Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 65

سورة ص

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ٭ۖ وَّ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ۚ۶۵﴾

Say, [O Muhammad], "I am only a warner, and there is not any deity except Allah , the One, the Prevailing.

کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف خبردار کرنے والا ہوں اور بجز اللہ واحد غالب کے اور کوئی لائق عبادت نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Message of the Messenger is a Great News Allah tells His Messenger, قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنذِرٌ ... Say: "I am only a warner, Allah tells His Messenger to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: `I am a warner, I am not as you claim.' ... وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلاَّ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible, means, He Alone has subjugated and controlled everything.

نبی علیہ السلام کا خواب ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں ۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے ، ہر چیز اس کے ماتحت ہے ۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں ۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے ۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم ۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آ گیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی ۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہو گئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی ۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا ۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا ۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں؟ میں نے کہا کھانا کھلانا ۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا ۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش ، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت ، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٥] یعنی میرا کام صرف تمہیں تمہارے برے انجام سے آگاہ کردینا اور سمجھا دینا ہے۔ تمہیں زبردستی پکڑ کر راہ راست پر لے آنا میرا کام نہیں۔ اگر میری بات مان لوگے تو اس میں تمہارا فائدہ ہے اور نہ مانو گے تو اپنا انجام خود دیکھ لو گے اور یاد رکھو کہ حقیقی الٰہ صرف اللہ اکیلا ہے جو تمہیں سزا دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ: سورت کی ابتدا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہونے اور اللہ تعالیٰ کے ایک معبود برحق ہونے پر کفار کے تعجب اور انکار کا ذکر تھا اور ان کے یہ کہنے کا کہ کیا یہ ہمیں ہمارے اتنے معبودوں کے بجائے ایک ہی معبود کی عبادت کی دعوت دیتا ہے اور یہ کہ ہم تمام سرداروں کے ہوتے ہوئے اس پر وحی کیسے نازل ہوگئی ؟ بلکہ یہ ساحر اور کذّاب ہے۔ کفار کی ان باتوں اور ان کے قیامت کے جھٹلانے اور اس کا مذاق اڑانے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کا حکم دیا۔ اب سورت کے آخر میں پھر اسی مضمون کو دہرایا جا رہا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ میں تو بس ایک ڈرانے والا ہوں، نہ ساحر ہوں، نہ کذّاب، نہ کچھ اور۔ صرف ڈرانے والا اس لیے کہ بشارت ماننے والوں کے لیے ہوتی ہے، منکروں کو ڈرایا ہی جاتا ہے۔ وَّمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ : عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لفظ ” اللّٰهُ “ میں اگرچہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات آجاتی ہیں، کیونکہ یہ معبود برحق کا علم (نام) ہے، مگر یہاں اس کے واحد معبود ہونے کی دلیل کے طور پر اس کی پانچ صفات کا خاص طور پر ذکر فرمایا، پہلی صفت ” الْوَاحِدُ “ ہے، یعنی اس کے علاوہ ہر چیز جوڑا ہے، اکیلا وہی ہے۔ ” الْقَهَّارُ “ بڑے دبدبے والا، کوئی اس کے قہر کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary A Gist of the Subjects of the Surah In verse 65, it was said: قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنذِرٌ‌ (Say, “ I am only a warner) At the beginning of the Surah, you have seen that the real objective of this Surah was the affirmation of the prophethood of the noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) refutation of what the disbelievers said. In this connection, events relating to blessed prophets of the past were mentioned for two reasons. Firstly, that they bring comfort to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and that he too observes patience against the absurd allegations leveled by those who disbelieved - the same patience as observed by the blessed prophets before him. Secondly, that those who were denying the credentials of a true prophet should themselves learn their lesson through these events. After that, another method was used to invite the disbelievers to Islam. For this purpose, their attention was drawn to the good end of the believers, as opposed to the severe punishment awaiting disbelievers, while they were also warned that the people they were following were the ones who were prompting them to belie the true messenger of Allah, and the same people will refuse to help you in any way on the Day of Judgment, in fact, they would paint you black and you would curse them. After a delineation of these subjects, the text has, in the concluding part, reverted to the main purpose, that is, it takes up the confirmation of prophethood of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . In this process, along with a presentation of necessary arguments, a compassionate invitation to believe has also been given.

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ (تم جو رسالت اور توحید کے مسئلہ میں تکذیب و انکار کرتے ہو تو تمہارا ہی نقصان ہے میرا کچھ ضرر نہیں، کیونکہ) میں تو (تم کو صرف عذاب خداوندی سے) ڈرانے والا (پیغمبر) ہوں۔ اور (جیسے میرا رسول اور منذر ہونا واقعی ہے اسی طرح توحید بھی برحق ہے، یعنی) بجز اللہ واحد غالب کے کوئی لائق عبادت کے نہیں ہے، وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے درمیان میں ہیں (اور وہ) زبردست (اور گناہوں کا) بڑا بخشنے والا ہے۔ (اور چونکہ توحید کو تو کسی درجہ میں وہ لوگ مانتے بھی تھے اور رسالت کے بالکل ہی منکر تھے، اس لئے رسالت کی مزید تحقیق کے لئے ارشاد ہے کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کہہ دیجئے کہ یہ (یعنی اللہ تعالیٰ کا مجھ کو توحید اور احکام شریعت کی تعلیم کے لئے رسول بنانا) ایک عظیم الشان مضمون ہے جس (کا تم کو بڑا اہتمام چاہئے تھا، مگر افسوس کہ اس) سے تم (بالکل ہی) بےپروا ہو رہے ہو (اور اس کے عظیم الشان مضمون ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا اعتقاد رکھے بغیر حقیقی سعادت کا حصول ناممکن ہے۔ آگے آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت ثابت کرنے کی ایک دلیل ہے۔ وہ یہ کہ) مجھ کو عالم بالا (کی بحث و گفتگو) کی (کسی ذریعہ سے) کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ وہ (تخلیق آدم کے بارے میں جس کی تفصیل آگے آتی ہے، اللہ تعالیٰ سے) گفتگو کر رہے تھے (اب میں جو اس گفتگو کا واقعہ بتارہا ہوں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ مجھے یہ واقعہ کہاں سے معلوم ہوا ؟ میں نے بچشم خود تو اسے دیکھا نہیں، اہل کتاب سے بھی میرا ایسا میل جول نہیں کہ ان سے معلوم کرلیتا، یقینا مجھے یہ علم وحی کے ذریعہ ہی حاصل ہوا ہے، لہٰذا ثابت ہوگیا کہ) میرے پاس (جو) وحی (آتی ہے جس سے عالم بالا کے احوال بھی معلوم ہوتے ہیں، تو) محض اس سبب سے آتی ہے کہ میں (منجانب اللہ) صاف صاف ڈرانے والا (کر کے بھیجا گیا) ہوں (یعنی چونکہ مجھے پیغمبری ملی ہے، اس لئے وحی نازل ہوتی ہے۔ پس واجب ہے کہ تم میری رسالت کی تصدیق کرو۔ اور عالم بالا کی اللہ تعالیٰ سے گفتگو جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا ہے اس وقت ہوئی تھی) جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں گارے سے ایک انسان کو (یعنی اس کے پتلے کو) بنانے والا ہوں، سو میں جب اس کو (یعنی اس کے جسمانی اعضاء کو) پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی (طرف سے) جان ڈالوں تو تم سب اس کے روبرو سجدہ میں گر پڑنا، سو (جب اللہ تعالیٰ نے اس کو بنا لیا تو) سارے کے سارے فرشتوں نے (آدم (علیہ السلام) کو) سجدہ کیا، مگر ابلیس نے کہ وہ غرور میں آ گیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس جس چیز کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا (یعنی جس چیز کو وجود میں لانے کے لئے خاص عنایت ربانی متوجہ ہوئی، پھر اس کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو) اس کو سجدہ کرنے سے تجھ کو کون سی چیز مانع ہوئی، کیا تو غرور میں آ گیا ؟ (اور واقع میں بڑا نہیں ہے) یا یہ کہ تو (واقع میں ایسے) بڑے درجہ والوں میں سے ہے (جس کو سجدہ کا حکم کرنا ہی زیبا نہیں) کہنے لگا کہ (دوسری بات صحیح ہے، یعنی) میں آدم سے بہتر ہوں (کیونکہ) آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے۔ اور اس (آدم) کو خاک سے پیدا کیا ہے (پس مجھ کو حکم دینا کہ اس کے سامنے سجدہ کروں حکمت کے خلاف ہے) ارشاد ہوا تو (اچھا پھر) آسمان سے نکل کیونکہ بیشک تو (اس حرکت سے) مردود ہوگیا اور بیشک تجھ پر میری لعنت رہے گی قیامت کے دن تک (اور اس کے بعد مورد رحمت ہونے کا احتمال نہیں ہے) کہنے لگا (کہ اگر مجھ کو آدم کی وجہ سے مردود کیا ہے) تو پھر مجھ کو (مرنے سے) مہلت دیجئے قیامت کے دن تک (تاکہ ان سے اور ان کی اولاد سے خوب بدلہ لوں) ارشاد ہوا (جب تو مہلت مانگتا ہے) تو (جا) تجھ کو معین وقت کی تاریخ تک مہلت دی گئی، کہنے لگا (جب مجھ کو مہلت مل گئی) تو (مجھ کو بھی) تیری (ہی) عزت کی قسم (ہے) کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا بجز آپ کے ان بندوں کے جو ان میں منتخب کئے گئے ہیں (یعنی آپ نے ان کو میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے) ارشاد ہوا کہ میں سچ کہتا ہوں اور میں تو (ہمیشہ) سچ ہی کہا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیرا ساتھ دے ان سب سے دوزخ بھر دوں گا۔ (سورت کی ابتدائی آیات سے واضح ہے کہ اس سورت کا بنیادی مقصد آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اثبات ہے۔ اس موضوع پر دلائل تو دیئے جا چکے، اب ناصحانہ طریقہ پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ہے) آپ (بطور اتمام حجت کے) کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس (قرآن کی تبلیغ) پر نہ کچھ معاوضہ چاہتا ہوں اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں (کہ بناوٹ کی راہ سے نبوت کا دعویٰ کیا ہو، اور غیر قرآن کو قرآن کہہ دیا ہو۔ یعنی اگر جھوٹ بولتا تو اس کا منشاء یا تو کوئی مادی نفع ہوتا جیسے معاوضہ، یا کوئی طبعی عادت ہوتی جیسے تکلف، سو یہ دونوں باتیں نہیں بلکہ فی الواقع) یہ قرآن تو (اللہ کا کلام اور) دنیا جہان والوں کے لئے بس ایک نصیحت ہے (جس کی تبلیغ کے لئے مجھ کو نبوت ملی ہے اور جس میں سراسر تمہارا ہی نفع ہے) اور (اگر حق کے واضح ہونے کے باوجود بھی تم نہیں مانتے تو) تھوڑے دنوں پیچھے تم کو اس کا حال معلوم ہوجاوے گا (یعنی مرنے کے ساتھ ہی حقیقت کھل جائے گی کہ یہ حق تھا اور اس کا انکار باطل تھا، مگر اس وقت معلوم ہونے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا) معارف ومسائل خلاصہ مضامین سورت : (آیت) قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ۔ سورت کے شروع میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ اس سورت کا اصل مقصد آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اثبات اور کفار کی تردید ہے، اسی ضمن میں انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات دو وجہ سے ذکر کئے گئے تھے۔ ایک یہ کہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی ہو اور سابقہ انبیاء (علیہم السلام) کی طرح آپ بھی کفار کی بےہودہ باتوں پر صبر فرمائیں۔ دوسرے یہ کہ ان واقعات سے خود وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو ایک نبی برحق کی رسالت کا انکار کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور طریقے سے کفار کو دعوت اسلام دی گئی اور وہ اس طرح کہ مومنوں کی نیک انجامی اور کافروں کے عذاب شدید کا نقشہ کھینچا گیا۔ اور اس بات پر تنبیہ کی گئی کہ جن لوگوں کی اتباع میں تم آج افضل الرسل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کر رہے ہو، آخرت کے دن وہی لوگ تمہاری مدد سے دستبردار ہوجائیں گے، وہ تمہیں برا بھلا کہیں گے اور تم ان پر لعنت بھیجو گے۔ ان تمام مضامین کے بعد آخر میں پھر اصل مدعا یعنی اثبات رسالت کا بیان کیا گیا ہے، اور دلائل پیش کرنے کے ساتھ ناصحانہ انداز میں دعوت بھی دی گئی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ۝ ٠ ۤۖ وَّمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۝ ٦٥ۚ نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔ النذ یر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حیھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) قهر القَهْرُ : الغلبة والتّذلیل معا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] ، وقال : وَهُوَ الْواحِدُ الْقَهَّارُ [ الرعد/ 16] ( ق ھ ر ) القھر ۔ کے معنی کسی پر غلبہ پاکر اسے ذلیل کرنے کے ہیں اور ان دنوں ( یعنی غلبہ اور تذلیل ) میں ستے ہر ایک معنی میں علیدہ علیدہ بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ۔ وَهُوَ الْواحِدُ الْقَهَّارُ [ الرعد/ 16] اور وہ یکتا اور زبردست ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آپ مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ میں تو صرف ڈرانے والا پیغمبر ہوں اور سوائے اللہ تعالیٰ کے جو کہ تمام مخلوق پر غالب ہے کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٥ { قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌق وَّمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) کہہ دیجیے کہ میں تو بس ایک خبردار کرنے والا ہوں ‘ اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے ‘ وہ اکیلا ہے اور ہرچیز پر پوری طرح چھایا ہوا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

56 Now the discourse turns to the same theme with which it began. One should read it with vv. 1-14 in order to understand the meaning fully. 57 In verse 4 it was said: "The people wonder that a warner from among themselves has come to them." Here it is being said: "Tell them: I am only a warner. ' That is, "I do not command an army that I may forcibly pull you from a wrong way and put you on the Right Way: If you do not listen to me and do not accept my message, you will only be causing a loss to yourselves. If you like to remain ignorant, you may continue to be heedless, for you will sec your end yourselves."

سورة صٓ حاشیہ نمبر :56 اب کلام کا رخ پھر اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جس سے تقریر کا آغاز ہوا تھا ۔ اس حصے کو پڑھتے ہوئے پہلے رکوع سے مقابلہ کرتے جائیے ، تاکہ بات پوری سمجھ میں آ سکے ۔ سورة صٓ حاشیہ نمبر :57 آیت نمبر 4 میں فرمایا گیا تھا کہ یہ لوگ اس بات پر بڑے اچنبھے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایک خبردار کرنے والا خود ان کے درمیان سے اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ ان سے کہو میرا کام بس تمہیں خبردار کر دینا ہے ۔ یعنی میں کوئی فوجدار نہیں ہوں کہ زبردستی تمہیں غلط راستے سے ہٹا کر سیدھے راستے کی طرف کھینچوں ۔ میرے سمجھانے سے اگر تم نہ مانو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے ۔ بے خبر ہی رہنا اگر تمہیں پسند ہے تو اپنی غفلت میں سرشار پڑے رہو ، اپنا انجام خود دیکھ لو گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٥۔ ٦٨۔ اوپر دوزخ کے عذاب کا ذکر تھا۔ اس لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں اس عذاب سے ڈرانے آیا ہوں جو انسان کی برداشت سے باہر ہے اور اس عذاب سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تعظیم میں کسی دوسرے کو ہرگز شریک نہ کیا جاوے۔ کیونکہ وہ ایسا صاحب قدرت ہے کہ ساری مخلوقات اس کی قدرت کے آگے عاجز اور اس کی قدرت کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ آسمان و زمین اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب کا وہی مالک ہے۔ زبردست وہ ایسا ہے کہ پچھلی بڑی بڑی قوموں کو اس نے اس شرک کے جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔ اور کوئی اس کے عذاب کو ٹال نہ سکا۔ گناہوں کے بخشنے والا وہ ایسا ہے کہ سوا شرک کے اور جس گناہ کا گناہ گار بغیر توبہ کے مرجاوے گا تو اس نے اس کے گناہوں کے بخش دینے کا وعدہ فرمایا۔ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے جتنے قصے گزر چکے وہ اللہ کے زبردست ہونے کی تفسیر ہیں۔ اسی طرح متعبر سند سے ترمذی ١ ؎ میں انس (رض) بن مالک سے حدیث قدسی کی روایت ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس شخص کے نامہ اعمال میں شرک نہ ہوگا۔ اس کے گناہ اگر اتنے بھی ہوں جس سے زمین بھر جاوے تو اللہ تعالیٰ کو ان کے بخش دینے میں کچھ دریغ نہ ہوگا۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے صاحب بخشش ہونے کی گویا تفسیر ہے۔ اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے۔ کہ جس قرآن شریف کے تم دنیا میں منکر ہو اس قرآن شریف کی قدر تم کو اس وقت معلوم ہوگی جب کہ قیامت کے دن قرآن شریف کی نصیحت پر چلنے والوں کو بڑے بڑے رتبے دیئے جاویں گے۔ اور قرآن شریف کے منکروں کو طرح طرح کے عذاب بھگتنا پڑے گا۔ سورة الفرقان میں گزر چکا ہے کہ قیامت کے دن قرآن شریف اور رسول کے جھٹلانے والے اپنے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھاویں گے اور کہیں گے کہ افسوس ہم نے دنیا میں اللہ کے رسول کی نصیحت پر کیوں نہیں عمل کیا۔ سورة الفرقان کی وہ آیتیں آخری آیت کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اب تو یہ مشرک لوگ قرآن شریف کو جھٹلاتے ہیں مگر قیامت کے دن اس جھٹلانے پر بہت پچھتاویں گے اور بےوقت کا پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آوے گا۔ (١ ؎ جامع ترمذی کتاب الدعوات۔ باب الاستغفار والتوبۃ ص ٢١٦ ج ٢)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:65) قل ای قل یا محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) ۔ ما من میں ما نافیہ ہے اور من زائدہ تاکید کے لئے ہے۔ القھار : قھر یقھر (باب فتح) قھرا مصدر۔ قاھر اسم فاعل قھار صیغہ مبالغہ ہے۔ سب پر غالب۔ ایسا غالب کہ جس کے مقابلہ میں سب ہیچ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی سے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت قہاری بھی ہے اور غفاری بھی۔ وہ مومنوں کے لئے غفار، کافروں کے لئے قہار اور گناہ گاروں کیلئے ستار ہے۔ سبحان اللہ عزشانہ

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں تمہیں کیسے بتاتا اور مجھے کس طرح علم ہوسکتا تھا۔ یہ صرف وحی الہی کا کمال ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں تمہیں اعمال کے نتائج اور انجام کی خبر دے رہا ہوں یہ بھی سن لو کہ جب اللہ نے فرشتوں سے بات کی کہ میں خاک سے ایک انسان پیدا کرنا چاہتا ہوں جب میں اپنی قدرت سے اسے بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا چناچہ جب آدم (علیہ السلام) بن کر زندہ ہوگئے تو سب فرشتے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے مگر ایک ابلیس کہ جن تھا مگر فرشتوں میں رہتا تھا سجدرہ ریز نہ ہوا اس نے ازراہ تکبر انکار کردیا۔ ارشاد ہوا کہ ابلیس جب ہم نے حکم دیا تھا کہ یہ میری خاص تخلیق ہے اور اس کی عظمت کا اقرار کیا جائے اسے سجدہ کیا جائے تو تمہارے سجدہ نہ کرنے کا سبب کیا ہے کیا تو تکبر میں گرفتار ہے یا تو خود کو بڑا سمجھنے لگ گیا ہے۔ تو اس نے کہا میں اس سے بہت بہتر ہوں کہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا فرمایا جو بہت اعلی ہے بہ نسبت اس کے کہ آپ نے اسے مٹی سے بنایا ہے یہ عذر لنگ اس نے اپنے تکبر کا جواز بنایا جس پر ہمیشہ کے لیے مردود قرار پایا اور ارشاد ہو ا کہ چلا جا یہاں سے تجھے رد کیا جاتا ہے اور قیامت تک تجھ پر میری پھٹکار پڑتی رہے گی۔ اس نے عرض کیا اللہ مجھے تو سزا مل گئی لیکن میری ایک درخواست ہے کہ مجھے قیام حشر تک مہلت دی جائے فرمایا جا تجھے مہلت بھی عطا کی مگر قیام حشر تک بلکہ قیام قیامت تک۔ دعا کبھی شیطان کی بھی سن لیتا ہے یہ خالصتاً اللہ کی مرضی مگر اس نے دعا میں حشر بپا ہونے تک وقت مانگا جس کے بعد موت نہیں مگر فرصت قیام قیامت تک ملی کہ موت کی تلخی سے گزر کر وہاں پہنچے گا۔ تو اس نے کہا اللہ مجھے آپ کی عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کردوں گا مگر ہاں تیرے مخلص اور کھرے بندے میری چال میں نہ آئیں گے۔ سبحان اللہ شیطان تک کو ازل سے اقرار ہے کہ مخلص اور کھرے بندے میری گرفت میں نہ آئیں گے۔ اور یہی خلوص قلبی ذکر قلبی کا حاصل ہے اگر کوئی ذکر قلبی سے بھی خلوص حاصل نہ کرسکا تو بہت ہی بےنصیب آدمی ہے۔ ارشاد ہوا میری ذات حق ہے اور میں حق ہی ارشاد فرماتا ہوں میں تجھ سے تیری نسل اور تیرے پیروکاروں سے دوزخ کو بھر دوں گا اور تب تم سب کو اس نافرمانی کا بدلہ مل جائے گا۔ آپ فرما دیجیے کہ میں دین کی تبلیغ کے بدلے تم سے کچھ نہیں چاہتا نہ دولت نہ وقار نہ اقتدار اور میں ایسا بھی ہرگز نہیں کہ اپنی شہرت کے لیے مختلف طریقے اختیار کروں کہ تم سب میری ذات سے خوب واقف ہو۔ ہاں یہ کلام جو میں تم پر پیش کر رہا ہوں یہ تو سب کائنات کے لیے معرفت الہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اگر اب نہ سہی وقت گزرتے دیر نہیں لگتی تمہیں موت کے وقت اور پھر قیامت کے دن اس کی حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے) تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دین کی تمام سچائیاں لے کر آ چکے ہیں ان کی بات سن کر مکمل اطاعت و فرماں برداری کریں ۔ اسی میں دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کے راز پوشیدہ ہیں۔ قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم فرعون ، قوم لوط اور قوم ایکہ جن کو برے اعمال اور بد کرداریوں کی وجہ سے تباہ و برباد کیا گیا تھا اس کا سبب یہی تھا کہ انہوں نے اللہ کے نبیوں اور رسولوں کو اور ان کی تعلیمات کو جھٹلایا ، منہ پھیرا اور ان کی اطاعت سے انکار کردیا جس کا نتیجہ سامنے ہے کہ آج ان کی بلند وبالا عمارتوں کے کھنڈرات اس بات پر گواہی پیش کر رہے ہیں کہ اگر وہ اللہ و رسول کی نا فرمانیاں نہ کرتے تو وہ اس طرح دنیا سے مٹا نہ دیئے جاتے۔ فرمایا کہ تم نے ابھی عذاب الٰہی کا مزہ نہیں چکھا ورنہ اپنی چھوٹی چھوٹی سرداریوں اور مال و دولت پر اتنا غرور وتکبر نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) اور ان کے صاحبزادے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے ان دونوں کو عظیم سلطنتیں ، مال و دولت کے ڈھیر اور راحت و سکون کی ہر چیز عطاء کی تھی ۔ انسان ، جنات ، ہوا ، پرندے ہر چیز کو ان کے تابع کردیا گیا تھا لیکن انہوں نے اتنا کچھ ہونے کے باوجود تکبر ، غرور اور بڑائی سے کام نہیں لیا بلکہ عاجزی و انکساری ، توبہ اور استغفار کی کثرت سے ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کیا ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی عبادات ، صبر و شکر کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگرچہ انہیں امتحان میں ڈالا گیا ۔ ان کو سب کچھ دے کر سب کچھ چھین لیا گیا مگر انہوں نے صبر و شکر کا دامن نہیں چھوڑا اور آخر کار ان کو توبہ و استغفار کی وجہ سے پہلے سے بھی زیادہ مال و دولت اور گھر بار عطاء کردیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت یسع (علیہ السلام) اور حضرت ذوالکفل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے دین اسلام کی سر بلندی کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردیا اور اللہ کو راضی کرنے کے لئے عاجزی و انکساری کو اختیار کیا تو اللہ نے ان کو اور ان کے ماننے والوں کو نجات عطاء فرما دی اور جن لوگوں نے بےجا ہٹ دھرمی ، ضد اور غرور وتکبر ، نافرمانی اور کفر و شرک کا راستہ اختیار کیا ان کو دنیا میں ہر طرح کی ذلت و خواری اور آخرت کی ابدی تکلیفوں کو ان کا مقد بنا دیا ۔ مذکورہ آیات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے ہمارے پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ واضح اعلان فرما دیجئے کہ میں تمہیں برے انجام اور عذاب الٰہی سے ڈرانے اور آگاہ کرنے کے لئے آیا ہوں اور اللہ تعالیٰ جو ہر چیز پر غالب ہیں زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ اس کے مالک ہیں ۔ زبردست قوت و طاقت اور بخشنے والے ہیں ان کی طرف بلانے آیا ہوں ، یہ ایک بہت زبردست خبر اور اطلاع ہے جس کو تم مسلسل نظر انداز کر رہے ہو۔ فرمایا کہ یہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اس رب العالمین کی طرف سے بیان کر رہا ہوں جس نے مجھے وحی کے ذریعہ ان تمام باتوں کا علم عطاء فرمایا ہے۔ جب فرشتے اللہ سے پوچھ رہے تھے اور شیطان جھگڑ رہا تھا اس وقت میں وہاں موجود نہیں تھا لیکن مجھے وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں بہت جلد مٹی اور گارے سے ایک ” بشر “ کو پیدا کرنے والا ہوں جب میں اس کو اپنے دست قدرت سے تیار کر کے اس میں جان ڈال دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدہ میں گر پڑنا پھر جب اللہ نے حضرت آد م (علیہ السلام) کو پیدا کر کے ان میں جان ڈال دی تو سب نے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے سجدہ نہیں کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے پوچھا کہ جب میں نے اپنے دست قدرت سے انسان کو پیدا کر کے سجدے کا حکم دیا تھا تو وہ کون سی چیز تھی جس نے تجھے سجدہ کرنے سے روک دیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ تو یا تو غرور وتکبر کا شکار ہوگیا ہے یا تو یہ سمجھنے لگا ہے کہ تیرا درجہ سب سے بلند تر ہے۔ کہنے لگا کہ اصل بات یہ ہے کہ میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور انسان کو مٹی گارے سے بنایا گیا ہے۔ یعنی انسان کو میرے سامنے جھکنا چاہیے تھا میں اس کے سامنے جھکوں گا تو یہ میری توہین ہوگی۔ اللہ نے فرمایا تو اس تکبر اور غرور کی وجہ سے میری نظر سے دور ہوجا ۔ دفع ہوجا کیونکہ تو مردود ہوگیا ہے تو ایک لعنتی ہے قیامت تک تیرے اوپر اس غرور وتکبر کی پھٹکارا اور لعنت برستی رہے گی ۔ کہنے لگا کہ الٰہی میں نے جو کچھ کہا ہے اس کو میں ثابت کر کے دکھا دوں گا لیکن مجھے اس کی مہلت چاہیے۔ اللہ نے فرمایا کہ تجھے قیامت تک مہلت دی جاتی ہے۔ ابلیس نے کہا اے پروردگار مجھے آپ کی عزت کی قسم میں آپ کے نیک اور مخلص بندوں کو چھوڑ کر ہر ایک کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا ۔ اور پھر آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ جس انسان کے سر پر آپ خلافت و ذمہ داری کا تاج رکھ رہے ہیں وہ نہایت نافرمان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں بھی سچا ہوں ، میری ہر بات سچی ہے اور میں سچ ہی کہتا ہوں کہ جو لوگ تیرے بہکائے اور فریب میں آئیں گے میں ان سے جہنم کو بھر دوں گا ۔ آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ آپ بر ملا کہہ دیجئے کہ میرا کام یہ تھا کہ میں اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچا دوں ، نہ تو مجھے تم سے کسی صلے اور بدلے کی توقع ہے نہ میری زندگی کا کوئی انداز بناوٹی ہے بلکہ میں تو اس قرآن کو پہنچانے آیا ہوں جو ساری دنیا کے لوگوں کے لئے نصیحت ہی نصیحت ہے ۔ اگر تم اس کھلی سچائی کے باوجود میری بات نہیں مانتے تو کچھ دن انتظار کرلو پھر ساری حقیقت تمہارے سامنے کھل کر آجائے گی۔ الحمد اللہ سورة ص کی ان آیات کا ترجمہ اور اس کی تفسیر و تشریح مکمل ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 214 تشریح آیات یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور یہ ان مسائل کو دہراتا ہے جو اس سورت کے اغاز میں دہرائے گئے تھے۔ مسئلہ توحید ، مسئلہ وحی الہٰی ، مسئلہ جزاء وسزا ، حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصے کو ثبوت وحی کے لیے پیش کیا جاتا ہے کیونکہ رسولوں کا بھیجنا اس وقت طے ہوگیا تھا جب اللہ تخلیق آدم کے بارے میں فرشتوں کو بتارہا تھا۔ نیز اسی دن یہ طے ہوگیا تھا کہ ہدایت وضلالت کی راہ اختیار کرنے کا حساب اللہ لے ھا اور جزاء وسزا ہوگی ۔ اس قصے میں یہ بھی بتایا گیا ہے۔ انسان کے ساتھ شیطان کو روزازل سے حسد اور کینہ ہے اس نے روزاول سے اپنے آپ کو انسانی سے افضل سمجھا۔ یوں معرکہ آدم وابلیس شروع ہوا اور یہ معرکہ ہمیشہ جاری ہے اور قیامت تک یہ جنگ سرد نہیں پڑسکتی۔ کوئی فریق ہتھیار نہ ڈالے گا۔ شیطان کا ہدف یہ ہے کہ وہ انسانوں کی بڑی تعداد کو گمراہ کردے تاکہ وہ ان کو جہنم رسید کردے اور یہ وہاں اس کے ساتھی ہوں۔ یہ شیطان کی طرف سے انسان سے انتقام ، ان کے باپ سے انتقام ہے ، اس نے آدم کو جنت سے نکالا لیکن تعجب ہے کہ ابن ادم اس کھلی دشمنی کے باوجود شیطان کی اطاعت قبول کرتا ہے۔ سورت کا اختتام وحی الہٰی کے مضمون پر ہوتا ہے۔ انسان کے لیے وحی الہٰی کی اہمیت بہت ہی عظیم ہے۔ جبکہ تکذیب کرنے والے غافل وحی الہٰی کی اہمیت کو سمجھ نہیں پا رہے۔ آیت نمبر 65 تا 66 ان مشرکین سے کہو ، جن پر تحریک کی وجہ سے دہشت طاری ہوگئی اور یہ لوگ حیران ہوکر کہتے ہیں۔ اجعل الالھة الٰھا واحدا۔۔۔۔ ان ھذالشیء عجاب (38: 5) ” کیا اس نے تمام الہوں کے بجائے ایک الہہ اختیار کرلیا ہے۔ ۔۔۔۔ یہ تو عجیب چیز ہے “۔ ان سے کہو کہ یہی تو حقیقت عظمی ہے۔ ومامن اله لا اللہ الواحد القھار (38: 65) ” کوئی معبود نہیں مگر اللہ جو یکتا سب پر غالب “۔ اور ان سے صاف صاف کہہ دیں کہ اختیارات میرے پاس نہیں ہیں۔ میرے ذمے جو کام ہے وہ صرف یہ ہے کہ میں لوگوں کو ڈراؤں اور اس سے بعد اللہ واحد اور قہار پر ان کا انجام چھوڑ دوں جو رب اسمٰوٰت والارض وما بینھما (38: 66) ” جو زمین و آسمان اور ان ساری چیزوں کا رب ہے جو ان کے درمیان ہیں “۔ لہٰذا اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے اور زمین و آسمان میں کسی کے لیے اس کے دربار کے سوا جائے پناہ نہیں ہے۔ وہ عزیز ہے ، قوی ہے ، اور وہ گناہوں کا بخشنے والا ، وہ درگزر فرمانے والا ہے۔ جو لوگ توبہ کرکے اس کی پناہ گاہ میں آتے ہیں وہ محفوظ ہوجاتے ہیں۔ اور اس کے تو بہت عظیم نتائج ، انقلابی نتائج نکلنے والے ہیں مگر تم غافل ہو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، وہ واحد قہار ہے، مالک ارض و سماء ہے، عزیز و غفار ہے ان آیات میں توحید اور رسالت کا اثبات فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں۔ آپ کو خطاب فرمایا کہ اپنے مخاطبین سے فرما دیں کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں زبردستی کسی سے ایمان قبول کرانے والا نہیں، پھر توحید کی دعوت دی کہ معبود صرف ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو اپنی ذات وصفات میں تنہا بھی ہے اور قہار بھی ہے یعنی وہ سب پر غالب ہے تکوینی طور پر اس کی قضاء اور قدر کے مطابق سب کچھ وجود اور ظہور میں آتا ہے وہ آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا بھی، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے پروردگار عالم جل مجدہٗ کو چھوڑ کر تم جو کسی دوسرے کی عبادت کر رہے ہو یہ حماقت اور ضلالت ہے، پھر یہ بھی سمجھ لو کہ وہ عزیز بھی ہے یعنی غلبہ والا ہے اسے تمہاری گرفت فرمانے اور عذاب دینے پر پوری پوری قدرت ہے، وہ غالب ہے اور سب مغلوب ہیں لیکن اگر تم کفر و شرک سے توبہ کرلو گے تو وہ بخشش دے گا کیونکہ وہ غفار یعنی بہت بڑا بخشنے والا بھی ہے۔ اس کے بعد آپ کی نبوت کی ایک دلیل بیان فرمائی کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں یہ جو کچھ میں نے اپنی رسالت کی خبر دی ہے اور تمہیں یہ بتایا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں یہ بہت بڑی خبر ہے تمہیں اس کی طرف متوجہ ہونا لازم تھا لیکن تم اس سے اعراض کر رہے ہو تم یہ تو دیکھو کہ میں جو ملا اعلیٰ کی خبریں دیتا ہوں یہ خبریں میرے پاس کہاں سے آگئیں نہ میں نے پرانی کتابیں پڑھی ہیں نہ اہل کتاب سے میرا میل جول رہا ہے یہ باتیں جو میں بتاتا ہوں جن کی اہل کتاب تصدیق کرتے ہیں اور تمہارے سامنے بھی میری بتائی خبروں کا صحیح طور پر ظہور ہوتا رہتا ہے یہ علم مجھے کہاں سے ملا ؟ ظاہر ہے کہ یہ سب مجھے وحی کے ذریعہ سے ملا ہے، اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا پھر فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا اور ابلیس سجدہ کرنے سے منکر ہوا ان باتوں کی جو میں نے خبر دی ہے مجھے ان کا کچھ علم نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے فرشتوں سے یوں فرمانا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں پھر ان کا اس پر سوال اٹھانا پھر آدم (علیہ السلام) کے مقابلہ میں چیزوں کے نام بتانے سے عاجز ہو کر (سُبْحٰنَکَ لاَ عِلْمَ لَنَآ اِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا) کہنا (کما مرّ فی سورة البقرۃ وھذا داخل فی الاختصام لأن قولہ تعالیٰ اذ قال ربک للملئکۃ بدل من قولہ تعالیٰ اذ یختصمون کما ذکرہ صاحب الروح) یہ سب تفصیل مجھے صرف وحی سے معلوم ہوئی ہے اس سے پہلے ان چیزوں کو بالکل نہیں جانتا تھا تم اپنے ہوش کی دوا کرو اور بات کو سمجھو اور میری نبوت کے انکار سے باز آؤ میں دوبارہ واضح طور پر تمہیں بتاتا ہوں کہ میری طرف دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں یہی وحی آئی ہے کہ میں واضح طور پر ڈرانے والا ہی ہوں میری بات نہ مانو گے تو اپنا برا کرو گے میں تم سے زبردستی قبول نہیں کراسکتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

44:۔ ” قُلْ اِنَّمَا۔ تا۔ اَلْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ “۔ دلائل عقلی و نقلی اور وحی کے بعد دعوی سورت کا بصراحت ذکر ہے۔ دلائل سابقہ سے ثابت ہوگیا کہ انبیاء (علیہم السلام) تو بوقت مصائب خود اللہ کو پکارتے اور اس کے سامنے عاجزی کرتے ہیں۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہی ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق، کارساز، اپنی صفات میں یگانہ اور سب پر غالب ہے۔ ساری کائنات کا مالک اور سارے جہاں میں متصرف و مختار وہی ہ۔ جو چفاہتا ہے کرتا ہے اور اس کی بارگاہ میں کوئی شفیع قاہر نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(65) اے پیغمبر آپ ان منکرین توحید و رسالت سے کہہ دیجئے کہ میں تو بس صرف ڈرانے والا ہوں اور سنا نے والا ہوں اور سوائے اللہ تعالیٰ کے جو یکتا ویگانہ سب پر غالب ہے اور کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ یعنی میں تو صرف ایک پیغمبر ہوں جو نافرمانوں اور سرکشوں کو ڈراتا ہوں یہ تو رسالت کی بات ہے اور توحید الٰہی ایک امر حق ہے اس کے متعلق یہ بات ہے کہ سوائے اس اللہ تعالیٰ کے جو واحد اور سب پر غالب اور کوئی معبود نہیں نہ کوئی لائق پرستش ہے۔