Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 110

سورة النساء

وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ یَظۡلِمۡ نَفۡسَہٗ ثُمَّ یَسۡتَغۡفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۱۰﴾

And whoever does a wrong or wrongs himself but then seeks forgiveness of Allah will find Allah Forgiving and Merciful.

جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو بخشنے والا ، مہربانی کرنے والا پائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Encouragement to Seek Allah's Forgiveness, and Warning those who Falsely Accuse Innocent People Allah emphasizes His generosity and kindness, in that He forgives whoever repents to Him from whatever evil they commit. Allah said, وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّهَ يَجِدِ اللّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا And whoever does evil or wrongs himself but afterwards seeks Allah's forgiveness, he will find Allah Oft-Forgiving, Most Merciful. Ali bin Abi Talhah said that Ibn Abbas commented about this Ayah, "Allah informs His servants of His forgiveness, forbearing generosity and expansive mercy. So whoever commits a sin, whether minor or major, ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّهَ يَجِدِ اللّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا (but afterwards seeks Allah's forgiveness, he will find Allah Oft-Forgiving, Most Merciful), even if his sins were greater than the heavens, the earth and the mountains." Imam Ahmad recorded that Ali said, "Whenever I hear anything from the Messenger of Allah, Allah benefits me with whatever He wills of that. Abu Bakr told me, and Abu Bakr has said the truth, that the Messenger of Allah said, مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللهَ لِذلِكَ الذَّنْبِ إِلاَّ غَفَرَ لَه No Muslim commits a sin and then performs ablution, prays two Rak`ahs and begs Allah for forgiveness for that sin, but He forgives him. He then recited these two Ayat, وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ (And whoever does evil or wrongs himself), (4:110) and, وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ (And those who, when they have committed Fahishah or wronged themselves with evil)." (3:135) Allah's statement,

سچی توبہ کبھی مسترد نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اپنا کرم اور اپنی مہربانی کو بیان فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو کوئی توبہ کرے اللہ اس کی طرف مہربانی سے رجوع کرتا ہے ، ہر وہ شخص جو رب کی طرف جھکے رب اپنی مہربانی سے اور اپنی وسعت رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے اور اس کے صغیرہ کبیرہ گناہ کو بخشش دیتا ہے ، چاہے وہ گناہ آسمان و زمین اور پہاڑوں سے بھی بڑے ہوں ، بنو اسرائیل میں جب کوئی گناہ کرتا تو اس کے دروازے پر قدرتی حروف میں کفارہ لکھا ہوا نظر آجاتا جو اسے ادا کرنا پڑتا اور انہیں یہ بھی حکم تھا کہ ان کے کپڑے پر اگر پیشاب لگ جائے تو اتنا کپڑا کتروا ڈالیں اللہ نے اس امت پر آسانی کر دی پانی سے دھو لینا ہی کپڑے کی پاکی رکھی اور توبہ کر لیناہی گناہ کی معافی ، ایک عورت نے حضرت عبداللہ بن مفضل سے سوال کیا کہ عورت نے بدکاری کی پھر جب بچہ ہوا تو اسے مار ڈالا آپ نے فرمایا اس کی سزا جہنم ہے وہ روتی ہوئی واپس چلی تو آپ نے اسے بلایا اور ( وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ) 4 ۔ النسآء:110 ) پڑھ کر سنائی تو اس نے اپنے آنسو پونچھ ڈالے اور واپس لوٹ گئی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے پھر وہ وضو کرکے دو رکعت نماز ادا کرکے اللہ سے استغفار کرے تو اللہ اس کے اس گناہ کو بخش دیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت اور ( وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ) 3 ۔ آل عمران:135 ) کی تلاوت کی ۔ اس حدیث کا پورا بیان ہم نے مسند ابو بکر میں کر دیا ہے اور کچھ بیان سورہ آل عمران کی تفسیر میں بھی گذرا ہے ، حضرت ابو درداء فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ مجلس میں سے اٹھ کر اپنے کسی کام کے لئے کبھی جاتے اور واپس تشریف لانے کا ارادہ بھی ہوتا جوتی یا کپڑا کچھ نہ کچھ چھوڑ جاتے ، ایک مرتبہ آپ اپنی جوتی چھوڑے ہوئے اُٹھے ڈولچی پانی کی ساتھ لے چلے میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا آپ کچھ دور جا کر بغیر حاجت پوری کئے واپس آئے اور فرمانے لگے ۔ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور مجھے یہ پیغام دے گیا ، پھر آپ نے ( وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ) 4 ۔ النسآء:110 ) پڑھی اور فرمایا میں اپنے صحابہ کو یہ خوشخبری سنانے کے لئے راستے میں ہی لوٹ آیا ہوں اس سے پہلے چونکہ ( وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ) 4 ۔ النسآء:110 ) یعنی ہر برائی کرنے والے کو اس کی برائی کا بدلہ ملے گا اتر چکی تھی اس لئے صحابہ بہت پریشان تھے ، میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نے زنا کیا ہو؟ چوری کی ہو؟ پھر وہ استفغار کرے تو اسے بھی اللہ بخش دے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، میں نے دوبارہ پوچھا آپ نے کہا ہاں میں نے سہ بارہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ہاں گو ابو دراداء کی ناک خاک آلود ہو ، پس حضرت ابو درداء جب یہ حدیث بیان کرتے اپنی ناک پر مار کر بتاتے ۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اور یہ حدیث غریب ہے ۔ پھر فرمایا گناہ کرنے والا اپنا ہی برا کرتا ہے جیسے اور جگہ ہے کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ، ایک دوسرے کو نفع نہ پہنچا سکے گا ، ہر شخص انپے کرتوت کا ذمہ دار ہے ، کوئی بوجھ بٹائی نہ ہو گا ، اللہ کا علم ، اللہ کی حکمت اور الٰہی عدل و رحمت کے خلاف ہے کہ ایک گناہ کرے اور دوسرا پکڑا جائے ۔ پھر فرماتا ہے جو خود برا کام کرکے کسی بےگناہ کے سر تھوپ دے جیسے بنوابیرق نے لبید کا نام لے دیا جو واقعہ تفصیل وار اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے ، یا مراد زید بن سمین یہودی ہے جیسے بعض اور مفسرین کا خیال ہے کہ اس چوری کی تہمت اس قبیلے نے اس بےگناہ شخص کے ذمہ لگائی تھی اور خود ہی خائن اور ظلم تھے ، آیت گوشان نزول کے اعتبار سے خاص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے جو بھی ایسا کرے وہ اللہ کی سزا کا مستحق ہے ۔ اس کے بعد کی ( آیت ولولا الخ ، ) کا تعلق بھی اسی واقعہ سے ہے یعنی لبید بن عروہ اور ان کے ساتھیوں نے بنوابیرق کے چوروں کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے برات اور ان کی پاکدامنی کا اظہار کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اصلیت سے دور رکھنے کا سارا کام پورا کر لیا تھا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی عصمت کا حقیقی نگہبان ہے آپ کو اس خطرناک موقعہ پر خائنوں کی طرف داری سے بچا لیا اور اصلی واقعہ صاف کر دیا ۔ کتاب سے مراد قرآن اور حکم سے مراد سنت ہے ۔ نزول وحی سے پہلے آپ جو نہ جانتے تھے ان کا علم پروردگار نے آپ کو بذریعہ وحی کر دیا جیسے اور آیت میں ہے وکذلک اوجینا الیک روحا من امرنا سے پوری سوت تک اور آیت میں ہے ( وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ يُّلْقٰٓى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِيْرًا لِّـلْكٰفِرِيْنَ ) 28 ۔ القصص:86 ) اسی لئے یہاں بھی فرمایا ۔ یہ سب باتیں اللہ کا فضل ہیں جو آپ کے شامل حال ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤٩] اپنے گناہ دوسروں کے ذمہ لگانا اور بہتان تراشی :۔ اصل چور کی حمایت کی دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ چور نے جھوٹ بول کر اپنے حمائیتوں کو مطمئن کردیا ہو کہ میں فی الواقع مجرم نہیں ہوں یعنی ان کا یہ گناہ نادانستہ یا غلطی کی بنا پر ہو۔ اور دوسری صورت یہ تھی کہ حمائیتوں کو ٹھیک طرح معلوم ہوچکا ہو کہ جس کی حمایت کر رہے ہیں وہ فی الواقع مجرم ہے اور اس کا یہ گناہ دیدہ دانستہ ہو۔ پہلی صورت کو اللہ تعالیٰ نے سوء اً سے تعبیر فرمایا اور دوسری صورت کو اپنے آپ پر ظلم سے۔ ان دونوں صورتوں میں اگر یہ حمایتی لوگ مجرم کی حمایت سے دستبردار ہوجاتے اور اللہ سے بخشش مانگتے تو یقینا اللہ ان کا گناہ معاف کردیتا۔ واضح رہے کہ ان آیات میں اگرچہ خطاب مذکورہ بالا لوگوں سے ہے تاہم ایسی سب آیتوں کا حکم عام ہوتا ہے۔ غلطی سے یا نادانستہ کوئی گناہ کسی بےقصور کے سر تھوپ دینے کی ایک مثال حدیث میں مذکور ہے جو درج ذیل ہے : بہتان تراشی کالی اور کمربند :۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کسی عرب قبیلے کے پاس ایک کالی لونڈی تھی۔ جسے انہوں نے آزاد کردیا تھا مگر وہ ان کے ساتھ ہی رہا کرتی۔ ایک دفعہ اسی قبیلے کی ایک لڑکی جو دلہن تھی، نہانے کو نکلی اور اپنا لال تسموں والا کمر بند اتار کر رکھ دیا۔ ایک چیل نے اسے جو پڑا دیکھا تو گوشت سمجھ کر جھپٹ لے گئی۔ لوگوں نے کمر بند تلاش کیا مگر وہ نہ ملا۔ آخر انہوں نے اس کالی لونڈی پر تہمت لگا دی۔ وہ کہنے لگی کہ && ان لوگوں نے میری تلاشی لینا شروع کی حتیٰ کہ میری شرمگاہ بھی دیکھی۔ اللہ کی قسم ! میں ان کے پاس ہی کھڑی تھی کہ وہی چیل گزری جس نے کمر بند پھینک دیا اور وہ ان کے درمیان گرا۔ میں نے کہا یہ ہے وہ کمر بند جس کی تم مجھ پر تہمت لگا رہے تھے۔ حالانکہ میں اس سے بری تھی۔ اب سنبھالو اسے۔ && پھر وہ لڑکی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور اسلام لے آئی۔ اس کا خیمہ مسجد میں تھا۔ کبھی کبھی وہ میرے پاس آ کر باتیں کیا کرتی اور جب بھی وہ میرے پاس آتی، وہ یہ شعر ضرور پڑھتی تھی : ویوم الوشاح من تعاجیب ربناالا انہ من بلدۃ الکفر انجانی (کمر بند کا دن ہمارے پروردگار کے عجائبات میں سے ہے۔ اسی واقعہ نے تو مجھے کفر کی سرزمین سے نجات بخشی تھی۔ &&۔۔ (بخاری۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب نوم المرأۃ فی المسجد)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ ۔۔ : مزید آیات دیکھیے سورة زمر (٥٣، ٥٤) سورة فرقان (٦٨ تا ٧١) اور سورة آل عمران (١٣٥) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کوئی آدمی جب جو کوئی گناہ کرے، پھر اٹھ کر اچھی طرح وضو کرے، پھر اللہ سے معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیتا ہے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی : ( وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ ) [ آل عمران : ١٣٥ ] ” اور وہ لوگ جب کوئی بےحیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہ کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا کون بخشتا ہے۔ “ [ ترمذی، أبواب الصلاۃ، باب ما جاء فی الصلاۃ عند التوبۃ : ٤٠٦ ] اس آیت میں ہر قسم کے گناہوں کے نتائج بد سے محفوظ رہنے کا طریقہ بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کی جائے۔ ” السوء “ وہ گناہ جن سے انسان اپنے علاوہ دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، جیسے جھوٹی شہادت اور بےگناہ کو متہم کرنا اور ” اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ “ سے ان گناہوں کی طرف اشارہ ہے جن سے انسان صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے، جیسے نماز چھوڑنا اور شراب پینا وغیرہ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the sixth verse (110), we can once again see the wise way of the Qur&an at work when, in order to save sinners from total disappoint¬ment, it was said that a sin was a sin, big or small. When a sinner repents and seeks Allah&s forgiveness, he finds Him forgiving, merciful. As obvious, there is an element of persuasion for those who have committed sin suggesting that they still had the time and the hope to just desist and repent sincerely; nothing is lost, Allah will forgive everything.

چھٹی آیت (یعنی نمبر ١١٠) میں قرآن کریم کے عام اسلوب حکیمانہ کے مطابق مجرموں گنہگاروں کو ناامیدی سے بچانے کے لئے فرمایا گیا کہ چھوٹا گناہ ہو یا بڑا، جب گنہگار اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو غفور و رحیم پاتا ہے اس میں ان لوگوں کو جن سے یہ گناہ سر زد ہوا تھا اس کی ترغیب ہے کہ اب بھی باز آجائیں اور دل سے توبہ کرلیں تو کچھ نہیں بگڑا، اللہ تعالیٰ سب معاف فرمائیں گے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللہَ يَجِدِ اللہَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۝ ١١٠ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ساء اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑیں ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٠) اور جو چوری کرے اور جھوٹی قسم کھا کر بہتان باندھ کر اپنے آپ کو نقصان پہنچائے، پھر گناہوں سے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمائے گا،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٠ (وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ) اس سلسلے میں سیدھی روش یہی ہے کہ غلطی یا خطا ہوگئی ہے تو اس کا اعتراف کرلو ‘ اس جرم کی جو دنیوی سزا ہے وہ بھگت لو اور اللہ سے استغفار کرو۔ اس طرح آخرت کی سزا سے چھٹکارا مل جائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(110 ۔ 113) ۔ یہ آیتیں بھی طعمہ کے قصے سے متعلق ہیں ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے طعمہ کو چوری کے گناہ سے اور ایک شخص بری پر جو اس نے چوری کا بہتان لگایا تھا۔ اس طے اور طعمہ کے قبیلے کے لوگوں کو جھوٹی گواہی کے گناہ سے توبہ استغفار کرنے کی رغبت دلائی ہے اور فرمایا ہے کہ کبیرہ، صغیرہ جس طرح کے گناہوں سے جو کوئی توبہ کرے گا اللہ ایسا غفور رحیم ہے کہ وہ فورًا ہر ایک گناہ گار کی خالص نیت کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور اس توبہ کرنے والے شخص کے سب گناہ معاف کردیتا ہے ابو سعید خدری (رض) کی حدیث اوپر گزرچکی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان جب مردود ٹھہرا جا کر آسمان بر سے نکالا جانے لگا تو اس نے قسم کھا کر اللہ تعالیٰ کے روبرو اپنا یہ پکار ارادہ ظاہر کیا کہ انسان کے جسم میں جب تک جان رہے گی وہ ملعون انسان کے بہکانے اور اس کی عقبیٰ کے خراب کرنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی قسم کھا کر اس ملعون کے اس ارادہ کا یہ جواب دیا کہ ہر طرح کے گناہ کے بعد انسان جب تک توبہ استغفار نہ کرے لگا تو میں بھی اس کی توبہ قبول کرنے اور اس کے گناہوں کے معاف کردینے میں کسی طرح کا دریغ نہ کروں گا ١۔ یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی پوری تفسیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے گنہگاروں کی توبہ قبول کرنے کا ذکر فرمایا ہے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو قرآن کی نعمت کی قدر جتائی اور فرمایا کہ طعمہ کی قوم کے لوگوں نے تو جھوٹی گواہی دے کر غلط فیصلہ کرانے کی کوشش کی تھی مگر اے رسول اللہ کے یہ اللہ کا تم پر بڑا افضل اور اس کی بڑی رحمت ہے اس معاملہ میں اور بدر کے قیدیوں کے فدیہ کے معاملہ میں جہاں ایسا غلطی کا موقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فورا بذریعہ وحی کے اس غلطی کو رفع کر کے معاملہ کی صحیح صورت تم کو بتلا دیا ہے۔ اس طرح کی آیتوں سے ان علماء کے قول کی تاید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول بعض فیصلے اپنے اجتہاد سے بھی کرتے تھے اور اس اجتہاد میں اگر کچھ خطا واقع ہوجاتی تھی تو فورا اس کی اصلاح بذریعہ وحی کے ہوجا یا کرتی تھی بر خلاف امت کے مجتہدوں کے اجتہاد کے کہ اس کی حالت ایسی یقینی نہیں ہے۔ اسی واسطے مجتہدین امت نے احتیاطاً اپنے بعض قولوں سے رجوع اختیار کیا ہے اور بعض مسئلوں میں قول قدیم اور قول جدید اپنے یہ دو قول قرار دئیے ہیں تاکہ ایک قول کی اصلاح دوسرے قول سے ہوجائے۔ اپنے رسول کی تسکین کے لئے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ اے رسول اللہ کے تم اگر غلط رو داد پر فیصلہ کردیتے تو اس کا وبال ان ہی لوگوں پر ہوتا جنہوں نے وہ غلط روداد گھڑی تھی تمہارے اوپر اس کا کچھ وبال نہیں تھا کیونکہ تمہارا فیصلہ تو ظاہری روداد پر ہوتا لیکن یہ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اس نے یہ نوبت نہیں آنے دی اور جو بات تم کو معلوم نہیں تھی وہ عین وقت پر بذریعہ وحی کے تم کو جتلا دی۔ اوپر گذرچکا ہے کہ قرآن کے ساتھ جہاں حکمت کا لفظ آتا ہے تو اس کے معنی حدیث کے ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اس ّآیت میں بنی بیرق سے توبہ کے لیے کہا جا رہا ہے۔ آیت میں ہر قسم کے گناہوں کی پاداش سے محفوظ رہنے کا راستہ بتایا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار السو وہ گنا ہے جن سے انسان اپنے علاوہ دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ جسے جھوٹی شہادت اور بےگناہ کو متہم کرنا۔ اور او یظلم نفسہ سے ان گناہوں کی طرف اشارہ ہے جن سے انسان صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے جیسے ترک صلوٰۃ اور شراب نوشی وغیرہ۔ ضحاک فرماتے کہ حضرت حمزہ (رض) کا قاتل وحشی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حا ضر ہوا اور عرض کی کہ مجھے اپنے فعل پر سخت ندامت ہے کیا میر توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حدیث میں ہے کہ کسی شخص سے گناہ سرزد ہوجائے اور وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے ،

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ١١٠ تا ١١٣۔ یہ تین آیات وہ قواعد کلیہ وضع کرتی ہیں جن کے مطابق اللہ اپنے بندوں کے ساتھ سلوک و انصاف کرے گا ۔ اور لوگ بھی اگر چاہیں تو وہ اس کے مطابق سلوک کرکے اچھا معاشرہ تعمیر کرسکتے ہیں اور انہی قواعد کے مطابق وہ اللہ کے ساتھ معاملہ کر کے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ۔ پہلی آیت میں معافی کا دروازہ چوپٹ کھلا رکھا گیا ۔ اگر لوگ توبہ کرلیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کی معافی کا دروازہ کھلا پائیں گے ۔ ہر گناہ گار تائب کو معافی کی امید دلائی گئی ہے ۔ (آیت) ” ومن یعمل سوءا اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما “۔ (٤ : ١١٠) (اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا) اللہ تعالیٰ موجود ہے اور اس کی مغفرت اور رحمت موجود ہے بشرطیکہ کوئی معافی مانگنے والا ہو ‘ کوئی رحمت کا طلب گار ہو جو باز آرہا ہو۔ جو شخص برائی کرتا ہے ‘ کبھی غیر پر ظلم کرتا ہے اور کبھی اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے (نفس پر ظلم اس وقت ہوتا ہے جب اس کی برائی دوسرے تک متعدی نہ ہو ‘ اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود ہو) بہرحال ظالموں کے لئے معافی کا دروازہ کھلا ہے ۔ اگر وہ استغفار کریں ۔ اگر وہ توبہ کرکے واپس آئیں تو وہ انہیں معاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر رحمت بھی کرتا ہے اس کا دروازہ کھلا ہے ‘ اس پر کوئی دربان نہیں ہے ‘ اور اس کا یہ اعلان ‘ اعلان عام ہے ۔ بےقید اور بےشرط ہے۔ جب بھی وہ توبہ کرکے لوٹ آئیں تو اللہ غفور ورحیم ہے ۔ دوسری آیت میں یہ اصول طے ہوا ہے کہ مسئولیت انفرادی ہے سزا میں اسلامی نظام زندگی کا یہ اساسی اصول ہے کہ ہر کوئی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے اور اس اصول سے ہر شخص کے دل میں خوف بھی پیدا ہوتا ہے اور اطمینان بھی پیدا ہوتا ہے ۔ خوف اس لئے کہ وہ اپنے اعمال اور اپنے کاموں کو درست کرے گا اور اطمینان اس لئے ہوگا کہ دوسرے کے معاملات اور بدکاریوں کا وہ ذمہ دار نہ ہوگا ۔ (آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “۔ (٤ : ١١٢) (مگر جو برائی کمائے تو اس کی یہ کمائی اسی کے لئے وبال ہوگی ‘ اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم ودانا ہے) اس اصول کے مطابق جرائم میں اصول وراثت نہیں چلتا ۔ جس طرح اہل کنیسہ موروثی جرم کی بات کرتے ہیں ۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ کسی جرم کی سزا کوئی اور بھگتے گا یا کفارہ کوئی اور دے گا ۔ اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ۔ اس تصور کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کے بارے میں محتاط ہوگا ۔ اور وہ اس بات سے مطمئن ہوگا کہ دوسروں کے جرائم میں اسے نہ پکڑا جائے گا ۔ یہ ایک عجیب متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن تصور حیات ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں سے یہ ایک اہم عنصر ہے (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی) اس تصور پر فطرت مطمئن ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا بےقید عدل نافذ ہوتا ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس اصول جرم وسزا کو دنیا میں اپنائے۔ تیسری آیت اس بارے میں بات کرتی ہے کہ خود جرم کرکے دوسرے انسان پر تھوپنا بہت ہی بڑا جرم ہے اور قصہ زیر بحث میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ (آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “ (٤ : ١١٢) (پھر جس نے کوئی خطا یا گناہ کرکے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا) ۔ بہتان کے معنی یہ ہیں کہ ایک پاک دامن شخص پر الزام تھوپ دیا جائے اور گناہ وہ ہے جس کا اس نے ارتکاب کرنے کے بعد اسے بری الذمہ شخص کے سرتھوپ دیا۔ گویا اس شخص نے ان دونوں کو اپنے سر پر اٹھالیا ہے ۔ گویا کہ ایک بوجھ ہے جسے یہ شخص اٹھا رہا ہے اور یہ قرآن کریم کا انداز کلام ہے کہ وہ حقائق اور مفاہیم کو مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن کا معجزانہ انداز بیان ہے ۔ (دیکھئے التصویر الغنی فی القرآن) اسلام ان تین اصولوں کے مطابق اپنا نظام عدل استوار کرتا ہے اور انہی کے مطابق مجرمین کو سزا دیتا ہے ۔ وہ کسی بھی مجرم کو معاف نہیں کرتا اگر اس جرم کی زد میں کوئی غیر شخص آئے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام مغفرت اور توبہ کا دروازہ بھی کھلا چھوڑتا ہے ۔ اور یہ طے کرتا ہے کہ طلب مغفرت کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کے لئے ہر وقت یہ دروازہ کھلا رکھا جائے ۔ جب بھی وہ چاہئیں اسے کھٹکھٹائیں بلکہ اگر وہ اللہ کی درگاہ میں بلا اجازت ہی داخل ہوجائیں اور پناہ لے لیں تو بھی مغفرت اور رحمت ان کو ڈھانپ لے گی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر احسان مندی کا اظہار فرماتے ہیں کہ اگر اللہ نہ بچاتا تو آپ سازشیوں کی سازش کا شکار ہوتے اور کوئی غلط فیصلہ کردیتے لیکن اللہ نے وہ سازش طشت ازبام کردی ‘ جسے وہ لوگوں سے چھپانا چاہتے تھے ۔ اسے وہ اللہ سے تو نہ چھپا سکتے تھے اس لئے کہ روات کے وقت بھی جب وہ ناپسندیدہ باتیں کرتے تھے اللہ ان کے ساتھ تھا ۔ اس کے بعد اللہ بطور احسان یاد دہانی کراتے ہیں کہ اللہ نے آپ پر احسان کیا کہ اس نے آپ پر حکمت اتاری اور وہ تعلیم دی جو آپ کے علم میں نہ تھی اور پھر یہ احسان پوری انسانیت پر تھا اور اس احسان کو آپ کی ذات مکرم میں مجسم کردیا جبکہ آپ کی ذات باری تعالیٰ سے ہر وقت قربت رکھتی تھی ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) (جو شخص کوئی گناہ کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت چاہے تو اللہ تعالیٰ کو غفور رحیم پائے گا) جو بھی کوئی گناہ سرزد ہوجائے توبہ استغفار کرے اور اسی توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ جس کا کوئی مال لیا ہے وہ واپس کرے وہ چرانے والا شخص جو چوری ظاہر ہونے کے بعد مدنیہ منورہ سے فرار ہوگیا اور دین اسلام کو بھی چھوڑ دیا اسے اور اس طرح کے تمام لوگوں کو تنبیہ ہے کہ گناہ ہوجانے پر اللہ سے دور نہ ہوتے چلے جائیں بلکہ قریب آئیں اور توبہ استغفار میں مشغول ہوں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

80 سُوْ ء سے مراد چوری اور ظلم، نفس سے مراد جھوٹی شہادت ہے یعنی جو شخص چوری اور جھوٹی گواہی جیسا گناہ کر کے بھی اس سے سچی توبہ کرلے اللہ تعالیٰ اس کا گناہ معاف کر کے اسے اپنی رحمت کا مورد بنا لے گا۔ وَمَنْ یَّکْسِبْ خَطِیْئَۃً اَوْ اِثْماً یہ بھی قوم طعمہ کو زجر ہے کیونکہ انہوں نے ایک بےگناہ یہودی پر تہمت لگائی اور طعمہ کو بری کرنے کے لیے جھوٹ قسمیں کھائی اور جھوٹی گواہیاں دیں۔ خَطِیْئَۃً سے مراد چوری اور اثم سے مراد جھوٹی قسم ہے۔ قیل ان الخطیئۃ ھی سرقۃ الدرع والاثم ھو یمینہ الکاذبۃ (خازن ج 1 ص 496، بحر ج 3 ص 346) ۔ وَلَوْ لَا فَضْلُ اللہِ عَلَیْکَ الخ۔ لَوْ کا جواب محذوف ہے یعنی لَاَضَلُّوْک اور لَھَمَّتْ سے استیناف ہے جو ماقبل کے لیے بمنزلہ علت ہے اور ان کافروں کے برے مقصد اور ارادے کو ظاہر کرنے کیلئے لایا گیا ہے یعنی اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو وہ آپ کو صحیح فیصلے سے بھٹکا دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال سے مطلع کر کے آپ کو ان کے دھوکے سے بچالیا وہ تو اپنی طرف سے آپ کو غلط راہ پر ڈالنے کا تہیہ کرچکے تھے۔ وجوز ابو البقاء ان یکون الجواب محذوفا والتقدیر ولو لا فض (رح) اللہ عَلَیْکَ وَرَحْمَتُہٗ لا ضلوک ثم استانف بقولہ سبحانہ (لھمت) ای لقد ھمت بذالک (روح ج 5 ص 143) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 جو شخص بدی اور برائی کرے یا صرف اپنی ہی جان کو نقصان پہنچائے اور فقط اپنے ہی پر ظلم کرے پھر یہ شخص شرعی طریقہ پر اللہ تعالیٰکی جناب میں توبہ کرے اور معافی چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بڑا معاف کرنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا پائے گا۔ (تیسیر) سوء سے مراد وہ گناہ ہیں جو متعدی ہوں اور جن سے دوسروں کو بھی نقصان پہنچتا ہو۔ یظلم نفسہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو غیر متعدی ہوں اور سا میں صرف حقوق اللہ کا معاملہ ہو حقوق العباد کا دخل نہ ہو شرعی طریقہ کا مطلب یہ ہے کہ متعدی گناہ میں توبہ کے ساتھ صاحب حق کا حق بھی ادا کرے یا اس سے معاف کرائے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں گناہ فرمایا کبیرہ کو اور اپنا برا فرمایا صغیرہ کو یہ ان لوگوں کو حکم ہے کہ توبہ کریں تو قبول ہے ۔ (موضح القرآن) بعض حضرات نے ظلم سے شرک مراد لیا ہے اور سوء سے وہ گناہ مراد لئے ہیں جو شرک کے علاوہ ہوں بعض نے صغیرہ کبیرہ سے تفسیر کیا جیسے حضرت شاہ صاحب نے فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں جس نے سورة نساء کی یہ دو آیتیں پڑھیں ایک تو یہی من یعمل سوائور دوسری وہ آیت جو اوپر گذر چکی ولوانھم اذا ظلموا اور ان دونوں آیتوں کو پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس آیت کو سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت کہا ہے حضرت ابوبکر صدیق نے مرفوعاً روایت کی ہے کہ کسی مسلمان سے کوئی گناہ ہوجائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعتیں پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا گناہ بخش دیتا ہے پھر آپ نے دو آیتیں پڑھیں۔ ایک تو ومن یعمل سوء اور ایک والذین اذا فعلوا فآخشۃ ابن مرادیہ نے حضرت علی کے واسطے سے اسی روایت کے قریب قریب ایک روایت نقل کی ہے اس میں یوں ہے کہ حضرت علی فرماتے ہیں میں نے ابوبکر سے سنا ہے۔ بہرحال ! اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور اپنے عفو و کرم کا اعلان فرمایا ہے اور یہ آیت مسلمانوں کے لئے بہت بڑی بشارت ہے اور اس امر کی طرفاشارہ ہے کہ اس چوری کے واقعہ میں جن لوگوں سے گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں استغفار کریں اور ہر گناہ گار کو اس کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ گناہ ایسی چیز ہے جو اس کا مرتکب ہوتا ہے تو اسی کو اس کی سزا ملتی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)