Surat us Saaffaat
Surah: 37
Verse: 161
سورة الصافات
فَاِنَّکُمۡ وَ مَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾ۙ
So indeed, you [disbelievers] and whatever you worship,
یقین مانو کہ تم سب اور تمہارے معبودان ( باطل ) ۔
فَاِنَّکُمۡ وَ مَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾ۙ
So indeed, you [disbelievers] and whatever you worship,
یقین مانو کہ تم سب اور تمہارے معبودان ( باطل ) ۔
No One believes what the Idolators say except Those Who are even more misguided than They Allah says, addressing the idolators: فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ
فرشتوں کے اوصاف ۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں ۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں ۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں ۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو ۔ پھر آپ نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی ۔ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں ( وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا Ǻۙ ) 37- الصافات:1 ) کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے ۔ ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں ۔ حضرت عمر اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے صفیں ٹھیک درست کر لو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے ۔ جیسے وہ فرماتے ہیں ( وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ ١٦٥ۚ ) 37- الصافات:165 ) اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ ۔ پھر آپ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے ( ابن ابی حاتم ) صحیح مسلم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں ۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں ۔ ہمارے لئے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لئے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ۔ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں ۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں ۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں ۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں اور آیت میں ہے ( وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88ۭ ) 19-مريم:88 ) ، یعنی کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے ، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے ، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لئے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں ۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے ، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے ۔ جیسی اور آیت میں ہے ( وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا 42ۙ ) 35- فاطر:42 ) ، یعنی بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے لیکن جب نبی اللہ آگئے تو بھاگ کھڑے ہوئے اور آیت میں فرمایا ( اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ ١٥٦ۙ ) 6- الانعام:156 ) ، پس یہاں فرمایا کہ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے ۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
فَاِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ :” عَلَيْهِ “ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ ” فَاتِنِیْنَ “ فتنے میں ڈالنے والے، بہکانے والے۔ ” صَالٍ “ صَلِيَ یَصْلٰی صِلِیًّا “ (س) (داخل ہونا) سے اسم فاعل ہے۔ یعنی اے گروہ کفار و مشرکین ! تم اور تمہارے باطل معبود کسی کو اللہ تعالیٰ کے خلاف بہکا کر گمراہ نہیں کرسکتے، سوائے اس کے جس نے خود ہی جہنم میں جانے کا تہیہ کر رکھا ہو۔ اس کے مخلص بندوں کا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ” یعنی تم انسان اور تمہارے شیطان اللہ کی مرضی کے بغیر گمراہ نہیں کرسکتے، گمراہ وہی ہوگا جس کو اس نے دوزخی لکھ دیا۔ “ (موضح)
فَاِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ ١٦١ۙ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔
(١٦١۔ ١٦٣) سو اے اہل مکہ تم بھی اور تمہارے سارے معبود بھی کسی کو عبادت الہی سے نہیں پھیر سکتے مگر وہی ابلیس جو تمہارے ساتھ دوزخ میں بھی جائے گا یا یہ کہ مگر اسی کو جو علم الہی میں جہنم رسیدہ ہونے والا ہے۔
آیت ١٦١{ فَاِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ } ” پس تم اور جن کو تم پوجتے ہو۔ “
(37:161) فانکم میں ف جزائیہ ہے۔ جواب شرط میں آیا ہے اور شرط محذوف ہے۔ ای اذا علمتم ھذا فانکم ۔۔ الخ جب تم یہ جانتے ہو کہ خدا کی ملائکہ سے رشتہ داری محض افتراء ہے اور ایسا کہنے والے لوگ عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے۔ اور اللہ کے مخلص بندے محفوظ رکھے جائیں گے۔ تو (جان لو) کہ تم اور ۔۔ الخ۔ وما تعبدون۔ واؤ عطفیہ ہے اور ما تعبدون معطوف ہے ضمیر انکم پر یعنی : پس تم اور جن کی تم پوجا کرتے ہو۔
فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔ یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ہر کسی کے لیے مقام و انجام مقرر کردیا ہے۔ ہر کسی نے اس تک لامحالہ پہنچنا ہے ۔ ہم فرشتے تو سب اللہ کے بندے ہیں ، مخلوق ہیں ، ہمارے لیے اللہ نے اپنی اطاعت کے فرائض مقرر کر رکھے ہیں۔ ہم نماز کے لیے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک اہنے مقام پر کھڑا ڈیوٹی دے رہا ہے اور اللہ تو اللہ ہے (فرشتوں کی بات یہاں ختم ہوگئی)
فرشتوں کی بعض صفات کا تذکرہ ان آیات میں اول تو مشرکین کو خطاب فرمایا کہ تم اور تمہارے سارے معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ تعالیٰ شانہٗ کی توحید سے کسی کو نہیں پھیر سکتے حالانکہ تمہاری کوششیں برابر جاری ہیں ہاں اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جس کسی کا دوزخ میں جانا مقرر و مقدر ہے اسی کو توحید کے راستے سے ہٹا سکتے ہو۔ چونکہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے اور اس لیے ان کی شان عبدیت انہی کی زبانی بیان فرمائی (پہلے جنات کے بارے میں بتایا جاچکا ہے کہ وہ اپنے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو شخص مجرم ہوگا گرفتار ہو کر حاضر کیا جائے گا) جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے جنات عاجز ہیں اسی طرح فرشتے بھی اپنا عجز تسلیم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں، فرشتوں کا کہنا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا مقام معلوم ہے، جو حکم ہے ہر ایک اسی کی بجا آوری میں لگا ہوا ہے، ہم اللہ کے حضور میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کی پاکی بیان کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ (فرشتوں کا تو یہ حال ہے لیکن جو لوگ ان کی عبادت کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی بیٹیاں بتاتے ہیں انہوں نے اپنی حماقت اور سفاہت سے فرشتوں کو کیا کیا سمجھ رکھا ہے۔ ) اس کے بعد کفار عرب کا یہ قول نقل فرمایا کہ یہ لوگ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور نزول قرآن سے پہلے یوں کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی ایسا ذکر یعنی کتاب آجاتی جیسی پہلی لوگوں یعنی یہود و نصاریٰ کے پاس کتابیں آئیں تو ہم اللہ کے خاص بندے ہوتے یعنی تصدیق کرتے اور عمل کرتے اور ان لوگوں کی طرح تکذیب نہ کرتے، جیسا کہ سورة فاطر میں ان کا قول نقل کیا گیا ہے (وَاَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ لَءِنْ جَآءَ ھُمْ نَذِیْرٌلَّیَکُوْنُنَّ اَھْدٰی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ ) (اور ان لوگوں نے خوب زور دار اللہ کی قسم کھائی کہ اگر ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آگیا تو گذشتہ امتیں جو گزری ہیں ان کے مقابلہ میں ہر ایک سے بڑھ کر ہم ہدایت والے ہوں گے۔ ) (فَلَمَّا جَآءَ ھُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَھُمْ اِلَّانُفُوْراً ) (پس جب ان کے پاس ڈرانے والا آگیا تو ان کی نفرت اور زیادہ ہوگئی) اول تو کفر اور شرک یوں ہی سب سے بڑا گناہ ہے پھر خود سے کتاب کا مطالبہ کرنا اور وعدے کرنا کہ اگر ہمیں کتاب مل جائے تو ایسے نیک بنیں گے اور ہدایت میں سابقہ امتوں کو پیچھے چھوڑ دیں گے، پھر جب کتاب مل گئی، ہدایت آگئی تو اس کے منکر ہوگئے، ظاہر ہے کہ اس طرح بڑی سزا کے مستحق ہوگئے، اسی کو فرمایا (فَکَفَرُوْا بِہٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) (سو انہوں نے اس کا کفر کیا سو عنقریب جان لیں گے۔ )
64:۔ فانکم الخ : خطاب مشرکین سے ہے۔ اے مشرکین ! تم اور تمہارے معبود از جنس جنات و شیاطین اپنے مکر و فریب سے اللہ کے مقابلے میں وہ کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے۔ البتہ جس کا علم الٰہی میں جہنمی ہونا مقدر ہوچکا ہے وہی تمہارے دام فریب میں آئے گا۔ لعلمہ تعالیٰ بانہ یصبر علی الکفر بسوء اختیارہ و یصیر من اھل النار لا محالۃ (ابو السعود ج 7 ص 167) ۔