Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 40

سورة ص

وَ اِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰی وَ حُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿۴۰﴾٪  12

And indeed, for him is nearness to Us and a good place of return.

ان کے لئے ہمارے پاس بڑا تقرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return. meaning, in this world and the Hereafter.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

40۔ 1 یعنی دنیاوی جاہ و مرتبت عطا کرنے کے باوجود آخرت میں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو قرب خاص اور مقام خاص حاصل ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٦] یعنی ان کی سلطنت اور فرمانروائی ہماری عبادت گزاری کے آڑے نہ آسکی۔ شاہی میں فقیرانہ زندگی بسر کرنا بھی ایک بڑی آزمائش ہے جس میں وہ پورے اترے لہذا اللہ نے انہیں مقربین میں شامل کرلیا اور بلند درجات عطا فرمائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ : یعنی دنیوی بادشاہی کے علاوہ اسے ہمارے ہاں خاص قرب حاصل ہے اور ان کے لیے آخرت کا بہترین ٹھکانا یعنی سب سے بلند مقام جنت الفردوس تیار ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ۝ ٤٠ۧ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ زلف الزُّلْفَةُ : المنزلة والحظوة «2» ، وقوله تعالی: فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] وقیل لمنازل اللیل : زُلَفٌ قال : وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] ( ز ل ف ) الزلفۃ اس کے معنی قریب اور مرتبہ کے ہیں چناچہ آیت : ۔ فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] سو جب وہ قریب دیکھیں گے ۔ اور منازل لیل یعنی رات کے حصوں کو بھی زلف کہا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] اور رات کے کچھ حصوں میں۔ حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ أوب الأَوْبُ : ضرب من الرجوع، وذلک أنّ الأوب لا يقال إلا في الحیوان الذي له إرادة، والرجوع يقال فيه وفي غيره، يقال : آب أَوْباً وإِيَاباً ومَآباً. قال اللہ تعالی: إِنَّ إِلَيْنا إِيابَهُمْ [ الغاشية/ 25] وقال : فَمَنْ شاءَ اتَّخَذَ إِلى رَبِّهِ مَآباً [ النبأ/ 39] ، والمآب : المصدر منه واسم الزمان والمکان . قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ [ آل عمران/ 14] ، ( او ب ) الاوب ۔ گو اس کے معنی رجوع ہونا کے ہیں لیکن رجوع کا لفظ عام ہے جو حیوان اور غیر حیوان دونوں کے لوٹنے پر بولا جاتا ہے ۔ مگر اواب کا لفظ خاص کر حیوان کے ارادہ لوٹنے پر بولا جاتا ہے ۔ اب اوبا ویابا ومآبا وہ لوٹ آیا قرآن میں ہے ۔ { إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ } ( سورة الغاشية 25) بیشک ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ { فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ مَآبًا } ( سورة النبأ 39) اپس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانا بنائے ۔ المآب۔ یہ مصدر ( میمی ) ہے اور اسم زمان اور مکان بھی ۔ قرآن میں ہے :۔ { وَاللهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ } ( سورة آل عمران 14) اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ان کے لیے ہماری یہاں خاص قرب اور آخرت میں اعلی درجہ کی نیک انجامی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٠ { وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ } ” اور اس کے لیے ہمارے پاس مقام قرب بھی ہے اور بہت عمدہ ٹھکانہ بھی۔ “ جب وہ (علیہ السلام) لوٹ کر ہمارے پاس آئے گا تو اسے مقام قرب ‘ بہت بلند مراتب اور بڑے بڑے انعامات سے نوازا جائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40 Here, the object is to tell that just as a servant's arrogance causes Allah's displeasure and wrath, so does his humility earns Allah's pleasure and approval for him. If a servant commits an error and becomes even more arrogant when warned, he is led to the same fate as is being mentioned in connection with the story of Adam and Satan below. Contrary to this, if a servant happens to commit an error and he repents and bows down before his Lord humbly, he is blessed with such bounties as the Prophets David and Solomon were blessed with. The prayer that Solomon had made after seeking Allah's forgiveness, was literally fulfilled and Allah actually granted him a kingdom as had neither been granted to anyone before him nor bestowed on anyone after him. Having control over the winds and the jinns is an extraordinary power, which has been granted only to the Prophet Solomon and to none else in human history.

سورة صٓ حاشیہ نمبر :40 اس ذکر سے اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بندے کی اکڑ جتنی مبغوض ہے ، اس کی عاجزی کی ادا اتنی ہی محبوب ہے ۔ بندہ اگر قصور کرے اور تنبیہ کرنے پر الٹا اور زیادہ اکڑ جائے تو انجام وہ ہوتا ہے جو آگے آدم و ابلیس کے قصے میں بیان ہو رہا ہے ۔ اس کے برعکس ذرا لغزش بھی اگر بندے سے ہو جائے اور وہ توبہ کر کے عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھک جائے تو اس پر وہ نوازشات فرمائی جاتی ہیں جو داؤد و سلیمان علیہما السلام پر فرمائی گئیں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے استغفار کے بعد جو دعا کی تھی ، اللہ تعالیٰ نے اسے لفظ بلفظ پورا کیا اور ان کو فی الواقع ایسی بادشاہی دی جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی تھی ، نہ ان کے بعد آج تک کسی کو عطا کی گئی ۔ ہواؤں پر تصرُّف اور جِنوں پر حکمرانی ایک ایسی غیر معمولی طاقت ہے جو انسانی تاریخ میں صرف حضرت سلیمان ہی کو بخشی گئی ہے ، کوئی دوسرا اس میں ان کا شریک نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:40) وان لہ : ای وان مع ذلک المال والملک یعنی اس ملک اور سلطنت اور ان میں بہمہ نوع اختیارات تصرف دینے کے علاوہ ان کو بارگاہ الٰہی میں قرب اور حسن مآب (جنت کی خوشخبری) ہے۔ زلفی وحسن ماب۔ ملاحظہ ہو 38:25 ۔ متذکرہ بالا۔ واذکر ۔۔ کا عطف واذکر عبدنا داؤد پر (آیۃ : 17) پر ہے۔ عبدنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا بندہ۔ منصوب بوجہ مفعول اذکر۔ ایوب : عبدنا کا عطف بیان ہے یا اس کا بدل ہے۔ اذ نادی ربہ : عبدنا یا ایوب کا بدل اشتمال ہے۔ جب اس نے اپنے رب کو پکارا۔ انی : ای بانی۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ی ضمیر واحد متکلم ۔ کہ بیشک میں ۔ مسنی۔ مس ماضی واحد مذکر غائب مس باب نصر سے۔ ن وقایہ ی ضمیر متکلم مفعول۔ اس نے مجھے پہنچائی۔ نصب۔ اسم۔ مضرت۔ تکلیف۔ دکھ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ قصہ جہاد میں صبر یہ ہوا کہ اتنے مال کثیر کی کچھ پروا نہ کی، یہ غایت ثبات فی الدین کی کہ حقیقت صبر کی یہی دلیل ہے، اور قصہ جسد میں توبہ کرنا باوجودیکہ یہ معصیت نہ تھی نیز دلیل ہے غایب ثبات فی الدین کی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وان له عندنا لزلفٰی وحسن ماٰب (38: 40) ” یقیناً اس کے لیے ہمارے ہاں تقریب کا مقام اور بہتر انجام ہے “۔ یہ ایک نہایت ہی عظیم مقام و مرتبہ ہے جو حضرت سلیمان کو دیا گیا۔ نہایت ہی فضل وکرم اور رضامندی اور بخشش اور مہربانیاں۔ حضرت سلیمان کے بعد اب حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ ابتلا آتا ہے اور اس کے بعد ان پر اللہ کا فضل وکرم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے لیے امید پیدا کی جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(40) اور یقینا ہمارے ہاں سلیمان کے لئے خاص قرب اور بڑی اچھی باز گشت ہے۔ یعنی یہ سب طاقتیں اور زروجواہر دے کر فرمایا کہ یہ سب کچھ ہمارا عطیہ ہے چاہے کسی کو دو یا نہ دو تم سے کوئی مواخذہ اور تم پر کوئی داروگیر نہیں۔ یعنی ہر قسم کے تصرف کا تجھ کو اختیار ہے تو محض خازن اور حارس نہیں ہے یا بغیر حساب عطائونا کے متعلق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ دیا ہے وہ بےحساب ہے نہ کوئی شمار کرسکتا ہے اور نہ گھیر سکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جنات کا مسخرا کرنا ہماری بخشش ہے اب تو چاہے جس پر احسان کر اور چھوڑ دے اور جس کو چاہے قیدرکھ اور اس سے کام لے۔ آگے ان کے خصوصی قرب اور اچھی بازگشت کا ذکر فرمایا جیسے اوپر حضرت دائود کے لئے فرمایا تھا حسن مآب سے یہاں جنت مراد ہے ۔ تنبیہ حضرت دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے متعلق بعض حضرات نے بہت سے رطب و یا بس قصے نقل کئے ہیں جو صحت سے دور ہیں ہم نے ان سب کو نظر انداز کردیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ اور مہربانی کہ اقی دنیاوی اور مختار کردیا حساب معاف کر کر لیکن وہ کھاتے تھے اپنے ہاتھ کی محنت سے ٹوکری بنا کر۔ آگے پیغمبروں کا ذکر فرمایا چونکہ ابتداء میں بطور تسلی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمایا تھا۔ اصبر علی ما یقولون اسی سلسلے میں حضرت ایوب کا ذکر فرمایا۔