Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 20

سورة الزمر

لٰکِنِ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ لَہُمۡ غُرَفٌ مِّنۡ فَوۡقِہَا غُرَفٌ مَّبۡنِیَّۃٌ ۙ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۬ ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۲۰﴾

But those who have feared their Lord - for them are chambers, above them chambers built high, beneath which rivers flow. [This is] the promise of Allah . Allah does not fail in [His] promise.

ہاں وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے بالا خانے ہیں جن کے اوپر بھی بنے بنائے بالا خانے ہیں ( اور ) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں رب کا وعدہ ہے اور وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ ... But those who have Taqwa of their Lord, for them, Allah tells us that His blessed servants will have lofty rooms in Paradise. ... مِّن فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ ... are built lofty rooms, one above another, i.e., story upon story, solidly-constructed, adorned and high. Abdullah bin Al-Imam Ahmad recorded that Ali, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah said: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرَى بُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا وَظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا In Paradise there are rooms whose inside can be seen from the outside, and the outside can be seen from the inside. A Bedouin asked, `Who are they for? O Messenger of Allah,' He said, لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَمَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَصَلَّى بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَام "For those who speak kindly, feed the hungry and stand in prayer at night whilst the people are sleeping." This was also recorded by At-Tirmidhi, who said, "Hasan Gharib". Imam Ahmad recorded from Sahl bin Sa`d, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah said: إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ فِي الْغُرْفَةِ فِي الْجَنَّةِ كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ فِي أُفُقِ السَّمَاء The people of Paradise will look towards each other in raised places of Paradise as you look towards the stars on the horizons of the sky. He said, "I told An-Nu`man bin Abi `Ayyash about that, and he said, `I heard Abu Sa`id Al-Khudri, may Allah be pleased with him, narrate it: كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الَّذِي فِي الاُْفُقِ الشَّرْقِيِّ أَوِ الْغَرْبِي As you see the stars on the horizon of the east or the west."' It was also recorded in the Two Sahihs. Imam Ahmad said, "Fazarah narrated to us; Fulayh narrated to us; from Hilal bin Ali, from Ata' bin Yasar, from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah said: إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ فِي الْجَنَّةِ أَهْلَ الْغُرَفِ كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَارِبَ فِي الاُْفُقِ الطَّالِعِ فِي تَفَاضُلِ أَهْلِ الدَّرَجَات The people of Paradise will look towards each other in the raised places of Paradise as you look at the high, bright stars which remain on the horizon. Such will be the difference in superiority which some of them have over others. They said, "O Messenger of Allah, are those the abodes of the Prophets?" He said: بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَأَقْوَامٌ امَنُوا بِاللهِ وَصَدَّقُوا الرُّسُل No, by the One in Whose Hand is my soul, they are the abodes of people who believed in Allah and in the Messengers. It was also recorded by At-Tirmidhi, who said, "Hasan Sahih." ... تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الاَْنْهَارُ ... under which rivers flow. means, the rivers flow wherever the people want them to flow. ... وَعْدَ اللَّهِ ... (This is) the promise of Allah, means, `all that We have mentioned here is what Allah has promised to His believing servants.' ... لاَا يُخْلِفُ اللَّهُ الْمِيعَادَ and Allah does not fail in (His) promise.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

20۔ 1 جو اس نے مومن بندوں کے لئے کیا ہے اور جو یقینا پورا ہوگا، کہ اللہ سے وعدہ خلافی ممکن نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠] کیا جنت اور دوزخ تیار کی جا چکی ہیں :۔ بعض دفعہ امت میں ایسی بےکار بحثیں شروع ہوجاتی ہیں جن کا انسان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن جب شروع ہوجائیں تو اہل حق کو جواباً کچھ کہنا ہی پڑتا ہے۔ ایسے ہی مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ آیا جنت اور جہنم تیار کی جاچکی ہیں یا قیامت کے بعد لوگوں کے جزاو سزا کے فیصلوں کے بعد تیار ہوں گی۔ کتاب و سنت کے الفاظ میں یہ صراحت موجود ہے کہ یہ تیار ہوچکی ہیں۔ مگر ایک فرقہ نے اس کا انکار کیا اور کہا کہ قیامت کے بعد تیار ہوں گی۔ اس آیت میں لفظ مبنیۃ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ بالا خانے بنائے جاچکے ہیں۔ یہاں بالا خانوں سے مراد یہ نہیں ایک مکان پر کوئی چوبارہ ہوتا ہے جیسے دوسری منزل ہو۔ بلکہ اس سے درجات کی بلندی مراد ہے۔ یعنی ایک مکان سے دوسرا مکان بلندی پر واقع ہوگا اور تیسرا اس سے بلندی پر۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لٰكِنِ الَّذِيْنَ اتَّــقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ ۔۔ : جہنمیوں کے ذکر کے ساتھ ہی متقیوں کا حسن انجام بیان فرمایا، تاکہ ترہیب کے ساتھ ترغیب بھی جاری رہے۔ علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ فِي الْجَنَّۃِ لَغُرَفًا یُرٰی ظُہُوْرُہَا مِنْ بُطُوْنِہَا وَ بُطُوْنُہَا مِنْ ظُہُوْرِہَا فَقَامَ إِلَیْہِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ لِمَنْ ہِيَ یَا نَبِيَّ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ ہِيَ لِمَنْ أَطَابَ الْکَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَ أَدَام الصِّیَامَ وَ صَلّٰی لِلّٰہِ باللَّیْلِ وَ النَّاسُ نِیَامٌ ) [ ترمذي، صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ غرف الجنۃ : ٢٥٢٧، و قال الألباني حسن ] ” جنت میں ایسے اونچے محل ہیں جن کے باہر کے حصے ان کے اندر کے حصوں سے اور اندر کے حصے باہر کے حصوں سے دکھائی دیتے ہیں۔ “ ایک اعرابی نے اٹھ کر پوچھا : ” اے اللہ کے نبی ! وہ کن کے لیے ہیں ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ان کے لیے جو پاکیزہ گفتگو کریں اور کھانا کھلائیں اور روزوں پر ہمیشگی کریں اور اللہ کے لیے نماز پڑھیں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں۔ “ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ ۔۔ : یعنی متقی لوگوں کے لیے اونچے محل ہیں، جن سے مزید بلندی پر اور اونچے محل ہیں، ان کی بلندی کا ذکر سورة فرقان کی آیت (٧٥) کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مَّبْنِيَّةٌ“ ” بَنٰی یَبْنِيْ بِنَاءً “ سے اسم مفعول ہے۔ ” بنائے ہوئے “ سے مراد نہایت خوبی سے بنائے ہوئے ہیں۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا : ( یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّۃِ ، مَا بِنَاؤُہَا ؟ قَالَ لَبِنَۃُ ذَہَبٍ وَ لَبِنَۃُ فِضَّۃٍ ، وَمِلاَطُہَا الْمِسْکُ الْأَذْفَرُ ، وَ حَصْبَاؤُہَا اللُّؤْلُؤُ وَالْیَاقُوْتُ ، وَ تُرَابُہَا الزَّعْفَرَانُ ، مَنْ یَّدْخُلُہَا یَنْعَمُ وَ لَا یَبْأَسُ ، وَ یَخْلُدُ وَ لَا یَمُوْتُ ، لَا تَبْلٰی ثِیَابُہُ وَ لَا یَفْنٰی شَبَابُہُ ) [ مسند أحمد : ٢؍٣٠٥، ح : ٨٠٦٣، قال المحقق صحیح بطرقہ و شواہدہ ] ” یا رسول اللہ ! ہمیں جنت کے متعلق بتائیں کہ وہ کس چیز کی بنی ہوئی ہے ؟ “ فرمایا : ” ایک اینٹ سونے کی، ایک اینٹ چاندی کی، اس کا گارا مہکنے والی کستوری ہے، اس کی کنکریاں لؤلؤ اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران ہے۔ جو اس میں داخل ہوگا خوش حال رہے گا، کبھی بدحال نہیں ہوگا، ہمیشہ زندہ رہے گا، کبھی فوت نہیں ہوگا، نہ اس کے کپڑے کبھی بوسیدہ ہوں گے اور نہ ہی اس کی جوانی ختم ہوگی۔ “ مَّبْنِيَّةٌ“ (بنائے ہوئے) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ جنت کے وہ محل بنائے جا چکے ہیں اور جنت متقی بندوں کے لیے تیار کی جاچکی ہے، فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰٓي اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَي الْعٰلَمِي) [ آل عمران : ١٣٣ ] ”(جنت) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لٰكِنِ الَّذِيْنَ اتَّــقَوْا رَبَّہُمْ لَہُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِہَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّۃٌ۝ ٠ ۙ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ۝ ٠ۥۭ وَعْدَ اللہِ۝ ٠ ۭ لَا يُخْلِفُ اللہُ الْمِيْعَادَ۝ ٢٠ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ غرف الْغَرْفُ : رفع الشیء وتناوله، يقال : غَرَفْتُ الماء والمرق، والْغُرْفَةُ : ما يُغْتَرَفُ ، والْغَرْفَةُ للمرّة، والْمِغْرَفَةُ : لما يتناول به . قال تعالی:إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ [ البقرة/ 249] ، ومنه استعیر : غَرَفْتُ عرف الفرس : إذا جززته «3» ، وغَرَفْتُ الشّجرةَ ، والْغَرَفُ : شجر معروف، وغَرَفَتِ الإبل : اشتکت من أكله «4» ، والْغُرْفَةُ : علّيّة من البناء، وسمّي منازل الجنّة غُرَفاً. قال تعالی: أُوْلئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِما صَبَرُوا[ الفرقان/ 75] ، وقال : لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفاً [ العنکبوت/ 58] ، وَهُمْ فِي الْغُرُفاتِ آمِنُونَ [ سبأ/ 37] . ( غ ر ف ) الغرف ( ض) کے معنی کسی چیز کو اٹھانے اور کڑنے کے ہیں جیسے غرفت الماء لنا لمرق ہیں نے پانی یا شوربہ لیا ) اور غرفۃ کے معنی چلو پھر پانی کے ہیں اور الغرفۃ ایک مرتبہ چلو سے پانی نکالنا المخرفۃ چمچہ وغیرہ جس سے شوربہ وغیرہ نکال کر برتن میں ڈالا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ [ البقرة/ 249] ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو پھر پانی لے لے ( تو خیر) اسی سے ابطورہستعارہ کہاجاتا ہے غرفت عرف الفرس میں نے گھوڑے کی پیشانی کے بال کاٹ ڈالے غرفت الشجرۃ میں نے درخت کی ٹہنیوں کو کاٹ ڈالا ۔ الغرف ایک قسم کا پودا جس سے چمڑے کو دباغت دی جاتی ہے ) غرفت الابل اونٹ غرف کھا کر بیمار ہوگئے ۔ الغرفۃ بلا خانہ ( جمع غرف وغرفات قرآن میں ) جنت کے منازل اور درجات کو الغرف کہا گیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : أُوْلئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِما صَبَرُوا[ الفرقان/ 75] ان صفات کے لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیئے جائیں گے ۔ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفاً [ العنکبوت/ 58] ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے ۔ وَهُمْ فِي الْغُرُفاتِ آمِنُونَ [ سبأ/ 37] اور وہ خاطر جمع سے بالا خانوں میں بیٹھے ہوں گے ۔ فوق فَوْقُ يستعمل في المکان، والزمان، والجسم، والعدد، والمنزلة، وذلک أضرب : الأول : باعتبار العلوّ. نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 63] ، مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ [ الزمر/ 16] ، وَجَعَلَ فِيها رَواسِيَ مِنْ فَوْقِها [ فصلت/ 10] ، ويقابله تحت . قال : قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [ الأنعام/ 65] الثاني : باعتبار الصّعود والحدور . نحو قوله :إِذْ جاؤُكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ [ الأحزاب/ 10] . الثالث : يقال في العدد . نحو قوله : فَإِنْ كُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ [ النساء/ 11] . الرابع : في الکبر والصّغر مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] . الخامس : باعتبار الفضیلة الدّنيويّة . نحو : وَرَفَعْنا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ [ الزخرف/ 32] ، أو الأخرويّة : وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ البقرة/ 212] ، فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا [ آل عمران/ 55] . السادس : باعتبار القهر والغلبة . نحو قوله : وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] ، وقوله عن فرعون : وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] ( ف و ق ) فوق یہ مکان ازمان جسم عدد اور مرتبہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے اور کئی معنوں میں بولا جاتا ہے اوپر جیسے فرمایا ۔ وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 63] اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا ۔ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ [ الزمر/ 16] کے اوپر تو آگ کے سائبان ہوں گے ۔ وَجَعَلَ فِيها رَواسِيَ مِنْ فَوْقِها [ فصلت/ 10] اور اسی نے زمین میں اس کے پہاڑ بنائے ۔ اس کی ضد تحت ہے جس کے معنی نیچے کے ہیں چناچہ فرمایا ۔ قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [ الأنعام/ 65] کہ وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے ۔ 2 صعود یعنی بلند ی کی جانب کے معنی میں اس کی ضدا سفل ہے جس کے معنی پستی کی جانب کے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ إِذْ جاؤُكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ [ الأحزاب/ 10] جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی جانب سے تم پر چڑھ آئے ۔ 3 کسی عدد پر زیادتی کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَإِنْ كُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ [ النساء/ 11] اگر اولاد صرف لڑکیاں ہی ہوں ( یعنی دو یا ) دو سے زیادہ ۔ 4 جسمانیت کے لحاظ سے بڑا یا چھوٹا ہونے کے معنی دیتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز مثلا مکھی ۔ مکڑی کی مثال بیان فرمائے ۔ 5 بلحاظ فضیلت دنیوی کے استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا ۔ وَرَفَعْنا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ [ الزخرف/ 32] اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے ۔ اور کبھی فضلیت اخروی کے لحاظ سے آتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ البقرة/ 212] لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر پر فائق ہوں گے ۔ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا [ آل عمران/ 55] کافروں پر فائق ۔ 6 فوقیت معنی غلبہ اور تسلط کے جیسے فرمایا : ۔ وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ۔ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] فرعون سے اور بےشبہ ہم ان پر غالب ہیں ۔ بنی يقال : بَنَيْتُ أَبْنِي بِنَاءً وبِنْيَةً وبِنًى. قال عزّ وجلّ : وَبَنَيْنا فَوْقَكُمْ سَبْعاً شِداداً [ النبأ/ 12] . والبِنَاء : اسم لما يبنی بناء، قال تعالی: لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِها غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ [ الزمر/ 20] ، والبَنِيَّة يعبر بها عن بيت اللہ تعالیٰ «2» . قال تعالی: وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] ، وَالسَّماءِ وَما بَناها [ الشمس/ 5] ، والبُنيان واحد لا جمع، لقوله تعالی: لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ التوبة/ 110] ، وقال : كَأَنَّهُمْ بُنْيانٌ مَرْصُوصٌ [ الصف/ 4] ، قالُوا : ابْنُوا لَهُ بُنْياناً [ الصافات/ 97] ، وقال بعضهم : بُنْيَان جمع بُنْيَانَة، فهو مثل : شعیر وشعیرة، وتمر وتمرة، ونخل ونخلة، وهذا النحو من الجمع يصح تذكيره وتأنيثه . و ( ب ن ی ) بنیت ابنی بناء وبنیتہ وبنیا کے معنی تعمیر کرنے کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا } ( سورة النبأ 12) اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے { وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ } ( سورة الذاریات 47) اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا ۔ { وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا } ( سورة الشمس 5) اور آسمان اور اس ذات کی ( قسم ) جس نے اسے بنایا ۔ البنیان یہ واحد ہے جمع نہیں ہے جیسا کہ آیات ۔ { لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ } ( سورة التوبة 110) یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں ( موجب ) خلجان رہے گی ۔ { كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ } ( سورة الصف 4) کہ گویا سیساپلائی ہوئی دیوار ہیں :{ قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ } ( سورة الصافات 97) وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ بعض کے نزدیک یہ بنیانۃ کی جمع ہے اور یہ : شعیر شعیر وتمر وتمر ونخل ونخلتہ کی طرح ہے یعنی جمع اور مفرد میں تا کے ساتھ فرق کرتے ہیں اور جمع کی اس قسم میں تذکر وتانیث دونوں جائز ہوتے ہیں لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِها غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ [ الزمر/ 20] ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں ۔ بناء ( مصدر بمعنی مفعول ) عمارت جمع ابنیتہ البنیتہ سے بیت اللہ مراد لیا جاتا ہے جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] ( ج ر ی ) جریٰ ( ض) جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ تحت تَحْت مقابل لفوق، قال تعالی: لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] ، وقوله تعالی: جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ، تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ [يونس/ 9] ، فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] ، يَوْمَ يَغْشاهُمُ الْعَذابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ العنکبوت/ 55] . و «تحت» : يستعمل في المنفصل، و «أسفل» في المتصل، يقال : المال تحته، وأسفله أغلظ من أعلاه، وفي الحدیث : «لا تقوم الساعة حتی يظهر التُّحُوت» «4» أي : الأراذل من الناس . وقیل : بل ذلک إشارة إلى ما قال سبحانه : وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] . ( ت ح ت) تحت ( اسم ظرف ) یہ فوق کی ضد ہے قرآن میں ہے :۔ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] تو ( ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے ۔ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ( نعمت کے ) باغ میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے آواز دی ۔ تحت اور اسفل میں فرق یہ ہے کہ تحت اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری کے نیچے ہو مگر اسفل کسی چیز کے نچلا حصہ کو جیسے ۔ المال تحتہ ( مال اس کے نیچے ہے ) اس کا نچلا حصہ اعلیٰ حصہ سے سخت ہے ) حدیث میں ہے (48) لاتقوم الساعۃ حتیٰ یظھر النحوت کہ قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ تا وقی کہ کمینے لوگ غلبہ حاصل نہ کرلیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حدیث میں آیت کریمہ ؛۔ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] اور جب یہ زمین ہموار کردی جائے گی اور جو کچھ اس میں سے اسے نکلا کر باہر ڈال دے گی ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ خُلف ( عهد شكني) والخُلْفُ : المخالفة في الوعد . يقال : وعدني فأخلفني، أي : خالف في المیعاد بما أَخْلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدُوهُ [ التوبة/ 77] ، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يُخْلِفُ الْمِيعادَ [ الرعد/ 31] ( خ ل ف ) خُلف الخلف کے معنی وعدہ شکنی کے میں محاورہ ہے : اس نے مجھ سے وعدہ کیا مگر اسے پورا نہ کیا ۔ قرآن میں ہے ۔ بِما أَخْلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدُوهُ [ التوبة/ 77] کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اسکے خلاف کیا ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يُخْلِفُ الْمِيعادَ [ الرعد/ 31] بیشک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

لیکن جو لوگ توحید خداوندی کا اقرار کرتے ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی ان کے لیے بالا خانے جن کے اوپر اور بالاخانے ہیں جو بنے بنائے تیار ہیں جن کے محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ شہد پانی اور پاکیزہ شراب کی نہریں چل رہی ہیں یہ اللہ نے ایمان والوں سے وعدہ فرمایا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠ { لٰـکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ لَہُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِہَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّۃٌ} ” لیکن وہ لوگ جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ہوں گے بالا خانوں پر بالا خانے (ایک دوسرے کے اوپر) ُ چنے ہوئے۔ “ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں کئی کئی منزلہ رہائش گاہیں (skyscrapers) عطا فرمائے گا۔ { تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُط } ” ان کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔ “ { وَعْدَ اللّٰہِط لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ الْمِیْعَادَ } ” یہ اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:20) غرف جمع غرفۃ واحد بالاخانہ۔ مکان کی بالائی منزل۔ اونچا مکان مراد جنت میں خاص منزل۔ فوقھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع غرف ہے۔ مبنیۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ منبی مذکر ۔ تعمیر کردہ عمارت۔ بنی یبنی بناء بنی بنیۃ (باب ضرب) مصدر۔ بناء تعمیر شدہ عمارت کو بھی کہتے ہیں۔ من تحتھا۔ میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع غرف ہے۔ یعنی نچلے بالا خانوں کے نیچے بھی اور اوپر والے بالا خانوں کے نیچے بھی۔ وعد اللّٰہ۔ مضاف مضاف الیہ اللہ کا وعدہ۔ وعد اسم بھی ہے اور وعد یعد (ضرب) کا مصدر بھی۔ یہاں بطور مصدر برائے تاکید آیا ہے ۔ کیونکہ لہم غرف بمعنی وعدہم اللّٰہ ذلک۔ اللہ نے ان سے ان (بالا خانوں) کا وعدہ کر رکھا ہے۔ المیعاد۔ اسم مصدر منصوب (بوجہ مفعول) وعدہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : احسن بات کو قبول کرنے اور طاغوت سے بچنے والوں کا صلہ۔ طاغوت سے بچنے اور اپنے رب سے ڈر کر زندگی گزارنے والے کو ان کا رب جنت کے بلند وبالا محلات اور اعلیٰ مقامات میں داخل فرمائے گا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ متقین کے ساتھ ان کے رب کا وعدہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ تقویٰ کیا ہے : ” اللہ کی ذات، احکام اور اس کے شعائر کے احترام کرنے کا نام تقویٰ ہے۔ “ (الحج : ٣٢) ” تقویٰ نام ہے اللہ کے احکام پر عمل پیرا ہونے اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے کا۔ “ (النور : ٥٢) ” تقویٰ نام ہے سمع و اطاعت کے باوجود اپنے رب سے ڈرتے رہنے کا۔ “ (التغابن : ١٦) (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ ماءَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّہَا اللّٰہُ لِلْمُجَاہِدِینَ فِی سَبِیل اللّٰہِ مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہٗ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ أُرَاہُ فَوْقَہٗ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْہَارُ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں سودرجے مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے برابر فاصلہ ہے۔ جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس مانگا کرو۔ بلاشبہ وہ جنت کے درمیان اور سب سے اعلیٰ جنت ہے میں نے دیکھا کہ اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اس سے ہی جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ (رض) عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب فی صفۃ خیام الجنۃ ....] ” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے ہاں وہی جائے گا۔ جنتی ایک دوسرے کے ہاں جھانک نہیں سکیں گے۔ “ مسائل ١۔ متقین کو جنت کے محلات میں داخل کیا جائے گا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ جنت کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔ تفسیر بالقرآن جنت اور اس کی نعمتیں : ١۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : ٤٧۔ ٤٨) ٢۔ جنت کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : ٣٥) ٣۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، گھنا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ : ٢٨ تا ٣٠) ٤۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ : ٢٣) ٥۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : ٣١) ٦۔ جنت میں نیچی نگاہ رکھنے والی حوریں ہوں گی جنہیں کسی جن وانس نے چھوا تک نہیں ہوگا۔ ( الرحمن : ٥٦) ٧۔ جنت میں محبت کرنے والی ہم عمر حوریں ہوں گی۔ ( الواقعہ : ٣٧) ٨۔ حوریں نوجوان، کنواریاں اور ہم عمر ہوں گی۔ (الواقعہ : ٢٥ تا ٣٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 20 اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے منزل بنی ہوئی بلند عمارتوں یعنی بالاخانوں کا یہ منظر اہل جہنم کے اس منظر کے بالمقابل ہے جن سے اوپر بھی چھتریاں ہوں گی آگ کی اور نیچے بھی ہوں گی۔ یہ تقابل قرآن کے انداز کلام کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ ان تمام مناظر میں پایا جاتا ہے جو قرآن مجید میں تقابلی مناظر کے طور پت پیش کئے گئے ہیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ ہمشہ واقع ہوکر رہتا ہے۔ جن مسلمانوں نے سب سے پہلے اس قرآن کوسنا۔ انہوں نے ان مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ ان کے لیے کوئی وعدہ یا وعید دورنہ تھا ۔ ان کے قلوب اور ان کے احساسات تو ان کی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ یہ وعدے اور وعید تو ان کے لیے مشاہدہ تھے۔ یہ وعدے اور وعید سن کر وہ کانپ اٹھتے تھے اور ان کے نفوس اس طرح اپنا رخ قرآن کے ساتھ بدل دہتے تھے۔ جس طرح بادنما ہوا کے ساتھ رخ کو بدل دیتا ہے۔ اور وہ اپنی زندگی کو اخروی مناظر کے مطابق بدل دیئے تھے اور وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مناظر قیامت میں زندہ رہ رہے تھے۔ یہی رویہ ہونا چاہئے ایک مسلمان کا قرآن کے حوالے سے کہ وہ قرآن کو سمجھے اور اپنی عملی زندگی کے رخ کو قرآن کے رخ پر ڈالتا رہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ ” لکن الذین الخ “ یہ بشارت اخروی ہے۔ لیکن جو لوگ دنیا میں اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈر کر اس کی عبادت و اطاعت میں سرگرم رہے ان کے لیے جنت میں منزل بہ منزل بہ منزل بالا خانے ہوں گے۔ اور نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں فرماتا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(20) مگرہاں وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں تو ان کے رہنے کے لئے ایسے بالاخانے ہیں جن کے اوپر اور بالاخانے بنے ہوئے ہیں ان بالاخانوں کے نیچے نہریں بہہرہی ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ وعدے کا خلاف نہیں کرتا۔ یہ متقی لوگ شاید وہی ہیں جن کا ذکر اوپر گزرچکا ہے مطلب یہ ہے کہ کئی کئی منزل کے مکان ہوں گے بالا خانوں میں کھڑکیاں اور جھرو کے ہوں گے بالاخانے پر بالا خانے نیچے نہریں جاری ہیں آخر میں تاکید کے لئے فرمایا متقیوں کے لئے یہ اللہ نے وعدہ کیا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتے یعنی تفریح کے تمام سامان مکمل ہوں گے۔ اوپر کی آیتوں میں تقوے والوں کی تعریف تھی پھر بیچ میں ازلی اہل شقاوت کا ذکر فرمایا اب آگے دنیا کی بےثباتی اور زوال کا ذکر فرمایا۔