Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 166

سورة الصافات

وَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡمُسَبِّحُوۡنَ ﴿۱۶۶﴾

And indeed, we are those who exalt Allah ."

اور اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And verily, we indeed are those who glorify. means, `we stand in rows and glorify the Lord, praising Him, sanctifying Him and declaring Him to be above any faults or shortcomings. We are servants of Him and in need of Him, humbling ourselves before Him.' The Quraysh wished that They could have a Reminder as had the Men of old Allah says, وَإِنْ كَانُوا لَيَقُولُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

166۔ 1 مطلب یہ کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق اور اس کے خاص بندے ہیں جو ہر وقت اللہ کی عبادت میں اور اس کی تسبیح میں مصروف رہتے ہیں، نہ کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٤] اللہ اور جبرئیل کے درمیان نور کے ستر (٧٠) حجاب :۔ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور اپنا معبود قرار دیتے تھے۔ ان تین آیات میں فرشتوں کی زبان سے اصل حقیقت بیان کی گئی ہے۔ یعنی تمہارے اس شرکیہ عقیدہ کے مقابلہ میں فرشتوں کا اپنا بیان یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک فرشتہ کا ایک مقررہ درجہ اور مقام ہے جس سے آگے ہم بڑھ نہیں سکتے۔ چناچہ ترمذی کی ایک روایت کے مطابق ایک دفعہ رسول اللہ نے سیدنا جبرئیل سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی اپنے پروردگار کو دیکھا ہے ؟ تو جبرئیل نے جواب دیا کہ میرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نور کے ستر (٧٠) حجاب ہیں اگر میں اپنے مقام سے ذرا بھی آگے بڑھنے کی کوشش کروں تو جل جاؤں۔ && (ترمذی۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ باب بدء الخلق و ذکر الانبیائ) اور ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہم ہر وقت اللہ کی بارگاہ میں صف بستہ کھڑے تسبیح و تہلیل کرتے رہتے ہیں اور ہمہ وقت اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا يَسْـتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ ۔ يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَايَفْتُرُوْنَ ) [ الأنبیاء : ١٩، ٢٠ ] ” اور اسی کا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔ وہ رات اور دن تسبیح کرتے ہیں، وقفہ نہیں کرتے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ۝ ١٦٦ سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] ، ( س ب ح ) السبح اس کے اصل منعی پانی یا ہوا میں تیز رفتار ری سے گزر جانے کے ہیں سبح ( ف ) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا پھر استعارہ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] سب ( اپنے اپنے ) فلک یعنی دوائر میں تیز ی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اور گھوڑے کی تیز رفتار پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] اور فرشتوں کی قسم جو آسمان و زمین کے درمیان ) تیر تے پھرتے ہیں ۔ اور کسی کام کو سرعت کے ساتھ کر گزرنے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] اور دن کے وقت کو تم بہت مشغول کا رہے ہو ۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مستحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦٦{ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ ۔ ” اور ہم تو سب کے سب (اپنے ربّ کی) تسبیح کرنے والے ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

31: یعنی خود فرشتے تو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں نہیں کہتے، بلکہ اپنی بندگی کا اظہار کرتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:166) المسبحون : تسبیح (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل جمع مذکر۔ تسبیح پڑھنے والے۔ سبحان اللّٰہ وبحمدہ کہنے والے۔ اللہ کی پاکی بیان کرنے واے اللہ کا ذکر کرنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یا ” نماز پڑھتے رہتے ہیں ‘ لفظی ترجمہ یوں ہے ” اور ہم تسبیح کرنے والے ہیں “ حدیث میں ہے کہ آسمان میں قدم رکھنے کی کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جس میں کوئی فرشتہ سجدہ ریز نہ ہو اور یہی معنی ” مقام ملوم “ کے ہیں۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(166) اور ہم اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے والے ہیں۔ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا آسمانوں میں ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہیں جہاں فرشتہ نماز پڑھتا اور تسبیح نہ کرتا ہو۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ایک دفعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی ہم میں سے یعنی گروہ ملائکہ میں سے کوئی ایسا نہیں جس کی آسمانوں میں کوئی جگہ مقرر نہ ہو جہاں وہ عبادت کرتا اور نماز پڑھتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں تک ہوچکا فرشتوں کا کلام۔