حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ سورت مدینہ شریف میں اتری ہے ، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں ، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ جب یہ سورت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب روک رکھنا نہیں ، مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سورۃ نساء میں پانچ آیتیں ایسی ہیں کہ اگر ساری دنیا بھی مجھے مل جائے جب بھی مجھے اس قدر خوشی نہ ہو جتنی ان آیتوں سے ہے یعنی آیت ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ) 4 ۔ النسآء:40 ) اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا اور جس کسی کی جو نیکی ہوتی ہے اس کا ثواب بڑھا چڑھا کر دیتا ہے اور اپنی طرف سے جو بطور انعام اجر عظیم دے وہ جداگانہ ہے اور آیت ( اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا ) 4 ۔ النسآء:31 ) اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچ جاؤ تو ہم تمہارے صغیرہ گناہ خود ہی معاف فرما دیں گے اور تمہیں عزت والی جگہ جنت میں لے جائیں گے اور آیت ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا ) 4 ۔ النسآء:48 ) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کرنے والے کو تو نہیں بخشتا باقی جس گنہگار کو چاہے بخش دے اور آیت ( وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَاۗءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا ) 4 ۔ النسآء:64 ) یعنی یہ لوگ گناہ سرزد ہو چکنے کے بعد تیرے پاس آ جاتے اور خود بھی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کیبخشش طلب کرتے ہیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے لئے استغفار طلب کرتا تو بیشک وہ اللہ تعالیٰ کو معافی اور مہربانی کرنے والا پاتے امام حاکم فرماتے ہیں یوں تو اس کی اسناد صحیح ہے لیکن اس کی ایک راوی عبدالرحمن کے اپنے باپ سے سننے میں اختلاف ہے ، عبدالرزاق کی اس روایت میں آیت ( ولو انہم ) الخ ، کے بدلے آیت ( وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ) 4 ۔ النسآء:110 ) ہے یعنی جس شخص سے کوئی برا کام ہو جائے یا اپنے نفس پر ظلم کر گزرے پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ تو بیشک وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا مہربان پائے گا دونوں احادیث میں تطبیق اس طرح ہے کہ ایک آیت کا بیان کرنا پہلی حدیث میں یا تو رہ گیا ہے اور اس کا بیان دوسری حدیث میں ہے تو چار آیتیں پہلی حدیث اور پانچویں آیت اس حدیث ( ومن یعمل ) الخ ، کی مل کر پانچ ہو گئیں یا یہ ہے کہ آیت ( ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ ) والی آیت پوری ہے اور آیت ( وان تک حسنتہ ) کو الگ آیت شمار کیا ہے تو دونوں احادیث میں پانچ پانچ آیتیں ہو گئیں ( واللہ اعلم ۔ مترجم ) ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ اس سورت میں آٹھ آیتیں ہیں جو اس امت کے لئے ہر اس چیز سے بہتر ہیں جن پر سورج نکلتا اور غروب ہوتا ہے پہلی آیت ( يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُـبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَيَتُوْبَ عَلَيْكُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ ) 4 ۔ النسآء:26 ) اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تم پر صاف صاف بیان کر دے اور تمہیں ان اچھے لوگوں کی راہ راست دکھاوے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور تم پر مہربانی کرے اللہ تعالیٰ دانا اور حکمت والا ہے ، دوسری آیت ( يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّخَفِّفَ عَنْكُمْ ۚ وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا ) 4 ۔ النسآء:28 ) یعنی انسان چونکہ ضعیف پیدا کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اس پر تخفیف کرنا چاہتا ہے ، باقی آیتیں وہی جو اوپر گزریں ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس سے سورۃ نساء کی بابت سنا پس میں نے قرآن پڑھا اور میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا ( حاکم )