Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 3

سورة الزمر

اَلَا لِلّٰہِ الدِّیۡنُ الۡخَالِصُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۘ مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ فِیۡ مَا ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ۬ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ ﴿۳﴾

Unquestionably, for Allah is the pure religion. And those who take protectors besides Him [say], "We only worship them that they may bring us nearer to Allah in position." Indeed, Allah will judge between them concerning that over which they differ. Indeed, Allah does not guide he who is a liar and [confirmed] disbeliever.

خبردار اللہ تعالیٰ ہی کے لیےٴ خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیاء بنا رکھے ہیں ( اور کہتے ہیں ) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لیےٴ کرتے ہیں کہ یہ ( بزرگ ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبے تک ہماری رسایٴ کرادیں یہ لوگ جس کے بارے میں اختلاف کررہے ہیں اس کا ( سچا ) فیصلہ اللہ ( خود ) کرے گا ۔ جھوٹے اور ناشکرے ( لوگوں ) کو اللہ تعالیٰ راہ نہیں دکھاتا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَلاَ لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ ... Surely, the religion is for Allah only. meaning, He will not accept any deed unless it is done purely and sincerely for Him Alone, with no partner or associate. ... وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء ... And those who take protectors besides Him (say): Allah tells us that the idolators say: ... مَا نَعْبُدُهُمْ إِلاَّ لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى ... "We worship them only that they may bring us near to Allah." meaning what motivates them to worship them is the fact that they made their idols in the image of the angels -- or so they claim -- and when they worship those images it is like worshipping the angels, so that they will intercede with Allah for them to help and give them provision and other worldly needs. As far as the resurrection is concerned, they denied it and did not believe in it. Qatadah, As-Suddi and Malik said, narrating from Zayd bin Aslam and Ibn Zayd: إِلاَّ لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى (only that they may bring us near to Allah), means, "So that they may intercede for us and bring us closer to Him." During Jahiliyyah, they used to recite the following for their Talbiyah when they performed Hajj; "At Your service, You have no partner except the partner You have; he and all that he owns belong to You." This pretentious argument which the idolators of all times, ancient and modern, used as evidence is what the Messengers, may the blessings and peace of Allah be upon them all, came to refute and forbid, and to call people to worship Allah Alone with no partner or associate. This is something that the idolators themselves invented; Allah did not give them permission for it, nor does He approve of it; indeed, He hates it and forbids it. وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah, and avoid Taghut." (16:36) وَمَأ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I (Allah), so worship Me." (21:25) And Allah tells us that the angels in the heavens, those who are close to Him and others, are all servants who submit humbly to Allah. They do not intercede with Him except by His leave for the one with whom He is pleased. They are not like the princes and ministers of their (the idolators') kings who intercede with them without their permission for both those whom the kings like and those whom they hate. فَلَ تَضْرِبُواْ لِلَّهِ الاٌّمْثَالَ So put not forward similitudes for Allah. (16:74) Exalted be Allah far above that. ... إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ... Verily, Allah will judge between them, means, on the Day of Resurrection, ... فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ... concerning that wherein they differ. means, He will judge between His creation on the Day of Resurrection and will reward or punish each person according to his deeds. وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَـيِكَةِ أَهَـوُلاَءِ إِيَّاكُمْ كَانُواْ يَعْبُدُونَ قَالُواْ سُبْحَـنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِمْ بَلْ كَانُواْ يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْـثَرُهُم بِهِم مُّوْمِنُونَ And (remember) the Day when He will gather them all together, then He will say to the angels: "Was it you that these people used to worship?" They (the angels) will say: "Glorified be You! You are our Wali (Lord) instead of them. Nay, but they used to worship the Jinn; most of them were believers in them." (34:40-41) ... إِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ Truly, Allah guides not him who is a liar, and a disbeliever. means, He will not show true guidance to one who deliberately tells lies about Allah and whose heart rejects the signs and proof of Allah. Then Allah states that He does not have any offspring, as the ignorant idolators claim the angels to be, and as the stubborn Jews and Christians claim `Uzayr and `Isa to be. Allah, may He be blessed and exalted, says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 یہ جھوٹ ہی ہے کہ ان معبودان باطلہ کے ذریعے سے ان کی رسائی اللہ تک ہوجائے گی یا یہ ان کی سفارش کریں گے اور اللہ کو چھوڑ کر بےاختیار لوگوں کو معبود سمجھنا بھی بہت بڑی ناشکری ہے ایسے جھوٹوں اور ناشکروں کو ہدایت کس طرح نصیب ہوسکتی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] دین کا لفظ چار معنوں میں آتا ہے۔ (١) اللہ تعالیٰ کی مکمل سیاسی اور قانونی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔ (٢) دوسرا معنی اس کے بالکل برعکس ہے یعنی اپنے آپ کو ہمہ وقتی اللہ کا غلام سمجھا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے، (٣) قانون جزا و سزا (٤) اور اس قانون جزا و سزا کے مطابق اچھے اور برے لوگوں کو بدلہ دینا۔ آیت نمبر ٢ اور ٣ میں دین کا لفظ اپنے پہلے دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ [٤] توسل اور اللہ کا قرب ڈھونڈنا :۔ غیر اللہ کو پکارنے اور ان کے حضور نذر و نیاز پیش کرنے کے سلسلہ میں مشرکوں کی دلیل ہمیشہ یہ ہوا کرتی ہے کہ ہم یہ کام اس لئے کرتے ہیں کہ یہ چھوٹے خدا ہماری معروضات بڑے خدا تک پہنچا دیں۔ ہماری اللہ کے حضور سفارش کریں۔ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے بلکہ ہم نے انہیں صرف اللہ کا تقرب حاصل کرنے کا وسیلہ یا ذریعہ بنایا ہے۔ یہ جواب تو دور نبوی کے مشرکوں کا تھا۔ مگر افسوس ہے کہ آج امت مسلمہ کا بھی بالکل یہی حال ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جو مقام مشرکوں کے نزدیک اپنے بتوں کا تھا وہی مقام مسلمانوں کے نزدیک ان کے پیروں یا مشائخ کا ہے اور دوسرا فرق یہ ہے کہ مشرکوں کو تو بتوں کی نیاز مندی کے آداب واطوار شیطان نے سجھائے تھے۔ مگر مسلمانوں کے مشائخ خود اپنے مریدوں کو یہ آداب واطوار بتاتے ہیں۔ ان پیروں اور بزرگوں نے شرک کی منزلیں طے کرانے کے لئے تین درجے مقرر کر رکھے ہیں۔ (١) فنا فی الشیخ، (٢) فنا فی الرسول اور (٣) فنا فی اللہ۔ خ تصور شیخ اور سلوک کی منزلیں :۔ فنا فی الشیخ کے درجہ کی ابتدا تصور شیخ سے کرائی جاتی ہے۔ تصور شیخ سے مراد صرف پیر کی && غیر مشروط اطاعت && ہی نہیں ہوتی بلکہ اسے یہ بات باور کرائی جاتی ہے کہ اس کا پیر ہر وقت اس کے حالات سے باخبر رہتا ہے۔ اور بوقت ضرورت ان کی مدد کو پہنچتا ہے۔ اس عقیدہ کو مرید کے ذہن میں راسخ کرنے کے لئے اسے یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ ہر وقت پیر کی شکل کو اپنے ذہن میں رکھے۔ یہی واہمہ اور مشق بسا اوقات ایک حقیقت بن کر سامنے آنے لگتا ہے اور صورت یہ بن جاتی ہے کہ : دل کے آئینہ میں ہے تصویر یار۔۔ جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی ان حضرات نے پیری کے فن کو خاص تکنیک دے کر عوام پر اس طرح مسلط کردیا ہے کہ کوئی آدمی اس وقت تک اللہ کے ہاں رسائی نہیں پاسکتا۔ جب تک باقاعدہ کسی سلسلہ طریقت میں داخل نہ ہو۔ پہلے تصور شیخ کی مشق کرے۔ حتیٰ کہ فنا فی الشیخ ہوجائے۔ یعنی اسے اپنی ذات کے لئے حاضر ناظر، افعال و کردار اور گفتار کو سننے والا اور دیکھنے والا سمجھنے لگے تب جاکر یہ منزل ختم ہوتی ہے اور عملاً ہوتا یہ ہے کہ مرید بیچارے تمام عمر فنا فی الشیخ کی منزل میں ہی غوطے کھاتے کھاتے ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ گویا اللہ اور اس کے رسول سے بیگانہ کرکے اپنا غلام بنانے کا کارگر اور کامیاب حربہ ہے۔ یہ حضرات کس طرح اللہ سے بھی زیادہ اپنی پرستش کی تاکید کرتے ہیں یہ بات درج ذیل اقتباس میں ملاحظہ فرمائیے جو تصور شیخ، غیر اللہ کو پکارنا، توسل اور استمداد جیسے سب مسائل حل کردیتا ہے۔ خ اللہ کی بجائے مصیبت میں یا جنید پکارنے کی تلقین :۔ اس کے راوی جناب اعلیٰ حضرت رضا خان بریلوی ہیں۔ فرماتے ہیں && غالباً حدیقہ ندیہ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیدی جنید بغدادی دجلہ پر تشریف لائے اور یا اللہ کہتے ہوئے اس پر زمین کی طرح چلنا شروع کردیا۔ بعد میں ایک شخص آیا۔ اسے بھی پار جانے کی ضرورت تھی کوئی کشتی اس وقت موجود نہ تھی۔ جب اس نے حضرت کو جاتے دیکھا ؟ عرض کیا : میں کس طرح آؤں ؟ فرمایا یا جنید ! یا جنید کہتا چلا آ۔ اس نے یہی کہا اور دریا پر زمین کی طرح چلنے لگا جب بیچ دریا میں پہنچا۔ شیطان لعین نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ حضرت خود یا اللہ کہیں اور مجھ سے یاجنید کہلواتے ہیں۔ میں بھی کیوں نہ یا اللہ کہوں ؟ خ اللہ کے قرب کی بجائے دور رکھنے کا طریقہ :۔ اس نے یا اللہ کہا اور ساتھ ہی غوطہ کھایا۔ پکارا یا حضرت میں چلا۔ فرمایا : وہی کہہ یا جنید ! یا جنید ! جب کہا دریا سے پار ہوا۔ عرض کیا حضرت ! یہ کیا بات تھی۔ آپ یا اللہ کہیں تو پار ہوں اور میں کہوں تو غوطہ کھاؤں ؟ فرمایا : اے نادان ! ابھی تو جنید تک تو پہنچا نہیں، اللہ تک رسائی کی ہوس ہے۔ اللہ اکبر && (ملفوظات مجدد مائۃ حاضر حضرت احمد رضا خان بریلوی ص ١١٧) پیر کس طرح اپنی پرستش کرواتے ہیں :۔ دیکھا آپ نے پیر کو وسیلہ پکڑنے کی کتنی زبردست دلیل ہے جو امام اہل سنت، موجودہ صدی کے مجدد صاحب && غالباً حدیقہ ندیہ && کے حوالہ سے پیش فرما رہے ہیں۔ اور واقعہ بھی ایسا لاجواب گھڑا ہے کہ اس بیچارے کو تسلیم کرنا پڑا کہ میرا اللہ کو پکارنا واقعی شیطانی وسوسہ تھا۔ یہ ہیں تصور شیخ جیسی بدعت کے کرشمے۔ یہ لوگ ایسے افسانے تراش تراش کر لوگوں کو شرک میں مبتلا کرتے اور اللہ سے دور رکھتے اور فی الحقیقت اپنی پرستش کراتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے خود جو اپنے قرب کا وسیلہ بتایا وہ درج ذیل قدسی حدیث سے واضح ہوتا ہے : قرب الہٰی کا حقیقی وسیلہ اس کے نیک اعمال ہیں :۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ : && قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اے آدم کے بیٹے میں بیمار ہوا تو نے میری بیمار پرس نہ کی، وہ کہے گا : اے میرے پروردگا ! میں کیسے تیری عبادت کرتا جبکہ تو تو رب العالمین ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا، تو نے اس کی عیادت نہ کی۔ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے وہاں پالیتا۔ اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تو نے کھانا نہ دیا۔ وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا۔ تو تو رب العالمین ہے ؟ پروردگار فرمائے گا۔ کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تو تو نے اسے کھانا نہ کھلایا۔ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس کا اجر میرے ہاں پالیتا۔ اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے مجھے پانی نہ پلایا۔ بندہ کہے گا کہ میں تجھے کیونکر پانی پلاتا، تو تو رب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میرے فلاں بندہ نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے اسے پانی نہ پلایا۔ اگر تو اسے پانی پلاتا تو اس کا اجر میرے ہاں پالتا && (مسلم۔ کتاب البروالصلۃ والادب۔ باب فضل عیادۃ المریض) [٥] پھر صرف یہی نہیں کہ وہ اپنے عقائد پر جمے ہوئے ہیں بلکہ اگر انہیں سمجھایا جائے تو مخالفت پر اتر آتے ہیں اور اسے ولیوں کے منکر یا گستاخ کا طعنہ دیتے ہیں۔ ایسے اختلافات دنیا میں مٹ نہیں سکتے۔ کیونکہ یہ معاملہ غور و فکر اور افہام کا نہیں بلکہ ضد اور چڑ کا بن جاتا ہے پھر کچھ دنیوی مفادات کا بھی دھندا چلتا ہے۔ لہذا ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی کرے گا۔ اور وہاں ہر ایک کو ٹھیک سمجھ آجائے گی۔ [٦] یہ مشرک جھوٹے تو اس لحاظ سے ہیں کہ ان کے سب عقیدے من گھڑت ہوتے ہیں۔ اور حق کے منکر اس لحاظ سے کہ بات سمجھنے کی بجائے ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آتے ہیں۔ اور اگر کفار کا معنی ناشکرگزار کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ کھاتے تو اللہ کا دیا ہوا رزق ہیں اور ان کی ہر طرح کی نیاز مندیاں اللہ کے بجائے دوسروں کے لئے وقف ہوتی ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ ۭ ۔۔ : یعنی اصل حقیقت تو یہی ہے کہ خالص عبادت اور اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مگر اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کو اپنا حمایتی اور مدد گار سمجھنے والے مشرک لوگ عموماً یہی کہا کرتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت انھیں خالق ومالک سمجھ کر نہیں کرتے، خالق ومالک اور اصل معبود تو ہم اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھتے ہیں، لیکن اس کی ذات بہت بلند ہے، ہماری وہاں رسائی نہیں ہوسکتی، اس لیے ہم ان ہستیوں کو ذریعہ بناتے ہیں اور انھیں پکارتے اور ان سے فریاد کرتے ہیں، تاکہ یہ ہماری حاجتیں اور دعائیں اللہ تعالیٰ سے پوری کروا دیں۔ کئی لوگ اس کے لیے چھت پر پہنچنے کے لیے سیڑھی کے ضروری ہونے کی مثال بیان کیا کرتے ہیں۔ اِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ۔۔ : ایک اللہ کو پکارنے اور اس کی عبادت کرنے والے تو ایک ہی معبود پر متفق ہیں مگر اس کے سوا دوسری ہستیوں کو پکارنے والوں کا کسی ایک ہستی پر اتفاق نہیں، کوئی کسی کو پکارتا ہے اور کوئی کسی کو، کیونکہ کسی کے پاس اس بات کی دلیل نہیں، نہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ فلاں ہستی کو فلاں کام کا اختیار ہے، یا وہ اللہ تعالیٰ سے فلاں فلاں کام کروا سکتا ہے۔ مشرکین محض گمان کی بنا پر انھیں پوجتے جا رہے ہیں اور ہر ایک اپنے اپنے گمان کے مطابق کسی نہ کسی داتا، دستگیر، مشکل کشا یا حاجت روا کو پکار تا چلا جا رہا ہے۔ مشرکین کی یہ بات چونکہ بالکل ہی بودی اور بےکار ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرنے کے بجائے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن موحّدوں اور ان مشرکین کے درمیان اور مشرکوں کے مختلف گروہوں کے باہمی اختلاف میں حق بات کا فیصلہ فرمائے گا۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّار : اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے لیے دو لفظ استعمال فرمائے ہیں، ایک ” كٰذِبٌ“ اور دوسرا ” كَفَّارٌ“۔ ” كٰذِبٌ“ اس لیے کہ اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں کہ ایسی کوئی ہستی موجود ہے جس کی پرستش سے، یا اسے پکارنے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوجاتا ہے اور ” كَفَّارٌ“ (بہت ناشکرا) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی دعا خود سنتا اور قبول کرتا ہے، لیکن کس قدر نا شکرے ہیں وہ لوگ جو اس کی اس نعمت کی ناشکری کرتے ہوئے اس کے بجائے بےاختیار ہستیوں کو پکارتے اور ان کی پرستش کرتے ہیں اور اس کے لیے سیڑھی وغیرہ کی مثالیں بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتا ہے، میں قریب ہوں اور یہ کہتے ہیں کہ اس تک رسائی کے لیے واسطے ضروری ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The next sentence in verse 3 says: وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّ‌بُونَا (As for those who have taken to guardians other than Him [ saying ], |"We worship them for no other reason than that they would bring us near to Allah closely.|" - 39:3). This is a description of the creed of the Mushriks of Arabia. Even the common people among them during that period of time more or less had the same belief that Allah Ta’ ala is the creator, owner and master in all matters. But when the Shaitan (Shaitan) instigated them, they started making idols in the image of angels, as they imagined they would be. They knew it well that these idols made by them had no consciousness, reason or power, yet they believed that by showing their reverence for these idols, those angels (in whose images these idols are designed) will be pleased with them, and the angels have nearness to Allah. They compared Allah&s nearness with that of the worldly kings where a courtier who is pleased with someone could put in a good word for him with the king and have him included among his inner circle. So, they surmised that the angels too could recommend anyone they chose very much like the royal courtiers of their world. But, all these ideas they nursed were totally false, in fact, they were nothing but satanic deception. First of all, who can say whether or not these idols happen to be on the real form of the angels and, even if they were, one cannot expect angels close to Allah showing their pleasure over being worshipped by somebody on the earth. In fact, they temperamentally hate everything that Allah Ta’ ala does not like. In addition to that, angels cannot intercede on behalf of anyone before Allah on their own, unless they are allowed to make their intercession about a particular person. The verse of the Qur&an: وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْ‌ضَىٰ (And how many angels there are in the heavens whose intercession cannot benefit (anyone) at all, but after Allah allows (it) for whomsoever He wills and pleases - An-Najm, 53:26) means exactly this. Even the polytheists of that period were better than the disbelievers of today Modern day materialistic disbelievers already deny the very existence of Allah Ta’ ala and would not demur when making audacious remarks against Him. Kufr or disbelief is now an imported stuff. Take the kufr that is imported from Europe. It may come in different colors and shades, like capitalism and communism. Yet, there is a common denominator. God forbid, they hold, nothing like God exists. We are masters of our destiny. There is no one to question us as to what we are doing. Terrible ingratitude indeed! As a consequence, peace has disappeared from the whole world. Ever-new gadgets of comfort proliferate, but real comfort remains missing. Advancements in health care have never been at a level they are today, but there is a matching abundance of diseases hitherto unheard of. Security arrangements, police, guards, surveillance abound, but the graph of crime keeps rising. This craze for new instrumentation and gadgetry and this relentless pursuit of pleasure and comfort through state-of-the-art objects one is being pushed to live with are things, if someone cares to think about it, that have assumed the proportions of a curse for innocent human beings so fondly created by their Maker. As for the punishment of kufr in the Hereafter, it is, as due for all disbelievers, an everlasting stay in the Jahannam. But, one should not forget that this blind ingratitude could not go unaccounted for. The ungrateful person has to undergo some punishment for it within this world for the reason that the ungrateful person used the blessings of Allah even to ride the skies, yet failed to thank Him for it. How apt is the Persian quip: &In the middle of the house, I forgot the master of the house!&

(آیت) وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى، یہ مشرکین عرب کا حال ہے اور اس زمانے کے عام مشرکین بھی تقریباً یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ خالق ومالک اور تمام کاموں میں متصرف تو صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ شیطان نے ان کو بہکایا تو اپنے خیال کے مطابق فرشتوں کی شکلوں پر بت تراشے اور یہ جانتے ہوئے کہ یہ بت ہمارے بنائے ہوئے ہیں انہیں کوئی عقل و شعور اور قدرت وقوت نہیں۔ انہیں عقیدہ یہ تھا کہ ان بتوں کی تعظیم و تکریم سے وہ فرشتے ہم سے خوش ہوں گے جن کی شکلوں پر بت بنائے گئے ہیں اور فرشتے اللہ کے نزدیک مقرب ہیں۔ انہوں نے بارگاہ خداوندی کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کیا کہ جیسے شاہی مقرب کسی سے خوش ہوں تو وہ بادشاہ کے پاس ان کی سفارش کر کے ان کو بھی بادشاہ کا مقرب بنا دیتے ہیں۔ یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے بھی بادشاہی درباریوں کی طرح جس کی چاہیں سفارش کرسکتے ہیں مگر ان کے یہ سارے خیالات شیطانی تلبیس اور باطل ہی باطل تھے۔ اول تو یہ بت پرستوں کی شکل پر واقع میں ہیں نہیں اور ہوں بھی تو اللہ کے مقرب فرشتے اپنی پرستش سے کب خوش ہونے والے ہیں۔ ان کو تو ہر اس چیز سے طبعی نفرت ہے جو اللہ کے نزدیک ناپسند ہے۔ اس کے علاوہ بارگاہ خداوندی میں وہ از خود کسی کی سفارش نہیں کرسکتے جب تک ان کو کسی خاص شخص کے بارے میں سفارش کی اجازت نہ مل جائے۔ وکم من ملک فی السموٰت لا تغنی شفاعتھم شیئاً الا من بعد ان یاذن اللہ لمن یشاء ویرضیٰ ۔ کا یہی مطلب ہے۔ اس زمانے کے مشرکین بھی آج کے کفار سے بہتر تھے : آج کے مادہ پرست کفار تو خود اللہ تعالیٰ کے وجود ہی کے منکر ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شان میں براہ راست گستاخیاں کرتے ہیں۔ یورپ سے درآمد کیا گیا کفر خواہ اس کے رنگ مختلف ہوں، کوئی سرمایہ پرست ہو، کوئی کمیونزم کا قائل۔ یہ بات سب میں قدر مشترک ہے کہ معاذ اللہ خدا کوئی چیز نہیں، ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ ہم سے ہمارے اعمال کی باز پرس کرنے والا کوئی نہیں۔ اسی بدترین کفر اور ناشکری کا نتیجہ ہے کہ پوری دنیا سے امن و اطمینان، سکون و راحت مفقود ہوچکا ہے، راحت کے نئے نئے سامان بہت مگر راحت مفقود علاج معالجے کے جدید آلات اور تحقیقات کی بہتات مگر امراض کی اتنی کثرت جو پہلے کسی زمانے میں نہیں سنی گئی۔ پہرے چوکیاں، پولیس، خفیہ پولیس قدم قدم پر، مگر جرائم کی رفتار ہر روز بڑھ رہی ہے۔ یہ نئے آلات اور راحت و آرام کے نئے نئے طریقے جب غور کریں تو یہی خلق خدا کے لئے وبال جان بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کفر کی سزا تو آخرت میں سب کفار کے لئے دائمی جہنم ہے مگر اس اندھی ناشکری کی سزا کچھ دنیا میں بھگتنی پڑتی ہے، کہ جس کی دی ہوئی نعمتوں میں تصرفات کر کے آسمان پر چڑھنے کے حوصلے پیدا ہوئے، اسی کا انکار ہے۔ درمیان خانہ گم کردیم صاحب خانہ را

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَا لِلہِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ۝ ٠ ۭ وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝ ٠ ۘ مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللہِ زُلْفٰى۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ يَحْكُمُ بَيْنَہُمْ فِيْ مَا ہُمْ فِيْہِ يَخْتَلِفُوْنَ۝ ٠ۥۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِيْ مَنْ ہُوَكٰذِبٌ كَفَّارٌ۝ ٣ خلص الخالص کالصافي إلّا أنّ الخالص هو ما زال عنه شوبه بعد أن کان فيه، والصّافي قد يقال لما لا شوب فيه، وقوله تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] ، أي : انفردوا خالصین عن غيرهم .إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] ( خ ل ص ) الخالص ( خالص ) خالص اور الصافی دونوں مترادف ہیں مگر الصافی کبھی ایسی چیز کو بھی کہہ دیتے ہیں جس میں پہلے ہی سے آمیزش نہ ہو اور خالص اسے کہتے ہیں جس میں پہلے آمیزش ہو مگر اس سے صاف کرلیا گیا ہو ۔ آیت کریمہ : ۔ فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہوکر صلاح کرنے لگے میں خلصوا کے معنی دوسروں سے الگ ہونا کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ [ البقرة/ 139] اور ہم خالص اس کی عبادت کرنے والے ہیں ۔ إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ ولي والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ( و ل ی ) الولاء والتوالی الوالایتہ ( بکسر الواؤ ) کے معنی نصرت اور والایتہ ( بفتح الواؤ ) کے معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دلالتہ ودلالتہ کی طرح ہے یعنی اس میں دولغت ہیں ۔ اور اس کے اصل معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ الوالی ولمولی ۔ یہ دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں اور مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ولی المومنین ومولاھم دونوں طرح بول سکتے ہیں ۔ چناچہ معنی اول یعنی اسم فاعل کے متعلق فرمایا : ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] جو لوگ ایمان لائے ان کا دوست خدا ہے عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ «3» ، وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ( ق ر ب ) القرب والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ قرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے زلف الزُّلْفَةُ : المنزلة والحظوة «2» ، وقوله تعالی: فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] وقیل لمنازل اللیل : زُلَفٌ قال : وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] ( ز ل ف ) الزلفۃ اس کے معنی قریب اور مرتبہ کے ہیں چناچہ آیت : ۔ فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] سو جب وہ قریب دیکھیں گے ۔ اور منازل لیل یعنی رات کے حصوں کو بھی زلف کہا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] اور رات کے کچھ حصوں میں۔ حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

یاد رکھو کہ ایسی عبادت جو کہ شرک سے خالص ہو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو تمام انسانوں پر واجب ہے۔ اور ان کفار مکہ نے اللہ کے علاوہ جو اور شرکاء مثلا لات و عزی اور منات وغیرہ تجویز کر رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی پرستش صرف اس لیے کرتے ہیں کہ مرتبہ اور سفارش میں یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا مصاحب بنا دیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اور ان کے مقابلے میں مسلمانوں کے درمیان ان کے دینی اور باہمی اختلافات کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو دین کا راستہ نہیں دکھاتا جو کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان لگاتا ہو اور اس کا منکر ہو اور یہ لوگ یہود و نصاری اور بنو ملیح اور مجوس اور تمام مشرکین عرب ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ { اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ } ” آگاہ ہو جائو کہ اطاعت ِخالص اللہ ہی کا حق ہے۔ “ اللہ کے ہاں صرف دین خالص ہی مقبول ہے۔ اللہ کو یہ ہرگز منظور نہیں کہ اس کا کوئی بندہ اس کی بندگی بھی کرے اور اپنی بندگی کا کچھ حصہ کسی دوسرے کے لیے بھی مختص کرلے۔ اللہ تعالیٰ بہت غیور ہے ‘ وہ شراکت کی بندگی کو واپس اس بندے کے منہ پردے مارتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ میرا بننا ہے تو خالصتاً میرے بنو : { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص } ( البقرہ : ٢٠٨) ” اے اہل ایمان ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو “۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ احکام ماننے اور کچھ نہ ماننے کے حوالے سے سورة البقرۃ کی اس آیت میں بہت سخت وعید آئی ہے : { اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِطوَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ } ” تو کیا تم (ہماری) کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک حصے کا انکار کردیتے ہو ؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو تم میں سے یہ حرکت کرے سوائے دنیا کی زندگی میں ذلت و رسوائی کے ‘ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔ “ سیاق وسباق کے لحاظ سے اگرچہ اس آیت کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں لیکن آج ہمارے لیے بھی اللہ کا حکم اور قانون یہی ہے۔ بلکہ یہ آیت ہمارے لیے آئینے کی حیثیت رکھتی ہے جس میں آج ہم اپنی تصویر واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا کی جس رسوائی کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے وہ آج ہمارے ماتھے پر جلی حروف میں لکھی ہوئی صاف نظر آرہی ہے۔ اس وقت مسلمان تعداد میں ڈیڑھ سو کروڑ سے بھی زائد ہیں مگر عزت نام کی کوئی چیز اس وقت ان کے پاس نہیں ہے۔ بین الاقوامی معاملات میں کسی کو ان سے ان کی رائے پوچھنا بھی گوارا نہیں۔ { وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ } ” اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا کچھ اور کو اولیاء بنا یا ہوا ہے “ { مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی } ” ( وہ کہتے ہیں کہ ) ہم تو ان کو صرف اس لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں ۔ “ یعنی اصل میں تو ہم اللہ ہی کو پوجتے ہیں ‘ جبکہ دوسرے معبودوں کو تو ہم اللہ تک پہنچنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کا صرف وسیلہ سمجھتے ہیں۔ { اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ فِیْ مَا ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ } ” یقینا اللہ فیصلہ کر دے گا ان کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔ “ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ} ” اللہ ہرگز ہدایت نہیں دیتا جھوٹے اور نا شکرے لوگوں کو۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4 This is an actual fact and reality, which has been presented as an argument for the above demand. It means: "You should worship Allah, making din exclusively His, for it is only Allah's right that He should be obeyed and worshipped sincerely and exclusively." In other words, there is no one else who may deserve to be worshipped so that he also should be served and worshipped besides Allah and his commands and laws also obeyed. If a person serves another, apart from Allah, sincerely and exclusively, he does wrong. Likewise, if he combines the worship of another with his worship of Allah, this also is against the truth. The best commentary of this verse is the Hadith which Ibn Marduyah has related from Yazid ar-Raqashi. He says: A person asked the Holy Prophet: "We give away our wealth so that we become well-known. Shall we get a reward for this?" The Holy Prophet replied: No. He asked: "What, if one has the intention both of Allah's reward and of reputation in the world?" The Holy Prophet replied: `Allah does not accept any deed unless it is performed exclusively for His sake." After this he recited this same verse. 5 The disbelievers of Makkah said, and the polytheists the world over generally say the same, "We do not worship other beings regarding them as our creators: the Creator is only Allah, and He alone is the real Deity; but He is too high for us to have access to Him. Therefore, we make these saintly beings a means to convey our prayers and our petitions to Allah. " 6 One should understand it well that unity and concord is possible only through Tauhid: there can be no unity through shirk. The polytheists the world over have never agreed as to which beings are the definite means of access to Allah. Some people have taken some particular gods and goddesses as the means, but even among them there is no agreement on alI the gods and goddesses; some others have taken the moon, the sun, Mars, Jupiter, etc. as the means, and they also are not agreed as to which of them holds what rank and which is the real means of approach to Allah; some others have taken the dead saints as the means, but they also differ widely about them: one believes in one saint and another in another. The reason is that the belief about these different beings is neither based on any knowledge, nor has Allah ever sent down a list telling that such and such persons are His special favourites; therefore, they only should be made the means to have access to Him. This is a creed which has spread among the people only on occount of superstitions and whims and blind imitation of the elders. Hence the differences. 7 Here, Allah has used two words for these people, kazib (liar) and kaffar (denier). They have been called kazib because they have falsely invented this creed by themselves, and then they spread falsehood among others. As for kaffar. it has two meanings: (1) A stubborn disbeliever, i.e.. the people who insist on their false creed even after the doctrine of Tauhid has come before them; and (2) ungrateful for blessings, i.e. they arc receiving all kinds of blessings from Allah, but are thanking those other beings about whom they have assumed that these blessings are reaching them through their agency and influence.

سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :4 یہ امر واقعہ اور ایک حقیقت ہے جسے اوپر کے مطالبے کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے لیے دین کو خالص کر کے اس کی بندگی تم کو کرنی چاہیے کیونکہ خالص اور بے آمیز اطاعت و بندگی اللہ کا حق ہے ۔ دوسرے الفاظ میں ، بندگی کا مستحق کوئی دوسرا ہے ہی نہیں کہ اللہ کے ساتھ اس کی بھی پرستش اور اس کے احکام و قوانین کی بھی اطاعت کی جائے ۔ اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی خالص اور بے آمیز بندگی کرتا ہے تو غلط کرتا ہے ۔ اور اسی طرح اگر وہ اللہ کی بندگی کے ساتھ بندگیٔ غیر کی آمیزش کرتا ہے تو یہ بھی حق کے سراسر خلاف ہے ۔ اس آیت کی بہترین تشریح وہ حدیث ہے جو ابن مَردُوْیہ نے یزید الرّقاشی سے نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، ہم اپنا مال دیتے ہیں اس لیے کہ ہمارا نام بلند ہو ، کیا اس پر ہمیں کوئی اجر ملے گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔ اس نے پوچھا اگر اللہ کے اجر اور دنیا کی ناموری دونوں کی نیت ہو؟ آپ نے فرمایا ان اللہ تعالیٰ لا یقبل الّا من اخلص لہٗ ، اللہ تعالیٰ کوئی عمل بھی قبول نہیں کرتا جب تک وہ خالص اسی کے لیے نہ ہو ۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :5 کفار مکہ کہتے تھے ، اور بالعموم دنیا بھر کے مشرکین یہی کہتے ہیں کہ ہم دوسری ہستیوں کی عبادت ان کو خالق سمجھتے ہوئے نہیں کرتے ۔ خالق تو ہم اللہ ہی کو مانتے ہیں اور اصل معبود اسی کو سمجھتے ہیں ۔ لیکن اس کی بارگاہ بہت اونچی ہے جس تک ہماری رسائی بھلا کہاں ہو سکتی ہے ۔ اس لیے ہم ان بزرگ ہستیوں کو ذریعہ بناتے ہیں تاکہ یہ ہماری دعائیں اور التجائیں اللہ تک پہنچا دیں ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :6 یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اتفاق و اتحاد صرف توحید ہی میں ممکن ہے ۔ شرک میں کوئی اتفاق نہیں ہو سکتا ۔ دنیا کے مشرکین کبھی اس پر متفق نہیں ہوئے ہیں کہ اللہ کے ہاں رسائی کا ذریعہ آخر کون سی ہستیاں ہیں ۔ کسی کے نزدیک کچھ دیوتا اور دیویاں اس کا ذریعہ ہیں اور ان کے درمیان بھی سب دیوتاؤں اور دیویوں پر اتفاق نہیں ہے ۔ کسی کے نزدیک چاند ، سورج ، مریخ ، مشتری اس کا ذریعہ ہیں اور وہ بھی آپس میں اس پر متفق نہیں کہ ان میں سے کس کا کیا مرتبہ ہے اور کون اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے ۔ کسی کے نزدیک وفات یافتہ بزرگ ہستیاں اس کا ذریعہ ہیں اور ان کے درمیان بھی بے شمار اختلافات ہیں ۔ کوئی کسی بزرگ کو مان رہا ہے اور کوئی کسی اور کو ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مختلف ہستیوں کے بارے میں یہ گمان نہ تو کسی علم پر مبنی ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کبھی کوئی ایسی فہرست آئی ہے کہ فلاں فلاں اشخاص ہیں ، لہٰذا ہم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تم ان کو ذریعہ بناؤ ۔ یہ تو ایک ایسا عقیدہ ہے جو محض وہم اور اندھی عقیدت اور اسلاف کی بے سوچے سمجھے تقلید سے لوگوں میں پھیل گیا ہے ۔ اس لیے لامحالہ اس میں اختلاف تو ہونا ہی ہے ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :7 یہاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے دو الفاظ استعمال فرمائے ہیں ۔ ایک کاذب دوسرے کفار ۔ کاذب ان کو اس لیے فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی طرف سے جھوٹ موٹ یہ عقیدہ گھڑ لیا ہے اور پھر یہی جھوٹ وہ دوسروں میں پھیلاتے ہیں ۔ رہا کفار ، تو اس کے دو معنی ہیں ۔ ایک سخت منکر حق ، یعنی توحید کی تعلیم سامنے آجانے کے بعد بھی یہ لوگ اس غلط عقیدے پر مصر ہیں ۔ دوسرے ، کافر نعمت ، یعنی نعمتیں تو یہ لوگ اللہ سے پا رہے ہیں اور شکریے ان ہستیوں کے ادا کر رہے ہیں جن کے متعلق انہوں نے اپنی جگہ یہ فرض کر لیا ہے کہ یہ نعمتیں ان کی مداخلت کے سبب سے مل رہی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: مشرکین عرب عام طور سے یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے، لیکن انہوں نے کچھ دیوتا گھڑ کر ان کے بت بنا لیے تھے، اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ہم ان کی عبادت کریں گے تو یہ اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش کریں گے، اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوگا۔ قرآن کریم نے اس کو بھی شرک قرار دیا، کیونکہ اول تو ان دیوتاؤں کی کوئی حقیقت ہی نہیں تھی، دوسرے عبادت تو اللہ تعالیٰ کا خالص حق ہے، کسی دوسرے کی عبادت، خواہ کسی نیت سے کی جائے، شرک ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص واقعی بزرگ اور ولی اللہ ہو، تب بھی اس کی عبادت شرک ہے، چاہے اس نیت سے ہو کہ اس کے ذریعے ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣۔ تفسیر قتادہ تفسیر سدی اور تفسیر زید بن اسلم ٢ ؎ میں اس آیت کی تفسیریوں کی گئی ہے کہ مشرکین مکہ حشر اور قیامت کے تو قائل نہیں تھے لیکن انہوں نے فرشتوں کے نام کے اور پچھلے زمانہ کے کچھ نیک لوگوں کے نام کے بت جو بنا رکھتے تھے ان کو وہ لوگ اس اعتقاد سے پوجتے تھے کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے اگر ان مشرکوں پر کوئی مصیبت آوے گی۔ تو وہ فرشتے اور نیک لوگ جن کو وہ پوچتے ہیں اللہ کی درگاہ میں اس کی سفارش کرکے وہ مصیبت ٹال دیں گے۔ یہاں اس سورة میں تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے اس غلط خیال کا مختصر یہ جواب دیا کہ جس اختلاف میں یہ مشرک پڑے ہیں ان کا فیصلہ قیامت کے دن ہوجاوے گا مگر ان مشرکوں کے قیامت کے قائل نہ ہونے کے سب سے سورة احقاف میں اللہ تعالیٰ نے ان کے غلط خیال کا جواب دنیا کی حالت کو جتلا کردیا ہے۔ جس جواب کا حاصل یہ ہے کہ پچھلی امتوں کے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر پھر یہ فرمایا ہے کہ اگر یہ بت پرست لوگ اپنے اعتقاد میں سچے ہیں کہ جن کی مورتوں کو یہ پوجتے ہیں اور کہتے ہیں۔ کہ مصیبت کے وقت ان مورتوں کی اصل صورتیں ان کی سفارشی بنیں گی تو پچھلے زمانہ کے بت پرستوں پر جو طرح طرح کے عذاب نازل ہوئے اس وقت ان سفارشیوں نے سفارش کر کے اللہ کے عذاب کی مصیبت کو کیوں نہیں ٹالا۔ اس جواب کو سورة احقاف میں اللہ تعالیٰ نے ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ فلو لا نصرھم الذین اتخذوامن دون اللہ قربانا الھۃ حاصل کلام یہ ہے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حشر اور قیامت کو جگہ جگہ اس طرح ثابت فرما دیا ہے جس سے منکرین حشر بالکل لاجواب ہوگئے۔ اور منکرین حشر کے جو اعتراض تھے ان کی کچھ بنیاد باقی نہ رہی۔ اس واسطے مشرکوں کا وہ غلط خیال جو اوپر گزرا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے کہیں قرآن شریف میں شریعت کے موافق قسم کھا کردیا ہے کہ حشر اور قیامت کا آنا برحق ہے۔ اور اس دن ان بت پرستوں کے بت کچھ کام نہ آویں گے۔ بلکہ وہ اور ان کے بت دونوں دوزخ میں جھونکے جاویں گے۔ اور کہیں ان منکرین حشر کی سمجھ کے موافق عقلی جواب دیا ہے۔ کہ اگر ان بتوں کو کچھ قدرت تھی تو حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کے پچھلے بت پرست لوگ طرح طرح کے عذاب الٰہی سے جو غارت ہوگئے۔ ان بتوں نے ان کی سفارش اور مدد کیوں نہیں کی۔ اوپر گزر چکا ہے کہ سفارش کرنا تو درکنار فرشتے اور نیک لوگ قیامت کے دن ان اپنے پوجنے والے مشرکوں سے بڑی بیزاری ظاہر کریں گے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ وہ فرشتے اور نیک لوگ جن کی مورتوں کی یہ مشرک پوجا کرتے ہیں مصیبت کے وقت نہ دنیا میں اپنی پوجا کرنے والوں کے کچھ کام آئے نہ قیامت کے دن کچھ کام آسکتے ہیں۔ صحیح بخاری ١ ؎ ومسلم کے سے حضرت علی (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے۔ کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے۔ اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل۔ صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم کے حوالہ سے عبد (رض) اللہ بن مسعود (رض) کی مکہ کے قحط کی حدیث گزر چکی ہے۔ کہ اس قحط کے وقت مشرکین مکہ نے اپنے بتوں سے بہت التجا کی۔ مگر مینہ نہیں برسا۔ ان حدیثوں کو آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے قحط کے وقت جب مشرکین مکہ کے بت کچھ کام نہ آئے تو ان مشرکوں کی سمجھ میں یہ بات آجانے کے قابل تھی۔ کہ ان بتوں کو اللہ کے کارخانہ میں کچھ دخل نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پا چکے تھے وہ مرتے دم تک اپنے اس اعتقاد پر جمے رہے۔ جن کا ذکر آیت کے اس ٹکڑے میں ہے اور قیامت کے دن کا فیصلہ اوپر گزر چکا ہے۔ خفگی کے طور پر فرشتوں سے اور نیک لوگوں سے پوچھا جاوے گا۔ کہ یہ مشرک لوگ تمہارے کہنے سے تمہاری مورتوں کی پوجا کرتے تھے جب فرشتے اور نیک لوگ اس شرک سے بیزاری ظاہر کریں گے۔ اور یہ مشرک اپنے جھوٹے معبودوں کے سامنے ذلیل ہو چکیں گے تو پھر ان مشرکوں کو ہمیشہ کے لئے دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ (٢ ؎ بحوالہ تفسیر ابن کثرشج ص ٤٥ ج ٤) (١ ؎ صحیح بخاری باب وکان امر اللہ قدرا مقدورا۔ ص ٩٧٧ ج ٢) (٢ ؎ صحیح بخاری قولہ یغشی الناس ھذا عذاب الیم ص ٧١٤ ج ٢)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:3) الا۔ حرف تنبیہ ہے۔ خبردار۔ یاد رکھو۔ سمجھ لو۔ جان لو۔ للّٰہ۔ میں لام اول استحقاق کے لئے ہے۔ جیسے الحمد للّٰہ (101) للّٰہ الامر (13:31) الدین الخالص۔ موصوف و صفت۔ خالص دین۔ ہر قسم کے شرک و ریاء و دیگر نقائص سے پاک اطاعت۔ ترجمہ ہوگا :۔ یاد رکھو دین خالص صرف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے۔ اور بعض علماء کا قول ہے کہ ان المراد بالدین الخالص کلمۃ لا الہ الا اللّٰہ۔ دین خالص سے مراد کلمہ لا الہ الا اللہ ہے۔ من دونہ ای من دون اللّٰہ۔ اللہ کو چھوڑ کر۔ اللہ کے سوا۔ لیقربونا۔ لام تعلیل کا ہے یقولون جمع مذکر غائب تقریب (تفعیل) مصدر سے ترب مادہ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم کہ وہ ہمیں قریب پہنچا دیویں۔ ہمیں مقرب بنا دیویں۔ زلفی مصدر ہے بمعنی تقریبا۔ فعل کے مصدر کا مترادف مفعول مطلق ہوسکتا ہے جیسے قعدت جلوسا لہٰذا زلفی فعل یقرب کے مصدر تقریبا کا مترادف ہونے کی وجہ سے لیقربونا کا مفعول مطلق ہے۔ زلفۃ وزلفی درجہ ۔ قرب۔ نزدیکی۔ ازلف یزلف باب افعال سے بمعنی قریب اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب لائی جائیگی فائدہ : والذین اتخذوا من دونہ اولیاء ما نعبدھم الا لیقربون الی اللّٰہ زلفی ۔ الذین اتخذوا سے مراد کفار ہیں یہ پورا جملہ مبتداء ہے اور ان اللّٰہ یحکم ۔۔ الخ (اگلی آیت) اس کی خبر ہے ما نعبد سے قبل قالوا محذوف ہے قالوا معطوف بھی ہوسکتا ہے اور اس صورت میں اس کا عطف اتخذوا پر ہے اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا :۔ اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم تو ان کی پوجا بس اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں۔ دوسری صورت میں قالوا۔ الذین اتخذوا سے یہ بدل بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی پوجا محض قرب خدا حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یحکم مضارع واحد مذکر غائب حکم باب نصر سے مصدر۔ حکم دیتا ہے یا دے گا۔ فیصلہ کرتا ہے یا کرے گا۔ بینھم اور فیما ہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کافروں اور ان کے مقابل مومنوں کے مجموعہ کی طرف راجع ہے۔ ما موصولہ ہے اور فیہ یختلفون صلہ۔ جس بات میں یہ باہم اختلاف کر رہے ہیں۔ اور یہ فیصلہ اس صورت میں ہوگا کہ اہل ایمان جنت میں جائیں گے اور اہل کفر دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ کاذب۔ اسم فاعل واحد مذکر : جھوٹا۔ کذب جمع۔ جھوٹا اس لئے کہ اللہ کو صاحب اولاد کہتا ہے اور بتوں کو اللہ کے قرب کا ذریعہ بتاتا ہے۔ کفار۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ زبردست کافر۔ بڑا ناشکرا۔ ناشکرا اس لئے کہ لطف تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے اٹھائے اور پوجا کسی اور کی کرے۔ یا اس میں کسی اور کو بھی شریک ٹھہرائے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یہاں بھی ” دین “ کا لفظ اطاعت و بندگی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ خالص دین وہی ہے جس میں شرک کا شائبہ تک نہ پایا جائے۔ پھر تعجب ہے ان مسلمانوں پر جو ان آیات کی موجودگی میں دوسروں کو پکارتے ہیں اور ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔12 یعنی خالق ومالک تو ہم خدا ہی کو مانتے ہیں مگر دوسروں کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے ذریعہ ہماری خدا تک رسائی ہوجائے اور وہ خدا سے ہماری سفارش کرسکیں۔ قدیم زمانہ سے مشرکین اسی عقیدہ پر چلے آئے ہیں اور یہی شبہ پیش کرتے رہے ہیں۔ ( ابن کثیر) ہمارے زمانہ میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو موحد مسلمان کہتے ہیں مگر اولیاء اللہ کو پکارتے ہیں۔ ان کو قبروں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور ان کے نام کی نذر نیاز مانتے ہیں یا دعا میں ان کا بطور وسیلہ ذکر کرتے ہیں ان سب باتوں سے غرض ان کی یہ ہوتی ہے کہ ان بزرگوں کے ذریعہ انہیں خدا تک رسائی حاصل ہو اور وہ خدا سے ان کی سفارش کرسکیں۔ 1 یعنی انہیں بتادے گا کہ کونسا گروہ حق پر تھا۔ آیا وہ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں یا وہ جو اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک بناتے ہیں۔ 2 جھوٹا نا شکرا وہی ہے جو اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کے دل میں کفر و شرک ہو اور اس کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ پر بہتان رکھناہو وہ کبھی ہدایت یاب نہیں ہوسکتا۔ ( ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یعنی ان لوگوں کے نہ ماننے کا آپ غم نہ کریں، ان کا فیصلہ وہاں ہوگا۔ 7۔ یعنی منہ سے اقوال کفریہ اور دل سے عقائد کفریہ پر مصر ہو، اور اس سے باز نہ آنے کا اور طلب حق کا قصد ہی نہ کرتا ہو، تو اس کے اس عناد سے اللہ تعالیٰ بھی اس کو توفیق ہدایت کی نہیں دیتا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : الدّین کی بنیادی دعوت اور اس کا پہلا نقطہ۔ عبادت بھی خالص اور تابعداری بھی خالص : ارشاد ہوا کہ اللہ کی عبادت بھی خالص کرنی ہے اور تابعداری بھی خالصتاً “ اللہ “ ہی کی ہونی چاہیے۔ عبادت کی تین بڑی اقسام ہیں۔ ” اَلتَّحَیَاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰاتُ وَالطَّیِّبَاتُ “” زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ “ 1 زبانی عبادت کا مفہوم : زبان سے جو بات بھی نکالی جائے وہ اللہ کے حکم کے مطابق اور اس کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔ (عَنْ حُذَیْفَۃَ عَنِ النَّبِیّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لاَ تَقُولُوا مَا شَاء اللَّہُ وَشَاءَ فُلاَنٌ وَلَکِنْ قُولُوا مَا شَاء اللَّہُ ثُمَّ شَاءَ فُلاَنٌ)[ رواہ ابوداود : باب لاَ یُقَالُ خَبُثَتْ نَفْسِی ] ” حضرت حذیفہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تم یہ نہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے بلکہ کہو جو اللہ چاہے پھر جو فلاں چاہے۔ “ 2 بدنی عبادات : بدنی عبادات میں نماز، روزہ، حج اور لوگوں کی خدمت کرنا شامل ہے۔ بشرطیکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی شامل نہ ہو۔ کیونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔ (عِنِ النَّوَاسِ بْنِ سَمْعَانَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ رواہ فی شرح السنۃ)[ مشکوۃ المصابیح : باب کتاب الامارۃ والقضاء ] ” حضرت نواس بن سمعان (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مخلوق کی اطاعت میں اللہ کی نافرمانی جائز نہیں۔ “ 3 مالی عبادات : ” تَشٰھُدْ “ میں مالی عبادت کو ” الطَّیِّبَاتُ “ کہا گیا ہے۔ اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ مال پاک ہو اور حلال طریقہ سے کمایا گیا ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ صدقہ کرتے وقت صرف اللہ کی رضا مطلوب ہو۔ خرچ کرنے کا طریقہ اور مقام بھی شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَیُّھَاالنَّاسُ إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَایَقْبَلُ إِلَّا طَیِّبًا وَإِنَّ اللّٰہَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا أَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ (یَاأَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْامِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا إِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ) وَقَالَ (یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰکُمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزکوٰۃ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگو ! اللہ پاک ہے ا ورپاک چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے رسولو ! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو جو کچھ تم کرتے ہو میں اسے جانتا ہوں اور فرمایا : اے مومنو ! ہم نے جو تمہیں دیا ہے اس میں سے حلال کھاؤ۔ “ شرکیہ مقام پر صدقہ کرنے سے بچنا چاہیے : (حَدَّثَنِیْ ثَابِتُ بْنُ الضَّحَاکِ (رض) قَالَ نذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنْ یَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَأَتَیالنَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ إِنِّيْ نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَقَال النَّبِيُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ھَلْ کَانَ فِیْھَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاھِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لَا قَالَ ھَلْ کَانَ فِیْھَا عِیْدٌ مِنْ أَعْیَادِھِمْ قَالُوْا لَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہٗ لَاوَفَاءَ لِنَذْرٍ فِيْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا فِیْمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ ) [ رواہ أبوداوٗد : باب مایؤمربہ من وفاء النذر ] ” مجھے ثابت بن ضحاک (رض) نے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایک آدمی نے بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر عرض کی میں نے نذر مانی ہے کہ میں بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کروں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی ؟ صحابہ نے عرض کی نہیں۔ آپ نے پوچھا : کیا وہاں کوئی ان کا میلہ لگتا تھا ؟ صحابہ نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ نذر پوری کرنا لازم ہے جس کی انسان طاقت نہیں رکھتا۔ “ مسافر مکھی نذرانہ کرنے کی وجہ سے جہنم رسید ہوا : (عَنْ طَارِقِ بْنِ شَہَابٍ (رض) أنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ رَجُلٌ فِیْ ذُبَابٍ ، وَدَخَلَ النَّارَ رَجُلٌ فِیْ ذُبَابٍ قَالُوْا وَکَیْفَ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ مَرَّ رَجُلَانِ عَلٰی قَوْمٍ لَہُمْ صَنَمٌ لَا یَجُوْزُہٗ أحَدٌ حَتّٰی یُقَرِّبَ لَہٗ شَیْءًا، فَقَالُوْا لأحَدِہِمَا قَرِّبْ ، قَالَ لَیْسَ عِنْدِیْ شَیْءٌ أُقَرِّبُ ، قَالُوْا لَہٗ قَرِّبْ وَلَوْ ذُبَابًا، فَقَرَّبَ ذُبَابًا فَخَلُّوْا سَبِیْلَہٗ ، فَدَخَلَ النَّارَوَقَالُوْا للآخَرِقَرِّبْ ، قَالَ مَا کُنْتُ لأُقَرِّبَ لأَحَدٍ شَیْءًا دُوْنَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَضَرَبُوْا عُنَقَہٗ ، فَدَخَلَ الْجَنَّۃَ )[ رواہ أحمد : مسند طارق بن شہاب ] ” حضرت طارق بن شہاب (رض) بیان کرتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک آدمی مکھی کا نذرانے کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا اور دوسر امکھی کے نذرانہ کی وجہ سے جہنم میں چلا گیا۔ صحابہ (رض) نے عرض کی اللہ کے رسول ! وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا دو آدمی ایک بت پرست قوم کے پاس سے گزرے جو بتوں کے نام نذرانہ دیے بغیر گزرنے نہیں دیتے تھے۔ انھوں نے ان دونوں میں سے ایک کو کہا کوئی نذرانہ پیش کرو۔ اس نے کہا میرے پاس نذرانے کے لیے کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا ایک مکھی ہی نذرانہ دے دو ۔ اس نے ایک مکھی کا نذرانہ دے دیا۔ اس پر انہوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا اس وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوا۔ انہوں نے دوسرے سے بھی نذرانہ دینے کے لیے کہا۔ اس نے جواب دیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے نذرانہ نہیں دوں گا۔ انہوں نے اس کی گردن اڑا دی تو وہ جنت میں داخل ہوا۔ “ مشرک ” اللہ “ کے حکم کو نہیں مانتا : ہر دور کے مشرک کی یہ عادت اور عبادت رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت اور اس کے حکم کے مطابق کرنے کی بجائے اپنی مرضی سے کرتا اور دوسروں کو اس میں شریک کرتا ہے۔ بیشمار کلمہ پڑھنے والے مشرک اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی قیام، رکوع اور سجدے کرتے ہیں اور اپنے اپنے عقیدہ اور طریقہ کے مطابق دوسروں کے سامنے بھی قیام، رکوع اور سجدے کرتے ہیں۔ مسجدوں، مدرسوں اور غریبوں پر صدقے کرتے ہیں اور مزارات پر بھی خیرات کرتے ہیں۔ کافر قبروں، بتوں، چاند، سورج اور بیشمار چیزوں کے سامنے بھی قیام، رکوع اور سجدے کرتے ہیں اور بت خانوں پر خرچ بھی کرتے ہیں۔ مشرکین کے دو گروہ : مشرکین کے ہمیشہ سے دو گروہ رہے ہیں۔ جو کسی نبی کا کلمہ نہیں پڑھتے ان کا عقیدہ ہے کہ چاند، سورج اور ستارے ” اللہ “ کی قدرت کا مظہر ہیں۔ لہٰذا ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی حرمت اور واسطے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا زیادہ ثواب اوراقرب سمجھتے ہیں۔ جو لوگ کسی نہ کسی نبی کا کلمہ پڑھنے والے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بزرگوں کی عبادت سے خوش ہو کر انہیں اپنی خدائی میں کچھ اختیارات تفویض کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے ہم ان کی روحوں کے وسیلے اور حرمت سے مانگتے ہیں۔ یہی بات بت پرست کہتے ہیں کہ ہم بتوں کی عبادت نہیں کرتے بلکہ بت کے تصور سے ” اللہ “ کی عبادت کرنے میں یکسوئی پیدا ہوتی ہے یہی ان لوگوں کا عقیدہ اور طریقہ ہے جو تصور شیخ کے قائل اور فاعل ہیں۔ اس بارے میں بیشمار لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری سنتا نہیں اور ان کی ردّ نہیں کرتا۔ قرآن مجید اس مقام پر اسی عقیدہ کی نفی کررہا ہے کہ جب ان لوگوں کو بلاواسطہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے۔ ہم تو انہیں صرف وسیلہ بناتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیتے ہیں۔ پھر زندہ اور مردہ بزرگوں کے بارے میں من گھڑت کرامتیں بناتے اور سناتے ہیں۔ ایسا عقیدہ اور طریقہ اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا کیونکہ یہ لوگ اپنے عقیدہ، طریقہ اور پروپیگنڈہ میں جھوٹے اور اللہ تعالیٰ کے ناشکرے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے اختلافات کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا۔ مشرک کو ہدایت اس لیے حاصل نہیں ہوتی کیونکہ یہ شرک کو دین سمجھتا ہے اور اس پر اصرار اور تکرار کرتا ہے۔ مشرک کیوں جھوٹے ہیں : 1 اللہ کا فرمان ہے کہ میں نے اپنی خدائی میں کسی کو شریک نہیں کیا۔ 2 مشرک کہتے ہیں کہ اللہ نے زندہ اور فوت شدہ بزرگوں کو اختیار ات دے رکھے ہیں۔ 3 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صرف میری ہی عبادت کرو اور مجھ ہی سے مانگو۔ 4 مشرک نہ اللہ کی خالص عبادت کرتا ہے اور نہ ہی اس کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس سے مانگتا ہے۔ 5 اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اپنے سامنے جھکنے اور صرف اپنی ذات سے مانگنے کا حکم دیا ہے۔ 6 مشرک ناشکرا ہوتا ہے اس لیے اللہ کا شکر گزار ہونے اور صرف اس سے مانگنے کی بجائے در در کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ اس اعتبار سے توحید شکر ہے اور شرک ناشکری ہے۔ توحید سچائی ہے اور شرک کذب بیانی ہے۔ وسیلے کے نقصانات : خالق و مخلوق کے درمیان وسیلے اور حرمت کے حوالے سے عیسائیوں کو گمراہ کرنے کے لیے پوپ نے یہ تصور دیا۔ کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے واسطہ کی ضرورت ہے اسی نظریے کی بدولت پادری نے جائیدادیں بنائیں لوگوں کی عزتوں پر ڈاکے ڈالے اور انسان پر انسان کی خدائی قائم کی۔ بدقسمتی سے بزرگوں کی محبت و عقیدت کے نام پر مسلمانوں میں بھی عقیدہ عام کردیا گیا اور اس کا نتیجہ نکلا کہ چند پاک باز لوگوں کو چھوڑ کر پیروں اور گدی نشینوں نے کتنی بیٹیوں کو بےآبرو کیا۔ سینکڑوں مربعے زمین اور کروڑوں کی جائیدادیں بنائیں۔ اجازت تو اس بات کی تھی کہ زندہ بزرگ سے دعا کروائی جاسکتی ہے مگر غالب اکثریت نے اس کو کاروبار بنا لیا ہے اور بزرگوں کے فوت ہونے کے بعد ان کی قبریں زیارت گاہ نہیں تجارت کے اڈے بن چکی ہیں۔ جو لوگ سالہا سال اپنے ماں باپ کی قبر پر نہیں جاتے وہ ہزاروں روپے خرچ کر کے مزارات پر ایمان اور مال ضائع کر رہے ہیں۔ حالانکہ رحیم و کریم مالک نے اپنے تک پہنچنے کے لیے گناہ گاروں کی جھجک کو اتنے مؤثر اور دلنشیں انداز میں دور فرمایا ہے کہ اس کے بعد کسی بہانے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ بندے کو خالق سے دور رکھنے کے گھٹیا بہانے : (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہُ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ) [ قٓ: ١٦] ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ہم ان سے وقف ہیں اور اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ “ بندے کو اللہ تعالیٰ سے دور رکھنے کے لئے یہ گھٹیا اور سطحی تصور دیتے ہوئے، اتنی کمزور اور سطحی مثالیں دی جاتی ہیں کہ جس پر آدمی حیرت کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسے علماء کا کہنا ہے کہ ڈی سی او سے ملنے کے لیے چپڑاسی کی ضرورت ہے مکان کی چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہے۔ اس بات کو اس شدومد کے ساتھ پھیلایا گیا ہے کہ اچھے بھلے پڑھے لکھے حضرات حتیٰ کہ عدالتیں کرنے والے جج، قانون کی باریکیوں اور موشگافیوں سے واقف ماہر وکلاء، اندرون اور بیرون ملک یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل سکالر اور دانشور حضرات اس پروپیگنڈے سے اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ صحیح بات ماننا تو درکنار اسے ٹھنڈے دل و دماغ سے سننے کے لیے بھی تیار نہیں۔ حالانکہ ذرا غور کیا جائے۔ کہ جس مدفون بزرگ کا وسیلہ تلاش کیا جا رہا ہے۔ زندگی اور ان کے فوت ہونے کے بعد کتنا فرق ہے ؟ ١۔ بزرگ بیمار ہوئے ہزار دعاؤں اور دواؤں کے باوجود صحت حاصل نہ کرسکے۔ ٢۔ فوت ہوئے تو گھر میں میّت پڑی ہونے کے باوجود روتی ہوئی بیٹیوں، تڑپتی ہوئی والدہ، بلکتی ہوئی بیوی، سسکتے ہوئے بیٹے اور آہ وبکا کرنے والے بھائیوں اور مریدوں کو تسلی نہیں دے سکتے۔ ٣۔ شرم و حیا کے مالک ہونے کے باوجود نہ استنجا کرنے کی سکت ہے اور نہ غسل کرنے کی ہمت۔ ٤۔ اپنی زندگی میں اپنا مزار بنوانے والے بھی چل کر اپنی قبر تک نہ پہنچ سکے۔ ٥۔ جو زندگی میں صرف ایک زبان جانتے تھے فوت ہونے کے بعد دوسری زبانوں میں فریاد کرنے والوں کی زبان سے کس طرح واقف ہوگئے ؟ ٦۔ جو خوداولاد سے محروم تھے مثال کے طور پر حضرت علی ہجویری ایک سے زائد شادی کروانے کے باوجود اولاد سے محروم رہے وہ دوسروں کو کس طرح اولاد عطا کرسکتے ہیں ؟ ٧۔ جو زندگی میں گہری نیند یا کسی بیماری کی وجہ سے بےہوشی کے عالم میں دیکھ اور سن نہیں سکتے۔ موت کے بعد کس طرح سننے اور دیکھنے کے قابل ہوگئے ؟ ٨۔ جو زندگی میں دیوار کی دوسری طرف نہیں دیکھ سکتے تھے قبر کی منوں مٹی اور مضبوط دیواروں کے پیچھے کس طرح دیکھ سکتے ہیں ؟ ٩۔ جو اپنی حالت سے کسی کو آگاہ نہیں کرسکتے۔ دوسرے کی حالت رب کے حضور کس طرح پیش کرسکتے ہیں ؟ توہین آمیز اور مضحکہ خیز مثال واعظ کا یہ کہنا ہے کہ چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہے۔ اس حد تک تو اس بات میں کوئی شبہ نہیں مگر غور فرمائیں کہ چھت تو جامد اور ساکت ہے وہ قریب نہیں آسکتی اس لیے اس پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہے۔ اللہ کی قدرت و سطوت تو ہر جگہ موجود ہے اور وہ اپنے علم اور اختیارات کے ذریعے سب سے زیادہ انسان کے قریب حتیٰ کے دل اور شہ رگ پر اس کا اختیار ہے یہاں تو کسی وسیلے و سفا رش اور سیڑھی کی ضرورت نہیں۔ خالق کائنات کے لیے یہ مثالیں اور تشبیہ دینا اس کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔ (فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ ) [ النحل : ٧٤] ” اللہ کے لیے ایسی مثالیں بیان نہ کیا کرو۔ “ تفسیر بالقرآن سفارش کی حیثیت اور حقیقت : ١۔ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے۔ (البقرۃ : ٢٥٥) ٢۔ قیامت کے دن دوستی اور سفارش کام نہیں آئے گی۔ (البقرۃ : ٢٥٤) ٣۔ مجرموں کو کسی کی سفارش کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ (المدثر : ٤٨) ٤۔ ظالموں کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارشی۔ (المؤمن : ١٨) ٥۔ کافروں کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (الانعام : ٥١) ٦۔ بزرگ اور سردار بھی سفارش نہ کریں گے۔ (الرّوم : ١٣) ٧۔ مرنے والوں کو معلوم نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ (النحل : ٢١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

الاللہ الدین الخالص (39: 3) ” خبردار دین خالص اللہ کا حق ہے “۔ نہایت ہی اونچی بہایت ہی طویل اور نہایت ہی رعب دار آواز میں۔ گویا اعلان شاہی ہے اور لفظ ” الا “ خبردار ! سے اس کا آغاز ہوتا ہے اور نہایت ہی قصر اور حصر کے الفاظ میں کہ اللہ ہی کا حق ہے زندگی اور خالص اللہ کا حق ہے ۔ جس طرح مفہوم موکد ہے اس طرح الفاظ بھی پرشوکت ہیں۔ یہ اصول حیات ہے۔ پوری زندگی اس پر قائم ہے بلکہ پوری کائنات اس اعلان پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدر مختصر زور دار اور قصر حصر کے الفاظ میں یہ قانون نافذ ہوتا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں اس دور کی جاہلیت کا کلمہ اور نظریہ کیا تھا جسے رد کیا گیا۔ والذین اتخذوا۔۔۔۔ ھوکذب کفار (39: 4) ” رہے وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے سرپرست بنارکھے ہیں (کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں۔ اللہ یقیناً ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو “۔ وہ اعلان کرتے تھے کہ اللہ ان کا خالق ہے۔ سموات اور زمین کا خالق ہے۔ لیکن پھر وہ فطری استدلال کی راہ پر چلتے تھے کہ اگر وہی خالق ہے تو وہی بندگی کے لائق ہے۔ اور پھر دین اور دستور اور قانون اسی کا چلنا چاہیے۔ یہاں آکر وہ یہ افسانہ گھڑتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ فرشتوں کے بت بناتے اور ان کو پوجتے ۔ پھر یہ کہتے کہ وہ ملائکہ کے بتوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں ، جن کو وہ الٰہ کہتے تھے۔ لات ، منات اور عزیٰ ، یہ دراصل ان کی عبادت نہیں ہے بلکہ یہ محض اللہ کے قریب ہونے کے لئے ہم ان کے آگے جھکتے ہیں تاکہ یہ فرشتے اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں۔ اور یوں ہم اللہ کے نزدیک ہوجائیں۔ یہ عقیدہ سیدھے فطری انداز فکر سے انحراف ہے اور یہ عقیدہ غلط ہونے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ اور ناقابل فہم بھی ہے۔ نہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور نہ یہ بت فرشتوں کے بت ہیں۔ نہ اللہ نے اس کی اجازت دی ہے۔ نہ اللہ کسی کی سفارش سنتا ہے اور نہ اللہ اپنے بندے کو اس طریقے پر اپنے قریب لاتا ہے۔ جب بھی انسانیت نے عقیدۂ توحید کو ترک کیا ہے۔ وہ فطرت کے سیدھے انداز فکر اور سیدھے سادے انداز استدلال سے محروم ہوگئی ہے ، جو اسلام اول روز سے لے کر آیا ہے اور آدم (علیہ السلام) سے لے کر ادھر تمام رسولان محترم نے یہی عقیدۂ توحید پیش کیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت پر جگہ نیک لوگوں اور اولیاء کی عبادت اسی طرح کی جاتی ہے جس طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں عرب فرشتوں اور فرشتوں کے بتوں کی عبادت بطور تقرب الہٰی اپنے زعم کے مطابق کیا کرتے تھے۔ مقصد اک کی سفارش کا حصول ہوتا تھام لیکن اللہ عقیدۂ توحید ، اور سیدھے راستے کی نشاندہی فرماتا ہے ایسی توحید جس کے ساتھ کوئی التباس ، کوئی سفارشی اور کوئی افسانوی مقربین خدا نہ ہوں۔ ان اللہ لایھدی من ھو کذب کفار (39: 3) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو “۔ کیونکہ یہ لوگ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ ایک تو جھوٹ ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ، دوسرا یہ جھوٹ ہے کہ یہ اللہ کے ہاں سفارش کرتے ہیں جبکہ فرشتے ان کی بندگی کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ لوگ دراصل اللہ کے صریح احکام کا کفر کرتے ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو اس پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اس کا انکار کرتے ہیں۔ ہدایت تو ان کو ملتی ہے جو مخلص ہوں ، متوجہ ہوں ، برائی سے بچنا چاہتے ہوں اور ان کو نیکی کے کاموں میں دلچسپی بھی ہو اور وہ غور فکر کرکے اپنے لیے صحیح راستے کا انتخاب کرتے ہوں۔ جو لوگ جھوٹ باندھتے ہیں ، اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں تو وہ اللہ کی ہدایت اور مہربانیوں کے مستحق نہیں ہوتے اسلیے کہ ایسے لوگ جان بوجھ کر صحیح راستے سے دوسری اختیار کرتے ہیں۔ اسکے بعد اس شرکیہ تصور خدا کی کمزوری اور پوچ ہونے کو ظاہر کیا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ واحد ہے قہار ہے عزیز ہے غفار ہے، اس نے چاند سورج کو مسخر فرمایا، انسان کو تین اندھیروں میں پیدا فرمایا یہاں سے سورة زمر شروع ہو رہی ہے اوپر سات آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے ان آیات میں انزال قرآن اور اثبات توحید اور شرک کی تردید فرمائی ہے اور اللہ جل شانہٗ کی شان خالقیت کا بیان فرمایا ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو عزیز یعنی عزت والا اور غلبہ والا ہے اور حکیم یعنی حکمت والا ہے پھر غیبوبت سے تکلم کی طرف التفات فرمایا اور فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے لہٰذا آپ اپنے دین کو یعنی اعتقاد کو اللہ ہی کے لیے خالص رکھتے ہوئے اللہ ہی کی عبادت کیجیے اس میں بظاہر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے اور اسی کے ذیل میں دوسرے بندوں سے بھی خطاب ہوگیا جب آپ پر لازم ہے کہ توحید پر جمے رہیں تو دوسروں پر توحید اختیار کرنا کیونکر فرض نہ ہوگا، پھر خطاب عام فرمایا (اَلاَ لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ) خبردار دین خالص اللہ ہی کے لیے (یعنی سب بندوں پر فرض ہے کہ موحد بنے رہیں۔ ) اس کے بعد مشرکین کی ایک بڑی گمراہی اور ان کے جھوٹے دعوے کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جن لوگوں نے اللہ کے سوا اولیاء بنا رکھے ہیں۔ یعنی شرکاء تجویز کر رکھے ہیں وہ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں گے یعنی ہماری عبادات کو اللہ کے حضور میں پیش کردیں گے یا ہماری حاجت روائی کے لیے سفارش کردیں گے بات یہ ہے کہ شیطان بڑا چالاک ہے گمراہ کرنے میں ماہر ہے اس سلسلہ کے داؤ پیچ خوب جانتا ہے جب لوگوں کو شرک پر ڈالا اور حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے داعیوں نے توحید کی طرف بلایا اور شرک کی برائی بیان کی تو مشرکین کی سمجھ میں کچھ بات آنے لگی لہٰذا شیطان نے انہیں یہ پٹی پڑھا دی کہ تمہارا یہ غیر اللہ کی عبادت کرنا توحید کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ توحید ہی کی ایک صورت ہے اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کی عبادت کرتے ہو یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں جب تک کوئی واسطہ نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی ذات عالی تک تم کہاں پہنچ سکتے ہو اللہ کے سوا جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو یہ تو وسائط ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری سفارش کردیں گے لہٰذا یہ بھی ایک طرح سے اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت ہوئی اور اس کی ذات عالی تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہوا، دیکھو دنیا میں چھوٹے موٹے وزیروں سے کام لینا ہو تو سفارش کی ضرورت پڑتی ہے جب بلاواسطہ مخلوق تک بات نہیں پہنچ سکتی تو خالق تعالیٰ کی ذات عالی تک بلاواسطہ تمہاری پہنچ کیسے ہوسکتی ہے شیطان کی یہ بات مشرکین کے دلوں میں اتر گئی اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ شرک کو چھوڑو اللہ کی عبادت کرو تو وہ یہی جواب دیتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ تک پہنچا دیں گے جو قومیں فرشتوں کو جنات کو بتوں کو پوجتی ہیں اور ان کے علاوہ جو قبر پرست ہیں، یہی بات کہتے ہیں کہ ہم جو ان کی قبروں کو سجدہ کرتے ہیں اور ان کی نیازیں مانتے ہیں یہ کوئی توحید کے خلاف نہیں یہ قبر والے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش کرکے ہمیں بخشوا دیں گے انہیں شرک بھاتا ہے جو دوزخ میں لے جانے والا ہے اور توحید کی بات بری لگتی ہے (اَلَاسَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ ) اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا (اِِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ فِیْ مَا ھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ) (لوگ جس چیز میں اختلاف کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا) دلائل کے ذریعہ دنیا میں بھی حق اور باطل کا فیصلہ فرما دیا ہے قیامت کے روز عملی طور پر فیصلہ فرما دے گا کہ اہل حق کو جنت میں اور کفرو شرک والوں کو دوزخ میں بھیج دے گا۔ پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَہْدِیْ مَنْ ھُوَ کَاذِبٌ کَفَّارٌ) (بلاشبہ اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا ہو اور کافر ہو) ہدایت کی دو صورتیں ہیں ایک ہدایت کا راستہ بتادینا وہ تو سبھی کے لیے ہے اور ایک حق قبول کرنے کی حد تک پہنچا دینا یہ ہدایت ان لوگوں کو نہیں ہوتی جن میں عناد ہو اقوال کفریہ اور عقائد کفریہ پر اصرار ہو اور حق کی طلب نہ ہو یہاں وہی ہدایت مراد ہے جسے علمی زبان میں ایصال الی المطلوب سے تعبیر کیا جاتا ہے،

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ ” الا للہ الخ “ یہ تنبیہ ہے کہ عبادت خالصۃً اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے اللہ کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں۔ 5:۔ ” والذین اتخذوا الخ : یہ زجر اول ہے اور اس کے آخر میں تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔ اسم موصول سے مشرکین اور اولیاء سے مشرکین کے مزعومہ کارساز مراد ہیں۔ خواہ فرشتے ہوں یا پیغمبر یا اولیاء کرام۔ فالموصول عبارۃ عنہم (ثلثۃ احیاء من المشرکین، عامر و کنانۃ و بنی سلمۃ) او عبارۃ عما یعمہم واضرابہم من عبدۃ غیر اللہ سبحانہ وھو الظاھر فیکون الاولیاء عبارۃ عن کل معبود باطل کالملئکۃ و عیسیٰ (علیہم السلام) والاصنام (روح ج 23 ص 235 ۔ امام قتادۃ (رح) فرماتے ہیں۔ جب مشرکین سے پوچھا جاتا کہ تمہارا خالق ومالک کون ہے ؟ اور زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا۔ اور آسمان سے مینہ کون برساتا ہے ؟ تو کہتے ! اللہ ! پھر ان سے کہا جاتا ہے پھر غیر اللہ کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ تو جواب دیتے، ” لیقربونا الی اللہ زلفی “ و یشفعوا لنا عندہ (قرطبی ج 15 ص 233) ۔ ہم ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ سفارش کر کے ہمیں بارگاہِ خداوندی میں مقرب بنا دیں اور ہمارے دنیوی کام اس سے کرا دیں۔ کیونکہ آخرت کے وہ قائل ہی نہ تھے۔ ای انما یحملہم علی عبادتہم لھم انھم عمدوا الی اصنام اتخذوھا علی صور الملائکۃ المقربین فی زعمہم فعبدوا تلک الصورتنزیلا لذلک منزلۃ عبادتہم الملئکۃ لیشفعوا لہم عند اللہ تعالیٰ فی نصرہم ورزقہم وما ینوبہم من امور الدنیا فاما المعاد فکانوا جاحدین لہ کافرین بہ (ابن کثیر ج 4 ص 45) ۔ ” زلفی “ ، لیقربونا کا مفکا مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ۔ 6:۔ ” ان اللہ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ دنیا میں مشرکین دلائل سے تو مانتے نہیں کہ اللہ کی بارگاہ میں کوئی شفیع غالب نہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اس لیے محق و مبطل کے درمیان آخری اور قطعی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا جب اہل حق کو جنت میں اور اہل باطل کو دوزخ میں داخل کردیا جائے گا۔ ان اللہ یحکم بینہم و بین المسلمین فی ما ھم یختلفون فی امر الدین بادخال المحق الجنۃ والمطبل النار “ (مظہری، بیضاوی) ۔ ” ان اللہ لا یہدی الخ “ جو لوگ ازراہ ضد وعناد کفر و افتراء (اللہ کے لیے نائب یا شفیع غالب ثابت کرنا) پر اڑے ہوئے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ ہدایت قبول کرنے کی توفیق نہیں دیتا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) آگاہ ہو کہ عبادت اور بندگی جو خالص ہو شرک سے وہ اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے حمایتی اور دوسرے شرکاء تجویز کر رکھے ہیں کہ ہم تو ان کی پرستش صف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ تعالیٰ کا خاص مقرب بنادیں اور ان کو مراتب قرب سے نزدیک کردیں تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے مابین ان باتوں کا جن میں یہ اختلاف کررہے ہیں یقینا فیصلہ فرمادے گا بیشک اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی رہنمائی فرماتا جو جھوٹا اور سخت ناسپاس اور ناشکرہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت خالصہ اور اختاص واجب ہے مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور اس شرک فی العبادت کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ چونکہ مقرب خداوندی ہیں اس لئے ان کی وجہ سے ہماری احتیاج اور ہماری عبادت اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتی ہے اور ان کی توجہ سے ہم بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرلیں گے اس کے لئے فرمایا کہ یہ اختلاف جو مشرکوں کے اور اہل ایمان کے درمیان واقع ہے اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمادے گا خواہ یہ فیصلہ قیامت میں ہو جس کو عملی فیصلہ کہتے ہیں یا اسلام کے غالب ہونے کے بعد ہی میں ہوجائے اور حق و باطل کا اختیار نمایاں ہوجائے۔ بہرحال ! اللہ تعالیٰ کسی جھوٹے اور ناسپاس کو اس کے عناد کی وجہ سے توفیق ہدایت نہیں عطا کرتا جو بتوں کو وسیلہ قرب سمجھتے ہیں ان کا روفرما کر آگیا ن لوگوں کا رد فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں اور ملائکہ کو اس کی بیٹیاں بتاتے ہیں۔