Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 67

سورة ص

قُلۡ ہُوَ نَبَؤٌا عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۶۷﴾

Say, "It is great news

آپ کہہ دیجئے کہ یہ بہت بڑی خبر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Say: "That (this Qur'an) is a great news," means, `something very important, which is that Allah has sent me to you. أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

67۔ 1 یعنی میں تمہیں جس عذاب اخروی سے ڈرا رہا اور توحید کی دعوت دے رہا ہوں یہ بڑی خبر ہے، جس سے اعراض و غفلت نہ برتو، بلکہ اس پر توجہ دینے اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِيْمٌ : پچھلی آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور معبود صرف اللہ ہے جو مذکورہ صفات کا مالک ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں اللہ کے عذاب سے اور قیامت سے ڈراتے تھے، جس پر وہ فوراً مطالبہ کرتے کہ وہ عذاب لاؤ، قیامت لے آؤ، یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ یہاں ان کا سوال ذکر کیے بغیر اس کا جواب دینے کا حکم دیا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ وہ قیامت بہت بڑی خبر اور بہت بڑا واقعہ ہے جس سے تم منہ موڑنے والے ہو۔ رہا مجھ سے یہ سوال کہ وہ کب آئے گی ؟ تو یہ بتانا میرا کام نہیں، قیامت تو بہت دور کی بات ہے، مجھے تو آسمانوں پر فرشتوں کی مجلس میں ہونے والی بات چیت اور بحث کا بھی کبھی علم نہیں ہوتا، سوائے اس کے جو میری طرف وحی کی جائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ ہُوَنَبَؤٌا عَظِيْمٌ۝ ٦٧ۙ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے عظیم وعَظُمَ الشیء أصله : كبر عظمه، ثم استعیر لكلّ كبير، فأجري مجراه محسوسا کان أو معقولا، عينا کان أو معنی. قال : عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] ، قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] ، ( ع ظ م ) العظم عظم الشئی کے اصل معنی کسی چیز کی ہڈی کے بڑا ہونے کے ہیں مجازا ہر چیز کے بڑا ہونے پر بولا جاتا ہے خواہ اس کا تعلق حس سے یو یا عقل سے اور عام اس سے کہ وہ مادی چیز ہو یا معنو ی قرآن میں ہے : ۔ عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] بڑے سخت دن کا عذاب ) تھا ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] کہہ دو کہ وہ ایک سخت حادثہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٧۔ ٦٩) آپ ان سے فرما دیجیے کہ یہ قرآن کریم ایک معزز و مکرم مضمون ہے جس میں اولین و آخرین کے واجبات ہیں اور تم اس کی تکذیب کر کے بالکل ہی اسے پس پشت ڈال رہے ہو جبکہ میں رسول نہیں تھا تو مجھے تو فرشتوں کی گفتگو کی جو کہ وہ تخلیق آدم اور فساد انسان کے بارے میں کر رہے ہیں کچھ بھی خبر نہ تھی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٧ { قُلْ ہُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌ } ” آپ کہہ دیجیے کہ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:67) قل کو مکرریہ بتانے کے لیے لایا گیا ہے کہ جو بات کہی جا رہی ہے وہ ایک عظیم الشان اور جلیل القدر امر ہے۔ ھو : ای ما انباتکم بہ من کوئی رسولا منذرا وان اللہ تعالیٰ واحدا لا شریک لہ۔ یعنی جو میں اپنے رسول من اللہ ہونے اور ڈرانے والا ہونے کیء متعلق اور اللہ کے واحد لاشریک ہونے کے متعلق تم کو بتارہا ہوں وہ (ایک عظیم خبر ہے) یعنی یہ مضمون رسالت و توحید ۔ بعض کے نزدیک ھو کا مرجع قرآن کریم ہے۔ نبؤ اعظیم موصوف وصفت۔ ای خبر ذو فائدہ عظمیۃ جدا لاریب فیہ اصلا ایک بہت بڑے فائدہ کی خبر میں ہرگز کوئی شک نہیں۔ بعض کے نزدیک ھو سے مراد روز قیامت ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے عم یتساء لون عن النبا العظیم (78:12) یہ لوگ کسی چیز کی نسبت پوچھتے ہیں کیا بڑی خبر کی نسبت (یعنی کیا یہ روز قیامت کی نسبت پوچھتے ہیں۔ بعض نے اس سے مراد بھی قرآن لیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی یہ خبر جو میں تمہیں آخرت کے عذاب کی دے رہا ہوں بڑی ہولناک خبر ہے یا یہ قرآن کا اترنا ایک عظیم الشان واقعہ ہے۔ واضح رہے کہ ” نبا “ کے معنی کسی اہم خبر یا واقعہ کے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 67 تا 68 کہہ دو قرآن کریم اپنے موجودہ زمانے اور مستقبل قریب کی بہ نسبت آگے چل کر بہت ہی عظیم نتائج پیدا کرنے والا ہے۔ اس کائنات میں یہ امر الہٰی ہے۔ اور اس کا تعلق اس پوری کائنات کے عظیم معاملات میں سے ہے۔ یہ اس کائنات میں جاری وساری نظام قضاو قدر سے متعلق ہے۔ یہ قرآن اور اس کا نزول زمین و آسمانوں کے معاملات سے کوئی علیحدہ فیصلہ نہیں ہے۔ اس سے ماضی (ان سے کہو) ” مجھے اس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہورہا تھا۔ بعید کے امور بھی متعلق ہیں اور مستقبل کی تبدیلیاں بھی اس کے نتیجے میں ہوں گی۔ یہ تو ایک عظیم شہ سرخی ہے۔ یہ عظیم خبر قریش سے بھی آگے بڑھنے والی یہ مدین اور جزیرۃ العرب سے بھی آگے پھیلنے والی ہے۔ یہ اس وقت کی موجود نسل سے بھی آگے آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک شہ سرخی ہے۔ یہ خبر زمان و مکان میں محدود رہنے والی نہیں ہے۔ یہ انسانیت کے مستقبل کے زمانوں میں اور تمام اقطار عالم میں انقلاب برپا کرنے والی خبر ہے۔ اور یہ انسانیت کے حالات اور مسائل کو اس وقت تک متاثر کرتی رہے گی جب تک قیامت برپا نہیں ہوجاتی ۔ نظام کائنات میں اس خبر کے لیے جو وقت مقرر تھا۔ یہ خبر بعینہ اپنے وقت پر نشر ہوئی تاکہ اس کے ذریعے دنیا کے اندر وہ تغیرات پیدا ہوں جو اللہ چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دست قدرت نے اس بناء عظیم کے ذریعے انسانیت کے سفر کے لیے جو راہ متعین کی ہے اور جس طرح انسانیت کو صراط مستقیم پر ڈالا ہے اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو وہ انقلابی تغیرات ثابت ہوں گے۔ ان لوگوں پر تو یہ اثرات ہوئے جو ماننے والے تھے لیکن اس سے وہ لوگ بھی متاثر ہوئے جو نہ ماننے والے تھے بلکہ جو مخالف تھے۔ نزول قرآن کے دور میں جانی والی نسلیں بھی اس سے متاثر ہوئیں اور بعد میں آنے والے بھی اس سے متاثر ہوئے۔ پوری انسانی تاریخ پر کسی بات ، کسی خبر نے اس قدر گہرے اثرات مرتب نہیں کیے ہیں جس طرح قرآن نے کیے۔ قرآن نے دنیا کو اعلیٰ اقدار اور برتر تصورات عطا کیے۔ اس دنیا کو ضابطہ اخلاق ، ضابطہ قانون اور بین الاقوامی قانون دیا۔ اور یہ قوانین اور انتظامات پوری انسانیت کے لیے تھے۔ ان اقدار اور ضابطہ عمل کے بارے میں عربوں نے تو سوچا ہی نہ تھا۔ عربوں نے کبھی یہ نہ سوچا تھا اور نہ سوچ سکتے تھے کہ اس عظیم خبر کے نتیجے میں روئے زمین پر اس قدر تغیرات واقع ہوں گے۔ تاریخ کا دھارا بدل جائے گا۔ اس زندگی کا نقشہ اللہ کی تقدیر کے مطابق بدل جائے گا۔ انسان کے ضمیرو شعور اور اس کے حالات میں انقلاب برپا ہوجائے گا۔ اور یہ تغیرات اس لائن پر ہوں گے جس پر یہ پوری جائنات چل رہی ہے اور یہ کہ یہ خبر دراصل اس سچائی کی خبر ہے جس کے اوپر یہ کائنات چل رہی ہے اور قیامت تک زندگی نے اب اس طرح چلنا ہے اور اس طرح اس بناء عظیم نے انسانوں کی قسمت کو بدلنا ہے۔ آج مسلمانوں کا ردعمل اس خبر پر وہی ہے جس طرح ابتداء میں عربوں کا تھا۔ وہ یہ نہ سمجھ پائے کہ اس خبر کا تعلق روح کائنات کے ساتھ ہے۔ آج مسلمان بھی یہ نہیں سمجھتے کہ یہ بناء عظیم اسی سچائی کی حامل ہے جس پر یہ کائنات قائم ہے۔ مسلمان اس کائنات پر اسکے اثرات کو اس طرح پیش نہیں کرتے ۔ جس طرح فی الواقع وہ اثرات مرتب ہوئے۔ انسانی تاریخ پر وہ قرآنی نظریہ اور قرآنی زاویہ سے نگاہ نہیں ڈالتے بلکہ وہ انسانی اور خود اپنی تاریخ اور اس عظیم خبر کو ان لوگوں کی عینک لگا کر پڑھتے ہیں جو اسے سرے سے درست ہی نہیں سمجھتے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس کرۂ ارض پر نہ اپنے ماضی کے کردار کو سمجھتے ہیں ، نہ اپنے حالیہ کردار کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور نہ مستقبل میں جو کردار انہوں نے ادا کرنا ہے اسکو سمجھے ہیں حالانکہ قیامت تک یہ کر ادار ادا کرنا ان کا فریضہ ہے۔ ابتدائی دور کے عرب یہ سمجھتے تھے کہ یہ معاملہ عربوں کا ہے ، قریش کا ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے۔ اور صرف یہ ہے کہ عربوں سے محمد نامی شخص کو نبی چن لیا گیا حالانکہ ان کے خیال میں وہ کوئی بڑا آدمی نہ تھا۔ ان کے ارادے اور ان کی سوچ اس قدر محدود شکل میں تھی۔ قرآن کریم ان سے کہتا ہے کہ یہ کوئی میونسپل مسئلہ نہیں ہے ، یہ تو بہت ہی عظیم امر ہے۔ یہ محمد ابن عبد اللہ کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ تو صرف اس عظیم خبر کو نشر کرنے والے ہیں ۔ یہ خود اس کے موجد بھی نہیں ہیں۔ وہ صرف وہ بات کہہ رہے ہیں جس کے بارے میں ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اس عظیم خبر کا اعلان کردو۔ محمد کو کیا پتہ کہ آغاز میں اللہ نے تخلیق انسانیت کے بارے میں کیا مکالمہ کیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45:۔ ” قُلْ ھُوَ الخ “۔ ضمیر ” ھُوَ “ آیات سابقہ کے مضمون یعنی دعوت توحید سے کنایہ ہے۔ یعنی مسئلہ توحید ایک نہایت اہم اور عظیم الشان امر ہے جس کی میں تمہیں بامر الٰہی خبر دے رہا ہوں اور وہ اس لائق ہے کہ اسے دل و جان سے قبول کیا جائے۔ اور اس سے تغافل نہ کیا جائے لیکن تم اپنی کم عقلی اور بدبختی سے اس کو پس پشت ڈال رہے ہو (ھُوَ ) ای ھذا الذی انباتکم بہ من کونی رسولا منذرا وان اللہ واحد لا شریک لہ (روح، مدارک) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(67) آپ یہ بھی کہہ دیجئے کہ یہ خبر ایک بڑے واقعہ کی خبر ہے۔