Surat us Saaffaat
Surah: 37
Verse: 167
سورة الصافات
وَ اِنۡ کَانُوۡا لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿۱۶۷﴾ۙ
And indeed, the disbelievers used to say,
کفار تو کہا کرتے تھے ۔
وَ اِنۡ کَانُوۡا لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿۱۶۷﴾ۙ
And indeed, the disbelievers used to say,
کفار تو کہا کرتے تھے ۔
” وَاِنْ كَانُوْا لَيَقُوْلُوْنَ “ اصل میں ” وَ إِنَّھُمْ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ “ تھا۔ دلیل اس کی ” لَيَقُوْلُوْنَ “ پر آنے والا لام ہے، جس کی وجہ سے ”إِنَّ “ کو ”إِنْ “ کردیا اور ” ھُمْ “ کو حذف کردیا۔ ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة فاطر (٤٢) اور سورة انعام (١٥٦، ١٥٧) یعنی یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ گزشتہ لوگوں کی طرح ہمارے پاس کوئی پیغمبر آتا، یا ہم پر اللہ کی طرف سے کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوتے۔ مگر جب یہ کتاب ان کے پاس آگئی تو انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اب اس انکار کا نتیجہ وہ بہت جلدی جان لیں گے۔
Commentary After having provided proofs of the basic beliefs of Islam, these verses now mention the obstinacy of the disbelievers. It has been said that, before the blessed appearance of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، these people used to crave for the coming of some prophet from Allah, so that they could follow him. But, when he did come, they started confronting him with a posture of obstinacy and hostility. After that, the Holy Prophet has been comforted that he should not worry about the pain these people cause to him. The time was coming very soon when he will prevail, and his oppressors will be defeated and punished. That this will unfold comprehensively in the Hereafter is already settled, but in the mortal world too, Allah Ta’ ala showed the spectacle that, in every Jihad from the battle of Badr up to the conquest of Makkah, His blessed rasul came out victorious and his adversaries, disgraced.
خلاصہ تفسیر اور یہ لوگ (یعنی کفار عرب آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے) کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت (کی کتاب) پہلے لوگوں (کی کتابوں) کے طور پر آتی (یعنی جیسے یہود و نصاریٰ کے پاس رسول اور کتابیں آئیں، اگر ہمارے لئے ایسا ہوتا) تو ہم اللہ کے خاص بندے ہوتے (یعنی اس کتاب کی تصدیق اور اس پر عمل کرتے، ان کی طرح تکذیب اور مخالفت نہ کرتے) پھر (جب) وہ نصیحت کی کتاب رسول کے ذریعہ سے ان کو پہنچی تو) یہ لوگ اس کا انکار کرنے لگے (اور اپنا وہ عہد توڑ دیا) سو (خیر) اب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہوا جاتا ہے (چنانچہ مرتے ہی کفر کا انجام سامنے آ گیا، اور بعض سزائیں موت سے پہلے بھی مل گئیں) اور (آگے حضور کو تسلی ہے کہ گو اس وقت ان مخالفین کو کسی قدر شوکت حاصل ہے لیکن یہ چند روزہ ہے، کیونکہ) ہمارے خاص بندوں یعنی پیغمبروں کے لئے ہمارا یہ قول پہلے ہی سے (یعنی لوح محفوظ ہی میں) مقرر ہوچکا ہے کہ بیشک وہی غالب کئے جاویں گے اور (ہمارا تو عام قاعدہ ہے کہ) ہمارا لشکر غالب رہتا ہے (جو رسولوں کے متبعین کو بھی شامل ہے، سو جب یہ بات ہے کہ آپ غالب آنے والے ہیں ہی) تو آپ (تسلی رکھئے اور) تھوڑے زمانہ تک (صبر کیجئے اور) ان (کی مخالفت اور ایذا رسانی) کا خیال نہ کیجئے اور (ذرا) ان کو دیکھتے رہئے (یعنی ان کی حالت کا قدرے انتظار کیجئے) سو عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے (اس کا بھی وہی مطلب ہے جو فسوف یعلمون کا تھا کہ ان کو مرنے کے بعد بھی اور مرنے سے پہلے بھی اللہ کی طرف سے سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس دھمکی پر وہ کہہ سکتے تھے اور اکثر وہ کہا بھی کرتے تھے کہ ایسا کب ہوگا ؟ تو اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ) کیا ہمارے عذاب کا تقاضا کر رہے ہیں، سو وہ (عذاب) جب ان کے رو در رو آنا نازل ہوگا، سو وہ دن ان لوگوں کا جن کو (پہلے سے) ڈرایا جا چکا تھا بہت ہی برا ہوگا (کہ وہ عذاب ٹل نہ سکے گا) اور (جب یہ بات ہے کہ ان لوگوں پر عذاب واقع ہونے والا ہے تو) آپ (تسلی رکھئے اور) تھوڑے زمانہ تک (صبر کیجئے اور) ان کی (مخالفت اور ایذا رسانی کا) خیال نہ کیجئے اور (ذرا ان کی حالت کو) دیکھتے رہیے (یعنی منتظر رہیئے) سو عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے (یعنی آپ کو تو ہمارے کہنے سے یقین ہے ہی، آنکھوں سے دیکھ کر انہیں بھی یقین آجائے گا) ۔ معارف ومسائل اسلام کے بنیادی عقائد کو دلائل و شواہد سے ثابت کرنے کے بعد ان آیتوں میں کفار کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے قبل تمنا کیا کرتے تھے کہ اللہ کا کوئی پیغمبر آئے تو یہ اس کی پیروی کریں، لیکن جب آپ تشریف لے آئے تو انہوں نے ضد اور عناد کا وطیرہ اختیار کیا ہوا ہے۔ اس کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان لوگوں کی ایذا رسانیوں سے رنجیدہ نہ ہوں، عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ آپ غالب اور فتح یاب ہوں گے اور یہ مغلوب اور نشانہ عذاب۔ آخرت میں تو اس کا مکمل مظاہرہ ہوگا ہی، دنیا میں بھی اللہ نے دکھا دیا کہ غزوہ بدر سے لے کر فتح مکہ تک ہر جہاد میں اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ظفر مند کیا، اور آپ کے مخالفین دلیل و خوار ہوئے۔
وَاِنْ كَانُوْا لَيَقُوْلُوْنَ ١٦٧ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
(١٦٧۔ ١٦٩) اور یہ کفار مکہ رسول اکرم کی بعثت سے پہلے کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی پہلے لوگوں کی طرح رسول آتا تو ہم اللہ تعالیٰ کے موحد بندے ہوتے۔
آیت ١٦٧{ وَاِنْ کَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَ } ” اور یہ لوگ تو کہا کرتے تھے “
١٦٧۔ ١٧٩۔ اور مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ان مشرکین کو یوں قائل کیا۔ کہ اہل کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آوے اور قسمیں کھا کر یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خالص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے۔ لیکن اس میں انہوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ اس کا انجام انہی کے حق میں جو کچھ ہوگا وہ ان کو معلوم ہوگا۔ اس وعدہ کا ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوا کہ اس لڑائی میں بڑے بڑے اسلام کی مخالف بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عقبے کے عذاب میں گرفتار ہوگئے۔ جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا۔ کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا لیا۔ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے بدر کی لڑائی کا یہ قصہ کئی جگہ اوپر گزر چکا ہے۔ پھر فرمایا ان لوگوں کی خرابی اور بربادی کا وقت جب تک آوے اس وقت تک بھی ان لوگوں کی مخالف سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کی مدد کرے گا۔ جس سے دین الٰہی کا لشکر ہمیشہ غالب رہے گا۔ اور آگے فرمایا۔ اب تو یہ لوگ عذاب کی جلدی کرتے ہیں۔ لیکن جب عذاب ان کے سر پر آجاوے گا۔ تو ان کو اس جلدی کی حقیقت کھل جاوے گی اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس لئے اسے رسول اللہ کے کچھ گھبرانا نہیں چاہئے۔ تھوڑے دنوں تک وقت مقرر کا انتظام کرنا چاہئے۔ تفسیر سدی ٢ ؎ میں وقت مقررہ کی تفسیر بدر کی لڑائی قرار دی ہے۔ اور حافظ ابو جعفر بن جریر نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اوپر کی صحیح بخاری و مسلم کی انس بن مالک کی روایت میں مشرکوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر عذاب الٰہی کے وعدہ کو جو یاد دلایا اس سے سدی کے قول اور حافظ ابو جعفر ابن جریر کی ترجیح دونوں کی تائید ہوتی ہے۔ (١ ؎ دیکھئے تفسیر ہذا ص ٢٢) (٢ ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ٢٩٤ ج ٥)
(37:167) ان کانوا لیقولون : ان ان سے مخفف ہے اور لام فارقہ ہے (تشریح کے لئے ملاحظہ ہو 37:56 ۔ لتردین) تحقیق وہ کہا کرتے تھے (ضمیر فاعل کفار مکہ کی طرف راجع ہے یعنی یہ کفار مکہ بعثت نبوی سے قبل کہا کرتے تھے) ۔
لغات القرآن آیت نمبر 167 تا 182 :۔ سبقت (گزر چکا ہے ، صادر ہوچکا) المنصورون (فتح حاصل کرنے والے) جند (لشکر) تول (منہ پھیرا) تول (منہ پھیرا) ساحۃ (میدان ، گھر کا آنگن) سائ (برا ہے) صباح ( صبح) یصفون (وہ بناتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 167 تا 182 :۔ اصل میں جن لوگوں کو ایمان لا کر عمل صالح اختیار کرنا ہوتا ہے ان کے لئے کسی معجزہ ، دلیل اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے ہی حق و صداقت کی روشنی ان کے سامنے آتی ہے وہ اس کو فوراً قبول کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لیتے ہیں لیکن جن لوگوں کو عمل کرنا نہیں ہوتا وہ سو بہانے بنا کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ یہی صورتحال عربوں کی تھی جو لوگ کفر و شرک پر جمے ہوئے تھے جب ان کے سامنے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ گزشتہ قوموں کی نا فرمانیوں اور انبیاء کرام کے حالات سناتے تھے تو یہ کفار عرب کہتے تھے کہ وہ لوگ کتنے بد نصیب تھے جن کے پاس اللہ کے نبی اور رسول آئے اور اپنے ساتھ روشن کتابیں بھی لائے تھے اس کے باوجود وہ ایمان اور عمل صالح سے دور رہے اگر ہمارے پاس ایسی کتاب آتی اور نبی آتے تو ہم عمل صالح میں ان سے بہت زیادہ آگے بڑھ جاتے اور ثابت کردیتے کہ ہم اللہ کے زیادہ فرماں بردار ہیں۔ فرمایا کہ یہ تو ان کا زبانی دعویٰ تھا لیکن جب ان کے پاس ہمارا محبوب رسول آگیا جس پر نبوت و رسالت کی تکمیل کردی گئی ہے اور ان کو ایسی کتاب بھی دی گئی ہے جس میں توریت ، زبور اور انجیل کی ساری سچائیاں موجود ہیں تو اب ان کے لئے ایمان لانے اور عمل صالح اور آگے بڑھ جانے میں کیا رکاوٹ ہے۔ ان کو تو اس معاملہ میں سب سے آگے بڑھ کر نبی مکرم حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دامن رسالت تھام لینے کی ضرورت تھی ۔ اس کے بر خلاف انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت اور اس کتاب کا انکار کردیا ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ فیصلہ یہ کہ وہ اپنے رسولوں کے نافرمانوں کو سخت ترین سزائیں دیتا ہے اور مان لینے اور اطاعت کرنے والوں کو سر بلند فرماتا ہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ خیر و عافیت مانگنے کے بجائے وہ اللہ کے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں ۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب وہ عذاب الٰہی ان کے گھروں پر پہنچے گا تو وہ صبح ان کے لئے بڑی بھیانک ہوگی اور اس کے سامنے وہ بےبس اور مجبور ہوں گے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام اہل ایمان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب ان نافرمانوں پر اللہ کا عذاب آئے گا اور ان کو کسی جگہ سر چھپانے کی جگہ بھی نہ ملے گی ۔ تاریخ کے اوراق اس بات پر گواہ ہیں کہ دس پندرہ سال میں اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے لشکر کو مکمل غلبہ عطاء فرما دیا اور کفار کے لئے کوئی جائے پناہ نہ رہی ۔ آخر میں فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کا پروردگار بڑی عزت والا ، پاک اور بےعیب ہے ۔ رسولوں پر سلام ہو کہ تمام تعریفیں رب العالمین کے لئے ہیں۔ الحمد للہ ان آیات کے ترجمہ و تفسیر کے ساتھ ہی سورة الصافات کا ترجمہ و تشریح مکمل ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔
3۔ یعنی کفار عرب قبل بعثت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کہا کرتے تھے۔
فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ اور دیگر لوگوں کا دعویٰ ۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل مکہ کے پاس براہ راست کوئی نبی نہیں آیا۔ جس بنا پر اہل مکہ اپنے آپ میں یہ کمی محسوس کرتے اور کہتے تھے کہ کاش ! ہمارے ہاں بھی کوئی نبی مبعوث کیا جاتا۔ جس کی اتّباع کرکے ہم دوسری اقوام بالخصوص اہل کتاب پر برتری حاصل کرلیتے اور اللہ کے مخلص بندے بن جاتے۔ اس خواہش اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچاننے کے باوجود یہ لوگ انکار کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی روش سے باز نہ آئے تو انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی کس طرح مدد کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ ہر صورت ان کی مدد کرے گا۔ جس بنا پر وہ اپنے مخالفوں پر غالب آئیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ” اللہ “ کی فوج ہی غالب آیا کرتی ہے۔ چناچہ بدر سے لے کر غزوہ تبوک تک تمام غزوات کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ نبی آخر الزمان (علیہ السلام) اور آپ کے اصحاب ہمیشہ کفار پر غالب رہے۔ (اُحد میں پہلے غالب رہے اور بعد میں نقصان اٹھانا پڑا۔ ) یہاں تک مسلمانوں کی کامیابی کا تعلق ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بھی تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمان دنیا میں واحد اخلاقی، سیاسی اور عسکری قوت کے طور پر تسلیم کیے جاتے رہے۔ کفر پر غالب آنے کا اہل علم نے دوسرا مفہوم یہ بھی بیان کیا ہے کہ مخالف جو چاہیں اور جس قدر چاہیں دین اسلام کی مخالفت کریں۔ لیکن وہ اسلام کی سچائی اور حقانیت پر دلائل کی بنیاد پر کبھی غالب نہ آسکیں گے۔ کیونکہ اسلام غالب رہنے کے لیے آیا ہے۔ اگر کوئی حکمران خلوص نیت اور جرأت کے ساتھ اسلام کو اس کے تقاضوں کے ساتھ نافذ کرے گا تو اسلام کا نظام کامیاب ہوگا یہ کبھی ناکام نہیں ہوسکتا۔ (کَتَبَ اللّٰہُ لاََغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی اِِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ) [ المجادلۃ : ٢١] ” اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے، بیشک اللہ تعالیٰ طاقت ور اور زور آور اور زبردست ہے۔ “ (اَلْاِسْلَامُ یَعْلَمُوْ وَلَا یَعْلیٰ ) [ ارواء الغلیل حدیث نمبر : ١٢٦٨] ” اسلام غالب آئے گا اور اس پر کوئی غالب نہیں آئے گا۔ “ مسائل ١۔ اہل مکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے پہلے آپ کی نبوت کے منتظر تھے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں سے وعدہ کیا کہ وہ غالب آئیں گے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی فوج ہی ہمیشہ غالب آیا کرتی ہے۔ تفسیر بالقرآن دین حق اور رسولوں کے غالب آنے کا وعدہ : ١۔ وہ ذات جس نے رسول کو مبعوث کیا تاکہ دین اسلام تمام ادیان پر غالب آجائے۔ (الفتح : ٢٨) ٢۔ ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوجائے اور دین خالصتاً اللہ کے لیے ہوجائے۔ (البقرۃ : ١٩٣) ٣۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو پھر تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ (آل عمران : ١٦٠) ٤۔ اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب ہے لیکن لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : ٢١) ٥۔ اگر تم ” اللہ “ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا۔ (محمد : ٧) ٦۔” اللہ “ کی فوج ہی غالب آیا کرتی ہے۔ ( المائدۃ : ٥٦) ٧۔ کتنی قلیل جماعتیں ” اللہ “ کے حکم سے غالب آئیں۔ ( البقرۃ : ٢٤٩) ٨۔ ” اللہ “ کا وعدہ ہے کہ میں اپنے رسولوں کو ضرور غالب کروں گا۔ (المجادلۃ : ٢١)
اب روئے سخن پھر مشرکین کی طرف پھرجاتا ہے جو ان افسانوی عقیدے کے قائل تھے۔ ان کو ان کے وہ وعدے اور وہ آرزوئیں یاد دلائی جاتی ہیں کہ جب وہ اہل کتاب کے ساتھ حسد کرتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی ایسی کتاب آجائے جس میں پہلے لوگوں کا ذکر ہو یعنی حضرت ابراہیم اور آپ کے بعد آنے والوں کا تو ہم اللہ کے مخلص اور اعلیٰ بندے بن جائیں اور اللہ کے ہاں ہمارا بلند مقام ہو۔ وان کانوا ۔۔۔۔۔ بہ فسوف یعلمون (167 – 170) “۔ یہ ہے وہ ذکر جو ان کے پاس آگیا اور یہ اس کرہ ارض پر عظیم ترین نصیحت ہے لیکن ان لوگوں نے اسے نہ پہچانا۔ فکفروا بہ فسوف یعلمون (37: 170) ” مگر جب آگیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اب عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ (عنقریب) کے لفظ میں درپردہ دھمکی بھی ہے اور یہ دھمکی ان کے مناسب حال ہے کیونکہ وہ خود تمنائیں کرتے تھے اور اب انکار کرتے ہیں۔ اس تہدید خفی کے بعد اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو غالب کرے گا اور ان کی نصرت کرے گا۔
66:۔ وان کانوا الخ : یہ شکوی مع تخویف دنیوی ہے۔ نزول قرآن سے پہلے مشرکین قریش کہا کرتے تھے کہ جس طرح پہلے لوگوں (یہود و نصاری) پر کتابیں اتریں۔ اگر اس طرح کی کوئی کتاب ہم پر نازل ہوتی تو ہم اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے۔ اور خالص اس کی عبادت کرتے۔ جب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آخری کتاب (قران) آگئی تو فورًا اس کا انکار کردیا۔ اس کفر و انکار کا انجام عنقریب ہی دیکھ لیں گے۔