Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 171

سورة الصافات

وَ لَقَدۡ سَبَقَتۡ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾ۚ ۖ

And Our word has already preceded for Our servants, the messengers,

اور البتہ ہمارا وعدہ پہلے ہی اپنے رسولوں کے لئے صادر ہو چکا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Promise of Victory and the Command to turn away from Idolators Allah says, وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ And, verily, Our Word has gone forth of old for Our servants, the Messengers, meaning, it has already been stated in the first decree that the Messengers and their followers will ultimately prevail in this world and the Hereafter. This is like the Ayah: كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ Allah has decreed: "Verily, it is I and My Messengers who shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, Almighty. (58:21) and, إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth. (40:51) وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا ( كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21؀ ) 58- المجادلة:21 ) ، اور فرمایا ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51؀ۙ ) 40-غافر:51 ) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے ۔ کہ وہ منصور ہیں ۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے ۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا ۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا ۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے ۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لئے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے ۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ جب عذاب ان کے میدانوں میں ، محلوں میں ، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا ۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بےخبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی اس وقت آپ نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا ۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے ۔ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لئے بےپرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا : پچھلی آیت میں کفار کو ان کے انکار کا نتیجہ بہت جلدی دیکھ لینے کی دھمکی دی تھی، اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حوصلہ اور تسلی دینے کے لیے فرمایا کہ ہمارے ان بندوں کے لیے، جنھیں ہم اپنا رسول بنا کر بھیجتے ہیں، ہماری یہ بات پہلے طے ہوچکی ہے کہ انھی کی مدد کی جائے گی اور صرف انھی کی نہیں بلکہ ان کے اور ان کے پیروکاروں کی صورت میں ہمارا جو بھی لشکر ہوگا وہی غالب رہیں گے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے : (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) [ المجادلۃ : ٢١ ] ” اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ضرور بالضرور میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، یقیناً اللہ بڑی قوت والا، سب پر غالب ہے۔ “ اور فرمایا : ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ ) [ المؤمن : ٥١ ] ” بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ “ اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ : اس آیت میں صرف اللہ کے رسولوں کے منصور ہونے کی تاکید کئی طرح سے فرمائی ہے، پہلے ضمیر ” ھُمْ “ کی تاکید دوبارہ ” ھُمْ “ لا کر فرمائی، پھر اس پر ” لام “ کے ساتھ مزید تاکید فرمائی، پھر خبر پر الف لام لا کر ” الْمَنْصُوْرُوْنَ “ فرمایا، اس سے بھی کلام میں حصر پیدا ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر حال میں انھی کی نصرت ہوگی، ان کے مقابلے میں دوسروں کی نہیں اور ہر حال میں رسول اور ان کے پیروکار ہی غالب رہیں گے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض اوقات انبیاء اور اہل ایمان پر کفار بھی غالب آجاتے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری میں ابوسفیان سے ہرقل کا سوال مذکور ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے اس آدمی سے کبھی تمہاری جنگ بھی ہوئی ہے، اگر ہوئی ہے تو اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ تو اس نے جواب دیا : ( کَانَتْ دُوَلاً وَ سِجَالاً ، یُدَالُ عَلَیْنَا الْمَرَّۃَ وَنُدَالُ عَلَیْہِ الْأُخْرٰی ) ” جنگ باریوں کی صورت میں رہی، کبھی وہ ہم پر غالب رہا اور کبھی ہم اس پر غالب رہے۔ “ اس سوال کا بہترین جواب تو وہ ہے جو ہرقل نے تمام سوالوں کا جواب سننے کے بعد اپنے تبصرے میں دیا، اس نے کہا : ( وَ سَأَلْتُکَ ہَلْ قَاتَلْتُمُوْہُ وَ قَاتَلَکُمْ فَزَعَمْتَ أَنْ قَدْ فَعَلَ ، وَ أَنَّ حَرْبَکُمْ وَ حَرْبَہُ تَکُوْنُ دُوَلاً ، وَ یُدَالُ عَلَیْکُمُ الْمَرَّۃَ وَ تُدَالُوْنَ عَلَیْہِ الْأُخْرٰی، وَکَذٰلِکَ الرُّسُلُ تُبْتَلٰی، وَ تَکُوْنُ لَھَا الْعَاقِبَۃُ ) [ بخاري، الجہاد والسیر، باب دعاء النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إلی الإسلام والنبوۃ۔۔ : ٢٩٤١، ٤٥٥٣، عن ابن عباس (رض) ] ” اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم نے اس سے اور اس نے تم سے جنگ کی ہے، تو تم نے بتایا کہ ہاں کی ہے اور تمہاری اور اس کی لڑائی باریوں کی صورت میں رہی، کسی بار وہ تم پر غالب آتا رہا اور کسی دوسری بار تم غالب آتے رہے اور رسولوں کی اسی طرح آزمائش کی جاتی ہے اور آخری نتیجہ انھی کے حق میں ہوتا ہے۔ “ حقیقت یہ ہے کہ نصرت و غلبہ دنیا میں بعض اوقات دلیل اور حجت کے لحاظ سے ہوتا ہے، بعض اوقات فتح اور حکومت ملنے کے ساتھ اور کبھی اپنے موقف پر ثابت اور قائم رہنے کے ساتھ۔ چناچہ اگر مومن بعض اوقات اپنے دنیوی حالات کی کمزوری کی وجہ سے مغلوب ہوجائے تب بھی دلیل میں اور اپنے ایمان پر ثابت رہنے کی وجہ سے غالب وہی ہے اور آخری نتیجہ اسی کے حق میں ہوگا، جیسا کہ ہرقل نے کہا۔ وہ شہید بھی ہوجائے تو ہمیشہ نعمت کی زندگی کے حصول میں کامیاب ہوگیا اور یقیناً ایک وقت آنے والا ہے جب اہل ایمان کی کفار پر برتری سامنے آجائے گی، فرمایا : (فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ ۔ عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ۙ يَنْظُرُوْنَ ۔ هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ ) [ المطففین : ٣٤ تا ٣٦ ] ” سو آج وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہیں۔ تختوں پر (بیٹھے) نظارہ کر رہے ہیں۔ کیا کافروں کو اس کا بدلا دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے ؟ “ اور اللہ تعالیٰ نے بھی دنیا اور آخرت دونوں کا ذکر فرمایا ہے : (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ ) [ المؤمن : ٥١ ] ” بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ “ رہا دنیا میں مسلمانوں کا بعض اوقات شکست سے دو چار ہونا، تو جیسا کہ ہرقل نے کہا، یہ اللہ تعالیٰ کی ابتلا اور آزمائش کی حکمت کی وجہ سے ہے۔ اگر دنیا میں ہمیشہ مسلمان ہی فتح یاب ہوں تو امتحان کا معاملہ ہی ختم ہوجاتا ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (٢٤ ا) ، آل عمران (١٤٢) اور سورة توبہ (١٦) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The sense of &the victory of the people of Allah& In verses 171-173, it was said: وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْ‌سَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُ‌ونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ (And Our Word has already gone ahead in favor of Our servants - the messengers - they are the ones who will have Allah&s support, and verily it will be Our army that prevails). The sense of these verses is that it stands predetermined with Allah that His chosen servants, that is, the prophets would be the ones to prevail. This may raise a difficulty, for in the mortal world, some prophets did not. For an answer to this, it could be said that the majority of prophets consists of the noble souls whose people belied them and met their punishment while they were kept safe from it. There are only a few among the blessed prophets who, though, could not prevail outwardly and physically right up to the end of their tenure in this world, but they always enjoyed ascendancy in the field of logic and argument, and the ultimate intellectual victory remained always theirs. However, the physical traces of this ascendancy were - due to some consideration of wisdom, such as a trial, or its likes - deferred until the Hereafter. Hence, as said by sage Thanavi, it is like the case of a highway robber, who starts harassing a high appointee of the state while on his journey. But, this appointee would never, by virtue of his God-given intellectual sobriety, stoop to the low-down robber, until he reaches the capital of his state where the robber will be seized and punished. Therefore, simply due to this temporary ascendancy, neither can we call that robber an authority, nor that authority a subject. In fact, given the true state of affairs, that robber - despite this temporary ascendancy - is still a subject, while that man of authority - despite his temporary lack of ascendancy - is still the authority he had been all along. Sayyidna Ibn ` Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہما has expressed this more briefly and lucidly by saying: اَن لَّم یُنصَروا فِی الدُّنِیَا یُنصرُا فِی الاٰخرِۃِ (Those who& are not helped to ascend in the present world are helped to ascend in the Hereafter) - Bayan-ul- Qur’ an, the Tafsir of Surah al-Ma&idah (5). But, it should always be borne in mind that no group of people achieves this supremacy or ascendancy, whether in the present world or in the Hereafter, simply by having particular racial traits, or by belonging to a religion only in name. In fact, this actually happens only when every human being makes himself a member of &the army of Allah.& It necessarily implies that he or she should be committed to the obedience of Allah in every department of life as the objective of his or her life. Here, the word: جُندَنَا (Our army) is telling us very clearly that the person who embraces Islam will have to enter into a solemn pledge to devote his or her entire life in waging a struggle against the forces of self and Satan - and his or her supremacy, whether material or moral, whether in this world or in the Hereafter, depends on this condition. In verse 177, it was said: فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنذَرِ‌ينَ (So, when it descends in their courtyard, then, evil with be the dawn of the warned). The word: سَاحَۃُ (sahah) appearing in this verse literally means a courtyard, and the expression: نَزَلِ بِسَاحَتِہٖ (nazala bisahatihi: descended in his courtyard) is an Arabic idiom that denotes the appearance of a calamity face to face, while the time of morning has been specified, as an attack would usually come at that hour among the people of Arabia. This also used to be the practice with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that, should he reach the territorial jurisdiction of some enemy at the time of night, he used to postpone his attack until the morning (Mazhari). According to Hadith narrations, when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) attacked the fort of Khaibar during the morning hours, he said: اللہ اکبر، خربت حیبر، انّا اذا نزلنا قوم فساء صباح المنذرین (Allahu Akbar, Khaibar is destroyed. Verily, when we descend on the courtyard of a people, the morning of those who had been already warned is too bad).

اللہ والوں کے غلبہ کا مطلب : (آیت) وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا (الیٰ قولہ) وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے یہ بات پہلے سے طے کر رکھی ہے کہ ہمارے خاص بندے یعنی پیغمبر ہی غالب ہوتے ہیں۔ اس پر یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ بعض پیغمبروں کو دنیا میں غلبہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معلوم پیغمبروں میں اکثریت تو ایسے ہی حضرات کی ہے جن کی قومیں انہیں جھٹلا کر عذاب میں مبتلا ہوئیں اور ان حضرات کو عذاب سے محفوظ رکھا گیا صرف چند انبیاء (علیہم السلام) ایسے ہیں جنہیں دنیا میں آخر وقت تک بظاہر مادی طور پر غلبہ نہ مل سکا، لیکن دلیل وحجت کے میدان میں ہمیشہ وہی سربلند رہے، اور نظریاتی فتح ہمیشہ انہی کو حاصل ہوئی، ہاں اس سربلندی کے مادی آثار کسی خاص حکمت مثلاً آزمائش وغیرہ کی وجہ سے آخرت تک موخر کردیئے گئے۔ لہٰذا بقول حضرت تھانوی (رح) اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ذلیل رہزن کسی بڑے حاکم افسر کے ساتھ سفر کی حالت میں لوٹ مار کرنے لگے، مگر وہ حاکم اپنی خداداد عالی دماغی کی وجہ سے ہرگز اس ذلیل رہزن کی خوشامد نہیں کرے گا، حتیٰ کہ جب وہ حاکم اپنے دارالحکومت میں پہنچے گا اس رہزن کو گرفتار کر کے سزا دے گا۔ لہٰذا اس عارضی غلبہ کی وجہ سے نہ اس رہزن کو حاکم کہہ سکتے ہیں، اور نہ اس افسر کو محکوم، بلکہ اصلی حالت کے اعتبار سے وہ رہزن اس غلبہ میں بھی محکوم ہے، اور وہ افسر اس مغلوبیت میں بھی حاکم ہے۔ اسی بات کو حضرت ابن عباس نے ایک مختصر اور سلیس عنوان سے تعبیر فرمایا ہے، ان لم ینصروا فی الدنیا ینصر وفی الاخرة (بیان القرآن تفسیر سورة مائدہ) لیکن یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہئے کہ یہ غلبہ، خواہ دنیا میں ہو یا آخرت میں کسی قوم کو محض خصوصیات نسلی یا دین کے ساتھ محض نام کے تعلق سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ کو ” اللہ کے لشکر “ کا ایک فرد بنا لے۔ جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ وہ ہر شعبہ زندگی میں اللہ کی اطاعت کو اپنا مقصد حیات بنائے ہوئے ہو۔ یہاں جندنا (ہمارا لشکر) کا لفظ بتارہا ہے کہ جو شخص اسلام قبول کرے اسے اپنی ساری زندگی نفس اور شیطان کی طاقتوں سے جنگ کرنے میں خرچ کرنے کا معاہدہ کرنا ہوگا اور اس کا غلبہ خواہ مادی ہو یا اخلاقی، دنیا میں ہو یا آخرت میں، اسی شرط پر موقوف ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ۝ ١٧١ۚۖ سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ، ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرنے لگ گئے ۔ وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] اور دونوں دوڑتے ہوئے دروز سے پر پہنچنے ۔ مجازا ہر شے میں آگے بڑ اجانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] تو یہ ہم سے اس کیطرف سبقت نہ کرجاتے ۔ كلم الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها، ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧١۔ ١٧٥) اور ہمارے خاص بندوں یعنی رسولوں کے لیے ہمارا کامیابی و مدد کا یہ قول پہلے ہی سے مقرر ہوچکا ہے۔ کہ وہی غالب کیے جائیں گے اور قیامت کے دن ہمارا ہی لشکر یعنی انبیاء کرام اور اہل ایمان غالب رہیں گے۔ آپ بدر تک جو ان کفار مکہ کی ہلاکت کا موقع ہے اعراض کیجیے اور عذاب الہی کو دیکھتے رہیے سو بہت جلد ان کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جاتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧١{ وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ } ” اور ہماری یہ بات پہلے سے طے شدہ ہے اپنے ان بندوں کے لیے جن کو ہم (رسول بنا کر) بھیجتے رہے ہیں۔ “ یہ آیات فلسفہ قرآنی اور اللہ تعالیٰ کے ایک خاص قانون کے اعتبار سے بہت اہم ہیں۔ اس قانون کے تحت مرسلین کے لیے یقینی مدد کا وعدہ ہے ‘ لیکن یہ وعدہ صرف رسولوں کے لیے ہے۔ اس ضمن میں نبیوں اور رسولوں کے مابین فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ چناچہ ایک نبی (علیہ السلام) کے لیے لازم نہیں تھا کہ اس کے لیے اللہ کی مدد ضرور ہی آتی اور اسے ہر صورت میں غلبہ عطا کیا جاتا ‘ بلکہ نبیوں کو تو قتل بھی کیا جاتا رہا۔ جیسے حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا گیا تھا۔ لیکن رسولوں کے بارے میں یہ بات طے تھی کہ وہ نہ تو قتل ہوں گے اور نہ ہی مغلوب۔ چناچہ جیسے ہی کسی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفین اس پر غالب آنے کی کوشش کرتے اور رسول (علیہ السلام) کے مغلوب ہونے کا امکان پیدا ہوتا تو اللہ کی فیصلہ کن مدد آجاتی۔ اس کے بعد رسول (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو بچالیا جاتا اور ان کے مخالفین کو نیست و نابود کردیا جاتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:171) سبقت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ سبق (باب ضرب) سے پہلے سے ہوچکی۔ پہلے سے ہی ٹھہر چکی۔ کلمتنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہماری بات، ہمارا وعدہ۔ یہاں مراد وعدہ نصرت ہے ۔ ولقد سبقت کلمتنا اور تحقیق ہمارا وعدہ (نصرت اپنے مرسلین بندوں کے ساتھ) پہلے ہی ہوچکا ہے۔ اگلی دونوں آیات میں اس کلمہ کی (وعدہ کی) تعریف ہے یا کلمتنا کا بدل ہے۔ عبادنا المرسلین۔ عبادنا مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف ہمارے بندے المرسلین ارسال (افعال) سے اسم مفعول جمع مذکر۔ صفت۔ ہمارے ارسال کردہ بندے۔ ہمارے مرسلین بندے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولقد سبقت کلمتنا۔۔۔۔ لھم الغلبون (171 – 173) ” “۔ یہ وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے اور اللہ کی بات اپنی جگہ قائم ہے۔ زمین کے اوپر توحیدی نطریہ حیات قائم ہے۔ ایمان کی عمارت مکمل ہوچکی ہے ۔ تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے علی الرغم توحید کا کلمہ بلند ہے۔ اگرچہ جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ اگرچہ دنیا میں اسلام کی دعوت اور اسلام کے قیام کا علم بلند کرنے والوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ آج بھی کفار کے عقائد ، ان کا رعب دنیا سے ختم ہے۔ کفار ، مشرکین کا تمام نظریاتی زور ختم ہے۔ آج دنیا میں وہی عقائد و نظریات زندہ ہیں جو رسولوں نے پیش کیے۔ آج بھی رسولوں کا پیش کردہ عقیدہ توحید لوگوں کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔ لوگوں کے تصورات اور نطریات کو ایک خاص کیف دے رہا ہے اور تمام رکاوٹوں کے باوجود اس کرہ ارض پر انسانوں کے دل و دماغ پر واضح طور پر چھایا ہوا ہے ۔ اور تہ تمام نظریات ناکام ہوچکے ہیں جو رسولوں کے پیش کردہ نطریہ توحید کے مخالف تھے۔ یہ نظریات ان علاقوں میں بھی ختم ہوچکے ہیں جہاں سے وہ اٹھے تھے۔ (سو شلزم روس میں) اور اللہ کے رسولوں کا کلمہ آج بھی بلند ہے اور وہ اللہ کا لشکر نطریاتی اعتبار سے آج بھی غالب ہے۔ یہ تو ہم ایک عمومی بات کرتے ہیں لیکن ایک بات تمام روئے زمین پر بطور حقیقت پائی جاتی ہے اور وہ ہمیشہ ہر زمانے میں پائی گئی ہے اور ہر تحریک اور دعوت پر وہ اصول صادق آیا ہے کہ جب داعی مخلص ہوں ، سچے ہوں اور دعوت کے لیے یکسو ہوں تو وہ ہر حال میں غالب رہتے ہیں۔ اس کے راستے میں مشکلات اور رکاوٹوں کے پہاڑ کیوں نہ کھڑے کر دئیے جائیں۔ اللہ کا لشکر بہرحال غالب رہتا ہے مخلصین کو بیشک ، مختلف جنگیں لڑنی پڑتی ہیں چو مکھی لڑائی سے سابقہ پیش آتا ہے لیکن آخری نتیجہ وہی ہوتا ہے کہ اللہ کا لشکر غالب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اگر پوری دنیا کی قوتیں اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں ، یہ وعدہ پورا ہوکر رہے گا۔ مخلصین مومنین کو نصرت ملے گی۔ وہ غالب ہوں گے اور زمین پر ان کا اقتدار قائم ہوگا۔ اللہ کا یہ وعدہ کوئی جزوی واقعہ نہیں ہوگا بلکہ یہ اس کائنات کی سنتوں میں سے ایک سنت الہیہ ہے۔ اور اللہ کی سنت اس طرح حرکت میں رہتی ہے جس طرح یہ ستارے اور سیارے اپنے مدار میں متحرک ہوتے ہیں۔ ان کے مدار پر ان کی رفتار میں ایک لمحے کا فرق نہیں آتا۔ جس طرح رات اور دن کے ظہور میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔ صدیوں سے یہ ظہور جاری ہے۔ جس طرح بہار و خزاں کے مظاہر آتے جاتے ہیں اور مردہ زمین کو زندہ کرتے رہتے ہیں اسی طرح سنت الہیہ بھی جاری وساری ہے۔ لیکن وہ اللہ کی تقدیر کی پابند ہے اور اللہ کے ارادے کے مطابق چلتی ہے۔ اور جس طرح اللہ چاہتا ہے ، اس کا ظہور ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے ظہور میں دیر نطر آتی ہے اور یہ دیر عجلت پسند انسان کی تمناؤں کی وجہ سے آتی ہے۔ لیکن اس سنت میں تخلف نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ سنت اس طرح اپنا کام کرتی ہے کہ انسان اسے سمجھ ہی نہیں سکتا۔ وہ ایسی شکل و صورت میں آتی ہے جو انسان کے تصور میں نہیں ہوتی۔ اور جب سنت الہیہ اپنا کام کرکے چلی جاتی ہے تو ایک عرصے کے بعد اہل ایمان کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں گوشے سے نصرت الہیہ نے کام کیا تھا۔ اللہ کے رسولوں کا اتباع کرنے والے لشکر خداوندی کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی امداد اس متعین صورت میں ہو جو اس کے ذہن میں ہے۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نصرت نہایت ہی اعلیٰ اور مکمل شکل میں ہو۔ چناچہ ہوتا وہی کچھ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اگرچہ یہ لشکر اپنے خیال میں بہت زیادہ مشقت اٹھا رہا ہو اور اس کے خیال میں جدوجہد پر بہت عرصہ گزر چکا ہو اور انتظار ان کے تصور سے زیادہ ہوگیا ہو۔ مثلاً مسلمانوں کا ارادہ یہ تھا کہ جنگ بدر کے موقعے پر قافلہ ان کے ہاتھ آجائے لیکن اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ یہ دنیاوی نفع ان کے ہاتھ سے جاتا رہے اور ان کی مڈبھیڑ فوج اور لشکر جرار سے ہوجائے اور وہ ایک ایسے گروہ سے ٹکرا جائیں جو زادوعتاد رکھتا ہو۔ اور اللہ نے جو چاہا وہ بہتر تھا۔ اسلام اور مسلمانوں دوں کے لیے بہتر تھا۔ یہ تھی اللہ کی نصرت لشکر الٰہی کے حق میں۔ اللہ پوری انسانی تاریخ میں اپنے لشکروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتا ہے۔ بعض اوقات اللہ کے لشکر کسی نہ کسی جنگ میں شکست بھی کھا جاتے ہیں اور جنگ کا رخ ان کے خلاف چلا جاتا ہے۔ انپر ابتلائیں اور مشکلات بھی آجاتی ہیں۔ کیونکہ اللہ کی منشا یہ ہوتی ہے کہ کسی دوسرے بڑے معرکے میں نصرت اور غلبہ دے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ اس موقعے پر اس کے لشکر کے لیے فتح مفید نہیں ہے اور اگلے موقعے پر وہ فتح بہت وسیع ، بہت ہمہ گیر اور دور رس اثرات کی حامل ہوگی۔ اللہ نے اپنی بات کردی ہے ، اس کا وعدہ اور ارداہ کام کرچکا ہے اور اللہ کی سنت بارہا ثابت ہوچکی ہے۔ ولقد سبقت۔۔۔۔۔ لھم الغلبون (37: 171 – 173) ” اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا “۔ اس فیصلہ کن وعدے کے بعد اور نہایت ہی دیرینہ دستاویز ہونے کے بعد اور اللہ کی طرف سے ہونے کے بعد اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب آپ مشرکین مکہ کو چھوڑ دیں۔ اب دیکھیں کہ اللہ کا یہ وعدہ کس طرح سچا ہوتا ہے اور سنت الہیہ کس طرح کام کرتی ہے۔ آپ بھی انتظار کریں اور وہ بھی انتظار کریں اور اللہ کے کاموں اور شانوں کا نظارہ کریں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پیغمبروں کی مدد کی جائے گی، اللہ کے لشکر غالب رہیں گے ان آیات میں اول تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہمارے خاص بندوں یعنی پیغمبر حضرات کے بارے میں ہماری طرف سے یہ پہلے ہی سے طے شدہ ہے کہ ان کی ضرور مدد کی جائے گی اور اللہ کا لشکر غالب رہے گا۔ سورة المومن میں فرمایا : (اِِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) (بلاشبہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیاوی زندگی میں مدد کرتے ہیں اور اس روز بھی جس دن گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے) اور سورة المجادلہ میں فرمایا ہے : (کَتَبَ اللّٰہُ لاََغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ) (اللہ تعالیٰ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب ہوں گے بلاشبہ اللہ قوی ہے عزیز ہے) اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے بڑی کثیر تعداد میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے، ان میں بہت سے تو ایسے تھے جن کے ماننے والے تھے ہی نہیں یا بہت قلیل مقدار میں تھے۔ (صحیح مسلم کتاب الطھارۃ ص ١١٧: ج ١) ان حضرات کا اہل کفر کے ساتھ قتل و قتال والا مقابلہ ہوا ہی نہیں البتہ دلیل و حجت سے یہ حضرات تکذیب کرنے والوں پر ہمیشہ غالب رہے اور پھر تکذیب کی سزا میں ان کی امتیں ہلاک ہوئیں، یہ بھی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) ہی کا غلبہ ہے۔ پھر جن انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ماننے والے زیادہ تھے جو لشکر اور فوج بنانے کے لائق تھے ان کی تعداد بھی زیادہ نہ تھی، ان کے زمانہ کے کافروں نے حق کو نہ مانا تو وہ کافر مغلوب ہوئے، حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی فوجوں کے مقابلہ میں شکست کھائی یا عذاب کے ذریعے ہلاک کردئیے گئے جو آیات اوپر ذکر کی گئی ہیں ان میں سے کسی میں بھی اس بات کی تصریح نہیں ہے کہ کافروں کے مقابلہ میں کوئی مسلمان شہید نہ ہوگا اور یہ بھی نہیں کہ پہلی ہی ملاقات میں مسلمان غالب ہوجائیں گے، ہاں انجام یہ ہوگا کہ حضرات انبیاء کرام اور ان کے لشکر ہی غالب ہوں گے۔ چناچہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی موجودگی میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا اور دلیل سے غالب ہونا اور آخرت میں فتح یاب ہونا اور کافروں کا شکست کھانا یہ بات تو بہرحال ہے اگر شاذو نادر کسی نبی کو اس کی قوم نے بلا مقابلہ شہید کردیا جیسا کہ بنی اسرائیل کے بارے میں (یَقْتُلُوْنَ النَّبِیَیٖنَ ) فرمایا ہے تو یہ واقعات اول تو شاذو نادر ہوئے ہیں عسکری قوت کے مقابلہ میں ایسا نہیں ہوا دشمنوں نے بلا مقابلہ قتل کردیا۔ دوسرے اس میں اللہ کی بعض تکوینی حکمتیں بھی تھیں، لہٰذا ان حضرات کا یہ قتل سورة الصفت اور سورة الرحمن اور سورة المجادلہ کی تصریحات کے خلاف نہیں ہے اور یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ نہیں فرمایا ہے کہ ہر موقع پر ہر مقابلہ میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کا لشکر غالب ہوگا بلکہ لڑائیوں کا خلاصہ اور حاصل بتادیا ہے۔ غزوۂ احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو لشکر تھا اس کو شکست تو ہوئی پھر آخر میں انہی حضرات کو بعد میں فتح ہوئی، غزوۂ احزاب میں بھی کافر بھاگے اور فتح مکہ کے موقع پر بھی مغلوب ہوئے، غزوۂ حنین میں بھی شکست کھائی، طائف والے بھی خود سے آئے مدینہ منورہ میں حاضر ہو کر مسلمان ہوئے، سارا عرب اسلام کا دشمن تھا بالآخر سبھی مغلوب ہوئے، کسریٰ بھی ختم ہوا اور قیصر بھی، انجام کار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے لشکروں ہی کو فتح یابی حاصل ہوئی۔ پھر یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ غزوۂ احد میں جو مسلمانوں نے شکست کا منہ دیکھا وہ ان کی اپنی غلطی کی وجہ سے تھا، جیسا کہ سورة آل عمران میں ارشاد فرمایا : (حَتّآی اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَعَصَیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَآ اَرٰیکُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ) (دیکھو انوار البیان) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں امت کو عملی تربیت دینے کے لیے تکوینی طور پر ہر طرح کے واقعات پیش آجاتے تھے۔ غزوۂ بدر میں یہ بتادیا کہ فتح یابی ہو تو کیا کریں، اب عملی طور پر یہ بتانا بھی ضروری تھا کہ شکست ہو تو کیا کریں، یہ بات غزوۂ احد کے واقعہ نے بتادی اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ شکست کا سبب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی تھی جس کا صحابہ سے صدور ہوگیا تھا۔ اخلاص اور تقویٰ کی ضرورت جب تک مسلمان اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ لڑتے رہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے برابر ان کی مدد ہوتی رہی، جب مسلمان اخلاص کھو بیٹھے، دنیا دار ہوگئے، دشمنوں سے دوستی کرلی، خیانتیں کرنے لگے، گناہوں میں کامیابی سمجھنے لگے اس وقت سے تنزل میں آگئے، دشمن انہیں پیٹنے لگے، غزوۂ احد میں جو کچھ انہیں بتایا اور سمجھایا تھا اس کی خلاف ورزی کرنے لگے یعنی گناہوں ہی کو زندگی کا مشغلہ بنا لیا لہٰذا اللہ تعالیٰ کی مدد جاتی رہی اور مغلوب ہونے لگے، جو ممالک اللہ تعالیٰ نے قبضہ میں دئیے تھے وہ بھی ہاتھ سے نکل گئے۔ مدد کا وعدہ تو ہے لیکن ایمان کی شرط کے ساتھ ہے۔ سورة آل عمران میں جہاں غزوۂ احد کا ذکر ہے وہیں یہ بھی فرمایا ہے (وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) (اور ہمت نہ ہارو اور غمگین مت ہو اور تم ہی بلند ہوگے اگر مومن ہو) آج کا مسلمان اللہ تعالیٰ کی مدد کا انتظار تو کرتا ہے لیکن مدد کی جو شرط ہے اسے پورا کرنے کو تیار نہیں، گناہوں کو چھوڑو پھر مدد دیکھو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

67:۔ ولقد سبقت الخ : یہ بشارت دنیوی ہے۔ ہمارا فیصلہ انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں صادر ہوچکا ہے کہ آخر الامر وہ اور ان کے متبعین غالب و منصور اور ان کے دشمن مغلوب و مقہور ہوں گے۔ فتول عنہم الخ یہ مشرکین پر زجر اور تخویف دنیوی ہے۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلیہ ہے۔ کچھ دیر تک آپ ان سے تعرض نہ فرمائیں اور دیکھیں ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس وقت وہ خود بھی اپنا انجام سے جنگ بدر میں ان کا قتل اور قید ہونا مراد ہے۔ الی حین، المراد الی یوم بدر (کبیر) ۔ فسوف یبصرونہا وما یحل بہم من العذاب والاسر والقتل (بحر ج 7 ص 380) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(171) اور بلا شبہ ہمارے وہ بندے جو رسول ہیں ان کے حق میں ہماری یہ بات اور یہ کلمہ پہلے سے طے شدہ ہے ۔