Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 6

سورة ص

وَ انۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡہُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَ اصۡبِرُوۡا عَلٰۤی اٰلِہَتِکُمۡ ۚ ۖ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ یُّرَادُ ۖ﴿ۚ۶﴾

And the eminent among them went forth, [saying], "Continue, and be patient over [the defense of] your gods. Indeed, this is a thing intended.

ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَانطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ ... "Has he made the gods into One God Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about, meaning the chiefs and masters and nobles, ... أَنِ امْشُوا ... (saying): "Go on..." meaning, `persist in your religion,' ... وَاصْبِرُوا عَلَى الِهَتِكُمْ ... and remain constant to your gods! meaning, `do not respond to Muhammad's call to Tawhid.' ... إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ Verily, this is a thing designed! Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond to him." The Reason for the Revelation of These Ayat Abu Jafar bin Jarir recorded that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, `Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that?' So he sent for the Prophet and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if (the Prophet) were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, `O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such?' They made so many complaints against him. Thereupon, he said, يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُوَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَة O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them. They were worried about what he said, so they said, `One word Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it?' Abu Talib said, `What word is it?, O son of my brother' He said, لاَا إِلَهَ إِلاَّ الله La ilaha illallah. They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying, أَجَعَلَ الاْلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing! Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah: ... بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ (...Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 یعنی اپنے دین پر جمے رہو اور بتوں کی پوجا کرتے رہو، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات پر کان مت دھرو ! 6۔ 2 یعنی یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے چھڑا کر دراصل اپنے پیچھے لگانا اور اپنی قیادت منوانا چاہتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] سمجھوتہ کے لئے ایک ٢٥ رکنی وفد کا ابو طالب کے پاس آنا :۔ ان آیات کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ ١٠ نبوی میں ابو طالب بیمار پڑگئے (اسی مرض سے ان کی وفات ہوئی اور اس سال ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کا انتقال ہوا تھا لہذا اس سال کو عام الحزن کہا جاتا تھا۔ کیونکہ اس سال رسول اللہ کو یہ دونوں بھاری صدمے پہنچے تھے) اس وقت ابو طالب کی عمر ٨٠ برس کی ہوچکی تھی نیز رسول اللہ کی حمایت میں انہوں نے جو مصائب، اور شعب ابی طالب میں جو فاقے جھیلے تھے انہوں نے ابو طالب کو بہت کمزور کردیا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب ان کی زندگی کے دن گنے جاچکے ہیں۔ سرداران قریش کو خیال آیا کہ اگر ابو طالب کے مرنے کے بعد ہم نے اس کے بھتیجے محمد پر زیادتی کی تو سارا عرب یہ طعنہ دے گا کہ چچا کے جیتے جی تو ان سے کچھ بن نہ پڑا اب اس کے مرنے کے بعد اسے دبانے لگے ہیں۔ لہذا ابو طالب کی زندگی میں ہی سمجھوتہ کی غرض سے سرداران قریش کا ایک ٢٥ رکنی وفد ابو طالب کے پاس آیا اور کہا کہ && ذرا اپنے بھتیجے کو بلاؤ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس کے مذہب میں مداخلت نہیں کرتے وہ اپنے مذہب کے مطابق جیسے چاہے عبادت کرے۔ لیکن یہ لوگ ہمارے مذہب میں مداخلت نہ کریں۔ نہ ہمارے معبودوں اور بزرگوں کو برا بھلا کہیں۔ وہ ہمیں ہمارے دین پر چھوڑ دیں اور ہم انہیں ان کے دین پر چھوڑ دیں && چناچہ ابو طالب نے آپ کو بلایا۔ اس وقت ابو طالب کے قریب ایک آدمی کی جگہ خالی تھی۔ ابو جہل فورا اٹھ کر وہاں جا بیٹھا تاکہ آپ اس کے قریب نہ بیٹھ سکیں۔ خیر جب آپ پرے ہٹ کر بیٹھ گئے تو ابو طالب نے کہا : && یہ تمہاری قوم کے معزز لوگ ہیں اور اس قسم کی بات پر سمجھوتہ اور عہد و پیمان کرنے آئے ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے ؟ && آپ کا جواب ایک اللہ کی عبادت کرو عرب وعجم کے مالک بن جاؤ گے : آپ نے جواب میں فرمایا : && کیا میں انہیں ایسی بات نہ بتاؤں کہ اگر وہ اسے مان لیں تو سارا عرب ان کے تابع فرمان ہوجائے اور عجم پر ان کی بادشاہت قائم ہوجائے اور وہ انہیں جزیہ ادا کریں ؟ && یہ سن کر ابو جہل کہنے لگا : تمہارے باپ کی قسم ! ایسی ایک بات کیا، دس باتیں بھی پیش کرو تو ہم ماننے کو تیار ہیں && آپ نے کہا : && تم لوگ لا الٰہ الا اللّٰہ کہو اور اللہ کے سوا جن جن کو پوجتے ہو انہیں چھوڑ دو && اس بات پر ان سب نے ہاتھ پیٹ پیٹ کر کہا : محمد ! سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا ! یہ تو بڑی عجیب بات ہے && پھر آپس میں کہنے لگے : اٹھو یہاں سے اور اپنے آباء کے دین پر ڈٹ جاؤ۔ یہ شخص تمہاری کوئی بات ماننے کو تیار نہ ہوگا۔ اسی موقع پر اس سورة کی ابتدائی سات آیات نازل ہوئیں (ابن ہشام) ١: ٤١٧ تا ٤١٩) اسی واقعہ کو امام ترمذی نے مختصراً یوں روایت کیا ہے : && ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو طالب بیمار ہوئے تو قریش اس کے پاس آئے اور نبی اکرم بھی ان کے پاس آئے اور ابو طالب کے پاس ایک ہی آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ ابو جہل اٹھا کہ آپ کو وہاں بیٹھنے سے روک دے۔ پھر ان لوگوں نے ابو طالب سے آپ کے متعلق شکایت کی۔ ابو طالب آپ سے کہنے لگے : && بھتیجے ! تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو ؟ && آپ نے فرمایا : && صرف ایک کلمہ : اگر وہ اسے قبول کرلیں تو عرب کے حاکم بن جائیں اور عجم سے جزیہ لیں && ابو طالب نے کہا : && صرف ایک کلمہ ؟ && آپ نے فرمایا : ہاں صرف ایک کلمہ && پھر فرمایا : && چچا جان ! آپ لوگ یہ تسلیم کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں && قریشی کہنے لگے : && کیا ہم صرف ایک ہی خدا کی عبادت کریں (باقی سب چھوڑ دیں) یہ تو بڑی عجیب بات ہے ہم نے زمانہ قریب کے دین میں تو یہ بات کبھی سنی ہی نہیں۔ یہ تو محض من گھڑت بات ہے && انہیں لوگوں کے حق میں یہ آیات نازل ہوئیں && (ترمذی۔ کتاب التفسیر) عرب میں قبیلے قبیلے کا جدا جدا بت تھا۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ہر قبیلے کا بت اس قبیلے کے لوگوں کی مشکلات کو دور کرتا اور ان کی حاجات پوری کرتا ہے۔ اور بڑا خدا یا رب العالمین صرف ان کی نگرانی کر رہا ہے۔ لہذا انہیں یہ بات دور از قیاس بلکہ محال معلوم ہوتی تھی کہ ایک ہی پروردگار تمام جہان کے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرے۔ [٦] قریش کا خیال کہ یہ نبی اقتدار چاہتا ہے :۔ یعنی اس دعوت میں ضرور کچھ کالا ہے اس نبی کی اصل غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ اکیلے خدا کا نام لے کر ہم سب کو اپنا تابع اور محکوم بنا لے اور اپنی حکومت قائم کرے۔ ہم بھلا اس کی یہ بات چلنے دیں گے ؟ ہم تو یہ بات کسی قیمت پر قبول نہیں کرسکتے۔ بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ محمد جس عزم و استقلال کے ساتھ اپنی دعوت پیش کر رہے ہیں معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ کسی طرح اس سے ہٹنے والے نہیں اور ایسا انقلاب آبھی سکتا ہے لہذا جہاں تک ہوسکے اپنے آبائی دین کی حفاظت پر ڈٹ جاؤ۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ : ” الْمَلَاُ “ کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (٢٤٦) یعنی کفار کے سرکردہ اور بڑے لوگ توحید کی دعوت سن کر آپ کی مجلس سے یہ کہہ کر چل کھڑے ہوئے کہ اپنے دین اور طریقے پر چلتے رہو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، جیسا کہ قوم نوح نے کہا تھا : (لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ڏ وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا) [ نوح : ٢٣ ] ” تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی وَدّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔ “ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو باطل اور شرک پر ڈٹے رہنے کی اتنی تاکید کر رہے ہیں، اہل حق کو تو اس سے زیادہ حق پر قائم رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کو قائم رہنے کی تاکید کرنی چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَالْعَصْرِ ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ ۔ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بالْحَقِّ ڏ وَتَوَاصَوْا بالصَّبْرِ ) [ العصر : ١ تا ٣ ] ” زمانے کی قسم ! کہ بیشک ہر انساناً گھاٹے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔ “ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ : یعنی اس نے ہمارے سامنے جو کلمہ توحید پیش کیا ہے یہ ایسی چیز ہے جس کے اعلان کا اور اسے ہر حال میں نافذ کرنے کا ارادہ کیا جا چکا ہے، اب اسے اس سے باز رکھنے کی کوئی صورت نہیں، اس لیے اسے اس کے حال پر چھوڑو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 6, it was said: وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُ‌وا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ (And the leaders among them went forth saying (to their followers),|" Walk away (from the Prophet) and stay firm on (adhering to) your gods - 12). This is pointing out to the event mentioned above that, once they heard the call to pure monotheism (tauhid), they left the meeting.

(آیت) وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ الخ (اور ان کفار کے رئیس یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ الخ) اس سے مذکورہ واقعہ ہی کی طرف اشارہ ہے کہ توحید کی دعوت سن کر وہ مجلس سے چل کھڑے ہوئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓي اٰلِـہَتِكُمْ۝ ٠ۚۖ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ۝ ٦ۖۚ طلق أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ المرأةَ ، نحو : خلّيتها فهي طَالِقٌ ، أي : مُخَلَّاةٌ عن حبالة النّكاح . قال تعالی: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] ، الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] ، وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ [ البقرة/ 228] ، فهذا عامّ في الرّجعيّة وغیر الرّجعيّة، وقوله : وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ [ البقرة/ 228] ، خاصّ في الرّجعيّة، وقوله : فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ [ البقرة/ 230] ، أي : بعد البین، فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا [ البقرة/ 230] ، يعني الزّوج الثّاني . وَانْطَلَقَ فلانٌ: إذا مرّ متخلّفا، وقال تعالی: فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخافَتُونَ [ القلم/ 23] ، انْطَلِقُوا إِلى ما كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ [ المرسلات/ 29] ، وقیل للحلال : طَلْقٌ ، أي : مُطْلَقٌ لا حَظْرَ عليه، وعدا الفرس طَلْقاً أو طَلْقَيْنِ اعتبارا بتخلية سبیله . والمُطْلَقُ في الأحكام : ما لا يقع منه استثناء «2» ، وطَلَقَ يَدَهُ ، وأَطْلَقَهَا عبارةٌ عن الجود، وطَلْقُ الوجهِ ، وطَلِيقُ الوجهِ : إذا لم يكن کالحا، وطَلَّقَ السّليمُ : خَلَّاهُ الوجعُ ، قال الشاعر : 302- تُطَلِّقُهُ طوراً وطورا تراجع«3» ولیلة طَلْقَةٌ: لتخلية الإبل للماء، وقد أَطْلَقَهَا . ( ط ل ق ) ا لطلاق دراصل اس کے معنی کسی بندھن سے آزاد کرنا کے ہیں ۔ محاورہ الطلقت البعر من عقالہ وطلقۃ میں نے اونٹ کا پائے بند کھول دیا طالق وطلق وہ اونٹ جو مقید نہ ہو اسی سے خلی تھا کی طرح طلقت المرءۃ کا محاورہ مستعار ہے یعنی میں نے اپنی عورت کو نکاح کے بندھن سے آزادکر دیا ایسی عورت کو طائق کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو ۔ الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] طلاق صرف دو بار ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ [ البقرة/ 228] اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنے تئیں روکے کے رہیں ۔ میں طلاق کا لفظ عام ہے جو رجعی اور غیر رجعی دونوں کو شامل ہے ۔ لیکن آیت کریمہ : ۔ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ [ البقرة/ 228] اور ان کے خاوند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں ۔ میں واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہونے کا حکم رجعی طلاق کے ساتھ مخصوص ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ [ البقرة/ 230] پھر اگر شوہر ( دو طلاقوں کے بعد تیسری ) طلاق عورت کو دے دے تو ۔۔۔۔ اس پہلے شوہر پر حلال نہ ہوگی ۔ میں من بعد کے یہ معنی ہیں کہ اگر بینونت یعنی عدت گزرجانے کے بعد تیسری طلاق دے ۔ تو اس کے لئے حلال نہ ہوگی تا و قتیلہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا [ البقرة/ 230] میں طلقھا کے معنی یہ ہیں کہ اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے وہ پہلے خاوند کے نکاح میں آنا چاہیئے کے تو ان کے دوبارہ نکاح کرلینے میں کچھ گناہ نہیں ہے ۔ انطلق فلان کے معنی چل پڑنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخافَتُونَ ، [ القلم/ 23] تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے : ۔ انْطَلِقُوا إِلى ما كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ [ المرسلات/ 29] جس چیز کو تم جھٹلا یا کرتے تھے اب اسکی طرف چلو ۔ اور حلال چیز کو طلق کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے کھالینے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہوتی ۔ عد الفرس طلقا اوطلقین گھوڑے نے آزادی سے ایک دو دوڑیں لگائیں اور فقہ کی اصطلاحی میں مطلق اس حکم کو کہا جاتا ہے جس سے کوئی جزئی مخصوص نہ کی گئی ہو ۔ طلق یدہ واطلقھا اس نے اپنا ہاتھ کھول دیا ۔ طلق الوجہ اوطلیق الوجہ خندہ رو ۔ ہنس مکھ ، طلق السلیم ( مجہول ) مار گزیدہ کا صحت یاب ہونا ۔ شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) تطلقہ طورا وطور الرجع کہ وہ کبھی در د سے آرام پالیتا ہے اور کبھی وہ دور دوبارہ لوٹ آتا ہے لیلۃ طلحۃ وہ رات جس میں اونٹوں کو پانی پر وارد ہونے کے لئے آزاد دیا جائے کہ وہ گھاس کھاتے ہوئے اپنی مرضی سے چلے جائیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ الطلق الابل یعنی اس نے پانی پر وار ہونے کے لئے اونٹوں کو آزاد چھوڑدیا ۔ ملأ المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ، وقالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ [ الأعراف/ 60] ، إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ [ القصص/ 20] ، قالَتْ يا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتابٌ كَرِيمٌ [ النمل/ 29] ، وغیر ذلک من الآیات . يقال : فلان مِلْءُ العیونِ. أي : معظّم عند من رآه، كأنه ملأ عينه من رؤيته، ومنه : قيل شابّ مَالِئُ العینِ «3» ، والملأ : الخلق المملوء جمالا، قال الشاعر : فقلنا أحسني مَلَأً جهيناومَالَأْتُهُ : عاونته وصرت من ملئه . أي : جمعه . نحو : شایعته . أي : صرت من شيعته، ويقال : هو مَلِيءٌ بکذا . والمَلَاءَةُ : الزّكام الذي يملأ الدّماغ، يقال : مُلِئَ فلانٌ وأُمْلِئَ ، والمِلْءُ : مقدار ما يأخذه الإناء الممتلئ، يقال : أعطني ملأه ومِلْأَيْهِ وثلاثة أَمْلَائِهِ. ( م ل ء ) الملاء ( م ل ء ) الملاء ۔ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہوتونظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] نھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا ۔ وقالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ [ الأعراف/ 60] اور قوم فرعون میں جو سر دور تھے کہنے لگے ۔ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ [ القصص/ 20] کہ شہر کے رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں ۔ قالَتْ يا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتابٌ كَرِيمٌ [ النمل/ 29] وہ کہنے لگی کہ اے اہل در بار میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے ۔ ان کے علاوہ بہت سی آیات ہیں جن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ محاورہ ہے : ۔ فلان ملاء العیون یعنی سب اسے عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں گویا اس نے ان کی نظروں کو اپنے جلوہ سے بھر دیا ہے ۔ اسی سے کہا گیا ہے ۔ شاب مللی العین اپنی خوبصورتی سے آنکھ کو بھر دینے والا نوجوان ۔ الملاء اخلاق جو حسن سے بھر پور ہوں کسی شاعر نے کہا ہے ۔ ( 412 ) فقلنا احسنی ملاء جھینا تو ہم نے کہا کہ اسے چھینہ اپنے اخلاق درست کرو ۔ مالا تہ کے معنی کسی کا معاون بننے اور اس کے گردہ میں شامل ہونے کے ہیں ۔ جیسا کہ شایعتہ کے معنی کسی طرف دراوں میں داخل ہونے کے آتے ہیں ۔ محاورہ ہے : ۔ ھو ملی بکذا ینعی وہ فلاں چیز سے پر ہے ۔ الملاء زکام جو فضلہ سے دماغ کو بھر دے اور ملی فلان فلان واملا کے معنی زکام زدہ ہونے کے ہیں المل کسی چیز کی اتنی مقدار جس سے کوئی بر تن بھر جائے محاورہ ہے : ۔ اعطنی ملاءہ وملاء بہ وثلاثۃ املائہ مجھے ایک ، دو ، تین پیمانے بھر کر دو ۔ مشی المشي : الانتقال من مکان إلى مکان بإرادة . قال اللہ تعالی: كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، وقال : فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلى بَطْنِهِ [ النور/ 45] ، إلى آخر الآية . يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَامْشُوا فِي مَناكِبِها[ الملک/ 15] ، ويكنّى بالمشي عن النّميمة . قال تعالی: هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] ، ويكنّى به عن شرب المسهل، فقیل : شربت مِشْياً ومَشْواً ، والماشية : الأغنام، وقیل : امرأة ماشية : كثر أولادها . ( م ش ی ) المشی ( ج ) کے معنی ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف قصد اور ارادہ کے ساتھ منتقل ہونے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی چمکتی اور ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلى بَطْنِهِ [ النور/ 45] ان میں سے بعض ایسے ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔ فَامْشُوا فِي مَناكِبِها[ الملک/ 15] تو اس کی راہوں میں چلو پھرو ۔ اور کنایۃ مشی کا لفظ چغلی کھانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا ۔ اور کنایۃ کے طور پر مشئی کے معنی مسہل پینا بھی آتے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ شربت مشیا ومشو ا میں نے مسہل دواپی الما شیۃ مویشی یعنی بھیڑ بکری کے ریوڑ کو کہتے ہیں اور امراۃ ماشیۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے بچے بہت ہوں ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حیھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ان کفار قریش کے رئیس عتبہ، شیبہ ابی خلف، ابو جہل مجلس سے یہ کہتے ہوئے چلے کہ یہاں سے چلو چلو ابو جہل نے ان سرداروں سے کہا، کہ ہم بات اب کراچکے اپنے معبودوں کے پاس چلو اور ان ہی کی عبادت پر قائم رہو محمد سب کو تباہ کرنا چاہتے ہیں یا یہ کہ یہ تو کوئی مطلب کی بات معلوم ہوتی ہے اس کے ذریعے یہ حکومت کرنا چاہتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦ { وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِہَتِکُمْج اِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ یُّرَادُ } ” اور چل پڑے ان کے سردار (یہ کہتے ہوئے) کہ چلو جائو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر ‘ یقینا اس بات میں تو کوئی غرض پوشیدہ ہے۔ “ یہ آیت لفظی تصویر کشی (word picture) کا خوبصورت نمونہ پیش کرتی ہے۔ ان الفاظ کو پڑھنے کے بعد مکہ کے مخصوص ماحول میں ایک مجمع کا نقشہ نگاہوں کے سامنے پھرنے لگتا ہے ‘ جس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطاب فرما رہے ہیں۔ مجمع میں عام لوگوں کے ساتھ قریش کے چند سردار بھی موجود ہیں۔ سب لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں بڑے دھیان سے سن رہے ہیں ‘ مگر تھوڑی دیر کے بعد ان کے سردار یہ کہتے ہوئے وہاں سے چل پڑتے ہیں کہ چلو چلو یہاں سے ! تم لوگ کہاں کھڑے ہو ؟ کس کی باتیں سن رہے ہو ؟ کیا ان کے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں گے ؟ چھوڑو ان باتوں کو اور جائو اپنا اپنا کام کرو ! اور سنو ‘ ان باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان سب باتوں کے پیچھے ضرور ان کا کوئی مفاد پوشیدہ ہے۔ یہ دعوت تو اس غرض سے دی جارہی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں اپنا اقتدار قائم کر کے ہم پر حکم چلانا چاہتے ہیں۔ اس لیے تم اپنے عقائد اور اپنے معبودوں کی پرستش پر مضبوطی سے جمے رہو اور ان باتوں پر دھیان مت دو !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

6 The allusion is to the chiefs who got up and left Abu Talib when they had heard what the Holy Prophet said. 7 "This thing" : the Holy Prophet's asking them to affirm faith in "La ilaha ill-Allah " so as to overpower both Arabia and the adjoining lands. 8 What they meant to say was this: "Muhammad has some vested interests: He is extending this invitation to us in order to subjugate us and rule us as his subjects."

سورة صٓ حاشیہ نمبر :6 اشارہ ہے ان سرداروں کی طرف جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر ابو طالب کی مجلس سے اٹھ گئے تھے ۔ سورة صٓ حاشیہ نمبر :7 یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا کہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کے قائل ہو جاؤ تو عرب و عجم سب تمہارے تابع فرمان ہو جائیں گے ۔ سورة صٓ حاشیہ نمبر :8 ان کا مطلب یہ تھا کہ اس دال میں کچھ کالا نظر آتا ہے ، دراصل یہ دعوت اس غرض سے دی جا رہی ہے کہ ہم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے تابع فرمان ہو جائیں اور یہ ہم پر اپنا حکم چلائیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان باتوں کے ذریعے (معاذاللہ) اپنا اقتدار قائم کرناچاہتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:6) انطلق ماضی واحد مذکر غائب (صیغہ واحد جمع کے لئے آیا ہے) وہ چل کھڑا ہوا۔ انطلاق (انفعال) مصدر سے جس کے معنی چھوڑ کر چل کھڑے ہونے کے ہیں۔ منہم۔ میں من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب وفد کے ممبران کی طرف راجع ہے ان میں سے کئی سردار ان چل کھڑے ہوئے (یہ کہتے ہوئے کہ) چلو اور اپنے دیوتاؤں پر قائم رہو۔ امشوا۔ امر جمع مذکر حاضر مشی (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی چلنے کے ہیں چلو۔ اصبروا علی۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ صبر مصدر باب ضرب سے جس کے معنی صبر کرنا کے ہیں۔ علی کے صلہ کے ساتھ معنی ہوں گے استقلال سے قائم رہو۔ شیء یراد۔ یہ ان کی خبر ہے۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب ارادۃ (افعال) سے مصدر۔ شیء یراد۔ ایسی شے جس کا ارادہ کیا گیا ہو۔ مقصود ۔ مراد۔ (بےشک اس میں کوئی خاص امر مقصود ہے)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی یہ ہمارے سامنے کلمہ ” لا الہ الا اللہ “ پیش کر رہا ہے اس سے اس کا مقصد کچھ ذاتی فائدہ معلوم ہوتا ہے اور شاید اس نے یہ سارا ڈھونگ اس لئے رچایا ہے کہ ہم اسے اپنا سردار مان لیں اور یہ ہم پر حکمرانی کر کے داد عیش دے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وانطلق۔۔۔۔ یراد (38: 6) ” اور سرداران قریش یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ چلو اور اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو ۔ یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے “۔ یہ کوئی دین اور نظریہ کی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی اور ہی گہری سازش ہے اور جمہور عوام کا یہ فرض ہے کہ یہ معاملہ اکابرپر چھوڑدیں۔ جو خفیہ باتوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے موروثی طرز عمل پر جمے رہیں اور اپنے آباؤ اجداد کے عقائد کو سختی سے پکڑے رکھیں۔ اور اس جدید تحریک کے پیچھے جو سازش ہے اس میں نہ پڑیں۔ یہ لیڈروں کا کام ہے کہ وہ ان سازشوں کا دفاع کریں۔ عوام کو مطمئن رہنا چاہئے۔ قیادت اپنے مفادات عوام کے مفادات اور اپنے الہوں کے مفادات کو اچھی طرح جانتی ہے۔ یہ ہے ایک عام اور ہر سوسائٹی میں دہرائے جانے والا طریقہ کار جس کے مطابق لوگ عوام الناس کو ملک و ملت کے مسائل سے ہٹانے کے لئے جسے ہر سوسائٹی کے سرکش باغی اور ڈکٹیٹر اور طاغوتی قوتیں استعمال کرتی ہیں۔ اس لیے کہ اگر عوام الناس قومی مسائل پر سوچنا شروع کردیں تو یہ طاغوتی قوتوں کے لئے ایک خطرناک علامت ہوتی ہے۔ طاغوت کے اقتدار کے لیے یہ خطرہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اس طرح ان اندھیروں کے چھٹ جانے کا خطرہ ہوتا ہے جن میں عوام الناس غرق ہوتے ہیں۔ کیونکہ طاغوت کا اقتدار قائم ہی تب ہوتا ہے جب جمہورجہالت میں غرق ہوں۔ اس کے بعد وہ اہل کتاب کے ظاہری عقیدے سے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں یعنی اہل کتاب کے حوالے سے جبکہ اہل کتاب کے عقائد میں بھی افسانے داخل ہوگئے تھے اور انہوں نے توحید کے خالص عقیدے میں تحریف کرکے اسے شرکیہ عقائد بنا دیا تھا ۔ چناچہ وہ کہتے ہیں : اس کائنات میں قدراشیاء ہیں ان میں ہر شے متحرک ہے۔ یہ پوری کائنات چھوٹے چھوٹے ذرلت سے مرکب ہے۔ خواہ زندہ کائنات ہو یا مردہ ۔ یہ تمام ذارت الیکٹرون سے مرکب ہیں اور یہ الیکڑان ایک گٹھلی کے اردگرد حرکت کرتے ہیں جو پروٹونز سے مرکب ہے۔ یہ حرکت اسی طرح ہے جس طرح کواکب سورج کے اردگرد حرکت کرتے ہیں ۔ اور جس طرح بیشمار سورجوں کا مجموعہ کہکشاں اپنے اردگرد حرکت کرتا ہے۔ یہ تمام حرکات غرب سے شرق کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ یہ وقت کی حرکت سے متضاد حرکت ہے۔ وہ عناصر جن سے زمین اور دوسرے ستارے اور سیارے مرکب ہوتے ہیں یہ ایک ہی ہیں۔ تمام ستارے بھی انہی عناصر سے مرکب ہیں جن سے زمین مرکب ہے۔ یہ تمام ذرات سے مرکب ہیں اور ذرات الیکٹرون پروٹون اور نیوٹرون سے مرکب ہیں ۔ تمام ذرات بلااستثناء ان تین اجزاء سے مرکب ہیں۔ ” جس طرح پورا مادہ ان تین اجزاء سے مرکب ہے اسی طرح قوت بھی ایک ہی اصل کی طرف لوٹتی ہے ۔ روشنی اور حرارت بنفشی شعاعیں لاسلکی شعاعین ماورائے بنفشی شعاعیں اور تمام دوسری شعاعیں دراصل مقناطیسی کہربائی قوت کی مختلف اقسام ہیں۔ ان کی رفتار ایک ہے ، اختلاف صرف ان کی موجودگی میں ہے “۔” مادہ تین اجزاء سے مرکب ہے اور قوت موجوں سے مرکب ہے “۔ ” آئن سٹائن کا مخصوص نظریہ اضافت یہ ثابت کرتا ہے کہ مادہ اور قوت ایک ہی چیز ہے۔ تجربات نے اس دعویٰ کی تصدیق کردی ہے۔ ایک آخری تجربہ بھی سامنے آگیا ہے۔ جس نے جہاراً یہ اعلان کردیا ہے تمام دنیا نے اسے سن لیا ہے کہ ایک جدید بم میں ایٹم نے قوت کی شکل اختیار کرلی “۔ ” یوں ثابت ہوتا ہے کہ مادہ اور قوت ایک چیز ہے “۔ یہ ہے اس کائنات کی طبعی تشکیل میں وحدت اور حال ہی میں انسان اس کی حقیقت کو معلوم کرسکا ہے۔ اس کائنات کی مسلسل حرکت میں بھی ایک طرح کی یگانگت اور وحدت ہے جیسا کہ ہم نے باربار اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پھر اس کائنات کی تمام حرکات منظم اور مسلسل ہیں۔ اس قدر باقاعدہ کہ ان میں سے ایک سکینڈ کا خلل بھی نہیں پڑتا ۔ نہ اس میں کوئی اضطراب ہے۔ پھر پورے نظام میں اس قدر توازن ہے کہ نہ کسی جرم فلکی کی حرکت میں تعطل آتا ہے اور نہ ہی اجرام فلکی کے درمیان کوئی تصادم آتا ہے اور وہ ستارے اور سیارے جو ان کہکشانوں میں جو ہمارے قریب ہیں اور جو اس فضائے کائنات میں تیررہی ہیں ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مدار ، ان کی حرکت اور ان کے فاصلے متعین ہیں۔ ان کی اندر کوئی تغیروتبدل نہیں ہوتا۔ ان کی ہر چیز مقدر ہے ۔ ایک منصوبے کے مطابق ، یعنی یہ ایک ناقابل تغیرو تبدل منصوبے اور نقشے کے مطابق چل رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نظام کائنات کے اندر پائی جانے والی وحدت اور عقیدۂ پر کائناتی شہادت کے مطالعہ کے لیے یہ سرسری وقفہ کافی ہے۔ عقیدۂ توحید وہ اہم حقیقت ہے کہ انسان کی اصلاح اور ترقی اس کے سوا کسی اور عقیدے پر ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا عقیدۂ توحید کی وضاحت کے بغیر انسان کا تصور کائنات مکمل ہی نہیں ہوسکتا ۔ نہ اس کائنات میں انسان کی قدروقیمت متعین ہوسکتی ہے۔ اور نہ انسان اور اس کائنات کا باہم تعلق صحیح سمت لے سکتا ہے۔ نہ انسانوں کے ذہنوں میں اس کائنات کو وجود میں لانے والی ہستی کا تصور درست ہوسکتا ہے اور نہ انسان اور خدا کا تعلق درست ہوسکتا ہے ۔ لہذا انسان کے شعور کو صحیح سمت دینے کے لیے اور انسان کے طرز عمل کو درست حالت میں رکھنے کے لئے عقیدۂ توحید کی تشریح ضروری ہے۔ اب دیکھئے کہ جو شخص اللہ وحدہ پر ایمان لاتا ہے ، جو اس عقیدۂ توحید کے معنی کو سمجھتا ہے۔ اس کا تعلق اپنے رب کے ساتھ بھی درست ہوتا ہے۔ اور اس کا تعلق اللہ کے سوا پوری کائنات کے ساتھ بھی درست ہوجاتا ہے۔ اور یہ تعلقات حقیقت پسندانہ ہوتے ہیں اور ان میں افراط وتفریط نہیں ہوتی۔ یوں اس کے شعور میں انتشارنہین ہوتا۔ اور اس کی سوچ مختلف الہوں میں نہیں بٹتی ۔ اور نہ اس پر اللہ کے سوا کوئی اور مسلط ہوتا ہے۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لے آتا ہے اور جو اللہ کو اس کائنات کا مصدر ومنبع سمجھتا ہے وہ اس کائنات کے ساتھ اس کے اندر موجود اشیاء کے ساتھ باہم تعارف ، محبت اور الفت کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور اس کی زندگی پر امید ہوتی ہے اور اس کی زندگی کی ایک ایسی صورت گری ہوتی ہے جو اس شخص سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا ۔ اور وہ اپنے آپ کو اپنے ماحول اور اپنے معاشرے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں پاتا۔ وہ شخص جو اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اللہ کیجانب سے مخصوص ہدایات پاتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو اس کا ئنات کے اندر پائے جانے والے ناموس اور اللہ کیطرف سے نازل شدہ شریعت کے مطابق تشکیل دے۔ کائنات پر بھی اللہ کا قانون جاری وساری ہے اور انسانی زندگی پر اللہ کی مقرر کردہ شریعت جاری ہوتی ہے اور یوں انسان کی عملی زندگی اس کائنات کیساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔ غرض اس حقیقت کا ادراک اس لیے ضروری ہے کہ انسان کا شعور درست ہو۔ وہ روشن ہو وہ صحیح سمت رکھتا ہو۔ اور وہ اپنے گرد پھیلی ہوئی کائنات کے ساتھ ہم آہنگ متناسق اور متوازن ہو۔ اور انسان کے باہمی تعلقات اس کائنات کے ساتھ تعلقات اور اپنے معاشرے کے ساتھ تعلقات واضح اور متعین ہوں۔ یہ تعلقات اخلاقی ہوں یا طرز عمل سے متعلق ہوں ، اجتماعی معاملات سے متعلق ہوں ، شخصی ہوں یا انسانی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم توحید کو اس قدر اہمیت دیتا ہے اور عقیدۂ توحید کے لیے یہ جدوجہد آدم (علیہ السلام) سے ادھر آنے والے تمام انبیاء نے کی ہے۔ اور تمام رسولوں نے عقیدۂ توحید پر سخت اصرار کیا ہے۔ کلمہ توحید کے الفاظ بھی ایک رہے ہیں اور مفہوم بھی ایک رہا ہے۔ قرآن میں تو عقیدۂ توحیدپر اس قدر زور دیا گیا ہے کہ اسے باربار دہرایا گیا ہے۔ اس پر اصرار کیا گیا ہے۔ مسئلہ توحید اور اس کے تقاضوں کی باربار مختلف اسالیب سے تشریح کی گئی ہے۔ خصوصاً مکی سورتوں میں تو اس پر بہت زور دیا گیا ہے جبکہ مدنی سورتوں میں بھی عقیدۂ توحید پر مدنی موضوعات کے اعتبار سے زور دیا گیا ہے۔ جہاں حاکمیت اور قانون سازی کے حق کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ یہ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے مشرکین مکہ تعجب کررہے تھے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام الہوں کو ردکرکے صرف ایک ہی الہہ کے قائل ہیں۔ چناچہ اس پر وہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے الجھتے تھے۔ تعجب کرتے تھے ، لوگوں کو اس نظریہ سے پھیرتے تھے اور اس نظریہ حیات کے خلاف اپنے تمام وسائل انہوں نے مجتمع کرلیے تھے۔ اب ان کے تعجب کا دوسرا پہلو ، یہ کہ وہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دولت اور شخصی وجاہت کے زاویہ سے منصب نبوت کے قابل نہ سمجھتے تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ قائد کوئی خان اور نواب ہوتا چاہئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَانْطَلَقَ الْمَلاَُ مِنْہُمْ ) (اور ان میں سے جو سردار تھے یوں کہتے ہوئے روانہ ہوگئے کہ یہاں سے چل دو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو) اگر یہاں اور بیٹھے رہے تو ممکن ہے کہ اس شخص کی بات ہمارے دلوں میں اثر کر جائے اور ہمیں ایک ہی معبود کو ماننا پڑے۔ (اِِنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ یُرَادُ ) (بیشک یہ ایسی چیز ہے جس کا ارادہ کیا جا رہا ہے) یہ بھی مشرکین کا قول ہے اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جس کی طرف ترجمہ میں اشارہ کردیا گیا ہے یعنی یہ شخص جو ہماری جماعت سے نکل کر نئی نئی باتیں کر رہا ہے اس کا کوئی مقصد ہے اور وہ یہ کہ اسے عرب و عجم کی سرداری مل جائے اور سب سے اوپر ہو کر رہے، اور بعض مفسرین نے یہ مطلب بتایا ہے کہ اس شخص کا جو کچھ دعویٰ ہے اور اس پر اس کا جو جماؤ ہے اس سے اس کو ہٹایا نہیں جاسکتا، اس کی طرف سے کسی طرح کے جھکاؤ کی امید نہیں اور تیسرا مطلب یہ بتایا ہے کہ اس شخص کا وجود اور اس شخص کی دعوت اور اس کا دعویٰ یہ بھی زمانہ کی لائی ہوئی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت ہے ہمارے پاس کوئی ایسی تدبیر نہیں کہ اس شخص کو روک دیں صبر کے گھونٹ پینے کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ (ذکرہ صاحب الروح)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ انطلق الخ :۔ ابو جہل، عتبہ، شیبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط، عاص بن وائل وغیرہ صنادید قریش کا ایک وفد ابو طالب کے پاس آیا تاکہ وہ اپنے بھتیجے کو ان کے معبودانِ باطلہ کی توہین روکین یعنی وہ ہمارے معبودوں کے بارے میں یہ نہ کہا کرے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ وہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ابو طالب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلا کر کہا کہ میرے بھتیجے یہ اشراف قریش اس مقصد کے لیے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں ان سے صرف ایک بات لینے کا مطالبہ کرتا ہوں، اگر یہ اس کو مان لین تو سارا عرب ان کا مطیع ہوجائے ابو جہل فوراً بول اٹھا ایسی تو ہم دس باتیں بھی ماننے کے لیے تیار ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ ایک بات یہ ہے لا الہ الا اللہ یہ سن کر بول اٹھے اجعل الالہۃ الہا واحدا، اور اٹھ کر چل دئیے اور آپس میں کہنے لگے چلو اور اپنے معبودوں کی عبادت پر قائم رہو۔ ان آیتوں میں اسی طرف اشارہ ہے (روح، قرطبی، خازن، معالم) ۔ 8:۔ ان ھذا الخ : یہ بھی کافروں ہی کا مقولہ ہے۔ اسے چھوڑو یہ تمہاری کوئی بات نہیں مانے گا۔ یہ ریاست اور بڑائی چیز ہی ایسی ہے جس کی ہر شخص کو تمنا ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اسی آرزو کی تکمیل کے لیے توحید وغیرہ کا نعرہ بلند کر رہا ہے ان ھذا الذی یدعیہ محمد من التوحید او الذی یقصد من الریاسۃ والترفع علی العرب والعجم لشیء یتمنی او یریدہ کل احد (مظہری ج 8 ص 156) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) اور کفار قریش کیا شراف اور سردار یہ کہتے ہوئے مجلس سے چل کھڑے ہوئے کہ چلو جی چلو اور اپنے اپنے معبودوں کی عبادت پر قائم رہو۔ بیشک اس بات یعنی دعوت الی التوحید میں اس کی کوئی غرض ہے۔ یعنی مجلس سے یہ کہہ کر قریش کے سردار عوام کو لے کر اٹھ گئے کہ پس اب مضبوطی سے اپنے ٹھاکروں اور دیوتائوں کی عبادت میں لگے رہو۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس بات میں کوئی غرض ہے یعنی دل میں اس کی اور خیال ہے اس خیال کی بنا پر یہ تحریک جاری کی گئی ہے یا یہ مطلب کہ یہ دین ایک فتنہ ہے جس کا ارادہ کیا گیا ہے یا یہ کہ توحید ارادہ کی گئی یعنی اللہ تعالیٰ اس کے جاری کرنے کا حکم کریگا اب اس کا مقابلہ سوائے صبر کے نہیں ہوسکتا یا یہ کہ یہ بات حوادث زمانہ سے ہے جس سے چھٹکارا مشکل ہے۔