Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 23

سورة الصافات

مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَاہۡدُوۡہُمۡ اِلٰی صِرَاطِ الۡجَحِیۡمِ ﴿ٙ۲۳﴾

Other than Allah , and guide them to the path of Hellfire

۔ ( ان سب کو ) جمع کرکے انہیں دوزخ کی راہ دکھا دو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مِن دُونِ اللَّهِ ... and what they used to worship. Instead of Allah, means, instead of Allah, i.e., their idols and false gods will be gathered together with them in the same place. ... فَاهْدُوهُمْ إِلَى صِرَاطِ الْجَحِيمِ and lead them on to the way of flaming Fire. means, take them to the way to Hell. This is like the Ayah: وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَّأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا and We shall gather them together on the Day of Resurrection on their faces, blind, dumb and deaf; their abode will be Hell; whenever it abates, We shall increase for them the fierceness of the Fire. (17:97) وَقِفُوهُمْ إِنَّهُم مَّسْيُولُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ : ہدایت کا لفظ یہاں ان کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After that, a command will go forth to angels: فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَ‌اطِ الْجَحِيمِ (and show them the way to Jahannam - 37:23). When the angels will take them away, and reach close to the Bridge of Sirat, they will be commanded: YP (make them stop - they are to be questioned - 37:24). Thereupon, at this place, they will be questioned about their beliefs and deeds - that have been mentioned in the Qur&an and Hadith at many places.

اس کے بعد فرشتوں کو حکم ہوگا کہ (آیت) فاھدوھم الی صراط الجحیم، یعنی ان لوگوں کو جہنم کا راستہ دکھلاؤ، اور جب فرشتے ان لوگوں کو لے چلیں گے تو پل صراط کے قریب پہنچنے کے بعد حکم ہوگا کہ وقفوھم انھم مسؤلون، ان کو ٹھہراؤ، ان سے سوال ہوگا۔ چناچہ اس مقام پر ان سے ان کے عقائد و اعمال کے بارے میں وہ سوالات کئے جائیں گے جن کا ذکر قرآن و حدیث میں بہت سے مقامات پر آیا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مِنْ دُوْنِ اللہِ فَاہْدُوْہُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ۝ ٢٣ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ صرط الصِّرَاطُ : الطّريقُ المستقیمُ. قال تعالی: وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] ، ويقال له : سِرَاطٌ ، وقد تقدّم . سرط السِّرَاطُ : الطّريق المستسهل، أصله من : سَرَطْتُ الطعامَ وزردته : ابتلعته، فقیل : سِرَاطٌ ، تصوّرا أنه يبتلعه سالکه، أو يبتلع سالکه، ألا تری أنه قيل : قتل أرضا عالمها، وقتلت أرض جاهلها، وعلی النّظرین قال أبو تمام : 231- رعته الفیافي بعد ما کان حقبة ... رعاها وماء المزن ينهلّ ساكبه «2» وکذا سمّي الطریق اللّقم، والملتقم، اعتبارا بأنّ سالکه يلتقمه . ( ص ر ط ) الصراط ۔ سیدھی راہ ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے ۔ اسے سراط ( بسین مھملہ ) پڑھا جاتا ہے ملاحظہ ہو ( س ر ط) السراط کے معنی آسان راستہ ، کے آتے ہیں اور اصل میں سرطت الطعام وزاردتہ سے مشتق ہے جس کے معنی طعام کو نگل جانے کے ہیں ۔ اور راستہ کو صراط اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ راہر کو گویا نگل لیتا ہے یار ہرد اس کو نگلتا ہوا چلایا جاتا ہے ۔ مثل مشہور ہے ۔ قتل ارضا عالھا وقتلت ارض جاھلھا کہ واقف کار رہر و توزمین کو مار ڈالتا ہے لیکن ناواقف کو زمین ہلاک کردیتی ہے ۔ ابو تمام نے کہا ہے ۔ رعتہ الفیما فی بعد ماکان حقبۃ رعاھا اذا ماالمزن ینھل ساکبہ اس کے بعد کو اس نے ایک زمانہ دراز تک سرسبز جنگلوں میں گھاس کھائی اب اس کو جنگلات نے کھالیا یعنی دبلا کردیا ۔ اسی طرح راستہ کو لقم اور ملتقم بھی کہا جاتا ہے اس لحاظ سے کہ گویا ر ہرو اس کو لقمہ بنالیتا ہے۔ جحم الجُحْمَة : شدة تأجج النار، ومنه : الجحیم، وجَحَمَ وجهه من شدة الغضب، استعارة من جحمة النار، وذلک من ثوران حرارة القلب، وجَحْمَتَا الأسد : عيناه لتوقدهما . ( ج ح م ) الجحمۃ آگ بھڑکنے کی شدت اسی سے الجحیم ( فعیل ہے جس کے معنی ( دوزخ یا دہکتی ہوئی آگ کے ہیں ۔ اور جحمۃ النار سے بطور استعارہ جحم استعار ہوتا ہے جس کے معنی غصہ سے چہرہ جل بھن جانے کے ہیں کیونکہ غصہ کے وقت بھی حرارت قلب بھڑک اٹھتی ہے کہا جاتا ہے : ۔ جحم ( ف ) الا سد بعینیۃ شیر نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا کیونکہ شیر کی آنکھیں بھی آگ کی طرح روشن ہوتی ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٣ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ’ اللہ کے سوا “ { فَاہْدُوْہُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ } ” پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھائو ! “ اب ذرا جہنم کے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کرو ‘ ان کو escort کرو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

16 "Gods" here implies two kinds of the gods: (1) Those men and satans who themselves desired that the people should worship them instead of Allah; and (21 those idols and trees and stones, etc., which have actually been worshipped in the world. The first kind of the gods will be included among the culprits themselves and will be led to Hell for punishment; the other kind of them will be thrown into Hell along with their worshippers so that they constantly feel ashamed of and continue to regret their follies. Besides, there is also a third kind of the gods, who have been worshipped in the world, but without their own consent and knowledge; they rather forbade the people to worship anyone but Allah, e.g. the angels, prophets and saints. Obviously, this kind of the gods will not be included among the gods who will be driven to Hell along with their worshippers.

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:23) اھدوہم۔ ھدایۃ سے۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ہم۔ ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہے۔ ان کو راستہ دکھلائو۔ ان کو راہ بتلائو۔ ان کو لے جائو۔ ہدایت کے اصل معنی فائدہ مند راہ بتلانے کے ہیں۔ لیکن یہاں نہکم (طنزا و استہزاء ) اس کا استعمال ہوا ہے جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے فبشرہم بعذاب الیم (9:34) ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنادو۔ صراط الجحیم۔ (مضاف مضاف الیہ ) دوزخ کا راستہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی انہیں دوزخ کی طرف ہانک لے جائو۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ فرشتے دوزخ کے پہرہ داروں سے کہیں گے۔ ( کذافی الوحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(23) پھر ان سب کو دوزخ کی راہ بتائو۔ یعنی ان سب کو جمع کرکے ان کو دوزخ کا راستہ بتائو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ حکم ہوا فرشتوں کو ان کے جوڑے کہا یا تو جو روئوں کو کہا یا ایک ایک قسم کے گنہگار جو اکٹھے ہیں ان کو کہا۔ خلاصہ : یہ کہ ازواج کے جمع کرنے کو کہا اس ازواج سے یا تو منکروں کی بیویاں مراد ہیں جو ان کی شریک حال رہتی تھیں اور ان کے ساتھ خود بھی شر میں مبتلا تھیں یا وہ لوگ مراد ہوں گے جو ان کے ہم مشرب تھے اور وہ بھی ظالموں جیسے اور ان کے ساتھی تھے۔ بہرحال ! ظالموں کو اور ان کے ہم مشرب ساتھیوں کو جمع کرنے کا حکم دیاجائے گا اور یہ بھی ارشاد ہوگا کہ ان کو دوزخ کی راہ دکھائو۔