Commentary A Gist of the Subjects of the Surah In verse 65, it was said: قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنذِرٌ (Say, “ I am only a warner) At the beginning of the Surah, you have seen that the real objective of this Surah was the affirmation of the prophethood of the noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) refutation of what the disbelievers said. In this connection, events relating to blessed prophets of the past were mentioned for two reasons. Firstly, that they bring comfort to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and that he too observes patience against the absurd allegations leveled by those who disbelieved - the same patience as observed by the blessed prophets before him. Secondly, that those who were denying the credentials of a true prophet should themselves learn their lesson through these events. After that, another method was used to invite the disbelievers to Islam. For this purpose, their attention was drawn to the good end of the believers, as opposed to the severe punishment awaiting disbelievers, while they were also warned that the people they were following were the ones who were prompting them to belie the true messenger of Allah, and the same people will refuse to help you in any way on the Day of Judgment, in fact, they would paint you black and you would curse them. After a delineation of these subjects, the text has, in the concluding part, reverted to the main purpose, that is, it takes up the confirmation of prophethood of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . In this process, along with a presentation of necessary arguments, a compassionate invitation to believe has also been given.
خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ (تم جو رسالت اور توحید کے مسئلہ میں تکذیب و انکار کرتے ہو تو تمہارا ہی نقصان ہے میرا کچھ ضرر نہیں، کیونکہ) میں تو (تم کو صرف عذاب خداوندی سے) ڈرانے والا (پیغمبر) ہوں۔ اور (جیسے میرا رسول اور منذر ہونا واقعی ہے اسی طرح توحید بھی برحق ہے، یعنی) بجز اللہ واحد غالب کے کوئی لائق عبادت کے نہیں ہے، وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے درمیان میں ہیں (اور وہ) زبردست (اور گناہوں کا) بڑا بخشنے والا ہے۔ (اور چونکہ توحید کو تو کسی درجہ میں وہ لوگ مانتے بھی تھے اور رسالت کے بالکل ہی منکر تھے، اس لئے رسالت کی مزید تحقیق کے لئے ارشاد ہے کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کہہ دیجئے کہ یہ (یعنی اللہ تعالیٰ کا مجھ کو توحید اور احکام شریعت کی تعلیم کے لئے رسول بنانا) ایک عظیم الشان مضمون ہے جس (کا تم کو بڑا اہتمام چاہئے تھا، مگر افسوس کہ اس) سے تم (بالکل ہی) بےپروا ہو رہے ہو (اور اس کے عظیم الشان مضمون ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا اعتقاد رکھے بغیر حقیقی سعادت کا حصول ناممکن ہے۔ آگے آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت ثابت کرنے کی ایک دلیل ہے۔ وہ یہ کہ) مجھ کو عالم بالا (کی بحث و گفتگو) کی (کسی ذریعہ سے) کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ وہ (تخلیق آدم کے بارے میں جس کی تفصیل آگے آتی ہے، اللہ تعالیٰ سے) گفتگو کر رہے تھے (اب میں جو اس گفتگو کا واقعہ بتارہا ہوں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ مجھے یہ واقعہ کہاں سے معلوم ہوا ؟ میں نے بچشم خود تو اسے دیکھا نہیں، اہل کتاب سے بھی میرا ایسا میل جول نہیں کہ ان سے معلوم کرلیتا، یقینا مجھے یہ علم وحی کے ذریعہ ہی حاصل ہوا ہے، لہٰذا ثابت ہوگیا کہ) میرے پاس (جو) وحی (آتی ہے جس سے عالم بالا کے احوال بھی معلوم ہوتے ہیں، تو) محض اس سبب سے آتی ہے کہ میں (منجانب اللہ) صاف صاف ڈرانے والا (کر کے بھیجا گیا) ہوں (یعنی چونکہ مجھے پیغمبری ملی ہے، اس لئے وحی نازل ہوتی ہے۔ پس واجب ہے کہ تم میری رسالت کی تصدیق کرو۔ اور عالم بالا کی اللہ تعالیٰ سے گفتگو جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا ہے اس وقت ہوئی تھی) جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں گارے سے ایک انسان کو (یعنی اس کے پتلے کو) بنانے والا ہوں، سو میں جب اس کو (یعنی اس کے جسمانی اعضاء کو) پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی (طرف سے) جان ڈالوں تو تم سب اس کے روبرو سجدہ میں گر پڑنا، سو (جب اللہ تعالیٰ نے اس کو بنا لیا تو) سارے کے سارے فرشتوں نے (آدم (علیہ السلام) کو) سجدہ کیا، مگر ابلیس نے کہ وہ غرور میں آ گیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس جس چیز کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا (یعنی جس چیز کو وجود میں لانے کے لئے خاص عنایت ربانی متوجہ ہوئی، پھر اس کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو) اس کو سجدہ کرنے سے تجھ کو کون سی چیز مانع ہوئی، کیا تو غرور میں آ گیا ؟ (اور واقع میں بڑا نہیں ہے) یا یہ کہ تو (واقع میں ایسے) بڑے درجہ والوں میں سے ہے (جس کو سجدہ کا حکم کرنا ہی زیبا نہیں) کہنے لگا کہ (دوسری بات صحیح ہے، یعنی) میں آدم سے بہتر ہوں (کیونکہ) آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے۔ اور اس (آدم) کو خاک سے پیدا کیا ہے (پس مجھ کو حکم دینا کہ اس کے سامنے سجدہ کروں حکمت کے خلاف ہے) ارشاد ہوا تو (اچھا پھر) آسمان سے نکل کیونکہ بیشک تو (اس حرکت سے) مردود ہوگیا اور بیشک تجھ پر میری لعنت رہے گی قیامت کے دن تک (اور اس کے بعد مورد رحمت ہونے کا احتمال نہیں ہے) کہنے لگا (کہ اگر مجھ کو آدم کی وجہ سے مردود کیا ہے) تو پھر مجھ کو (مرنے سے) مہلت دیجئے قیامت کے دن تک (تاکہ ان سے اور ان کی اولاد سے خوب بدلہ لوں) ارشاد ہوا (جب تو مہلت مانگتا ہے) تو (جا) تجھ کو معین وقت کی تاریخ تک مہلت دی گئی، کہنے لگا (جب مجھ کو مہلت مل گئی) تو (مجھ کو بھی) تیری (ہی) عزت کی قسم (ہے) کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا بجز آپ کے ان بندوں کے جو ان میں منتخب کئے گئے ہیں (یعنی آپ نے ان کو میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے) ارشاد ہوا کہ میں سچ کہتا ہوں اور میں تو (ہمیشہ) سچ ہی کہا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیرا ساتھ دے ان سب سے دوزخ بھر دوں گا۔ (سورت کی ابتدائی آیات سے واضح ہے کہ اس سورت کا بنیادی مقصد آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اثبات ہے۔ اس موضوع پر دلائل تو دیئے جا چکے، اب ناصحانہ طریقہ پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ہے) آپ (بطور اتمام حجت کے) کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس (قرآن کی تبلیغ) پر نہ کچھ معاوضہ چاہتا ہوں اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں (کہ بناوٹ کی راہ سے نبوت کا دعویٰ کیا ہو، اور غیر قرآن کو قرآن کہہ دیا ہو۔ یعنی اگر جھوٹ بولتا تو اس کا منشاء یا تو کوئی مادی نفع ہوتا جیسے معاوضہ، یا کوئی طبعی عادت ہوتی جیسے تکلف، سو یہ دونوں باتیں نہیں بلکہ فی الواقع) یہ قرآن تو (اللہ کا کلام اور) دنیا جہان والوں کے لئے بس ایک نصیحت ہے (جس کی تبلیغ کے لئے مجھ کو نبوت ملی ہے اور جس میں سراسر تمہارا ہی نفع ہے) اور (اگر حق کے واضح ہونے کے باوجود بھی تم نہیں مانتے تو) تھوڑے دنوں پیچھے تم کو اس کا حال معلوم ہوجاوے گا (یعنی مرنے کے ساتھ ہی حقیقت کھل جائے گی کہ یہ حق تھا اور اس کا انکار باطل تھا، مگر اس وقت معلوم ہونے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا) معارف ومسائل خلاصہ مضامین سورت : (آیت) قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ۔ سورت کے شروع میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ اس سورت کا اصل مقصد آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اثبات اور کفار کی تردید ہے، اسی ضمن میں انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات دو وجہ سے ذکر کئے گئے تھے۔ ایک یہ کہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی ہو اور سابقہ انبیاء (علیہم السلام) کی طرح آپ بھی کفار کی بےہودہ باتوں پر صبر فرمائیں۔ دوسرے یہ کہ ان واقعات سے خود وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو ایک نبی برحق کی رسالت کا انکار کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور طریقے سے کفار کو دعوت اسلام دی گئی اور وہ اس طرح کہ مومنوں کی نیک انجامی اور کافروں کے عذاب شدید کا نقشہ کھینچا گیا۔ اور اس بات پر تنبیہ کی گئی کہ جن لوگوں کی اتباع میں تم آج افضل الرسل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کر رہے ہو، آخرت کے دن وہی لوگ تمہاری مدد سے دستبردار ہوجائیں گے، وہ تمہیں برا بھلا کہیں گے اور تم ان پر لعنت بھیجو گے۔ ان تمام مضامین کے بعد آخر میں پھر اصل مدعا یعنی اثبات رسالت کا بیان کیا گیا ہے، اور دلائل پیش کرنے کے ساتھ ناصحانہ انداز میں دعوت بھی دی گئی ہے۔