Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 22

سورة الزمر

اَفَمَنۡ شَرَحَ اللّٰہُ صَدۡرَہٗ لِلۡاِسۡلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ فَوَیۡلٌ لِّلۡقٰسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مِّنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۲﴾

So is one whose breast Allah has expanded to [accept] Islam and he is upon a light from his Lord [like one whose heart rejects it]? Then woe to those whose hearts are hardened against the remembrance of Allah . Those are in manifest error.

کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالٰی نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے ایک نور پر ہے اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے ( اثر نہیں لیتے بلکہ ) سخت ہوگئے ہیں ۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں ( مبتلا ) ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَفَمَن شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلِْسْلَمِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِّن رَّبِّهِ ... Is he whose breast Allah has opened to Islam, so that he is in light from his Lord, means, is this person equal to the one who is hard-hearted and far from the truth? This is like the Ayah: أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَـهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِى النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَـتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذَلِكَ Is he who was dead and We gave him life and set for him a light (i.e. Belief) whereby he can walk amongst men -- like him who is in the darkness (i.e., disbelief) from which he can never come out. (6:122) Allah says: ... فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّهِ ... So, woe to those whose hearts are hardened against remembrance of Allah! meaning, they do not become soft when Allah is mentioned, and they do not feel humility or fear, and they do not understand. ... أُوْلَيِكَ فِي ضَلَلٍ مُبِينٍ They are in plain error!

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

22۔ 1 یعنی جس کو قبول حق اور خیر کا راستہ اپنانے کی توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل جائے پس وہ اس شرح صدر کی وجہ سے رب کی روشنی پر ہو، کیا یہ اس جیسا ہوسکتا ہے جس کا دل اسلام کے لئے سخت اور اس کا سینہ تنگ ہو اور وہ گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٣] شرح صدر کا مفہوم :۔ اسلام کے لئے سینہ کھول دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی حقانیت کا دل میں اس طرح یقین پیدا ہوجائے جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اور انسان اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے اس طرح آمادہ ہوجائے کہ اس سے پیچھے ہٹنا اسے کسی قیمت پر گوارا نہ ہو۔ گو ایسا شرح صدر اللہ ہی کی توفیق سے نصیب ہوتا ہے۔ تاہم یہ توفیق بھی اللہ اسی شخص کو دیتا ہے۔ جو خود بھی حق بات کو قبول کرنے پر آمادہ ہو۔ [٣٤] اس روشنی سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے جو زندگی کے ہر میدان میں اور اس کے ہر موڑ پر اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ کی سنت ہے۔ جنہوں نے اللہ کے احکام کو عملی جامہ پہنا کر اپنے آپ کو امت کے سامنے نمونہ کے طور پر پیش فرمایا۔ [٣٥] یعنی ایک طرف تو ایسا شخص ہے جس کا اللہ نے سینہ بھی اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روشنی میں نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ اللہ کے راستہ پر گامزن ہے۔ دوسری طرف وہ شخص ہے جس کے دل میں حق بات سنتے ہی گھٹن پیدا ہوجاتی ہے اور ناگواری کے اثرات اس کے چہرہ پر نمودار ہونے لگتے ہیں۔ پھر اس کی ضد، عناد اور ہٹ دھرمی نے اس کے دل کو پتھر کی طرح سخت بنادیا ہو جس کے دل میں خیر کا ایک قطرہ بھی نہ گھس سکتا ہو۔ نہ کوئی نصیحت اس پر اثر کرے۔ نہ کبھی اللہ کی یاد کی توفیق نصیب ہو۔ وہ یا تو اپنے ہی نفس کی پیروی کرے یا اپنے آباء کی رسوم اور تقلید کی تاریکیوں میں بھٹکتا پھرے۔ کیا یہ دونوں انجام کے لحاظ سے ایک جیسے ہوسکتے ہیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ۔۔ : شرح صدر کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام کی آیت (١٢٥) اس آیت میں بیان فرمایا کہ مومن و کافر اور فرماں بردار و نافرمان کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ ” مَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہُ لِلْإِسْلَامِ “ مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے، جو بعد کے جملے سے خود بخود سمجھ میں آرہی ہے : ” أَيْ کَمَنْ ھُوَ قَاسِي الْقَلْبِ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ “ یعنی وہ شخص جس کا دل اللہ تعالیٰ نے قبول اسلام کے لیے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے ہدایت کی روشنی پر گامزن ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کا دل اللہ کی یاد کی طرف سے پتھر کی طرح سخت ہوچکا ہے اور اسے اپنا پروردگار یاد ہی نہیں ؟ قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایسے مبتدا کی خبر مذکور بھی ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى ) [ الرعد : ١٩ ] ” پھر کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف اتارا گیا وہی حق ہے، اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ “ اور فرمایا : (اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْۗءُ عَمَلِهٖ وَاتَّبَعُوْٓا اَهْوَاۗءَهُمْ ) [ محمد : ١٤ ] ” تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہے اس شخص کی طرح ہے جس کے لیے اس کے برے اعمال مزیّن کردیے گئے اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ؟ “ فَوَيْلٌ لِّــلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ ۔۔ : ” اَلْقَاسِیَۃُ “ ” قَسَا یَقْسُوْ قَسْوَۃً “ سے اسم فاعل مؤنث ہے۔ ” قَسْوَۃٌ“ کے مفہوم کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (٧٤) : (ثم قست قلوبکم۔ کی تفسیر۔ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : اس سے بڑی گمراہی کیا ہوگی کہ کوئی شخص اپنے مالک ہی سے منہ موڑلے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the first sentence of verse 22, it was said: أَفَمَن شَرَ‌حَ اللَّـهُ صَدْرَ‌هُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ‌ مِّن رَّ‌بِّهِ (So I ask about a person whose heart Allah has opened up for Islam, and consequently he proceeds in a light from his Lord.). The word: شَرَ‌حَ (sharh) literally means to open, enlarge or extend. The expression: شرح الصدر (sharh-us-sadr) means the capacity or capability of the heart (to receive and accommodate input). The sense is that one&s heart is capable of learning lessons and receiving benefits by deliberating into Divine signs of creation in the heavens and the earth, particularly so by deliberating in his own creation. Similar is the case with other signs of Allah revealed in the form of scriptures and injunctions. One&s heart also has to have the ability to deliberate in them and be benefited by them. In contrast, there is a heart that is straightened or hardened. The statement in a verse of the Qur&an: يَجْعَلْ صَدْرَ‌هُ ضَيِّقًا حَرَ‌جًا He makes his heart narrow, much too narrow - Al-An am, 6:125) and the one in the next verse at this place: لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم |"woe to those whose hearts are too hard to remember Allah - 39:22|" has appeared in contrast to this very &sharh-us-sadr& (a heart opened to acceptance of truth and at ease with it). According to a narration from Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud (رض) ، when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited this verse: أَفَمَن شَرَ‌حَ اللَّـهُ صَدْرَ‌هُ (Is it not that, a person for whom Allah opens up his heart...), we asked him about the meaning of &sharh-us-sadr&. He said, |"when the light of &iman (faith) enters the human heart, it enhances its capacity (which makes the comprehension and implementation of Divine commandments easy on the person concerned).|" We submitted, &ya rasulallah, what is the sign of it (that is, of &sharh-us-sadr& )?& Then, he said: الانابۃ الی دار الخلود والتجافی عن دارالغرور و اتأھب لموت قبل نزولہ ۔ رواہ الحاکم رفی المستدرک ولبیھقی فی شعب الایمان ۔ (روح المعانی) |"Longing passionately for the eternal home, and seeking refuge from the deceptive abode, and preparing for death before its arrival.|" - Reported by al-Hakim in al-Mustadrak and al-Baihaqi in Shu` ab-u1-&iman (Ruh-ul-Ma’ ani). The verse under study has been initiated as headed by an interrogative particle: اَفمَن (afaman). The sense it carries can be explained by saying: &Can a person whose heart has been opened up for Islam - and he is on the light coming from his Lord, that is, does everything under it - and another person with a hardened heart be equal?& The contrasting part relating to the hardened heart has been mentioned in the next verse with a warning of woeful punishment attached to it. In this verse (22), it was said: فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم (woe to those whose hearts are too hard to remember Allah). The word: الْقَاسِيَةِ (al-qasiyah) is a derivation from: قَسَاوَت (qasawah) which means to be hard-hearted, having no mercy for anyone, and also the one who remains totally unaffected by the need to remember Allah and follow His injunctions.

(آیت) اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰي نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ ۔ شرح کے لفظی معنے کھولنے، پھیلانے اور وسیع کرنے کے ہیں۔ شرح صدر کے معنی وسعت قلب کے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قلب میں اس کی استعداد موجود ہو کہ وہ تلوینی آیات آلٰہیہ آسمان و زمین اور خود اپنی پیدائش وغیرہ میں غور کر کے عبرت اور فوائد حاصل کرے اسی طرح جو آیات آلٰہیہ بصورت کتاب و حکام نازل کی جاتی ہیں ان میں غور کر کے استفادہ کرسکے۔ اس کا بالمقابل دل تنگی اور قساوت قلب ہے۔ قرآن کریم کی ایک ( آیت) یجعل صدرہ ضیقاً حرجاً اور اس جگہ اگلی آیت میں لِّــلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ ، اسی شرح صدر کے بالمقابل آیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب یہ آیت اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ تلاوت فرمائی تو ہم نے آپ سے شرح صدر کا مطلب پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب نور ایمان انسان کے قلب میں داخل ہوتا ہے تو اس کا قلب وسیع ہوجاتا ہے (جس سے احکام آلٰہیہ کا سمجھنا اور عمل کرنا اس کے لئے آسان ہوجاتا ہے) ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اس (شرح صدر) کی علامت کیا ہے تو آپ نے فرمایا :۔ ” ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف راغب اور مائل ہونا اور دھوکے کے گھر یعنی دنیا (کی لذائذ اور زینت) سے دور رہنا اور موت کے آنے سے پہلے اس کی تیاری کرنا “ آیت مذکورہ کو حرف استفہام افمن سے شروع کیا گیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ کیا ایسا شخص جس کا دل اسلام کے لئے کھول دیا گیا ہو اور وہ اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے نور پر ہے یعنی اس کی روشنی میں سب کام کرتا ہے۔ اور وہ آدمی جو دل تنگ اور سخت دل ہو کہیں برابر ہو سکتے ہیں۔ اس کے بالمقابل سخت دل کا ذکر اگلی آیت میں عذاب ویل کے ساتھ کیا گیا ہے۔ فَوَيْلٌ لِّــلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ ۔ قاسیة قساوت سے مشتق ہے جس کے معنی سخت دل ہونا جس کو کسی پر رحم نہ آئے اور جو اللہ کے ذکر اور اس کے احکام سے کوئی اثر قبول نہ کرے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَفَمَنْ شَرَحَ اللہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَعَلٰي نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ۝ ٠ ۭ فَوَيْلٌ لِّــلْقٰسِيَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللہِ۝ ٠ ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝ ٢٢ شرح أصل الشَّرْحِ : بسط اللّحم ونحوه، يقال : شَرَحْتُ اللّحم، وشَرَّحْتُهُ ، ومنه : شَرْحُ الصّدر أي : بسطه بنور إلهي وسكينة من جهة اللہ وروح منه . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وقال : أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [ الشرح/ 1] ، أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ [ الزمر/ 22] ، وشرح المشکل من الکلام : بسطه وإظهار ما يخفی من معانيه . ( ش ر ح ) شرحت اللحم وشرحتہ کے اصل معنی گوشت ( وغیرہ کے لمبے لمبے ٹکڑے کاٹ کر ) پھیلانے کے ہیں ۔ اور اسی سے شرح صدر ہے یعنی نور الہی اور سکون و اطمینان کی وجہ سے سینے میں وسعت پیدا ہوجاتا ۔ قران میں ہے : ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي[ طه/ 25] کہا پروردگار میرا سینہ کھول دے ۔ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [ الشرح/ 1]( اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) ہم نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا ۔ أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ [ الزمر/ 22] بھلا جس کا سینہ خدا نے کھول دیا ہو ۔ شرح المشکل من الکلام کے معنی مشکل کلام کی تشریح کرنے اور اس کے مخفی معنی کو ظاہر کر نیکے ہیں ۔ صدر الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ، وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] ، ثم استعیر لمقدّم الشیء كَصَدْرِ القناة، وصَدْرِ المجلس، والکتاب، والکلام، وصَدَرَهُ أَصَابَ صَدْرَهُ ، أو قَصَدَ قَصْدَهُ نحو : ظَهَرَهُ ، وكَتَفَهُ ، ومنه قيل : رجل مَصْدُورٌ: يشكو صَدْرَهُ ، وإذا عدّي صَدَرَ ب ( عن) اقتضی الانصراف، تقول : صَدَرَتِ الإبل عن الماء صَدَراً ، وقیل : الصَّدْرُ ، قال : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] ، والْمَصْدَرُ في الحقیقة : صَدَرٌ عن الماء، ولموضع المصدر، ولزمانه، وقد يقال في تعارف النّحويّين للّفظ الذي روعي فيه صدور الفعل الماضي والمستقبل عنه . ( ص در ) الصدر سینہ کو کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] میرے پروردگار اس کا م کے لئے میرا سینہ کھول دے ۔ اس کی جمع صدور آتی ہے جیسے فرمایا : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] اور جو بھید دلوں میں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے ۔ وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ ہر چیز کے اعلیٰ ( اگلے ) حصہ کو صدر کہنے لگے ہیں جیسے صدرالقناۃ ( نیزے کا بھالا ) صدر المجلس ( رئیس مجلس ) صدر الکتاب اور صدرالکلام وغیرہ صدرہ کے معنی کسی کے سینہ پر مارنے یا اس کا قصد کرنے کے ہیں جیسا کہ ظھرہ وکتفہ کے معنی کسی کی پیٹھ یا کندھے پر مارنا کے آتے ہیں ۔ اور اسی سے رجل مصدور کا محاورہ ہے ۔ یعنی وہ شخص جو سینہ کی بیماری میں مبتلا ہو پھر جب صدر کا لفظ عن کے ذریعہ متعدی ہو تو معنی انصرف کو متضمن ہوتا ہے جیسے صدرن الابل عن الماء صدرا وصدرا اونٹ پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹ آئے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے ۔ اور مصدر کے اصل معنی پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹنا کے ہیں ۔ یہ ظرف مکان اور زمان کے لئے بھی آتا ہے اور علمائے نحو کی اصطلاح میں مصدر اس لفظ کو کہتے ہیں جس سے فعل ماضی اور مستقبل کا اشتقاق فرض کیا گیا ہو ۔ سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔ نور ( روشنی) النّور : الضّوء المنتشر الذي يعين علی الإبصار، وذلک ضربان دنیويّ ، وأخرويّ ، فالدّنيويّ ضربان : ضرب معقول بعین البصیرة، وهو ما انتشر من الأمور الإلهية کنور العقل ونور القرآن . ومحسوس بعین البصر، وهو ما انتشر من الأجسام النّيّرة کالقمرین والنّجوم والنّيّرات . فمن النّور الإلهي قوله تعالی: قَدْ جاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتابٌ مُبِينٌ [ المائدة/ 15] ، وقال : وَجَعَلْنا لَهُ نُوراً يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُماتِ لَيْسَ بِخارِجٍ مِنْها [ الأنعام/ 122] ( ن و ر ) النور ۔ وہ پھیلنے والی روشنی جو اشیاء کے دیکھنے میں مدد دیتی ہے ۔ اور یہ دو قسم پر ہے دینوی اور اخروی ۔ نور دینوی پھر دو قسم پر ہے معقول جس کا ادراک بصیرت سے ہوتا ہے یعنی امور الہیہ کی روشنی جیسے عقل یا قرآن کی روشنی دوم محسوس جسکاے تعلق بصر سے ہے جیسے چاند سورج ستارے اور دیگر اجسام نیزہ چناچہ نور الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ قَدْ جاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتابٌ مُبِينٌ [ المائدة/ 15] بیشک تمہارے خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے ۔ وَجَعَلْنا لَهُ نُوراً يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُماتِ لَيْسَ بِخارِجٍ مِنْها [ الأنعام/ 122] اور اس کے لئے روشنی کردی جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہوسکتا ہے ۔ جو اندھیرے میں پڑا ہو اور اس سے نکل نہ سکے ۔ ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ [ الأنبیاء/ 46] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا طاغِينَ [ القلم/ 31] . ( و ی ل ) الویل اصمعی نے کہا ہے کہ ویل برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور حسرت کے موقع پر ویل اور تحقیر کے لئے ویس اور ترحم کے ویل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ اور جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ان پر افسوس ہے اس لئے کہ بےاصل باتیں اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور پھر ان پر افسوس ہے اس لئے کہ ایسے کام کرتے ہیں وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] اور کافروں کے لئے سخت عذاب کی جگہ خرابی ہے ۔ ۔ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] سو لوگ ظالم ہیں ان کی خرابی ہے ۔ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ناپ تول میں کمی کر نیوالا کے لئے کر ابی ہے ۔ وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغلخور کی خرابی ہے ۔ يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52]( اے ہے) ہماری خواب گا ہوں سے کسی نے ( جگا ) اٹھایا ۔ يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ [ الأنبیاء/ 46] ہائے شامت بیشک ہم ظالم تھے ۔ يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا طاغِينَ [ القلم/ 31] ہائے شامت ہم ہی حد سے گبڑھ گئے تھے ۔ قسو القَسْوَةُ : غلظ القلب، وأصله من : حجر قَاسٍ ، والْمُقَاسَاةُ : معالجة ذلك . قال تعالی: ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ [ البقرة/ 74] ، فَوَيْلٌ لِلْقاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ الزمر/ 22] ، وقال : وَالْقاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ [ الحج/ 53] ، وَجَعَلْنا قُلُوبَهُمْ قاسِيَةً [ المائدة/ 13] ، وقرئ : قَسِيَّةً «3» أي : ليست قلوبهم بخالصة، من قولهم : درهم قَسِيٌّ ، وهو جنس من الفضّة المغشوشة، فيه قَسَاوَةٌ ، أي : صلابة، قال الشاعر : صاح القَسِيَّاتُ في أيدي الصيّاریف ( ق س د ) القسوۃ کے معنی سنگ دل ہونے کے ہیں یہ اصل میں حجر قاس سے ہے جس کے معنی سخت پتھر کے ہیں ۔ المقاساۃ سختی جھیلنا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ [ البقرة/ 74] پھر ۔۔۔ تمہارے دل سخت ہوگئے ۔ فَوَيْلٌ لِلْقاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ الزمر/ 22] پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہورہے ہیں ۔ وَالْقاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ [ الحج/ 53] اور جن کے دل سخت ہیں ۔ وَجَعَلْنا قُلُوبَهُمْ قاسِيَةً [ المائدة/ 13] اور ان کے دلوں کو سخت کردیا ۔ ایک قرات میں قسیۃ ہے یعنی ان کے دل خالص نہیں ہیں یہ درھم قسی سے مشتق ہے جس کے معنی کھوٹے درہم کے ہیں جس میں ( سکہ ) کی ملاوٹ کی وجہ سے صلابت پائی جائے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 354) صاح القسیات فی ایدی الصیاریف کھوٹے درہم صرافوں کے ہاتھ میں آواز دیتے ہیں ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جس شخص کا دل اللہ تعالیٰ نے نور ایمان کے ساتھ فراخ کردیا تو وہ اپنے پروردگار کی عطا کردہ بزرگی اور ہدایت پر ہے اور وہ حضرت عمار بن یاسر ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کے دل کو کفر کے لیے کھول دیا تو کیا یہ دونوں برابر ہیں سو جن لوگوں کے دل سخت ہیں اور اللہ کے ذکر سے متاثر نہیں ہوتے جیسا کہ ابوجہل وغیرہ ان کے لیے سخت ترین عذاب ہے جہنم خون اور پیپ کی وادی ہے اس کو بھی ویل کہتے ہیں اور اس قسم کے لوگ کھلے کفر میں مبتلا ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢ { اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ } ” بھلا وہ شخص کہ جس کے سینے کو اللہ نے کھول دیا ہے اسلام کے لیے اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے ! “ یہاں پھر وہی ” حذف “ کا اسلوب ہے۔ چناچہ اس جملے کے بعد یہاں پر کَمَنْ ھُوَ فِی الظُّلُمٰت کا جملہ محذوف مانا جائے گا۔ یعنی ایک وہ شخص ہے جسے اندرونی بصیرت حاصل ہے اور اس کا دل ایمان کے نور سے جگمگا رہا ہے ‘ کیا وہ اس شخص کی طرح ہوجائے گا جو اندھیروں میں بھٹک رہا ہے ؟ { فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ } ” تو ہلاکت اور بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل سخت ہوگئے ہیں اللہ کے ذکر سے۔ “ ان کے دل نرمی اور گداز سے محروم ہوچکے ہیں ‘ چناچہ اب نہ تو ان کے دلوں میں اللہ کے ذکر کا ذوق ہے اور نہ ہی اس کی طرف رجوع کرنے کا شوق۔ { اُولٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ” یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40 "Whose breast... Islam": Whom Allah helps to learn a lesson from these realities and to be satisfied with Islam as based on the Truth. Opening of a man's breast for something is, in fact, a state in which there remains no anxiety or ambiguity or suspicion and doubt in his mind about the thing, nor has he the feeling of any danger and loss in accepting and adopting it, but he decides with full satisfaction of the heart that it is the Truth; therefore, he must follow it whatever be the consequences. Having made such a decision when a person adopts the way of Islam, he obeys whatever Command he receives from Allah and His Messenger willingly and with pleasure, without any hesitation. He accepts whatever beliefs and ideas, rules and regulations, he comes across in the Book of Allah and the Sunnah of His Prophet as if they were the voice of his own heart. He does not feel any compunction on giving up an unlawful gain, because he believes that it was no gain for him at all; it was rather a loss from which Allah saved him by His grace. Likewise, even if he incurs a loss while following the way of righteousness, he dces not feel sad about this but bears it with patience and regards it as an ordinary loss as compared to the loss of turning away from the Way of Allah. The same is his behaviour on confronting dangers. He believes that there is no other way for him, which he may follow in order to avoid the danger. The Straight Way of AIlah is only one, which he has to follow in any case: if there is a danger in following it, let it be. 41 "In the light shown by his Lord" : In the light of the knowledge of the Book of Allah and the Sunnah of His Prophet, by the help of which he sees clearly at every step which is the straight path of the Truth among the countless by-paths of life. 42 As against the opening of the breast there can be two other states of man's heart: (1) The state of narrowing of the breast and squeezing of the heart; and in this state there still remains some room for the truth to permeate it; and (2) the state of hardening or petrifying of the heart; in this there is left no room whatever for the truth to permeate. About this second state Allah says that the person who reaches such a stage is totally ruined. This means that if a person becomes inclined to accept the truth, even though with an unveiling and squeezed heart, there remains some possibility for him to be redeemed. This second theme becomes obvious from the style and tenor of the verse itself, though Allah has not stated it directly. For the real intention of the verse was to warn those who were bent upon stubbornness in their antagonism towards the Holy Prophet, and had made up their mind not to listen to him at all. For this they have been warned, as if to say: "You take pride in this stubbornness of yours, but, as a matter of fact, there cannot be a greater misfortune and unworthiness of man than that his heart should become even more hardened, instead of becoming soft, when he hears Allah being mentioned and the admonition sent by Him. "

سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :40 یعنی جسے اللہ نے یہ توفیق بخشی کہ ان حقائق سے سبق لے اور اسلام کے حق ہونے پر مطمئن ہو جائے ۔ کسی بات پر آدمی کا شرح صدر ہو جانا یا سینہ کھل جانا دراصل اس کیفیت کا نام ہے کہ آدمی دل میں اس بات کے متعلق کوئی خلجان یا تذبذب یا شک و شبہ باقی نہ رہے ، اور اسے کسی خطرے کا احساس اور کسی نقصان کا اندیشہ بھی اس بات کو قبول اور اختیار کرنے میں مانع نہ ہو ، بلکہ پورے اطمینان کے ساتھ وہ یہ فیصلہ کر لے کہ یہ چیز حق ہے لہٰذا خواہ کچھ ہو جائے مجھے اسی پر چلنا ہے ۔ اس طرح کا فیصلہ کر کے جب آدمی اسلام کی راہ کو اختیار کر لیتا ہے تو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو حکم بھی اسے ملتا ہے وہ اسے بکراہت نہیں بلکہ برضا و رغبت مانتا ہے ۔ کتاب و سنت میں جو عقائد و افکار اور جو اصول و قواعد بھی اس کے سامنے آتے ہیں وہ انہیں اس طرح قبول کرتا ہے کہ گویا یہی اس کے دل کی آواز ہے ۔ کسی ناجائز فائدے کو چھوڑنے پر اسے کوئی پچھتاوا لاحق نہیں ہوتا بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ میرے لیے وہ سرے سے کوئی فائدہ تھا ہی نہیں ، الٹا ایک نقصان تھا جس سے بفضل خدا میں بچ گیا ۔ اسی طرح کوئی نقصان بھی اگر راستی پر قائم رہنے کی صورت میں اسے پہنچے تو وہ اس پر افسوس نہیں کرتا بلکہ ٹھنڈے دل سے اسے برداشت کرتا ہے اور اللہ کی راہ سے منہ موڑنے کی بہ نسبت وہ نقصان اسے ہلکا نظر آتا ہے ۔ یہی حال اس کا خطرات پیش آنے پر بھی ہوتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ میرے لیے کوئی دوسرا راستہ سرے سے ہے ہی نہیں کہ اس خطرہ سے بچنے کے لیے ادھر نکل جاؤں ۔ اللہ کا سیدھا راستہ ایک ہی ہے جس پر مجھے بہرحال چلنا ہے ۔ خطرہ آتا ہے تو آتا رہے ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :41 یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی صورت میں ایک نور علم اسے مل گیا ہے جس کے اجالے میں وہ ہر ہر قدم پر صاف دیکھتا جاتا ہے کہ زندگی کی بے شمار پگ ڈنڈیوں کے درمیان حق کا سیدھا راستہ کونسا ہے ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :42 شرح صدر کے مقابلے میں انسانی قلب کی دو ہی کیفیتیں ہو سکتی ہیں ۔ ایک ضیق صدر ( سینہ تنگ ہو جانے اور دل بھچ جانے ) کی کیفیت جس میں حق کے لیے نفوذ یا سرایت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ اس دوسری کیفیت کے متعلق فرماتا ہے کہ جو شخص اس حد تک پہنچ جائے اس کے لیے پھر کامل تباہی ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص ، خواہ دل کی تنگی ہی کے ساتھ سہی ، ایک مرتبہ قبول حق کے لیے کسی طرح تیار ہو جائے تو اس کے لیے بچ نکلنے کا کچھ نہ کچھ امکان ہوتا ہے ۔ یہ دوسرا مضمون آیت کے فحویٰ سے خود بخود نکلتا ہے ، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی صراحت نہیں فرمائی ہے ، کیونکہ آیت کا اصل مقصود ان لوگوں کو متنبہ کرنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ضد اور ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات مان کر نہیں دینی ہے ۔ اس پر انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ تم تو اپنی اس ہیکڑی کو بڑی قابل چیز سمجھ رہے ہو ، مگر فی الحقیقت ایک انسان کی اس سے بڑھ کر کوئی نالائقی اور بد نصیبی نہیں ہو سکتی کہ اللہ کا ذکر اور اس کی طرف سے آئی ہوئی نصیحت سن کر وہ نرم پڑنے کے بجائے اور زیادہ سخت ہو جائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٢۔ ٢٣ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی ١ ؎ اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان اور جنات کو پیدا کیا تو سب خواہش نفسانی اور طرح طرح کی حرص اور ہوا کے اندھیرے میں پھنسے ہوئے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک نور پیدا کیا۔ انسان اور جنات میں سے جس کسی کو اس نور میں سے جس قدر حصہ دنیا میں پیدا ہوجانے کے بعد ملا اسی قدر اس نے دین کے راستہ کو اختیار کیا۔ اور جو شخص وہاں اس عالم ارواح کے نور کے حصہ سے محروم رہا دنیا میں پیدا ہونے کے بعد بھی اس کو راہ راست پر آنا نصیب نہیں ہوا صحیح بخاری ٢ ؎ کی ابوہریرہ (رض) کی روایت میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے علم غیب کے موافق پہلے ہی جو کچھ لکھا جانا تھا وہ لوح محفوظ میں لکھا جا کر اب قلم خشک ہوگیا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق جس کو لوح محفوظ میں نیک لکھ لیا تھا۔ اس نے اس نور کا حصہ پایا اور دنیا میں پیدا ہونے کے بعد بھی وہ شخص نیک کاموں کی طرف مائل ہوا اور جو شخص اللہ کے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں بد لکھا گیا۔ وہ عالم ارواح کے نور سے بھی محروم رہا اور دنیا میں پیدا ہونے کے بعد بھی اس کے دل میں نیک کام کی رغبت پیدا نہیں ہوئی۔ اسی حدیث کے مطلب کے موافق اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ جس کسی نے اللہ کے رسول کی نصیحت کو مان لیا اور اسلام کی باتوں پر عمل کرنے کے لئے اس کا دل کھل گیا۔ اس کو اللہ کی طرف سے ایک ازلی روشنی ملی ہوئی ہے۔ اور جو شخص اس ازلی روشنی سے وہاں محروم رہا اس کا دل اس ازلی اندھیرے کے سبب سے دنیا میں سخت ہے ‘ اللہ کے رسول کی نصیحت سے اس کا دل ذرا نہیں پسیجتا پھر فرمایا ایسے سخت دل لوگوں کی بڑی خرابی ہے اور وہ بالکل بہکے ہوئے ہیں۔ ترمذی ٣ ؎ اور مسند امام احمد میں حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت سے ایک دوسری صحیح حدیث ہے ‘ اس میں بھی اس ازلی روشنی کا ذکر ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ وقت اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور حضرت آدم کی پشت سے ان کی سب اولاد کو جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی۔ چیونٹیوں کی طرح نکالا تو ہر ایک انسان کی پیشانی پر ایک طرح کا نور تھا اس حدیث میں جس نور کا ذکر ہے یہ فطرت اسلام کا نور ہے۔ جس کا ذکر صحیحین ٤ ؎ کی حدیث میں آیا ہے کہ جو بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے وہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی اور نصرانی بنا لیتے ہیں اس نور میں سب انسان شریک ہیں اس نور میں اللہ تعالیٰ نے اتنا ہی اثر رکھا ہے کہ پیدا ہونے سے زبان کے کھلنے تک بچہ فطرت اسلام پر رہتا ہے پھر بڑی عمر میں نیک ہوجاتا ہے یا بد بڑی عمر میں جو نیک رہتا ہے اور اسی حالت پر ثابت قدم رہ کر مرتا ہے یہ نور ہدایت کا اثر ہے اور یہ نور وہی ہے۔ جس کا ذکر پہلی حدیث میں ہے غرض فطرت کا نور الگ ہے اور ہدایت پانے کا الگ ہے فطرت کے نور میں حضرت آدم نے اپنی اولاد کو ازل میں جب دیکھا ہے تو سب کی پیشانی کو نورانی پایا جس کا ذکر ترمذی کی حضرت ابوہریرہ (رض) کی صحیح حدیث میں اوپر گزرا اور ہدایت کے نور میں حضرت آدم نے اپنی اولاد میں بعضوں کو نورانی بعضوں کو کوئلہ کی طرح کا سیاہ روز ازل میں دیکھا ہے اور ان کے دیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا ہے کہ یہ نورانی چہرہ کے لوگ جنتیوں کا گروہ ہے اور سیاہ رو لوگ دوزخی ہیں اس کا ذکر حضرت ابو دردا کی روایت سے مسند امام احمد ١ ؎ میں ہے۔ یہ حدیث بھی اوپر گزرا وپر گزر چکی ہے اور اس حدیث کی سند بھی معتبر ہے اس آیت میں نیک کاموں کے لئے دل کے کھل جانے کا جو ذکر ہے نوادر الاصول حکیم ترمذی اور تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں ناقابل اعتراض سند سے عبد اللہ بن مسعود اور عبد اللہ عمر سے جو روایتیں ٢ ؎ ہیں ان میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دل کے کھل جانے کی یہ نشانی فرمائی ہے کہ اس دل کے کھل جانے کے بعد آدمی کو دین کے کاموں کا ایک شوق پیدا ہوجاتا ہے اور دنیا سے ایک طرح کی نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ سخت دل لوگوں کے ذکر کے بعد آگے نرم دل لوگوں کا ذکر فرمایا کہ کلام الٰہی سن کر عذاب کی آیتوں سے ان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ڈر کے مارے کانپ جاتے ہیں اور قرآن کی نصیحت کے موافق عمل کرنے کو ان کا دل ان کا جسم دونوں تیار ہوجاتے ہیں۔ پھر فرمایا جو لوگ اللہ کے علم غیب میں نیک قرار پا چکے ہیں ان کو اللہ اسی طرح راہ راست پر لاتا ہے اور جو لوگ اللہ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے ہیں۔ ان کو کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا اکثر سلف کے نزدیک کتابا متشابھا۔ کا یہ مطلب ہے کہ فصاحت میں غیب کی سچی خبروں میں قرآن کی آیتیں ملی جلی ہیں اور مثانی کا یہ مطلب ہے کہ سمجھانے کے لئے قرآن میں ایک ہی مضمون کو دبوار بیان کیا گیا ہے صحیح بخاری ٣ ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے۔ اس حدیث کو آخری آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ قرآن شریف مینہ کے پانی کی طرح عام لوگوں کے فائدہ اور ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے لیکن جس طرح اچھی زمین کو مینہ کے پانی سے فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح قرآن کی نصیحت سے فقط انہی لوگوں کو فائدہ پہنچا جو جو دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے تھے اور جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے تھے ان کے حق میں قرآن کی نصیحت اسی طرح رائیگاں گئی جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ (١ ؎ جامع ترمذی ابواب الایمان ص ١٠٤ ج ٢) (٢ ؎ صحیح بخاری باب جف القلم علی علم اللہ۔ ص ٩٧٦ ج ٢) (٣ ؎ جامع الترمذی ج ٢ ص ١٠٤ باب افتراق ھذہ الامۃ وایضا فی تفسیر سورة الاعراف ج ٢ ص ١٥٦) (٤ ؎ بخاری ج ٢ ص ٩٧٦ کتاب القدر باب اللہ اعلم بما کانوا عاملین۔ صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٣٦ کتاب القدر باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ الخ) (١ ؎ مرعاۃ المفاتیح ج ١ ص ١٢٦ باب الایمان بالقدر قال المبار کفوری شارح المشکوۃ رواہ احمد (٤٤١ ج ٦) واخرجہ ایضا البزار و الطبرانی قال الھیثمی ١٨٥ ج ٧ ورجالہ رجال الصحیح) (٢ ؎ تفسیر الدر المنثور تفسیر الایۃ المذکورۃ ج ٥ ص ٣٢٥) (٣ ؎ صحیح البخاری ج ١ ص ١٨ باب فضل من علم و علم و صحیح مسلم ج ٢ ص ٢٤٧ کتاب الفضائل باب مثل ما بعث النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من الھدی والعلم)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:22) افمن شرح اللّٰہ صدرہ للالسام ۔ فھو علی نور من ربہ : افمن میں ہمزہ استفہام انکاری کا ہے۔ شرح ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب شرح باب فتح مصدر سے بمعنی کھولنا۔ کھلا کرنا۔ کشادہ کرنا۔ تشریح کرنا۔ وضاحت کرنا۔ شرح صدر بمعنی سینہ کا نور الٰہی سے کشادہ ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ سے تسکین و تقویت کا پانا۔ صدرہ مضاف مضاف الیہہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے۔ فھو۔ میں الفاء للسببیہ اور نور بمعنی ہدایۃ ہے۔ نور کے بعد عبارت محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔ افمن شرح اللّٰہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ (کمن طبع علی قلبہ فقسا قلبہ) ۔ کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے (اسلام کو قبول کرنے کے لئے) کھول دیا ہو جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ اپنے پروردگار کی عطا کردہ ہدایت پر آگیا ہو۔ (بھلا ایسا شخص) اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کے دل پر (اللہ کی طرف سے) چھاپ لگا دی گئی ہو۔ اور اس کا دل سخت ہوگیا ہو۔ (اور قبول حق کی اس میں صلاحیت ہی نہ رہی ہو) ۔ فویل للقسیۃ قلوبھم من ذکر اللّٰہ۔ الفاء سببیہ۔ اور من ذکر اللّٰہ میں من اجلیہ ہے ای من اجل ذکر اللّٰہ یعنی جب اللہ کا ذکر ان کے سامنے کیا جاتا ہے یا اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کی قسادت (سخت دلی) اور بڑھ جاتی ہے۔ گویا اللہ کا ذکر ان کی قساوت قلبی بڑھ جانے کا سبب بن جاتا ہے۔ للقسیۃ۔ لام حرف جار ہے قسیۃ اسم فاعل واحد مؤنث مجرور ہے۔ قسوۃ قساوۃ قسو مصدر باب نصر سے۔ اس کی جمع قسیات ہے قسو مادہ ۔ القسوۃ کے معنی سنگ دل ہونے کے ہیں۔ یہ اصل میں حجر قاس سے ہے۔ جس کے معنی سخت پتھر کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے ثم قست قلوبکم من بعد ذلک فہی کالحجارۃ او اشد قسوۃ (2:74) پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل اللہ کے ذکر سے اور سخت ہوگئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کا دل اللہ کی یاد سے غافل ہو کر سخت ہوگیا ؟ “۔ ( افمن کان) کا یہ جواب محذوف ہے اور اگلے جملہ یعنی ( فویل للقاسیۃ قلوبھم من ذکر اللہ) سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان لوگوں کا ان سے مقابلہ کیا جا رہا ہے جن کے دل اللہ کی یاد سے غافل ہونے کی وجہ سے سخت ہوگئے ہوں۔ ایک حدیث میں ہے کہ جب نور ایمان سینہ میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ کھل کر کشادہ ہوجاتا ہے اور فرمایا اس کی علامت ہے ” آخرت کی طرف دھیان اور دنیا سے بیزاری “ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے ( یعنی جس کا سینہ کھول دیا گیا) خاص کر حضرت ابوبکر (رض) صدیق مراد ہیں۔ ( شوکانی)9 دلوں کے سخت ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی اور نہ وہ حق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 ۔ تا۔ 31: اسرار و معارف : اور بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا اسلام کی خاطر یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے اور انابت الی اللہ سے اسلام کے احکام اور اس کی حقانیت کو سمجھنے کی استعداد حاصل ہوگئی اور احکام الہی اس ک ےلیے نور یعنی راستے کی روشنی بن گئے اس کے ساتھ ان کا کیا مقابلہ جن کے دل قساوت اور سختی سے بھر کر ذکر الہی سے محرم ہوگئے ایسے لوگ تو ایسی گمراہی اور غلط روش میں گرفتار ہوئے جسے وہ خود بھی غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں یعنی اللہ اپنے کرم سے اگر شرح صدر عطا فرمائیں تو دل ذاکر ہوجاتا ہے اور اس میں نور پیدا ہوجاتا ہے جو نیکی اور بھلائی کی محبت و طلب پیدا کرکے اتباع شریعت کو آسان بنادیتا ہے اسی طرح ذکر قلبی نصیب ہو تو اللہ کریم سینہ کھول دیتے ہیں لیکن اگر کسی کا دل اتنا سخت ہوجائے کہ اسے ذکر قلبی نصیب ہی نہ ہو یاد رہے ذکر قلبی کا کم از کم درجہ ایمان لانے کے ساتھ قلبی تصدیق ہے اگر اتنا بھی نہیں تو پھر اس کی گمراہی میں کیا شبہ۔ اللہ تو بہت کریم ہے اس نے بہت خوبصورت اور حقائق سے پر کتاب نازل فرمائی جو دہرا دہرا کر حق باتوں کی تاکید فرمائی اور جہاں نور ایمان ہو وہاں اس کتاب کے حقائق رونگٹے کھڑے کردیتے اور پھر ان کی کھال سے لے کر دل تک ہر ذرہ بدن اللہ کا ذکر کرنے لگتا ہے۔ حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق (رض) سے رویت ہے کہ اکثر صحابہ کا یہی حال تھا کہ ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا تو آنکھوں میں آنسو آجاتے اور بدن کے بال کھڑے ہوجاتے تھے اور یہ اللہ کی طرف سے راہ ہدایت ہے جس پر کرم فرمائے اور جسے چاہے یہ نعمت عظمیٰ عطا فرما دیتا ہے اور جس کی بات اللہ ہی سے بگڑ گئی ہو اور اس کی وجہ سے اللہ نے اسے ہدایت سے محروم کردیا پھر اسے کوئی ہدایت کی راہ پر نہیں ڈال سکتا۔ بلکہ اس کا حال تو یہ ہوگا کہ دوزخ کے بھڑکتے شعلے سیدھے اس کے منہ پر پڑیں گے اور اس کا چہرہ ہی اس کی ڈھال ہوگا یعنی چہرہ بچانے کے اسباب بھی اس کے پاس نہ ہوں گے روز حشر یہ بات سامنے آجائے گی اور ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ تم نے کفر و شرک کی راہ اپنائی تھی اور جو ظالمانہ کردار اپنایا تھا اب اس کا مزہ چکھو۔ دنیا میں بھی تباہ ہی ہوں گے جس طرح ان سے پہلی قوموں نے جب یہ راستہ اختیار کیا تھا تو اللہ نے دنیا کی ذلت سے دوچار کرکے تباہ کردیا تھا اور آخرت کا عذاب تو کئی گنا سخت اور بہت بڑا ہے کاش یہ اس بات کو جان لیتے کہ ہم نے تو ہر طرح کے عقلی اور نقلی دلائل دے کر قرآن حکیم کو نازل فرمایا ہے کہ یہ لوگ بات سمجھ پائیں۔ خوبصورت پیاری عربی زبان میں جس میں خوب روانی ہے تاکہ یہ اللہ سے تعلق قائم کرسکیں۔ اللہ نے مثال کے طور پر فرمایا ہے کہ ایک شخص کے کئی مالک ہوں جن کی آپس میں بھی نہ بن سکتی ہو اور دوسرا کسی ایک ہی کے لیے خاص ہو بھلا کبھی ایک جیسے ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں اور یہ سب احسانات ہیں اللہ کے جسے سب تعریفیں سزوار ہیں اور لوگوں کی اکثریت ان حقائق کے علم سے محروم ہے آپ کو بھی جہان فانی سے دار بقا کو تشریف لانا ہے اور انہیں بھی موت کی راہ سامنے ہے اسی سے گزر کر آنا ہے اور پھر میدان حشر میں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے وہاں سب بات طے ہوجائے گی اور ہر ایک کو اپنی بات پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ یا پر اگر تشید ہو تو میت کا معنی آئندہ مرنے کا آتا ہے لہذا اس آیت میں حیات النبی کی بات نہیں قانون قدرت کی بات ہو رہی ہے کہ سب کو اسی راہ سے گزر کر میدان حشر میں پہنچنا ہے نیز حیات النبی کا یہ معنی بھی نہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر موت وارد نہیں ہوئی بلکہ انبیاء کی موت ہی یہ ہوتی ہے کہ روح کا تعلق عالم دنیا سے بدل کر عالم برزخ اور آخرت سے جوڑ دیا جاتا ہے حیات ویسی ہی رہتی ہے جیسی دنیا میں تھی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی اسلام کی حقیقت کا اس کو یقین آگیا۔ 4۔ یعنی وہ ہدایت کے مقتضے پر چل رہا ہے، یعنی یقین لا کر اسی کے مطابق عمل کرنے لگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح بارش کا پانی جذب کرنے کے بعد زمین گل و گلزار اگاتی ہے اسی طرح ہی جو شخص ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور وہ اسلام کی روشنی میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اسلام کی پہلی دعوت ” اللہ “ کی ذات اور اس کی صفات پر اسی طرح ایمان لانا ہے جس طرح اس کا حکم اور تقاضا ہے۔ جو شخص توحید کے تقاضے پورے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سینہ کھول دیتا ہے جس بنا پر اس کے سینے میں ہدایت کا نور پیدا کردیتا ہے۔ ایسا شخص بڑی سے بڑی مصیبت میں اپنے رب پر راضی رہتا ہے۔ اسے غیر معمولی کا میابی اور خوشی نصیب ہوتی ہے تو بھی اپنے آپ سے باہر نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں وہ شخص ہے جس کا دل کفر و شرک اور گناہوں کی وجہ سے سخت ہوگیا ہو۔ اسے نصیحت کی جائے تو وہ اس سے چڑتا ہے۔ اللہ کی توحید کا تذکرہ ہو تو اس سے بد کتا ہے۔ اس قسم کے لوگ راہ راست سے اس قدر بھٹک جاتے ہیں کہ ان کی گمراہی میں رتی بھر بھی شک باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ ان کے دل اس قدر سخت ہوجاتے ہیں کہ ان پر کوئی نصیحت اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہ بدقسمتی اور نافرمانی کا وہ درجہ ہے۔ جس کے بارے میں قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دیتا ہے اور ان کی آنکھوں پر گمراہی کا پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ قیامت کے دن ان کے لیے عظیم عذاب ہوگا۔ ( البقرہ : ٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 22 تا 23 جس طرح آسمانوں سے پانی نازل ہوتا ہے ، زمین سے نباتات اگتے ہیں اور ان کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح آسمان سے ذکر اور نصیحت نازل ہوتی ہے۔ اس ذکر اسے بھی زندہ دل فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان دنوں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اچھے کاموں کے لئے بڑھتے ہیں۔ اور جس طرح آسمانوں کی بارش پتھروں پر فصل نہیں اگاتی۔ اسی طرح سنگدل لوگوں پر ذکر آسمانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ان میں کارخیر کی روئیدگی ہوتی ہے اور نہ فکر خیر کی روئیدگی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسلام کے لیے ایسے دلوں کے اندر شرح صدر پیدا کردیتا ہے جن کے بارے میں اللہ کے علم میں ہوتا ہے کہ ان کے اندر خیر ہے۔ ان تک نور الہٰی پہنچتا ہے تو چمک اٹھتے ہیں اور ان سے زوشنی پھولتی ہے۔ اور شرح صدر والے قلوب اور سنگدل قلوب میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ فویل للقٰسیة قلوبھم من ذکر اللہ (39: 22) ” تباہی ان لوگوں کے لیے جن کے دل نصیحت سے اور سخت ہوجاتے ہیں “۔ اولٰئک فی ضلل مبین (39: 22) ” وہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ آیت کریمہ ان دلوں کی حقیقت بیان کرتی ہے جو اسلام کے لیے کھل جاتے ہیں ، جو اسلام سے ہدایات لیتے ہیں اور اسلام سے تروتازگی حاصل کرتے ہیں اور اپنے دلوں کا تعلق اللہ سے جوڑتے ہیں۔ ان کی شرح صدر کی حالت سے ان کی تازگی ، ان کے اندر پائی جانے والی بشاشت اور مسرت اور نورانیت اور اشراق کی کیفیات وجود میں آتی ہیں اس کے مقابلے میں یہ آیت ان دلوں کا حال بھی بتاتی ہے جو سخت اور پتھر ہیں۔ جو اپنی خشکی کی وجہ سے مرچکے ہیں۔ بانجھ اور تاریک ہوچکے ہیں۔ غرض اللہ جس کو اسلام کے لیے پسند کرتا ہے اس کا دل اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور اسلام کا نور ان کے دلوں میں داخل ہوجاتا ہے اور جسے محروم کرنا چاہتا ہے اس کا دل سخت کردیتا ہے اور ان دونوں کے اندر بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ دوسری آیت میں یہ بتایا گیا کہ اہل ایمان قرآن کریم کو کس انداز میں لیتے ہیں۔ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کی طبیعت اور مزاج میں ، اس کی سمت میں اس کی روح میں ، اس کے خصائص میں ، یہ ان تمام زاویوں سے مشابہ اور مثانی ہے (دہرائی ہوئی) ۔ اس کی آیات کے آخری حصے یعنی مقطعے ، اس کے قصص اور اس کی ہدایات اور اس کے مناظر باربار دہرائے جاتے ہیں۔ لیکن ان میں تضاد نہیں ہوتا۔ ہر جگہ ایک نئے زاویہ سے دہرائے جاتے ہیں اور ہر جگہ نئے لگتے ہیں اور پر جگہ نیا فائدہ ہوتا ہے۔ نہایت ہم آہنگی ، نہایت سنجیدگی اور مضبوط اصولوں کے مطابق ، جن میں نہ تصادم ہے اور نہ تضاد ہے۔ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس کے احکام کے مطابق پرہیز کرتے ہیں اور ہر وقت احتیاط میں زندگی بسر کرتے ہیں اور ہر وقت اللہ کے فضل کے امیدوار ہوتے ہیں۔ وہ قرآن کریم کے باران رحمت کو نہایت خوف اور کپکپی سے لیتے ہیں۔ اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ کانپ اٹھتے ہیں۔ ان کے جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد ان کے نفوس کے اوپر سکون کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور ان کے دل اس ذکر سے مانوس ہوجاتے ہیں ، پھر ان کے دل نرم ہوکر اس نصیحت کو قبول کرلیتے ہیں۔ یہ ایک زندہ حساس صورت حالات ہے ۔ یہ صورت حالات الفاظ کے رنگ سے منقش ہے اور یہ تصاویر یوں نظر آتی ہیں کہ گویا زندہ ومتحرک ہیں۔ ذٰلک ھدی اللہ یھدی به من یشآء (39: 23) ” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ جس کو چاہتا ہے ، راہ راست پر لے آتا ہے “۔ یہ دل از خود اس طرح کانپ نہیں جاتے بلکہ یہ رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتے ہیں اور رحمٰن کے فضل وکرم سے وہ لبیک کہتے ہیں اور ان کے اندر نور پیدا ہوجاتا ہے ، اللہ کو تمام قلوب کی حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ کسی کو ہدایت دیتا ہے اور کسی کو گمراہی لیکن یہ ان قلوب کی پسند کے مطابق ہوتا ہے۔ ومن یضلل اللہ فما له من ھاد (39: 23) ” اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے “۔ اللہ اس کو اس لیے گمراہ کرتا ہے کہ وہ شخص گمراہی اختیار کرتا ہے اور اللہ کو علم ہوتا ہے کہ اس نے ایسا کرلیا ہے یا کرے گا اور وہ کبھی بھی ہدایت کو قبول نہ کرے گا۔ اور نہ ہدایت کے سامنے سر جھکائے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے جس کا سینہ کھول دیا وہ صاحب نور ہے جن کے قلوب اللہ کے ذکر کی جانب سے سخت ہیں ان کے لیے ہلاکت ہے گزشتہ آیات میں مومنین کے ثواب کا اور کافروں کے عقاب کا ذکر ہے۔ یہ تو دونوں فریق کا انجام کے اعتبار سے فرق ہے جو آخرت میں سب کے سامنے آجائے گا اب یہاں مومن اور کافر کی قلبی کیفیات کو بیان فرمایا، ارشاد فرمایا کہ ایک وہ شخص ہے جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور اس کے دل میں نور ایمان بھر دیا اور دوسرا وہ شخص ہے جس کا دل تنگ ہے نور ایمان سے خالی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تنگی محسوس کرتا ہے اور ذکر اللہ سے مانوس نہ ہونے کی وجہ سے اس کے دل میں سختی ہے، بتاؤ وہ شخص جس کا دل ایمان سے معمور ہے اور اسے اسلام کے بارے میں شرح صدر ہے کیا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کے دل میں کفر ہو جو اللہ کے ذکر کو قبول نہ کرتا ہو اس کے دل کی قسادت اور سختی اسے اللہ تعالیٰ کا نام نہ لینے دے۔ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب آسان ہے، سب جانتے ہیں۔ سورۂ انعام میں فرمایا (فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّھْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ کَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللّٰہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت پر ڈالنا چاہتا ہے اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کو بےراہ کرنا چاہتا ہے اس کے سینہ کو بہت تنگ کردیتا ہے جیسے کوئی آسمان میں چڑھتا ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے۔ ) شرح صدر کی دو نشانیاں حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت کریمہ ( اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہُ لِلْاِِسْلاَمِ ) تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جب نور سینہ میں داخل ہوجاتا ہے تو سینہ کھل جاتا ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ کیا اس کی کوئی نشانی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس کی نشانی ہے اور وہ یہ کہ دارالغرور (دھوکہ کے گھر یعنی دنیا) سے دور رہے اور دارالخلود (ہمیشگی کے گھر یعنی جنت) کی طرف رجوع ہو، یعنی ایسے اعمال کرتا رہے جو دخول جنت کا ذریعہ بن جائیں اور ایک نشانی یہ ہے کہ موت آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری کرلے۔ حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اسلام کے لیے شرح صدر ہوجانے کی یہ نشانی ہے کہ دارالغرور سے بچے اور دارالخلود یعنی آخرت کی طرف متوجہ رہے اور موت کے لیے تیاری کرتا رہے۔ سورۂ زمر کی آیت میں شرح صدر والی بات بیان کرنے کے بعد فرمایا (فَوَیْلٌ لِّلْقَاسِیَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ اُولٰٓءِکَ فِیْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ ) (سو جن لوگوں کے دل اللہ کے ذکر کی جانب سے سخت ہیں یعنی اللہ کے ذکر سے متاثر نہیں ہوتے اور اس کے لیے نرم نہیں ہوتے ان کے لیے بڑی خرابی ہے یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں) اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کے دل میں اسلام کے لیے شرح صدر نہیں ہوتا ان کے دل ایسے سخت ہوتے ہیں کہ اللہ کی یاد میں لگنا اور اللہ کا ذکر کرنا انہیں شاق گزرتا ہے ان کے دلوں کی سختی انہیں اللہ کی یاد میں نہیں لگنے دیتی۔ درحقیقت اللہ کا ذکر بڑی نعمت ہے مبارک بندے ہی اس میں لگتے ہیں اور اس میں لذت محسوس کرتے ہیں اور کثرت ذکر ان کی خصوصی غذا بن جاتی ہے۔ ذکر اللہ کی فضیلت اور اہمیت حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ مت بولا کرو کیونکہ ذکر اللہ کے علاوہ زیادہ بولنا دل کی سختی کا سبب بن جاتا ہے اور بلاشبہ لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دور وہی شخص ہے جس کا دل سخت ہے۔ (رواہ الترمذی) حضرت عبد اللہ بن بسر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دین کی باتیں تو بہت ہیں ان سب پر مجموعی حیثیت سے عمل کرنا مجھے دشوار معلوم ہو رہا ہے (کیونکہ فضیلت والے اعمال اس قدر ہیں کہ مجھ سے ان سب پر عمل نہیں ہوسکتا) لہٰذا آپ مجھے ایسی چیز بتا دیجیے کہ میں اسے پکڑے رہوں آپ نے فرمایا کہ تیری زبان ہر وقت اللہ کی یاد میں تر رہے۔ (رواہ الترمذی) حضرت عبد اللہ بن بسر (رض) سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک اعرابی (دیہات کے رہنے والے) نے سوال کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام اعمال میں افضل کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تو دنیا سے اس حال میں جدا ہو کہ تیری زبان اللہ کی یاد سے تر ہو۔ (رواہ الترمذی)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26:۔ ” افمن شرح الخ “ یہ دوسری بار مومن و کافر کے اوصاف میں تقابل کا ذکر ہے۔ دلیل ثالث کے بعد یہ بیان مقصودی ہے۔ ایک وہ مومن ہے جس نے اسلام اور توحید کی حقانیت کے دلائل میں غور و فکر کیا تو اللہ نے قبول اسلام کے لیے اس کا سینہ کھول دیا۔ اور اسلام کی سچائی پر اس کا دل مطمئن ہوگیا اور اللہ کی مہربانی اور اس کی توفیق سے اس کا سینہ نور توحید اور ضیاء اسلام سے روشن اور مستنیر ہوگیا۔ کیا یہ اس سنگدل کافر کی مانند ہوسکتا ہے جس کے دل پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہو اور اسے قبول حق کی استعداد سے محروم کردیا گیا ہو ؟ ہرگز نہیں۔ یہاں بھی ” کمن ھو لیس کذالک “ مقدر ہے قالہ الشیخ قدس سرہ۔ یا ” کمن طبع اللہ تعالیٰ علی قلبہ فلم یتھد “ (کازن ج 6 ص 72) ۔ یا ” کمن اقسی اللہ قلبہ “ (جامع البیان ص 396) ۔ ” فویل للقاسیۃ الخ “ جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اور ان کے دل ایسے سخت ہوچکے ہیں کہ ہدایت کو قبول نہیں کرسکتے اور آیات ربانی سن کر اور سخت ہوجاتے ہیں۔ وہ کھلی گمراہی میں ہیں۔ ہلاکت ہے ان کے لیے جو ایسے واضح اور کھلے دلائل کے باوجود نہیں سمجھتے۔ اذا ذکر اللہ عندہم او ایاتہ ازدادت قلوبھم قساوۃ (مدارک ج 4 ص 42) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(22) بھلا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا اور وہ اپنے پروردگار کی جانب سے عطا کردہ روشنی پر ہو تو کہیں ایسا شخص اہل قساوت کے برابرہوسکتا ہے سو ایسے لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف سے سخت ہیں اور یہی لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اہل حق اور اہل باطل دونوں فرقوں کا ذکر فرمایا ایک تو وہ لوگ ہیں جن کے قلوب اللہ تعالیٰ نے حق کی قبولیت کے لئے کھول دیئے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کے عطا کردہ نور ہدایت پر قائم ہیں اور ہدایت کے متقضا پر چل رہے ہیں یعنی اعتقاد اور عمل صحیح کو اختیار کرچکے ہیں اور دوسرے جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف سے سخت ہیں یہ دونوں فریق کہیں برابر ہوسکتے ہیں یعنی ایک مومن کامل اسلامی احکامات کا پابند دوسرا اللہ کی یاد سے بھاگنے والا اور سنگدل دنوں برابر نہیں ہوسکتے۔ پھران لوگوں کے انجام کی خرابی بیان کی جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے سخت ہیں یعنی سنتے ہی نہیں اور ذکر الٰہی سے اور قرآن مضامین سے متاثر نہیں ہوتے یا یہ کہ ان پر ذکرکا الٹا اثر ہوتا ہے کہ ان کے دل قرآن سن کر اور سخت ہوجاتے ہیں تو ان کے لئے آخرت میں خرابی اور دنیا میں گمراہی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شرح صدر کی علامت دریافت کی گئی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فرالا نابتہ الی دارالخلود والتجافی عن دارالغرور والتاھب للموت قبل نزول الموت۔ یعنی آخرت کے ساتھ رجوع ہونا اور دارآخرت سے وابستہ رہنا اور دار غرور یعنی دنیا سے الگ رہنا اور بےتوجہی برتنا اور موت کے آنے سے پہلے موت کے لئے سامان جمع کرنا یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح شرح صدر ہدایت اور فیض الٰہی کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے اس طرح گمراہی اور شقاوت کے درجات میں سے قساوت قلب یھی ایک درجہ ہے جیسے غلف غشادہ اور ختم اور طبع وغیرہ ہیں۔ اسی طرح قساوت بھی ایک قسمتی کا درجہ ہے اس قساوت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ قرآن سن کر دل کی سختی اور قساوت زیادہ ہوتی ہے سورة توبہ میں ہے۔ فزاتھم رجسا الی رجسھم۔ اللھم اھدنا الی مرضاتک وجنبنا عن موجبات سخطک آمین آگے اس نور اور ذکر کا بیان ہے۔