Surat us Saaffaat
Surah: 37
Verse: 26
سورة الصافات
بَلۡ ہُمُ الۡیَوۡمَ مُسۡتَسۡلِمُوۡنَ ﴿۲۶﴾
But they, that Day, are in surrender.
بلکہ وہ ( سب کے سب ) آج فرمانبردار بن گئے ۔
بَلۡ ہُمُ الۡیَوۡمَ مُسۡتَسۡلِمُوۡنَ ﴿۲۶﴾
But they, that Day, are in surrender.
بلکہ وہ ( سب کے سب ) آج فرمانبردار بن گئے ۔
Nay, but that Day they shall surrender. means, they will be subjected to the command of Allah, and they will not be able to resist it or avoid it. And Allah knows best.
بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ : ” أَسْلَمَ یُسْلِمُ “ (افعال) تابع فرمان ہوجانا، ” اِسْتَسْلَمَ “ میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ ” بالکل فرماں بردار “ کیا گیا ہے۔ یعنی آج وہ کوئی جواب نہیں دے رہے، بلکہ ان کی تمام اکڑفوں جاتی رہی اور وہ پوری طرح عاجز اور فرماں بردار ہو کر کھڑے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَاَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِۨ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ) [ النحل : ٨٧ ] ” اور اس دن وہ اللہ کے سامنے فرماں بردار ہونا پیش کریں گے اور ان سے گم ہوجائے گا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔ “
بَلْ ہُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ ٢٦ يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن ) جب کہہ دوجماعتیں ایک دوسرے سے گتھ ہوگئیں ( جنگ سے بھاگ گئے ۔ سلام السِّلْمُ والسَّلَامَةُ : التّعرّي من الآفات الظاهرة والباطنة، قال : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ [ الشعراء/ 89] ، أي : متعرّ من الدّغل، فهذا في الباطن، وقال تعالی: مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها [ البقرة/ 71] ، فهذا في الظاهر، وقد سَلِمَ يَسْلَمُ سَلَامَةً ، وسَلَاماً ، وسَلَّمَهُ الله، قال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] ، وقال : ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ، أي : سلامة، وکذا قوله : اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] . والسّلامة الحقیقيّة ليست إلّا في الجنّة، إذ فيها بقاء بلا فناء، وغنی بلا فقر، وعزّ بلا ذلّ ، وصحّة بلا سقم، كما قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : السلام ة، قال : وَاللَّهُ يَدْعُوا إِلى دارِ السَّلامِ [يونس/ 25] ، وقال تعالی: يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوانَهُ سُبُلَ السَّلامِ [ المائدة/ 16] ، يجوز أن يكون کلّ ذلک من السّلامة . وقیل : السَّلَامُ اسم من أسماء اللہ تعالیٰ «1» ، وکذا قيل في قوله : لَهُمْ دارُ السَّلامِ [ الأنعام/ 127] ، والسَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ [ الحشر/ 23] ، قيل : وصف بذلک من حيث لا يلحقه العیوب والآفات التي تلحق الخلق، وقوله : سَلامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ [يس/ 58] ، سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِما صَبَرْتُمْ [ الرعد/ 24] ، سلام علی آل ياسین «2» كلّ ذلک من الناس بالقول، ومن اللہ تعالیٰ بالفعل، وهو إعطاء ما تقدّم ذكره ممّا يكون في الجنّة من السّلامة، وقوله : وَإِذا خاطَبَهُمُ الْجاهِلُونَ قالُوا سَلاماً [ الفرقان/ 63] ، أي : نطلب منکم السّلامة، فيكون قوله ( سلاما) نصبا بإضمار فعل، وقیل : معناه : قالوا سَلَاماً ، أي : سدادا من القول، فعلی هذا يكون صفة لمصدر محذوف . وقوله تعالی: إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقالُوا سَلاماً قالَ سَلامٌ [ الذاریات/ 25] ، فإنما رفع الثاني، لأنّ الرّفع في باب الدّعاء أبلغ «3» ، فكأنّه تحرّى في باب الأدب المأمور به في قوله : وَإِذا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْها [ النساء/ 86] ، ومن قرأ سلم «4» فلأنّ السّلام لمّا کان يقتضي السّلم، وکان إبراهيم عليه السلام قد أوجس منهم خيفة، فلمّا رآهم مُسَلِّمِينَ تصوّر من تَسْلِيمِهِمْ أنهم قد بذلوا له سلما، فقال في جو ابهم : ( سلم) ، تنبيها أنّ ذلک من جهتي لکم كما حصل من جهتكم لي . وقوله تعالی: لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً إِلَّا قِيلًا سَلاماً سَلاماً [ الواقعة/ 25- 26] ، فهذا لا يكون لهم بالقول فقط، بل ذلک بالقول والفعل جمیعا . وعلی ذلک قوله تعالی: فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 91] ، وقوله : وَقُلْ سَلامٌ [ الزخرف/ 89] ، فهذا في الظاهر أن تُسَلِّمَ عليهم، وفي الحقیقة سؤال اللہ السَّلَامَةَ منهم، وقوله تعالی: سَلامٌ عَلى نُوحٍ فِي الْعالَمِينَ [ الصافات/ 79] ، سَلامٌ عَلى مُوسی وَهارُونَ [ الصافات/ 120] ، سَلامٌ عَلى إِبْراهِيمَ [ الصافات/ 109] ، كلّ هذا تنبيه من اللہ تعالیٰ أنّه جعلهم بحیث يثنی __________ عليهم، ويدعی لهم . وقال تعالی: فَإِذا دَخَلْتُمْ بُيُوتاً فَسَلِّمُوا عَلى أَنْفُسِكُمْ [ النور/ 61] ، أي : ليسلّم بعضکم علی بعض . ( س ل م ) السلم والسلامۃ کے معنی ظاہری اور باطنی آفات سے پاک اور محفوظ رہنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ [ الشعراء/ 89] پاک دل ( لے کر آیا وہ بچ جائیگا یعنی وہ دل جو دغا اور کھوٹ سے پاک ہو تو یہ سلامت باطن کے متعلق ہے اور ظاہری عیوب سے سلامتی کے متعلق فرمایا : مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها[ البقرة/ 71] اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو ۔ پس سلم یسلم سلامۃ وسلاما کے معنی سلامت رہنے اور سلمۃ اللہ ( تفعیل ) کے معنی سلامت رکھنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] لیکن خدا نے ( تمہیں ) اس سے بچالیا ۔ ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ان میں سلامتی اور ( خاطر جمع ) سے داخل ہوجاؤ ۔ اسی طرح فرمایا :۔ اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ ۔۔۔ اترآؤ ۔ اور حقیقی سلامتی تو جنت ہی میں حاصل ہوگی جہاں بقائ ہے ۔ فنا نہیں ، غنا ہے احتیاج نہیں ، عزت ہے ذلت نہیں ، صحت ہے بیماری نہیں چناچہ اہل جنت کے متعلق فرمایا :۔ لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے ۔ وَاللَّهُ يَدْعُوا إِلى دارِ السَّلامِ [يونس/ 25] اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے ۔ يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوانَهُ سُبُلَ السَّلامِ [ المائدة/ 16] جس سے خدا اپنی رضامندی پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے ۔ ان تمام آیات میں سلام بمعنی سلامتی کے ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں السلام اسمائے حسنیٰ سے ہے اور یہی معنی آیت لَهُمْ دارُ السَّلامِ [ الأنعام/ 127] میں بیان کئے گئے ہیں ۔ اور آیت :۔ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ [ الحشر/ 23] سلامتی امن دینے والا نگہبان ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وصف کلام کے ساتھ موصوف ہونے کے معنی یہ ہیں کہ جو عیوب و آفات اور مخلوق کو لاحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب سے پاک ہے ۔ اور آیت :۔ سَلامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ [يس/ 58] پروردگار مہربان کی طرف سے سلام ( کہاجائیگا ) سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِما صَبَرْتُمْ [ الرعد/ 24] اور کہیں گے ) تم رحمت ہو ( یہ ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے ۔ سلام علی آل ياسین «2» کہ ایسا پر سلام اور اس مفہوم کی دیگر آیات میں سلام علیٰ آیا ہے تو ان لوگوں کی جانب سے تو سلامتی بذریعہ قول مراد ہے یعنی سلام علی ٰ الخ کے ساتھ دعا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے سلامتی بالفعل مراد ہے یعنی جنت عطافرمانا ۔ جہاں کہ حقیقی سلامتی حاصل ہوگی ۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اور آیت :۔ وَإِذا خاطَبَهُمُ الْجاهِلُونَ قالُوا سَلاماً [ الفرقان/ 63] اور جب جاہل لوگ ان سے ( جاہلانہ ) گفتگو کرتے ہیں ۔ تو سلام کہتے ہیں ۔ مٰیں قالوا سلاما کے معنی ہیں ہم تم سے سلامتی چاہتے ہیں ۔ تو اس صورت میں سلاما منصوب اور بعض نے قالوا سلاحا کے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ اچھی بات کہتے ہیں تو اس صورت میں یہ مصدر مخذوف ( یعنی قولا ) کی صٖت ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقالُوا سَلاماً قالَ سَلامٌ [ الذاریات/ 25] جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا ۔ انہوں نے بھی ( جواب میں ) سلام کہا ۔ میں دوسری سلام پر رفع اس لئے ہے کہ یہ باب دعا سے ہے اور صیغہ دعا میں رفع زیادہ بلیغ ہے گویا اس میں حضرت ابراہیم نے اس اد ب کو ملحوظ رکھا ہے جس کا کہ آیت : وَإِذا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْها [ النساء/ 86] اور جب تم کوئی دعا دے تو ( جواب میں ) تم اس سے بہتر ( کا مے) سے ( اسے ) دعا دو ۔ میں ھکم دیا گیا ہے اور ایک قرآت میں سلم ہے تو یہ اس بنا پر ہے کہ سلام سلم ( صلح) کو چاہتا تھا اور حضرت ابراہیم السلام ان سے خوف محسوس کرچکے تھے جب انہیں سلام کہتے ہوئے ۔ ستاتو اس کو پیغام صلح پر محمول کیا اور جواب میں سلام کہہ کر اس بات پر متنبہ کی کہ جیسے تم نے پیغام صلح قبول ہو ۔ اور آیت کریمہ : لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً إِلَّا قِيلًا سَلاماً سَلاماً [ الواقعة/ 25- 26] وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے ار نہ گالی گلوچ ہاں ان کا کلام سلام سلام ( ہوگا ) کے معنی یہ ہیں کہ یہ بات صرف بذیعہ قول نہیں ہوگی ۔ بلکہ اور فعلا دونوں طرح ہوگئی ۔ اسی طرح آیت :: فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 91] تو ( کہا جائیگا کہ ) تم پر پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام میں بھی سلام دونوں معنی پر محمول ہوسکتا ہے اور آیت : وَقُلْ سَلامٌ [ الزخرف/ 89] اور سلام کہدو ۔ میں بظارہر تو سلام کہنے کا حکم ہے لیکن فی الحققیت ان کے شر سے سللامتی کی دعا کرنے کا حکم ہے اور آیات سلام جیسے سلامٌ عَلى نُوحٍ فِي الْعالَمِينَ [ الصافات/ 79]( یعنی ) تمام جہان میں نوح (علیہ السلام) پر سلام کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام ۔ ۔ سَلامٌ عَلى مُوسی وَهارُونَ [ الصافات/ 120] ابراہیم پر سلام ۔ سَلامٌ عَلى إِبْراهِيمَ [ الصافات/ 109] میں اس بات پر تنبیہ ہی کہ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء ابراہیم کو اس قدر بلند مرتبہ عطا کیا تھا کہ لوگ ہمیشہ ان کی تعریف کرتے اور ان کے لئے سلامتی کے ساتھ دعا کرتے رہیں گے اور فرمایا : فَإِذا دَخَلْتُمْ بُيُوتاً فَسَلِّمُوا عَلى أَنْفُسِكُمْ [ النور/ 61] اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے ( گھر والوں ) کو سلام کیا کرو ۔ یعنی تم ایک دوسرے کو سلام کہاکرو ۔
آیت ٢٦{ بَلْ ہُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ ” بلکہ آج تو یہ بہت فرمانبردار بنے ہوئے ہیں ! “ آج تو یہ بغیر کسی مزاحمت کے اپنے آپ کو حوالے کر کے بلا چون و چراسزا کے لیے پیش کر رہے ہیں۔
17 The first sentence will be addressed to the culprits, and the second to the common spectators, who will be watching the scene of the culprits' departure for Hell. This sentence itself tells of the general conditions at the time. It tells how the haughty and stubborn culprits of the world will be moving towards Hell meekly and without showing any resistance. Somewhere some kind will be seen being pushed about, and no one from among his courtiers will come forward to rescue "his majesty"; somewhere some conqueror of the world and some dictator will be moving away in humiliation and disgrace, and his brave army itself will deliver him for the punishment; somewhere some saint or some holy father will be seen being thrown into Hell, and no one of his disciples will bother to save him froth disgrace; somewhere some leader will be trudging helplessly towards Hell, and those who used to glorify and applaud him in the world, will turn away their eyes from him. So much so that the (over who was ever prepared to sacrifice everything for the beloved in the world, will feel least concerned to save him from his plight. By depicting this scene Allah wants to impress how the relationships of man with man, which are based on rebellion against Allah in the world, will break in the Hereafter, and how the pride of those who are involved in arrogance and conceit here, will be rined.
سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :17 پہلا فقرہ مجرمین کو خطاب کر کے ارشاد ہو گا ۔ اور دوسرا فقرہ ان عام حاضرین کی طرف رخ کر کے فرمایا جائے گا جو اس وقت جہنم کی روانگی کا منظر دیکھ رہے ہوں گے ۔ یہ فقرہ خود بتا رہا ہے کہ اس وقت حالت کیا ہو گی ۔ بڑے ہیکڑ مجرمین کے کس بل نکل چکے ہوں گے اور کسی مزاحمت کے بغیر وہ کان دبائے جہنم کی طرف جا رہے ہوں گے ۔ کہیں کوئی ہز میجسٹی دھکے کھا رہے ہوں گے اور درباریوں میں سے کوئی اعلیٰ حضرت کو بچانے کے لیے آگے نہ بڑھے گا ۔ کہیں کوئی فاتح عالَم اور ڈکٹیٹر انتہائی ذلت کے ساتھ چلا جا رہا ہو گا اور اس کا لشکر جرار خود اسے سزا کے لیے پیش کر دے گا ۔ کہیں کوئی پیر صاحب یا گرو جی یا ہولی فادر واصل بجہنم ہو رہے ہوں گے اور مریدوں میں سے کسی کو یہ فکر نہ ہو گی کہ حضرت والا کی توہین نہ ہونے پائے ۔ کہیں کوئی لیڈر صاحب کسمپرسی کے عالم میں جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور دنیا میں جو لوگ ان کی کبریائی کے جھنڈے اٹھائے پھرتے تھے وہ سب وہاں ان کی طرف سے نگاہیں پھیر لیں گے ۔ حد یہ ہے کہ جو عاشق دنیا میں اپنے معشوق پر جان چھڑکتے تھے انہیں بھی اس کے حال بد کی کوئی پروا نہ ہو گی ۔ اس حالت کا نقشہ کھینچ کر اللہ تعالیٰ دراصل یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہے کہ دنیا میں انسان اور انسان کے جو تعلقات اپنے رب سے بغاوت پر مبنی ہیں وہ کس طرح آخرت میں ٹوٹ کر رہ جائیں گے ، اور یہاں جو لوگ ہمچو ما دیگرے نیست کے غرور میں مبتلا ہیں ، وہاں ان کا تکبر کس طرح خاک میں مل جائے گا ۔
(37:26) بل ہم الیوم مستسلمون۔ بل حرف اضراب ہے یعنی ان کا ایک دوسرے کی مدد کرنا تو کجا رہا وہ تو وہاں اس روز بھیگی بلی بنے سر تسلیم خم کئے ہوں گے۔ الیوم سے مراد روز قیامت ہے۔ مستسلمون۔ اسم فاعل جمع مذکر مرفوع۔ استسلام (استفعال) مصدر۔ سلم مادہ۔ فرمانبردار ہونا۔ اپنے آپ کو سپرد کردینا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اس کا ترجمہ خاضعون کیا ہے۔
ف 4 یعنی ان کی تمام اکڑ نون جاتی رہی۔ اب وہ عاجزو فرمانبردار بنے کھڑے ہیں اور کسی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم سے گریز نہیں کرسکتے۔ ( ابن کثیر)
فہم القرآن ربط کلام : جب قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو قیامت کو جھٹلانے والوں سے سوال ہوگا۔ جب حساب و کتاب کے بعد مجرمین کا فیصلہ ہوچکا ہوگا کہ انہیں جہنم میں داخل کردیا جائے۔ ملائکہ انہیں ہانک کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہونگے تو ذات کبریاء کی طرف سے حکم ہوگا کہ انہیں چند لمحے ٹھہرایا جائے۔ جہنمی کہیں گے کہ شاید ہمیں کوئی رعایت دی جارہی ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے ہوں گے کہ رب ذوالجلال ارشاد فرمائیں گے کہ تمہیں کیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ اگر ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو تو کرو ! اس وقت حالت یہ ہوگی کہ پیر اور ان کے مرید، لیڈر اور ان کے ور کر، عابد، اور ان کے معبود علماء سو اور ان کے مقتدی سب کے سب فرمانبرداری کا مظاہرہ کررہے ہوں گے۔ رب ذوالجلال کا ارشاد سنتے ہی یہ لوگ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ آج ہماری مدد کیوں نہیں کرتے ہو ؟ دنیا میں ہمارے پاس آکر بڑے بڑے دعوے کرتے اور ہمیں امیدیں دلایا اور کہا کرتے تھے کہ ہم دنیا میں بھی تمہارے خیر خواہ ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے نجات دہندہ ہوں گے۔ بالخصوص جھوٹے پیر اور برے علماء یہ بات کہہ کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ مرشد کے بغیر ہدایت نصیب نہیں ہوتی اور مرشد ہی قیامت کے دن اپنے مریدوں کی نجات کا ذمہ دار ہوگا۔ اس امید کی بنیاد پر مرید اپنے پیروں کو ور کر اپنے لیڈروں کو کہیں گے کہ آج ہماری چارہ جوئی کرو کیونکہ تم دنیا میں ہماری نجات کی ذمہ داری کا دعویٰ کیا کرتے تھے۔ عربی زبان میں ” یَمِیْنٌ“ کے کئی معانی ہیں جن میں مشہور تین ہیں 1” یَمِیْنِ “ کا معنٰی دایاں ہاتھ یا جانب 2 قسم 3 غلام۔ گویا کہ جہنمی کہیں گے کہ ہم تو کسی نہ کسی طرح تمہارے غلام یعنی ماتحت تھے اور تم ہی نے قسمیں اٹھا، اٹھا کر ہمیں گمراہ کیا تھا اب ہماری چارہ جوئی کرو ! ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ کی وضاحت اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ کی جاچکی ہے موقع کی منا سبت سے یہاں پھر مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔ 1” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں حائل ہوتی ہو یا اسے حائل کرلیا جائے۔ اس میں وہ بت اور مجسمّے بھی شامل ہیں جن کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے اور ان کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے۔ قیامت کے دن انہیں بھی جہنم میں جھونک دیا جائے گا تاکہ انہیں متبرک سمجھنے والے اپنی آنکھوں سے ان کا حشر دیکھ سکیں۔ یہ بت جہنم کے انگارے بن کر انکی سزا میں اضافہ کا باعث ثابت ہوں گے۔ 2 ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ سے مراد ہر قسم کے گمراہ پیر، حکمران، لیڈر اور مرشد ہیں جنہوں نے اپنے چاہنے والوں کو راہ راست سے گمراہ کیا یا گمراہی کا ماحول پیدا کیا۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور بزرگان دین جہنم سے محفوظ ہوں گے۔ بیشک لوگوں نے ان کے نام سے شرک کیا اور بدعات ورسومات رائج کیں۔ یہ بزرگ اس لیے جہنم سے دور رکھے جائیں گے کیونکہ وہ لوگوں کو شرک و بدعات سے منع کرتے تھے۔ جہنم کی ہولناکیاں دیکھ کر پیر اپنے مریدوں، عابد اپنے معبودوں اور لیڈر اپنے ور کروں، علماء اپنے مقتدیوں کو کہیں گے تمہاری گمراہی میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں۔ کیونکہ تم خود ہی ایمان لانے کے لیے تیار نہ تھے۔ تمہیں گمراہ کرنے میں ہمیں کوئی اختیارنہ تھا۔ تم تو خود ہی اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب پر ہمارے رب کا فرمان سچ ثابت ہوا کہ ہم مجرموں کو عذاب کا ذائقہ چکھاتے ہیں اس کے ساتھ ہی وہ اس کا اعتراف کریں گے کہ ہم نے تمہیں اس طرح گمراہ کیا جس طرح ہم خود گمراہ تھے۔ اس طرح عذاب پانے والے ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم مجرموں کو اس طرح ہی سزا دیتے ہیں۔ مسائل ١۔ جہنمیوں کو ایک جگہ جمع کرکے آخری مرتبہ سوال ہوگا کہ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ ٢۔ جہنمی اپنے گناہوں کی ذمہ داری اپنے راہنماؤں پر عائد کریں گے۔ ٣۔ جہنمیوں کے پیشوا گناہوں کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کریں گے۔ تفسیر بالقرآن محشر کے میدان میں جہنمیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تکرار کرنا : ١۔ قیامت کے دن معبودان باطل اپنی عبادت کا انکار کردیں گے۔ (یونس : ٢٨) ٢۔ قیامت کے دن مشرک اپنے شرکاء کو دیکھ کر کہیں گے کہ ہم ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کے معبود انکار کریں گے۔ (النحل : ٨٦) ٣۔ قیامت کے دن مشرک اپنے معبودان کو دیکھ کر کہیں گے ہمیں یہ گمراہ کرنے والے تھے۔ (القصص : ٦٣) ٤۔ قیامت کے دن پیر اپنے مریدوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : ١٦٦) ٥۔ جہنم میں داخل ہونے والے اپنے سے پہلوں کو دیکھ کر کہیں گے۔ ہمیں گمراہ کرنے والے یہی لوگ تھے الٰہی انہیں دوگنا عذاب دیا جائے۔ (الاعراف : ٣٨)
بل ھم الیوم مستسلمون (26) ” “۔ یعنی ہر ایک اپنے آپ کو بےبسی میں دوسرے کے حوالے کر رہا ہے ، بندگی کرنے والے ہوں کہ معبود ہوں۔ اب یہاں خطابی انداز کلام کو بدل کر پھر مطالبتی اور بیانیہ انداز سامنے آتا ہے۔ اس منظر میں یہ ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں۔
(26) بلکہ وہ سب سرجھکائے کھڑے ہوں گے یعنی بجائے ان دعوئوں کے جو دنیا میں کیا کرتے تھے کہ نحن جمیع منتصر یعنی ہم سب ایک دوسرے کے مددگار ہیں بجائے مدد کے آج وہ سب ذلیل وسرفگندہ کھڑے ہوں گے آگے ان کی آپس میں جو تو تو میں میں ہوگی اور ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کہیں گے اس کا ذکر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حکم کے بعد ٹھہرا کر لڑوا دیں گے آپس میں۔