Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 124

سورة النساء

وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ نَقِیۡرًا ﴿۱۲۴﴾

And whoever does righteous deeds, whether male or female, while being a believer - those will enter Paradise and will not be wronged, [even as much as] the speck on a date seed.

جو ایمان والا ہو مرد ہو یا عورت اور وہ نیک اعمال کرے ، یقیناً ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتَ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُوْمِنٌ ... And whoever does righteous good deeds, male or female, and is a believer, Allah mentions the recompense for evil actions and that He will surely inflict its punishment on the servant, either in this life, which is better for him, or in the Hereafter, we seek refuge with Allah from this end. We also beg Allah for our well-being in this life and the Hereafter and for His forgiveness, mercy and pardon. Allah then mentions His kindness, generosity and mercy in accepting the good deeds from His servants, whether male or female, with the condition that they embrace the faith. ... فَأُوْلَـيِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلاَ يُظْلَمُونَ نَقِيرًا such will enter Paradise and not the least injustice, even to the size of a Naqir, will be done to them. Allah stated that He will admit the believers into Paradise and will not withhold any of their righteous deeds, even the weight of a Naqir - speck on the back of a date-stone. Earlier, we discussed the Fatil - the scalish thread in the long slit of a date-stone, and both of these, along with the Qitmir -- the thin membrane over the date-stone were mentioned in the Qur'an. Allah then said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

124۔ 1 جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ اہل کتاب اپنے متعلق بڑی خوش فہمیوں میں مبتلا تھے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی خوش فہمیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا کہ آخرت کی کامیابی محض امیدوں پر اور آرزؤں سے نہیں ملے گی اس کے لئے تو ایمان اور عمل صالح کی پونجی ضروری ہے۔ اگر اس کے برعکس نامہ اعمال میں برائیاں ہوں گی تو اسے ہر صورت میں اس کی سزا بھگتنی ہوگی، وہاں کوئی ایسا دوست یا مددگار نہیں ہوگا جو برائی کی سزا سے بچا سکے۔ آیت میں اہل کتاب کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی خطاب فرمایا ہے تاکہ وہ بھی یہود و نصاریٰ کی سی غلط فہمیوں، خوش فہمیوں اور عمل سے خالی آرزؤں اور تمناؤں سے اپنا دامن بچاکر رکھیں۔ لیکن افسوس مسلمان اس تنبیہ کے باوجود انہی خام خیالیوں میں مبتلا ہوگئے جن میں سابقہ امتیں گرفتار ہوئیں۔ اور آج بےعملی اور بدعملی مسلمان کا بھی شعار بنی ہوئی ہے اور اس کے باوجود وہ امت مرحومہ کہلانے پر مصر ہے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

نقیراً : نقیر اس چھوٹے سے گڑھے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کی پشت پر ہوتا ہے، یعنی مرد ہو یا عورت اگر ایمان اور عمل صالح موجود ہے تو جنت میں جائیں گے اور ان پر تھوڑے سے تھوڑا ظلم بھی نہیں کیا جائے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse 124 says: وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ‌ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرً‌ا ﴿١٢٤﴾. It means a man or woman who does good deeds, subject to the condition that such deeds issue forth from true faith, shall certainly go to Paradise fully rewarded for all his or her deeds without being wronged in the least. The hint given here is that the People of the Book or other non-Muslims may also have some good deeds of their own, but, since their faith is not sound, therefore, those deeds of theirs are not acceptable. As for Muslims, since their faith is sound and their deeds too are good, therefore, they are the successful ones, and superior to others. Acceptability in the sight of Allah: A Criterion The fourth verse (125) lays down a criterion to help determine correctly as to who is acceptable in the sight of Allah, and who is not. This criterion has two components. Any shortfall in either of the two components makes all efforts go waste. A careful look will reveal that all strayings into error and evil, wherever they may be in this wide world, are triggered because of a shortfall in one of these two compo¬nents. Compare Muslims with non-Muslims. Or, compare the different sects, groups and parties within the Muslim community itself. You will come across the same two points of reference - any deviation from either is bound to land one in disgrace.

ارشاد ہے : ومن یعمل من الصلحت من ذکر اوانثی وھو مومن فاولئک یدخلن الجنة ولایظلمون نقیراً ” یعنی جو مرد یا عورت نیک عمل کرے بشرطیکہ اس عمل کے ساتھ ایمان بھی ہو تو ضرور جنت میں جائے گا اور ان کے اعمال کا بدلہ پورا پورا ملے گا جس میں ذرا کمی نہ کی جائے گی۔ “ اس میں اشارہ فرمایا کہ اہل کتاب یا دوسرے غیر مسلم اگر ان کے اعمال نیک بھی ہوں تو چونکہ ان کا ایمان صحیح نہیں اس لئے وہ عمل مقبول نہیں اور مسلمانوں کا چونکہ ایمان بھی صحیح ہے اور عمل بھی نیک ہے اس لئے وہ کامیاب اور دوسروں سے افضل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبولبیت کا ایک معیار :۔ چوتھی آیت میں افضیلت اور مقبولیت عنداللہ کا ایک معیار بتلایا گیا ہے، معیار کے دو جز ہیں ان میں سے ایک میں بھی خلل آئے تو ساری کوششیں اکارت اور ضائع ہوجاتی ہیں اور اگر غور کیا جائے تو دنیا میں جہاں کہیں کوئی گمراہی یا غلط کاری ہے وہ انہیں دو جزوؤں میں کسی ایک جز کے خلل سے پیدا ہوتی ہے، مسلمانوں اور غیر مسلموں میں موازنہ کریں یا خود مسلمانوں کے فرقوں، جماعتوں اور پارٹیوں میں مقابلہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہی دو نقطے ہیں جن میں سے کسی ایک سے ہٹ جانا انسان کو ذلت ضلالت کے گڑھے میں ڈال دینا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَمُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا۝ ١٢٤ ذَّكَرُ ( مذکر) والذَّكَرُ : ضدّ الأنثی، قال تعالی: وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثى [ آل عمران/ 36] ، وقال : آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] ، وجمعه : ذُكُور وذُكْرَان، قال تعالی: ذُكْراناً وَإِناثاً [ الشوری/ 50] ، وجعل الذَّكَر كناية عن العضو المخصوص . والمُذْكِرُ : المرأة التي ولدت ذکرا، والمِذْكَار : التي عادتها أن تذكر، وناقة مُذَكَّرَة : تشبه الذّكر في عظم خلقها، وسیف ذو ذُكْرٍ ، ومُذَكَّر : صارم، تشبيها بالذّكر، وذُكُورُ البقل : ما غلظ منه الذکر ۔ تو یہ انثی ( مادہ ) کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثى [ آل عمران/ 36] اور ( نذر کے لئے ) لڑکا ( موزون تھا کہ وہ ) لڑکی کی طرح ( ناتواں ) نہیں ہوتا آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] کہ ( خدا نے ) دونوں ( کے ) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ( کی ) مادینوں کو ۔ ذکر کی جمع ذکور و ذکران آتی ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ ذُكْراناً وَإِناثاً [ الشوری/ 50] بیٹے اور بیٹیاں ۔ اور ذکر کا لفظ بطور کنایہ عضو تناسل پر بھی بولاجاتا ہے ۔ اور عورت نرینہ بچہ دے اسے مذکر کہاجاتا ہے مگر المذکار وہ ہے ۔ جس کی عادت نرینہ اولاد کی جنم دینا ہو ۔ ناقۃ مذکرۃ ۔ وہ اونٹنی جو عظمت جثہ میں اونٹ کے مشابہ ہو ۔ سیف ذوذکر ومذکر ۔ آبدار اور تیر تلوار ، صارم ذکور البقل ۔ وہ ترکاریاں جو لمبی اور سخت دلدار ہوں ۔ أنث الأنثی: خلاف الذکر، ويقالان في الأصل اعتبارا بالفرجین، قال عزّ وجلّ : وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثى [ النساء/ 124] ( ان ث) الانثی ( مادہ ) بہ ذکر یعنی نر کی ضد ہے اصل میں انثیٰ و ذکر عورت اور مرد کی شرمگاہوں کے نام ہیں پھر اس معنی کے لحاظ سے ( مجازا) یہ دونوں نر اور مادہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔{ وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى } ( سورة النساء 124) ۔ جو نیک کام کریگا مرد یا عورت (4 ۔ 124) أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں نقر النَّقْرُ : قَرْعُ الشَّيْءِ المُفْضِي إِلَى النَّقْبِ ، والمِنْقَارُ : ما يُنْقَرُ به كمِنْقَارِ الطَّائرِ ، والحَدِيدَةِ التي يُنْقَرُ بها الرَّحَى، وعُبِّرَ به عن البَحْثِ ، فقیل : نَقَرْتُ عَنِ الأَمْرِ ، واستُعِيرَ للاغْتِيَابِ ، فقیل : نَقَرْتُهُ ، وقالتْ امرأةٌ لِزَوْجِهَا : مُرَّ بِي عَلَى بَنِي نَظَرِي ولا تَمُرَّ بي عَلَى بَنَاتِ نَقَرِى «1» ، أي : علی الرجال الذین ينظُرون إليَّ لا علی النِّساء اللَّواتِي يَغْتَبْنَنِي . والنُّقْرَةُ : وَقْبَةٌ يَبْقَى فيها ماءُ السَّيْلِ ، ونُقْرَةُ القَفَا : وَقْبَتُهُ ، والنَّقِيرُ : وَقْبَةٌ في ظَهْرِ النَّوَاةِ ، ويُضْرَبُ به المَثَلُ في الشیء الطَّفِيفِ ، قال تعالی: وَلا يُظْلَمُونَ نَقِيراً [ النساء/ 124] والنَّقِيرُ أيضا : خَشَبٌ يُنْقَرُ ويُنْبَذُ فيه، وهو كَرِيمُ النَّقِيرِ. أي : كَرِيمٌ إذا نُقِرَ عنه . أي : بُحِثَ ، والنَّاقُورُ : الصُّورُ ، قال تعالی: فَإِذا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ [ المدثر/ 8] ونَقَرْتُ الرَّجُلَ : إذا صَوَّتَّ له بلسانِكَ ، وذلک بأن تُلْصِقَ لسانَك بنُقْرَةِ حَنَكِكَ ، ونَقَرْتُ الرَّجُلَ : إذا خَصَصْتَهُ بالدَّعْوَةِ ، كأَنَّك نَقَّرْتَ له بلسانِكَ مُشِيراً إليه، ويقال لتلک الدَّعْوَةِ : النَّقْرَى. ( ن ق ر ) النقر ( ن ) کسی چیز کو کھٹکھٹانا حتیٰ کہ اس میں سوراخ ہوجائے المنقار کھٹکھٹا نے لا آلہ جیسے پرند کی چونچ یا چکی کو کندہ کرنے کے اوزار وغیرہ ۔ نقرت عن الامر کسی معاملہ کی چھان بین کرنا نقرتہ بطور استعارہ بمعنی غیبت کرنا جیسا کہ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا : ۔ کہ مجھے مردوں کے پاس سے لے کر کر گزر نا جو نظر ڈالتے ہیں اور عورتوں کے پاس سے لے کر نہ گزر نا جو عیب لگاتی اور غیبت کرتی ہیں ۔ النقرۃ گڑھا جس میں سیلاب کا پانی باقی رہ جاتا ہے گر دن کے پچھلے حصے کے گڑھے کو نقرۃ القفا کہا جاتا ہے ۔ انقیر کھجور کی گھٹلی کے گڑھے کو کہتے ہیں ۔ اور یہ حقیر چیز کے لئے ضرب المثل ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلا يُظْلَمُونَ نَقِيراً [ النساء/ 124] اور تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی ۔ اور النقیر اس لکڑی کو بھی کہتے ہیں جس میں گڑھا کر کے اس میں نبی د ڈالتے ہیں کہا جاتا ہے ھو کریم النقیر فلاں شریف الاصل ہے یعنی بعد از تفتیش ۔ الناقور کے معنی صور یعنی بگل کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِذا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ [ المدثر/ 8] جب صور پھونکا جائے گا ۔ نقرت الرجل زبان کو تالو سے لگا کر آواز نکال کر کسی آدمی کو بلانا ۔ نقرت ت الرجل کسی شخص کو جماعت میں سے خاص کر علیحدہ بلانا گو یا زبان کے ذریعہ آواز نکال کر خاص کر اس کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ اور اس طور سے بلانے کو نقری کہا جاتا ہے ۔ میں نے خاص طور پر انہیں بلایا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٤) اور مرد اور عورتوں میں سے جو اطاعت خداوندی کرے گا، بشرطیکہ وہ صدق دل کے ساتھ اللہ پر ایمان رکھنے والا ہوگا تو گٹھلی کے چھلکے برابر بھی اس کی نیکیوں میں سے کچھ نہیں کیا جائے گا۔ شان نزول : ومن یعمل من الصلحت “۔ (الخ) نیز اسی طرح قتادہ (رض) ، ضحاک (رح) ، سدی (رح) اور ابوصالح (رح) سے بھی روایت نقل کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سب دین والوں نے باہم فخر کیا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ کچھ لوگ یہودیوں کے اور کچھ عیسائیوں کے اور کچھ مسلمانوں کے بیٹھے یہ لوگ کہنے لگے کہ ہم افضل ہیں اور انہوں نے کہا کہ ہم افضل ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نیز مسروق سے اس طرح روایت نقل کی ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو اہل کتاب نے کہا کہ ہم اور تم سب برابر ہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی جو شخص کوئی نیک کام کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ مومن ہو (الخ) ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:124) نقیرا۔ کھجور کی گٹھلی کے اوپر کا چھلکا بمعنی ذردہ برابر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی اصل چیز ایمان لاکر نیک عمل کرنا جس کے عمل نیک ہوں گے وہ جنت میں جائے گا اور جن کے عمل برے ہوں گے ان کو برے اعمال کی سزا مل کر رہے گی چاہے وہ نام کا مسلمان ہو یا یہودی نصرانی ہو مسروق کہتے ہیں ہو یا یہودی نصرانی ہو مسروق کہتے ہیں کہ مسلمان اور اہل کتاب آپس میں فخر کرنے لگے مسلمان کہتے کہ ہم تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔ اور اہل کتاب کئے کہ ہم تمہاری بہ نسبت راہ حق پر ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن جریر، قرطبی) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ برا عمل کرے گا اس کی سزا پائے گا تو مسلمان کو سخت تشویش ہوئی۔ نبی و نے فرمایا نیک اعمال میں کوشش کرو ( سددواقابوا) مسلمان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے یہاں تک کہ اگر کانٹا بھی اسے چبھتا ہے تو اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اس مضمون کی متعدد روایات کتب میں مذکورہ ہیں۔ (قرطبی، ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 124-126 لغات القرآن : ذکر اوانثی، مردوں میں سے یا عورتوں میں سے۔ نقیر، تل برابر۔ احسن دین، بہترین طریقہ، بہترین راستہ۔ خلیل، دوست۔ تشریح : یہود، نصاریٰ اور مسلم تینوں مذہب والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بزرگ پیغمبر مانتے ہیں جن کا مقام بہت واجب التعظیم ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور خود حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب ان کی اولادوں میں ہیں۔ اس آیت میں خاص خطاب بنی اسرائیل یعنی یہود دے ہے کہ اگر وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے ہیں تو دیکھ لو ان کی خاص صفت توحید تھی یعنی وہ اللہ کو معبود مانتے تھے۔ وہ صرف اللہ سے امیدیں رکھتے تھے۔ اسی کا وہ خود رکھتے تھے۔ مگر تم نے ان کا دین چھوڑ دیا ہے اور اب مسلمانوں نے ان کا دین اختیار کرلیا ہے اور وہ دین اسلام ہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو محض عقیدتاً ماننا نہیں ہے بلکہ عملاً بھی ماننا ہے (اور عمل کی اہمیت پچھلی آیات میں گزرچکی ہے) تو پھر تم اس دین کی اتباع و پیروی کرو جس میں توحید خالص ہے۔ اور تم اللہ کے دین کو مانو یا نہ مانو، یہ بات سورج سے زیادہ روشن ہے کہ جو کچھ کائنات میں ہے ان سب کا مالک اور خالق اللہ ہے اور ذرہ ذرہ پر اس کی گرفت ہے اس کی بندگی اور عبادت ہی ایک مومن کے لئے سب سے بڑا سرمایہ ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یہ جو مومن کی قید لگائی گئی اس کا مصداق ہر فرقہ نہیں بلکہ صرف وہ فرقہ ہے جس کا دین خدا تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہونے میں سب سے اچھا ہو اور ایسافرقہ صرف اہل اسلام ہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ ان میں یہ صفات ہیں اطاعت تامہ اخلاص اتباع ملت ابراہیم۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کو دوبارہ تسلی دی گئی ہے کہ نیک عمل کرنے والا ایماندار خواہ مرد ہو یا عورت اسے بہترین جزا ملے گی۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ذات پات اور مذکر و مؤنث کا کوئی امتیاز نہیں۔ اعمال کا انجام ذکر کرنے کے بعد حسب معمول صالح کر دار لوگوں کا صلہ بیان کرتے ہوئے مرد و زن کو تسلی دی گئی ہے کہ نیک عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت بشرطیکہ اس نے نیک عمل حالت ایمان میں کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے گا اور اس کو جنت میں ضرور داخل فرمائے گا اور ان کے اجر وثواب میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ اسی بات کو تفصیل کیساتھ یوں بیان فرمایا ہے۔ ” بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنیوالے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزے دار مرد اور روزے دار عورتیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ “ [ الاحزاب : ٣٥] مسائل ١۔ نیک عمل کرنے والا صاحب ایمان مرد ہو یا عورت جنت میں داخل ہوگا۔ تفسیر بالقرآن نیکی میں ہرگز کمی نہ ہوگی : ١۔ کسی کا عمل ضائع نہ کیا جائے گا۔ (آل عمران : ١٩٥) ٢۔ اجر میں مرد و زن برابر ہیں۔ (الاحزاب : ٣٥) ٣۔ ذرہ برابر نیکی اور بدی کا بدلہ ملے گا۔ (الزلزال : ٧، ٨) ٤۔ ہر عمل آدمی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ (الکہف : ٤٩) ٥۔ کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : ٧١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مومنین مومنات کے لیے بھر پور ثواب : پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی) (الایۃ) اس آیت کے بارے میں لباب النقول میں حضرت مسروق تابعی سے نقل کیا ہے کہ جب آیت کریمہ (لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَ لَآ اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِ ) نازل ہوئی تو اہل کتاب نے مسلمانوں سے کہا کہ پھر ہم اور تم برابر ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس میں یہ بتادیا کہ جو بھی کوئی شخص مرد ہو یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ اس میں لفظ مومن بڑھا کر یہ بتادیا کہ اہل کتاب جب تک مومن نہ ہوں گے انہیں کسی عمل کا کوئی ثواب نہ ملے گا۔ اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ لہٰذا مومن کافر میں برابری کی کوئی صورت ہی نہیں۔ اہل ایمان سے جو یہ فرمایا کہ آرزوؤں پر مدار نہ رکھو اس میں ایمان پر استقامت اور اعمال صالحہ میں مشغول رہنے کی تاکید فرمائی یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کا ایمان کام نہ دے گا۔ اہل کتاب کافر ہیں اگر کفر پر مرگئے تو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور اہل ایمان کا ٹھکانہ جنت ہے۔ پھر برابری کہاں ہوئی ؟ جو بندہ ایمان کے ساتھ کوئی بھی نیک عمل لے کر قیامت کے دن حاضر ہوگا اس کو اپنے عمل کا پورا پورا ثواب ملے گا جو بہت زیادہ ہوگا اس کو فرمایا (وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا) کھجور کی گٹھلی کے اندر جو ذرا سا گڑھا ہوتا ہے اسے نقیر کہتے ہیں۔ اہل عرب جب کسی چیز کی کمی ظاہر کرتے تھے تو اسے نقیر سے تشبیہ دیتے تھے۔ وقد ذکرناہ من قبل۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi