Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 74

سورة ص

اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اِسۡتَکۡبَرَ وَ کَانَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۴﴾

Except Iblees; he was arrogant and became among the disbelievers.

مگر ابلیس نے ( نہ کیا ) ، اس نے تکبر کیا اور وہ تھا کافروں میں سے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers. قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْعَالِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

74۔ 1 اگر ابلیس کو صفات ملائکہ سے متصف مانا جائے تو یہ استثنا متصل ہوگا یعنی ابلیس اس حکم سجدہ میں داخل ہوگا بصورت دیگر یہ استثنا منقطع ہے یعنی وہ اس حکم میں داخل نہیں تھا لیکن آسمان پر رہنے کی وجہ سے اسے بھی حکم دیا گیا۔ مگر اس نے تکبر کی وجہ سے انکار کردیا۔ 74۔ 2 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت اور اس کی اطاعت سے استکبار کی وجہ سے وہ کافر ہوگیا۔ یا اللہ کے علم میں وہ کافر تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٩] فرشتوں کو سیدنا آدم کو سجدہ کا حکم :۔ اللہ تعالیٰ کے آدم کو مٹی سے بنانے، اس میں اپنی روح پھونکنے، فرشتوں کو آدم کو سجدہ کا حکم دینے ابلیس کی حقیقت اور اس کے آدم کو سجدہ سے انکار کرنے کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ مثلاً سورة بقرہ کا چوتھا رکوع، سورة حجر کی آیات ٢٥ تا ٤٣، سورة اعراف آیات ١١ تا ١٥، سورة بنی اسرائیل آیات ٦١ تا ٦٥، سورة کہف آیت نمبر ٥٠، سورة طہٰ آیات نمبر ١١٦ تا ١٢٣ میں گزر چکی ہے۔ اور نظریہ ارتقاء کی تردید کے لئے سورة حجر کا حاشیہ نمبر ١٩ ملاحظہ فرمائیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِلَّآ اِبْلِيْسَ۝ ٠ۭ اِسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ۝ ٧٤ بلس الإِبْلَاس : الحزن المعترض من شدة البأس، يقال : أَبْلَسَ ، ومنه اشتق إبلیس فيما قيل . قال عزّ وجلّ : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ [ الروم/ 12] ، وقال تعالی: أَخَذْناهُمْ بَغْتَةً فَإِذا هُمْ مُبْلِسُونَ [ الأنعام/ 44] ، وقال تعالی: وَإِنْ كانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ [ الروم/ 49] . ولمّا کان المبلس کثيرا ما يلزم السکوت وينسی ما يعنيه قيل : أَبْلَسَ فلان : إذا سکت وإذا انقطعت حجّته، وأَبْلَسَتِ الناقة فهي مِبْلَاس : إذا لم ترع من شدة الضبعة . وأمّا البَلَاس : للمسح، ففارسيّ معرّب «1» . ( ب ل س ) الا بلاس ( افعال ) کے معنی سخت نا امیدی کے باعث غمگین ہونے کے ہیں ۔ ابلیس وہ مایوس ہونے کی وجہ سے مغمون ہوا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسی سے ابلیس مشتق ہے ۔ قرآن میں ہے : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ [ الروم/ 12] اور جس دن قیامت بر پا ہوگی گنہگار مایوس مغموم ہوجائیں گے ۔ أَخَذْناهُمْ بَغْتَةً فَإِذا هُمْ مُبْلِسُونَ [ الأنعام/ 44] توہم نے ان کو نا گہاں پکڑلیا اور وہ اس میں وقت مایوس ہوکر رہ گئے ۔ وَإِنْ كانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ [ الروم/ 49] اور بیشتر تو وہ مینہ کے اترنے سے پہلے ناامید ہو رہے تھے ۔ اور عام طور پر غم اور مایوسی کی وجہ سے انسان خاموش رہتا ہے اور اسے کچھ سوجھائی نہیں دیتا اس لئے ابلس فلان کے معنی خاموشی اور دلیل سے عاجز ہونے ب کے ہیں ۔ الاسْتِكْبارُ والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة . والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين : أحدهما : أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود . والثاني : أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن . وهو ما قال تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] . ( ک ب ر ) کبیر اور الکبر والتکبیر والا ستکبار کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں پس کہر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے ۔ الاستکبار ( استتعال ) اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ۔ ا یک یہ کہ انسان بڑا ببنے کا قصد کرے ۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو ۔ جس پر تکبر کرنا انسان کو سزا وار ہے تو محمود ہے ۔ دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا ) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں ۔ یہ مدموم ہے ۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے ؛فرمایا ؛ أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٤ { اِلَّآ اِبْلِیْسَ اِسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ } ” سوائے ابلیس کے ‘ اس نے تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ “ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ کافروں میں سے تھا۔ کفر اور تکبر اس کے اندر پہلے سے موجود تھا جو اس موقع پر کھل کر سامنے آگیا۔ جیسے غزوہ احزاب کے موقع پر بہت سے منافقین کا نفاق واضح ہو کر ان کی زبانوں پر آگیا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

63 For explanation, see ALBaqarah: 34, AI-Kahf: 50 and the E.N.'s." thereof.

سورة صٓ حاشیہ نمبر :63 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، ص 66 ۔ جلد سوم ، ص 30 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:74) الا ابلیس اسکتبر وکان من الکفرین : استکبر ماضی واحد مذکر غائب استکبار (استفعال) مصدر سے ۔ وہ بڑا مغرور ہوگیا ۔ یعنی کسی استحقاق کے گھمنڈ میں آگیا۔ کان کے دو معنی ہوسکتے ہیں :۔ (1) کان بمعنیصار۔ یعنی ہوگیا۔ یعنی اللہ کے حکم کے مقابلہ میں اس نے غرور کیا اور اطاعت حکم سے اس نے اپنے آپ کو اونچا سمجھا اور اس طرح کافروں میں سے ہوگیا۔ (2) کان بمعنی تھا۔ یعنی اللہ کے علم میں وہ پہلے ہی کافروں میں سے تھا۔ اگر معنی نمبر (1) لئے جاویں تو الا ابلیس مستثنیٰ متصل ہوگا۔ اور وہ ملائکہ کے زمرہ میں (بحیثیت جنس کے نہیں بحیثیت مصاحبت) شمار ہوگا۔ اور اگر معنی نمبر (2) لئے جاویں تو استثناء منقطع ہوگا تو استثناء منقطع ہوگا۔ (الا حرف استثناء اور ابلیس مستثنی الملئکۃ مستثنی منہ)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے کافر ہوگیا۔ یا کافروں ہی میں سے تھا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” یہ جن تھا وہ اکثر خدا کے حکم کے منکر تھے لیکن اب رہنے لگا تھا فرشتوں میں۔ ( موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 74 کیا ابلیس فرشتوں میں سے تھا ؟ ظاہر یہ ہے کہ نہ تھا۔ کیونکہ اگر یہ فرشتوں میں سے ہوتا تو معصیت کیسے کرتا اس لیے کہ فرشتے تو اللہ کے اوامر سے معصیت نہیں کرتے اور ان کو جو بھی حکم دیا جاتا ہے۔ اسے وہ کر گزرتے ہیں۔ آئندہ یہ بات آئے گی یہ آگ سے پیدا شدہ مخلوق ہے۔ اور یہ بات معقول ہے کہ فرشتے نور سے پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن وہ فرشتوں میں رہتا تھا۔ اور اسے بھی حکم دیا گیا تھا کہ سجدہ کرو۔ اور حکم دیتے وقت صرف فرشتوں کا تذکرہ ہوا۔ اور اس کا تذکرہ نہ ہوا یعنی ” یہ نہیں کہا اے فرشتو اور شیطان سجدہ کرو “۔ اس لیے کہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ نافرمانی کرے گا لہٰذا اسے نظر انداز کرنے کے لیے ایسا کیا گیا۔ ہمیں تب معلوم ہوا کہ شیطان کو بھی سجدے کا حکم دیا گیا تھا جب اس پر عتاب نازل ہوا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

48:۔ ” الا ابلیس الخ “ یہ جنات کا حال ہے کہ ابلیس جو بہت بڑے اور اونچے رتبے کا مالک تھا۔ بڑا عبادت گذار اور مقرب تھا۔ (شعر) صد ہزاراں سال ابلیس لعیں۔ بود از ابدال امیر المؤمنون۔ لیکن اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے ملعون و مطرود ہوا۔ اس لیے وہ بھی شفیع غالب نہیں بن سکتا۔ یا اس کا ربط یہ ہے کہ دیکھو شیطان کی پیروی نہ کرو اور دعوی توحید کو مان لو۔ ” اِسْتَکْبَرَ ۔ ابلیس نے تکبر کیا۔ اور آدم خاکی کو اپنے مرتبے سے کم جان کر حقیر سمجھا۔ وَکَانَ ، ای و صار منہم باستکبارہ و تعاظمہ علی امر اللہ تعالیٰ (روح ج 23 ص 225) ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں غرور و استکبار کی وجہ سے کافر ہوگیا یا ” کان “ اپنے اصل ہی پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ابلیس علم الٰہی میں تھا ہی کافر۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس سے استکبار کا صدور ہوگا۔ ویجوز ان یکون المعنی وکان من الکافرین فی علم اللہ تعالیٰ لعلمہ عز وجل انہ سیصیہ و یصدر عنہ ما یصدر باختیارہ و خبث طویتہ واستعدادہ (روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(74) مگر ابلیس نے کہ اس نے اپنے کو بڑا سمجھا اور غرور کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ کلھم بھی فرمایا اور اجمعون بھی مطلب یہ ہے کہ سب نے مل کر بیک وقت ان کے سامنے سجدہ کیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ جن تھا وہ اکثر خدا کے حکم سے منکر تھے لیکن رہنے لگا تھا فرشتوں میں۔