Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 47

سورة الصافات

لَا فِیۡہَا غَوۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ عَنۡہَا یُنۡزَفُوۡنَ ﴿۴۷﴾

No bad effect is there in it, nor from it will they be intoxicated.

نہ اس سے درد سرہو اور نہ اسکے پینے سے بہکیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Round them will be passed a cup of pure wine -- white, delicious to the drinkers. Neither will they have Ghawl from that nor will they suffer intoxication therefrom. This is like the Ayah: يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَنٌ مُّخَلَّدُونَ بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ لااَّ يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلااَ يُنزِفُونَ Immortal boys will go around them (serving), with cups, and jugs, and a glass of flowing wine, from which they will get neither any aching of the head nor any intoxication. (56:17-19) Allah refined the wine of Paradise from the bad effects of the wine of this world, which causes headaches and stomach aches -- which is the meaning of Ghawl -- causing people to lose their minds completely. So He says here: يُطَافُ عَلَيْهِم بِكَأْسٍ مِن مَّعِينٍ Round them will be passed a cup of pure wine, meaning, wine from a flowing stream which they do not fear will ever be cut off or cease. Malik narrated that Zayd bin Aslam said, "White flowing wine," meaning, with a bright, shining color, unlike the wine of this earth with its ugly, repulsive colors of red, black, yellow and turbid shades, and other features which are repugnant to anyone of a sound nature. لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ (delicious to the drinkers). means, its taste will be as good as its color, and a good taste indicates that it has a good smell, unlike the wine of this world. لاَا فِيهَا غَوْلٌ ... Neither will they have Ghawl from that, means, it will not have any effects on them such as causing stomach aches. This was the view of Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd. This is unlike the wine of this world, which causes colic and so on, because it is too watery. ... وَلاَ هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ nor will they suffer intoxication therefrom. Mujahid said, "It will not cause them to lose their minds." This was also the view of Ibn Abbas, Muhammad bin Ka`b, Al-Hasan. `Ata' bin Abi Muslim Al-Khurasani, As-Suddi and others. Ad-Dahhak reported that Ibn Abbas said, "Wine causes four things: intoxication, headache, vomiting and urine." So, when Allah mentions the wine of Paradise, He states that it is free of these characteristics, as mentioned in Surah As-Saffat.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٥] شراب کے تین نقصان اور ایک فائدہ :۔ دنیا میں جو شراب تیار کی جاتی ہے۔ وہ کچھ مخصوص پھلوں یا غلوں کو گلا سڑا کر اور ان میں خمیر اٹھا کر بنائی جاتی ہے۔ اور ایسی شراب میں تین نقص ہوتے ہیں اور ایک فائدہ ہوتا ہے۔ نقص یہ ہیں کہ وہ پینے کے بعد کڑوی محسوس ہوتی ہے، دوسرا یہ کہ وہ سر کو چڑھ جاتا ہے جس سے بعض دفعہ سر چکرانے لگتا ہے اور تیسرا یہ کہ اسی وجہ سے انسان بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے۔ اور نشہ زیادہ چڑھ جائے تو کئی طرح کے غلط کام بھی کر بیٹھتا ہے۔ شراب کے ساتھ اول فول بکنا اور فحاشی کے کام عموماً لازم و ملزوم بن جاتے ہیں اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ پینے والے کو وقتی طور پر کچھ سرور حاصل ہوتا ہے۔ جنت میں اہل جنت کو جو شراب دی جائے گی وہ مندرجہ بالا تمام نقائص سے تو پاک ہوگی۔ مگر اپنی لطافت، پاکیزگی اور لذت کے لحاظ سے دنیا کی شرابوں سے بہت افضل ہوگی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَا فِيْهَا غَوْلٌ وَّلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُوْنَ : ” غَوْلٌ“ کا معنی خرابی، سر درد، پیٹ کا درد اور ہلاکت ہے۔ ” يُنْزَفُوْنَ “ ” نَزَفَ “ (مجرد) اور ” أَنْزَفَ “ (مزیدفیہ) معروف و مجہول کا معنی عقل زائل ہونا ہے۔ دنیا کی شراب میں پائی جانے والی خرابیوں میں سے اس کے بدرنگ، بد ذائقہ اور بدبو دار ہونے کی نفی تو ”ۙبَيْضَاۗءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ “ سے ہوگئی تھی، اب اس میں پائی جانے والی مزید خرابیوں کی بھی نفی فرما دی۔ دنیا کی شراب پینے کے بعد الٹیاں آتی ہیں، خمار کی صورت میں سر، پیٹ اور سارے جسم میں درد ہوتا ہے جو بعض اوقات ہلاکت تک پہنچا دیتا ہے اور عقل جو انسان کا شرف ہے، جاتی رہتی ہے۔ جنت کی شراب ایسی ہر خرابی سے پاک ہوگی، نہ اس میں سر درد یا کوئی اور خرابی ہوگی اور نہ ہی اس کی وجہ سے ان کی عقل ماری جائے گی۔ البتہ شراب کی وہ خوبیاں جن کی وجہ سے لوگ اتنی خرابیوں کے باوجود اسے پیتے ہیں، وہ سب بدرجہ اتم موجود ہوں گی، مثلاً کھانے کی رغبت پیدا کرنا، سرور لانا اور قوت و شہوت کو ابھارنا وغیرہ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

6. &The word: غَوْلٌ (ghaul) in verse 47: لَا فِيهَا غَوْلٌ la fiha ghaulun) has been explained variously as &headache& or &abdominal pain& or &smell or corruption& or &muddling of reason&. The fact is that the word: غَوْلٌ (ghaul) is used to convey all these meanings, while Hafiz Ibn Jarir says that &ghaul& appears here in the sense of bane, trouble or unwelcome consequences which makes it mean that the drink offered in Jannah will have no such evil consequences as are found in wines consumed in the mortal world - no hangovers of headache, stomach pain, bad breath or loss of reason. (Tafsir Ibn Jarir).

(٦) (آیت) لا فیھا غول، غول کے معنی کسی نے ” درد سر “ بیان کئے ہیں۔ کسی نے ” پیٹ کا درد “ کسی نے ” بدبو دار گندگی “ اور کسی نے ” عقل کا بہک جانا “ درحقیقت لفظ ” غول “ ان سبھی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اور حافظ ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہاں ” غول “ آفت کے معنی میں ہے، اور مطلب یہ ہے کہ جنت کی شراب میں ایسی کوئی آفت نہیں ہوگی جیسی دنیا کی شرابوں میں پائی جاتی ہے، نہ درد سر ہوگا نہ درد شکم نہ بدبو کا بھبکارہ، نہ عقل کا بہک جانا (تفسیر ابن جریر )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَا فِيْہَا غَوْلٌ وَّلَا ہُمْ عَنْہَا يُنْزَفُوْنَ۝ ٤٧ غول الغَوْلُ : إهلاک الشیء من حيث لا يحسّ به، يقال : غَالَ يَغُولُ غَوْلًا، واغْتَالَهُ اغْتِيَالًا، ومنه سمّي السّعلاة غُولًا . قال في صفة خمر الجنّة : لا فِيها غَوْلٌ [ الصافات/ 47] ، نفیا لكلّ ما نبّه عليه بقوله : وَإِثْمُهُما أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما [ البقرة/ 219] ، وبقوله : رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطانِ فَاجْتَنِبُوهُ [ المائدة/ 90] . ( غ ول ) الغول کسی کو اس طرح ہلاک کردینا کہ اس کا پتہ بھی نہ چل سکے غال یغول غولا واغتالہ اغتیالا اس نے اسے ہلاک کردیا اسی سے سعلاۃ ( چڑیل ) کو غول کہاجاتا ہے ( غول درد سر سے مستی ) قرآن پاکنے جنت کی شراب کی صفت بیان کرتے ہوئے لا فِيها غَوْلٌ [ الصافات/ 47] نہ اس سے دردسر ہوگا ۔ کہ اس سے ہر اس عیب کی نفی کردی ہے جس کی طرف آیت : وَإِثْمُهُما أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما [ البقرة/ 219]( ان میں نقصان بڑے ہیں ۔ اور آیت ؛رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطانِ فَاجْتَنِبُوهُ [ المائدة/ 90] ناپاک اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا ۔ میں اشارہ فرمایا ہے ۔ نزف نَزَفَ الماء : نَزَحَهُ كلَّه من البئر شيئا بعدَ شيء، وبئر نَزُوفٌ: نُزِفَ ماؤه، والنُّزْفَة : الغَرْفة، والجمع النُّزَف، ونُزِفَ دَمُهُ ، أو دَمْعُهُ. أي : نُزِعَ كلّه، ومنه قيل : سَكْران نَزِيفٌ: نُزِفَ فَهْمُهُ بسُكْره . قال تعالی: لا يُصَدَّعُونَ عَنْها وَلا يُنْزِفُونَ [ الواقعة/ 19] وقرئ : ينزفون من قولهم : أَنْزَفُوا : إذا نَزَفَ شرابُهم، أو نُزِعَتْ عقولُهم . وأصله من قولهم : أَنْزَفُوا . أي : نَزَفَ ماءُ بئرهم، وأَنْزَفْتُ الشیءَ : أبلغُ من نَزَفْتُهُ ، ونَزَفَ الرجلُ في الخصومةِ : انقطعت حُجَّتُه، وفي مَثَلٍ : هو أَجْبَنُ مِنَ المَنْزُوفِ ضَرِطاً ( ن ز ف ) نزف المآء کے معنی کنویں سے تدریجا سارا پانی کھینچ لینے کے ہیں اور بئر نزوف اس کنویں کو کہتے ہیں جس کا پانی خشک ہوگیا ہو ۔ نزفۃ چلو بھر پانی ۔ اس کی جمع نزف آتی ہے ۔ نزف دمہ او دمعۃ خون یا آنسوؤں کا کلیہ نکل جانا اسی سے سکران نزیف ہے جس کے معنی بد مست کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لا يُصَدَّعُونَ عَنْها وَلا يُنْزِفُونَ [ الواقعة/ 19] اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں ضائع ہوں گی ۔ ایک قراءت میں ینزفون ہے جو کہ انزفوا افعال ) سے ہے جس کے معنی شراب کے ختم ہونے یا عقل کے ضائع ہوجانے کے ہیں اصل میں یہ انزفوا سے ہے جس کے معنی کنویں کا پانی ختم ہوجانے کے ہیں اور انزلت الشئی میں نز فتہ سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے ۔ نزف الرجل فی الخصو مہ جھگڑے میں دلیل سے خاموش ہوجانا مثل مشہور ہے ۔ ھو اجبن من المنزوف ضر طا وہ منزوف سے بھیزیادہ بزدلی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٧{ لَا فِیْہَا غَوْلٌ وَّلَا ہُمْ عَنْہَا یُنْزَفُوْنَ } ” اس میں نہ تو سرگرانی (کی کیفیت) ہوگی اور نہ ہی وہ اس سے بہکیں گے۔ “ اس مشروب کو پی کر ایک سرور کی کیفیت تو ہوگی مگر نہ تو اس سے سر بھاری ہوگا اور نہ ہی وہ مدہوشی لائے گا اور فتورِ عقل کا باعث ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :27 یعنی وہ شراب ان دونوں قسم کی خرابیوں سے خالی ہو گی جو دنیا کی شراب میں ہوتی ہیں ۔ دنیا کی شراب میں ایک قسم کی خرابی یہ ہوتی ہے کہ آدمی کے قریب آتے ہی پہلے تو اس کی بدبو اور سڑاند ناک میں پہنچتی ہے پھر اس کا مزا آدمی کے ذائقے کو تلخ کرتا ہے ۔ پھر حلق سے اترتے ہی وہ پیٹ پکڑ لیتی ہے ۔ پھر وہ دماغ کو چڑھتی ہے اور دوران سر لاحق ہوتا ہے ۔ پھر وہ جگر کو متاثر کرتی ہے اور آدمی کی صحت پر اس کے برے اثرات مترتب ہوتے ہیں ۔ پھر جب اس کا نشہ اترتا ہے تو آدمی خمار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ یہ سب جسمانی ضرر ہیں ۔ دوسری قسم کی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اسے پی کر آدمی بہکتا ہے ، اَول فَول بکتا ہے اور عَزْبدہ کرتا ہے ۔ یہ شراب کے عقلی نقصانات ہیں ۔ دنیا میں انسان صرف سرور کی خاطر شراب کے یہ سارے نقصانات برداشت کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت کی شراب میں سرور تو پوری طرح ہو گا ( لذّۃ للشاربین ) لیکن ان دونوں قسم کی خرابیوں میں سے کوئی خرابی بھی اس میں نہ ہو گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:47) لا فیھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب خمر کی طرف راجع ہے (جو پیالہ میں ہوگی) ۔ غول۔ غال یغول سے مصدر ہے بمعنی شراب میں مدہوش ہونا۔ درد سر مدہوشی۔ لا فیھا غول۔ اس شراب میں نہ کوئی مدہوشی ہوگی نہ درد سر نہ کوئی اور بگاڑ جنت کی شراب کے متعلق تو اور جگہ ارشاد الٰہی ہے :۔ وسقہم ربہم شرابا طھورا (76:21) اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔ ینزفون عنھا۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب نزف مصدر (باب ضرب) نہ اس (شراب) سے ان کی عقل ماری جائے گی۔ نزف الماء کے معنی کنویں سے تدریجا سارا پانی کھینچ لینے کے ہیں۔ اسی سے نزف (مجہول ) عقل کا بتدریج زائل ہونا۔ بیہوش ہوجانا۔ خبطی ہوجانا ہے۔ یہ باب افعال (انزف۔ ینزف) سے بھی مضارع مجہول کا صیغہ ہوسکتا ہے۔ بہرکیف معنی ایک ہی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی نہ نشہ ہوگا جیسے دنیا کی شراب پینے سے نشہ ہوتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

22:۔ لا فیہا غول الخ :۔ یہ جنت کی شراب کے امتیازی اوصاف ہیں۔ دنیا کی شراب میں بظاہر لذت و سرور ہے لیکن اس میں ایک خطرناک پوشیدہ ضرور بھی ہے۔ شراب دماغی اور دیگر بدنی اعصاب کے لیے سخت مضر ہے اور یہ ضرر اکثر ہلاکت کا سبب بنتا ہے لیکن جنت کی شراب ہر قسم کے ضرر اور مفاسد سے پاک ہوگی۔ قال الراغب الغول اھلاک الشیء من حیث لا یحس بہ (روح ج 23 س 88) ، اسی طرح دنیا کی شراب نشہ لا کر عقل کو مختل اور ذہن کو پریشان کردیتی ہے۔ لیکن جنت کی شراب ہر قسم کے نشے سے مبرا ہوگی۔ ای لاتذھب عقولہم بشربہا (قرطبی ج 15 ص 78) ، عن ابن عباس فی الخمر اربع خصال السکر والصداع والقیئ والبول فذکر اللہ خمر الجنۃ فنزہہا عن ھذہ الخصال (ابن کثیر ج 4 ص 7) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(47) اس شراب سے نہ دوران سرہو اور نہ وہ اس عقل کھو بیٹھیں۔ یعنی اس شراب سے نہ خمار ہو نہ عقل میں فتور آئے ، بہتی ہوئی کا مطلب یہ ہے جنت کی نہروں میں جاری ہوگی ہم نے محاوروں کی رعایت سے جام پیش کئے جائیں گے ترجمہ کیا ہے ورنہ لیطاف کے معنی شاہ صاحب نے لئے پھرتے ہوں گے لوگ کیا ہے لوگ سے مراد غلمان ہیں۔