| Perfect Tense | Imperfect Tense | Imperative | Active Participle | Passive Participle | Noun Form |
--- |
--- |
--- |
--- |
--- |
--- |
اَلرُّخائُ: لنیت یعنی نرمی کو کہتے ہیں او ریہ شَیْئٌ رِخْوٌ سے ماخوذ ہے جس کے معنٰی نرم چیز کے ہیں اور باب رَخِی یَرْخیٰ بروزن عَلِمَ ہے۔ قرآن پاک میں ہے: (فَسَخَّرۡنَا لَہُ الرِّیۡحَ تَجۡرِیۡ بِاَمۡرِہٖ رُخَآءً حَیۡثُ اَصَابَ ) (۳۸:۳۶) تو ہم نے ہوا کو ان کا تابع کردیا کہ جہاں پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف وہ نرمی سے چلتی۔ اور اسی سے اَرْخیْتُ السِّتْرَ کا محاورہ لیا گیا ہے۔ جس کے معنٰی پردہ لٹکانے کے ہیں پھر اِرْخائف السِّتْرِ سے بطور استعارہ اِرْخائُ سَرْحَان بولا جاتا ہے جس کے معنٰی بھیڑئیے کی تیزی کے ہیں۔ اور ذؤیب نے کہا ہے: (1) (الکامل) (۱۷۸) ’’فَھِی رِخْوٌ تَمْزَع‘‘ اور وہ ہوا کی طرح تیز اور نرم رفتار ہے۔ فَرِسٌ مِرْخاء: تیز گھوڑی۔ خیل مراخ تیز رو گھورے۔ ارَیْتُہ: میں نے اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دی کہ تیز رفتاری سے چلے۔
Surah:38Verse:36 |
نرمی سے
gently
|