Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 56

سورة الزمر

اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ یّٰحَسۡرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطۡتُّ فِیۡ جَنۡۢبِ اللّٰہِ وَ اِنۡ کُنۡتُ لَمِنَ السّٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۶﴾

Lest a soul should say, "Oh [how great is] my regret over what I neglected in regard to Allah and that I was among the mockers."

۔ ( ایسا نہ ہو کہ ) کوئی شخص کہے ہائے افسوس! اس بات پر کہ میں نے اللہ تعالٰی کے حق میں کوتاہی کی بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں ہی رہا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَى علَى مَا فَرَّطتُ فِي جَنبِ اللَّهِ ... Lest a person should say: "Alas, my grief that I was undutiful to Allah..." means, on the Day of Resurrection, the sinner who neglected to repent and turn back to Allah will regret it, and will wish that he had been one of the righteous who obeyed Allah. ... وَإِن كُنتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ and I was indeed among those who mocked. means, `my actions in this world were those of one who ridicules and makes fun, not of one who has firm faith and is sincere.' أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

56۔ 1 فِی جَنْب اللّٰہِ کا مطلب، اللہ کی اطاعت یعنی قرآن اور اس پر عمل کرنے میں کوتاہی ہے۔ جَنْب کے معنی قرب اور جوار کے ہیں۔ یعنی اللہ کا قرب اور اس کا جوار (یعنی جنت) طلب کرنے میں کوتاہی کی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٤] یعنی میں نے اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اپنے آباء کی تقلید کو ترجیح دی۔ اللہ کے حقوق دوسروں کو دیتا رہا۔ اللہ کے بجائے دوسروں کو پکارتا اور ان کی عبادت کرتا رہا۔ اللہ کے دین کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا اور اللہ کی آیات اور اس کی وعید کا مذاق اڑاتا رہا۔ اور ان چیزوں کی کوئی حقیقت ہی نہ سمجھی۔ کاش ! میں ایسے ایسے کام نہ کرتا جس کے نتیجہ میں مجھے آج یہ برا وقت دیکھنا پڑا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى ۔۔ : ” ان “ سے مراد ” لِءَلَّا “ ہے، جیسا کہ سورة نحل کی آیت (١٥) میں ہے : (وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ “ ” اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے، تاکہ وہ تمہیں ہلا نہ دے۔ “ ” يّٰحَسْرَتٰى‘ اصل میں ” حَسْرَۃٌ“ یائے متکلم کی طرف مضاف ہے، جسے ” الف “ میں بدل دیا ہے۔ حسرت شدید پشیمانی اور افسوس کو کہتے ہیں، ہائے میرا افسوس ! ” فَرَّطْتُّ “ ” فَرَّطَ یُفَرِّطُ تَفْرِیْطًا “ کوتاہی کرنا اور ” أَفْرَطَ یُفْرِطُ إِفْرَاطًا “ زیادتی کرنا۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ اس وقت کوئی شخص یہ کہے کہ ہائے میرا افسوس ! میری اس کوتاہی اور نافرمانی پر جو میں ساری کائنات کے خالق ومالک اللہ تعالیٰ کی جناب میں اس کے سامنے کرتا رہا، جو کسی چیز سے بیخبر نہیں۔ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ : ” ان “ اصل میں ” إِنِّيْ “ ہے۔ ”إِنَّ “ کے نون کو ساکن اور اس کے اسم ” یائے متکلم “ کو حذف کردیا۔ دلیل اس کی ” لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ ‘ پر آنے والا لام ہے، اور بیشک میں تو مذاق کرنے والوں سے تھا۔ یعنی افسوس ! میں نے صرف نافرمانی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دوسروں کے ساتھ مل کر مذاق اڑانے میں بھی شریک رہا۔ ظاہر ہے اجتماعی طور پر مذاق اڑانے میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور زیادہ مخالفت ہے۔ اس آیت سے بھی واضح ہے کہ ” قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا “ سے لے کر سلسلہ کلام کفار کے متعلق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور قیامت کا مذاق وہی اڑاتے ہیں۔ مومن کیسا بھی بدعمل ہو اس کا ایمان اسے مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دیتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The next three verses (56-58), beginning from: أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَ‌تَىٰ (Pity on me, because I fell short in respect of Allah... 39:56) and concluding on: مِنَ الْمُحْسِنِينَ (...become one of those who are good in deed - 39:58), have elaborated and emphasized the subject of the three verses earlier to it (53-55), that no sinner of any description should despair of the mercy of Allah, for should he repent, Allah will forgive all his past sins. But through the use of the expression: أَن تَقُولَ نَفْسٌ (lest someone should say) at the head of the three verses: 56, 57 and 58, it was reminded that the time of taubah has a deadline - it has to be well before death. If someone were to think of making his taubah after death on the Day of Judgment, or is simply filled with remorse over what awful things he had done to himself, then, that will bring him no benefit. In this context, it has been mentioned that some disbelievers, on the Day of Judgment, would express different wishes, regretting what they had done. Someone will be filled with remorse as to why did he have to fall short in obeying the commands of Allah Ta’ ala. Then, there will be that odd person even at a place like that who would love to wriggle out of the impasse blaming his destiny for his misconduct by saying - &Had Allah Ta’ ala given me the necessary guidance, I too would have been one of those who feared Him, but since He gave me no guidance, there was nothing I could do about it.& Still someone else would wish: &Would that I were to be sent back into the world to become an observing believer, obeying the commandments of Allah at its best.& But, that will be a time when no wish and no remorse of any kind will work. These three different wishes could belong to different people, and it is also possible that these three wishes could have come, one after the other, from a single group of disbelievers, because, with the last saying which mentions the wish to be sent back to this world, it has been said in the verse that it will come to pass after they had seen the punishment. This obviously suggests that the first two sayings belong to a time before they saw the punishment, that is, it will be on the very first day of Qiyamah that they will remember the shortcomings of their deeds and say: يَا حَسْرَ‌تَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّ‌طتُ فِي جَنبِ اللَّـهِ (Pity on me, because I fell short in respect of Allah ...39:56). Later, as an excuse, they will say that they were helpless, and had Allah guided them, they too would have become obedient and fearing, but when He Himself gave them no guidance, they were hardly at fault. After that, when they see the punishment, they would wish to be sent back into the world. In these three verses, Allah Ta’ ala has made it very clear that the forgiveness and mercy of Allah is very extensive. But, it can be won only when one repents before death. Therefore, Allah was alerting them right there against the possibility that they start to show remorse after death, and indulge in these redundant wishes in the Hereafter.

(آیت) اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى سے مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ تک۔ کی تین آیتوں میں اسی مضمون کی تشریح و تاکید ہے، جو اس سے پہلے کی تین آیتوں میں بیان فرمایا ہے کہ کسی بڑے سے بڑے مجرم کافر عاجز کو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہئے، اگر وہ توبہ کرلے گا تو اللہ اس کے سب پچھلے گناہ معاف فرما دے گا۔ ان تقول نفس سے تین آیتوں میں یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ یہاں تک کفر و شرک کو بھی توبہ سے معاف فرما دیتا ہے۔ مگر یہ یاد رکھو کہ توبہ کا وقت مرنے سے پہلے ہے، مرنے کے بعد قیامت کے روز کوئی توبہ کرے یا اپنے کئے پر حسرت کرے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جیسا کہ بعض کفار فجار قیامت کے روز مختلف تمنائیں کریں گے۔ کوئی تو اظہار حسرت کرے گا کہ افسوس میں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کوتاہی کی تھی۔ کوئی وہاں بھی اپنا الزام تقدیر پر ڈال کر بچنا چاہے گا وہ کہے گا کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت کردیتا تو میں بھی متقیوں میں داخل ہوتا، مگر خدا نے ہی ہدایت نہ کی تو میں کیا کروں۔ کوئی یہ تمنا کرے گا کہ کاش مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو میں سچا پکا مسلمان بنوں، اور اللہ کے احکام کی پوری اطاعت کروں۔ مگر اس وقت کی یہ حسرتیں اور تمنائیں کسی کے کام نہ آئیں گی۔ یہ تین قسم کی تمنائیں ہوسکتا ہے کہ مختلف لوگوں کی ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تینوں تمنائیں یکے بعد دیگرے ایک ہی جماعت کے کفار کی طرف سے ہوں، کیونکہ آخری قول جس میں دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا ہے اس کے ساتھ آیت میں مذکور ہے کہ وہ عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہوگا۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دونوں قول مشاہدہ عذاب سے پہلے کے ہیں کہ قیامت کے روز اول ہی اپنے عمل کی تقصیرات کو یاد کر کے کہیں گے، يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ پھر عذر اور بہانے کے طور پر کہیں گے کہ ہم تو معذور تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہدایت کردیتا تو ہم بھی مطیع و فرمانبردار اور متقی ہوجاتے۔ مگر جب اس نے ہدایت ہی نہ کی تو ہمارا کیا قصور ہے، پھر جب عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو یہ تمنا ہوگی کہ کاش دنیا میں دوبارہ بھیج دیئے جاویں۔ حق تعالیٰ نے ان تینوں آیتوں میں بتلا دیا کہ اللہ کی مغفرت اور رحمت بہت وسیع ہے، مگر وہ جبھی حاصل ہو سکتی ہے کہ مرنے سے پہلے توبہ کرلو۔ اس لئے ہم ابھی بتلائے دیتے ہیں ایسا نہ ہو کہ تم مرنے کے بعد پچھتاؤ اور آخرت میں اس طرح کی فضول حسرت و تمنا میں مبتلا ہو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللہِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ۝ ٥٦ۙ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے حسر الحسر : كشف الملبس عمّا عليه، يقال : حسرت عن الذراع، والحاسر : من لا درع عليه ولا مغفر، والمِحْسَرَة : المکنسة، وفلان کريم المَحْسَر، كناية عن المختبر، وناقة حَسِير : انحسر عنها اللحم والقوّة، ونوق حَسْرَى، والحاسر : المُعْيَا لانکشاف قواه، ويقال للمعیا حاسر ومحسور، أمّا الحاسر فتصوّرا أنّه قد حسر بنفسه قواه، وأما المحسور فتصوّرا أنّ التعب قد حسره، وقوله عزّ وجل : يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] ، يصحّ أن يكون بمعنی حاسر، وأن يكون بمعنی محسور، قال تعالی: فَتَقْعُدَ مَلُوماً مَحْسُوراً [ الإسراء/ 29] . والحَسْرةُ : الغمّ علی ما فاته والندم عليه، كأنه انحسر عنه الجهل الذي حمله علی ما ارتکبه، أو انحسر قواه من فرط غمّ ، أو أدركه إعياء من تدارک ما فرط منه، قال تعالی: لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكافِرِينَ [ الحاقة/ 50] ، وقال تعالی: يا حَسْرَتى عَلى ما فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ [ الزمر/ 56] ، وقال تعالی: كَذلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمالَهُمْ حَسَراتٍ عَلَيْهِمْ [ البقرة/ 167] ، وقوله تعالی: يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ [يس/ 30] ، وقوله تعالی: في وصف الملائكة : لا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبادَتِهِ وَلا يَسْتَحْسِرُونَ [ الأنبیاء/ 19] ، وذلک أبلغ من قولک : ( لا يحسرون) . ( ح س ر ) الحسر ( ن ض ) کے معنی کسی چیز کو ننگا کرنے اور حسرت عن الذارع میں نے آستین چڑھائی الحاسر بغیر زرہ مابغیر خود کے ۔ المحسرۃ فلان کریم الحسر کنایہ یعنی ناقۃ حسیر تھکی ہوئی اور کمزور اونٹنی جسکا گوشت اور قوت زائل ہوگئی ہو اس کی جمع حسریٰ ہے الحاسر ۔ تھکا ہوا ۔ کیونکہ اس کے قویٰ ظاہر ہوجاتے ہیں عاجز اور درماندہ کو حاسربھی کہتے ہیں اور محسورۃ بھی حاسرۃ تو اس تصور کے پیش نظر کہ اس نے خود اپنے قوٰی کو ننگا کردیا اور محسور اس تصور پر کہ درماندگی نے اس کے قویٰ کو ننگا دیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] تو نظر ( ہر بار ) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی ۔ میں حسیر بمعنی حاسرۃ بھی ہوسکتا ہے اور کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہوکر بیٹھ جاؤ ۔ الحسرۃ ۔ غم ۔ جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس پر پشیمان اور نادم ہونا گویا وہ جہالت اور غفلت جو اس کے ارتکاب کی باعث تھی وہ اس سے دیر ہوگئی یا فرط غم سے اس کے قوی ننگے ہوگئے یا اس کوتاہی کے تدارک سے اسے درماند گی نے پالیا قرآن میں ہے : ۔ لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ آل عمران/ 156] ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کردے ۔ وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكافِرِينَ [ الحاقة/ 50] نیز یہ کافروں کے لئے ( موجب ) حسرت ہے ۔ يا حَسْرَتى عَلى ما فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ [ الزمر/ 56] اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی ۔ كَذلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمالَهُمْ حَسَراتٍ عَلَيْهِمْ [ البقرة/ 167] اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گا ۔ يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ [يس/ 30] بندوں پر افسوس ہے اور فرشتوں کے متعلق فرمایا : ۔ لا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبادَتِهِ وَلا يَسْتَحْسِرُونَ [ الأنبیاء/ 19] وہ اس کی عبادت سے نہ کنیا تے ہیں اور نہ در ماندہ ہوتے ہیں ۔ اس میں سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے ۔ فرط فَرَطَ : إذا تقدّم تقدّما بالقصد يَفْرُطُ ، ما فَرَّطْتُمْ فِي يُوسُفَ [يوسف/ 80] . ( ف ر ط ) فرط یفرط ( ن ) کے معنی قصدا آگے بڑھ جانے کے ہیں ما فَرَّطْتُمْ فِي يُوسُفَ [يوسف/ 80] تم یوسف کے بارے میں قصؤر کرچکے ہو ۔ افرطت القریۃ مشکیزہ کو پانی سے خوب بھر دیا ۔ جنب أصل الجَنْب : الجارحة، وجمعه : جُنُوب، قال اللہ عزّ وجل : فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ [ التوبة/ 35] ، وقال تعالی: تَتَجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ [ السجدة/ 16] ، وقال عزّ وجلّ : قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] . ثم يستعار من الناحية التي تليها کعادتهم في استعارة سائر الجوارح لذلک، نحو : الیمین والشمال، ( ج ن ب ) الجنب اصل میں اس کے معنی پہلو کے ہیں اس کی جمع جنوب ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے ۔ فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ [ التوبة/ 35] پھر اس سے ان ( بخیلوں ) کی پیشانیاں اور پہلو داغے جائیں گے ۔ تَتَجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ [ السجدة/ 16] ان کے پہلو بچھو نوں سے الگ رہنے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ پہلو کی سمت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسا کہ یمین ، شمال اور دیگر اعضا میں عرب لوگ استعارات سے کام لیتے ہیں ۔ سخر التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] ( س خ ر ) التسخیر ( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان سب کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٦۔ ٥٧) ایسا نہ ہو کہ تم میں پھر کوئی کہنے لگے ہائے افسوس کہ میں نے اطاعت خداوندی کو چھوڑا تھا اور میں تو کتاب اللہ اور اس کے رسول کا مذاق ہی اڑاتا رہا اور تاکہ پھر کوئی یوں نہ کہنے لگے کہ اگر اللہ تعالیٰ میرے سامنے ایمان کو بیان فرماتے تو میں بھی موحدین میں سے ہوتا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٦ { اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْبِ اللّٰہِ } ” مبادا کہ اس وقت کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس اس کوتاہی پر جو مجھ سے اللہ کی جناب میں ہوئی “ م ہائے میری بدقسمتی کہ میں زندگی بھر اپنے دھندوں میں اس طرح مگن رہا کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو پہچان ہی نہ سکا۔ میرے سامنے اللہ کا دین مغلوب تھا مگر میں اس کی سربلندی کے لیے جدو جہد کرنے کے بجائے اپنی عیش و عشرت کے مواقع ڈھونڈنے اور اپنا معیارِ زندگی بلند کرنے میں لگا رہا۔ میں نے دنیا کے مال و متاع کو ہی اپنا معبود سمجھ لیا اور عمر بھر اسی کے لیے اپنا تن من دھن کھپاتا رہا۔ { وَاِنْ کُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِیْنَ } ” اور میں تو مذاق اڑانے والوں ہی میں شامل رہا۔ “ میں نے اللہ تعالیٰ ‘ اس کے دین اور آخرت کی باتوں کو نہ کبھی دھیان سے سنا اور نہ ہی کبھی سنجیدگی سے ان پر غور کیا ‘ بلکہ میں تو ہمیشہ ان باتوں کا مذاق ہی اڑاتا رہا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:56) ان تقول : (ان مصدریہ ناصبہ) بمعنی لئلا (ل تعلیلہ ، لا نافیہ) تاکہ نہ کہے۔ تاکہ نہ کہہ سکے۔ ان تقول سے قبل فعل محذوف ہے۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم لئلا نقول نفس الخ۔ اور تم پیروی کرو اس عمدہ کلام کی جو اتارا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے تاکہ (کل کوئی نفس (یہ) نہ کہہ کسے کہ ۔۔ الخ۔ (2) انذرکم وامرکم باحسن ما انزل الیکم من ربکم لئلا تقول نفس ۔۔ الخ وہ ڈراتا ہے تم کو اور حکم دیتا ہے تم کو پیروی کرنے کا عمدہ کلام کی جو اتارا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے تاکہ (کل) کوئی نفس یہ نہ کہہ سکے کہ ۔۔ نفس میں تنوین تکثیر کے لئے یا یہ تقلیل کے لئے بھی ہوسکتی ہے کیونکہ قیامت کے دن ایسا کہنے والے کچھ ہی لوگ ہوں گے۔ یحسرتی۔ یا غرف ندائ۔ حسرۃ (افسوس، پشیمانی، پچھتاوا) حسر یحسر سمع کا مصدر ہے ی اضافت واحد متکلم کی ہے۔ یائے اضافت کو الف سے بدلا گیا ہے۔ اے میری بدقسمتی۔ اسے میری پشیمانی۔ صد حیف مجھ پر۔ علی ما فرطت علی تعلیلہ ما مصدریہ ہے فرطت ماضی واحد متکلم ۔ تفریط (تفعیل) مصدر۔ فرط مادہ۔ میں نے کمی کی، میں نے کوتاہی کی۔ یہ افراط کی ضد ہے۔ علی ما فرطت ای بسبب تفریطی میری کوتاہی پر۔ میری کوتاہی کے سبب سے۔ ملاحظہ ہو ولتکبروا اللّٰہ علی ما ھدکم (2:185) کہ تم اللہ کی بڑائی کیا کرو بسبب اس کے تمہیں ہدایت دینے کے۔ فی جنب اللّٰہ۔ علماء نے اس کے متعدد معانی لکھے ہیں :۔ (1) اللہ کی اطاعت میں۔ (حسن) (2) اللہ کے معاملہ میں (مجاہد) (3) اللہ کے حق میں (سعید بن جبیر) بعض کے نزدیک ذات خدا مراد ہے اور مضاف محذوف ہے یعنی ذات الٰہی کی اطاعت میں یا اس کا قرب حاصل کرنے میں۔ بعض نے جنب کا معنی جانب بیان کیا ہے یعنی اس جانب میں کوتاہی کی جو مجھے اللہ کی جانب پہنچا دیتی۔ وان کنت لمن الساخرین۔ اس میں ان مخففہ ہے ان ثقیلہ سے یعنی بلاشبہ۔ بےشک۔ الساخرین۔ اسم فاعل جمع مذکر، سخر یسخر (سمع) سخر وسخر ومسخر مصدر۔ ٹھٹھا کرنا۔ مذاق کرنا۔ ہنسی اڑنا۔ السخرۃ جس سے ٹھٹھا کیا جائے۔ ہنسی اڑانے والے کے اس فعل کو سخر یۃ و سخریۃ کہتے ہیں۔ لمن میں لام فارقہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 56 یا کوئی یہ بات کہے کہ اللہ نے میرے لیے تو گمراہی لکھ دی تھی اگر اللہ میرے لیے ہدایت مقدر کردیتاتو میں ہدایت پر آجاتا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ) (الآیات الثلاث) ان آیات میں یہ بتادیا کہ اسی دنیا میں اپنے اعمال درست کرلیے جائیں گناہوں سے پرہیز کیا جائے تاکہ قیامت کے دن کوئی شخص پچھتاتے ہوئے یوں نہ کہے کہ ہائے ہائے میں نے کیا کیا اللہ تعالیٰ شانہٗ کے احکام کے بارے میں تقصیر کی اب مجھے یہاں اس کی سزا مل رہی ہے اور نہ صرف یہ کہ میں نافرمان تھا بلکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کے دین کا مذاق بنانے والوں میں سے تھا اور اس کے نیک بندوں کی ہنسی اڑاتا تھا اور کوئی شخص میدان قیامت میں یوں نہ کہنے لگے کہ اے اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں متقیوں میں سے ہوتا یعنی گناہ نہ کرتا (اللہ تعالیٰ نے رسول بھیج دیا قرآن نازل فرما دیا ایمان کی دعوت دے دی اور اس کی جزا بھی بتادی اور کفر کا جرم عظیم ہونا بیان کردیا اور اس کی سزا بھی بتادی اب یوں کہنا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت دیتا تو میں متقیوں میں سے ہوتا اس بات کے کہنے کا موقعہ نہیں رہا۔ ) قیامت کے دن کسی کے لیے یہ بات کہنے کا موقعہ نہیں رہا کہ مجھے واپس لوٹا دیا جائے اگر مجھے واپسی مل جائے تو دنیا میں جاکر خوب نیک بن جاؤں، جس نے پہلی زندگی ضائع کردی اب دوسری زندگی میں کیا ہدایت قبول کرے گا جبکہ اس مرتبہ بھی اموال اور اولاد کا فتنہ موجود ہوگا اسی لیے سورة الانعام میں فرمایا (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَانُھُوْا عَنْہُ وَاِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ ) (اور اگر انہیں واپس کردیا جائے تو ضرور پھر ہی عمل کریں گے جس سے منع کیا گیا اور بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (بَلٰی قَدْ جَاءَتْکَ اٰیٰتِیْ فَکَذَّبْتَ بِہَا وَاسْتَکْبَرْتَ وَکُنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ ) (وہاں تیرے پاس میری آیات آئیں سو تو نے انہیں جھٹلا دیا اور تو کافروں میں سے تھا۔ ) اس کے بعد قیامت کے دن کی بدحالی بیان فرمائی جو کافروں کو پیش ہوگی، فرمایا تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا کفر اختیار کیا اور وہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیں جن سے وہ بری اور بیزار ہے ان کے چہرے سیاہ ہوں گے ہدایت سامنے آجانے کے بعد ہدایت کو قبول نہ کرنا چونکہ تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی کافر آدمی حق کو اس لیے قبول نہیں کرتا کہ میری قوم اور سوسائٹی کے لوگ کیا کہیں گے اس لیے فرمایا (اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِلْمُتَکَبِّرِیْنَ ) (کیا جہنم میں تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا نہیں ہے) یعنی اہل تکبر کا تکبر انہیں لے ڈوبے گا جس نے دنیا میں ایمان قبول نہ کرنے دیا، تکبر کی وجہ سے یہ لوگ دوزخ میں جائیں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(56) پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص یوں کہنے لگے اے حسرت و افسوس میری اس کوتاہی اور کمی پر جو میں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں اور اس کے احکام بجا لانے میں کی اور میں ہنسنے والوں اور مذاق اڑانے والوں ہی میں شامل رہا۔ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا مذاق اڑاتے تھے میں بھی ان میں شامل رہا کرتا تھا ہائے افسوس میں نے بڑی کوتاہی کی یعنی اپنے کئے پر عذاب کو دیکھ کر پچھتانے لگے۔