Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 121

سورة النساء

اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ۫ وَ لَا یَجِدُوۡنَ عَنۡہَا مَحِیۡصًا ﴿۱۲۱﴾

The refuge of those will be Hell, and they will not find from it an escape.

یہ وہ لوگ ہیں جن کی جگہ جہنم ہے جہاں سے انہیں چھٹکارہ نہ ملے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أُوْلَـيِكَ ... of such (people), refers to those who like and prefer what Shaytan is promising and assuring them of. ... مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ... The dwelling of such (people) is Hell, as their destination and abode on the Day of Resurrection, ... وَلاَ يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًا and they will find no way of escape from it. meaning, they will not be able to avoid, avert, evade or elude the Hellfire. The Reward of Righteous Believers Allah then mentions the condition of the content righteous believers and the perfect honor they will earn in the end. Allah said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَہَنَّمُ۝ ٠ۡوَلَا يَجِدُوْنَ عَنْھَا مَحِيْصًا۝ ١٢١ أوى المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ( ا و ی ) الماویٰ ۔ ( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور اویٰ الیٰ کذا ۔ کے معنی ہیں کسی کے ساتھ مل جانا اور منضم ہوجانا اور آواہ ( افعال ) ایواء کے معنی ہیں کسی کو جگہ دینا قرآن میں ہے { إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ } ( سورة الكهف 10) جب وہ اس غار میں جار ہے { قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ } ( سورة هود 43) اس نے کہا کہ میں ( ابھی ) پہاڑ سے جا لگوں گا ۔ جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ محص أصل المَحْصِ : تخلیص الشیء مما فيه من عيب کالفحص، لکن الفحص يقال في إبراز شيء من أثناء ما يختلط به، وهو منفصل عنه، والمَحْصُ يقال في إبرازه عمّا هو متّصل به، يقال : مَحَصْتُ الذّهب ومَحَّصْتُهُ : إذا أزلت عنه ما يشوبه من خبث . قال تعالی: وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا[ آل عمران/ 141] ، وَلِيُمَحِّصَ ما فِي قُلُوبِكُمْ [ آل عمران/ 154] ، فَالتَّمْحِيصُ هاهنا کالتّزكية والتّطهير ونحو ذلک من الألفاظ . ويقال في الدّعاء : ( اللهمّ مَحِّصْ عنّا ذنوبنا) «5» أي : أزل ما علق بنا من الذّنوب . ومَحَصَ الثّوبُ «6» : إذا ذهب زِئبِرُهُ «7» ، ومَحَصَ الحبل يَمْحَصُ : أخلق حتی يذهب عنه وبره، ومَحَصَ الصّبيُّ : إذا عدا . ( م ح ص ) المحص کے اصل معنی کسی چیز کو کھوٹ اور عیب سے پاک کرنے کے ہیں یہ فحص کے ہم معنی ہے مگر فحص کا لفظ ایک چیز کو دوسری ایسی چیزوں سے الگ کرنے پر بولا جاتا ہے جو اس میں مل جائیں لیکن درحقیقت اس سے منفصل ہوں مگر محص کا لفظ ان ملی ہوئی چیزوں کو کسی چیز سے الگ کرنے کے لئے آتا ہے جو اس سے متصل اور گھل مل گئی ہوں ۔۔۔۔۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ محصت الذھب ومخصتہ سونے کو آگ میں گلا کر اس کے کھوٹ کو الگ کردیا چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا[ آل عمران/ 141] اور یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو خالص مومن بنادے وَلِيُمَحِّصَ ما فِي قُلُوبِكُمْ [ آل عمران/ 154] اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کردے ۔ میں دلوں کے پاک کرنے پر تمحیص کا استعمال ایسے ہی ہے جیسا کہ تزکیۃ اور اس قسم کے دوسرے الفاظ استعمال ہوتے ہیں چناچہ دعا کرتے وقت کہا جاتا ہے ۔ اللھم محص عنا ذنوبنا اے اللہ ہمارے گناہوں کو جو ہمارے ساتھ لگے ہوئے ہیں دور کر دے ۔ محص الثوب کپڑے کا رواں استعمال سے گھس گیا اور اس کی تاذگی چلی گئی ۔ محص الحبل یمحص رسی پرانی ہوگئی ۔ اور اس کا روآں صاف ہوگیا ۔ محص النبی بچہ ( طاقت ور ہوکر ) دوڑ نے لگا ۔ ( م ح ق ) المحق کے معنی گھٹنے اور کم ہونے کے ہیں اور اسی سے المحاق قمری مہینہ کی ان آخری راتوں کو کہتے ہیں جن میں چاند نمودار نہیں ہوتا ۔ انمحق وامتحق کے معنی کم ہونا اور مٹ جانا ہیں اور محقہ کے معنی کسی چیز کو کم کرنے اور اس سے برکت کو ختم کردینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ؛ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] خدا سود کرنا بود ( یعنی بےبرکت کرتا ) اور خیرات ( کی برکت ) کو بڑھاتا ہے ۔ وَيَمْحَقَ الْكافِرِينَ [ آل عمران/ 141] اور کافروں کو نابود کردے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢١) ان کفار کا ٹھکانا دوزخ ہے کہ جس سے انھیں نجات نہیں ملے گی ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢١ (اُولٰٓءِکَ مَاْوٰٹہُمْ جَہَنَّمُز وَلاَ یَجِدُوْنَ عَنْہَا مَحِیْصًا ) ۔ وہاں سے بھاگنے کا انہیں کوئی راستہ نہیں ملے گا۔ دوسری طرف اہل ایمان کی شان کیا ہوگی ‘ اگلی آیت میں اس کی تفصیل ہے۔ دو گروہوں یا دو پہلوؤں کے درمیان فوری تقابل (simultaneous contrast) کا یہ انداز قرآن میں ہمیں جگہ جگہ نظر آتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:121) محیصا۔ جائے پناہ۔ بچ نکلنے کی جگہ۔ حاص یحیص (اجوف یائی) باب ضرب بچنا ۔ الگ کرنا۔ من حاص عن الشر سلم۔ جو برائی اور شر سے الگ رہا وہ محفوظ رہا۔ محیص اسم ظرف مکان۔ بھاگ کر پناہ لینے کی جگہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ١٢١ تا ١٢٢۔ اور وہ جہنم جس سے اولیاء الشیطان کو بھی چھٹکارا نہ ہوگا ۔ دوسری جانب جنت ہے جس میں خدا دوست ہمیشہ رہیں گے (۔۔۔۔ ومن اصدق من اللہ قیلا (٤ : ١٢٢) (اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہوگی) اللہ کی بات مطلقا سچی ہوتی ہے جس کے مقابلے میں شیطان کی بات فریب اور جھوٹ ہوتی ہے اور جو لوگ شیطان کے جھوٹے وعدوں میں آجاتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے سچے وعدے پر یقین کرتے ہیں ان دونوں کے موقف میں بہت ہی بڑا فرق ہے ۔ اس کے بعد قرآن کریم عمل اور جزائے عمل کے بارے میں اللہ کے عظیم اور ناقابل تغیر اصول کو بیان کرتا ہے کہ ثواب و عقاب کا دارومدار محض خواہشات نفس اور تمناؤں پر نہیں ہوتا ۔ ثواب و عقاب ایک مستقل سنت اور دائمی اصول پر مبنی ہوتا ہے اور وہ ایک نہایت ہی مثبت قانون ہے ۔ اس قانون کا اطلاق تمام امتوں میں رہا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کا نہ نسب ملتا ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ اللہ کی رشتہ داری ہے اور دنیا میں کوئی نہیں ہے کہ اس کے لئے اس اصول میں کوئی نرمی کی جائے یا اس کیوجہ سے سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی یا تخلف ہوگا ۔ یا اس کے مفاد میں قانون بدل جائے گا ۔ جو برا کرے گا وہ جزائے بد سے دو چار ہوگا اور جو اچھائی کرے گا وہ جزائے خیر پائے گا ‘ غرض جیسا کرو گے ویسا بھرو گے اس میں نہ دوستی ہے اور نہ لحاظ ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

85 یہ مشرکین اور شیطان کی اطاعت کرنے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے اور وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا لصّٰلِحٰتِ سے توحید کو ماننے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ لَیْسَ بِاَ مَانِیَّکُمْ وَ لَا اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِ الخ یہ مومنین اور اہل کتاب کو زجر ہے کہ تمہاری اور اہل کتاب کی خواہشات اور آرزؤوں کے احکام کی تعمیل پر ہے اس لیے باہمی تفاخر سے کوئی فائدہ نہیں۔ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْءاً تخویف اخروی اور وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ سے بشارت اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi