Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 32

سورة الزمر

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَ کَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَہٗ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾

So who is more unjust than one who lies about Allah and denies the truth when it has come to him? Is there not in Hell a residence for the disbelievers?

اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالٰی پر جھوٹ بولے؟ اور سچا دین جب اس کے پاس آئے تو اسے جھوٹا بتائے؟ کیا ایسے کفار کے لئیے جہنم ٹھکانا نہیں ہے؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Punishment of the Disbelievers and Liars, and the Reward of the Sincere Believers The idolators uttered lies against Allah and said that there were other gods besides Him and claimed that the angels were the daughters of Allah and that Allah had a son -- glorified be He far above all that they say. Moreover, they rejected the truth when it came to them on the lips of the Messengers (peace and blessings be upon them all). Allah says: فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءهُ ... Then, who does more wrong than one who utters a lie against Allah, and denies the truth when it comes to him! meaning, there is no one who does more wrong than such a person, because he combines the two aspects of falsehood, disbelief in Allah and disbelief in the Messenger of Allah. They made false claims and rejected the truth, Allah threatened them: ... أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكَافِرِينَ Is there not in Hell an abode for the disbelievers! Who are the deniers and rejecters? Then Allah says:

مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا ۔ مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے ، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے ، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے ، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے ، جن تمام باتوں سے اس کی بلند و بالا ذات پاک اور برتر تھی ، ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء علیہم السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے ، پس فرمایا کہ یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں ۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کر دیا کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے ۔ جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں ۔ ان کی بدخصلت اور سزا کا ذکر کر کے پھر مومنوں کی نیک خو اور ان کی جزا کا ذکر فرماتا ہے کہ جو سچائی کو لایا اور اسے سچا مانا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت جبرائیل علیہ السلام اور ہر وہ شخص جو کلمہ توحید کا اقراری ہو ۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی ماننے والی ان کی مسلمان امت ۔ یہ قیامت کے دن یہی کہیں گے کہ جو تم نے ہمیں دیا اور جو فرمایا ہم اسی پر عمل کرتے رہے ۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت میں داخل ہیں ۔ آپ بھی سچائی کے لانے والے ، اگلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے اور آپ پر جو کچھ نازل ہوا تھا اسے ماننے والے تھے اور ساتھ ہی یہی وصف تمام ایمان داروں کا تھا کہ وہ اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان رکھنے والے تھے ۔ ربیع بن انس کی قرأت میں ( وَالَّذِيْ جَاۗءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖٓ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُتَّـقُوْنَ 33؀ ) 39- الزمر:33 ) ہے ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں سچائی کو لانے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسے سچ ماننے والے مسلمان ہیں یہی متقی پرہیزگار اور پارسا ہیں ۔ جو اللہ سے ڈرتے رہے اور شرک کفر سے بچتے رہے ۔ ان کے لئے جنت میں جو وہ چاہیں سب کچھ ہے ۔ جب طلب کریں گے پائیں گے ۔ یہی بدلہ ہے ان پاک باز لوگوں کا ، رب ان کی برائیاں تو معاف فرما دیتا ہے اور نیکیاں قبول کر لیتا ہے ۔ جیسے دوسری آیت میں ( اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ ۭ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ 16؀ ) 46- الأحقاف:16 ) یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی نیکیاں ہم قبول کر لیتے ہیں اور برائیوں سے درگزر فرما لیتے ہیں ۔ یہ جنتوں میں رہیں گے ۔ انہیں بالکل سچا اور صحیح صحیح وعدہ دیا جاتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

32۔ 1 یعنی دعویٰ کرے کہ اللہ کے اولاد ہے یا اس کا شریک ہے یا اس کی بیوی ہے دراں حالیکہ وہ ان سب چیزوں سے پاک ہے۔ 23۔ 2 جس میں توحید، احکام و فرائض ہیں، عقیدہ بعث و نشور ہے، محرمات سے اجتناب ہے، مومنین کے لئے خوشخبری اور کافروں کے لئے سزائیں ہیں۔ یہ دین و شریعت جو حضرت محمد رسول اللہ لے کر آئے، اسے جھوٹا بتلائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٨] سب سے بڑھ کر ظالم کون کون ہیں ؟ یعنی قیامت کے دن سب سے زیادہ ظالم اور سزا کا مستحق وہ شخص ہوگا جس نے ایسے عقیدے گھڑے کہ اللہ نے اپنے بہت سے اختیارات اور تصرفات اپنے پیاروں کو سونپ دیئے ہیں۔ اور ان کے پاس جو ایسے اختیارات ہیں وہ اللہ ہی کے عطا کئے ہوئے تھے۔ ان کے ذاتی نہیں ہیں۔ پھر جب انہیں حقیقت حال سے خبردار کیا جائے تو سمجھانے والے کو ہی جھوٹا سمجھیں اور اس کی مخالفت پر اتر آئیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص جھوٹ موٹ کہہ دے کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ اور اس پر اللہ کا کلام نازل ہوتا ہے تو ایسا شخص سب سے بڑا ظالم ہے۔ اور وہ اپنی بات میں سچا اور فی الواقع اللہ کا نبی اور اللہ ہی کا کلام پیش کر رہا ہو۔ لیکن سننے والا اسے جھٹلا دے تو پھر یہ شخص سب سے بڑھ کر ظالم ہوگا۔ پہلے مطلب کے لحاظ سے اس آیت کا مصداق ایک ہی شخص ہے اور دوسرے مطلب کے لحاظ سے اس کا مصداق دو الگ الگ اشخاص ہیں۔ اور یہ سب ہی بڑے بڑے ظالموں کی قسمیں ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ظلم کا معنی اندھیرا ہے، کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں اور رکھنا بھی اور کسی کا حق دوسرے کو دے دینا بھی ظلم ہے، کیونکہ آدمی اندھیرے میں کسی چیز کو اس کی اصل جگہ نہیں رکھ سکتا۔ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَي اللّٰهِ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ سے مراد شرک یعنی اس کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرنا ہے، جس کی کئی صورتیں اس سورت کے شروع سے یہاں تک بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کچھ اولیاء کی عبادت کرنا، فرشتوں کو یا مسیح و عزیر (علیہ السلام) کو یا کسی اور کو اللہ کی اولاد قرار دینا، مصیبت اور تکلیف کے وقت صرف اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور اس کی طرف سے کوئی نعمت عطا ہونے پر اسے بھول کر اس کے شریک بنا کر لوگوں کو گمراہ کرنا اور طاغوت کی عبادت کرنا وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے سب کا رد فرما کر اس آیت میں خلاصہ بیان فرمایا، اس لیے آیت کی ابتدا ” فاء “ کے ساتھ فرمائی کہ پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بولا اور اس کا حق دوسروں کو دے دیا ؟ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی کچھ تفصیل ان آیات کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں، سورة انعام (٢١) ، اعراف (٣٧) ، ہود (١٨) اور عنکبوت (٦٨) ۔ وَكَذَّبَ بالصِّدْقِ اِذْ جَاۗءَهٗ ۭ : صدق کا معنی وہ بات ہے جو واقعہ کے مطابق ہو، سچی ہو، یہاں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی توحید، آخرت اور رسالت ہے۔ یعنی اگر کسی شخص کے پاس سچی بات نہ پہنچے تو اس کا عذر ہوسکتا ہے، مگر جس شخص کے پاس حق اور صدق آجائے اور وہ اس پر غور و فکر کی زحمت کیے بغیر اسے سنتے ہی جھٹلا دے، یا اسے سمجھنے کے باوجود عناد کی وجہ سے اس کے آنے کے ساتھ ہی اسے جھٹلا دے، یعنی جو شخص اللہ پر جھوٹ بولے اور سچی بات سنتے ہی اسے جھٹلا دے اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ 3 شاہ عبد القادر (رض) نے اس آیت کی تفسیر ایک اور طریقے سے کی ہے : ” یعنی اگر نبی نے جھوٹ خدا کا نام لیا تو اس سے برا کون ؟ اور اگر وہ سچا تھا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے برا کون ؟ “ (موضح) اس تفسیر کے مطابق ” مِمَّنْ كَذَبَ عَلَي اللّٰهِ “ کا مصداق اور ہے اور ” وَكَذَّبَ بالصِّدْقِ “ کا مصداق اور، جب کہ پہلی تفسیر کے مطابق دونوں صفات ایک ہی شخص کی ہیں۔ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ : ” مَثْوًى“ ” ثَوٰی یَثْوِيْ ثَوَاءً وَثُوِیًّا “ بروزن ” مَضٰی یَمْضِيْ مَضَاءً وَ مُضِیًّا “ سے اسم ظرف ہے، رہنا، ٹھہرنا۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورة عنکبوت (٦٨) یہ کہنے کے بجائے کہ ” کیا ان کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ؟ “ یہ فرمایا کہ ” کیا ان کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ؟ “ مقصود اس بات کا اظہار ہے کہ ان کا ٹھکانا جہنم ہونے کی وجہ ان کا کفر یعنی حق بات کو چھپانا اور اس کا انکار کرنا ہے۔ ” اَلْکَافِرِیْنَ “ جمع لانے سے ظاہر ہے کہ ” مِمَّنْ كَذَبَ عَلَي اللّٰهِ “ (جس نے اللہ پر جھوٹ بولا) میں ” مَنْْ “ عموم کے لیے ہے، یعنی اس سے مراد ایک شخص نہیں بلکہ ایسے تمام لوگ ہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتے اور سچی بات کو جھٹلاتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

All deeds will be given against oppressions and infringement of rights, but one&s &iman (faith) will not be given After having reported all Hadith narrations cited above, it has been said in Tafsir Mazhari that the thing mentioned about giving the deeds of the oppressor in settlement of the rights of the oppressed means deeds other than &iman (faith). The reason is that all oppressions and injustices are acts of sin. They are not kufr or disbelief. And the punishment of sinful deeds will be limited as against &iman (faith) which is a limitless deed. Its reward too is limitless, that is, living in Jannah forever - even though, it may happen after having gone through the punishment of sins and staying in Jahannam for a certain period of time. The outcome is, when the good deeds of the oppressor - with the exception of &iman (faith) - will finish once given to the oppressed to the last deed leaving nothing behind but &iman, then, this &iman will not be taken away from him forcibly. Instead, the rights of the oppressed will be paid back by putting the sins of the oppressed in the account of the oppressor. As a result, this person will, after he has undergone the punishment of his sins, will finally enter the Jannah, and then this state of his will be everlasting. The author of Tafsir Mazhari says that Imam al-Baihaqi has also said so. In verse 32, it was said: كَذَّبَ بِالصِّدْقِ (rejects the truth) while in verse 33, it was said: الَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ (As for the one who has come with the truth): At both these places, the word الصِّدْقِ : (as-sidq: the truth) means teachings brought by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، whether it be the Qur&an, or be other teachings of ahadith in addition to the Qur&an. And the expression: صَدَّقَ بِهِ (saddaga bihi: and believed it to be true - 39:33) includes all believers who have testified to it.

سارے اعمال مظالم اور حقوق کے بدلے میں دے دیے جاویں گے مگر ایمان نہیں دیا جائے گا : تفسیر مظہری میں مذکورہ سب روایات حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مظلوموں کے حقوق میں ظالم کے اعمال دے دینے کا جو ذکر آیا ہے، اس سے مراد ایمان کے علاوہ دوسرے اعمال ہیں، کیونکہ جتنے مظالم ہیں وہ سب عملی گناہ ہیں، کفر نہیں ہیں اور عملی گناہوں کی سزا محدود ہوگی بخلاف ایمان کے کہ وہ ایک غیر محدود عمل ہے۔ اس کی جزا بھی غیر محدود یعنی ہمیشہ جنت میں رہنا ہے اگرچہ وہ گناہوں کی سزا بھگتنے اور کچھ عرصہ جہنم میں رہنے کے بعد ہو اس کا حاصل یہ ہے کہ جب ظالم کے اعمال صالحہ علاوہ ایمان کے سب مظلوموں کو دے کر ختم ہوجائیں گے۔ صرف ایمان رہ جائے گا تو ایمان اس سے سلب نہیں کیا جائے گا بلکہ مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال کر حقوق کی ادائیگی کی جائے گی، جس کے نتیجہ میں یہ گناہوں کا عذاب بھگتنے کے بعد پھر بالآخر جنت میں داخل ہوگا اور پھر یہ حال اس کا دائمی ہوگا۔ صاحب تفسیر مظہری نے فرمایا کہ امام بیہقی نے بھی ایسا ہی فرمایا ہے۔ کذب بالصدق اور الذی جاء بالصدق۔ میں صدق سے مراد وہ تعلیمات ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر آئے ہیں۔ خواہ قرآن ہو یا قرآن کے علاوہ دوسری تعلیمات احادیث اور صدق بہ میں سب مومنین داخل ہیں جو اس کی تصدیق کرنے والے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَي اللہِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَاۗءَہٗ۝ ٠ ۭ اَلَيْسَ فِيْ جَہَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ۝ ٣٢ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ ثوی الثَّوَاء : الإقامة مع الاستقرار، يقال : ثَوَى يَثْوِي ثَوَاءً ، قال عزّ وجلّ : وَما كُنْتَ ثاوِياً فِي أَهْلِ مَدْيَنَ [ القصص/ 45] ، وقال : أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوىً لِلْمُتَكَبِّرِينَ [ الزمر/ 60] ، قال اللہ تعالی: فَالنَّارُ مَثْوىً لَهُمْ [ فصلت/ 24] ، ادْخُلُوا أَبْوابَ جَهَنَّمَ خالِدِينَ فِيها فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ [ الزمر/ 72] ، وقال : النَّارُ مَثْواكُمْ [ الأنعام/ 128] ، وقیل : من أمّ مثواک «3» ؟ كناية عمّن نزل به ضيف، والثَّوِيَّة : مأوى الغنم، ( ث و ی ) الثواء ( ص) کے اصل معنی کسی جگہ پر مستقل طور پر اقامت کرنا کے ہیں کہا جاتا ہے ثویٰ یثویٰ ثواء وہ اقامت پذیر ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَما كُنْتَ ثاوِياً فِي أَهْلِ مَدْيَنَ [ القصص/ 45] اور نہ تم مدین والوں میں رہ رہے تھے ۔ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوىً لِلْمُتَكَبِّرِينَ [ الزمر/ 60] کیا غرور والوں کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہے ۔ فَالنَّارُ مَثْوىً لَهُمْ [ فصلت/ 24] اور انکا ٹھکانا دوزخ ہے ۔ ادْخُلُوا أَبْوابَ جَهَنَّمَ خالِدِينَ فِيها فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ [ الزمر/ 72]( اب ) جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ۔ ہمیشہ اسی میں رہو گے ۔ متکبروں کا کیسا برا ٹھکانا ہے ۔ النَّارُ مَثْواكُمْ [ الأنعام/ 128] خدا فرمائے گا ( اب ) تمہارا ٹھکانا درزخ ہے ۔ من ام مثواک ( کنایہ ) تمہارا میز بان کو ن ہے ۔ الثویۃ بھیڑ بکریوں کے باڑہ کو کہتے ہیں ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

ابو جہل اور اس کے ساتھیوں سے زیادہ اپنے کفر میں بےانصاف کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر قرآن کریم سن کر جھوٹ باندھے اور اس کے شریک ٹھہرائے اور اس کو صاحب اولاد بنائے اور قرآن کریم اور بیان توحید کو جبکہ اس کے پاس بذریعہ نبی کریم پہنچ گئی جھٹلائے کیا جہنم ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کا ٹھکانا نہ ہوگا ؟ ضرور ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢ { فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَکَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآئَ ہ } ” اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور جھٹلائے سچی بات کو جبکہ اس کے پاس آگئی ہو ! “ یہ دونوں خصوصیات ایک ہی شخص کے کردار میں بھی ہوسکتی ہیں کہ وہ اللہ پر جھوٹ بھی باندھ رہا ہو اور اللہ کی طرف سے جو حق اس کے پاس آیا ہے اس کی تکذیب یا نفی بھی کر رہا ہو۔ اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دو الگ الگ کرداروں کا ذکر ہو۔ یعنی ایک وہ شخص جو اپنی کسی بات کو اللہ کی طرف منسوب کر کے دعویٰ کرے کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ ظاہر ہے ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اسی درجے کا ظالم وہ شخص بھی ہوگا جس کے پاس اللہ کا کلام پہنچ جائے جو کہ سراسر حق ہے اور وہ اس حق کو جھٹلا دے۔ { اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ } ” تو کیا جہنم ہی میں ٹھکانہ نہیں ہے ایسے کافروں کا ! “ اب اگلی آیت میں اس کے برعکس کردار کا ذکر ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٢۔ ٣٤۔ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرنا اور اللہ کو صاحب اولاد ٹھہرانا یا بتوں کے نام پر جانور چھوڑ کر ان کو حرام قرار دینا بھی اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ و کذب بالصدق اس کا مطلب قرآن کو جھٹلانا کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے پھر فرمایا کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے والوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے پھر فرمایا اللہ کے رسول جو اللہ کا کلام لوگوں کی ہدایت کے لئے لائے اور امت میں کے وہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ جنہوں نے اللہ کے کلام کو دل سے سچا جان کر اس کی نصیحت کے موافق عمل کیا۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہیں جس چیز کو ان کا جی چاہے گا وہ اسی وقت موجود ہوجاوے گی آخر کو فرمایا خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ایسا ہی بدلہ دیوے گا کہ جو نعمت وہ چاہیں وہ ان کو ملے حاصل کلام یہ ہے کہ پہلی آیت میں اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے والوں کا ذکر مذمت کے طور پر فرما کر ان کا انجام بتلایا اور آخر کی دونوں آیتوں میں نیک لوگوں کا ذکر تعریف کے طور پر فرما کر ان کا انجام جتلایا صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ (رض) اشعری کی حدیث گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمن کی بیان فرمائی ہے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح مینہ کا پانی عام فائدہ کے لئے برستا ہے اسی طرح اگرچہ قرآن کی نصیحت سب کے فائدہ کے لئے تھی لیکن جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے اسی طرح جن لوگوں کا ذکر پہلی آیت میں ہے اس کے حق میں قرآن کی نصیحت رائیگاں گئی۔ اور اچھی زمین میں جس طرح مینہ کے پانی کا اچھا ظہور ہوتا ہے جن لوگوں کا ذکر آخر کی دونوں آیتوں میں ہے ان کے حق میں قرآن کی نصیحت کا وہی ظہور ہوا۔ (٢ ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص ٢٣)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:32) فمن اظلم : میں فاء سببیہ ہے۔ کافروں کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جھگڑا کرنا۔ ان کا بےانصاف ہونے کا سبب ہے (مظہری) ۔ یہ استفہام انکاری ہے اور استفہام انکاری ثبوت قطعی کے معنی پیدا کرتا ہے۔ اظلم افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ ترجمہ :۔ اس شخص سے بڑھ کر بےانصاف کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں ۔ وہ شخص زیادہ بےانصاف ہے۔ ممن : من اور من سے مرکب ہے۔ من حرف جار ہے اور من موصولہ۔ اور کذب علی اللّٰہ۔ اسم موصول کی تعریف (جس نے اللہ پر جھوٹ لگایا) ۔ اللہ پر جھوٹ لگانے سے مراد اولاد اور شریک کا اس کی طرف نسبت کرنا ہے۔ وکذب بالصدق : واؤ عاطفہ ہے جملہ مابعد کا عطف جملہ ماقبل پر ہے ای ومن کذب بالصدق : جس نے سچ کو جھٹلایا۔ کذب ب جھٹلایا۔ جیسے کذب بالامر اس نے اس بات سے انکار کیا۔ اسے جھٹلایا۔ الصدق۔ سچ۔ یعنی قرآن۔ اذجاء ہ۔ اذ۔ جب ۔ جبکہ۔ جس وقت۔ ظرف زمان ہے۔ بمعنی جب یا جس وقت۔ بعض نے اسے اذ مفاجاتیہ کہا ہے ۔ یعنی جبھی سچ آیا اس نے فورا بغیر سوچے سمجھے اس کی تکذیب کی۔ یہ بھی نہ دیکھا کہ اس سچائی کے دلائل اور اس کے صادق ہونے کے شواہد بکثرت موجود ہیں۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب من موصولہ کی طرف راجع ہے۔ الیس۔ ہمزہ استفہام انکاری کا ہے۔ لیس فعل ناقص بمعنی نہیں ہے منفی کی منفی مثبت ہوگی۔ کیا نہیں ہے ؟ یعنی ایسا ضرور ہے۔ مقصود اس سے مخاطب کو آمادہ کرنا ہے کہ وہ اقرار کرے کہ واقعی جہنم ہی کافروں کا ٹھکانا ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو۔ 39:28) (مظہری) مثوی۔ ظرف مکان واحد۔ مثاوی جمع۔ ٹھکانہ۔ طویل عرصہ کے لئے ٹھہرنے کا مقام فرودگاہ۔ ثوی یثوی (ضرب) قیام کرنا۔ ٹھہرنا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی کسی کو اس کا شریک یا بیٹا یا بیوی قرار دیا۔ (تعالیٰ عن ذلک عملوا کبیرا) یہ خطاب مشرکین سے ہے۔2 الصدق ( سچی بات) سے مراد وہ سچائی ہے جو اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خصوصاً آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر آئے اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی دعوت دی۔ ( ابن کثیر)3 اس آیت کے تحت شاہ صاحب (رح) اپنی توضیح میں لکھتے ہیں :” یعنی اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھوٹ خدا کا نام لیا تو اسے سے برا کون اور اگر وہ سچا تھا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے برا کون ؟ ) (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 41: اسرار و معارف : اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے اور اس کے ساتھ دوشرے شریک ماننے سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے یا پھر یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کسی کے پاس حق بات پہنچے اور وہ اسے جھٹلا دے تو اس کی سزا بھی یقیناً یہی ہے کہ کافروں کو جہنم میں ٹھکانہ دیا جائے ان کے مقابل جو بھی حق بات کرے اللہ کا رسول یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حاصل کرکے کوئی مسلمان اور پھر دوسرا جو اس کی تصدیق کرے اور اسے سچ مانے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا تعلق اللہ سے ہے۔ ان کا فیصلہ روز حشر یہ ہوگا کہ جو نعمت چاہیں گے ملے گی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ایسے ہی نوازا جائے گا بلکہ بتقاضائے بشریت ان سے جو خطائیں ہوئی ہوں گی اللہ اپنے کرم سے معاف فرما کر ان کے نیک اعمال کا صلہ کئی گنا بڑھا چڑھا کر عطا کریں گے۔ ذرا ان کفار کو دیکھو آپ کو اور آپ کے ماننے والون کو غیر اللہ سے ڈراتے ہیں۔ بھلا یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ اپنے بندے کی حفاظت کے لیے کافی ہے اس سے مراد ہر وہ ڈر ہے جو حکومت کو کافر حکومت کا یا کسی مسلمان کو کسی کافر یا بدکار افسر وغیرہ کا ڈر اللہ کی نافرمانی پہ مجبور کرے نیز گناہ پہ مجبور کرنے والا خواہ برائے نام مسلمان ہی ہو اس کے مقابلے میں اللہ کی حفاظت کافی ہے مگر ان جاہلوں کو اتنی سی بات کی سمجھ بھی نہیں آتی۔ بات یہ ہے کہ گناہ کی پاداش میں اللہ جسے گمراہ کردے اسے کوئی راستہ دکھا ہی نہیں سکتا اور جن کی اطاعت یا جذبہ اطاعت قبول کرکے انہیں ہدایت کی راہ پہ ڈال دے انہیں کوئی بھٹکا بھی نہیں سکتا۔ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ اللہ ہی غالب ہے اور وہ بدلہ لینے والا ہے۔ یعنی عذاب وثواب آخرت کے ساتھ اعمال کا بدلہ یہاں بھی نصیب ہوجاتا ہے کہ برائی کا بدلہ گمراہی ہے اور اطاعت کے بدلے راہ ہدایت نصیب ہوتی ہے پھر کیا جہالت ہے کہ بتوں سے یا غیر اللہ سے جو خود مخلوق و مھتاج ہیں ڈراتے ہیں اگر آپ ان پہ سوال کریں کہ یہ مامور عالم یہ آسمان و زمین کس نے بنائے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے بتوں نے بنائے ہیں انہیں کہنا پڑے گا کہ اللہ نے بنائے ہیں اور معبودان باطلہ کا عجز یوں دیکھو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں کہ اگر اللہ مجھے رنج پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس رنج کو دور کسکتے ہیں یا اللہ مجھ پر اپنی رحمت و بخشش کرے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں ہرگز نہیں تو پھر آپ یہ کہہ دیجیے کہ مجھے اللہ کافی ہے اور یہی کلمہ غیر اللہ کے مقابل ہر مومن کے لیے ہے کہ بھروسہ کرنے والے صرف اللہ ہی پہ بھروسہ کرتے ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تمہیں کفر پہ اصرار ہے تو اپنا کام جاری رکھو میرا اپنا کردار ہے ایمان و اطاعت کا میں اس پر عمل پیرا ہوں بہت جلد نتیجہ سامنے آجائے گا کہ کس پر آفت ٹوٹی ہے اور پھر اس پر ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب مسلط ہوجاتا ہے اور ہم نے لوگوں کی خاطر آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے یعنی لوگ کتاب میں اپنی رائے سے سے معانی داخل نہیں کرسکتے بلکہ کتاب اور کتاب کا معنی دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حاصل کرنے ہوں گے۔ یہ حق اور کھری بات ہے جو کوئی اسے قبول کرتا ہے تو وہ اپنی بہتری کے لیے کرتا ہے لیکن اگر کوئی اس کا انکار کرکے گمراہ ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ بھی وہ خود بھگتے گا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام بات پہنچا دینا ہے آپ ان پر مسلط نہیں کیے گئے کہ زبردستی منوانا ہو۔ لہذا آپ فکر مند نہ ہوں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 37 : اظلم ( بڑا ظالم) مثوی ( ٹھکانہ) اسوا ( برا کیا) ذی انتقام ( بدلہ لینے والا) تشریح : آیت نمبر 32 تا 37 :۔ توحید خالص اور کفر و شرک پر عمل کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ واقعی بڑا ظالم اور بےانصاف ہے جس کے پاس قرآن کریم جیسی سچائی اور پیغام پہنچ گیا ہو اور اس نے بغیر سوچے سمجھے محض اپنی جہالت ، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کا انکار کردیا ہو ، یقینا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جن کے پاس اللہ کا سچا پیغام پہنچا اور انہوں نے اس کی تصدیق کی تو یہ اہل تقویٰ ہیں انہیں آخرت میں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور اگر ان سے کوئی کوتاہی یا غلطی ہوگئی ہوگی تو اللہ تعالیٰ نہ صرف ان کی غلطیوں کو معاف فرما دے گا بلکہ ان کی ہر نیکی قبول فرمائے گا ۔ کفار و مشرکین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات سے ڈراتے تھے کہ وہ ان کے بتوں کو برا بھلا نہ کہیں اور اپنی زبان کو اس سے روک لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بت ناراض ہو کر انہیں بد حوال اور دیوانہ بنا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حق و صداقت کے راستے پر چلنے والے صحابہ کرام (رض) کو ایک خاص تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں آپ اس کا غم نہ کریں نہ ان سے انتقام کی فکر کریں کیونکہ ان کے لئے جہنم کی سزا ہی کافی ہے اور جس کی حفاظت اللہ کی طرف سے ہو رہی ہو اسے ویسے بھی کسی فکر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی خود حفاظت فرماتا ہے۔ کفار و مشرکین کو یہ معلوم نہ تھا کہ جو شخص اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ فرمایا کہ یہ لوگ راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو بھٹکا رکھا ہے ان کو راہ ہدایت دکھانے والا کوئی نہیں ہے اور جسے اللہ ہدایت کے راستے پر چلاتا ہے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا ، لہٰذا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ تمام حالات پر صبر کیجئے انتقام اور بدلہ لینے کے لئے اللہ ہی کافی ہے وہ خود ان سے انتقام لے لے گا کیونکہ اہل ایمان کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہے کہ سب لوگوں سے زیادہ طاقت ور ہوجائے تو اسے اللہ پر توکل کرنا چاہیے اور جو شخص چاہتا ہے کہ سب سے بڑھ کر غنی ہوجائے تو اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس پر زیادہ بھروسہ رکھے۔ بہ نسبت اس چیز کے جو اس کے ہاتھ میں ہے اور جو شخص یہ چاہتا ہے کہ بہت زیادہ عزت والا ہوجائے تو اس کو صرف اللہ ہی سے ڈرنا چاہیے “۔ ابن ابی حاتم)

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ ایسے شخص کا اظلم ہونا بھی ظاہر ہے، اور اظلم کا مستحق عقوبت اعظم ہونا بھی ظاہر ہے اور عقوبت اعظم جہنم ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی توحید کا انکار اور دین حق کو جھٹلانے والوں کا انجام۔ اہل مکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے تھے کہ آپ قرآن اپنی طرف سے بنا لیتے ہیں یہاں بین السطور اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ سب سے بڑا اور برا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے اور جب اس کے سامنے قرآن و سنت پیش کیے جائیں تو وہ ان کی تکذیب کرے ایسے جھگڑالو اور جھوٹے آدمی کی سزا جہنم کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کا یہ بھی معنٰی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے زندہ یا فوت شدہ کسی ہستی کو اپنی خدائی میں شریک کر رکھا ہے۔ ایسا کہنے والا پرلے درجے کا ظالم، کذاب اور جھگڑالو ہے۔ اس کے ساتھ وہ شخص بھی بالواسطہ طور پر اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹ لگاتا ہے جو سروردوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کافرقرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کے لیے جہنّم تیار کی گئی ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا سب سے بڑا ظالم ہے۔ ٢۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرنے والا بھی ظالم ہے۔ ٣۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرنیوالے کافر ہیں۔ ان کے لیے جہنم تیار کی گئی ہے۔ تفسیر بالقرآن بڑے بڑے ظالم : ١۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الاعراف : ٣٧) ٢۔ سچ بات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الزمر : ٣٢) ٣۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والا ظالم ہے۔ (الانعام : ١٢) ٤۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والا ظالم ہے۔ (الانعام : ٩٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

پارہ ۔ 24 آیت نمبر 32 یہ سوال استفہام کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ سوال تقریری ہے۔ اس لیے کہ ایسے شخص سے بڑا ظالم اور کوئی نہیں ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے ، کسی کو اللہ کا بیٹا اور کسی کو بیٹی کہتا ہے۔ سچائی کی تکذیب کرتا ہے جسے رسول اللہ لے آئے ہیں۔ وہ کلمہ توحید کی تصدیق نہیں کرتا۔ چونکہ یہ ایک کفریہ عمل ہے ، اور کافروں کا ٹھکانہ یقیناً جہنم ہے اس لیے اس کے فیصلہ کن اظہار کی خاطر سوالیہ انداز اور اسلوب اختیار کیا گیا ہے تاکہ بات زیادہ واضح ہوجائے اور اس کی زیادہ تاکید ہوجائے۔ یہ تو مجادلہ اور جھگڑے کا ایک فریق تھا۔ اور فریق مقابل کون ہے ؟ تو وہ شخص ہے جو اللہ کی طرف سے وہ سچائی لے کر آیا۔ اور اسنے اس کی تصدیق کی اور اس سچائی کو لوگوں تک پہنچایا ، نہایت عقیدت مندی اور تسلی کے ساتھ۔ اور اس شخص یعنی رسول اللہ کے ساتھ تمام رسول اور انبیائے کرام شامل ہیں۔ اور اسی طرح رسول اللہ کے ساتھ اس میں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں درآنحالیکہ وہ اسلام پر پوری طرح ایمان لاتے ہیں اور اچھی طرح مطمئن ہیں اور اس دعوت میں ان کا قلب اور ان کی زبان دونوں شریک ہیں ایسے تمام لوگ متقی ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جھوٹوں سے بڑھ کر ظالم کون ہے گزشتہ آیات میں مومنین موحدین اور مشرکین معاندین اور کافرین مکذبین کا ذکر تھا ان آیات میں ہر فریق کا انجام بتایا ہے مومنین کے اجرو ثواب سے اور کافروں کے عذاب سے باخبر کیا ہے، (فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلٰی اللّٰہِ ) (سو اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا، جو اللہ پر جھوٹ باندھے) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اللہ تعالیٰ نے نہیں بتائی انہیں باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ مشرکین یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے شریک بنالیے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اولاد تجویز کرلی ہے نیز مشرکین کا یہ مزاج بھی ہے کہ جب کسی برے کام سے روکا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے کما فی سورة الاعراف (قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَآ اٰبَآءَ نَا وَاللّٰہُ اَمَرَنَا بِھَا) ظالم لوگ اللہ تعالیٰ پر تہمت دھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر افترا کرتے ہیں۔ یہ سب سے بڑا ظلم ہے جس کی سزا بھی بہت بڑی ہے۔ (وَکَذَّبَ بالصِّدْقِ اِِذْ جَاءَہٗ ) (اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو سچی بات کو یعنی قرآن کو جھٹلائے جبکہ وہ اس کے پاس آگیا۔ ) (اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ ) (کیا دوزخ میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے ؟ ) یہ استفہام تقریری ہے یعنی کافروں کا ٹھکانہ دوزخ میں ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

34:۔ ” فمن اظلم الخ “ یہ زجر ہے مع تخویف اخروی۔ سب سے بڑا ظالم اور بےانصاف وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرے اور حق بات کو جھٹلائے۔ خدا پر جھوٹ باندھنے سے مراد یہ ہے کہ اس کے لیے شریک اور نائب متصرف ثابت کرے اور ” الصدق “ سے قرآن اور وہ تمام شریعت مراد ہے جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کی طرف سے لائے۔ (قرطبی، مدارک، خازن، بیضاوی) ۔ ” الیس فی جہنم الخ “ اب تم ہی انصاف بتاؤ کہ جب اللہ کی توحید اور دین اسلام کی صداقت ایسے واضح اور روشن دلائل سے ثابت ہوچکی تو اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے لیے شریک تجویز کرے اور حق وصداقت کا انکار کرے، کیا ایسے ضدی اور معاند منکرین کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہوگا ؟ کیوں نہیں ؟ ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہوگا ؟

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(32) سو اس سے زیادہ کون ظالم اور ناحق پرست ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے اور جب اس کے پاس سچی بات آئے تو اس سچی بات کی تکذیب کردے کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہوگا۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ یہ کہ شریک رکھتا ہے یا اولاد رکھتا ہے سچی بات یہ کہ قرآن یا دین اس کے پاس رسول کے ذریعہ پہنچے اور وہ اس قرآن کریم کو جھٹلائے تو اس شخص سیبڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے اور ظالم کے لئے عقوبت ہے اور وہ جہم ہے اور وہ ایسے ظالموں کا ٹھکانا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر نبی نے جھوٹ خدا کا نام لیا تو اس سے برا کون اور اگر وہ سچا تھا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے برا کون۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنا یہ بھی بہت بڑا ظلم اور رسول کی سچی بات لائی ہوئی کو جھٹلانا خواہ وہ قرآن کریم ہو یا دین حق ہوا اس سے انکار کرنا اور جھوٹا بتانا اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا۔ لہٰذا ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے جس طرح خدا پر بہتان باندھنا اور افتراء کرنا قابل عقوبت ہے اسی طرح حضرت حق جل اللہ وعلا کے پیام کی مخالفت کرنا بھی ایک قابل سزا جرم ہے۔