سورة صٓ نام : آغاز ہی کے حرف ص سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے ۔ زمانہ نزول : جیسا کہ آگے چل کر بتایا جائے گا ، بعض روایات کی رو سے یہ سورۃ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں علانیہ دعوت کا آغاز کیا تھا اور قریش کے سرداروں میں اس پر کھلبلی مچ گئی تھی ۔ اس لحاظ سے اس کا زمانہ نزول تقریباً نبوت کا چوتھا سال قرار پاتا ہے ۔ بعض دوسری روایات اسے حضرت عمر کے ایمان لانے کے بعد کا واقعہ بتاتی ہیں ، اور معلوم ہے کہ وہ ہجرت حبشہ کے بعد ایمان لائے تھے ۔ ایک اور سلسلہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوطالب کے آخری مرض کے زمانہ میں وہ معاملہ پیش آیا تھا جس پر یہ سورۃ نازل ہوئی ۔ اسے اگر صحیح مانا جائے تو اس کا زمانہ نزول نبوت کا دسواں یا گیارہواں سال ہے ۔ تاریخی پس منظر : امام احمد ، نسائی ، ترمذی ، ابن جریر ، ابن ابی شیبہ ، ابن ابی حاتم اور محمد بن اسحاق وغیرہ نے جو روایات نقل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے اور قریش کے سرداروں نے محسوس کیا کہ اب یہ ان کا آخری وقت ہے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ چل کر شیخ سے بات کرنی چاہیے ۔ وہ ہمارا اور اپنے بھتیجے کا جھگڑا چکا جائیں تو اچھا ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا انتقال ہو جائے اور ان کے بعد ہم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ کوئی سخت معاملہ کریں اور عرب کے لوگ ہمیں طعنہ دیں کہ جب تک شیخ زندہ تھا ، یہ لوگ اس کا لحاظ کرتے رہے ، اب اس کے مرنے کے بعد ان لوگوں نے اس کے بھتیجے پر ہاتھ ڈالا ہے ۔ اس رائے پر سب کا اتفاق ہو گیا اور تقریباً 25 سرداران قریش ، جن میں ابو جہل ، ابو سفیان ، امیہ بن خلف ، عاص بن وائل ، اسود بن المطلب ، عقبہ بن ابی معیط ، عتبہ اور شیبہ شامل تھے ، ابو طالب کے پاس پہنچے ۔ ان لوگوں نے پہلے تو حسب معمول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنی شکایات بیان کیں ، پھر کہا ہم آپ کے سامنے ایک انصاف کی بات پیش کرنے آئے ہیں ۔ آپ کا بھتیجا ہمیں ہمارے دین پر چھوڑ دے اور ہم اسے اس کے دین پر چھوڑے دیتے ہیں ۔ وہ جس معبود کی عبادت کرنا چاہے کرے ، ہمیں اس سے کوئی تعرض نہیں ، مگر وہ ہمارے معبودوں کی مذمت نہ کرے اور یہ کوشش نہ کرتا پھرے کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ۔ اس شرط پر آپ ہم سے اس کی صلح کرا دیں ۔ ابو طالب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور آپ سے کہا کہ بھتیجے ، یہ تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں ۔ ان کی خواہش ہے کہ تم ایک منصفانہ بات پر ان سے اتفاق کرلو تاکہ تمہارا اور ان کا جھگڑا ختم ہو جائے ۔ پھر انہوں نے وہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی جو سرداران قریش نے ان سے کہی تھی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا ، چچا جان ، میں تو ان کے سامنے ایک ایسا کلمہ پیش کرتا ہوں جسے اگر یہ مان لیں تو عرب ان کا تابع فرمان اور عجم ان کا باج گزار ہو جائے ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو مختلف راویوں نے مختلف الفاظ میں نقل کیا ہے ۔ ایک روایت یہ ہے کہ آپ نے فرمایا اریدھم علیٰ کلمۃ واحدۃ یقولونھا تدین لھم بھا العرب و تؤدّی الیھم بھا العجم الجزیرۃ ۔ دوسری روایت میں الفاظ یہ ہیں : ادعوھم الیٰ ان یتکلموا بکلمۃ تدین لھم بھا العرب ویملکون بھا العجم ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کے بجائے قریش کے لوگوں کو خطاب کر کے فرمایا : کلمۃ واحدۃ تعطونیھا تملکون بھا العرب و تدین لکم بھا العجم اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : ارأیتم ان اعطیتکم کلمۃ تکلمتم بھا ملکتم بھا العرب و دانت لکم بھا العجم ۔ ان لفظی اختلافات کے باوجود مدعا سب کا یکساں ہے ، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ اگر میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کروں جسے قبول کر کے تم عرب و عجم کے مالک ہو جاؤ گے تو بتاؤ کہ یہ زیادہ بہتر بات ہے یا وہ جسے تم انصار کی بات کہہ کر میرے سامنے پیش کر رہے ہو؟ تمہاری بھلائی اس کلمے کو مان لینے میں ہے یا اس میں کہ جس حالت میں تم پڑے ہو اس میں تم کو پڑا رہنے دوں اور بس اپنی جگہ آپ ہی اپنے خدا کی عبادت کرتا رہوں؟ ) ۔ یہ سن کر پہلے تو وہ لوگ سٹ پٹا گئے ۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آخر کیا کہہ کر ایسے ایک مفید کلمے کو رد کر دیں ۔ پھر کچھ سنبھل کر بولے ، تم ایک کلمہ کہتے ہو ، ہم ایسے دس کلمے کہنے کو تیار ہیں ، مگر یہ تو بتاؤ کہ وہ کلمہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ ۔ اس پر وہ سب یک بارگی اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ باتیں کہتے ہوئے نکل گئے جو اس سورۃ کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے نقل کی ہیں ۔ ابن سعد نے طبقات میں یہ سارا قصہ اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح اوپر مذکور ہوا ، مگر ان کی روایت کے مطابق یہ ابو طالب کی مرض وفات کا نہیں بلکہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت عام کی ابتدا کی تھی اور مکہ میں پے در پے یہ خبریں پھیلنی شروع ہو گئی تھیں کہ آج فلاں آدمی مسلمان ہوا اور کل فلاں ۔ اس وقت سرداران قریش یکے بعد دیگرے کئی وفد ابو طالب کے پاس لے کر پہنچے تھے تاکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تبلیغ سے روک دیں اور انہی وفود میں سے ایک وفد کے ساتھ یہ گفتگو ہوئی تھی ۔ زَمخشری ، رازی نیسا بوری اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ یہ وفد ابو طالب کے پاس اس وقت گیا تھا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے پر سرداران قریش بوکھلا گئے تھے ، لیکن کتب روایت میں سے کسی میں اس کا حوالہ ہمیں نہیں مل سکا ہے اور نہ ان مفسرین نے اپنے ماخذ کا حوالہ دیا ہے ۔ تاہم اگر یہ صحیح ہو تو یہ ہے سمجھ میں آنے والی بات ۔ اس لیے کہ کفار قریش پہلے ہی یہ دیکھ کر گھبرائے ہوئے تھے کہ اسلام کی دعوت لے کر ان کے درمیان سے ایک ایسا شخص اٹھا ہے جو اپنی شرافت ، بے داغ سیرت اور دانائی و سنجیدگی کے اعتبار سے ساری قوم میں اپنا جواب نہیں رکھتا ۔ اور پھر اس کا دست راست ابوبکر جیسا آدمی ہے جسے مکے اور اس کے اطراف کا بچہ بچہ ایک نہایت شریف ، راستباز اور ذکی انسان کی حیثیت سے جانتا ہے ۔ اب جو انہوں نے دیکھا ہو گا کہ عمر بن خطاب جیسا جری اور صاحب عزم آدمی بھی ان دونوں سے جا ملا ہے تو یقیناً انہیں محسوس ہوا ہو گا کہ خطرہ حد برداشت سے گزرتا جا رہا ہے ۔ موضوع اور مباحث : اوپر جس مجلس کا ذکر کیا گیا ہے اسی پر تبصرے سے اس سورۃ کا آغاز ہوا ہے ۔ کفار اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کو بنیاد بنا کر اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کے انکار کی اصل وجہ دعوت اسلامی کا کوئی نقص نہیں ہے بلکہ ان کا اپنا تکبر اور حسد اور تقلید اعمیٰ پر اصرار ہے ۔ یہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اپنی ہی برادری کے ایک آدمی کو خدا کا نبی مان کر اس کی پیروی قبول کرلیں ۔ یہ انہی جاہلانہ تخیلات پر جمے رہنا چاہتے ہیں جن پر انہوں نے اپنے قریب کے زمانے کے لوگوں کو پایا ہے ، اور جب اس جہالت کے پردے کو چاک کر کے ایک شخص ان کے سامنے اصل حقیقت کو پیش کرتا ہے تو یہ اس پر کان کھڑے کرتے ہیں اور اسے عجیب بات بلکہ نرالی اور انہونی بات قرار دیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک توحید اور آخرت کا تخیل محض ناقابل قبول ہی نہیں ہے بلکہ ایک ایسا تخیل ہے جس کا بس مذاق ہی اڑایا جا سکتا ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورہ کے ابتدائی حصے میں بھی اور آخری فقروں میں بھی کفار کو صاف صاف متنبہ کیا ہے کہ جس شخص کا تم آج مذاق اڑا رہے ہو اور جس کی رہنمائی قبول کرنے سے تم کو آج سخت انکار ہے ، عنقریب وہی غالب آ کر رہے گا اور وہ وقت دور نہیں ہے جب اسی شہر مکہ میں ، جہاں تم اس کو نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہو ، اس کے آگے تم سب سرنگوں نظر آؤ گے ۔ پھر پے در پے 9 پیغمبروں کا ذکر کر کے ، جن میں حضرت داؤد و سلیمان علیہما السلام کا قصہ زیادہ مفصل ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہ بات سامعین کے ذہن نشین کرائی ہے کہ اس کا قانون عدل بالکل بے لاگ ہے ، اس کے ہاں انسان کا صحیح رویہ ہی مقبول ہے ، بے جا بات خواہ کوئی بھی کرے وہ اس پر گرفت کرتا ہے ، اور اس کے ہاں وہی لوگ پسند کیے جاتے ہیں جو لغزش پر اصرار نہ کریں بلکہ اس پر متنبہ ہوتے ہی تائب ہو جائیں اور دنیا میں آخرت کی جواب دہی کو یاد رکھتے ہوئے زندگی بسر کریں ۔ اس کے بعد فرماں بردار بندوں اور سرکش بندوں کے اس انجام کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو وہ عالم آخرت میں دیکھنے والے ہیں اور اس سلسلے میں کفار کو دو باتیں خاص طور پر بتائی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ آج جن سرداروں اور پیشواؤں کے پیچھے جاہل لوگ اندھے بن کر ضلالت کی راہ پر چلے جا رہے ہیں ، کل وہی جہنم میں اپنے پیروؤں سے پہلے پہنچے ہوئے ہوں گے اور دونوں ایک دوسرے کو کوس رہے ہوں گے ۔ دوسرے یہ کہ آج جن اہل ایمان کو یہ لوگ ذلیل و خوار سمجھ رہے ہیں ، کل یہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ ان کا جہنم میں کہیں نام و نشان تک نہیں ہے اور یہ خود اس کے عذاب میں گرفتار ہیں ۔ آخر میں قصہ آدم و ابلیس کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس سے مقصود کفار قریش کو یہ بتانا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے جھکنے سے جو تکبر تمہیں مانع ہو رہا ہے وہی تکبر آدم کے آگے جھکنے سے ابلیس کو بھی مانع ہوا تھا ۔ خدا نے جو مرتبہ آدم کو دیا تھا اس پر ابلیس نے حسد کیا اور حکم خدا کے مقابلے میں سرکشی اختیار کر کے لعنت کا مستحق ہوا ۔ اسی طرح جو مرتبہ خدا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے اس پر تم حسد کر رہے ہو اور اس بات کے لیے تیار نہیں ہو کہ جسے خدا نے رسول مقرر کیا ہے اس کی اطاعت کرو ، اس لیے جو انجام ابلیس کا ہونا ہے وہی آخر کار تمہارا بھی ہونا ہے ۔
تعارف سورۃ صٓ اس سورت کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے جو معتبر روایتوں میں بیان کیا گیا ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابوطالب اگرچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لائے تھے، لیکن اپنی رشتہ داری کے حق کو نبھانے کے لئے آپ کی مدد بہت کرتے تھے، ایک مرتبہ قریش کے دوسرے سردار ابوطالب کے پاس وفد کی شکل میں آئے اور کہا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑدیں تو ہم انہیں ان کے اپنے دین پر عمل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، حالانکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے بتوں کو اس کے سوا کچھ نہیں کہتے تھے کہ ان میں کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کی کوئی طاقت نہیں، اور ان کو خدا ماننا گمراہی ہے، چنانچہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجلس میں بلاکر آپ ک سامنے یہ تجویز رکھی گئی تو آپ نے ابو طالب سے فرمایا کہ چچا جان کیا میں انہیں اس چیز کی دعوت نہ دوں جس میں ان کی بہتری ہے، ابوطالب نے پوچھا وہ کیا چیز ہے، آپ نے فرمایا میں ان سے ایک ایسا کلمہ کہلانا چاہتا ہوں جس کے ذریعے سارا عرب ان کے آگے سرنگوں ہوجائے، اور یہ پورے عجم کے مالک ہوجائیں، اس کے بعد آپ نے کلمۂ توحید پڑھا، یہ سن کر تمام لوگ کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے کہ کیا ہم سارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک کو اختیار کرلیں، یہ توبڑی عجیب بات ہے، اس موقع پر سورۂ صٓ کی آیات نازل ہوئیں، اس کے علاوہ اس سورت میں مختلف پیغمبروں کا بھی تذکرہ ہے جن میں حضرت داؤو اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے واقعات بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
تعارف سورة ص : بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی سچائیوں کو جھٹلانے اور غرورو تکبر کرنے والوں سے فرمایا ہے کہ وہ جس تعصب ، بےجا ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اللہ کے محبوب رسول خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلاتے ہوئے ان کو ساحر ، کاہن ، مجنوں اور جھوٹا کہہ رہے ہیں ہر سچائی کا انکار کر کے رات دن اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی عبادت و بندگی کر رہے ہیں اور دین پر چلنے کا انکار کر رہے ہیں انہیں قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم فرعون ، قوم لوط اور قوم ایکہ کے بد ترین انجام کو سامنے رکھنا چاہیے کہ جب اللہ نے ان کے مسلسل انکار اور برے اعمال کی سزا کے طور پر تباہ و برباد کیا تو کوئی ان کی مدد کے لئے نہ آسکا اور وہ صفحہ ہستی سے اس طرح مٹا دیئے گئے کہ آج ان کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے فرمایا کہ اصل میں تم نے ابھی تک عذاب الٰہی کا مزہ نہیں چکھا ورنہ ایسی فضول باتیں نہ کرتے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ مکہ جو اپنی چھوٹی چھوٹی سرداریوں اور مال و دولت پر اترا رہے ہیں انہیں حضرت دائود (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی زندگی ، ان کی عبادت ، صبر و شکر اور عدل و انصاف کو سامنے رکھنا چاہیے کہ اللہ نے ان کو اتنی زبردست سلطنتیں عطاء کی تھیں کہ جو ان سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی تھیں لیکن انہوں نے حکومت و سلطنت ، مال و دولت اور کائنات کی ہزاروں نعمتوں پر غرور وتکبر اور نا شکری کرنے کے بجائے عاجزی و انکساری اور صبر و شکر کا عظیم مظاہرہ کیا ۔ جب ان کا امتحان لیا گیا تو اس میں پورے اترے ۔ اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہے کی موم کی طرح نرم کردیا تھا جس سے وہ زر ہیں ( جنگی سامان) بنا کر اپنی روزی حاصل کرتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے انسان ، جنات ، چرند ، پرند اور ہوا تک کو ان کے تابع کردیا گیا تھا ۔ ہمیشہ وہ عاجزی و انکساری اختیار کرتے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے گزارا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ جب انہیں اپنی سواریوں اور مال و دولت پر کچھ ناز سا ہوگیا تھا اور ان کو اس کا احساس ہوا تو انہوں نے ہر چیز کو ختم کردیا جو اللہ کی محبت اور اطاعت میں آڑے آرہی تھی ۔ ( سورة ص میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت یسع (علیہ السلام) اور حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نیک ، پرہیز گار اور صبر و شکر کرنے والے پیغمبر تھے جنہوں نے پوری زندگی اور اس کا ہر لمحہ اللہ کے دین کی سر بلندی میں لگا کر ساری دنیا کے انسانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ عمل پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایمان لانے والوں کو دین و دنیا کی بھلائیاں اور عظمتیں عطاء فرمائیں اور جنہوں نے کفر و انکار کیا ان کو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا کہ آج ان کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے۔ ) (حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ہر طرح کی مشکلات ، پریشانیوں اور بیماریوں میں گھر جانے کے باوجود صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اس آزمائش میں وہ پورے اترے۔ ) حضرت ایوب (علیہ السلام) اور ان کا مشکلات پر صبر اور نعمتوں پر شکر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ نے ان کو ایک سخت آزمائش میں ڈالا تو انہوں نے سخت اذیتیں اور تکلیفیں برداشت کیں لیکن تمام حالات پر آپ (علیہ السلام) نے اف تک نہ کیا اور تکلیفوں پر بھی صبر و تحمل سے کام لیتے رہے۔ جب وہ اپنے امتحان میں کامیاب ہوگئے تو اللہ نے ان پر بہت سی عنایتیں کیں اور ان کو پہلے سے بھی زیادہ نعمتوں سے نواز دیا ۔ اس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانثار صحابہ کرام (رض) کو تسلی دی گئی ہے کہ اس وقت وہ جن مشکلات میں مبتلا ہیں وہ بہت جلد دور ہوجائیں گی چونکہ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور اس کا یہی دستور ہے کہ اس کے راستے میں مصائب برداشت کرنے والوں کو وہ اجر عظیم سے نوازتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت یسع (علیہ السلام) اور حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نیک اور پرہیز گار لوگوں کی جماعت ہے جس نے ساری زندگی دین اسلام کی سچائیوں کو پھیلانے میں گزار دی ۔ پھر اللہ کے راستے میں ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کیں لیکن صبر و برداشت کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطاء فرما دی اور ان کا انکار کرنے والوں اور نا شکری کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کی بنیادیں کھود کر رکھ دیں اور ان کو اس طرح مٹا دیا گیا کہ آج ان کی زندگی افسانہ بن کر رہ گئی ہے۔ فرمایا گیا کہ وہ لوگ جنہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی اطاعت و فرمانبرداری کی ان کو دنیا اور آخرت میں عزت و عظمت اور سر بلندیاں عطاء کی گئیں اور جن لوگوں نے نا فرمانیاں کی ہوں گی ان کو آخرت کی ابدی زندگی میں جہنم اور اس جہنم میں کھانے کے لئے ” زقوم کا جنت “ پینے کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی اور لہو ، پیپ دیا جائے گا اور جہنمی ایک دوسرے پر لعنت و ملامت کریں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ اعلان فرما دیں کہ مجھے تم سے اس تبلیغ دین پر کوئی اجرت اور بدلہ نہیں چاہیے۔ میں تو صرف آخرت کے عذاب ، برے اعمال کے بد ترین انجام اور جہنم کی آگ سے آگاہ کرنے اور ڈرانے آیا ہوں اگر تم نے اللہ کے دین سے منہ پھیر کر شیطان کی طرح غرور وتکبر ، ہٹ دھرمی اور ضد کا اظہار کیا تو جو انجام شیطان کے غرور وتکبر کا ہوا تھا وہی تمہارا بھی ہوگا اگر تم نے میری بات نہ مانی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے جب ساری حقیقت تمہارے سامنے کھل کر آجائے گی۔
سورة ص کا تعارف سورۃ ص مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی یہ پانچ رکوع اور اٹھاسی آیات پر مشتمل ہے۔ ربط سورة : سورة الصافات کے آخر میں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ نہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی ملائکہ کو اپنی بیٹیاں قرار دیا ہے اس تردید کے باوجود کافر اور مشرک حسد وبغض کی بنا پر وہی بات کیے جا رہے ہیں جس کا ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں اس پر نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں سمجھایا تو انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساحر اور کذّاب کہا، مشرک اس بات پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک الٰہ پوری دنیا کے لیے کس طرح کافی ہوسکتا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ بات اپنے باپ دادا سے نہیں سنی اس وجہ سے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے بارے میں شک کرتے ہیں۔ جس وجہ سے انہیں عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس بیان کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم عاد، فرعون، ثمود، قوم لوط اور اصحاب ایکہ کا انجام بتلایا گیا ہے۔ سورت کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے پیش ہونے والے مقدمے کی تفصیل اور سرمایہ دارانہ ذہن کی عکاسی کی گئی ہے کہ انسان میں حد سے زیادہ مال کی ہوس پیدا ہوجائے تو اس کے سامنے کسی اصول اور رشتہ کا احترام باقی نہیں رہتا۔ پھر آدم (علیہ السلام) کے واقعہ کا اختصار پیش کرتے ہوئے بتلایا کہ شیطان نے معذرت پیش کرنے کی بجائے اپنے گناہ پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ میرے رب مجھے قیامت تک مہلت دے تاکہ میں لوگوں کو گمراہ کردوں۔ اللہ تعالیٰ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ تجھے قیامت تک کے لیے مہلت دی جاتی ہے۔ شیطان نے کہا اے رب تیری عزت کی قسم ! میں تیرے مخلص بندوں کے سوا سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تجھے اور تیرے ساتھیوں کے ساتھ جہنم کو بھردوں گا۔ چوتھے رکوع میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری اور ان کے صبر وشکر کا ذکر ہوا ہے۔ سورت کے آخر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ اعلان کروایا گیا کہ آپ اس بات کا برملا اعلان فرمائیں کہ میں نبوت کے کام پر کسی اجر کا طالب نہیں اور نہ ہی میں کسی قسم کا تکلف کرنے والا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن لوگوں کے لیے خیر خواہی اور رہنمائی ہے جو لوگ اس رہنمائی اور خیر خواہی کا انکار کریں گے ایک مدت کے بعد ان کے انکار کا انجام ان کے سامنے آجائے گا۔
سورة صٓ ایک نظر میں یہ مکی سورت ہے ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی مسئلہ توحید & مسئلہ وحی الہی اور مسئلہ بعث بعد الموت پر بحث کی گئی ہے ۔ یہ تینوں مسائل اس سورت کے آغاز میں پہلے ہی سبق میں لیے گئے ہیں۔ جن آیات میں مسائل کو لیا گیا ہے۔ وہ نصاحت و بلا غت کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ ان میں اس تعجب & دہشت اور اچھنبے کو ظاہر کیا گیا جو مشرکین کے سرداروں پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت طاری ہوگیا تھا۔ ان کو یہ بات بہت ہی انوکھی گگی کہ یہ شخص ایک خدا کا قائل ہے اور باقی تمام الہوں کو اس نے ختم کردیا ہے۔ پھر وہ اس بات پر بھی متعجب تھے کہ اس پر وحی آتی ہے اور وہ اللہ کا فرستادہ بن گیا ہے۔ وعجبوآ ان۔۔۔۔ من بیننا (38: 4 تا 8) ” ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ایک ڈرانے والاخود انہی میں سے آگیا ۔ منکرین کہنے لگے کہ یہ ساحر ہے سخت جھوٹا ہے & کیا اس نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے اور سردار ان قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں کی عبادت پر ۔ یہ بات تو کسی اور ہی عرض کے لیے کہی جارہی ہے۔ یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی ۔ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات۔ کیا ہمارے درمیان بس ایک ہی شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کردیا گیا “۔ نیز جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس بات سے ڈریا کہ تمہاری تکذیب کی وجہ سے تم پر عذاب نازل ہوجائے گا تو انہوں نے مذاق کرتے ہوئے دعا کی۔ وقالو۔۔۔ الحساب (38: 16) ” یہ کہتے ہیں اے ہمارے رب & یوم الحساب ہمارا حصہ ہمیں جلدی سے دے دے “۔ ان لوگوں نے اس بات کو ناقابل تصور سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک شخص پر ذکر نازل کردے اور پھر یہ شخص محمد ابن عبداللہ ہو & جو کوئی رئیس نہ تھا اور نہ اس کی سابقہ ریاست تھی۔ نہ وہ علاقے کا حکمران تھا۔ چناچہ ان کے اس تعجب کے سبب ہی سے اس کا یہ قول نقل کیا کہ ہم میں سے اسی پر یہ ذکر ہونا تھا۔ اس پر اللہ نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ عزیر اور وہاب کے خزانوں کی چابیاں ان کے پاس ہیں یا زمین آسمانوں اور ان کے درمیان کی حکومت ان کے پاس ہے۔ ام عند۔۔۔۔۔ اسباب (38: 9 تا 10) ” کیا تیرے داتا اور غالب پروردگار کی رحمت کے خزانے ان کے قبضے میں ہیں ؟ کیا یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں ۔ اچھا یہ عالم اسباب کی بلندیوں پر چڑھ دیکھیں “۔ اللہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ اس کی رحمت کو کوئی چیز روک نہیں سکتی ۔ اپنی رحمت کے دروازے وہ جس پر چاہتا ہے & کھول دیتا ہے ۔ زمین اور آسمان اور ان کی درمیان کی چیزوں کے مالک وہ نہیں ہیں ۔ لہذا یہ خزانے اللہ جسے چاہے دے دے ۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے مختار بنادے ۔ کیونکہ وہی جانتا ہے کہ کسی منصب کا مستحق کون ہے وہ اپنے بندوں پر بےقید اور بےحساب انعامات کرسکتا ہے ۔ چناچہ اس نکتے کو ثابت کرنے کے لیے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کے قصے لائے گئے کہ اللہ نے انہیں نبوت ، حکومت ، پہاڑوں کی تسخیر ، پرندوں کی تسخیر جنوں اور ہواؤں کی تسخیر کی قوت دی اور زمین کے خزانوں کو تو شمار ہی نہ تھا۔ اور دنیا کا ساز و سامان اور زیب وزینت تو بےانتہا تھی۔ کیا داؤد وسلیمان ان سب انعامات کے باوجود انسان نہ تھے ۔ کیا ان کے اندر بشری کمزوریاں نہ تھیں۔ کیا وہ ہر رحمت خدا وندی کے محتاج نہ تھے ۔ کیا ان جیسے طاقتور نبیوں اور بادشاہوں کی امداد اللہ نے قدم قدم پر نہ کی تھی ۔ کیا ان کی غلطی پر توبہ قبول نہ کی تھی اور راہ صواب کی طرف ان کی راہنمائی نہ کی تھی۔ ان قصص کے ساتھ ساتھ پیغمبر اسلام کو ہدایت کی گئی کہ آپ ان مکذبین کی ایذا رسانیوں پر صبر کریں اور اللہ کے فضل کے امیدوار رہیں ۔ اللہ آپ کا نگہبان ہے۔ اصبرعلیٰ ۔۔۔۔ اواب (38: 18) ” اے نبی صبر کرو ان باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں اور ان کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کرو جو بڑی قوتوں کا مالک تھا۔ اور ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا “۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ اس مقصد کے لیے لایا گیا کہ اللہ اپنے مخلص ترین بندوں کو ابتلاؤں آزماتا ہے۔ لہذا دعوت اسلامی کے کارکنوں کو اس طرح صبر کرنا چاہئے جس طرح ایوب (علیہ السلام) نے صبر کیا ۔ یہ قصہ نیک لوگوں کے حسن انجام کی تصویر ہے۔ نیکوں پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ وہ رحمت میں ڈوب جاتے ہیں ۔ قدرت اپنے رحیمانہ ہاتھوں سے ان پر شفقت کا ہاتھ پھیرتی ہے۔ اس دور میں رسول اللہ اور اہل ایمان مکہ میں بےحد مصائب برداشت کررہے تھے۔ ان کو یہ اشارہ دیا جارہا ہے کہ ان مشکلات کے بعد رحمتوں کا فیضان ہوگا۔ اور اللہ کے خزانوں کے منہ کھل جائیں گے۔ یہ قصص سورت کے ایک بڑے حصے پر پھیلے ہوئے ہیں ۔ اور سورت کا سبق 2 انہی پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ عذاب کے نازل ہونے میں بہت جلدی کرتے تھے وہ کہتے تھے : وقالواربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب (38: 16) ” اے ہمارے رب & یوم الحساب سے پہلے ہمارا حصہ ہمیں جلدی سے دے دے “۔ چناچہ ان قصص کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر یہاں لایا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ متعین کا انتظار کیا انعامات کررہے ہیں اور یہ کہ جہنم کس شان سے مکذبین کا انتظار کر رہی ہے۔ قیامت کے اس منظر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ حقیقی قدریں کیا ہیں جن کی وہاں اہمیت ہے۔ یہ سردار ہاں اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ اور دنیا میں جن فقراء اور مساکین کے ساتھ وہ مذاق کرتے تھے اور ان کو اس بات کا اہل نہ سمجھتے تھے کہ یہ بھی اللہ کی رحمتوں اور خزانوں کے حق دار ہوجائیں۔ یہاں معلوم ہوگا کہ یہ سردار امراء نہیں اور یہ فقراء & فقراء نہیں ۔ یہاں ان کا انجام یہ ہوگا۔ جنت عندن۔۔۔۔ اتراب (38: 50 تا 52) ” ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ خوب خوب خوارک اور مشروب طلب کررہے ہوں گے اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن بیویاں ہوں گی “۔ اور جو سرکش ہیں ان کا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ جھنم یصلونھا۔۔۔۔ ازواج (38: 56 تا 57) ” جہنم جس میں وہ جھلسے جائیں گے۔ بہت ہی بری قیام گاہ یہ ہے ان کے لیے ۔ پس وہ مزہ چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ & لہو اور اس قسم کی دوسری تلخیوں کا “۔ یہ لوگ جہنم میں ایک دوسرے کو لعنت وملامت کریں گے۔ باہم جھگڑیں گے اور یہ بات یاد کریں گے کہ وہ تو مومنین کو حقیر سمجھ کر ان سے مذاق کرتے تھے۔ وقالواما۔۔۔۔ ابصار (38: 62 تا 63) ” وہ آپس میں کہیں گے کیا بات ہے ہم ان لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جن کو ہم نے دنیا میں برا سمجھتے تھے۔ ہم نے یونہی ان کا مذاق بنالیا تھا یا کہیں وہ نظروں سے اوجھل ہیں “۔ یہ لوگ ان مومنین کو جہنم پائیں گے اور یہ بات تو معلوم ہے کہ وہ جنت میں ہیں۔ لہذا یہ ہے جواب ان کے اس مطالبے کا اور مذاق کا۔ یہ منظر اس سورت کا تیسرا سبق ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جن کفار کو علوم وحی سناتے وہ تکذیب کرتے ہوئے ان باتوں کو انہونی سمجھتے ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا قصہ سنا کر ان کو بتایا جاتا ہے کہ دیکھو یہ قصص بذریعہ وحی آرہے ہیں ورنہ وہاں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو موجود نہ تھے ۔ یہ خبریں ان کو اللہ بتاتا ہے۔ وہاں آزم (علیہ السلام) کے سوا کوئی اور تو موجود ہی نہ تھا۔ دوران قصہ بتایا جاتا ہے کہ ابلیس کو جس امر نے ہلاکت میں ڈالا وہ صرف یہ تھا کہ اسے حضرت آدم کے ساتھ ضد ہوگئی تھی۔ اور اس نے اس بات کو ناپسند کیا کہ اللہ نے اس کے مقابلے میں آدم (علیہ السلام) کو کیوں ترجیح دی۔ جس طرح اہل مکہ یہ کہتے تھے کہ بس یہی رہ گیا ہمارے میں سے نبی بننے کے لیے۔ اشارہ یہ مطلوب ہے کہ ان کے موقف اور ابلس کے موقف میں پوری پوری یگانگت ہے۔ لہذا جس طرح وہ زاندۂ درگاہ ہوا یہ بھی ہوں گے۔ اس سورت کا خاتمہ سبق چہارم پر ہوتا ہے۔ اس میں حضور ان لوگوں سے خطاب کررہے ہیں کہ آپ جو دعوت دے رہے ہیں وہ خود اپنی جانب سے نہیں دے رہے ہیں۔ اور نہ آپ اس پر ان سے کوئی اجرت طلب کرتے ہیں اور یہ کہ اس دعوت کے بہت ہی عظیم نتائج نکلنے والے ہیں۔ قل مآ۔۔۔ بعد حین (38: 86 تا 88) ” اے نبی ان سے کہہ دو کہ میں اس تبلغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں ہوں۔ یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لیے اور تھوڑی مدت ہی گزرے گی کہ تمہیں اس کا حال خود معلوم ہوجائے گا “۔ یہ چاروں سبق اس سورت کے موضوعات کو اس طرح آگے بڑھاتے ہیں کہ انسان کے دل و دماغ کو تاریخ کے ان اقوام کی سیر کراتے ہیں جنہوں نے زمین پر بڑائی حاصل کی & جباری وقہاری کا رویہ اختیار کیا اور رسولوں اور مومنین پر وست درازیاں کیں۔ لیکن ان کا انجام تباہی و بربادی اور مکمل ہلاکت کی صورت میں سامنے آیا۔ جند ما۔۔۔۔ فحق عقاب (38: 11 تا 14) ” یہ تو جتھوں میں سے ایک چھوٹا جتھہ ہے جو اسی جگہ شکست کھانے والا ہے۔ ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون اور ثمود اور قوم لوط اور ایکہ والے جھٹلاچکے ہیں۔ جتھے وہ تھے ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور میری عقوبت کا فیصلہ ان پر چسپاں ہوا “۔ چناچہ انسانی فکر کے سامنے اقوام کی تاریخی ہلاکتیں & بربادیاں اور تمام سرکشوں کی بربادیاں پیش کرکے اس کے مقابلے میں اللہ کے سچے بندوں اور اللہ کی کامیابیاں بھی بیان کی جاتی ہیں۔ عزت & اقتدار اعلیٰ اور اللہ کی رحمت اور شفقت ان کے شامل حال رہتی ہے۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے قصص کی صورت میں رسولوں اور اللہ کے بندوں کی کامیابیاں بھی بیان کی جاتی ہیں۔ یہ کامیابیاں تو زمین پر ہیں۔ اس کے بعد کچھ مناظر قیامت کی کامرانیوں کے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ نعمتیں اور اللہ کی رضامندیاں ۔ دوسری جانب جہنم اور اللہ کا غضب مکذبین کے لیے ۔ اس دارفناء کے بعد دار بقا میں دونوں فریقوں کے حال واحوال بھی ان اسباق میں پیش کیے گئے ہیں۔ آخری سبق قصہ انسانیت ہے۔ کس طرح شیطان نے حسد اور بغض کی وجہ سے انسانیت کے خلاف سازش کی۔ آج بھی یہی شیطان درحقیقت مکذبین کی نکیل تھامے ہوئے ہے مگر وہ غافل ہیں۔ ان اسباق کے دوران انسانی احساس کو چکا کر بتایا جاتا ہے کہ زمین و آسمان کے اندر دراصل ایک حقیقی سچائی کام کر رہی ہے۔ یہ ایک سچے نظام پر قائم ہیں ۔ اس طرح رسول بھی ایک سچائی لے کر آئے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں سچائیاں ایک ہیں ۔ نہ انسان بےمقصد ہے اور نہ یہ کائنات بےمقصد ہے۔ وماخلقنا۔۔۔۔ باطلا (38: 28) ” ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان پائی جانے والی چیزوں کو فضول پیدا نہیں کردیا “۔ قرآن کریم میں ایسے اشارات موجود ہیں اور یہ وہ اصل نظریہ ہے جس پر یہ کائنات اور یہ شریعت قائم ہے اور تمام مکی قرآن میں اس حقیقت کی طرف بار بار اشارہ کیا گیا ہے۔ اب تفصیلات اور تشریحات۔