Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 123

سورة النساء

لَیۡسَ بِاَمَانِیِّکُمۡ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ ؕ مَنۡ یَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا یُّجۡزَ بِہٖ ۙ وَ لَا یَجِدۡ لَہٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۱۲۳﴾

Paradise is not [obtained] by your wishful thinking nor by that of the People of the Scripture. Whoever does a wrong will be recompensed for it, and he will not find besides Allah a protector or a helper.

حقیقت حال نہ تو تمہاری آرزو کے مطابق ہے اور نہ اہل کتاب کی امیدوں پر موقوف ہے ، جو برا کرے گا اس کی سزا پائے گا اور کسی کو نہ پائے گا جو اس کی حمایت و مدد ، اللہ کے پاس کر سکے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Success is Only Achieved by Performing Righteous Deeds, not Wishful Thinking Allah says; لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ ... It will not be in accordance with your desires, nor those of the People of the Scripture, whosoever works evil, will have the recompense thereof, Qatadah said, "We were told that the Muslims and the People of the Scriptures mentioned their own virtues to each other. People of the Scriptures said, `Our Prophet came before your Prophet and our Book before your Book. Therefore, we should have more right to Allah than you have.' Muslims said, `Rather, we have more right to Allah than you, our Prophet is the Final Prophet and our Book supersedes all the Books before it.' Allah sent down, لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ It will not be in accordance with your desires (Muslims), nor those of the People of the Scripture (Jews and Christians), whosoever works evil, will have the recompense thereof, وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لله وَهُوَ مُحْسِنٌ And who can be better in religion than one who submits his face (himself) to Allah; and he is a Muhsin. Allah then supported the argument of the Muslims against their opponents of the other religions." Similar statements were attributed to As-Suddi, Masruq, Ad-Dahhak and Abu Salih. Al-Awfi reported that Ibn Abbas commented on this Ayah (4:123) "The followers of various religions disputed, the people of the Tawrah said, `Our Book is the best Book and our Prophet (Musa) is the best Prophet.' The people of the Injil said similarly, the people of Islam said, `There is no religion except Islam, our Book has abrogated every other Book, our Prophet is the Final Prophet, and you were commanded to believe in your Books and adhere to our Book.' Allah judged between them, saying, لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ It will not be in accordance with your desires, nor those of the People of the Scripture, whosoever works evil, will have the recompense thereof." This Ayah indicates that the religion is not accepted on account of wishful thinking or mere hopes. Rather, the accepted religion relies on what resides in the heart and which is made truthful through actions. It is not true that when one utters a claim to something, he attains it merely on account of his claim. It is not true that every person who claims to be on the truth is considered as such, merely on account of his words, until his claim gains merit with proof from Allah. Hence Allah's statement, لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ .... It will not be in accordance with your desires, nor those of the People of the Scripture, whosoever works evil, will have the recompense thereof, meaning safety will not be acquired by you or them just by wishful thinking. Rather, the key is in obeying Allah and following what He has legislated through the words of His honorable Messengers. This is why Allah said afterwards, مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ (whosoever works evil, will have the recompense thereof). Similarly, Allah said, فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَن يَعْـمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ So whosoever does good equal to the weight of an atom, shall see it. And whosoever does evil equal to the weight of an atom, shall see it. (99:7-8) and it was reported that when these Ayat were revealed, they became hard on many Companions. Ibn Abi Hatim recorded that Aishah said, "I said, `O Messenger of Allah! I know the hardest Ayah in the Qur'an.' He said, `What is it, O Aishah!' I said, مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ (whoever works evil, will have the recompense thereof). He said, هُوَ مَا يُصِيبُ الْعَبْدَالْمُوْمِنَ حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا That is what strikes the believing servant, even the problems that bother him." Ibn Jarir and Abu Dawud also recorded this Hadith. Sa`id bin Mansur recorded that Abu Hurayrah said, "When the Ayah, مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ (whosoever works evil, will have the recompense thereof) was revealed, it was hard on Muslims. The Messenger of Allah said to them, سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ فِي كُلِّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةً حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا وَالنَّـكْبَةِ يُنْكَبُهَا Be steadfast and seek closeness. Everything that afflicts the Muslim, even the thorn that pierces his skin and the hardship he suffers, will be an expiation for him." This is the wording collected by Ahmad through Sufyan bin Uyaynah. Muslim and At-Tirmidhi also recorded it. Allah's statement, ... وَلاَ يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللّهِ وَلِيًّا وَلاَ نَصِيرًا and he will not find any protector or helper besides Allah, Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said; "Unless he repents and Allah forgives him." Ibn Abi Hatim recorded it. Allah then said,

مصائب گناہوں کا کفارہ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا کہ اہل کتاب اور مسلمان میں چرچہ ہونے لگا اہل کتاب تو یہ کہ کر اپنی فضلیت جتا رہے تھے کہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے کے ہیں اور ہماری کتاب بھی تمہاری کتاب سے پہلے کی ہے اور مسلمان کہہ رہے تھے کہ ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب تمام اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اس پر یہ آیتیں اتریں اور مسلمانوں کی سابقہ دین والوں پر فضلیت بیان ہوئی ، مجاہد سے مروی ہے کہ عرب نے کہا نہ تو ہم مرنے کے بعد جئیں گے نہ ہمیں عذاب ہو گا یہودیوں نے کہا صرف ہم ہی جنتی ہیں ، یہی قول نصرانیوں کا بھی تھا اور کہتے تھے آگ ہمیں صرف چند دن ستائے گی ، آیت کا مضمون یہ ہے کہ صرف اظہار کرنے اور دعویٰ کرنے سے صداقت و حقانیت ثابت نہیں ہوتی بلکہ ایماندار وہ ہے جس کا دل صاف ہو اور عمل شاہد ہوں اور اللہ تعالیٰ کی دلیل اس کے ہاتھوں میں ہو ، تمہاری خواہشیں اور زبانی دعوے کوئی وقعت نہیں رکھتے نہ اہل کتاب کی تمنائیں اور بلند باتیں ، نجات کا مدار ہیں بلکہ وقار و نجات اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی فرماں برداری اور رسولوں کی تابعداری میں ہے ، برائی کرنے والے کسی نسبت کی وجہ سے اس برائی کے خمیازے سے چھوٹ جائیں ناممکن ہے بلکہ رتی رتی بھلائی اور برائی قیامت کے دن اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھ لیں گے ، یہ آیت صحابہ پر بہت گراں گذری تھی اور حضرت صدیق نے کہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب نجات کیسے ہو گی؟ جبکہ ایک ایک عمل کا بدلہ ضروری ہے تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے بخشے ابو بکر یہ سزا وہی ہے جو کبھی تیری بیماری کی صورت میں ہوتی ہے کبھی تکلیف کی صورت میں کبھی صدمے اور غم و رنج کی صورت میں اور کبھی بلا و مصیبت کی شکل میں ( مسند احمد ) اور روایت میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر برائی کرنے والا دنیا میں بدلہ پالے گا ۔ ابن مردویہ میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے غلام سے فرمایا دیکھو جس جگہ حضرت عبداللہ بن زبیر کو سولی دی گئی ہے وہاں تم نہ چلنا ، غلام بھول گیا ، اب حضرت عبداللہ کی نظر ابن زبیر پر پڑی تو فرمانے لگے واللہ جہاں تک میری معلومات ہیں میری گواہی ہے کہ تو روزے دار اور نمازی اور رشتے ناتے جوڑے والا تھا مجھے اللہ سے امید ہے کہ جو لغزشیں تجھ سے ہوگئیں ان کا بدلہ دنیا میں ہی مکمل ہو اب تجھے اللہ کوئی عذاب نہیں دے گا پھر حضرت مجاہد کی طرف دیکھ کر فرمانے لگے میں نے حضرت ابو بکر سے سنا ہے وہ فرماتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا جو شخص برائی کرتا ہے اس کا بدلہ دنیا میں ہی پالیتا ہے ، دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمر نے حضرت ابن زبیر کو سولی پر دیکھ کر فرمایا اے ابو حبیب اللہ تجھ پر رحم کرے میں نے تیرے والد کی زبان سے یہ حدیث سنی ہے ، ابن مردویہ غم ناک ہوگئے انہیں یہ معلوم ہونے لگا کہ گویا ہر ہر عمل کا بدلہ ہی ملنا جب ٹھہرا تو نجات مشکل ہو جائے گی آپ نے فرمایا سنو صدیق تم اور تمہارے ساتھی یعنی مومن تو دنیا میں ہی بدلہ دے دئیے جاؤ گے اور ان مصیبتوں کے باعث تمہارے گناہ معاف ہو جائیں گے قیامت کے دن پاک صاف اٹھو گے ہاں اور لوگ کی برائیاں جمع ہوتی جاتی ہیں اور قیامت کے دن انہیں سزا دی جائے گی ، یہ حدیث ترمذی نے بھی روایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کاراوی موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہے اور دوسرا راوی مولی بن سباع مجہول ہے اور بھی بہت سے طریق سے اس روایت کا ماحصل مروی ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے ، حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت سب سے زیادہ ہم پر بھاری پڑتی ہے تو آپ نے فرمایا مومن کا یہ بدلہ وہی ہے جو مختلف قسم کی پریشانیوں اور تکلیفوں کی صورت میں اسے دنیا میں ہی مل جاتا ہے اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہاں تک کہ مومن اپنی نقدی جیب میں رکھ لے پھر ضرورت کے وقت تلاش کرے تھوڑی دیر نہ ملے پھر جیب میں ہاتھ ڈالنے سے نکل آئے تو اتنی دیر میں جو اسے صدمہ ہوا اس سے بھی اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور یہ بھی اس کی برائیوں کا بدلہ ہو جاتا ہے یونہی مصائب دنیا اسے کندن بنا دیتے ہیں کہ قیامت کا کوئی بوجھ اس پر نہیں رہتا جس طرح سونا بھٹی میں تپا کر نکال لیا جائے اس طرں دنیا میں پاک صاف ہو کر اللہ کے پاس جاتا ہے ، ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا مومن کو ہر چیز میں اجر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ موت کی سختی کا بھی ، مسند احمد میں ہے جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں اور انہیں دور کرنے والے بکثرت نیک اعمال ہوتے ہیں تو اللہ اس پر کوئی غم ڈال دیتا ہے جس سے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، سعید بن منصور لائے ہیں کہ جب صحابہ پر اس آیت کا مضمون گراں گذرا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ٹھیک ٹھاک رہو اور ملے جلے رہو مسلمان کی ہر تکلیف اس کے گناہ کا کفارہ ہے یہاں تک کہ کانٹے کا لگنا بھی اس سے کم تکلیف بھی روایت میں ہے کہ جب صحابہ رو رہے تھے اور رنج میں تھے اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا ، ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہماری ان بیماریوں میں ہمیں کیا ملتا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہیں اسے سن کر حضرت کعب بن عجزہ نے دعا مانگی کہ یا اللہ مرتے دم تک مجھ سے بخار جدا نہ ہو لیکن حج وعمرہ جہاد اور نماز با جماعت سے محروم نہ ہوں ان کی یہ دعا قبول ہوئی جب ان کے جسم پر ہاتھ لگایا جاتا تو بخار چڑھا رہتا ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( مسند ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ کہا گیا کہ کیا ہر برائی کا بدلہ دیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، اسی جیسا اور اسی جتنا لیکن ہر بھلائی کا بدلہ دس گنا کرکے دیا جائیگا پس اس پر افسوس ہے جس کی اکائیاں دہائیوں سے بڑھ جائیں ، ( ابن مردویہ ) حضرت حسن فرماتے ہیں اس سے مراد کافر ہیں جیسے اور آیت میں ہے ( وَهَلْ نُجٰزِيْٓ اِلَّا الْكَفُوْرَ ) 24 ۔ سبأ:17 ) ابن عباس اور سعید بن جبیر فرماتے ہیں یہاں برائی سے مراد شرک ہے ۔ یہ شخص اللہ کے سوا اپنا کوئی ولی اور مددگار نہ پائے گا ، ہاں یہ اور بات ہے کہ توبہ کر لے ، امام ابن جریر فرماتے ہیں ٹھیک بات یہی ہے کہ ہر برائی کو یہ آیت شامل ہے جیسے کہ احادیث گذر چکیں واللہ اعلم ۔ بدعملیوں کی سزا کا ذکر کرکے اب نیک اعمال کی جزا کا بیان فرما رہا ہے بدی کی سزا یا تو دنیا میں ہی ہو جاتی ہے اور بندے کے لئے یہی اچھا یا آخرت میں ہوتی ہے اللہ اس سے محفوظ رکھے ، ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دونوں جہان کی عافیت عطا فرمائے اور مہربانی اور درگذر کرے اور اپنی پکڑ اور ناراضگی سے بچالے ، اعمال صالحہ کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور اپنے احسان و کرم و رحم سے انہیں قبول کرتا ہے کسی مرد عورت کے کسی نیک عمل کو وہ ضائع نہیں کرتا ہاں یہ شرط ہے کہ وہ ایماندار ہو ، ان نیک لوگوں کو وہ اپنی جنت میں داخل کرے گا اور ان کی حسنات میں کوئی کمی نہیں آنے دے گا ، فتیل کہتے ہیں اس گٹھلی کے درمیان جو ہلکا سا چھلکا ہوتا ہے اس کو مگر یہ دونوں تو کھجور کے بیج میں ہوتے ہیں اور قطمیر کہتے ہیں اس بیج کے اوپر کے لفافے کو اور یہ تینوں لفظ اس موقعہ پر قرآن میں آئے ہیں ۔ پھر فرمایا اس سے اچھے دین والا کون ہے؟ جو نیک نیتی کے ساتھ اس کے فرمان کے مطابق اس کے احکام بجا لائے اور ہو بھی وہ محسن یعنی شریعت کا پابند دین حق اور ہدایت پر چلنے والا رسول کی حدیث پر عمل کرنے والا ہر نیک عمل کی قبولیت کے لئے یہ دونوں باتیں شرط ہیں یعنی خلوص اور وحی کے مطابق ہونا ، خلوص سے یہ مطلب کہ فقط اللہ کی رضامندی مطلوب ہو اور ٹھیک ہونا یہ ہے کہ شرعیت کی ماتحتی میں ہو ، پس ظاہر تو قرآن حدیث کے موافق ہونے سے ٹھیک ہو جاتا ہے اور باطن نیک نیتی سے سنور جاتا ہے ، اگر ان دو باتوں میں سے ایک بھی نہ ہو تو وہ عمل فاسد ہوتا ہے ، اخلاص نہ ہونے سے منافقت آجاتی ہے لوگوں کی رضا جوئی اور انہیں کھانا مقصود ہو جاتا ہے اور عمل قابل قبول نہیں رہتا سنت کے موافق نہ ہونے سے ضلالت وجہالت کا مجموعہ ہو جاتا ہے اور اس سے بھی عمل پایہ قبولیت سے گر جاتا ہے اور چونکہ مومن کا عمل ریاکاری اور شرعیت کے مخالفت سے بچا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس کا عمل سب سے اچھا عمل ہو جاتا ہے جو اللہ کو پسند آتا ہے اور اس کی جزا کا بلکہ اور گناہوں کی بخشش کا سبب بن جاتا ہے ۔ اعزاز خلیل کیوں اور کیسے ملا ؟ اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کرو یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے قدم بہ قدم چلنے والوں کی بھی قیامت تک ہوں ، جیسے اور آیت میں ہے ( آیت ان اولی الناس بابراھیم الخ ، ) یعنی ابراہیم علیہ السلام سے قریب تر وہ لوگ ہیں جو ان کے ہر حکم کی تعمیل کرتے رہے اور نبی ہوئے ۔ دوسری آیت میں فرمایا ( ثُمَّ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ) 16 ۔ النحل:123 ) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ابراہیم حنیف کی ملت کی پیروی کر جو مشرک نہ تھے ، حنیف کہتے ہیں قصداً شرک سے بیزار اور پوری طرح حق کی طرف متوجہ ہونے والا جسے کوئی روکنے والا روک نہ سکے اور کوئی ہٹانے والا ہٹا نہ سکے ۔ پھر حضرت خلیل اللہ کی اتباع کی تاکید اور ترغیب کے لئے ان کا وصف بیان کیا کہ وہ اللہ کے دوست ہیں ، یعنی بندہ ترقی کرکے جس اعلیٰ سے اعلیٰ درجے تک پہنچ سکتا ہے اس تک وہ پہنچ گئے خلت کے درجے سے کوئی بڑا درجہ نہیں محبت کا یہ اعلیٰ تر مقام ہے اور یہاں تک حضرت ابراہیم عروج کر گئے ہیں اس کی وجہ کی کامل اطاعت ہے جیسے فرمان ہے ( وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ ) 53 ۔ النجم:37 ) یعنی ابراہیم کو جو حکم ملا وہ اسے بخوشی بجالائے ، کبھی اللہ کی مرضی سے منہ نہ موڑا ، کبھی عبادت سے نہ اکتائے کوئی چیز انہیں عبادت الہیہ سے مانع نہ ہوئی اور آیت میں ہے ( وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ۭ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ ۭ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ ) 2 ۔ البقرۃ:124 ) جب جب جس جس طرح اللہ عزاسمہ نے ان کی آزمائش لی وہ پورے اترے جو جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہوں نے کر دکھایا ۔ فرمان ہے کہ ابراہیم مکمل یکسوئی سے توحید کے رنگ میں شرک سے بچتا ہوا ہمارا تابع فرمان بنا رہا ۔ حضرت معاذ نے یمن میں صبح کی نماز میں جب یہ آیت پڑھی تو ایک شخص نے کہا لقدقررت عین ام ابراہیم ابراہیم کی ماں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں ، بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلیل اللہ لقب کی یہ وجہ ہوئی کہ ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر آپ اپنے ایک دوست کے پاس مصر میں یا موصل میں گئے تاکہ وہاں سے کچھ اناج غلہ لے آئیں یہاں کچھ نہ ملا خالی ہاتھ لوٹے جب اپنی بستی کے قریب پہنچے تو خیال آیا آؤ اس ریت کے تودے میں سے اپنی بوریاں بھر کر لے چلو تاکہ گھر والوں کو قدرے تسکین ہو جائے چنانچہ بھر لیں اور جانوروں پر لاد کے لے چلے ، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ ریت سچ مچ آٹا بن گئی آپ تو گھر پہنچ کر لیٹ رہے تھکے ہارے تو تھے ہی آنکھ لگ گئی گھر والوں نے بوریاں کھولیں اور انہیں بہترین آٹے سے بھرا ہوا پایا آٹا گوندھا روٹیاں پکائیں جب یہ جاگے اور گھر میں سب کو خوش خوش پایا اور روٹیاں بھی تیار دیکھیں تو تعجب سے پوچھنے لگے آٹا کہاں سے آیا ؟ جو تم نے روٹیاں پکائیں انہوں نے کہا آپ ہی تو اپنے دوست کے ہاں سے لائے ہیں اب آپ سمجھ گئے اور فرمایا ہاں یہ میں اپنے دوست اللہ عزوجل سے لایا ہوں پس اللہ نے بھی آپ کو اپنا دوست بنا لیا اور خلیل اللہ نام رکھ دیا ، لیکن اس کی صحت اور اس واقعہ میں ذرا تامل ہے ، زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کی روایت ہو جسے ہم سچا نہیں کہہ سکتے گو جھٹلا بھی نہیں سکتے حقیقت یہ ہے کہ آپ کو یہ لقب اس لئے ملا کہ آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت حد درجہ کی تھی کامل اطاعت شعاری اور فرمانبرداری تھی اپنی عبادتوں سے اللہ تعالیٰ کو خوش کر لیا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے آخری خطبہ میں فرمایا تھا ، لوگو اگر میں زمین والوں میں سے کسی کو خلیل اور ولی دوست بنانے والا ہوتا تو ابو بکر بن ابو قحافہ کو بناتا بلکہ تمہارے ساتھی اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں ، ( بخاری مسلم ) اور روایت میں ہے اللہ اعلیٰ واکرم نے جس طرح ابراہیم کو خلیل بنا لیا تھا اسی طرح مجھے بھی اپنا خلیل کر لیا ہے ، ایک مرتبہ اصحاب رسول آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے آپس میں ذکر تذکرے کر رہے تھے ایک کہہ رہا تھا تعجب ہے کہ اللہ نے اپنی مخلوق میں سے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا دوسرے نے کہا اس سے بھی بڑھ کر مہربانی یہ کہ حضرت موسیٰ سے خود باتیں کیں اور انہیں کلیم بنایا ، ایک نے کہا اور عیسیٰ تو روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہے ، ایک نے کہا آدم صفی اللہ اور اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر تشریف لائے سلام کیا اور یہ باتیں سنیں تو فرمایا بیشک تمہارا قول صحیح ہے ، ابراہیم خلیل اللہ ہیں اور موسیٰ کلیم اللہ ہیں اور عیسیٰ روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہیں اور آدم صفی اللہ ہیں اور اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، مگر میں حقیقت بیان کرتا ہوں کچھ فخر کے طور پر نہیں کہتا کہ میں حبیب اللہ ہو ، میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے شفاعت قبول کیا جانے والا ہوں اور سب سے پہلے جنت کے دروازے پر دستک دینے والا ہوں اللہ میرے لئے جنت کو کھول دے گا اور مجھے اس میں داخل کرے گا اور میرے ساتھ مومن فقراء ہوں گے قیامت کے دن تمام اگلوں پچھلوں سے زیادہ اکرام و عزت والا ہوں یہ بطور فخر کے نہیں بلکہ بطور سچائی کو معلوم کرانے کیلئے میں تم سے کہہ رہا ہوں ، یہ حدیث اس سند سے تو غریب ہے لیکن اس کے بعض کے شاہد موجود ہیں ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کیا تم اس سے تعجب کرتے ہو کہ خلت صرف حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے تھا اور دیدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھم اجمعین ( مستدرک حاکم ) اسی طرح کی روایت حضرت انس بن مالک اور بہت سے صحابہ تابعین اور سلف وخلف سے مروی ہے ، ابن ابی حاتم میں ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عادت تھی کہ مہانوں کیساتھ کھائیں ۔ ایک دن آپ مہمان کی جستجو میں نکلے لیکن کوئی نہ ملا واپس آئے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہوا ہے پوچھااے اللہ کے بندے تجھے میرے گھر میں آنے کی اجازت کس نے دی؟ اس نے کہا اس مکان کے حقیقی مالک نے ، پوچھا تم کون ہو؟ کہا میں ملک الموت ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ میں اسے یہ بشارت سنا دوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنا خلیل بنا لیا ہے ، یہ سن کر حضرت نے کہا پھر تو مجھے ضرور بتائیے کہ وہ بزرگ کون ہیں؟ اللہ عزوجل کی قسم اگر وہ زمین کے کسی دور کے گوشے میں بھی ہوں گے میں ضرور جاکر ان سے ملاقات کروں گا پھر اپنی باقی زندگی ان کے قدموں میں ہی گزاروں گا یہ سن کر حضرت ملک الموت نے کہ وہ شخص خود آپ ہیں ۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا کیا سچ مچ میں ہی ہوں؟ فرشتے نے کہا ہاں آپ ہی ہیں ۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا کہ آپ مجھے یہ بھی بتائیں گے کہ کس بنا پر کن کاموں پر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ؟ فرشتے نے فرمایا اس لئے کہ تم ہر ایک کو دیتے رہتے ہو اور خود کسی سے کچھ طلب نہیں کرتے اور روایت میں ہے ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خلیل اللہ کے ممتاز اور مبارک لقب سے اللہ نے ملقب کیا تب سے تو ان کے دل میں اس قدر خوف رب اور ہیبت رب سما گئی کہ ان کے دل کا اچھلنا دور سے اس طرح سنا جاتا تھا جس طرح فضا میں پرند کے پرواز کی آواز ۔ صحیح حدیث میں جناب رسول آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی وارد ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کا خوف آپ پر غالب آجاتا تھا تو آپ کے رونے کی آواز جسے آپ ضبط کرتے جاتے تھے اس طرح دور و نزدیک والوں کو سنائی دیتی تھی جیسے کسی ہنڈیا کے کھولنے کی آواز ہو ۔ پھر فرمایا کہ زمین وآسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کی ملکیت میں اور اس کی غلامی میں اور اسی کا پیدا کیا ہوا ہے ۔ جس طرح جب جو تصرف ان میں وہ کرنا چاہتا ہے بغیر کسی روک ٹوک کے بلامشورہ غیرے اور بغیر کسی کی شراکت اور مدد کے کر گذرتا ہے کوئی نہیں جو اس کے ارادے سے اسے باز رکھ سکے کوئی نہیں جو اس کے حکم میں حائل ہو سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی کو بدل سکے وہ عظمتوں اور قدرتوں والا وہ عدل وحکمت والا وہ لطف و رحم والا واحد وصمد اللہ ہے ۔ اس کا علم ہر چھوٹی بڑی چیز کو گھیرے ہوئے ہے ، مخفی سے مخفی اور چھوٹی سے چھوٹی اور دور سے دور والی چیز بھی اس پر پوشیدہ نہیں ، ہماری نگاہوں سے جو پوشیدہ نہیں ، ہماری نگاہوں سے جو پوشیدہ ہیں اس کے علم میں سب ظاہر ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦٣] سستی نجات کا عقیدہ :۔ شیطان جن راہوں سے انسان کو گمراہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر && سستی نجات کا عقیدہ && ہے۔ تو اس میدان میں مسلمان یہود و نصاریٰ سے بھی دو ہاتھ آگے ہی ہوں گے جنہوں نے پیروں کی سفارش کے علاوہ اس دنیا میں بھی بہشتی دروازے بنا رکھے ہیں کہ جو شخص اس دروازے سے اس پیر کے عرس کے دن گزر گیا وہ بہشتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایسی خرافات کی تردید کرتے ہوئے نجات کی صحیح راہ بیان فرمائی اور وہ راہ اللہ تعالیٰ کا قانون جزا و سزا ہے۔ یہ قانون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مذکور ہے اور اس قانون کی قابل ذکر دفعات یہ ہیں : (١) قانون جزاء وسزاء کی دفعات :۔ ہر انسان کو صرف وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ہو، برے عمل کا بدلہ برا ہوگا اور اچھے عمل کا اچھا۔ (٢) جزا و سزا کے لحاظ سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں (٣) اگر کسی نے چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی کی ہوگی تو بھی اس کا اسے ضرور بدلہ ملے گا اللہ کسی کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی نظر انداز نہیں فرمائے گا۔ کسی کی ذرہ برابر بھی حق تلفی نہیں ہوگی۔ (٤) قیامت کے دن کوئی بھی شخص خواہ وہ اس کا پیر ہو یا کوئی قریبی رشتہ دار ہو دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (٥) یہ ناممکن ہے کہ زید کے گناہ کا بار بکر کے سر ڈال دیا جائے (٦) شفاعت کے مستحق صرف گناہگار موحدین ہوں گے وہ بھی ان شرائط کے ساتھ کہ اللہ جس کے حق میں خود سفارش چاہے گا اسی کے حق میں کی جاسکے گی اور جس شخص کو سفارش کرنے کی اجازت دے گا صرف وہی سفارش کرسکے گا۔ اس قانون کے علاوہ نجات کی جتنی راہیں انسان نے سوچ رکھی ہیں، وہ سب شیطان کی بتلائی ہوئی راہیں ہیں۔ ان کا کچھ فائدہ نہ ہوگا البتہ یہ نقصان ضرور ہوگا کہ انسان ایسی امیدوں کے سہارے دنیا میں گناہوں پر اور زیادہ دلیر ہوجاتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرما دی کہ قیامت کے دن لوگوں کے ایسے من گھڑت سہارے کسی کام نہ آسکیں گے جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ ۔۔ : اہل کتاب کا خیال تھا کہ ہم خاص بندے ہیں، جن گناہوں پر لوگ پکڑے جائیں گے ہم نہیں پکڑے جائیں گے، ہمارے پیغمبر ہماری حمایت کریں گے، ہم صرف چند دن جہنم میں رہیں گے۔ ( دیکھیے البقرۃ : ٨٠) جنت میں صرف ہم جائیں گے۔ ( البقرۃ : ١١١) آج کل کچھ نادان مسلمان بھی اپنے حق میں یہ خیال رکھتے ہیں، سو اللہ نے فرمایا کہ برا جو کرے گا، کوئی ہو، سزا پائے گا، کسی کی حمایت کام نہیں آئے گی۔ اللہ کا پکڑا وہی چھوڑے تو چھوٹے۔ دنیا کی مصیبت پر آدمی قیاس کرلے۔ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا يُّجْزَ بِهٖ ۙ ۔۔ : خوش فہمیاں اور خام خیالیاں سزا کو دفع نہیں کرسکتیں، سزا ضرور ملے گی، خواہ دنیا میں ملے یا آخرت میں، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کی وجہ سے، یا کسی نیک عمل کی وجہ سے، یا دنیا میں آنے والی مصیبتوں کی وجہ سے، معاف فرما دے۔ خلاصہ یہ کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہاں اسے کوئی اپنے زور سے چھڑوا لے گا : ( وَلَا يَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا ) ” اور وہ اللہ کے سوا اپنے لیے نہ کوئی دوست پائے گا اور نہ کوئی مدد گار “ ہاں، اللہ تعالیٰ خود ہی دنیا کی تکلیفوں کو اس کے لیے کفارہ بنا دے، یا اس کے توحید و سنت پر گامزن ہونے کی وجہ سے اس سے درگزر کر دے تو وہ مالک و مختار ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary A dialogue between Muslims and he People of the Book contending for glory against each other Verse 123 which begins with the words: لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ &This is not (a matter of) your fancies or the fancies of the People of the Book...&, is about a cross talk between Muslims and the People of the Book. It is followed by a wise and judicious ruling on the confronting claims aimed at bringing the contestants to the right path. Finally, given here is a standard measure of, determining as to who is superior and acceptable in the sight of Allah, a standard which, if observed carefully, would not let any human being fall into error or go astray. According to Sayyidna Qatadah (رض) ، once it so happened that some Muslims and the People of the Book started talking to each other in a vainglorious strain. The People of the Book said that they were superior to Muslims because their Prophet came before the Prophet of Islam and that their Book appeared before the Qur&an of Muslims did. The Muslims countered by saying that they were superior to all of them for their Prophet was the Last of the Prophets and their Book was the Last of the Books which has abrogated all previous Books. Thereupon, the verse cited above was revealed. It means that such self-glorification and self-congratulation does not behove anyone for nobody becomes superior to anybody simply on the basis of conjec¬tures, fancies and claims. Instead, everything depends on deeds. No matter how noble and superior one&s Prophet and Book may be, it is the deed of the adherent which will count. If he acts evil, he will receive the kind of punishment from which he can never hope to be rescued by anyone. When this verse was revealed, the noble Companions were acutely disturbed. Imam Muslim, al-Tirmidhi, al-Nasa&i and Ahmad رحمۃ اللہ علیہم have reported a narration from Sayyidna Abu Hurairah (رض) in which he said: When this verse was revealed مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ |"And whoever does evil shall be requited for it|", we were deeply grieved and concerned. We submitted to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : &This verse leaves nothing out - the minutest of evil found in our deeds shall be requited!& The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: &Do not worry. Keep doing what you can to the best of your ability for (the punishment mentioned here does not necessarily have to be that of Hell, instead) whatever hardship or pain which afflicts you makes amends for your sins and requites your evil deeds, to the limit that even a thorn which pinches someone&s foot becomes an expiation of some sin.& There is another narration which says that any sorrow or pain or sickness or anxiety which afflicts a Muslim in the life of this world becomes an expiation of his or her sins. According to a narration of Sayyidna Abu Bakr (رض) عنہ as reported in Jami& al-Tirmidhi, Tafsir Ibn Jarir and elsewhere, when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited this verse: مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ (And whoever does evil shall be requited for it) to him, he felt as if his back was broken. When the noble Messenger of Allah noticed the reaction on him, he asked: &What is the matter with you?& Thereupon, Sayyidna Abu Bakr (رض) submitted: &Ya. Rasulallah, there is hardly anyone among us who can claim to have done nothing bad in one&s life. Now, if every evil deed has to be requited, who can hope to go unscathed from among us?& He said: &0 Abu Bakr, you and your believing brothers need not worry about it because worldly hardships that you face shall make amends for your sins.& As it appears in another narration, he said: &0 Abu Bakr, do you not get sick? Are you never tested by distress and sorrow?& Sayyidna Abu Bakr (رض) said: &No doubt, all this does happen.& Then, he said: &There, this is the requital of whatever evil you may have done.& In a hadith appearing in Abu Dawud, Sayyidah ` A&ishah (رض) has been reported to have said: &A discomfort faced by a servant of Allah in fever, or a pain that afflicts him in any other way, even the pinch of a thorn, all become an expiation of his or her sins, so much so that even the insignificant effort made by someone to look for something in one of his pockets and finding it in another comes to be an expiation of his sins.& In short, this verse is a reminder to Muslims as well that they should not indulge in tall claims and wishful thinking. On the contrary, they should be concerned with what they actually do, for their success will not come solely on the basis of their formal adher¬ence to a given Prophet and a Book. Instead, their real prosperity lies in making certain that their belief in them is correct and that they are particular about doing good deeds as enjoined.

معارف و مسائل مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان ایک مفاخرانہ گفتگو : لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب الخ ان آیات میں پہلے ایک مکالمہ اور گفتگو کا ذکر ہے جو مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان ہوئی ہے اور پھر اس مکالمہ پر محاکمہ کیا گیا ہے، فریقین کو صحیح راہ ہدایت بتلائی گئی، آخر میں اللہ کے نزدیک مقبول اور افضل و اعلی ہونے کا ایک معیار بتلا دیا گیا جس کو سامنے رکھا جائے تو کبھی انسان غلطی اور گمراہی کا شکار نہ ہو۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان مفاخرت کی گفتگو ہونے لگی، اہل کتاب نے کہا کہ ہم تم سے افضل و اشرف ہیں، کیونکہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے، مسلمانوں نے کہا کہ ہم تم سب سے افضل ہیں، اس لئے کہ ہمارے نبی خاتم النبین ہیں اور ہماری کتاب آخری کتاب ہے جس نے پہلی سب کتابوں کو منسوخ کردیا ہے اس پر یہاں یہ آیت نازل ہوئی : لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب الخ یعنی یہ تفاخر اور تعلق کسی کے لئے زیبا نہیں اور محض خیالات اور تمناؤں اور دعوؤں سے کوئی کسی پر افضل نہیں ہوتا، بلکہ مدار اعمال پر ہے کسی کا نبی اور کتاب کتنی ہی افضل و اشرف ہو اگر وہ عمل غلط کرے گا تو اس کی ایسی سزا پائے گا کہ اس سے بچانے والا اس کو کوئی نہ ملے گا۔ یہ آیت جب نازل ہوئی تو صحابہ کرام پر بہت شاق ہوئی، امام مسلم، ترمذی، نسائی اور امام احمد رحمہم اللہ نے حضرت ابوہریرہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی من تعمل سوء ا یجزبہ ” یعنی جو کوئی کچھ برائی کرے گا اس کی سزا دی جائے گی۔ “ تو ہم سخت رنج و غم اور فکر میں پڑگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ اس آیت نے تو کچھ چھوڑا ہی نہیں، ذرا سی برائی بھی ہوگی تو اس کو جزا ملے گی، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ فکر میں نہ پڑو اپنی طاقت وقدرت کے مطابق عمل کرتے رہو، کیونکہ (جس سزا کا یہاں ذکر ہے ضروری نہیں کہ وہ جہنم ہی کی سزا ہو بلکہ) تمہیں دنیا میں جو بھی کوئی تکلیف یا مصیبت پیش آتی ہے یہ تمہارے گناہوں کا کفارہ اور برائی کی جزا ہوتی ہے، یہاں تک کہ اگر کسی کے پاؤں میں کانٹا لگ جائے تو وہ بھی کفارہ گناہ ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مسلمان کو دنیا میں جو بھی کوئی غم یا تکلیف یا بیماری یا فکر لاحق ہوتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے۔ جامع ترمذی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ نے حضرت صدیق اکبر (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب یہ آیت من یعمل سوء یجزبہ ان کو سنائی تو ان پر یہ اثر یہ ہوا جیسے کمر ٹوٹ گئی ہو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ اثر یکھ کر فرمایا کیا بات ہے ؟ تو صدیق اکبر نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کوئی برائی نہیں کی اور جب ہر برائی کی جزا ملنی ہے تو ہم میں سے کون بچے گا ؟ آپ نے فرمایا اے ابوبکر ! آپ اور آپ کے مومن بھائی کوئی فکر نہ کریں، کیونکہ دنیا کی تکالیف کے ذریعہ آپ لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ہوجائیگا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کیا آپ بیمار نہیں ہوتے ؟ کیا آپ کو کوئی مصیبت اور غم نہیں پہونچتا ؟ صدیق اکبر نے عرض کیا بیشک سب چیزیں پہنچتی ہیں آپ نے فرمایا بس یہی جزاء ہے تمہارے سیات کی۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ کی ایک حدیث میں ہے جس کو ابو داؤد وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ بندہ کو بخار یا تکلیف پہونچتی ہے یا کانٹا لگتا ہے تو اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ کوئی شخص اپنی کوئی چیز ایک جیب میں تلاش کرے مگر دوسری جیب میں ملے، اتنی مشقت بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت نے مسلمانوں کو بھی یہ ہدایت دی ہے کہ محض دعوؤں اور تمناؤں میں نہ لگیں، بلکہ عمل کی فکر کریں کیونکہ کامیابی صرف اس سے نہیں کہ تم فلاں نبی یا فلاں کتاب کے نام لینے والے ہو، بلکہ اصل فلاح اس میں ہے کہ اس پر صحیح ایمان اور اس کے مطابق اعمال صالح کے پابند رہو،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَآ اَمَانِيِّ اَھْلِ الْكِتٰبِ۝ ٠ۭ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا يُّجْزَ بِہٖ۝ ٠ۙ وَلَا يَجِدْ لَہٗ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۝ ١٢٣ تَّمَنِّي : تقدیر شيء في النّفس وتصویره فيها، وذلک قد يكون عن تخمین وظنّ ، ويكون عن رويّة وبناء علی أصل، لکن لمّا کان أكثره عن تخمین صار الکذب له أملك، فأكثر التّمنّي تصوّر ما لا حقیقة له . قال تعالی: أَمْ لِلْإِنْسانِ ما تَمَنَّى [ النجم/ 24] ، فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ [ البقرة/ 94] ، وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً [ الجمعة/ 7] والأُمْنِيَّةُ : الصّورة الحاصلة في النّفس من تمنّي الشیء، ولمّا کان الکذب تصوّر ما لا حقیقة له وإيراده باللفظ صار التّمنّي کالمبدإ للکذب، فصحّ أن يعبّر عن الکذب بالتّمنّي، وعلی ذلک ما روي عن عثمان رضي اللہ عنه :( ما تغنّيت ولا تَمَنَّيْتُ منذ أسلمت) «1» ، وقوله تعالی: وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتابَ إِلَّا أَمانِيَّ [ البقرة/ 78] قال مجاهد : معناه : إلّا کذبا «2» ، وقال غيره إلّا تلاوة مجرّدة عن المعرفة . من حيث إنّ التّلاوة بلا معرفة المعنی تجري عند صاحبها مجری أمنيّة تمنیتها علی التّخمین، وقوله : وَما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلا نَبِيٍّ إِلَّا إِذا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ [ الحج/ 52] أي : في تلاوته، فقد تقدم أنّ التّمنّي كما يكون عن تخمین وظنّ فقد يكون عن رويّة وبناء علی أصل، ولمّا کان النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم کثيرا ما کان يبادر إلى ما نزل به الرّوح الأمين علی قلبه حتی قيل له : لا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ [ طه/ 114] ، ولا تُحَرِّكْ بِهِ لِسانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [ القیامة/ 16] سمّى تلاوته علی ذلک تمنّيا، ونبّه أنّ للشیطان تسلّطا علی مثله في أمنيّته، وذلک من حيث بيّن أنّ «العجلة من الشّيطان» «3» . وَمَنَّيْتَني كذا : جعلت لي أُمْنِيَّةً بما شبّهت لي، قال تعالیٰ مخبرا عنه : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] . ۔ التمنی کے معنی دل میں کسی خیال کے باندھے اور اس کی تصویرکھنیچ لینے کے ہیں پھر کبھی یہ تقدیر محض ظن وتخمین پر مبنی بر حقیقت مگر عام طور پر تمنی کی بنا چونکہ ظن وتحمین پر ہی ہوتی ہے اس لئے ا س پر جھوٹ کا رنگ غالب ہوتا ہے ۔ کیونکہ اکثر طور پر تمنی کا لفظ دل میں غلط آرزو میں قائم کرلینے پر بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لِلْإِنْسانِ ما تَمَنَّى [ النجم/ 24] کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ۔ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ [ البقرة/ 94] تو موت کی آرزو تو کرو ۔ وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً [ الجمعة/ 7] اور یہ ہر گز نہیں کریں گے ۔ الامنیۃ کسی چیز کی تمنا سے جو صورت ذہن میں حاصل ہوتی ہے اسے امنیۃ کہا جاتا ہے ۔ اور کزب چونکہ کسی وغیرہ واقعی چیز کا تصور کر کے اسے لفظوں میں بیان کردینے کو کہتے ہیں تو گویا تمنی جھوت کا مبدء ہے مہذا جھوٹ کو تمنی سے تعبیر کر نا بھی صحیح ہے اسی معنی میں حضرت عثمان (رض) کا قول ہے ۔ ماتغنیت ولا منذ اسلمت کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں نہ راگ گایا ہے اور نہ جھوٹ بولا ہے اور امنیۃ کی جمع امانی آتی ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتابَ إِلَّا أَمانِيَّ [ البقرة/ 78] اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سوا ( خدا کی ) کتاب سے واقف نہیں ہیں ۔ مجاہد نے الا امانی کے معنی الا کذبا یعنی جھوٹ کئے ہیں اور دوسروں نے امانی سے بےسوچے سمجھے تلاوت کرنا مراد لیا ہے کیونکہ اس قسم کی تلاوت بھی اس منیۃ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی ہے جس کی بنا تخمینہ پر ہوتی ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلا نَبِيٍّ إِلَّا إِذا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ [ الحج/ 52] اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر اس کا یہ حال تھا کہ ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آروزو میں ( وسوسہ ) ڈال دیتا تھا ۔ میں امنیۃ کے معنی تلاوت کے ہیں اور پہلے بیان ہوچکا ہے کہ تمنی ظن وتخمین سے بھی ہوتی ہے ۔ اور مبنی بر حقیقت بھی ۔ اور چونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر روح الامین جو وحی لے کر اترتے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی تلاوت کے لئے مبا ورت کرتے تھے حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آیت لا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ [ طه/ 114] اور ولا تُحَرِّكْ بِهِ لِسانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [ القیامة/ 16] کے ذریعہ منع فرما دیا گیا ۔ الغرض اس وجہ سے آپ کی تلاوت کو تمنی سے موسوم کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ ایسی تلاوت میں شیطان کا دخل غالب ہوجاتا ہے اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی فرمایا ہے ان العا جلۃ من الشیطان کہ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے منیتی کذا کے معنی فریب وہی سے جھوٹی امید دلانے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن نے شیطان کے قول کی حکایت کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] اور ان کو گمراہ کرتا ۔ اور امید دلاتا رہوں گا ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٣) اے گروہ مسلمین نہ تمہاری خواہشوں سے کام چلتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کسی گناہ پر مواخذہ ہوگا اور نہ اہل کتاب کی خواہشوں سے کہ ہم دن میں جو گناہ کرتے ہیں وہ رات کو معاف ہوجاتے ہیں اور رات کو جو گناہ کرتے ہیں وہ دن میں معاف کردیے جاتے ہیں۔ بلکہ مسلمانوں میں سے جو برائی کا کام کرے گا، اسے دنیا میں یا مرنے کے بعد جنت میں داخل ہونے سے پہلے اس کا بدلا دیا جائے گا اور کافر کو آخرت میں دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے یا دوزخ میں داخل ہونے کے بعد اس کا بدلا مل جائے گا اور اسے عذاب الہی سے کوئی یار و مددگار نجات دلانے والا نہیں ملے گا۔ شان نزول : لیس بامانیکم “۔ (الخ) ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس (رض) سے روایت نق کی ہے کہ یہود ونصاری نے کہا جنت میں ہمارے علاوہ اور کوئی نہیں جائے گا اور قریش نے کہا کہ ہم دو بار زندہ نہیں کیے جائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے بیان حقیقت کے طور پر یہ آیت نازل فرمائی کہ نہ تمہاری آرزوئیں اور نہ اہل کتاب کی آرزوئیں کارگر ہوں گی۔ اور ابن جریر (رح) نے مسروق سے روایت کیا ہے کہ نصاری اور مسلمانوں نے باہم فخر کیا مسلمانوں نے کہا کہ ہم تم سے افضل ہیں اور نصاری نے کہا کہ ہم تم سے افضل ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٣ (لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَلَآ اَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ ط) ۔ تنبیہہ آگئی کہ تمہارے اندر بھی بلا جواز اور بےبنیاد خواہشات پیدا ہوجائیں گی۔ یہود و نصاریٰ کی طرح تم لوگ بھی بڑی دل خوش کن آرزوؤں (wishful thinkings) کے عادی ہوجاؤ گے ‘ شفاعت کی امید پر تم بھی حرام خوریاں کرو گے ‘ اللہ کی نا فرمانیاں جیسی کچھ انہوں نے کی تھیں تم بھی کرو گے۔ لیکن جان لو کہ اللہ کا قانون اٹل ہے ‘ بدلے گا نہیں۔ تمہاری خواہشات سے ‘ تمہاری آرزوؤں سے اور تمہاری تمناؤں سے کچھ نہیں ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے اہل کتاب کی خواہشات سے کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ : (مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا یُّجْزَ بِہٖلا) اگرچہ اللہ کے ہاں اس قانون میں نرمی کا ایک پہلو موجود ہے ‘ لیکن اپنی جگہ یہ بہت سخت الفاظ ہیں۔ بعض اوقات بدی کی جگہ پر نیکی اس کے منفی اثرات کو دھو دیتی ہے ‘ لیکن اس آیت کی رو سے برائی کا حساب تو ہو کر رہنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان سے جس بدی کا ارتکاب ہوتا ہے وہ اس کے بارے میں جواب دہ ہے ‘ اس کا احتساب ہو کر رہے گا۔ اگر کسی کی نیکی نے اس کی بدی کو چھپا بھی لیا ‘ کسی نے غلطی کی اور پھر صدق دل سے توبہ کرلی تو اس کے سبب اس کی بدی کے اثرات جاتے رہے ‘ لیکن معاملہ account for ضرور ہوگا۔ توبہ کو دیکھا جائے گا ‘ کہ آیا توبہ واقعتا سچی تھی ؟ توبہ کرنے والا اپنے کیے پر نادم ہوا تھا ؟ واقعی اس نے عادت بد کو چھوڑ دیا تھا ؟ یا صرف زبان سے اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِکی گردان ہو رہی تھی اور ساتھ نافرمانی اور حرام خوری بھی جوں کی توں چل رہی تھی۔ تو احتساب کے کٹہرے میں ہر شخص اور ہر معاملے کو لایا جائے گا اور کھرا کھوٹا دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ پھر جو مجرم پایا گیا ‘ اسے اس کے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(123 ۔ 126) ۔ اوپر ذکر تھا کہ شیطان وسوسہ کے طور پر لا حاصل آرزوئیں انسان کے دل میں ڈالتا ہے ان آیتوں میں اس قسم کی بعض آرزوؤں کا ذکر ہے چناچہ تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) وغیرہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب اپنے آپ کو افضل اور جنتی گنتے اور مسلمانوں سے اس بات پر جھگڑتے تھے اور بعض مسلمان بھی اسی طرح اہل کتاب سے جھگڑتے تھے اور مشرکین مکہ حشر کے قائم نہ ہونے پر طرح طرح کی خیالی باتیں کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ٣۔ اور فرمایا کہ عمر بھرے برے علم کر کے اس کے مواخذہ سے بےخوف رہنا اور جو لوگ اللہ کی مرضی کے موافق نیک عمل کرتے ہیں اللہ سے ان کی طرح عقبیٰ میں راحت کی توقع رکھنا بڑی نادانی ہے کیونکہ اللہ کا انصاف اس کا مقتضی نہیں ہے وہ نیک و بد کا عقبیٰ کا انجام یکساں کردے بلکہ اس کا انصاف تو متقضی ہے کہ دنیا میں جو کوئی برے کام کرے گا وہ عقبٰی میں اس کی سزا پائے گا معتبرسند سے ترمذی اور ابن ماجہ کی شداد بن اوس (رح) کی حدیث گذرچ کی ہے ١۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں اللہ کی مرضی کے خلاف کام کرکے پھر عقبٰی میں اللہ سے راحت کی توقع رکھنا ایک نادانی کی بات ہے ٢۔ یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی پوری تفسیر ہے ” جو کوئی برا کرے گا “ کی تفسیر میں سلف کا اختلاف ہے۔ بعض سلف نے برے کے معنی شرک کے کئے ہیں۔ اور بعضوں نے برے کے معنی میں شرک اور گناہ سب کو لیا ہے اور یہ یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب آیت کا ٹکڑا من یعمل سوء یجزبہ صحابہ نے سنا تو ان کو اس کا مضمون اس لئے بہت سخت معلوم ہوا کہ ہر برے کام کی جب عقبیٰ میں سزا ہوگی تو گنہگاروں کی نجات مشکل ہے یہ حالت سن کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم لوگ نیک عمل کرنے کی کوشش کئے جاؤ مسلمان آدمی کے بہت سے گناہوں کا کفارہ دنیا کا دنیا میں ہی ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایمان دار نیک آدمی کے ایک کانٹا بھی چبھ جائے تو اس کا ایک گناہ معاف ہوجاتا ہے ٣۔ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عام صحاب نے آیت کے مضمون میں شرک اور گناہ سب کو داخل شمار کیا ہے۔ بعض مفسروں نے یہ جو شبہ کیا ہے کہ جن برائی کرنے والوں کا آیت میں ذکر ہے ان کے حق میں یہ فرمایا ہے کہ قیامت کے دن سوا اللہ کے ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ ہوگا۔ یہ بات تو مشرکوں کے حق میں صادق آسکتی ہے کس لئے صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مسلمان کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہوگا شفاعت کے ذریعہ سے اس کی مدد اور حمایت ہوگی۔ جس سے آخر کو اس کی نجات ہوجائے گی۔ اس شبہ کا جواب اور علماء نے یہ دیا ہے کہ شفاعت مدد اور حمایت اللہ تعالیٰ کی اجازت اور مرضی سے ہوگی ١۔ اس لئے حقیقت میں یہ اللہ کی مدد اور حمایت ہے۔ سوائے اللہ کے اور کسی کی مدد اور حمایت اس کو اس نہیں کہا جاسکتا۔ برے کاموں کی سزا کے ذکر کے بعد نیک کاموں کی جزا کا ذکر فرمایا کہ مرد ہو خواہ عورت ہو ہر ایک کو اس کے نیک عمل کا اجر بغیر تل بھر کی کمی کے پورا دیا جائے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ ایک تو نیک عمل کرنے والا ایمان دار ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اس کے رسول، ملائکہ اور احکام قیامت کے منکر ہیں۔ نہ اہل کتاب کی طرح کا ہو جو بعض ملائکہ کے دشمن اور بعض رسولوں اور احکام کو نہیں مانتے۔ کیونکہ ایسے لوگوں کا کوئی نیک عمل خدا کی بارگاہ میں مقبول نہیں بلکہ ایسے لوگوں کے نیک عمل بےاصل قرار پا کر قیامت کے دن اس طرح اڑ جائیں گے جس طرح تیز ہوا میں ریت اڑ جاتی ہے۔ چناچہ سورة فرقان میں اس کا ذکر تفصیل سے آئے گا۔ ان آیتوں کی شان نزول میں گزرا کہ لوگوں کے آپس کے جھگڑے کے سبب سے یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اور یہ بھی اوپر گذرچکا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ملت ابراہیمی کو اہل کتاب مشرکین مکہ سب مانتے تھے اس لئے اس جھگڑے کا فیصلہ ان آیتوں کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ حکمت الٰہی کے اقتضا کے موافق آخری زمانہ میں وہ آخری شریعت نبی آخر الزماں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی ہے۔ جس کے اکثر مسئلے مثلاً وہ پوری توحید جس کے سبب سے ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ٹھہرے۔ اور قبلہ کا مسئلہ حج کے مسائل ختنہ کا مسئلہ وغیرہ ملت ابراہیمی کے موافق ہیں۔ اسی سبب سے اللہ کے نزدیک اس آخری زمانہ میں اس شریعت سے بہتر کوئی شریعت نہیں ہے اس لئے اس آخر زمانہ میں نبی آخر الزمان اور ان کے زمانہ کے سب لوگوں کو اس آخری شریعت کی پابندی کا حکم اللہ کا حکم ہے اور زمین و آسمان میں اللہ کا حکم اس طرح بغیر روک ٹوک کے جاری ہے کہ اس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا اور اس کا عمل زمین و آسمان کے ذرہ ذرہ پر چھیا ہوا ہے اپنے حکم کی تعمیل کرنے والوں اور نہ کرنے والوں سے وہ خوب واقف ہے قیامت کے دن فرمانبرداری اور نافرمانوں کا فیصلہ کردے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:123) مانیکم۔ مانی۔ امنیۃ کی جمع۔ تمہاری ٹھہرائی ہوئی امیدیں۔ تمہارے خیالات کے اندازے۔ اس میں خطاب بت پرستوں سے ہے۔ لیس کا اسم محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ لیس الامر منوطا بامانیکم ایھا المشرکون۔ اے مشرکو بات (یعنی انجام کار) تمہاری امیدوں پر منحصر نہیں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 اہل کتاب کی تمنائیں بہت خوشنما تھیں۔ ہم اللہ کے محبوب اور بیٹے ہیں، ہمارے سوا کوئی جنت میں نہیں جائے گا ہمارے گناہوں پر ہم سے مواخذ ہ نہیں ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ اسی قسم کے خیالات میں آجکل نادان مسلمان بھی گرفتار ہیں۔ فرمایا جو براکام کرے گا اس کی سزا پائے گا کوئی ہو کسی کی پیش نہیں جاتی (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 123 لغات القرآن : امانی، (امنیۃ) تمنائیں۔ یجز، بدلہ دیا جائے گا۔ لایجد، نہیں پائے گا۔ تشریح : فرمایا گیا ہے کہ اے ایمان والو ! اگر تمہیں اللہ کی خوشنودی کی آرزو ہے تو عمل صالح کرکے دکھلاؤ۔ اور اے مشرکو ! زندگی کو صرف آرزو اور تمنا ہی میں مت گزارو۔ ایمان لاؤ، نیک عمل کرو۔ یہ تمہارے باطل معبود تمہیں کچھ نہ دے سکیں گے۔ وہی نیک عمل مقبول ہے جس کے پیچھے ایمان ہو۔ نیک عمل ہو۔ یہ آیت ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو جنت کی آرزو ہی کرتے رہتے ہیں لیکن اس کیلئے عمل کی جو قیمت دینی چاہیے وہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ نیک عمل کیا ہے اس کا ذکر اگلی آیت میں آتا ہے۔ ” جو بھی برائی کرے گا اس کا نتیجہ اس کے سامنے آئے گا “ ۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کی نہیں ہے۔ بہت سے گناہ معاف ہوں گے البتہ وہ گناہ اپنے نتیجہ یعنی سزا کے ساتھ گناہ گار کو دکھایا جائے گا تاکہ وہ اللہ کی معافی کی قدر کرسکے۔ بہت سے گناہوں کی سزا دنیا میں مل جاتی ہے ۔ تکلیفیں، بیماریاں، زخم ، حادثہ، مالی پریشانیاِ ذہنی الجھنیں، فکر و غم، مسائل وغیرہ۔ بہت سے گناہ نیکیوں سے، توبہ سے، دعا سے دھل جاتے ہیں یا کفارہ سے یا روزہ نماز سے یا حج سے ختم کر دئیے جاتے ہیں۔ بہت سے گناہ والدین اور بزرگوں کی یا کسی اور کی دعاؤں سے معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ ان سب کے باوجود اس آیت کا مطلب یہ بھی ہے کہ گناہوں پر دلیر نہ ہوجاؤ۔ ہر وقت توبہ کرتے رہو۔ مغفرت مانگتے رہو۔ بڑھ چڑھ کر نیک اعمال کرتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ خلاصہ یہ ہوا کہ نری تمناوں سے کام نہیں چلتا مگر مسلمان نری تمناوں پر نہیں ہیں بلکہ کام کرتے ہیں اور دوسرے فرقے جب اسلام نہ لائے جس پر سارا کام موقوف ہے۔ تو بس نری تمناوں پر ہوئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جنت محض دعو وں ‘ نعروں اور کسی فرقہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ جو برائی اور شرک سے بچے گا وہی جنت کا مستحق ہوگا۔ بصورت دیگر برا شخص جنت اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم رہے گا۔ قرآن مجید ایک بار پھر اپنے اسلوب بیان کا اعادہ فرماتے ہوئے دو قسم کے اعمال اور ان کے انجام کا بیک مقام موازنہ کرتا ہے تاکہ قرآن کا قاری تجزیہ کرے کہ اسے کس کردار کا انتخاب اور آخرت کی کونسی منزل کے لیے کوشش کرنی چاہیے ؟ یہ حقیقت بار بار واضح کی گئی ہے کہ کسی شخص کی نجات نعروں اور دعو وں کی بنیاد پر نہیں ہوگی بلکہ نجات سچے ایمان اور صالح عمل پر ہوگی۔ یہاں ایک مرتبہ پھر اہل کتاب کے دعوے کی تردید کی جارہی ہے کہ نجات کا دارومدار کسی خاندانی نسبت یا محض دعوئ محبت پر نہیں بلکہ اس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور شرک سے بچنا لازم ہے۔ جس شخص نے شرک کا ارتکاب کیا اور برے اعمال میں مبتلا رہا وہ قیامت کے دن اللہ کے سوا اپنے لیے کوئی خیر خواہ اور مددگار نہیں پائے گا۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ہونے کے باوجود اپنے باپ کو جہنم سے نہیں بچا سکیں گے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ یَلْقٰی إِبْرَاہِیْمُ أَبَاہُ آزَرَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلٰی وَجْہِ آزَرَ قَتَرَۃٌوَغَبَرَۃٌ فَیَقُوْلُ لَہٗ إِبْرَاہِیْمُ أَلَمْ أَقُلْ لَّکَ لَا تَعْصِنِیْ فَیَقُوْلُ أَبُوْہُ فَالْیَوْمَ لَآ أَعْصِیْکَ فَیَقُوْلُ إِبْرَاہِیْمُ یَارَبِّ إِنَّکَ وَعَدْتَّنِیْ أَنْ لَّا تُخْزِیَنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ فَأَیُّ خِزْیٍ أَخْزٰی مِنْ أَبِی الْأَبْعَدِفَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِنِّیْ حَرَّمْتُ الْجَنَّۃَ عَلَی الْکَافِرِیْنَ ثُمَّ یُقَالُ یَآ إِبْرَاہِیْمُ مَا تَحْتَ رِجْلَیْکَ فَیَنْظُرُ فَإِذَا ھُوَ بِذِیْخٍ مُتَلَطِّخٍ فَیُؤْخَذُ بِقَوَآءِمِہٖ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ واتخذ اللّٰہ ابراھیم خلیلا ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) روز قیامت اپنے باپ آزر سے ملیں گے اس کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اسے کہیں گے میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ میری نافرمانی نہ کرو تو وہ جواباً کہے گا آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) فرمائیں گے اے میرے رب آپ نے مجھ سے قیامت کے دن رسوا نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا میرے باپ سے زیادہ بڑھ کر اور کونسی رسوائی ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے۔ پھر کہا جائے گا ابراہیم اپنے پاؤں کی طرف دیکھو۔ وہ دیکھیں گے کہ ان کا باپ کیچڑ میں لتھڑا ہوا بجو ہے۔ جسے اس کی ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد ان کو توحید کی دعوت سے روکا کرتے تھے لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابو طالب آپ کے بہت زیادہ حمایتی اور ہمدرد تھے ان کی ہمدردی کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب قریش وفد لے کر ان کی خدمت میں پہنچے کہ اپنے بھتیجے کو روک لو ورنہ کوئی فتنہ کھڑا ہوگا۔ جناب ابوطالب نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا کچھ نرمی اختیار کیجئے آپ نے جواب دیا چچا سورج میرے دائیں ہاتھ پر اور چاند بائیں ہاتھ پر رکھ دیا جائے میں تب بھی دعوت توحید سے باز نہیں آؤں گا تب ابوطالب نے کہا بیٹا جاؤ جو جی چاہے کرو۔ جب تک میں زندہ ہوں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا لیکن انہوں نے اسلام قبول نہ کیا۔ (عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِيِّ (رض) أَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَذُکِرَ عِنْدَہٗ عَمُّہٗ أَبُوْطَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّہٗ تَنْفَعُہٗ شَفَاعَتِيْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُجْعَلُ فِيْ ضَحْضَاحٍ مِّنَ النَّارِ یَبْلُغُ کَعْبَیْہِ یَغْلِيْ مِنْہُ أُمُّ دِمَاغِہٖ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار ] ” حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ کے پاس آپ کے چچا ابو طالب کا تذکرہ کیا گیا آپ نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش اسے فائدہ دے اور اسے جہنم کی اوپر والی سطح میں رکھاجائے جو اس کے ٹخنوں تک پہنچتی ہو اس سے اس کا دماغ کھول اٹھے گا۔ “ (ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا امْرَاَۃَ نُوحٍ وَّامْرَاَۃَ لُوْطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتَاہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَّقِیْلَ ادْخُلا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِیْنَ ) [ التحریم : ١٠] ” اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کو بطور مثال بیان کرتا ہے وہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے نکاح میں تھیں مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی تو وہ اللہ کے مقابلے میں ان دونوں کے کچھ کام نہ آسکے اور دونوں سے کہہ دیا گیا کہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ “ مسائل ١۔ جنت صرف دعو وں اور آرزؤوں سے نہیں مل سکتی۔ تفسیر بالقرآن آرزؤوں اور تمناؤں کی حیثیت : ١۔ بلندوبانگ دعوے کام نہ آئیں گے۔ (البقرۃ : ٦٢) ٢۔ اللہ تعالیٰ سچوں اور جھوٹوں کو پرکھتے ہیں۔ (العنکبوت : ٣) ٣۔ یہود و نصاری کے جنتی ہونے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ (البقرۃ : ١١١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” ١٢٣ تا ١٢٥۔ یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔ چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام لوگوں کے لئے ایک ہی معیار ہے ۔ وہ یہ کہ لوگ سب کے سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر سر تسلیم خم کریں ‘ نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور ملت ابراہیمی کے اصولوں کا اتباع کریں جو عین اسلام ہے ۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا دوست بنایا تھا ۔ بہترین دین ‘ دین ملت ابراہیمی ہے اور بہترین عمل ‘ عمل احسان ہے ۔ اور احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔ اسلام نے ہر معاملے میں احسان کو مد نظر رکھا ہے ۔ یہاں تک کہ ذبیحہ کے لئے بھی احسان تجویز کیا ہے کہ آلہ ذبح تیز ہوتا کہ ذبح کے وقت جانور کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔ اس آیت میں انسان کے دو اصناف کے درمیان بھی اعمال اور جزائے اعمال کے بارے میں مکمل مساوات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مومن فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون نقیرا (٣ : ١٢٣) (اور جو نیک عمل کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ ہو وہ مومن ‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی) یہ نص صریح ہے کہ مرد اور عورتوں کے درمیان اعمال اور جزائے اعمال کے اعتبار سے کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ اور یہ نص اس بات میں بھی صریح ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہ ہوگا اور یہ کہ اللہ کے نزدیک کسی ایسے عمل کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے جو ایمان پر مبنی نہ ہو یا جس کے ساتھ ایمان نہ ہو اور یہ بات نہایت ہی منطقی اور فطری ہے ۔ اس لئے کہ صرف ایمان ہی سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ عمل کرنے والا کس نظریے اور کس نیت سے یہ عمل کر رہا ہے اور صرف ایمان ہی کسی عمل کو دائمی اور فطری بنا سکتا ہے ورنہ عمل محض ذاتی اور شخصی جوش ہوگا ۔ یہ صریح الفاظ اس رائے کے بالکل خلاف ہیں جس کا اظہار محترم مفتی محمد عبدہ نے تفسیر پارہ عم میں کیا ہے آیت (من یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ “۔ کے تحت انہوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں ۔ یہ اور تمام دوسری آیات اس کے خلاف ہیں ۔ اس طرح استاد مراغی کی رائے بھی درست نہیں ہے جس پر ہم نے تیسویں پارے میں اظہار خیال کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزرا تھا ۔ (آیت) ’‘’ (من یعمل سوءا یجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا) (٤ : ١٢٣) وہ انسانی مزاج کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ انسان سے برائیوں کا ارتکاب ہوگا چاہے کوئی کتنا ہی نیک کیوں نہ بن جائے اور ڈھیر سی نیکیاں کیوں نہ کرے ۔ دور اول کے لوگ نفس انسانی سے اچھی طرح واقف تھے ۔ وہ اپنے آپ کو بھی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالتے تھے اور اپنے آپ سے کچھ بھی نہ چھپاتے تھے ۔ وہ اس سے بھی چشم پوشی نہ کرتے تھے کہ بعض اوقات ان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اس لئے وہ اپنی کوتاہیوں کا نہ انکار کرتے تھے اور نہ ہی ان کو چھپاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کو سن کر وہ کانپ اٹھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہر برے عمل کی انہیں سزا ملے گی وہ اس طرح کانپ گئے جس گویا وہ میدان حشر میں ہیں ۔ وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہیں ۔ یہی صحابہ کرام کی امتیازی خصوصیت تھی کہ وہ آخرت کو اس طرح محسوس کرتے تھے جس طرح ہم عام محسوسات کو کرتے ہیں ۔ وہ تصور آخرت اور فکر آخرت میں اس طرح زندہ رہتے تھے جس طرح ہم اس دنیا میں رہتے ہیں محض اس وجہ سے کہ وہ آنے والی ہے بلکہ اس طرح کہ گویا برپا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس آیت کو سنتے ہی کانپنے لگے تھے ۔ امام احمد فرماتے ہیں : ” حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس آیت کے بعد فلاح کس طرح ہوگی ؟ اللہ فرماتے ہیں (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب من یعمل سوء یجزبہ “ (٤ : ١٢٣) (ہم نے جو برائیاں کی ہیں ان پر ہمیں سزا ہوگی) اس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ابوبکر اللہ تمہیں معاف کر دے کیا تم بیمار نہیں ہوتے ‘ کیا تم تھکتے نہیں ہو ‘ کیا تم پریشان نہیں ہوتے ‘ کیا تم آہیں نہیں بھرتے ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا ‘ ہاں ! آپ نے فرمایا تو ان چیزوں پر بھی تمہیں جزا دی جائے گی ۔ (روایت حاکم بواسطہ سفیان ثوری) ابوبکر ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا (آیت) ” (من یعمل سوء ایجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا “۔ (٤ : ١٢٣) (جو بھی برائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں اپنے لئے کوئی حامی و مددگار نہ پاسکے گا) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ابوبکر تمہیں بتاؤں کہ ابھی کیا آیت اتری ہے ؟ تو ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بتائیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی تو معلوم نہیں میں نے اس طرح محسوس کیا کہ میری پیٹھ میں کچھ ٹوٹ گیا اور میں سیدھا ہوگیا۔ اس پر رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” ابوبکر تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ “ میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ ہم میں سے کس نے برا کام نہیں کیا ہے اور آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمیں تمام برے کاموں کی سزا دی جائے گی اس پر رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ابوبکر تم اور اہل ایمان کو اس دنیا میں جزا دی جائے گی یہاں تک کہ تم اللہ کو اس حال میں ملو گے کہ تمہارا ایک گناہ بھی نہ ہوگا ‘ رہے دوسرے لوگ تو ان کی سیاہ کاریاں جمع ہوگی اور قیامت کے دن انہیں اس کی جزا دی جائے گی ۔ “ (روایت ترمذی) حضرت عائشہ (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے قرآن کی سخت ترین آیت معلوم ہے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کون سی ؟ تو میں نے کہا ۔ (من یعمل سواء یجزبہ) (٤ : ١٢٣) تو آپ نے فرمایا : کہ بندہ مومن پر مصائب آتے ہیں ۔ “ (روایت ابن جریر) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (من یعمل سواء یجزبہ) (٤ : ١٢٣) (جس نے بھی برائی کی اسے اس کی جزا دی جائے گی) تو یہ بات مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزری اس پر رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” درمیانی فاصلے بند کرو اور ایک دوسرے کے قریب ہوجاؤ ‘ اس لئے کہ مسلمان کو جو مصیبت بھی آتی ہے اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو مصیبت بھی اس پر آئے یہاں تک کہ ایک کانٹا بھی اسے چبھے ۔ “ (مسلم ‘ ترمذی ‘ نسائی) بہرحال یہ آیت اسلامی تصورات اور ایمانی طرز فکر کی درستی کے لئے ایک اہم کڑی تھی ۔ اس کی وجہ سے ایک تو اہل دین کی سوچ درست ہوئی اور دوسری جانب ان کا عمل درست ہوا ۔ اس آیت نے ان کو خوب جھنجوڑا اور ان کے دل کانپ اٹھے ‘ اس لئے کہ وہ تو ہر حکم کو نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ لیتے تھے ۔ وہ اللہ کے وعدے کی سچائی اور اس کے اوپر عمل کئے جانے کے بارے میں بہت ہی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ زندگی ان وعدوں کے اندر رہ کر گزارتے تھے اور وہ آخرت میں بستے تھے حالانکہ وہ لوگ ابھی اس دنیا میں تھے ۔ اور آخر میں اختتامیہ آتا ہے ‘ یعنی ایمان وشرک اور اعمال جزائے اعمال کے بعد کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس دنیا اور آخرت دونوں میں تمام چیزوں پر محیط ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا (لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَ لَآ اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِ ) لباب النقول صفحہ ٨٣ میں ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ یہود و نصاری نے کہا کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی داخل نہ ہوگا اور قریش نے کہا کہ ہم موت کے بعد اٹھائے ہی نہ جائیں گے (تاکہ کوئی عذاب کی صورت سامنے آئے) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی پھر حضرت مسروق تابعی سے نقل کیا کہ نصاریٰ اور مسلمان جمع ہوئے اور آپس میں فخر کرنے لگے ہر فریق نے یہ کہا ہم تم سے افضل ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ حضرت ابن عباس (رض) کی بات زیادہ قرب و انسب معلوم ہوتی ہے جس میں قریش کو خطاب ہے کہ تم خود ہی سارے فیصلے کر رہے ہو، تمہارا عجیب حال ہے، شرک بھی کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے کاموں میں لگے رہو اور جب موت کے بعد کے مواخذہ کا ذکر آئے تو یوں کہہ کر مطمئن ہوجاؤ کہ ہمیں تو موت کے بعد اٹھنا ہی نہیں ہے نہ جزا نہ سزا نہ ثواب نہ عقاب، یہ جو تمہارا خیال ہے محض ایک جھوٹی آرزو ہے فیصلے کا حق خالق ومالک جل مجدہ کو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور زندگی دی اور زندگی کے بعد موت دے گا اس نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ بتایا کہ موت کے بعد جی اٹھنا ہے اور کفر اور شرک پر دوزخ کا داخلہ ہوگا جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔ خالق ومالک جل مجدہ نے کافر و مشرک کے لیے جو کچھ طے کیا ہے اور جو خبر دی ہے اسی کے مطابق ہوگا اپنے خیال سے یہ طے کر کے مطمئن ہوجانا کہ موت کے بعد کچھ نہیں اور ہم جو کچھ کرتے ہیں اس پر کوئی مواخذہ نہیں یہ سب جھوٹی آرزوئیں ہیں۔ آرزوؤں پر مدار نہیں ہے۔ مدار اس فیصلے پر ہے جو خالق مالک نے اپنے بندوں کے لیے طے فرما دیا اور پھر بتا بھی دیا۔ اسی طرح سے اہل کتاب یہود و نصاریٰ کا یہ کہنا کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی نہیں جائے گا یہ ایک اپنا خود ساختہ خیال ہے۔ محض ایک آرزو ہے جو خود سے تجویز کرلی ہے، آرزو سے کچھ نہیں ہوتا۔ نجات کا دارو مدار ایمان اور اعمال صالحہ پر ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اپنا آخری نبی بھیج دیا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس کی نبوت کے بارے میں یہود و نصاریٰ پہلے سے جانتے تھے اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے تھے۔ علامات سے پہچان لیا کہ واقعی یہ اللہ کے وہی نبی ہیں جن کا ہمیں انتظار تھا۔ معجزات سے پرکھ لیا۔ اس کے باوجود اللہ کے آخری نبی پر ایمان نہیں لاتے۔ کفر پر جمے ہوئے ہیں اور آرزو یہ لیے بیٹھے ہیں کہ جنت میں بس ہم ہی ہم ہوں گے اور کسی کا داخلہ نہ ہوگا۔ آرزوؤں سے کام چلنے والا نہیں ہے حقائق کو سامنے رکھو۔ دلائل کو دیکھو، جھوٹی آرزوئیں برباد کردیں گی۔ حضرت مسروق نے جو آیت کا سبب نزول بتایا کہ نصاریٰ نے اور مسلمانوں نے آپس میں ایک دوسرے پر فخر کیا تھا اور ہر ایک نے اپنے کو افضل بتایا تھا اس پر آیت شریفہ نازل ہوئی اس کے اعتبار سے لیس بامانیکم میں مسلمانوں سے خطاب ہے کہ تم بھی آرزوئیں لیے بیٹھے ہو آرزوؤں سے کام نہیں چلتا۔ ایمان تو تم نے قبول کرلیا۔ اب اس پر استقامت بھی ضروری ہے اور ایمان پر مرنا بھی لازم ہے عمل صالح کی وجہ سے بلند درجات بھی نصیب ہوں گے اس معنی کی تشریح کرتے ہوئے صاحب روح المعانی صفحہ ١٥٢: ج ٥۔ حضرت حسن کا قول نقل کرتے ہیں : لیس الایمان بالتمنی ولکن ما اقرفی القلب و صدقہ العمل، ان قوما الھتھم امانی المغفرۃ حتی خرجوا من الدنیا ولا حسنۃ لھم وقالوا نحسن الظن باللّٰہ تعالیٰ و کذبوا لو احسنوا الظن لا حسنوا العمل۔ یعنی ایمان صرف آرزو کا نام نہیں ہے ایمان وہ ہے جو دل میں جم جائے اور عمل اس کی تصدیق کرے بہت سے لوگوں کو مفغرت کی امیدوں نے غفلت میں ڈال دیا۔ یہاں تک کہ دنیا سے اس حال میں چلے گئے کہ ان کے پاس ایک نیکی بھی نہ تھی انہوں نے کہا کہ ہم اللہ سے اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ اپنے اس خیال میں جھوٹے تھے۔ اگر اللہ سے اچھا گمان رکھتے تو عمل بھی اچھے کرتے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اہل کتاب اپنی آرزوؤں پر بھروسہ کر کے ہلاک ہوئے تم آرزوؤں پر بھروسہ نہ کرو۔ ایمان پر استقامت رکھتے ہوئے اعمال صالحہ انجام دیتے رہو۔ برے اعمال کا بدلہ ملے گا : پھر فرمایا (مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا یُّجْزَ بِہٖ ) جو شخص کوئی برائی کرے گا اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ ان الفاظ میں یہ بتایا ہے کہ قانونی اعتبار سے ہر برائی پر مواخذہ ہے اس کی جزا مل جائے گی یہ قانون ہے ضروری نہیں کہ واقعی طور پر ہر گناہ پر سزا مل ہی جائے۔ کیونکہ توبہ و استغفار سے بھی گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اعمال صالحہ سے بھی برائیوں کا کفارہ ہوجاتا ہے اور دنیا میں جو کچھ سزا ملتی ہے وہ چھوٹی موٹی تکلیف اور مصیبتوں کی صورت میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو سنائی انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے گناہ نہیں کیے اور ہمیں ہر گناہ کی سزا بھی ملنی ہے (تو ہمارا کیا بنے گا) اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ابوبکر تم اور تمہارے ساتھی اہل ایمان کا گناہوں پر گرفت کرکے دنیا ہی میں معاملہ صاف کردیا جائے گا یہاں تک کہ جب اللہ سے ملو گے تو تم پر گناہ نہ ہوں گے اور دوسرے لوگ (جو اہل ایمان نہیں ہیں) ان کے گناہ جمع کیے جاتے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت کے دن ان کی سزا پائیں گے۔ (رواہ الترمذی) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں کو سخت پریشانی ہوئی لہٰذا انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنی پریشانی پیش کی آپ نے فرمایا ٹھیک ٹھیک چلتے رہو اور کام کرتے رہو کیونکہ مسلمان کو جو بھی کچھ تکلیف پہنچتی ہے وہ اس کے لیے کفارہ بن جاتی ہے یہاں تک کہ جو کانٹا لگ جاتا ہے یا جو کوئی چوٹ لگ جاتی ہے ان سب کے ذریعہ گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ (رواہ مسلم صفحہ ١٩: ج ٢) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کو جو بھی کوئی تھکن، دکھ، فکر، رنج، تکلیف، غم پہنچ جائے یہاں تک کہ کانٹا بھی لگ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔ (رواہ البخاری و مسلم) حضرت ابو موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کسی بندہ کو جو ذرا بہت کوئی بھی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ گناہ ہی کی وجہ سے پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ معاف فرما دیتے ہیں وہ تو اس سے بہت زیادہ ہوتا ہے جتنے پر مواخذہ ہوتا ہے پھر آپ نے سورة شوریٰ کی یہ آیت تلاوت فرمائی (وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ ) ۔ (رواہ الترمذی) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مومن مرد اور عورت کو برابر اس کی جان میں، اس کے مال میں اور اولاد میں تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ (اور اس سے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے) یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اس پر کوئی گناہ بھی نہ ہوگا (رواہ الترمذی) اللہ پاک کا کتنا بڑا انعام ہے کہ مومن بندوں کو دنیا میں تکلیفیں دے کر ان سے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔ اور آخرت کے عذاب سے بچا دیتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 مسلمانو ! آخرت کی کامیابی اور نجات نہ تو تمہاری آرزوئوں پر موقوف ہے اور نہ اہل کتاب کی تمنائوں پر موقوف ہے بلکہ ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص بھی کوئی برا کام کرے گا وہ اس برے کام کی سزا دیا جائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائے گا اور نہ مدد گار مطلب یہ ہے کہ آخرت کے متعلق بےبنیاد امیدیں قائم کرنے سے کوئی فائدہ نہیں قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی کوئی برا کام کرے گا خواہ وہ برا کام عقیدے سے تعلق رکھتا ہو خواہ اعمال سے تعلق رکھتا ہو۔ بہرحال اس برے کام کا اس کو بدلا دیا جائے گا اور ایسے شخص کو کوئی حمایت کرنے والا اور اور کوئی مدد کرنے والا بھی میسر نہ آئے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کتاب والوں کا خیال تھا کہ ہم خالص بندے ہیں جن گناہوں پر خلق پکڑی جائے گی ہم نہ پکڑے جائیں گے ہمارے پیغمبر حمایت کریں گے اور نادان مسلمان بھی اپنے حق میں یہی خیال رکھتے ہیں سو فرما دیا کہ برا کام جو کرے گا سزا پاوے گا کوئی ہو حمایت کسی کی پیش نہیں جاتی۔ اللہ کا پکڑواہی چھوڑے تو چھوٹے دنیا کی مصیبت میں آدمی قیاس کرلے۔ (موضح القرآن) احمد سعید بن منصور اور حاکم میں مرفوعا روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوتی تو اکثر صحابہ پر شاق گذری صدیق اکبر نے بارگاہ رسالت مآب حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب نجات اور فلاح کی کیا صورت ہوگی کیونکہ ہم سے جو برا کام ہوا ہے اس کی سزا ملے گی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابوبکر ! اللہ تیری مغفرت کرے کیا تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہونچتی کیا تجھ کو کوئی غم نہیں ہوتا کیا تجھ کو کسی آفت سے دوچار ہونا نہیں پڑتا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے کہا ایسا تو اکثر ہوتا رہتا ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ھو بما تجزون بہ یہ وہی جزا ہی تو ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ اسی روایت سے ملتی جلتی اور بھی بہت سی روایتیں کتب احادیث میں منقول ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں جو مصائب اور تکالیف پیش آتی ہیں وہ خطائوں کا کفارہ ہوتی ہیں یہں تک کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے یا کوئی اور معمولپریشانی بھی ہوتی ہے تو وہ سیئات کے لئے موجب کفارہ ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی ایک اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت مسلمانوں پر شاق ہوئی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گھبرائو نہیں بلکہ مضبوطی کے ساتھ قائم رہو مسلمانوں کو جو مصیبت پہونچتی ہے وہ ان کے لئے کفارہ ہوتی ہے۔ اسی طرح حضرت ابو سعید اور ابوہریرہ سے مرفوعاً آیا ہے کہ کوئی تکلیف کوئی مشقت کوئی حزن اور کوئی فکر ایسا نہیں کہ مسلمانوں کو پیش آئے اور وہ اس کے گناہوں کے لئے موجب کفارہ نہ ہو ۔ حضرت حسن نے فرمایا اس آیت میں کافر مراد ہے ابن عباس اور سعید بن جبیر سے سوا کی تفسیر شرک کے ساتھ منقول ہے ۔ (واللہ اعلم) شان نزول سے اور سیاق وسباق سے وہی بات معلوم ہوتی ہے جو ہم نے عرض کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بےکار اور خالی خولی امیدیں قائم کرنے سے کچھ حاصل نہیں اگر گناہ کا کوئی شخص مرتکب ہوتا ہے خواہ وہ کوئی ہو تو اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ گناہ گار کو گناہ کی سزا دی جائے گی خواہ دنیا کے مصائب کی شکل میں ہو خواہ آخرت میں کوئی عذاب یا خدمت وغیرہ کی شکل میں ہو جیسا گناہ ویسی سزا ۔ اب آگے دوسرا ضابطہ فرماتے ہیں جس کا تعلق ایمان اور عمل صالح سے ہے چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ (تسہیل)