Surat us Saaffaat
Surah: 37
Verse: 118
سورة الصافات
وَ ہَدَیۡنٰہُمَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ﴿۱۱۸﴾ۚ
And We guided them on the straight path.
اور انہیں سیدھے راستے پر قائم رکھا ۔
وَ ہَدَیۡنٰہُمَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ﴿۱۱۸﴾ۚ
And We guided them on the straight path.
اور انہیں سیدھے راستے پر قائم رکھا ۔
And We gave them the clear Scripture; and guided them to the right path. meaning, with regard to words and deeds. وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِي الاْخِرِينَ
[٧٠] فرعون اور آل فرعون کی غرقابی کے بعد ہی طور سینا کے مقام پر سیدنا موسیٰ پر تورات نازل ہوئی۔ اس سے پیشتر سیدنا موسیٰ پر بھی صحیفے ہی نازل ہوتے رہے۔ تورات پہلی آسمانی کتاب ہے جس میں بنی اسرائیل کو زندگی سے متعلق واضح احکام دیئے گئے تھے۔ پھر اسی کتاب کی روشنی میں ان دونوں نبیوں نے بنی اسرائیل کی رہنمائی کی۔
وَهَدَيْنٰهُمَا الـصِّرَاطَ الْمُسْتَــقِيْمَ : صراط مستقیم کی ہدایت بہت بڑا احسان ہے، کیونکہ اسی پر نجاتِ اُخروی کا دارو مدار ہے۔
وَہَدَيْنٰہُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَــقِيْمَ ١١٨ۚ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ صرط الصِّرَاطُ : الطّريقُ المستقیمُ. قال تعالی: وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] ، ويقال له : سِرَاطٌ ، وقد تقدّم . سرط السِّرَاطُ : الطّريق المستسهل، أصله من : سَرَطْتُ الطعامَ وزردته : ابتلعته، فقیل : سِرَاطٌ ، تصوّرا أنه يبتلعه سالکه، أو يبتلع سالکه، ألا تری أنه قيل : قتل أرضا عالمها، وقتلت أرض جاهلها، وعلی النّظرین قال أبو تمام : 231- رعته الفیافي بعد ما کان حقبة ... رعاها وماء المزن ينهلّ ساكبه «2» وکذا سمّي الطریق اللّقم، والملتقم، اعتبارا بأنّ سالکه يلتقمه . ( ص ر ط ) الصراط ۔ سیدھی راہ ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے ۔ اسے سراط ( بسین مھملہ ) پڑھا جاتا ہے ملاحظہ ہو ( س ر ط) السراط کے معنی آسان راستہ ، کے آتے ہیں اور اصل میں سرطت الطعام وزاردتہ سے مشتق ہے جس کے معنی طعام کو نگل جانے کے ہیں ۔ اور راستہ کو صراط اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ راہر کو گویا نگل لیتا ہے یار ہرد اس کو نگلتا ہوا چلایا جاتا ہے ۔ مثل مشہور ہے ۔ قتل ارضا عالھا وقتلت ارض جاھلھا کہ واقف کار رہر و توزمین کو مار ڈالتا ہے لیکن ناواقف کو زمین ہلاک کردیتی ہے ۔ ابو تمام نے کہا ہے ۔ رعتہ الفیما فی بعد ماکان حقبۃ رعاھا اذا ماالمزن ینھل ساکبہ اس کے بعد کو اس نے ایک زمانہ دراز تک سرسبز جنگلوں میں گھاس کھائی اب اس کو جنگلات نے کھالیا یعنی دبلا کردیا ۔ اسی طرح راستہ کو لقم اور ملتقم بھی کہا جاتا ہے اس لحاظ سے کہ گویا ر ہرو اس کو لقمہ بنالیتا ہے۔ الاسْتِقَامَةُ يقال في الطریق الذي يكون علی خطّ مستو، وبه شبّه طریق المحقّ. نحو : اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] واسْتِقَامَةُ الإنسان : لزومه المنهج المستقیم . نحو قوله :إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] الاستقامۃ ( استفعال ) کے معنی راستہ خط مستقیم کی طرح سیدھا ہونے کے ہیں اور تشبیہ کے طور پر راہ حق کو بھی صراط مستقیم کہا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] ہم کو سيدھے راستے پر چلا ۔ اور کسی انسان کی استقامت کے معنی سیدھی راہ پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] جس لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا پے پھر وہ اس پر قائم رہے
آیت ١١٨{ وَہَدَیْنٰہُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ } ” اور ہم نے ان دونوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔ “
فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کا ذکر ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ کرنے سے پہلے ارشاد ہوا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر بہت احسان فرمایا جس کی تفصیل یوں بیان فرمائی کہ ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو بڑی مصیبت سے نجات دی۔ ہم نے ان کی مدد فرمائی جس بنا پر وہ اپنے دشمنوں پر غالب آئے۔ ہم نے انہیں کھلی کتاب سے سرفراز کیا اور ہم نے دونوں کی ٹھیک ٹھیک راہنمائی کی اور ہم نے ان کی سیرت اور جدوجہد کو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر ہمیشہ ہمیش ” اللہ “ کی رحمتیں نازل ہوتی رہیں گی۔ ہم اخلاص کے ساتھ نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے باربار اپنے لیے ” ہم “ یعنی جمع کی ضمیر استعمال فرمائی ہے جس میں جلال اور دبدبہ پایا جاتا ہے۔ جس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ بیشک فرعون بڑا ظالم اور جابر حکمران تھا اور بنی اسرائیل بہت کمزور تھے۔ لیکن جب ہم نے فرعون کو ذلیل کرنے اور بنی اسرائیل کی مدد کرنے کا فیصلہ فرمایا تو ہمارے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سے سرفراز فرمایا تھا۔ جس میں قدم قدم پر ان کی راہنمائی کی گئی اور انہیں صراط مستقیم پر چلنے کی ہمت اور توفیق عنایت فرمائی۔ قوموں کی راہنمائی کے لیے یہی دو بنیادی اصول ہیں جو قوم کتاب اللہ سے راہنمائی پائے اور اس کا قائد باکردار اور بہادر ہو تو وہ قوم دنیا میں ضرور کامیاب ہوتی ہے اور آخرت میں ہمیشہ رہنے والی جنت میں داخل ہوگی۔ سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے : (عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاَتِہِ اسْتَغْفَرَ ثَلاَثًا وَقَال اللَّہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِکْرَامِ )[ روا مسلم : باب اسْتِحْبَاب الذِّکْرِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ وَبَیَانِ صِفَتِہِ ] ” حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے اور پھر یہ دعا پڑھتے۔ ” اللَّہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِکْرَام) “ ُُُمسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر بڑا ہی احسان فرمایا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو بڑی طویل اور کربناک آزمائش سے نجات عطا فرمائی۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی اور دونوں کو صراط مستقیم پر گامزن فرمایا۔ ٤۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ ہمیش رحمتیں نازل ہوتی رہیں گی۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ اخلاص کے ساتھ نیکی کرنے والوں کو اس طرح ہی جزا دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو دنیا و آخرت کی جزا سے سرفراز فرمایا : ١۔ ہم ظالموں کو ہلاک کریں گے اور تمہیں ان کے بعد زمین میں بسائیں گے یہ وعدہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرجائے۔ (ابراہیم : ١٣۔ ١٤) ٢۔ کفارنے حضرت نوح کو جھٹلایا ہم نے نوح اور اس کے ماننے والوں کو نجات دی۔ (الاعراف : ٦٤) ٣۔ ہم نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی۔ (الشعرا : ٦٥) ٤۔ ہم نے شعیب اور ایمان لانے والوں کو نجات دی۔ (ہود : ٩٤)