسی قصہ سے ہے۔ انہی تین جگہوں میں کنکریاں مارتے ہیں جہاں شیطان زمین میں دھنس گیا تھا، جگہ کی نشاندہی کے لیے پتھر کے مینار بنا دئیے گئے ہیں۔ اس کے بعد سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے ان جگہوں میں حج کے موقع پر کنکریاں مارنا اور جانوروں کی قربانی کرنا عبادت میں شمار ہوگیا ہے، چناچہ امت محمدیہ کے لیے قربانی مشروع ہوگئی، صاحب حیثیت پر قربانی واجب ہے اور اگر کسی کی اتنی حیثیت نہ ہو اور قربانی کردے تب بھی ثواب عظیم کا مستحق ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا (مَنْ وَّجَدَ سِعَۃً لِاَنْ یُّضَحِّیَ فَلَمْ یُضَحِّ فَلاَ یَحْضُرْ مُصَلاَّنَا) (الترغیب والترہیب ج ٢: ص ١٠٣) یعنی جو شخص وسعت ہوتے ہوئے بھی قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال قربانی فرمائی۔ (مشکوٰۃ) ان حدیثوں سے قربانی کی بہت زیادہ تاکید معلوم ہوئی۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پابندی سے قربانی کرنے اور اس کی تاکید کرنے کی وجہ سے حضرت امام ابوحنیفہ (رض) نے اہل وسعت پر قربانی کو واجب کہا ہے اور فرمایا ہے کہ صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے (واجب کا درجہ فرض کے قریب ہے بلکہ عمل میں فرض کے برابر ہے) صاحب نصاب کون ہے ؟ اس کو سمجھنے کے لیے کتب فقہ کی مراجعت کی جائے۔ چونکہ اصل خون بہانا یعنی جان، جان آفرین کے سپرد کرنا ہے اس لیے قربانی کے ایام میں اگر کوئی شخص قربانی کی قیمت صدقہ کردے یا اس کی جگہ غلہ یا کپڑا محتاجوں کو دیدے تو اس سے حکم کی تعمیل نہ ہوگی اور ترک قربانی کا گناہ ہوگا اور ہر بال کے بدلہ نیکی ملنے کی جو سعادت تھی اس سے محرومی ہوگی۔ حضرت زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحابہ (رض) نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جاری کیا ہوا طریقہ ہے، پھر سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ ہمارے لیے قربانی میں کیا ثواب ہے ؟ فرمایا ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے، صحابہ (رض) نے پھر پوچھا کہ یا رسول اللہ اون کے بارے میں کیا ارشاد ہے ؟ فرمایا (اگر قربانی کے طور پر ایسا جانور ذبح کیا جو اون والا ہو مثلاً دنبہ ہو تو) اس کے ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ملے گی۔ (رواہ احمد وابن ماجہ) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یوم النحر (ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کے دن) کسی شخص نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو اللہ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے زیادہ محبوب ہو اور ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ قیامت کے دن قربانی کرنے والا قربانی کے جانور کے سینگوں اور بالوں اور کھروں کو لے کر آئے گا، مزید فرمایا کہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبولیت کا درجہ پالیتا ہے لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔ (رواہ ابن ماجہ والترمذی وقال حسن غریب والحاکم وقال صحیح الاسناد فی الترغیب ص ١٠٤: ج ٢) حضرت ابو سعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ اپنی قربانی کے قریب کھڑی ہوجاؤ کیونکہ قربانی کے خون کا قطرہ جو گرے گا اس کی وجہ سے تمہارے گزشتہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔ عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ثواب ہمارے لیے یعنی اہل بیت کے لیے مخصوص ہے یا ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ ثواب ہمارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ (رواہ البز اور ابو شیخ ابن حبان فی کتاب الضحایا وغیرہ کما فی الترغیب ص ١٠٤: ج ٢)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

49:۔ وترکنا علیہ الخ، اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(108) اور ہم نے پیچھے آنے والے لوگوں میں ابراہیم کیلئے یہ بات رہنے دی۔