TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat us Saaffaat 37:168 – Tafaseer

The tafseer of Surat us Saaffaat, verse 168, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.

لَوۡ اَنَّ عِنۡدَنَا ذِکۡرًا مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۶۸﴾ۙ
"If we had a message from [those of] the former peoples,
کہ اگر ہمارے سامنے اگلے لوگوں کا ذکر ہوتا ۔
Bookmark
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Info

لَكُنَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Info

لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ۝ ١٦٨ۙ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Info

آیت ١٦٨{ لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِکْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ } ” کہ اگر ہمارے پاس بھی پہلوں کی کوئی نصیحت ہوتی “ یعنی جس طرح پہلی قوموں کے پاس ” ذکر “ آیا تھا ‘ اگر ہمارے پاس بھی آیا ہوتا ‘ ہم پر بھی کوئی کتاب نازل ہوئی ہوتی :

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Info

(37:168) ذکرا۔ پندو نصائح کی کتاب، نصحیت، بیان ، یہاں مراد کتاب منزل مین اللہ ہے۔ ای کتابا من جنس الکتب التی نزلت علیہم ومثلہا فی کونہ من عند اللہ تعالیٰ ۔ یعنی پہلے لوگوں پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتابیں نازل ہوئیں تھیں اگر ایسی ہی کوئی کتاب ہمارے پاس بھی آئی ہوتی۔ قرآن مجید کو بھی کئی جگہ ذکر ہی کہا گیا ہے مثلا انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظوں ۔ (15:9) اس نصیحت نامہ (قرآن) کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ یہ جملہ شرطیہ ہے اور اگلی آیت اس کی جزا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

Info

(168) اگر ہمارے پاس بھی گزشتہ امتوں کی سی کوئی نصیحت آمیز کتاب ہوتی۔